🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
28-02-1445 ᴴ | 15-09-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
28-02-1445 ᴴ | 15-09-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
عرس حضور مجدد الف ثانی
شیخ احمد سرہندی علیہ الرحمہ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
عرس حضور مجدد الف ثانی
شیخ احمد سرہندی علیہ الرحمہ
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
حضرت شیخ احمد نہروانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آپ قاضی حمید الدین ناگوری کے مشہور خلیفہ تھے ۔ بڑے بلند پایہ بزرگ اور اسرارِ حقیقت کے واقف تھے، حضرت شیخ الاسلام بہاؤالدین زکریا ملتانی رحمۃ اللہ علیہ کسی کو بہت کم پسند فرمایا کرتے تھے مگر حضرت شیخ نہروانی کے متعلق فرمایا کرتے کہ شیخ احمد نہروانی صوفیوں کے منبع ہیں، شیخ نظام الدین اولیاء اللہ فرماتے ہیں کہ جس مجلس سماع میں خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کا انتقال ہوا اُس میں شیخ احمد نہروانی بھی موجود تھے، شیخ نصیرالدین محمود چراغ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ شیخ احمد نہروانی بافندگی کرتے تھے، کبھی کبھی ایسا ہوتا کہ کام کے دوران ہی اُن پر ایسی کیفیت طاری ہوتی کہ اپنے آپ ہی غائب ہوجاتے، کام سے دستبردار ہوجاتے لیکن خود بخود کپڑے بنتے جاتے ۔
ایک دن قاضی حمید الدین ناگوری رحمۃ اللہ علیہ شیخ احمد نہروانی کو ملنے کے لیے تشریف لے گئے، اس وقت شیخ کھڈی پر بیٹھے کپڑا بن رہے تھے اپنے پیر و مرشد سے وہاں ہی ملاقات ہوئی وداع کے وقت قاضی حمید الدین نے فرمایا ’’احمد اصل کام چھوڑ کر کب تک اس کام میں لگے رہو گے تمہیں کوئی اچھا کام کرنا چاہیے یہ کام اللہ کے بندوں کا نہیں ہے اسے چھوڑ و اور اپنا کام کرو جو تمہارے کسی کام آئے، اس کام سے تو بے کار ی بہتر ہے‘‘ ۔ قاضی حمیدالدین رخصت ہوئے تو حضرت شیخ احمد اٹھے اور ایک موٹی سی لکڑی کو ہاتھ میں لیا تاکہ میخ کو ٹھونک سکیں کیونکہ اُس میخ سے آپ کی کھڈی کی رسیاں ڈھیلی پڑ گئی تھیں جونہی آپ نے وہ لکڑی میخ پر ماری تو آپ کے ہاتھ پر آلگی ہاتھ ٹوٹ گیا اور اس کام سے بے کار ہوگئے اور اب دن رات اللہ کی عبادت میں مشغول رہنے لگے، آپ کی وفات چھ سو اکسٹھ ہجری میں ہوئی ۔
شیخ احمد چوں ز دنیا رخت بست
داخل فردوس شد آں جنتی
سالِ ترحیلش چو گفتم از خرد
گشت احمد مرشد دین منجلی
۶۶۱ھ
-----------------------------------
آپ قاضی حمیدالدین محمد بن عطا، ناگوری کے مریدِ خاص کامل بزرگ تھے اور باعتبار پیشہ کے جولاہے تھے، شیخ الاسلام بہاؤ الدین زکریا فرمایا کرتے تھے، اگر کوئی شیخ احمد نہروانی کے مشغول بحق ہونے کا اندازہ لگائے تو دس صوفیوں کے اشغال بالذکر سے کم نہ پائے گا، سلطان المشائخ نظام الدین اولیاء نے فرمایا جس مجلس سماع میں بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ کو خاص واقعہ پیش آیا اس مجلس میں شیخ احمد نہروانی بھی موجود تھے ۔
شیخ نصیرالدین محمود چراغ آپ کے بارے میں یوں ارشاد فرماتے ہیں کہ شیخ احمد نہروانی کو کبھی کبھی کرگھے پر کام کرتے وقت حالت وجد طاری ہوجاتی تھی اور اس وجہ سے آپ کپڑا بننا چھوڑ دیتے تھے، لیکن کرگھا چلتا رہتا اور کپڑا خود بخود تیار ہوتا رہتا، ایک دفعہ قاضی حمیدالدین ناگوری (جن کے حالات پہلے گزر چکے) آپ کے ہاں بغرض ملاقات تشریف لائے اور جاتے وقت فرمانے لگے شیخ احمد کب تک اس کام میں لگے رہو گے؟ یہ فرماکر قاضی صاحب تو تشریف لے گئے اور شیخ احمد نہروانی ان میخوں کو کسنے کے لیے اُٹھے جو ڈھیلی پڑ گئی تھیں، ابھی ایک میخ کسنا ہی چاہتے تھے کہ آپ کا ہاتھ ٹوٹ گیا جس پر شیخ احمد نہروانی نے ہندی زبان میں فرمایا کہ پیر قاضی حمیدالدین نے میرا ہاتھ توڑ دیا۔
اس واقعہ کے بعد آپ نے جولاہوں کا پیشہ ترک فرمادیا اور مکمل طور پر یاد الٰہی عزوجل میں مصروف و مشغول ہوگئے، آپ کا مزار بدایوں میں ہے۔
(اخبار الاخیار)
حضرت شیخ احمد نہروانی
(رحمۃ اللہ علیہ)
حضرت شیخ احمد نہروانی اس مجلس سماع میں موجود تھےکہ جس میں قطب الاقطاب حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی (رحمتہ اللہ علیہ )نے وصال فرمایا۔
بیعت و خلافت:
آپ حضرت قاضی حمید الدین ناگوری کے مرید ہیں۔
پیشہ:
آپ بافندگی کاکام کرتے تھے۔
زندگی میں کایا پلٹ:
آپ کے پیر و مرشد حضرت قاضی حمیدالدین ناگوری ایک مرتبہ آپ کے مکان پرتشریف لائے، آپ اپنا کام کر رہے تھے، اپنے پیر و مرشد کی تعظیم بجا لائے ۔ حضرت قاضی جب چلنے لگے تو انہوں نے آپ سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ۱؎
"احمد! یہ کام کب تک کرتے رہوگے"۔
حضرت قاضی صاحب کےتشریف لے جانے کے بعد آپ کا ہاتھ میخ پر اتفاقاً جا لگا، ہاتھ ٹوٹ گیا، آپ مسکرائے اور فرمایا۔
"اس بوڑھے (قاضی حمید الدین) نے میرا ہاتھ توڑ ڈال"۔
اس دن سے آپ نے بافندگی کا کام چھوڑ دیا۔ دنیا کو ترک کرکے یاد الٰہی میں مشغول ہوئے۔
وفات:
آپ نے ۶۶۱ھ میں وفات پائی، مزار بدایوں میں ہے ۔۲؎
سیرت:
حضرت بہاؤالدین زکریا ملتانی (رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں) کہ۔
"اگر احمد کی مشغولی وزن کی جائے تو دس صوفیوں کی مشغولی کے برابر ہوگی"۔
کرامت:
کبھی کبھی ایسا ہوتا تھا کہ آپ اپنا کام کرتے کرتے از خود رفتہ ہو جاتے تھے، آپ کام بند کر دیتے تھے لیکن کپڑا بغیر آپ کی امداد کے بنتا جاتا تھا۔
حواشی:
ا؎ اخبار الاخیار (اُردوترجمہ)ص۹۳
۲؎ اخبارالاخیار (اُردوترجمہ) ص۹۳
( تذکرہ اولیاءِ پاک و ہند )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-ahmed-neharwani
آپ قاضی حمید الدین ناگوری کے مشہور خلیفہ تھے ۔ بڑے بلند پایہ بزرگ اور اسرارِ حقیقت کے واقف تھے، حضرت شیخ الاسلام بہاؤالدین زکریا ملتانی رحمۃ اللہ علیہ کسی کو بہت کم پسند فرمایا کرتے تھے مگر حضرت شیخ نہروانی کے متعلق فرمایا کرتے کہ شیخ احمد نہروانی صوفیوں کے منبع ہیں، شیخ نظام الدین اولیاء اللہ فرماتے ہیں کہ جس مجلس سماع میں خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کا انتقال ہوا اُس میں شیخ احمد نہروانی بھی موجود تھے، شیخ نصیرالدین محمود چراغ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ شیخ احمد نہروانی بافندگی کرتے تھے، کبھی کبھی ایسا ہوتا کہ کام کے دوران ہی اُن پر ایسی کیفیت طاری ہوتی کہ اپنے آپ ہی غائب ہوجاتے، کام سے دستبردار ہوجاتے لیکن خود بخود کپڑے بنتے جاتے ۔
ایک دن قاضی حمید الدین ناگوری رحمۃ اللہ علیہ شیخ احمد نہروانی کو ملنے کے لیے تشریف لے گئے، اس وقت شیخ کھڈی پر بیٹھے کپڑا بن رہے تھے اپنے پیر و مرشد سے وہاں ہی ملاقات ہوئی وداع کے وقت قاضی حمید الدین نے فرمایا ’’احمد اصل کام چھوڑ کر کب تک اس کام میں لگے رہو گے تمہیں کوئی اچھا کام کرنا چاہیے یہ کام اللہ کے بندوں کا نہیں ہے اسے چھوڑ و اور اپنا کام کرو جو تمہارے کسی کام آئے، اس کام سے تو بے کار ی بہتر ہے‘‘ ۔ قاضی حمیدالدین رخصت ہوئے تو حضرت شیخ احمد اٹھے اور ایک موٹی سی لکڑی کو ہاتھ میں لیا تاکہ میخ کو ٹھونک سکیں کیونکہ اُس میخ سے آپ کی کھڈی کی رسیاں ڈھیلی پڑ گئی تھیں جونہی آپ نے وہ لکڑی میخ پر ماری تو آپ کے ہاتھ پر آلگی ہاتھ ٹوٹ گیا اور اس کام سے بے کار ہوگئے اور اب دن رات اللہ کی عبادت میں مشغول رہنے لگے، آپ کی وفات چھ سو اکسٹھ ہجری میں ہوئی ۔
شیخ احمد چوں ز دنیا رخت بست
داخل فردوس شد آں جنتی
سالِ ترحیلش چو گفتم از خرد
گشت احمد مرشد دین منجلی
۶۶۱ھ
-----------------------------------
آپ قاضی حمیدالدین محمد بن عطا، ناگوری کے مریدِ خاص کامل بزرگ تھے اور باعتبار پیشہ کے جولاہے تھے، شیخ الاسلام بہاؤ الدین زکریا فرمایا کرتے تھے، اگر کوئی شیخ احمد نہروانی کے مشغول بحق ہونے کا اندازہ لگائے تو دس صوفیوں کے اشغال بالذکر سے کم نہ پائے گا، سلطان المشائخ نظام الدین اولیاء نے فرمایا جس مجلس سماع میں بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ کو خاص واقعہ پیش آیا اس مجلس میں شیخ احمد نہروانی بھی موجود تھے ۔
