Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
28-02-1445 ᴴ | 15-09-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
28-02-1445 ᴴ | 15-09-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
عرس حضور مجدد الف ثانی
شیخ احمد سرہندی علیہ الرحمہ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
عرس حضور مجدد الف ثانی
شیخ احمد سرہندی علیہ الرحمہ
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
حضرت شیخ احمد نہروانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آپ قاضی حمید الدین ناگوری کے مشہور خلیفہ تھے ۔ بڑے بلند پایہ بزرگ اور اسرارِ حقیقت کے واقف تھے، حضرت شیخ الاسلام بہاؤالدین زکریا ملتانی رحمۃ اللہ علیہ کسی کو بہت کم پسند فرمایا کرتے تھے مگر حضرت شیخ نہروانی کے متعلق فرمایا کرتے کہ شیخ احمد نہروانی صوفیوں کے منبع ہیں، شیخ نظام الدین اولیاء اللہ فرماتے ہیں کہ جس مجلس سماع میں خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کا انتقال ہوا اُس میں شیخ احمد نہروانی بھی موجود تھے، شیخ نصیرالدین محمود چراغ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ شیخ احمد نہروانی بافندگی کرتے تھے، کبھی کبھی ایسا ہوتا کہ کام کے دوران ہی اُن پر ایسی کیفیت طاری ہوتی کہ اپنے آپ ہی غائب ہوجاتے، کام سے دستبردار ہوجاتے لیکن خود بخود کپڑے بنتے جاتے ۔
ایک دن قاضی حمید الدین ناگوری رحمۃ اللہ علیہ شیخ احمد نہروانی کو ملنے کے لیے تشریف لے گئے، اس وقت شیخ کھڈی پر بیٹھے کپڑا بن رہے تھے اپنے پیر و مرشد سے وہاں ہی ملاقات ہوئی وداع کے وقت قاضی حمید الدین نے فرمایا ’’احمد اصل کام چھوڑ کر کب تک اس کام میں لگے رہو گے تمہیں کوئی اچھا کام کرنا چاہیے یہ کام اللہ کے بندوں کا نہیں ہے اسے چھوڑ و اور اپنا کام کرو جو تمہارے کسی کام آئے، اس کام سے تو بے کار ی بہتر ہے‘‘ ۔ قاضی حمیدالدین رخصت ہوئے تو حضرت شیخ احمد اٹھے اور ایک موٹی سی لکڑی کو ہاتھ میں لیا تاکہ میخ کو ٹھونک سکیں کیونکہ اُس میخ سے آپ کی کھڈی کی رسیاں ڈھیلی پڑ گئی تھیں جونہی آپ نے وہ لکڑی میخ پر ماری تو آپ کے ہاتھ پر آلگی ہاتھ ٹوٹ گیا اور اس کام سے بے کار ہوگئے اور اب دن رات اللہ کی عبادت میں مشغول رہنے لگے، آپ کی وفات چھ سو اکسٹھ ہجری میں ہوئی ۔
شیخ احمد چوں ز دنیا رخت بست
داخل فردوس شد آں جنتی
سالِ ترحیلش چو گفتم از خرد
گشت احمد مرشد دین منجلی
۶۶۱ھ
-----------------------------------
آپ قاضی حمیدالدین محمد بن عطا، ناگوری کے مریدِ خاص کامل بزرگ تھے اور باعتبار پیشہ کے جولاہے تھے، شیخ الاسلام بہاؤ الدین زکریا فرمایا کرتے تھے، اگر کوئی شیخ احمد نہروانی کے مشغول بحق ہونے کا اندازہ لگائے تو دس صوفیوں کے اشغال بالذکر سے کم نہ پائے گا، سلطان المشائخ نظام الدین اولیاء نے فرمایا جس مجلس سماع میں بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ کو خاص واقعہ پیش آیا اس مجلس میں شیخ احمد نہروانی بھی موجود تھے ۔
