🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
آئیے! اس صوفی کی بات کرتے ہیں، جو امام الاولیاء ہے، دین کا محافظ ہے، قرآن کا حافظ ہے، اسرارِ خدا وندی کا امین ہے، مصطفیٰ کریم ﷺ کی سنتوں کا عامل ہے، عالمِ ربانی ہے، اور وہ مجدد الفِ ثانی ہے ۔

مغل شہنشاہِ اکبر کے عہدِ حکومت میں اسلام کے سر سبز و شاداب چمن پر ایک بار پھر کفر و الحاد، زندقہ اور بدعت و ضلالت کی گھٹا ٹوپ آندھیاں چھا گئیں ۔ اس نےدینِ حنیف میں ترمیم کرکے ایک نئے دین کی بنیاد رکھی '' دین الٰہی '' کےنام سے ایک ایسا مذہب ایجاد کیا گیا جو شریعتِ محمدیہ علیٰ صاحبھا الصلاۃ والسلام کے سراسر مخالف اور قرآن و سنت سے انکار و انحراف کے مترادف تھا ۔

دینِ اسلام کی صداقت و عظمت کا وہ چراغ جو ایک ہزار سال سے روشن تھا، شاہِ وقت، علمائے سوء، اور جاہل صوفیوں کے ہاتھوں ٹمٹمانے لگا ۔ دینِ اسلام کی حالت زار جو شہنشاہِ اکبر اور اس کے بعد جہانگیر کے ہاتھوں رہی تھی ۔

اس کی طرف اشارہ حضرت مجدد الف ثانی نے اپنے ایک خط میں جو انہوں نے جہانگیر کے ایک مقرب کو لکھا، یوں بیان فرمائی:

" اسلام کی بے کسی کا یہ حال ہے کہ کفار کھلم کھلا اس پر طعن توڑتے ہیں اور اسلام کے نام لیواؤں کی مذمت کرتے ہیں ۔ وہ ہر کوچہ و بازار میں بے خوف و خطر کفر کے احکام جاری کرتے اور کفار کی مدح و ستائش کرتے ہیں، مسلمان اسلامی احکام کی بجا آوری سے قاصر اور شریعت محمدیہ پر عمل پیرا ہونے سے عاجز ہیں '' ۔ (ایضاً)

دینِ اکبری کو رعایا کے تمام طبقوں کے لئے قابلِ قبول بنانے کے لئے عقیدۂ توحید میں اس قدر ترمیم کی گئی کہ ہندوؤں کی بت پرستی، مجوسیوں کی آتش پرستی اور ویدوں میں بیان کردہ فلسفیانہ موشگافیوں کو نئے دین میں سمیٹ لیا گیا ہے، اس طرح اکبر کا " دینِ الٰہی " مختلف مذاہب کے عقائد و خیالات کا ایک ملغوبہ بن گیا تھا ۔

کتاب اللہ اور سنت رسول الله ﷺ جو دین کی اصل بنیاد تھی، وہ طاقِ نسیاں پر رکھ دی گئیں، سورج کی پرستش چاروں طرف لازمی قرار دی گئی، آگ، پانی، درخت اور گائے کو پوجنا جائز ٹھہرا، اکبر ہر روز خود صبح اُٹھ کر سورج کی پرستش کرتا، اس کے بعد مشتاقانِ دید کے لئے دیوانِ عام میں آ بیٹھتا تھا، لوگ شہنشاہ کے لئے سجدہ تعظیمی بجا لاتے جسے اس وقت کے دین فروش ملاؤں نے جائز قرار دیا تھا ۔ اس کے بر عکس اسلامی شعائر کو درخورِ اعتنانہ سمجھا گیا اور بادشاہ کو یہ بتلایا گیا کہ دینِ اسلام ایک ہزار سال گزر جانے کےبعد نعوذ باللہ بالکل اسی طرح بےکار اور ناکارہ ہو گیا ہے، جس طرح کہ اسلام سے پہلے کے مذاہب اقتدارِ زمانہ کے ہاتھوں معطل ہو چکے ہیں ۔