شیخ نصیرالدین محمود چراغ آپ کے بارے میں یوں ارشاد فرماتے ہیں کہ شیخ احمد نہروانی کو کبھی کبھی کرگھے پر کام کرتے وقت حالت وجد طاری ہوجاتی تھی اور اس وجہ سے آپ کپڑا بننا چھوڑ دیتے تھے، لیکن کرگھا چلتا رہتا اور کپڑا خود بخود تیار ہوتا رہتا، ایک دفعہ قاضی حمیدالدین ناگوری (جن کے حالات پہلے گزر چکے) آپ کے ہاں بغرض ملاقات تشریف لائے اور جاتے وقت فرمانے لگے شیخ احمد کب تک اس کام میں لگے رہو گے؟ یہ فرماکر قاضی صاحب تو تشریف لے گئے اور شیخ احمد نہروانی ان میخوں کو کسنے کے لیے اُٹھے جو ڈھیلی پڑ گئی تھیں، ابھی ایک میخ کسنا ہی چاہتے تھے کہ آپ کا ہاتھ ٹوٹ گیا جس پر شیخ احمد نہروانی نے ہندی زبان میں فرمایا کہ پیر قاضی حمیدالدین نے میرا ہاتھ توڑ دیا۔
اس واقعہ کے بعد آپ نے جولاہوں کا پیشہ ترک فرمادیا اور مکمل طور پر یاد الٰہی عزوجل میں مصروف و مشغول ہوگئے، آپ کا مزار بدایوں میں ہے۔
(اخبار الاخیار)
حضرت شیخ احمد نہروانی
(رحمۃ اللہ علیہ)
حضرت شیخ احمد نہروانی اس مجلس سماع میں موجود تھےکہ جس میں قطب الاقطاب حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی (رحمتہ اللہ علیہ )نے وصال فرمایا۔
بیعت و خلافت:
آپ حضرت قاضی حمید الدین ناگوری کے مرید ہیں۔
پیشہ:
آپ بافندگی کاکام کرتے تھے۔
زندگی میں کایا پلٹ:
آپ کے پیر و مرشد حضرت قاضی حمیدالدین ناگوری ایک مرتبہ آپ کے مکان پرتشریف لائے، آپ اپنا کام کر رہے تھے، اپنے پیر و مرشد کی تعظیم بجا لائے ۔ حضرت قاضی جب چلنے لگے تو انہوں نے آپ سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ۱؎
"احمد! یہ کام کب تک کرتے رہوگے"۔
حضرت قاضی صاحب کےتشریف لے جانے کے بعد آپ کا ہاتھ میخ پر اتفاقاً جا لگا، ہاتھ ٹوٹ گیا، آپ مسکرائے اور فرمایا۔
"اس بوڑھے (قاضی حمید الدین) نے میرا ہاتھ توڑ ڈال"۔
اس دن سے آپ نے بافندگی کا کام چھوڑ دیا۔ دنیا کو ترک کرکے یاد الٰہی میں مشغول ہوئے۔
وفات:
آپ نے ۶۶۱ھ میں وفات پائی، مزار بدایوں میں ہے ۔۲؎
سیرت:
حضرت بہاؤالدین زکریا ملتانی (رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں) کہ۔
"اگر احمد کی مشغولی وزن کی جائے تو دس صوفیوں کی مشغولی کے برابر ہوگی"۔
کرامت:
کبھی کبھی ایسا ہوتا تھا کہ آپ اپنا کام کرتے کرتے از خود رفتہ ہو جاتے تھے، آپ کام بند کر دیتے تھے لیکن کپڑا بغیر آپ کی امداد کے بنتا جاتا تھا۔
حواشی:
ا؎ اخبار الاخیار (اُردوترجمہ)ص۹۳
۲؎ اخبارالاخیار (اُردوترجمہ) ص۹۳
( تذکرہ اولیاءِ پاک و ہند )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-ahmed-neharwani
scholars.pk
Hazrat Sheikh Ahmed Neharwani
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
حضرت میر محمد یعقوب گیلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آپ عالم عامل اور عامل کامل تھے آپ قلعۂ یعقوب میں رہا کرتے تھے اور اسمائے ربانی کے زرو سے حاکمانہ قوت کے مالک تھے ۔ خلق خدا ان سے دین و دنیا کے فائدے اٹھایا کرتی تھیب۔ دیوانہ کتے کے زخمی لوگ آپ کے پاس آتے اور شفا یاب ہوتے آپ کی دعا کے بعد تادم حیات کسی پر دیوانگی کے اثرات نہ رہتے آپ کی نسبت آبائی جناب غوث الاعظم محی الدین ابو محمد عبد القادر جیلانی سے ملتی ہے ۔
سلسلۂ نسب:
میر محمد یعقوب بن میر محمد زمان بن میر محمد حاجی بن میر صدر الدین ۔ بن سید نور الدین بن سید بدر الدین بن سید جعفر بن سید احمد بن سید مومن بن میر حیدر بن شاہ قمیص قادری (جن کا ذکر خیر سلسلہِ قادریہ میں گذر چکا ہے) بن ابی الحیات ۔ بن تاج الدین محمود بن بہاء الدین محمد بن جلال الدین احمد بن سید علی جمال الدین قاضی ابو صالح نصر بن سید آلافاق شیخ عبد الرزاق بن شیخ سید سلطان ابو محمد محی الدین عبد القادر جیلانی قدس سرھم ۔
آپ کی روحانی نسبت پیران قادریہ کے سلسلہ سے یوں درج ہے ۔
آپ سید فضل علی لاہوری کے مرید تھے ۔ وہ شیخ عبد الرحیم جار اللہ وہ حاجی محمد سعید لاہوری (جن کا ذکر خیر سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجدّدیہ میں لکھا گیا ہے) وہ سید محمد محمود کردی ۔ وہ سید جلال الدین وہ سید شہاب الدین وہ سید جلال الدین عبد اللہ وہ سید شمس الدین ابو الوفا وہ سید شہاب الدین احمد وہ سید قاسم وہ سید عبد الباسط وہ سید بہاء الدین ابو العباس اور وہ سید بدر الدین حسن اور وہ سید علاء الدین اور وہ سید شرف الدین یحییٰ تا تاری اور وہ سید ابو النصر اور وہ قطب آلافاق سیّد عبد الرزاق اور وہ سیدنا عبد القادر جیلانی غوث الاعظم کے مرید تھے (رضی اللہ عنہم) امام میر یعقب گیلانی نے دوسرے سلاسل عالیہ سے بھی فیض پایا تھا ۔ اس طرح آپ مقتدائے زمانہ ہوئے ۔
وصال:
آپ کی تاریخ وفات ۲۹ صفر المظفر ۱۱۷۹ھ ہے مگر میر فضل علی نے تاریخ وفات ۴ محرم الحرام ۱۱۶۰ھ لکھی ہے ۔
مزار مبارک:
آپ کا مزار پر انور مزنگ لاہور کے قلعہ میر یعقوب میں ہے آپ کے تین بیٹے سید محمد یوسف ۔ میر سید علی اور میر اسماعیل تھے ۔ تینوں صاحباں علم و فضل اور ظاہر و باطن مراتب پر فائز ہوئے ۔
شد چو از دنیا بفضل ایزدی
ارتحالش ہست خورشید جہاں
۱۱۷۹ھ
درجناں یعقوب مخدوم الکریم
ہم بخواں یعقوب مخدوم الکریم
۱۱۷۹ھ
( خذینۃ الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-meer-muhammad-yakub-gilani
آپ عالم عامل اور عامل کامل تھے آپ قلعۂ یعقوب میں رہا کرتے تھے اور اسمائے ربانی کے زرو سے حاکمانہ قوت کے مالک تھے ۔ خلق خدا ان سے دین و دنیا کے فائدے اٹھایا کرتی تھیب۔ دیوانہ کتے کے زخمی لوگ آپ کے پاس آتے اور شفا یاب ہوتے آپ کی دعا کے بعد تادم حیات کسی پر دیوانگی کے اثرات نہ رہتے آپ کی نسبت آبائی جناب غوث الاعظم محی الدین ابو محمد عبد القادر جیلانی سے ملتی ہے ۔
سلسلۂ نسب:
میر محمد یعقوب بن میر محمد زمان بن میر محمد حاجی بن میر صدر الدین ۔ بن سید نور الدین بن سید بدر الدین بن سید جعفر بن سید احمد بن سید مومن بن میر حیدر بن شاہ قمیص قادری (جن کا ذکر خیر سلسلہِ قادریہ میں گذر چکا ہے) بن ابی الحیات ۔ بن تاج الدین محمود بن بہاء الدین محمد بن جلال الدین احمد بن سید علی جمال الدین قاضی ابو صالح نصر بن سید آلافاق شیخ عبد الرزاق بن شیخ سید سلطان ابو محمد محی الدین عبد القادر جیلانی قدس سرھم ۔
آپ کی روحانی نسبت پیران قادریہ کے سلسلہ سے یوں درج ہے ۔
آپ سید فضل علی لاہوری کے مرید تھے ۔ وہ شیخ عبد الرحیم جار اللہ وہ حاجی محمد سعید لاہوری (جن کا ذکر خیر سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجدّدیہ میں لکھا گیا ہے) وہ سید محمد محمود کردی ۔ وہ سید جلال الدین وہ سید شہاب الدین وہ سید جلال الدین عبد اللہ وہ سید شمس الدین ابو الوفا وہ سید شہاب الدین احمد وہ سید قاسم وہ سید عبد الباسط وہ سید بہاء الدین ابو العباس اور وہ سید بدر الدین حسن اور وہ سید علاء الدین اور وہ سید شرف الدین یحییٰ تا تاری اور وہ سید ابو النصر اور وہ قطب آلافاق سیّد عبد الرزاق اور وہ سیدنا عبد القادر جیلانی غوث الاعظم کے مرید تھے (رضی اللہ عنہم) امام میر یعقب گیلانی نے دوسرے سلاسل عالیہ سے بھی فیض پایا تھا ۔ اس طرح آپ مقتدائے زمانہ ہوئے ۔
وصال:
آپ کی تاریخ وفات ۲۹ صفر المظفر ۱۱۷۹ھ ہے مگر میر فضل علی نے تاریخ وفات ۴ محرم الحرام ۱۱۶۰ھ لکھی ہے ۔
مزار مبارک:
آپ کا مزار پر انور مزنگ لاہور کے قلعہ میر یعقوب میں ہے آپ کے تین بیٹے سید محمد یوسف ۔ میر سید علی اور میر اسماعیل تھے ۔ تینوں صاحباں علم و فضل اور ظاہر و باطن مراتب پر فائز ہوئے ۔
شد چو از دنیا بفضل ایزدی
ارتحالش ہست خورشید جہاں
۱۱۷۹ھ
درجناں یعقوب مخدوم الکریم
ہم بخواں یعقوب مخدوم الکریم
۱۱۷۹ھ
( خذینۃ الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-meer-muhammad-yakub-gilani
scholars.pk
Hazrat Meer Muhammad Yakub Gilani
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
حضرت مولانا محمد امان اللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
مولانا شیخ محمد امان اللہ بن مولانا صدر الدین رحمہما اللہ تعالیٰ چک عمر ضلع گجرات میں پیدا ہوئے، زیادہ تعلیم والد ماجد عم مکرم مولانا مخدوم عالم سے پائی، مزید تعلیم کے لئے کچھ عرصہ کر سال، ضلع جہلم میں رہے ، اس عرصہ میں آپ کے بڑے بھائی مولانا شیخ عبد اللہ (چک عمر) آپ کی جدائی سے متاثر ہو کر فراقیہ اشعار کہتے رہے جو ایک کتاب میں جمع کئے جا سکتے ہیں ۔
