مجدد الفِ ثانی حضرت شیخ احمد سرہندی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: شیخ احمد ۔ کنیت: ابو البرکات ۔ القاب: بدرالدین، امامِ ربانی، مجدد الفِ ثانی، قیومِ زمان، وغیرہ ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
آپ کا شجرۂ نسب امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس طرح ملتا ہے، شیخ احمد بن شیخ عبد الاحد بن شیخ زین العابدین بن شیخ عبد الحی بن شیخ محمد بن شیخ حبیب اللہ بن شیخ رفیع الدین بن شیخ نصیر الدین بن شیخ سلیمان بن شیخ یوسف بن شیخ اسحاق بن شیخ عبد اللہ بن شیخ شعیب بن شیخ احمد بن شیخ یوسف بن شیخ شہاب الدین علی الملقب بہ فرخ شاہ بن شیخ نصیر الدین بن شیخ محمود بن شیخ سلیمان بن شیخ مسعود بن شیخ عبد اللہ الواعظ الاصغر بن شیخ عبد اللہ الواعظ الاکبر بن شیخ ابو الفتح بن شیخ اسحاق بن شیخ ابراہیم بن شیخ ناصر بن شیخ عبد اللہ بن عمر بن حفص بن عاصم بن عبد اللہ بن امیر امؤمنینن حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز جمعۃ المبارک 14 شوال المکرم 971ھ / مطابق مئی 1564ء کو سر ہند شریف میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
جب آپ سنِ تعلیم کو پہنچے تو آپ کو مکتب میں داخل کر دیا گیا ۔ بعد ازاں اکثر علوم متداولہ والد بزرگوار سے حاصل کرکے سیالکوٹ تشریف لے جاکر معقولات کی بعض کتابیں حضرت مولانا کمال کشمیری رحمۃ اللہ علیہ اور حدیث کی بعض کتابیں مولانا یعقوب کشمیری رحمۃ اللہ علیہ سے پڑھیں ۔
الغرض آپ سترہ سال کی عمر میں علوم ظاہری کی تحصیل کے سب مرحلے طے کر کے اپنے والد بزرگوار کی خدمت میں حاضر ہوکر تدریس میں مشغول ہو گئے، اور طلبہ کو اپنی برکات سے بہرہ ور فرماتے رہے ۔
اسی اثنا میں آپ نے عربی فارسی میں متعدد رسالے نہایت فصاحت و بلاغت کے ساتھ تحریر فرمائے ۔
بہت سے مؤرخین نے لکھا ہے کہ آپ نے بچپن میں قرآنِ مجید حفظ کر لیا تھا ۔ لیکن آپ کے ایک مکتوب سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دولت قلعہ گوالیار میں نظر بندی کے زمانے میں حاصل ہوئی ۔ (سیرت مجدد الفِ ثانی ص:84) ـ
بیعت و خلافت:
سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ میں حضرت خواجہ باقی باللہ علیہ الرحمہ سے بیعت ہوئے، اور خلافت سے سرفراز ہوئے ۔
سلسلۂ عالیہ قادریہ میں حضرت شاہ سکندر علیہ الرحمہ سے اجازت و خلافت حاصل تھی ۔
سلسلۂ عالیہ چشتیہ صابریہ میں اپنے والدِ گرامی شیخ عبد الاحد سے اجازت و خلافت حاصل تھی ۔
سلسلۂ عالیہ سہروردیہ میں اپنے استادِ محترم مولانا شیخ یعقوب کشمیری علیہ الرحمہ سے اجازت و خلافت حاصل فرمائی ۔
حضرت مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ کو تمام سلاسل میں خلافت حاصل تھی لیکن سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ سے آپ کو خاص لگاؤ تھا ۔ آپ ہی کے دم سے اس سلسلے کو پاک و ہند میں اور دیگر ممالک میں فروغ حاصل ہوا ۔
سیرت و خصائص:
عالی مرتبت، عظیم البرکت، قیومِ ملت، خزینۃ الرحمت، محدث رحمانی، غوث صمدانی، امام ربانی، مجدد الف ثانی، حضرت ابو البرکات شیخ احمد فاروقی نقشبندی سرہندی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ کے والد بزرگوار کا بیان ہے کہ آپ کی ولادت سے پہلے میں نے خواب میں دیکھا کہ تمام جہان میں ظلمت پھیل گئی ہے۔سُور، بندر اور ریچھ لوگوں کو ہلاک کر رہےہیں، اسی اثناء میں میرے سینے سے ایک نور نِکلا اور اُس میں ایک تخت ظاہر ہوا ۔ اُس تخت پر ایک شخص تکیہ لگائے بیٹھا ہے اور اُس کے سامنے تمام ظالموں، زندیقوں اور ملحدوں کو بکرے کی طرح ذبح کر رہے ہیں اور کوئی شخص بآواز بلند کہہ رہا ہے: وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُ ط اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا ـ " اور فرمادو! سچ آ گیا اور باطل مٹ گیا بے شک باطل مٹنے والا ہے " ۔ اس خواب کی تعبیر حضرت قدس سرہ نے شاہ کمال کیتھلی رحمۃ اللہ علیہ سے دریافت کی ۔ انہوں نے فرمایا کہ تمہارے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوگا جس سے الحاد و بدعت کی تاریکی دُور ہوگی ۔ یہ تعبیر بالکل درست نکلی ۔
واقعی ایسا ہوا اللہ جل شانہ نے حضرت مجدد کو اپنے دین کی خدمت کے لئے چن لیا تھا ۔ صبر و شکر، تسلیم و رضا حسبِ حال ہر ایک کی تعظیم، لوگوں پر شفقت، صلۂ رحمی، اربابِ حقوق کی رعایت، مریضوں کی عیادت، سلام میں سبقت، کلام میں نرمی آپ کا شیوۂ حسنہ تھا ۔ آپ کا طریقۂ عمل بر عزیمت تھا ۔ عبادات و عادات میں نہایت احتیاط اور سنت کا کمال اتباع ملحوظ تھا ۔ آج یہود و نصاریٰ صوفی ازم کی بات کرتے ہیں، اور ان کے سرمائے سے " انٹرنیشنل صوفی کانفرنسز " کا انعقاد کیا جا رہا ہے ۔ اس میں پلپلے، جاہل، دین و ملت فروش نام نہاد صوفیوں کی بھر مار ہوتی ہے ۔ جن کے ہاں دینِ اسلام کی ثانوی حیثیت بھی نہیں ہے ۔ ان کی صورت و سیرت اس بات کی گواہی دے رہی ہوتی ہیں ۔
نام و نسب:
اسمِ گرامی: شیخ احمد ۔ کنیت: ابو البرکات ۔ القاب: بدرالدین، امامِ ربانی، مجدد الفِ ثانی، قیومِ زمان، وغیرہ ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
آپ کا شجرۂ نسب امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس طرح ملتا ہے، شیخ احمد بن شیخ عبد الاحد بن شیخ زین العابدین بن شیخ عبد الحی بن شیخ محمد بن شیخ حبیب اللہ بن شیخ رفیع الدین بن شیخ نصیر الدین بن شیخ سلیمان بن شیخ یوسف بن شیخ اسحاق بن شیخ عبد اللہ بن شیخ شعیب بن شیخ احمد بن شیخ یوسف بن شیخ شہاب الدین علی الملقب بہ فرخ شاہ بن شیخ نصیر الدین بن شیخ محمود بن شیخ سلیمان بن شیخ مسعود بن شیخ عبد اللہ الواعظ الاصغر بن شیخ عبد اللہ الواعظ الاکبر بن شیخ ابو الفتح بن شیخ اسحاق بن شیخ ابراہیم بن شیخ ناصر بن شیخ عبد اللہ بن عمر بن حفص بن عاصم بن عبد اللہ بن امیر امؤمنینن حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز جمعۃ المبارک 14 شوال المکرم 971ھ / مطابق مئی 1564ء کو سر ہند شریف میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