ہندو عورتوں سے شادیاں کر لینے کے بعد اکبر کے دِل میں ہندوؤں کے لئےنرم گوشہ پیدا ہو گیا تھا ۔ حکومت کے بڑے بڑے عہدوں پر ہندو فائز تھے، اپنے اقتدار اور شاہ وقت کی نظرِ عنایت نے انہیں اس قدر دلیر کر دیا تھا کہ وہ مسلمانوں کی ہر آن ہر لمحہ دل آزاری کرتے، مسجدیں شہید کر کے وہاں مندر بنائے گئے، ہندوؤں کے برت کا دن آتا تو مسلمانوں کو دن میں کھانے پینے سے حکماً روک دیا جاتا، انہیں حکم ہوتا کہ ان کے چولھوں میں آگ نہ جلے ۔

لیکن جب رمضان المبارک آتا تو ہندو سرِ عام کھاتے، رمضان کی عزت و حرمت کی حفاظت کے لئے بادشاہ کوئی فرمان جاری نہ کرتا تھا ۔ حالات اس حد تک نا ساز گار تھے کہ دین کے پنپنےکی کوئی اُمید نظر نہ آتی تھی ۔ مگر ہمیشہ یہ ہوا کہ جب بھی دین اسلام پر کوئی آزمائش کا وقت آیا رحمتِ حق میں ارتعاش پیدا ہوا ۔ دین حق کی حفاظت کے لئےکوئی نہ کوئی ہستی ان تِیرہ و تاریک فضاؤں میں نمودار ہوئی جس کی نورانی کرنوں سے کفر و الحاد کی تاریکیاں چھٹ گئیں جس کی ضیاء بار تابانیوں سے بدعت و ضلالت کی آندھیاں ڈھل گئیں جس کی ضَوفشاں شعاعوں سے زندقت کے اندھیرے بھی منور ہوئے اور توحید و سنت کی مشعلیں چمک اُٹھیں ۔

جب کفر و شرک، بدعت و ضلالت اور زندقہ و الحادکی آندھیاں اپنی تمام تاریکیوں سمیت ہندوستان کی فضاء پر چھا گئیں تو آسمانِ '' سر ہند '' پر سنت و ہدایت کا آفتاب طلوع ہوا جس کو لوگ شیخ احمد سر ہندی کے نام سے موسوم کرتے ہیں ۔ اس آفتاب کی ضیاء پاشیوں سے ظلمت و گمراہی کے اندھیرے کافور ہوئے، اکبر نے جس دین کی بنیاد رکھی تھی اور اعوان و انصارِ حکومت جس کی تبلیغ میں ہمہ تن مصروف تھے، حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو بیخ و بن سے اُکھاڑنے کا تہیہ کیا ۔

ہم دیکھتے ہیں کہ حق اپنی تمام جلوہ سامانیوں سے طلوع ہوتا ہے ۔ تو باطل کافور کی مانند تحلیل ہو جاتا ہے ۔ بادشاہ کو رعایہ سجدہ کرتی تھی ۔ جب حضرت مجدد الفِ ثانی جہانگیر کے دربار میں پہنچے، اس کو بھی آپ سے یہی توقع تھی، لیکن آپ نے سجدہ کرنے سے انکار کر دیا ۔ آپ نے فرمایا اللہ جل شانہ کی ذات کے علاوہ سجدہ کسی کے لئے جائز نہیں ہے، فرمایا: یہ گردن کٹ تو سکتی ہے لیکن باطل کے آگے جھک نہیں سکتی ۔