مولانا شیخ محمد امن اللہ رحمہ اللہ تعالیٰ اپنے دور کے متجر عالم اور عربی و فارسی کے اچھے شاعر تھے، آپ نے ج و از جمعہ کے بارے میں ایک عربی رسالہ لکھا تھا جسے علماء نے نگاہ تحسین سے دیکھا، یہ رسالہ پروفیسر قریشی احمد حسین، پروفیسر زمیند راہ کالج گجرات کے کتابخانہ میں محفوث ہے ۔ مولانا شیخ محمد امان اللہ کو خاندانی تناز عات اور مقدمات کی وجہ سے علم و ادب کی خدمت کا موقع نہ مل سکا اور نہ وہ نہ معلوم کیسے کیسے جواہر پارے یادگار چھوڑتے ۔
وصال:
۲۹ صفر / ۳۱ اگست ( ۱۳۱۲ھ/۱۸۹۴ئ) بروز جمعہ صبح کے وقت مولانا شیخ محمد امان اللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو وصال ہوا اور چک عمر،بضلع گجرات میں مدفون ہوئے ۔ آپ کے فرزند اجمند مولانا سلام اللہ شائق نامور عالمدین ہوئے ہیں [1]
[1] قریشی احمد حسین، پروفیسر: گجرات کی تمدنی تاریخ ( قلمی )
( تزکرہ اکابرِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-muhammad-amanullah
مولانا شیخ محمد امان اللہ بن مولانا صدر الدین رحمہما اللہ تعالیٰ چک عمر ضلع گجرات میں پیدا ہوئے، زیادہ تعلیم والد ماجد عم مکرم مولانا مخدوم عالم سے پائی، مزید تعلیم کے لئے کچھ عرصہ کر سال، ضلع جہلم میں رہے ، اس عرصہ میں آپ کے بڑے بھائی مولانا شیخ عبد اللہ (چک عمر) آپ کی جدائی سے متاثر ہو کر فراقیہ اشعار کہتے رہے جو ایک کتاب میں جمع کئے جا سکتے ہیں ۔
مولانا شیخ محمد امن اللہ رحمہ اللہ تعالیٰ اپنے دور کے متجر عالم اور عربی و فارسی کے اچھے شاعر تھے، آپ نے ج و از جمعہ کے بارے میں ایک عربی رسالہ لکھا تھا جسے علماء نے نگاہ تحسین سے دیکھا، یہ رسالہ پروفیسر قریشی احمد حسین، پروفیسر زمیند راہ کالج گجرات کے کتابخانہ میں محفوث ہے ۔ مولانا شیخ محمد امان اللہ کو خاندانی تناز عات اور مقدمات کی وجہ سے علم و ادب کی خدمت کا موقع نہ مل سکا اور نہ وہ نہ معلوم کیسے کیسے جواہر پارے یادگار چھوڑتے ۔
وصال:
۲۹ صفر / ۳۱ اگست ( ۱۳۱۲ھ/۱۸۹۴ئ) بروز جمعہ صبح کے وقت مولانا شیخ محمد امان اللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو وصال ہوا اور چک عمر،بضلع گجرات میں مدفون ہوئے ۔ آپ کے فرزند اجمند مولانا سلام اللہ شائق نامور عالمدین ہوئے ہیں [1]
[1] قریشی احمد حسین، پروفیسر: گجرات کی تمدنی تاریخ ( قلمی )
( تزکرہ اکابرِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-muhammad-amanullah
scholars.pk
Hazrat Molana Muhammad Amanullah
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
حضرت مولانا حافظ سید حبیب احمد نقشبندی عرف مدنی میاں رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
مولانا حافظ سید حبیب احمد نقشنبدی بن سید محمد محسن بن سید عبد اللہ المعروف مدنی میاں، مدنی میاں کی مدینہ منورہ میں روضہ رسول ﷺ کے نزدیک سکونت تھی ۔ مدنی میاں مدینہ منورہ سے تنہا ہندوستان آئے، شاہ جہاں پور کے قصبہ تلہر میں فروکش ہوئے ۔
بیعت:
آپ حضرت پیر الہی بخش سے سلسلۂ عالیہ نقشبند یہ میں کراچی ہی دست حق پر بیعت ہوئے ۔ آپ کے پیر و مرشد کا کراچی میں قیام تھا ۔ پیر و مرشد نے آپ کا نام اسد اللہ شاہ رکھا تھا ۔ بیعت اختیار کر کے آپ واپس ہندوستان چلے گئے وہاں سے مدینہ منورہ آنا جانا رہا پھر شاہ جہاں پور ہی میں مستقل قیام کیا ۔
نکاح اور اولاد:
سید محمد محسن نے شاہ جہاں پور کے پٹھان خاندان میں شرف النساء نامی خاتون سے شادی کی ۔ جس میں سے سید حبیب احمد تولد ہوئے جو کہ آپ کی اکلوتی اولاد تھی ۔
وصال:
حضرت پیر سید محمد محسن نے ۱۳۲۵ھ / ۱۹۰۷ء میں انتقال کیا ، شاہ جہاں پور جائے پوری نے فارسی میں کہا ہے ۔
مقطع تاریخ یہ ہے:
گفت محی بہر سال جانگزائے
سیف مسلول شریعت بود وائے ۱۳۲۵ھ
(بروایت: سید محمد احمد محسنی صاحب حیدر آباد)
مولانا سید حبیب احمد محسنی تلہر ضلع شاہ جہاں پور (بھارت) میں تولد ہوئے ۔
( بروایت: شہزاد احمد )
تعلیم و تربیت:
گھر سے دینی تعلیم کا آغاز کیا ، علاقہ میں ابتدائی تعلیم حاصل کی اور اعلی تعلیم جامعہ رضویہ منظر الاسلام بریلی شریف (یوپی انڈیا) سے حاصل کر کے فارغ التحصیل ہوئے ۔
بیعت و خلافت:
آپ اپنے والد گرامی قدر حضرت شیخ طریقت سید محمد محسن ؒ سے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں دست بیعت ہوئے اس کے بعد جانشین و خلیفہ ہوئے ۔ اس کے علاوہ حضرت بشیر میاں (بریلی شریف) نے بھی انہیں سلسلہ عالیہ قادریہ میں خلافت عطا فرمائی تھی ۔
امامت و خطابت:
۱۹۵۰ء کو پاکستان تشریف لائے۔ مستقل قیام لبیف آباد حیدر آباد (سندھ )میں کیا ۔ ابتدا میں آپ مرکزی جامع مسجد لطیف آباد نمبر ۸ میں امام و خطیب رہے، بعد ازاں سدرہ مسجد لطیف آباد میں تاحیات خطابت کے فرائض سر انجام دیئے ۔
اولاد:
مولانا سید حبیب احمد کی روحانی یادگار تو اَن گِنت ہیں مگر جسمانی یادگار بھی ماشاء اللہ ایک فرزند سید محمد احمد محسنی کی صورت میں موجود ہیں جو آپ کے سجادہ نشین بھی ہیں ۔
جناب محمد احمد کے پانچ بیٹے اور تین بیٹیاں ماشاء اللہ موجود ہیں ۔ (۱) سید جمال احمد (حیدر آباد ) (۲) سید نہال احمد گلشن حدید فیز ۱ کراچی (۳) سید کمال احمد (لاہور) (۴) سید اقبال احمد (۵) سید افضال احمد (قطر) ـ
آپ کے چند مخلصین و مریدین کے نام یہ ہیں:
معتقدین:
۱۔ خلیفہ حافظ محمد یونس خان نزد مکرانی جامع مسجد پی آئی بی کالونی کراچی
۲۔ حافظ سمیع الرحمن لطیف آباد نمبر ۸
۳۔ معروف نعت خواں صوفی جمیل احمد لطیف آباد
تصنیف و تالیف:
آپ کی درج ذیل تصانیف کا علم ہو سکا ہے:
۱۔نذر حبیب : ۲۰۰ صفحات پر مشتمل یہ آپ کا سب سے پہلا نعتیہ مجموعہ کلام ہے ، جسے رضوی کتب خانہ اردو بازار لاہور نے ۱۳۹۸ھ؍۱۹۷۷ء کو شائع کیا تھا۔
۲۔ نعت رسول : یہ نعتیہ مجموعہ کلام حیدرآباد (سندھ ) سے شائع ہوا ۔
’’ حبیب ‘‘ اے کاش پھر وہ دن ہو ہم جائیں مدینے کو
یہی دن رات اب اللہ سے ہم لو لگائے ہیں
وصال:
حضرت مولانا سید حبیب احمد ایک جیدعالم دین ، حافظ قرآن ، نعت گو شاعر ، خطیب اور پیر طریقت تھے ۔ ۲۹ ، صفر المظفر ۱۴۱۳ھ بمطابق ۲۹، اگست ۱۹۹۲ء کو بروز ہفتہ بعد نماز عصر ۹۱ سال کی عمر میں انتقال ہوا ۔
آپ کا مزار مبارک امانی شاہ کالونی لطیف آباد نمبر ۱۱ پہاڑی کے قبرستان (حیدرآباد ، سندھ) میں پختہ بنا ہوا ہے ۔ مزار مبارک کا احاطہ خاصا کشادہ ہے ۔ مزار پر خوب صورت گنبد اپنی بہار دکھلا رہا ہے ۔
[محتر م شہزاد احمد ایڈیٹر ماہنامہ حمد و نعت کراچی کے مضمون ’’حیدرآباد کے نعت گو ‘‘اور صاحبزادہ سید محمد احمد محسنی نے جو معلومات محترم شاہ انجم بخاری (حیدرآباد) کو فراہم کی ، اسی سے یہ مضمون ماخوذہے ۔ فقیر دونوں حضرات کا مشکور ہے ]
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hafiz-syed-habib-ahmad-naqshbandi
مولانا حافظ سید حبیب احمد نقشنبدی بن سید محمد محسن بن سید عبد اللہ المعروف مدنی میاں، مدنی میاں کی مدینہ منورہ میں روضہ رسول ﷺ کے نزدیک سکونت تھی ۔ مدنی میاں مدینہ منورہ سے تنہا ہندوستان آئے، شاہ جہاں پور کے قصبہ تلہر میں فروکش ہوئے ۔
بیعت:
آپ حضرت پیر الہی بخش سے سلسلۂ عالیہ نقشبند یہ میں کراچی ہی دست حق پر بیعت ہوئے ۔ آپ کے پیر و مرشد کا کراچی میں قیام تھا ۔ پیر و مرشد نے آپ کا نام اسد اللہ شاہ رکھا تھا ۔ بیعت اختیار کر کے آپ واپس ہندوستان چلے گئے وہاں سے مدینہ منورہ آنا جانا رہا پھر شاہ جہاں پور ہی میں مستقل قیام کیا ۔
نکاح اور اولاد:
سید محمد محسن نے شاہ جہاں پور کے پٹھان خاندان میں شرف النساء نامی خاتون سے شادی کی ۔ جس میں سے سید حبیب احمد تولد ہوئے جو کہ آپ کی اکلوتی اولاد تھی ۔
وصال:
حضرت پیر سید محمد محسن نے ۱۳۲۵ھ / ۱۹۰۷ء میں انتقال کیا ، شاہ جہاں پور جائے پوری نے فارسی میں کہا ہے ۔
مقطع تاریخ یہ ہے:
گفت محی بہر سال جانگزائے
سیف مسلول شریعت بود وائے ۱۳۲۵ھ
(بروایت: سید محمد احمد محسنی صاحب حیدر آباد)
مولانا سید حبیب احمد محسنی تلہر ضلع شاہ جہاں پور (بھارت) میں تولد ہوئے ۔
( بروایت: شہزاد احمد )
تعلیم و تربیت:
گھر سے دینی تعلیم کا آغاز کیا ، علاقہ میں ابتدائی تعلیم حاصل کی اور اعلی تعلیم جامعہ رضویہ منظر الاسلام بریلی شریف (یوپی انڈیا) سے حاصل کر کے فارغ التحصیل ہوئے ۔
بیعت و خلافت:
آپ اپنے والد گرامی قدر حضرت شیخ طریقت سید محمد محسن ؒ سے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں دست بیعت ہوئے اس کے بعد جانشین و خلیفہ ہوئے ۔ اس کے علاوہ حضرت بشیر میاں (بریلی شریف) نے بھی انہیں سلسلہ عالیہ قادریہ میں خلافت عطا فرمائی تھی ۔