جب آپ سنِ تعلیم کو پہنچے تو آپ کو مکتب میں داخل کر دیا گیا ۔ بعد ازاں اکثر علوم متداولہ والد بزرگوار سے حاصل کرکے سیالکوٹ تشریف لے جاکر معقولات کی بعض کتابیں حضرت مولانا کمال کشمیری رحمۃ اللہ علیہ اور حدیث کی بعض کتابیں مولانا یعقوب کشمیری رحمۃ اللہ علیہ سے پڑھیں ۔
الغرض آپ سترہ سال کی عمر میں علوم ظاہری کی تحصیل کے سب مرحلے طے کر کے اپنے والد بزرگوار کی خدمت میں حاضر ہوکر تدریس میں مشغول ہو گئے، اور طلبہ کو اپنی برکات سے بہرہ ور فرماتے رہے ۔
اسی اثنا میں آپ نے عربی فارسی میں متعدد رسالے نہایت فصاحت و بلاغت کے ساتھ تحریر فرمائے ۔
بہت سے مؤرخین نے لکھا ہے کہ آپ نے بچپن میں قرآنِ مجید حفظ کر لیا تھا ۔ لیکن آپ کے ایک مکتوب سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دولت قلعہ گوالیار میں نظر بندی کے زمانے میں حاصل ہوئی ۔ (سیرت مجدد الفِ ثانی ص:84) ـ
بیعت و خلافت:
سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ میں حضرت خواجہ باقی باللہ علیہ الرحمہ سے بیعت ہوئے، اور خلافت سے سرفراز ہوئے ۔
سلسلۂ عالیہ قادریہ میں حضرت شاہ سکندر علیہ الرحمہ سے اجازت و خلافت حاصل تھی ۔
سلسلۂ عالیہ چشتیہ صابریہ میں اپنے والدِ گرامی شیخ عبد الاحد سے اجازت و خلافت حاصل تھی ۔
سلسلۂ عالیہ سہروردیہ میں اپنے استادِ محترم مولانا شیخ یعقوب کشمیری علیہ الرحمہ سے اجازت و خلافت حاصل فرمائی ۔
حضرت مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ کو تمام سلاسل میں خلافت حاصل تھی لیکن سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ سے آپ کو خاص لگاؤ تھا ۔ آپ ہی کے دم سے اس سلسلے کو پاک و ہند میں اور دیگر ممالک میں فروغ حاصل ہوا ۔
سیرت و خصائص:
عالی مرتبت، عظیم البرکت، قیومِ ملت، خزینۃ الرحمت، محدث رحمانی، غوث صمدانی، امام ربانی، مجدد الف ثانی، حضرت ابو البرکات شیخ احمد فاروقی نقشبندی سرہندی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ کے والد بزرگوار کا بیان ہے کہ آپ کی ولادت سے پہلے میں نے خواب میں دیکھا کہ تمام جہان میں ظلمت پھیل گئی ہے۔سُور، بندر اور ریچھ لوگوں کو ہلاک کر رہےہیں، اسی اثناء میں میرے سینے سے ایک نور نِکلا اور اُس میں ایک تخت ظاہر ہوا ۔ اُس تخت پر ایک شخص تکیہ لگائے بیٹھا ہے اور اُس کے سامنے تمام ظالموں، زندیقوں اور ملحدوں کو بکرے کی طرح ذبح کر رہے ہیں اور کوئی شخص بآواز بلند کہہ رہا ہے: وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُ ط اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا ـ " اور فرمادو! سچ آ گیا اور باطل مٹ گیا بے شک باطل مٹنے والا ہے " ۔ اس خواب کی تعبیر حضرت قدس سرہ نے شاہ کمال کیتھلی رحمۃ اللہ علیہ سے دریافت کی ۔ انہوں نے فرمایا کہ تمہارے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوگا جس سے الحاد و بدعت کی تاریکی دُور ہوگی ۔ یہ تعبیر بالکل درست نکلی ۔