ڈاکٹر اقبال فرماتے ہیں: ؎
گردن نہ جھکی جس کی جہانگیر کے آگے
جس کے نفسِ گرم سے ہے گرمیٔ احرار
2
بادشاہ کو درباریوں نے قتل پہ ابھارا، جو شہنشاہ کو سجدہ نہ کرے وہ قتل کا مستحق ہے ۔ لیکن بادشاہ کو قتل کی جرأت نہ ہوئی ۔ آپ کو " قلعہ گوالیار " میں نظر بند کر دیا ۔ آپ نے ان حالات میں  بھی سلسلۂ تبلیغ جاری رکھا ۔ بالآخر آپ کی کوششیں رنگ لائیں ۔ جو اسلام پر پابندیاں تھیں وہ ختم کر دی گئیں، اسلام کا بول بالا ہو گیا ۔ ہر طرف اسلام کی بہاریں پھر نظر آنے لگیں ۔ یہ  تھے حقیقی صوفیاء ۔

آج بھی پھر وہی حالات ہیں، اسلام کے نام پر قائم ہونے والے اس ملک میں اسلام قبول کرنے پر پابندی لگا دی گئی، غیر مسلموں کے تہواروں کو خصوصی طور پر منایا جانے لگا، ہولی اور دیوالی پر عام تعطیل ہونے لگی ۔ مندروں اور گرجا گھروں کی تعمیر و سرپرستی حکومتی وزراء کر رہے ہیں ۔ زنا، قمار، شراب، وغیرہ کے حکومت کی طرف سے لائسنس جاری ہو رہے ہیں ۔ ناچ ڈانس، گانے باجے، بےحیائی کے کاموں کو " ثقافت " کہا جانے لگا ۔ ان دھندوں سے وابستہ افراد کو " ہیرو " کہا جانے لگا ۔

اسلام کے نام پر قائم ہونے والے ملک میں کفار کا نظام نافذ ہے ۔ اسی طرح حال ہی میں " دار العلوم دیوبند " کا " فتویٰ " آیا ہے جس میں " گائے " کی قربانی کرنے سے منع کیا گیا ہے ۔ معلوم نہیں ان " فتویٰ فروشوں " نے کس دلیل سے منع کیا ہے ۔ ہندوستان میں صرف گائے کے گوشت کے شبہ کی بناء پر دن دہاڑے مسلمانوں کو جان سے مار دیا جاتا ہے ۔ برما اور دیگر ممالک میں مسلمانوں کے حالات ناگفتہ بہ ہیں، کوئی پرسانِ حال نہیں ۔

الغرض اس وقت جہان میں خونِ مسلم سے ارزاں کوئی اور چیز نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی حالتِ زار پر رحم فرمائے، پھرسے امت کی راہنمائی کے لئے کوئی اور شیخ سرہندی و صلاح الدین ایوبی عطاء فرمائے، اور مسلم حکمرانوں کو حمیّتِ دینی عطاء فرمائے ۔ (آمین)

وصال:
بروز پیر 29 صفر المظفر 1034ھ / مطابق جنوری 1625ء کو وصال فرمایا ۔

مزار مبارک:
آپ کا مزار پر انوار سرہند شریف (انڈیا) میں مرکزِ انوار و تجلیات ہے ۔

ماخذ و مراجع:
تاریخ مشائخِ نقشبندیہ ۔
سیرت مجدد الفِ ثانی ۔

حکیم الامّت ڈاکٹر اقبال علیہ الرحمہ تربتِ اطہر کے بارے میں یوں فرماتے ہیں:

وہ خاک کہ ہے زیرِ فلک مطلعِ انوار
اس خاک میں پوشیدہ ہے وہ صاحبِ اسرار

جس کے نفسِ گرم سے ہے گرمئِ احرار
اللہ نے بر وقت کیا جس کو خبردار

حاضر ہوا میں شیخِ مجدّد کی لحد پر
اس خاک کے ذرّوں سے ہیں شرمندہ ستارے

گردن نہ جُھکی جس کی جہانگیر کے آگے
وہ ہند میں سرمایۂ ملّت کا نگہباں

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-ahmed-sirhindi-imam-rabbani-mujaddid
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
28-02-1445 ᴴ | 15-09-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
29-02-1445 ᴴ | 16-09-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
29-02-1445 ᴴ | 16-09-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
29-02-1445 ᴴ | 16-09-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1