امامت و خطابت:
۱۹۵۰ء کو پاکستان تشریف لائے۔ مستقل قیام لبیف آباد حیدر آباد (سندھ )میں کیا ۔ ابتدا میں آپ مرکزی جامع مسجد لطیف آباد نمبر ۸ میں امام و خطیب رہے، بعد ازاں سدرہ مسجد لطیف آباد میں تاحیات خطابت کے فرائض سر انجام دیئے ۔
اولاد:
مولانا سید حبیب احمد کی روحانی یادگار تو اَن گِنت ہیں مگر جسمانی یادگار بھی ماشاء اللہ ایک فرزند سید محمد احمد محسنی کی صورت میں موجود ہیں جو آپ کے سجادہ نشین بھی ہیں ۔
جناب محمد احمد کے پانچ بیٹے اور تین بیٹیاں ماشاء اللہ موجود ہیں ۔ (۱) سید جمال احمد (حیدر آباد ) (۲) سید نہال احمد گلشن حدید فیز ۱ کراچی (۳) سید کمال احمد (لاہور) (۴) سید اقبال احمد (۵) سید افضال احمد (قطر) ـ
آپ کے چند مخلصین و مریدین کے نام یہ ہیں:
معتقدین:
۱۔ خلیفہ حافظ محمد یونس خان نزد مکرانی جامع مسجد پی آئی بی کالونی کراچی
۲۔ حافظ سمیع الرحمن لطیف آباد نمبر ۸
۳۔ معروف نعت خواں صوفی جمیل احمد لطیف آباد
تصنیف و تالیف:
آپ کی درج ذیل تصانیف کا علم ہو سکا ہے:
۱۔نذر حبیب : ۲۰۰ صفحات پر مشتمل یہ آپ کا سب سے پہلا نعتیہ مجموعہ کلام ہے ، جسے رضوی کتب خانہ اردو بازار لاہور نے ۱۳۹۸ھ؍۱۹۷۷ء کو شائع کیا تھا۔
۲۔ نعت رسول : یہ نعتیہ مجموعہ کلام حیدرآباد (سندھ ) سے شائع ہوا ۔
’’ حبیب ‘‘ اے کاش پھر وہ دن ہو ہم جائیں مدینے کو
یہی دن رات اب اللہ سے ہم لو لگائے ہیں
وصال:
حضرت مولانا سید حبیب احمد ایک جیدعالم دین ، حافظ قرآن ، نعت گو شاعر ، خطیب اور پیر طریقت تھے ۔ ۲۹ ، صفر المظفر ۱۴۱۳ھ بمطابق ۲۹، اگست ۱۹۹۲ء کو بروز ہفتہ بعد نماز عصر ۹۱ سال کی عمر میں انتقال ہوا ۔
آپ کا مزار مبارک امانی شاہ کالونی لطیف آباد نمبر ۱۱ پہاڑی کے قبرستان (حیدرآباد ، سندھ) میں پختہ بنا ہوا ہے ۔ مزار مبارک کا احاطہ خاصا کشادہ ہے ۔ مزار پر خوب صورت گنبد اپنی بہار دکھلا رہا ہے ۔
[محتر م شہزاد احمد ایڈیٹر ماہنامہ حمد و نعت کراچی کے مضمون ’’حیدرآباد کے نعت گو ‘‘اور صاحبزادہ سید محمد احمد محسنی نے جو معلومات محترم شاہ انجم بخاری (حیدرآباد) کو فراہم کی ، اسی سے یہ مضمون ماخوذہے ۔ فقیر دونوں حضرات کا مشکور ہے ]
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hafiz-syed-habib-ahmad-naqshbandi
scholars.pk
Hazrat Molana Hafiz Syed Habib Ahmad Naqshbandi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤3
غوثُ الاسلام والمسلمین حضرت پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید پیر مہر علی شاہ گولڑوی ۔ القاب: شیخُ الاسلام، مجددِ زماں، غوثُ الاسلام والمسلمین، محافظِ ختمِ نبوت، فاتحِ قادیانیت، مامور عن الرسول ﷺ ۔ والد کا اسمِ گرامی: سید نذر دین شاہ علیہ الرحمہ ۔
سلسلۂ نسب:
آپ کا سلسلۂِ نسب پچیس واسطوں سے حضرت سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور چھتیس واسطوں سے حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچتا ہے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ بروز پیر یکم رمضان المبارک 1275ھ / مطابق 4 اپریل 1859ء کو "گولڑہ شریف" ضلع راولپنڈی میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
قرآن مجید پڑھنے کے بعد مولانا غلام محی الدین ہزاوری سے کافیہ تک کتابیں پڑھیں ۔ پھر " بھوئی " ضلع راولپنڈی میں مولانا محمد شفیع قریشی کے مدرسہ میں داخل ہوئے اور نحو و اصول کی متوسط کتب کے علاوہ منطق میں قطبی پڑھی، بعد ازاں اکثر و بیشتر کتب" انگہ "ضلع سرگودھا میں مولانا سلطان محمود (مرید خاص حضرت خواجہ شمس العارفین سیالوی قدس سرہ) سے پڑھیں اور مولانا احمد حسن کانپوری کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت مولانا احمد حسن کانپوری سفرِ حج کے لئے تیار تھے، اس لئے آپ نے استاذ الکل مولانا لطف اللہ علی گڑھی کی خدمت میں حاضر ہو کر معقول اور ریاضی کی کتبِ عالیہ کا درس لیا ۔ مولانا احمد علی محدث سہارنپوری محشی بخاری سے درسِ حدیث لیا اور 1295ھ / 1878ء میں سندِ حدیث حاصل کی ۔
دورانِ ناظرہ ہی حافظ قرآن ہو گئے:
قوتِ حافظہ کا یہ عالم تھا کہ قرآن مجید کا سبق روزانہ آپ حفظ کر کے سُنا دیا کرتے تھے ۔ جب قرآن حکیم ناظرہ ختم کیا، تو اس وقت آپ کو پورا قرآنِ کریم بھی حفظ ہو چکا تھا ۔ اسی طرح جب کسی کتاب کا مطالعہ کرتے وہ حفظ ہو جاتی، بلا تأمل اس کی عبارتیں نقل کر دیتے تھے ۔
بیعت و خلافت:
سلسلۂ عالیہ چشتیہ میں حضرت خواجہ شمس الدین سیالوی قدس سرہ کے دستِ اقدس پر بیعت ہوئے اور خلافت و اجازت سے مشرف ہوئے ۔ حرمین طیبین میں حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی علیہ الرحمہ نے سلسلۂ عالیہ چشتیہ صابریہ میں خلافت عطاء فرمائی ۔
سیرت و خصائص:
شیخ الاسلام، مجددِ زماں، غوث الاسلام والمسلمین، محافظِ ختمِ نبوت، فاتحِ قادیانیت، مامور من الرسول ﷺ، جامع العلوم، ماہ شریعتِ، مہر ِطریقت حضرت پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ کی ذاتِ گرامی ان محسنینِ اسلام میں سے جنہوں نے کٹھن و قت میں ملتِ اسلامیہ کی راہبری کا فریضہ سر انجام دیا، اور دینِ اسلام کی محافظت کا حق ادا کر دیا ۔ تکمیلِ علوم کے بعد ایک عرصہ تک درس و تدریس کے ذریعہ تشنگانِ علوم کو سیراب کیا ۔ شیخِ اکبر محی الدین ابن عربی قدس سرہ کے نظریۂِ وحدۃ الوجود کے زبر دست حامی اور مبلغ تھے ۔ مفکرِ اسلام شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال علیہ الرحمہ نے شیخِ اکبر کے فلسفے کو سمجھنے کے لئے آپ کی ذات کی طرف رجوع کیا تھا ۔
1307ھ / 1890ء میں حرمین شریفین کی زیارت کے لئے گئے تو حضرت خواجہ عبد الرحمن چھوہروی قدس سرہ بھی آپ کے ہمراہ تھے ۔ مکہ مکرمہ میں مولانا رحمت اللہ مہاجر مکی علیہ الرحمہ بانی مدرسہ صولتیہ مکہ مکرمہ سے ملاقات ہوئی تو وہ آپ کے علم و فضل سے بہت متأثر ہوئے ۔ مولانا محمد غازی نائب مدرس مدرسہ صولتیہ آپ کے فضل و کمال کے اتنے گرویدہ ہوئے کہ ہمیشہ کے لئے گولڑہ شریف آ گئے ۔
جب آپ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ اس وقت وہ مثنوی شریف کا درس دے رہے تھے ۔ ایک شخص مثنوی شریف کے ایک شعر کے بارے میں تشفی حاصل کرنا چاہتا تھا، حضرت حاجی صاحب کی اجازت سے حضرت پیر صاحب نے اس شعر کی ایسی عارفانہ تقریر کی کہ حاجی صاحب وجد میں آ گئے اور آپ کو سلسلۂ چشتیہ صابریہ میں اجازت سے نوازا حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی خود فرماتے ہیں: "بوقتِ زیارتِ بیت اللہ حاجی امداد اللہ صاحب جو کہ اہل کشف و کرامت تھے خود ہی نعمتِ باطنی بخشنے کو اس عاجز کی طرف متوجہ ہوئے ہمارے دل میں خیال آیا کہ جو چہرہ ہم نے دیکھا ہے (یعنی خواجہ سیالوی) وہ جہان میں نظر نہیں آتا ۔ ان کے کمالِ اصرار کے بعد کہا کہ ہم کو تو حاجت نہیں لیکن آپ کی عنایت بھی جو آپ کی رضا مندی سے ہے غیر مشکور نہیں اور نیز یہ عنایت بھی ہم اپنے شیخ کی جانب سے جانتے ہیں بعدہ انہوں نے سلسلۂ صابریہ اکرام فرمایا"۔
حضرت پیر مہر علی شاہ علیہ الرحمہ چاہتے تھے کہ حرمین طیبین میں قیام کیا جائے ۔ لیکن حضرت حاجی صاحب نے بتاکید مراجعت کا حکم دیا اور فرمایا: "ہندوستان میں عنقریب فتنہ برپا ہونے والا ہے لہٰذا تم ضرور اپنے ملک ہندوستان میں واپس چلے جاؤ ۔ بالفرض اگر آپ ہند میں خاموش ہو کر بیٹھ بھی جائیں گے تو پھر بھی وہ فتنہ ترقی نہ کر سکےگا ۔ پس ہم حضرت حاجی صاحب کے اس کشف کو اپنے یقین کی رو سے مرزا قادیانی کے فتنہ سے تعبیر کرتے ہیں " ۔
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید پیر مہر علی شاہ گولڑوی ۔ القاب: شیخُ الاسلام، مجددِ زماں، غوثُ الاسلام والمسلمین، محافظِ ختمِ نبوت، فاتحِ قادیانیت، مامور عن الرسول ﷺ ۔ والد کا اسمِ گرامی: سید نذر دین شاہ علیہ الرحمہ ۔
سلسلۂ نسب:
آپ کا سلسلۂِ نسب پچیس واسطوں سے حضرت سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور چھتیس واسطوں سے حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچتا ہے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ بروز پیر یکم رمضان المبارک 1275ھ / مطابق 4 اپریل 1859ء کو "گولڑہ شریف" ضلع راولپنڈی میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