واقعی ایسا ہوا اللہ جل شانہ نے حضرت مجدد کو اپنے دین کی خدمت کے لئے چن لیا تھا ۔ صبر و شکر، تسلیم و رضا حسبِ حال ہر ایک کی تعظیم، لوگوں پر شفقت، صلۂ رحمی، اربابِ حقوق کی رعایت، مریضوں کی عیادت، سلام میں سبقت، کلام میں نرمی آپ کا شیوۂ حسنہ تھا ۔ آپ کا طریقۂ عمل بر عزیمت تھا ۔ عبادات و عادات میں نہایت احتیاط اور سنت کا کمال اتباع ملحوظ تھا ۔ آج یہود و نصاریٰ صوفی ازم کی بات کرتے ہیں، اور ان کے سرمائے سے " انٹرنیشنل صوفی کانفرنسز " کا انعقاد کیا جا رہا ہے ۔ اس میں پلپلے، جاہل، دین و ملت فروش نام نہاد صوفیوں کی بھر مار ہوتی ہے ۔ جن کے ہاں دینِ اسلام کی ثانوی حیثیت بھی نہیں ہے ۔ ان کی صورت و سیرت اس بات کی گواہی دے رہی ہوتی ہیں ۔
❤2
آئیے! اس صوفی کی بات کرتے ہیں، جو امام الاولیاء ہے، دین کا محافظ ہے، قرآن کا حافظ ہے، اسرارِ خدا وندی کا امین ہے، مصطفیٰ کریم ﷺ کی سنتوں کا عامل ہے، عالمِ ربانی ہے، اور وہ مجدد الفِ ثانی ہے ۔
مغل شہنشاہِ اکبر کے عہدِ حکومت میں اسلام کے سر سبز و شاداب چمن پر ایک بار پھر کفر و الحاد، زندقہ اور بدعت و ضلالت کی گھٹا ٹوپ آندھیاں چھا گئیں ۔ اس نےدینِ حنیف میں ترمیم کرکے ایک نئے دین کی بنیاد رکھی '' دین الٰہی '' کےنام سے ایک ایسا مذہب ایجاد کیا گیا جو شریعتِ محمدیہ علیٰ صاحبھا الصلاۃ والسلام کے سراسر مخالف اور قرآن و سنت سے انکار و انحراف کے مترادف تھا ۔
دینِ اسلام کی صداقت و عظمت کا وہ چراغ جو ایک ہزار سال سے روشن تھا، شاہِ وقت، علمائے سوء، اور جاہل صوفیوں کے ہاتھوں ٹمٹمانے لگا ۔ دینِ اسلام کی حالت زار جو شہنشاہِ اکبر اور اس کے بعد جہانگیر کے ہاتھوں رہی تھی ۔
اس کی طرف اشارہ حضرت مجدد الف ثانی نے اپنے ایک خط میں جو انہوں نے جہانگیر کے ایک مقرب کو لکھا، یوں بیان فرمائی:
" اسلام کی بے کسی کا یہ حال ہے کہ کفار کھلم کھلا اس پر طعن توڑتے ہیں اور اسلام کے نام لیواؤں کی مذمت کرتے ہیں ۔ وہ ہر کوچہ و بازار میں بے خوف و خطر کفر کے احکام جاری کرتے اور کفار کی مدح و ستائش کرتے ہیں، مسلمان اسلامی احکام کی بجا آوری سے قاصر اور شریعت محمدیہ پر عمل پیرا ہونے سے عاجز ہیں '' ۔ (ایضاً)
دینِ اکبری کو رعایا کے تمام طبقوں کے لئے قابلِ قبول بنانے کے لئے عقیدۂ توحید میں اس قدر ترمیم کی گئی کہ ہندوؤں کی بت پرستی، مجوسیوں کی آتش پرستی اور ویدوں میں بیان کردہ فلسفیانہ موشگافیوں کو نئے دین میں سمیٹ لیا گیا ہے، اس طرح اکبر کا " دینِ الٰہی " مختلف مذاہب کے عقائد و خیالات کا ایک ملغوبہ بن گیا تھا ۔
کتاب اللہ اور سنت رسول الله ﷺ جو دین کی اصل بنیاد تھی، وہ طاقِ نسیاں پر رکھ دی گئیں، سورج کی پرستش چاروں طرف لازمی قرار دی گئی، آگ، پانی، درخت اور گائے کو پوجنا جائز ٹھہرا، اکبر ہر روز خود صبح اُٹھ کر سورج کی پرستش کرتا، اس کے بعد مشتاقانِ دید کے لئے دیوانِ عام میں آ بیٹھتا تھا، لوگ شہنشاہ کے لئے سجدہ تعظیمی بجا لاتے جسے اس وقت کے دین فروش ملاؤں نے جائز قرار دیا تھا ۔ اس کے بر عکس اسلامی شعائر کو درخورِ اعتنانہ سمجھا گیا اور بادشاہ کو یہ بتلایا گیا کہ دینِ اسلام ایک ہزار سال گزر جانے کےبعد نعوذ باللہ بالکل اسی طرح بےکار اور ناکارہ ہو گیا ہے، جس طرح کہ اسلام سے پہلے کے مذاہب اقتدارِ زمانہ کے ہاتھوں معطل ہو چکے ہیں ۔