قرآن مجید پڑھنے کے بعد مولانا غلام محی الدین ہزاوری سے کافیہ تک کتابیں پڑھیں ۔ پھر " بھوئی " ضلع راولپنڈی میں مولانا محمد شفیع قریشی کے مدرسہ میں داخل ہوئے اور نحو و اصول کی متوسط کتب کے علاوہ منطق میں قطبی پڑھی، بعد ازاں اکثر و بیشتر کتب" انگہ "ضلع سرگودھا میں مولانا سلطان محمود (مرید خاص حضرت خواجہ شمس العارفین سیالوی قدس سرہ) سے پڑھیں اور مولانا احمد حسن کانپوری کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت مولانا احمد حسن کانپوری سفرِ حج کے لئے تیار تھے، اس لئے آپ نے استاذ الکل مولانا لطف اللہ علی گڑھی کی خدمت میں حاضر ہو کر معقول اور ریاضی کی کتبِ عالیہ کا درس لیا ۔ مولانا احمد علی محدث سہارنپوری محشی بخاری سے درسِ حدیث لیا اور 1295ھ / 1878ء میں سندِ حدیث حاصل کی ۔
دورانِ ناظرہ ہی حافظ قرآن ہو گئے:
قوتِ حافظہ کا یہ عالم تھا کہ قرآن مجید کا سبق روزانہ آپ حفظ کر کے سُنا دیا کرتے تھے ۔ جب قرآن حکیم ناظرہ ختم کیا، تو اس وقت آپ کو پورا قرآنِ کریم بھی حفظ ہو چکا تھا ۔ اسی طرح جب کسی کتاب کا مطالعہ کرتے وہ حفظ ہو جاتی، بلا تأمل اس کی عبارتیں نقل کر دیتے تھے ۔
بیعت و خلافت:
سلسلۂ عالیہ چشتیہ میں حضرت خواجہ شمس الدین سیالوی قدس سرہ کے دستِ اقدس پر بیعت ہوئے اور خلافت و اجازت سے مشرف ہوئے ۔ حرمین طیبین میں حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی علیہ الرحمہ نے سلسلۂ عالیہ چشتیہ صابریہ میں خلافت عطاء فرمائی ۔
سیرت و خصائص:
شیخ الاسلام، مجددِ زماں، غوث الاسلام والمسلمین، محافظِ ختمِ نبوت، فاتحِ قادیانیت، مامور من الرسول ﷺ، جامع العلوم، ماہ شریعتِ، مہر ِطریقت حضرت پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ کی ذاتِ گرامی ان محسنینِ اسلام میں سے جنہوں نے کٹھن و قت میں ملتِ اسلامیہ کی راہبری کا فریضہ سر انجام دیا، اور دینِ اسلام کی محافظت کا حق ادا کر دیا ۔ تکمیلِ علوم کے بعد ایک عرصہ تک درس و تدریس کے ذریعہ تشنگانِ علوم کو سیراب کیا ۔ شیخِ اکبر محی الدین ابن عربی قدس سرہ کے نظریۂِ وحدۃ الوجود کے زبر دست حامی اور مبلغ تھے ۔ مفکرِ اسلام شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال علیہ الرحمہ نے شیخِ اکبر کے فلسفے کو سمجھنے کے لئے آپ کی ذات کی طرف رجوع کیا تھا ۔
1307ھ / 1890ء میں حرمین شریفین کی زیارت کے لئے گئے تو حضرت خواجہ عبد الرحمن چھوہروی قدس سرہ بھی آپ کے ہمراہ تھے ۔ مکہ مکرمہ میں مولانا رحمت اللہ مہاجر مکی علیہ الرحمہ بانی مدرسہ صولتیہ مکہ مکرمہ سے ملاقات ہوئی تو وہ آپ کے علم و فضل سے بہت متأثر ہوئے ۔ مولانا محمد غازی نائب مدرس مدرسہ صولتیہ آپ کے فضل و کمال کے اتنے گرویدہ ہوئے کہ ہمیشہ کے لئے گولڑہ شریف آ گئے ۔
جب آپ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ اس وقت وہ مثنوی شریف کا درس دے رہے تھے ۔ ایک شخص مثنوی شریف کے ایک شعر کے بارے میں تشفی حاصل کرنا چاہتا تھا، حضرت حاجی صاحب کی اجازت سے حضرت پیر صاحب نے اس شعر کی ایسی عارفانہ تقریر کی کہ حاجی صاحب وجد میں آ گئے اور آپ کو سلسلۂ چشتیہ صابریہ میں اجازت سے نوازا حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی خود فرماتے ہیں: "بوقتِ زیارتِ بیت اللہ حاجی امداد اللہ صاحب جو کہ اہل کشف و کرامت تھے خود ہی نعمتِ باطنی بخشنے کو اس عاجز کی طرف متوجہ ہوئے ہمارے دل میں خیال آیا کہ جو چہرہ ہم نے دیکھا ہے (یعنی خواجہ سیالوی) وہ جہان میں نظر نہیں آتا ۔ ان کے کمالِ اصرار کے بعد کہا کہ ہم کو تو حاجت نہیں لیکن آپ کی عنایت بھی جو آپ کی رضا مندی سے ہے غیر مشکور نہیں اور نیز یہ عنایت بھی ہم اپنے شیخ کی جانب سے جانتے ہیں بعدہ انہوں نے سلسلۂ صابریہ اکرام فرمایا"۔
حضرت پیر مہر علی شاہ علیہ الرحمہ چاہتے تھے کہ حرمین طیبین میں قیام کیا جائے ۔ لیکن حضرت حاجی صاحب نے بتاکید مراجعت کا حکم دیا اور فرمایا: "ہندوستان میں عنقریب فتنہ برپا ہونے والا ہے لہٰذا تم ضرور اپنے ملک ہندوستان میں واپس چلے جاؤ ۔ بالفرض اگر آپ ہند میں خاموش ہو کر بیٹھ بھی جائیں گے تو پھر بھی وہ فتنہ ترقی نہ کر سکےگا ۔ پس ہم حضرت حاجی صاحب کے اس کشف کو اپنے یقین کی رو سے مرزا قادیانی کے فتنہ سے تعبیر کرتے ہیں " ۔
❤2
پیر صاحب پر رسول اللہ ﷺ کا کرم:
مدینہ طیبہ کے سفر میں " وادیِ حمراء " میں ڈاکوؤں کے خطرے کی بناء پر حضرت عشاء کی سنتیں ادا نہ کر سکے ۔
خواب میں حضور سیدِ عالم ﷺ کے
جمالِ جہاں آرا سے مستفیض ہوئے
حضور ﷺ نے فرمایا:
" آلِ رسول رانباید کہ ترکِ سنت کند"
اسی واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے
آپ اپنی مشہور نعت میں فرماتے ہیں:
لاہو مکھ تھیں مخّطط بردِ یمن
اوہا مٹھیاں گالیں الاؤ مٹھن
من بھانوری شکل دکھاؤ سجن
جو حمرا وادی سَن کریاں
حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی قدس سرہ نے عمر بھر شریعت و طریقت کی بے مثال خدمات انجام دیں ۔ مسلکِ اہل سنت کی حمایت اور بد مذہبوں کی سر کوبی پر خاص طور پر توجہ فرمائی ۔
مولانا فیض احمد گولڑوی لکھتے ہیں:
" حضرت نے امکانِ کذب باری تعالیٰ کو محال، علمِ غیب عطائی اور سماعِ موتٰی کو برحق اور ندائے یا رسول اللہ، زیارت قبور، توسل و استمداد انبیاء واولیاء علیہم السلام اور ایصالِ ثواب کو جائز قرار دیا " ۔
حضرت حاجی امداد اللہ مہاجرمکی علیہ الرحمہ کی پیشین گوئی کے مطابق آپ کی مساعیِ جمیلہ نے فتنۂ قادیانیت کی سازشوں پر پانی پھیر دیا 1317ھ / 1899ء ۔ 1900ء میں آپ نے " شمس الہدایہ " لکھ کر حیات مسیح علیہ السلام پر زبر دست دلائل قائم کئے ۔ مزار قادیانی ان دلائل کا جواب تو نہ دے سکا البتہ مناظرے کا چیلنج دے دیا ۔ 25 جولائی 1900ء کی تاریخ برائے مناظرہ طے پائی ۔ حضر ت پیر صاحب اور علماء کی بہت بڑی جماعت مقررہ تاریخ پر شاہی مسجد لاہور میں پہنچ گئی، لیکن مرزا قادیانی کو سامنے آنے کی جرأت نہ ہو سکی، اس خفت کو مٹانے کے لئے 15 دسمبر 1900ء کو سورۂ فاتحہ کی تفسیر " اعجاز المسیح " کے نام سے عربی زبان میں شائع کی جس کے بارے میں مرزا صاحب یہ تأثرہ دے رہے تھے کہ یہ الہامی تفسیر ہے ۔ حضرت پیر صاحب نے 1902ء میں " سیف ِچشتیائی " لکھ کر شائع فرما دی ۔ جس میں مرزا صاحب کی عربی دانی کی قلعی کھول دی اور قادیانی دعووں کی دھجیاں بکھیر دیں ۔ یہ کتاب آج تک لا جواب ہے ۔
اسی طرح جب " وہابیت " نے پر پرزے نکالنے شروع کئے اور سوادِ اعظم اہل سنت کے خلاف ریشہ دوانیاں شروع کیں تو آپ نے ان کا سختی سے محاسبہ فرمایا ۔ مولوی عبد الاحد خانپوری وہابی آپ کی وہابیت کش پالیسی پر بڑے برہم رہتے تھے ۔ چنانچہ انہوں نے ایک رسالے میں دس علمی سوال لکھ کر حضرت کو جواب دینے کی دعوت دی ۔ آپ نے " الفتوحات الصمدیہ " میں ان سوالات کے جوابات دے کر بارہ سوالات اپنی طرف سے پیش کئے جن کا جواب مولوی عبد الاحد خان پوری بلکہ ان کی تمام جماعت سے نہ بن سکا، اور تا قیامت نہ بن سکے گا انشاء اللہ ۔ (یہ وہابیت پر قرض ہے) " اعلاء کلمۃ اللہ " (نذر و نیاز، سماع موتی، استمداد و غیرہ مسائل پر لا جواب کتاب) بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے ۔ " الحاصل کاملین کی ارواح اور بتوں میں ظاہر و باہر فرق ہے لہٰذا بتوں کے بارے میں وارد ہونے والی آیات کو انبیاء و اولیاء پر چسپاں کرنا جیسا کہ " تقویۃ الایمان " میں کیا، قبیح تحریف اور بد ترین تخریب ہے " ۔
مجدد دین و ملت حضر ت پیر سید مہر علی شاہ صاحب چشتی گولڑوی قدس سرہ العزیز نے تبلیغ اسلام، احیائے سنت و احیائے ملت ، احقاقِ حق اور اذہاقِ باطل اور تزکیۂ نفس کا عظیم فریضہ جس مؤثر اور دلآویز انداز میں سر انجا م دیا، وہ تاریخِ اسلام میں سنہر ی حروف سے لکھا جائےگا ۔ چودھویں صدی ہجری میں آپ اپنی دینی و ملی، ملکی اور مسلکی خدمات کی بہ دولت ایک ممتاز اور منفرد مقام رکھتے ہیں ۔ اشا عتِ دین، اصلاحِ خلق، احیاءِ سنت و ازالۂ بدعت، اعلاءِ کلمتہ الحق، دین حق کی سر بلندی اور کفر کی سر کو بی اور اسلامی اقدار کا فروغ اور باطل و مفسد تحریکوں کے قلع قمع کے لئے آپ کی عظیم خدمات اظہر من الشمس ہیں ۔ پیر سید مہر علی شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ خود شریعت و طریقت کے عظیم الشان عالم و فاضل تھے، اس لئے شر یعت مطہرہ پر سختی سے پابند تھے اور اپنے مریدین و معتقدین کو بھی شریعت کی پاسداری کی تاکید و تلقین فرماتے، آپ کی زندگی اور سیرتِ مبارکہ قرآن و سنت کا قابلِ رشک اور کامل نمونہ تھی، آپ کی زندگی ترویج و اشاعتِ دین، اصلا ح و تربیت ِمسلمین، تعمیر ملک و ملت اور خدمتِ خلق کے لئے وقف تھی ۔