ہندو عورتوں سے شادیاں کر لینے کے بعد اکبر کے دِل میں ہندوؤں کے لئےنرم گوشہ پیدا ہو گیا تھا ۔ حکومت کے بڑے بڑے عہدوں پر ہندو فائز تھے، اپنے اقتدار اور شاہ وقت کی نظرِ عنایت نے انہیں اس قدر دلیر کر دیا تھا کہ وہ مسلمانوں کی ہر آن ہر لمحہ دل آزاری کرتے، مسجدیں شہید کر کے وہاں مندر بنائے گئے، ہندوؤں کے برت کا دن آتا تو مسلمانوں کو دن میں کھانے پینے سے حکماً روک دیا جاتا، انہیں حکم ہوتا کہ ان کے چولھوں میں آگ نہ جلے ۔
لیکن جب رمضان المبارک آتا تو ہندو سرِ عام کھاتے، رمضان کی عزت و حرمت کی حفاظت کے لئے بادشاہ کوئی فرمان جاری نہ کرتا تھا ۔ حالات اس حد تک نا ساز گار تھے کہ دین کے پنپنےکی کوئی اُمید نظر نہ آتی تھی ۔ مگر ہمیشہ یہ ہوا کہ جب بھی دین اسلام پر کوئی آزمائش کا وقت آیا رحمتِ حق میں ارتعاش پیدا ہوا ۔ دین حق کی حفاظت کے لئےکوئی نہ کوئی ہستی ان تِیرہ و تاریک فضاؤں میں نمودار ہوئی جس کی نورانی کرنوں سے کفر و الحاد کی تاریکیاں چھٹ گئیں جس کی ضیاء بار تابانیوں سے بدعت و ضلالت کی آندھیاں ڈھل گئیں جس کی ضَوفشاں شعاعوں سے زندقت کے اندھیرے بھی منور ہوئے اور توحید و سنت کی مشعلیں چمک اُٹھیں ۔
جب کفر و شرک، بدعت و ضلالت اور زندقہ و الحادکی آندھیاں اپنی تمام تاریکیوں سمیت ہندوستان کی فضاء پر چھا گئیں تو آسمانِ '' سر ہند '' پر سنت و ہدایت کا آفتاب طلوع ہوا جس کو لوگ شیخ احمد سر ہندی کے نام سے موسوم کرتے ہیں ۔ اس آفتاب کی ضیاء پاشیوں سے ظلمت و گمراہی کے اندھیرے کافور ہوئے، اکبر نے جس دین کی بنیاد رکھی تھی اور اعوان و انصارِ حکومت جس کی تبلیغ میں ہمہ تن مصروف تھے، حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو بیخ و بن سے اُکھاڑنے کا تہیہ کیا ۔
ہم دیکھتے ہیں کہ حق اپنی تمام جلوہ سامانیوں سے طلوع ہوتا ہے ۔ تو باطل کافور کی مانند تحلیل ہو جاتا ہے ۔ بادشاہ کو رعایہ سجدہ کرتی تھی ۔ جب حضرت مجدد الفِ ثانی جہانگیر کے دربار میں پہنچے، اس کو بھی آپ سے یہی توقع تھی، لیکن آپ نے سجدہ کرنے سے انکار کر دیا ۔ آپ نے فرمایا اللہ جل شانہ کی ذات کے علاوہ سجدہ کسی کے لئے جائز نہیں ہے، فرمایا: یہ گردن کٹ تو سکتی ہے لیکن باطل کے آگے جھک نہیں سکتی ۔
ڈاکٹر اقبال فرماتے ہیں: ؎
گردن نہ جھکی جس کی جہانگیر کے آگے
جس کے نفسِ گرم سے ہے گرمیٔ احرار
مغل شہنشاہِ اکبر کے عہدِ حکومت میں اسلام کے سر سبز و شاداب چمن پر ایک بار پھر کفر و الحاد، زندقہ اور بدعت و ضلالت کی گھٹا ٹوپ آندھیاں چھا گئیں ۔ اس نےدینِ حنیف میں ترمیم کرکے ایک نئے دین کی بنیاد رکھی '' دین الٰہی '' کےنام سے ایک ایسا مذہب ایجاد کیا گیا جو شریعتِ محمدیہ علیٰ صاحبھا الصلاۃ والسلام کے سراسر مخالف اور قرآن و سنت سے انکار و انحراف کے مترادف تھا ۔
دینِ اسلام کی صداقت و عظمت کا وہ چراغ جو ایک ہزار سال سے روشن تھا، شاہِ وقت، علمائے سوء، اور جاہل صوفیوں کے ہاتھوں ٹمٹمانے لگا ۔ دینِ اسلام کی حالت زار جو شہنشاہِ اکبر اور اس کے بعد جہانگیر کے ہاتھوں رہی تھی ۔
اس کی طرف اشارہ حضرت مجدد الف ثانی نے اپنے ایک خط میں جو انہوں نے جہانگیر کے ایک مقرب کو لکھا، یوں بیان فرمائی:
" اسلام کی بے کسی کا یہ حال ہے کہ کفار کھلم کھلا اس پر طعن توڑتے ہیں اور اسلام کے نام لیواؤں کی مذمت کرتے ہیں ۔ وہ ہر کوچہ و بازار میں بے خوف و خطر کفر کے احکام جاری کرتے اور کفار کی مدح و ستائش کرتے ہیں، مسلمان اسلامی احکام کی بجا آوری سے قاصر اور شریعت محمدیہ پر عمل پیرا ہونے سے عاجز ہیں '' ۔ (ایضاً)
دینِ اکبری کو رعایا کے تمام طبقوں کے لئے قابلِ قبول بنانے کے لئے عقیدۂ توحید میں اس قدر ترمیم کی گئی کہ ہندوؤں کی بت پرستی، مجوسیوں کی آتش پرستی اور ویدوں میں بیان کردہ فلسفیانہ موشگافیوں کو نئے دین میں سمیٹ لیا گیا ہے، اس طرح اکبر کا " دینِ الٰہی " مختلف مذاہب کے عقائد و خیالات کا ایک ملغوبہ بن گیا تھا ۔
کتاب اللہ اور سنت رسول الله ﷺ جو دین کی اصل بنیاد تھی، وہ طاقِ نسیاں پر رکھ دی گئیں، سورج کی پرستش چاروں طرف لازمی قرار دی گئی، آگ، پانی، درخت اور گائے کو پوجنا جائز ٹھہرا، اکبر ہر روز خود صبح اُٹھ کر سورج کی پرستش کرتا، اس کے بعد مشتاقانِ دید کے لئے دیوانِ عام میں آ بیٹھتا تھا، لوگ شہنشاہ کے لئے سجدہ تعظیمی بجا لاتے جسے اس وقت کے دین فروش ملاؤں نے جائز قرار دیا تھا ۔ اس کے بر عکس اسلامی شعائر کو درخورِ اعتنانہ سمجھا گیا اور بادشاہ کو یہ بتلایا گیا کہ دینِ اسلام ایک ہزار سال گزر جانے کےبعد نعوذ باللہ بالکل اسی طرح بےکار اور ناکارہ ہو گیا ہے، جس طرح کہ اسلام سے پہلے کے مذاہب اقتدارِ زمانہ کے ہاتھوں معطل ہو چکے ہیں ۔
ہندو عورتوں سے شادیاں کر لینے کے بعد اکبر کے دِل میں ہندوؤں کے لئےنرم گوشہ پیدا ہو گیا تھا ۔ حکومت کے بڑے بڑے عہدوں پر ہندو فائز تھے، اپنے اقتدار اور شاہ وقت کی نظرِ عنایت نے انہیں اس قدر دلیر کر دیا تھا کہ وہ مسلمانوں کی ہر آن ہر لمحہ دل آزاری کرتے، مسجدیں شہید کر کے وہاں مندر بنائے گئے، ہندوؤں کے برت کا دن آتا تو مسلمانوں کو دن میں کھانے پینے سے حکماً روک دیا جاتا، انہیں حکم ہوتا کہ ان کے چولھوں میں آگ نہ جلے ۔
لیکن جب رمضان المبارک آتا تو ہندو سرِ عام کھاتے، رمضان کی عزت و حرمت کی حفاظت کے لئے بادشاہ کوئی فرمان جاری نہ کرتا تھا ۔ حالات اس حد تک نا ساز گار تھے کہ دین کے پنپنےکی کوئی اُمید نظر نہ آتی تھی ۔ مگر ہمیشہ یہ ہوا کہ جب بھی دین اسلام پر کوئی آزمائش کا وقت آیا رحمتِ حق میں ارتعاش پیدا ہوا ۔ دین حق کی حفاظت کے لئےکوئی نہ کوئی ہستی ان تِیرہ و تاریک فضاؤں میں نمودار ہوئی جس کی نورانی کرنوں سے کفر و الحاد کی تاریکیاں چھٹ گئیں جس کی ضیاء بار تابانیوں سے بدعت و ضلالت کی آندھیاں ڈھل گئیں جس کی ضَوفشاں شعاعوں سے زندقت کے اندھیرے بھی منور ہوئے اور توحید و سنت کی مشعلیں چمک اُٹھیں ۔
جب کفر و شرک، بدعت و ضلالت اور زندقہ و الحادکی آندھیاں اپنی تمام تاریکیوں سمیت ہندوستان کی فضاء پر چھا گئیں تو آسمانِ '' سر ہند '' پر سنت و ہدایت کا آفتاب طلوع ہوا جس کو لوگ شیخ احمد سر ہندی کے نام سے موسوم کرتے ہیں ۔ اس آفتاب کی ضیاء پاشیوں سے ظلمت و گمراہی کے اندھیرے کافور ہوئے، اکبر نے جس دین کی بنیاد رکھی تھی اور اعوان و انصارِ حکومت جس کی تبلیغ میں ہمہ تن مصروف تھے، حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو بیخ و بن سے اُکھاڑنے کا تہیہ کیا ۔