وصال:
بروز منگل 29 صفر المظفر 1356ھ / مطابق 11 مئی 1937ء کو آپ کا وصال ہوا ۔
مزار مبارک:
گولڑہ شریف اسلام آباد میں آپ کا مزار مبارک مرکزِ انوار و تجلیات ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابرِ اہلِ سنت ۔ مہرِ منیر ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-pir-syed-meher-ali-shah-gilani
مدینہ طیبہ کے سفر میں " وادیِ حمراء " میں ڈاکوؤں کے خطرے کی بناء پر حضرت عشاء کی سنتیں ادا نہ کر سکے ۔
خواب میں حضور سیدِ عالم ﷺ کے
جمالِ جہاں آرا سے مستفیض ہوئے
حضور ﷺ نے فرمایا:
" آلِ رسول رانباید کہ ترکِ سنت کند"
اسی واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے
آپ اپنی مشہور نعت میں فرماتے ہیں:
لاہو مکھ تھیں مخّطط بردِ یمن
اوہا مٹھیاں گالیں الاؤ مٹھن
من بھانوری شکل دکھاؤ سجن
جو حمرا وادی سَن کریاں
حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی قدس سرہ نے عمر بھر شریعت و طریقت کی بے مثال خدمات انجام دیں ۔ مسلکِ اہل سنت کی حمایت اور بد مذہبوں کی سر کوبی پر خاص طور پر توجہ فرمائی ۔
مولانا فیض احمد گولڑوی لکھتے ہیں:
" حضرت نے امکانِ کذب باری تعالیٰ کو محال، علمِ غیب عطائی اور سماعِ موتٰی کو برحق اور ندائے یا رسول اللہ، زیارت قبور، توسل و استمداد انبیاء واولیاء علیہم السلام اور ایصالِ ثواب کو جائز قرار دیا " ۔
حضرت حاجی امداد اللہ مہاجرمکی علیہ الرحمہ کی پیشین گوئی کے مطابق آپ کی مساعیِ جمیلہ نے فتنۂ قادیانیت کی سازشوں پر پانی پھیر دیا 1317ھ / 1899ء ۔ 1900ء میں آپ نے " شمس الہدایہ " لکھ کر حیات مسیح علیہ السلام پر زبر دست دلائل قائم کئے ۔ مزار قادیانی ان دلائل کا جواب تو نہ دے سکا البتہ مناظرے کا چیلنج دے دیا ۔ 25 جولائی 1900ء کی تاریخ برائے مناظرہ طے پائی ۔ حضر ت پیر صاحب اور علماء کی بہت بڑی جماعت مقررہ تاریخ پر شاہی مسجد لاہور میں پہنچ گئی، لیکن مرزا قادیانی کو سامنے آنے کی جرأت نہ ہو سکی، اس خفت کو مٹانے کے لئے 15 دسمبر 1900ء کو سورۂ فاتحہ کی تفسیر " اعجاز المسیح " کے نام سے عربی زبان میں شائع کی جس کے بارے میں مرزا صاحب یہ تأثرہ دے رہے تھے کہ یہ الہامی تفسیر ہے ۔ حضرت پیر صاحب نے 1902ء میں " سیف ِچشتیائی " لکھ کر شائع فرما دی ۔ جس میں مرزا صاحب کی عربی دانی کی قلعی کھول دی اور قادیانی دعووں کی دھجیاں بکھیر دیں ۔ یہ کتاب آج تک لا جواب ہے ۔
اسی طرح جب " وہابیت " نے پر پرزے نکالنے شروع کئے اور سوادِ اعظم اہل سنت کے خلاف ریشہ دوانیاں شروع کیں تو آپ نے ان کا سختی سے محاسبہ فرمایا ۔ مولوی عبد الاحد خانپوری وہابی آپ کی وہابیت کش پالیسی پر بڑے برہم رہتے تھے ۔ چنانچہ انہوں نے ایک رسالے میں دس علمی سوال لکھ کر حضرت کو جواب دینے کی دعوت دی ۔ آپ نے " الفتوحات الصمدیہ " میں ان سوالات کے جوابات دے کر بارہ سوالات اپنی طرف سے پیش کئے جن کا جواب مولوی عبد الاحد خان پوری بلکہ ان کی تمام جماعت سے نہ بن سکا، اور تا قیامت نہ بن سکے گا انشاء اللہ ۔ (یہ وہابیت پر قرض ہے) " اعلاء کلمۃ اللہ " (نذر و نیاز، سماع موتی، استمداد و غیرہ مسائل پر لا جواب کتاب) بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے ۔ " الحاصل کاملین کی ارواح اور بتوں میں ظاہر و باہر فرق ہے لہٰذا بتوں کے بارے میں وارد ہونے والی آیات کو انبیاء و اولیاء پر چسپاں کرنا جیسا کہ " تقویۃ الایمان " میں کیا، قبیح تحریف اور بد ترین تخریب ہے " ۔
مجدد دین و ملت حضر ت پیر سید مہر علی شاہ صاحب چشتی گولڑوی قدس سرہ العزیز نے تبلیغ اسلام، احیائے سنت و احیائے ملت ، احقاقِ حق اور اذہاقِ باطل اور تزکیۂ نفس کا عظیم فریضہ جس مؤثر اور دلآویز انداز میں سر انجا م دیا، وہ تاریخِ اسلام میں سنہر ی حروف سے لکھا جائےگا ۔ چودھویں صدی ہجری میں آپ اپنی دینی و ملی، ملکی اور مسلکی خدمات کی بہ دولت ایک ممتاز اور منفرد مقام رکھتے ہیں ۔ اشا عتِ دین، اصلاحِ خلق، احیاءِ سنت و ازالۂ بدعت، اعلاءِ کلمتہ الحق، دین حق کی سر بلندی اور کفر کی سر کو بی اور اسلامی اقدار کا فروغ اور باطل و مفسد تحریکوں کے قلع قمع کے لئے آپ کی عظیم خدمات اظہر من الشمس ہیں ۔ پیر سید مہر علی شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ خود شریعت و طریقت کے عظیم الشان عالم و فاضل تھے، اس لئے شر یعت مطہرہ پر سختی سے پابند تھے اور اپنے مریدین و معتقدین کو بھی شریعت کی پاسداری کی تاکید و تلقین فرماتے، آپ کی زندگی اور سیرتِ مبارکہ قرآن و سنت کا قابلِ رشک اور کامل نمونہ تھی، آپ کی زندگی ترویج و اشاعتِ دین، اصلا ح و تربیت ِمسلمین، تعمیر ملک و ملت اور خدمتِ خلق کے لئے وقف تھی ۔
وصال:
بروز منگل 29 صفر المظفر 1356ھ / مطابق 11 مئی 1937ء کو آپ کا وصال ہوا ۔
مزار مبارک:
گولڑہ شریف اسلام آباد میں آپ کا مزار مبارک مرکزِ انوار و تجلیات ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابرِ اہلِ سنت ۔ مہرِ منیر ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-pir-syed-meher-ali-shah-gilani
scholars.pk
Hazrat Pir Syed Meher Ali Shah Gilani
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
مجدد الفِ ثانی حضرت شیخ احمد سرہندی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: شیخ احمد ۔ کنیت: ابو البرکات ۔ القاب: بدرالدین، امامِ ربانی، مجدد الفِ ثانی، قیومِ زمان، وغیرہ ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
آپ کا شجرۂ نسب امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس طرح ملتا ہے، شیخ احمد بن شیخ عبد الاحد بن شیخ زین العابدین بن شیخ عبد الحی بن شیخ محمد بن شیخ حبیب اللہ بن شیخ رفیع الدین بن شیخ نصیر الدین بن شیخ سلیمان بن شیخ یوسف بن شیخ اسحاق بن شیخ عبد اللہ بن شیخ شعیب بن شیخ احمد بن شیخ یوسف بن شیخ شہاب الدین علی الملقب بہ فرخ شاہ بن شیخ نصیر الدین بن شیخ محمود بن شیخ سلیمان بن شیخ مسعود بن شیخ عبد اللہ الواعظ الاصغر بن شیخ عبد اللہ الواعظ الاکبر بن شیخ ابو الفتح بن شیخ اسحاق بن شیخ ابراہیم بن شیخ ناصر بن شیخ عبد اللہ بن عمر بن حفص بن عاصم بن عبد اللہ بن امیر امؤمنینن حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز جمعۃ المبارک 14 شوال المکرم 971ھ / مطابق مئی 1564ء کو سر ہند شریف میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
جب آپ سنِ تعلیم کو پہنچے تو آپ کو مکتب میں داخل کر دیا گیا ۔ بعد ازاں اکثر علوم متداولہ والد بزرگوار سے حاصل کرکے سیالکوٹ تشریف لے جاکر معقولات کی بعض کتابیں حضرت مولانا کمال کشمیری رحمۃ اللہ علیہ اور حدیث کی بعض کتابیں مولانا یعقوب کشمیری رحمۃ اللہ علیہ سے پڑھیں ۔
الغرض آپ سترہ سال کی عمر میں علوم ظاہری کی تحصیل کے سب مرحلے طے کر کے اپنے والد بزرگوار کی خدمت میں حاضر ہوکر تدریس میں مشغول ہو گئے، اور طلبہ کو اپنی برکات سے بہرہ ور فرماتے رہے ۔
اسی اثنا میں آپ نے عربی فارسی میں متعدد رسالے نہایت فصاحت و بلاغت کے ساتھ تحریر فرمائے ۔
بہت سے مؤرخین نے لکھا ہے کہ آپ نے بچپن میں قرآنِ مجید حفظ کر لیا تھا ۔ لیکن آپ کے ایک مکتوب سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دولت قلعہ گوالیار میں نظر بندی کے زمانے میں حاصل ہوئی ۔ (سیرت مجدد الفِ ثانی ص:84) ـ
بیعت و خلافت:
سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ میں حضرت خواجہ باقی باللہ علیہ الرحمہ سے بیعت ہوئے، اور خلافت سے سرفراز ہوئے ۔
سلسلۂ عالیہ قادریہ میں حضرت شاہ سکندر علیہ الرحمہ سے اجازت و خلافت حاصل تھی ۔
سلسلۂ عالیہ چشتیہ صابریہ میں اپنے والدِ گرامی شیخ عبد الاحد سے اجازت و خلافت حاصل تھی ۔
سلسلۂ عالیہ سہروردیہ میں اپنے استادِ محترم مولانا شیخ یعقوب کشمیری علیہ الرحمہ سے اجازت و خلافت حاصل فرمائی ۔