ہم دیکھتے ہیں کہ حق اپنی تمام جلوہ سامانیوں سے طلوع ہوتا ہے ۔ تو باطل کافور کی مانند تحلیل ہو جاتا ہے ۔ بادشاہ کو رعایہ سجدہ کرتی تھی ۔ جب حضرت مجدد الفِ ثانی جہانگیر کے دربار میں پہنچے، اس کو بھی آپ سے یہی توقع تھی، لیکن آپ نے سجدہ کرنے سے انکار کر دیا ۔ آپ نے فرمایا اللہ جل شانہ کی ذات کے علاوہ سجدہ کسی کے لئے جائز نہیں ہے، فرمایا: یہ گردن کٹ تو سکتی ہے لیکن باطل کے آگے جھک نہیں سکتی ۔
ڈاکٹر اقبال فرماتے ہیں: ؎
گردن نہ جھکی جس کی جہانگیر کے آگے
جس کے نفسِ گرم سے ہے گرمیٔ احرار
❤2
بادشاہ کو درباریوں نے قتل پہ ابھارا، جو شہنشاہ کو سجدہ نہ کرے وہ قتل کا مستحق ہے ۔ لیکن بادشاہ کو قتل کی جرأت نہ ہوئی ۔ آپ کو " قلعہ گوالیار " میں نظر بند کر دیا ۔ آپ نے ان حالات میں بھی سلسلۂ تبلیغ جاری رکھا ۔ بالآخر آپ کی کوششیں رنگ لائیں ۔ جو اسلام پر پابندیاں تھیں وہ ختم کر دی گئیں، اسلام کا بول بالا ہو گیا ۔ ہر طرف اسلام کی بہاریں پھر نظر آنے لگیں ۔ یہ تھے حقیقی صوفیاء ۔
آج بھی پھر وہی حالات ہیں، اسلام کے نام پر قائم ہونے والے اس ملک میں اسلام قبول کرنے پر پابندی لگا دی گئی، غیر مسلموں کے تہواروں کو خصوصی طور پر منایا جانے لگا، ہولی اور دیوالی پر عام تعطیل ہونے لگی ۔ مندروں اور گرجا گھروں کی تعمیر و سرپرستی حکومتی وزراء کر رہے ہیں ۔ زنا، قمار، شراب، وغیرہ کے حکومت کی طرف سے لائسنس جاری ہو رہے ہیں ۔ ناچ ڈانس، گانے باجے، بےحیائی کے کاموں کو " ثقافت " کہا جانے لگا ۔ ان دھندوں سے وابستہ افراد کو " ہیرو " کہا جانے لگا ۔
اسلام کے نام پر قائم ہونے والے ملک میں کفار کا نظام نافذ ہے ۔ اسی طرح حال ہی میں " دار العلوم دیوبند " کا " فتویٰ " آیا ہے جس میں " گائے " کی قربانی کرنے سے منع کیا گیا ہے ۔ معلوم نہیں ان " فتویٰ فروشوں " نے کس دلیل سے منع کیا ہے ۔ ہندوستان میں صرف گائے کے گوشت کے شبہ کی بناء پر دن دہاڑے مسلمانوں کو جان سے مار دیا جاتا ہے ۔ برما اور دیگر ممالک میں مسلمانوں کے حالات ناگفتہ بہ ہیں، کوئی پرسانِ حال نہیں ۔
الغرض اس وقت جہان میں خونِ مسلم سے ارزاں کوئی اور چیز نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی حالتِ زار پر رحم فرمائے، پھرسے امت کی راہنمائی کے لئے کوئی اور شیخ سرہندی و صلاح الدین ایوبی عطاء فرمائے، اور مسلم حکمرانوں کو حمیّتِ دینی عطاء فرمائے ۔ (آمین)
وصال:
بروز پیر 29 صفر المظفر 1034ھ / مطابق جنوری 1625ء کو وصال فرمایا ۔
مزار مبارک:
آپ کا مزار پر انوار سرہند شریف (انڈیا) میں مرکزِ انوار و تجلیات ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تاریخ مشائخِ نقشبندیہ ۔
سیرت مجدد الفِ ثانی ۔
حکیم الامّت ڈاکٹر اقبال علیہ الرحمہ تربتِ اطہر کے بارے میں یوں فرماتے ہیں:
وہ خاک کہ ہے زیرِ فلک مطلعِ انوار