حضرت مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ کو تمام سلاسل میں خلافت حاصل تھی لیکن سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ سے آپ کو خاص لگاؤ تھا ۔ آپ ہی کے دم سے اس سلسلے کو پاک و ہند میں اور دیگر ممالک میں فروغ حاصل ہوا ۔
سیرت و خصائص:
عالی مرتبت، عظیم البرکت، قیومِ ملت، خزینۃ الرحمت، محدث رحمانی، غوث صمدانی، امام ربانی، مجدد الف ثانی، حضرت ابو البرکات شیخ احمد فاروقی نقشبندی سرہندی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ کے والد بزرگوار کا بیان ہے کہ آپ کی ولادت سے پہلے میں نے خواب میں دیکھا کہ تمام جہان میں ظلمت پھیل گئی ہے۔سُور، بندر اور ریچھ لوگوں کو ہلاک کر رہےہیں، اسی اثناء میں میرے سینے سے ایک نور نِکلا اور اُس میں ایک تخت ظاہر ہوا ۔ اُس تخت پر ایک شخص تکیہ لگائے بیٹھا ہے اور اُس کے سامنے تمام ظالموں، زندیقوں اور ملحدوں کو بکرے کی طرح ذبح کر رہے ہیں اور کوئی شخص بآواز بلند کہہ رہا ہے: وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُ ط اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا ـ " اور فرمادو! سچ آ گیا اور باطل مٹ گیا بے شک باطل مٹنے والا ہے " ۔ اس خواب کی تعبیر حضرت قدس سرہ نے شاہ کمال کیتھلی رحمۃ اللہ علیہ سے دریافت کی ۔ انہوں نے فرمایا کہ تمہارے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوگا جس سے الحاد و بدعت کی تاریکی دُور ہوگی ۔ یہ تعبیر بالکل درست نکلی ۔
واقعی ایسا ہوا اللہ جل شانہ نے حضرت مجدد کو اپنے دین کی خدمت کے لئے چن لیا تھا ۔ صبر و شکر، تسلیم و رضا حسبِ حال ہر ایک کی تعظیم، لوگوں پر شفقت، صلۂ رحمی، اربابِ حقوق کی رعایت، مریضوں کی عیادت، سلام میں سبقت، کلام میں نرمی آپ کا شیوۂ حسنہ تھا ۔ آپ کا طریقۂ عمل بر عزیمت تھا ۔ عبادات و عادات میں نہایت احتیاط اور سنت کا کمال اتباع ملحوظ تھا ۔ آج یہود و نصاریٰ صوفی ازم کی بات کرتے ہیں، اور ان کے سرمائے سے " انٹرنیشنل صوفی کانفرنسز " کا انعقاد کیا جا رہا ہے ۔ اس میں پلپلے، جاہل، دین و ملت فروش نام نہاد صوفیوں کی بھر مار ہوتی ہے ۔ جن کے ہاں دینِ اسلام کی ثانوی حیثیت بھی نہیں ہے ۔ ان کی صورت و سیرت اس بات کی گواہی دے رہی ہوتی ہیں ۔
نام و نسب:
اسمِ گرامی: شیخ احمد ۔ کنیت: ابو البرکات ۔ القاب: بدرالدین، امامِ ربانی، مجدد الفِ ثانی، قیومِ زمان، وغیرہ ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
آپ کا شجرۂ نسب امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس طرح ملتا ہے، شیخ احمد بن شیخ عبد الاحد بن شیخ زین العابدین بن شیخ عبد الحی بن شیخ محمد بن شیخ حبیب اللہ بن شیخ رفیع الدین بن شیخ نصیر الدین بن شیخ سلیمان بن شیخ یوسف بن شیخ اسحاق بن شیخ عبد اللہ بن شیخ شعیب بن شیخ احمد بن شیخ یوسف بن شیخ شہاب الدین علی الملقب بہ فرخ شاہ بن شیخ نصیر الدین بن شیخ محمود بن شیخ سلیمان بن شیخ مسعود بن شیخ عبد اللہ الواعظ الاصغر بن شیخ عبد اللہ الواعظ الاکبر بن شیخ ابو الفتح بن شیخ اسحاق بن شیخ ابراہیم بن شیخ ناصر بن شیخ عبد اللہ بن عمر بن حفص بن عاصم بن عبد اللہ بن امیر امؤمنینن حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز جمعۃ المبارک 14 شوال المکرم 971ھ / مطابق مئی 1564ء کو سر ہند شریف میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
جب آپ سنِ تعلیم کو پہنچے تو آپ کو مکتب میں داخل کر دیا گیا ۔ بعد ازاں اکثر علوم متداولہ والد بزرگوار سے حاصل کرکے سیالکوٹ تشریف لے جاکر معقولات کی بعض کتابیں حضرت مولانا کمال کشمیری رحمۃ اللہ علیہ اور حدیث کی بعض کتابیں مولانا یعقوب کشمیری رحمۃ اللہ علیہ سے پڑھیں ۔
الغرض آپ سترہ سال کی عمر میں علوم ظاہری کی تحصیل کے سب مرحلے طے کر کے اپنے والد بزرگوار کی خدمت میں حاضر ہوکر تدریس میں مشغول ہو گئے، اور طلبہ کو اپنی برکات سے بہرہ ور فرماتے رہے ۔
اسی اثنا میں آپ نے عربی فارسی میں متعدد رسالے نہایت فصاحت و بلاغت کے ساتھ تحریر فرمائے ۔
بہت سے مؤرخین نے لکھا ہے کہ آپ نے بچپن میں قرآنِ مجید حفظ کر لیا تھا ۔ لیکن آپ کے ایک مکتوب سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دولت قلعہ گوالیار میں نظر بندی کے زمانے میں حاصل ہوئی ۔ (سیرت مجدد الفِ ثانی ص:84) ـ
بیعت و خلافت:
سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ میں حضرت خواجہ باقی باللہ علیہ الرحمہ سے بیعت ہوئے، اور خلافت سے سرفراز ہوئے ۔
سلسلۂ عالیہ قادریہ میں حضرت شاہ سکندر علیہ الرحمہ سے اجازت و خلافت حاصل تھی ۔
سلسلۂ عالیہ چشتیہ صابریہ میں اپنے والدِ گرامی شیخ عبد الاحد سے اجازت و خلافت حاصل تھی ۔
سلسلۂ عالیہ سہروردیہ میں اپنے استادِ محترم مولانا شیخ یعقوب کشمیری علیہ الرحمہ سے اجازت و خلافت حاصل فرمائی ۔
حضرت مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ کو تمام سلاسل میں خلافت حاصل تھی لیکن سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ سے آپ کو خاص لگاؤ تھا ۔ آپ ہی کے دم سے اس سلسلے کو پاک و ہند میں اور دیگر ممالک میں فروغ حاصل ہوا ۔
سیرت و خصائص:
عالی مرتبت، عظیم البرکت، قیومِ ملت، خزینۃ الرحمت، محدث رحمانی، غوث صمدانی، امام ربانی، مجدد الف ثانی، حضرت ابو البرکات شیخ احمد فاروقی نقشبندی سرہندی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ کے والد بزرگوار کا بیان ہے کہ آپ کی ولادت سے پہلے میں نے خواب میں دیکھا کہ تمام جہان میں ظلمت پھیل گئی ہے۔سُور، بندر اور ریچھ لوگوں کو ہلاک کر رہےہیں، اسی اثناء میں میرے سینے سے ایک نور نِکلا اور اُس میں ایک تخت ظاہر ہوا ۔ اُس تخت پر ایک شخص تکیہ لگائے بیٹھا ہے اور اُس کے سامنے تمام ظالموں، زندیقوں اور ملحدوں کو بکرے کی طرح ذبح کر رہے ہیں اور کوئی شخص بآواز بلند کہہ رہا ہے: وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُ ط اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا ـ " اور فرمادو! سچ آ گیا اور باطل مٹ گیا بے شک باطل مٹنے والا ہے " ۔ اس خواب کی تعبیر حضرت قدس سرہ نے شاہ کمال کیتھلی رحمۃ اللہ علیہ سے دریافت کی ۔ انہوں نے فرمایا کہ تمہارے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوگا جس سے الحاد و بدعت کی تاریکی دُور ہوگی ۔ یہ تعبیر بالکل درست نکلی ۔
واقعی ایسا ہوا اللہ جل شانہ نے حضرت مجدد کو اپنے دین کی خدمت کے لئے چن لیا تھا ۔ صبر و شکر، تسلیم و رضا حسبِ حال ہر ایک کی تعظیم، لوگوں پر شفقت، صلۂ رحمی، اربابِ حقوق کی رعایت، مریضوں کی عیادت، سلام میں سبقت، کلام میں نرمی آپ کا شیوۂ حسنہ تھا ۔ آپ کا طریقۂ عمل بر عزیمت تھا ۔ عبادات و عادات میں نہایت احتیاط اور سنت کا کمال اتباع ملحوظ تھا ۔ آج یہود و نصاریٰ صوفی ازم کی بات کرتے ہیں، اور ان کے سرمائے سے " انٹرنیشنل صوفی کانفرنسز " کا انعقاد کیا جا رہا ہے ۔ اس میں پلپلے، جاہل، دین و ملت فروش نام نہاد صوفیوں کی بھر مار ہوتی ہے ۔ جن کے ہاں دینِ اسلام کی ثانوی حیثیت بھی نہیں ہے ۔ ان کی صورت و سیرت اس بات کی گواہی دے رہی ہوتی ہیں ۔
❤2
آئیے! اس صوفی کی بات کرتے ہیں، جو امام الاولیاء ہے، دین کا محافظ ہے، قرآن کا حافظ ہے، اسرارِ خدا وندی کا امین ہے، مصطفیٰ کریم ﷺ کی سنتوں کا عامل ہے، عالمِ ربانی ہے، اور وہ مجدد الفِ ثانی ہے ۔
مغل شہنشاہِ اکبر کے عہدِ حکومت میں اسلام کے سر سبز و شاداب چمن پر ایک بار پھر کفر و الحاد، زندقہ اور بدعت و ضلالت کی گھٹا ٹوپ آندھیاں چھا گئیں ۔ اس نےدینِ حنیف میں ترمیم کرکے ایک نئے دین کی بنیاد رکھی '' دین الٰہی '' کےنام سے ایک ایسا مذہب ایجاد کیا گیا جو شریعتِ محمدیہ علیٰ صاحبھا الصلاۃ والسلام کے سراسر مخالف اور قرآن و سنت سے انکار و انحراف کے مترادف تھا ۔
دینِ اسلام کی صداقت و عظمت کا وہ چراغ جو ایک ہزار سال سے روشن تھا، شاہِ وقت، علمائے سوء، اور جاہل صوفیوں کے ہاتھوں ٹمٹمانے لگا ۔ دینِ اسلام کی حالت زار جو شہنشاہِ اکبر اور اس کے بعد جہانگیر کے ہاتھوں رہی تھی ۔
اس کی طرف اشارہ حضرت مجدد الف ثانی نے اپنے ایک خط میں جو انہوں نے جہانگیر کے ایک مقرب کو لکھا، یوں بیان فرمائی:
" اسلام کی بے کسی کا یہ حال ہے کہ کفار کھلم کھلا اس پر طعن توڑتے ہیں اور اسلام کے نام لیواؤں کی مذمت کرتے ہیں ۔ وہ ہر کوچہ و بازار میں بے خوف و خطر کفر کے احکام جاری کرتے اور کفار کی مدح و ستائش کرتے ہیں، مسلمان اسلامی احکام کی بجا آوری سے قاصر اور شریعت محمدیہ پر عمل پیرا ہونے سے عاجز ہیں '' ۔ (ایضاً)