اس خاک میں پوشیدہ ہے وہ صاحبِ اسرار
جس کے نفسِ گرم سے ہے گرمئِ احرار
اللہ نے بر وقت کیا جس کو خبردار
حاضر ہوا میں شیخِ مجدّد کی لحد پر
اس خاک کے ذرّوں سے ہیں شرمندہ ستارے
گردن نہ جُھکی جس کی جہانگیر کے آگے
وہ ہند میں سرمایۂ ملّت کا نگہباں
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-ahmed-sirhindi-imam-rabbani-mujaddid
آج بھی پھر وہی حالات ہیں، اسلام کے نام پر قائم ہونے والے اس ملک میں اسلام قبول کرنے پر پابندی لگا دی گئی، غیر مسلموں کے تہواروں کو خصوصی طور پر منایا جانے لگا، ہولی اور دیوالی پر عام تعطیل ہونے لگی ۔ مندروں اور گرجا گھروں کی تعمیر و سرپرستی حکومتی وزراء کر رہے ہیں ۔ زنا، قمار، شراب، وغیرہ کے حکومت کی طرف سے لائسنس جاری ہو رہے ہیں ۔ ناچ ڈانس، گانے باجے، بےحیائی کے کاموں کو " ثقافت " کہا جانے لگا ۔ ان دھندوں سے وابستہ افراد کو " ہیرو " کہا جانے لگا ۔
اسلام کے نام پر قائم ہونے والے ملک میں کفار کا نظام نافذ ہے ۔ اسی طرح حال ہی میں " دار العلوم دیوبند " کا " فتویٰ " آیا ہے جس میں " گائے " کی قربانی کرنے سے منع کیا گیا ہے ۔ معلوم نہیں ان " فتویٰ فروشوں " نے کس دلیل سے منع کیا ہے ۔ ہندوستان میں صرف گائے کے گوشت کے شبہ کی بناء پر دن دہاڑے مسلمانوں کو جان سے مار دیا جاتا ہے ۔ برما اور دیگر ممالک میں مسلمانوں کے حالات ناگفتہ بہ ہیں، کوئی پرسانِ حال نہیں ۔
الغرض اس وقت جہان میں خونِ مسلم سے ارزاں کوئی اور چیز نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی حالتِ زار پر رحم فرمائے، پھرسے امت کی راہنمائی کے لئے کوئی اور شیخ سرہندی و صلاح الدین ایوبی عطاء فرمائے، اور مسلم حکمرانوں کو حمیّتِ دینی عطاء فرمائے ۔ (آمین)
وصال:
بروز پیر 29 صفر المظفر 1034ھ / مطابق جنوری 1625ء کو وصال فرمایا ۔
مزار مبارک:
آپ کا مزار پر انوار سرہند شریف (انڈیا) میں مرکزِ انوار و تجلیات ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تاریخ مشائخِ نقشبندیہ ۔
سیرت مجدد الفِ ثانی ۔
حکیم الامّت ڈاکٹر اقبال علیہ الرحمہ تربتِ اطہر کے بارے میں یوں فرماتے ہیں:
وہ خاک کہ ہے زیرِ فلک مطلعِ انوار
اس خاک میں پوشیدہ ہے وہ صاحبِ اسرار
جس کے نفسِ گرم سے ہے گرمئِ احرار
اللہ نے بر وقت کیا جس کو خبردار
حاضر ہوا میں شیخِ مجدّد کی لحد پر
اس خاک کے ذرّوں سے ہیں شرمندہ ستارے
گردن نہ جُھکی جس کی جہانگیر کے آگے
وہ ہند میں سرمایۂ ملّت کا نگہباں
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-ahmed-sirhindi-imam-rabbani-mujaddid
scholars.pk
Sheikh Ahmad Sirhindi Mujaddid Alf Sani
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
28-02-1445 ᴴ | 15-09-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
29-02-1445 ᴴ | 16-09-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
29-02-1445 ᴴ | 16-09-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
29-02-1445 ᴴ | 16-09-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1