دینِ اکبری کو رعایا کے تمام طبقوں کے لئے قابلِ قبول بنانے کے لئے عقیدۂ توحید میں اس قدر ترمیم کی گئی کہ ہندوؤں کی بت پرستی، مجوسیوں کی آتش پرستی اور ویدوں میں بیان کردہ فلسفیانہ موشگافیوں کو نئے دین میں سمیٹ لیا گیا ہے، اس طرح اکبر کا " دینِ الٰہی " مختلف مذاہب کے عقائد و خیالات کا ایک ملغوبہ بن گیا تھا ۔
کتاب اللہ اور سنت رسول الله ﷺ جو دین کی اصل بنیاد تھی، وہ طاقِ نسیاں پر رکھ دی گئیں، سورج کی پرستش چاروں طرف لازمی قرار دی گئی، آگ، پانی، درخت اور گائے کو پوجنا جائز ٹھہرا، اکبر ہر روز خود صبح اُٹھ کر سورج کی پرستش کرتا، اس کے بعد مشتاقانِ دید کے لئے دیوانِ عام میں آ بیٹھتا تھا، لوگ شہنشاہ کے لئے سجدہ تعظیمی بجا لاتے جسے اس وقت کے دین فروش ملاؤں نے جائز قرار دیا تھا ۔ اس کے بر عکس اسلامی شعائر کو درخورِ اعتنانہ سمجھا گیا اور بادشاہ کو یہ بتلایا گیا کہ دینِ اسلام ایک ہزار سال گزر جانے کےبعد نعوذ باللہ بالکل اسی طرح بےکار اور ناکارہ ہو گیا ہے، جس طرح کہ اسلام سے پہلے کے مذاہب اقتدارِ زمانہ کے ہاتھوں معطل ہو چکے ہیں ۔
ہندو عورتوں سے شادیاں کر لینے کے بعد اکبر کے دِل میں ہندوؤں کے لئےنرم گوشہ پیدا ہو گیا تھا ۔ حکومت کے بڑے بڑے عہدوں پر ہندو فائز تھے، اپنے اقتدار اور شاہ وقت کی نظرِ عنایت نے انہیں اس قدر دلیر کر دیا تھا کہ وہ مسلمانوں کی ہر آن ہر لمحہ دل آزاری کرتے، مسجدیں شہید کر کے وہاں مندر بنائے گئے، ہندوؤں کے برت کا دن آتا تو مسلمانوں کو دن میں کھانے پینے سے حکماً روک دیا جاتا، انہیں حکم ہوتا کہ ان کے چولھوں میں آگ نہ جلے ۔
لیکن جب رمضان المبارک آتا تو ہندو سرِ عام کھاتے، رمضان کی عزت و حرمت کی حفاظت کے لئے بادشاہ کوئی فرمان جاری نہ کرتا تھا ۔ حالات اس حد تک نا ساز گار تھے کہ دین کے پنپنےکی کوئی اُمید نظر نہ آتی تھی ۔ مگر ہمیشہ یہ ہوا کہ جب بھی دین اسلام پر کوئی آزمائش کا وقت آیا رحمتِ حق میں ارتعاش پیدا ہوا ۔ دین حق کی حفاظت کے لئےکوئی نہ کوئی ہستی ان تِیرہ و تاریک فضاؤں میں نمودار ہوئی جس کی نورانی کرنوں سے کفر و الحاد کی تاریکیاں چھٹ گئیں جس کی ضیاء بار تابانیوں سے بدعت و ضلالت کی آندھیاں ڈھل گئیں جس کی ضَوفشاں شعاعوں سے زندقت کے اندھیرے بھی منور ہوئے اور توحید و سنت کی مشعلیں چمک اُٹھیں ۔
جب کفر و شرک، بدعت و ضلالت اور زندقہ و الحادکی آندھیاں اپنی تمام تاریکیوں سمیت ہندوستان کی فضاء پر چھا گئیں تو آسمانِ '' سر ہند '' پر سنت و ہدایت کا آفتاب طلوع ہوا جس کو لوگ شیخ احمد سر ہندی کے نام سے موسوم کرتے ہیں ۔ اس آفتاب کی ضیاء پاشیوں سے ظلمت و گمراہی کے اندھیرے کافور ہوئے، اکبر نے جس دین کی بنیاد رکھی تھی اور اعوان و انصارِ حکومت جس کی تبلیغ میں ہمہ تن مصروف تھے، حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو بیخ و بن سے اُکھاڑنے کا تہیہ کیا ۔
ہم دیکھتے ہیں کہ حق اپنی تمام جلوہ سامانیوں سے طلوع ہوتا ہے ۔ تو باطل کافور کی مانند تحلیل ہو جاتا ہے ۔ بادشاہ کو رعایہ سجدہ کرتی تھی ۔ جب حضرت مجدد الفِ ثانی جہانگیر کے دربار میں پہنچے، اس کو بھی آپ سے یہی توقع تھی، لیکن آپ نے سجدہ کرنے سے انکار کر دیا ۔ آپ نے فرمایا اللہ جل شانہ کی ذات کے علاوہ سجدہ کسی کے لئے جائز نہیں ہے، فرمایا: یہ گردن کٹ تو سکتی ہے لیکن باطل کے آگے جھک نہیں سکتی ۔
ڈاکٹر اقبال فرماتے ہیں: ؎
گردن نہ جھکی جس کی جہانگیر کے آگے
جس کے نفسِ گرم سے ہے گرمیٔ احرار
مغل شہنشاہِ اکبر کے عہدِ حکومت میں اسلام کے سر سبز و شاداب چمن پر ایک بار پھر کفر و الحاد، زندقہ اور بدعت و ضلالت کی گھٹا ٹوپ آندھیاں چھا گئیں ۔ اس نےدینِ حنیف میں ترمیم کرکے ایک نئے دین کی بنیاد رکھی '' دین الٰہی '' کےنام سے ایک ایسا مذہب ایجاد کیا گیا جو شریعتِ محمدیہ علیٰ صاحبھا الصلاۃ والسلام کے سراسر مخالف اور قرآن و سنت سے انکار و انحراف کے مترادف تھا ۔
دینِ اسلام کی صداقت و عظمت کا وہ چراغ جو ایک ہزار سال سے روشن تھا، شاہِ وقت، علمائے سوء، اور جاہل صوفیوں کے ہاتھوں ٹمٹمانے لگا ۔ دینِ اسلام کی حالت زار جو شہنشاہِ اکبر اور اس کے بعد جہانگیر کے ہاتھوں رہی تھی ۔
اس کی طرف اشارہ حضرت مجدد الف ثانی نے اپنے ایک خط میں جو انہوں نے جہانگیر کے ایک مقرب کو لکھا، یوں بیان فرمائی:
" اسلام کی بے کسی کا یہ حال ہے کہ کفار کھلم کھلا اس پر طعن توڑتے ہیں اور اسلام کے نام لیواؤں کی مذمت کرتے ہیں ۔ وہ ہر کوچہ و بازار میں بے خوف و خطر کفر کے احکام جاری کرتے اور کفار کی مدح و ستائش کرتے ہیں، مسلمان اسلامی احکام کی بجا آوری سے قاصر اور شریعت محمدیہ پر عمل پیرا ہونے سے عاجز ہیں '' ۔ (ایضاً)
دینِ اکبری کو رعایا کے تمام طبقوں کے لئے قابلِ قبول بنانے کے لئے عقیدۂ توحید میں اس قدر ترمیم کی گئی کہ ہندوؤں کی بت پرستی، مجوسیوں کی آتش پرستی اور ویدوں میں بیان کردہ فلسفیانہ موشگافیوں کو نئے دین میں سمیٹ لیا گیا ہے، اس طرح اکبر کا " دینِ الٰہی " مختلف مذاہب کے عقائد و خیالات کا ایک ملغوبہ بن گیا تھا ۔
کتاب اللہ اور سنت رسول الله ﷺ جو دین کی اصل بنیاد تھی، وہ طاقِ نسیاں پر رکھ دی گئیں، سورج کی پرستش چاروں طرف لازمی قرار دی گئی، آگ، پانی، درخت اور گائے کو پوجنا جائز ٹھہرا، اکبر ہر روز خود صبح اُٹھ کر سورج کی پرستش کرتا، اس کے بعد مشتاقانِ دید کے لئے دیوانِ عام میں آ بیٹھتا تھا، لوگ شہنشاہ کے لئے سجدہ تعظیمی بجا لاتے جسے اس وقت کے دین فروش ملاؤں نے جائز قرار دیا تھا ۔ اس کے بر عکس اسلامی شعائر کو درخورِ اعتنانہ سمجھا گیا اور بادشاہ کو یہ بتلایا گیا کہ دینِ اسلام ایک ہزار سال گزر جانے کےبعد نعوذ باللہ بالکل اسی طرح بےکار اور ناکارہ ہو گیا ہے، جس طرح کہ اسلام سے پہلے کے مذاہب اقتدارِ زمانہ کے ہاتھوں معطل ہو چکے ہیں ۔
ہندو عورتوں سے شادیاں کر لینے کے بعد اکبر کے دِل میں ہندوؤں کے لئےنرم گوشہ پیدا ہو گیا تھا ۔ حکومت کے بڑے بڑے عہدوں پر ہندو فائز تھے، اپنے اقتدار اور شاہ وقت کی نظرِ عنایت نے انہیں اس قدر دلیر کر دیا تھا کہ وہ مسلمانوں کی ہر آن ہر لمحہ دل آزاری کرتے، مسجدیں شہید کر کے وہاں مندر بنائے گئے، ہندوؤں کے برت کا دن آتا تو مسلمانوں کو دن میں کھانے پینے سے حکماً روک دیا جاتا، انہیں حکم ہوتا کہ ان کے چولھوں میں آگ نہ جلے ۔
لیکن جب رمضان المبارک آتا تو ہندو سرِ عام کھاتے، رمضان کی عزت و حرمت کی حفاظت کے لئے بادشاہ کوئی فرمان جاری نہ کرتا تھا ۔ حالات اس حد تک نا ساز گار تھے کہ دین کے پنپنےکی کوئی اُمید نظر نہ آتی تھی ۔ مگر ہمیشہ یہ ہوا کہ جب بھی دین اسلام پر کوئی آزمائش کا وقت آیا رحمتِ حق میں ارتعاش پیدا ہوا ۔ دین حق کی حفاظت کے لئےکوئی نہ کوئی ہستی ان تِیرہ و تاریک فضاؤں میں نمودار ہوئی جس کی نورانی کرنوں سے کفر و الحاد کی تاریکیاں چھٹ گئیں جس کی ضیاء بار تابانیوں سے بدعت و ضلالت کی آندھیاں ڈھل گئیں جس کی ضَوفشاں شعاعوں سے زندقت کے اندھیرے بھی منور ہوئے اور توحید و سنت کی مشعلیں چمک اُٹھیں ۔
جب کفر و شرک، بدعت و ضلالت اور زندقہ و الحادکی آندھیاں اپنی تمام تاریکیوں سمیت ہندوستان کی فضاء پر چھا گئیں تو آسمانِ '' سر ہند '' پر سنت و ہدایت کا آفتاب طلوع ہوا جس کو لوگ شیخ احمد سر ہندی کے نام سے موسوم کرتے ہیں ۔ اس آفتاب کی ضیاء پاشیوں سے ظلمت و گمراہی کے اندھیرے کافور ہوئے، اکبر نے جس دین کی بنیاد رکھی تھی اور اعوان و انصارِ حکومت جس کی تبلیغ میں ہمہ تن مصروف تھے، حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو بیخ و بن سے اُکھاڑنے کا تہیہ کیا ۔
ہم دیکھتے ہیں کہ حق اپنی تمام جلوہ سامانیوں سے طلوع ہوتا ہے ۔ تو باطل کافور کی مانند تحلیل ہو جاتا ہے ۔ بادشاہ کو رعایہ سجدہ کرتی تھی ۔ جب حضرت مجدد الفِ ثانی جہانگیر کے دربار میں پہنچے، اس کو بھی آپ سے یہی توقع تھی، لیکن آپ نے سجدہ کرنے سے انکار کر دیا ۔ آپ نے فرمایا اللہ جل شانہ کی ذات کے علاوہ سجدہ کسی کے لئے جائز نہیں ہے، فرمایا: یہ گردن کٹ تو سکتی ہے لیکن باطل کے آگے جھک نہیں سکتی ۔
ڈاکٹر اقبال فرماتے ہیں: ؎
گردن نہ جھکی جس کی جہانگیر کے آگے
جس کے نفسِ گرم سے ہے گرمیٔ احرار
❤2