شیخ نصیرالدین محمود چراغ آپ کے بارے میں یوں ارشاد فرماتے ہیں کہ شیخ احمد نہروانی کو کبھی کبھی کرگھے پر کام کرتے وقت حالت وجد طاری ہوجاتی تھی اور اس وجہ سے آپ کپڑا بننا چھوڑ دیتے تھے، لیکن کرگھا چلتا رہتا اور کپڑا خود بخود تیار ہوتا رہتا، ایک دفعہ قاضی حمیدالدین ناگوری (جن کے حالات پہلے گزر چکے) آپ کے ہاں بغرض ملاقات تشریف لائے اور جاتے وقت فرمانے لگے شیخ احمد کب تک اس کام میں لگے رہو گے؟ یہ فرماکر قاضی صاحب تو تشریف لے گئے اور شیخ احمد نہروانی ان میخوں کو کسنے کے لیے اُٹھے جو ڈھیلی پڑ گئی تھیں، ابھی ایک میخ کسنا ہی چاہتے تھے کہ آپ کا ہاتھ ٹوٹ گیا جس پر شیخ احمد نہروانی نے ہندی زبان میں فرمایا کہ پیر قاضی حمیدالدین نے میرا ہاتھ توڑ دیا۔
اس واقعہ کے بعد آپ نے جولاہوں کا پیشہ ترک فرمادیا اور مکمل طور پر یاد الٰہی عزوجل میں مصروف و مشغول ہوگئے، آپ کا مزار بدایوں میں ہے۔
(اخبار الاخیار)
حضرت شیخ احمد نہروانی
(رحمۃ اللہ علیہ)
حضرت شیخ احمد نہروانی اس مجلس سماع میں موجود تھےکہ جس میں قطب الاقطاب حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی (رحمتہ اللہ علیہ )نے وصال فرمایا۔
بیعت و خلافت:
آپ حضرت قاضی حمید الدین ناگوری کے مرید ہیں۔
پیشہ:
آپ بافندگی کاکام کرتے تھے۔
زندگی میں کایا پلٹ:
آپ کے پیر و مرشد حضرت قاضی حمیدالدین ناگوری ایک مرتبہ آپ کے مکان پرتشریف لائے، آپ اپنا کام کر رہے تھے، اپنے پیر و مرشد کی تعظیم بجا لائے ۔ حضرت قاضی جب چلنے لگے تو انہوں نے آپ سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ۱؎
"احمد! یہ کام کب تک کرتے رہوگے"۔
حضرت قاضی صاحب کےتشریف لے جانے کے بعد آپ کا ہاتھ میخ پر اتفاقاً جا لگا، ہاتھ ٹوٹ گیا، آپ مسکرائے اور فرمایا۔
"اس بوڑھے (قاضی حمید الدین) نے میرا ہاتھ توڑ ڈال"۔
اس دن سے آپ نے بافندگی کا کام چھوڑ دیا۔ دنیا کو ترک کرکے یاد الٰہی میں مشغول ہوئے۔
وفات:
آپ نے ۶۶۱ھ میں وفات پائی، مزار بدایوں میں ہے ۔۲؎
سیرت:
حضرت بہاؤالدین زکریا ملتانی (رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں) کہ۔
"اگر احمد کی مشغولی وزن کی جائے تو دس صوفیوں کی مشغولی کے برابر ہوگی"۔
کرامت:
کبھی کبھی ایسا ہوتا تھا کہ آپ اپنا کام کرتے کرتے از خود رفتہ ہو جاتے تھے، آپ کام بند کر دیتے تھے لیکن کپڑا بغیر آپ کی امداد کے بنتا جاتا تھا۔
حواشی:
ا؎ اخبار الاخیار (اُردوترجمہ)ص۹۳
۲؎ اخبارالاخیار (اُردوترجمہ) ص۹۳
( تذکرہ اولیاءِ پاک و ہند )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-ahmed-neharwani
آپ قاضی حمید الدین ناگوری کے مشہور خلیفہ تھے ۔ بڑے بلند پایہ بزرگ اور اسرارِ حقیقت کے واقف تھے، حضرت شیخ الاسلام بہاؤالدین زکریا ملتانی رحمۃ اللہ علیہ کسی کو بہت کم پسند فرمایا کرتے تھے مگر حضرت شیخ نہروانی کے متعلق فرمایا کرتے کہ شیخ احمد نہروانی صوفیوں کے منبع ہیں، شیخ نظام الدین اولیاء اللہ فرماتے ہیں کہ جس مجلس سماع میں خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کا انتقال ہوا اُس میں شیخ احمد نہروانی بھی موجود تھے، شیخ نصیرالدین محمود چراغ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ شیخ احمد نہروانی بافندگی کرتے تھے، کبھی کبھی ایسا ہوتا کہ کام کے دوران ہی اُن پر ایسی کیفیت طاری ہوتی کہ اپنے آپ ہی غائب ہوجاتے، کام سے دستبردار ہوجاتے لیکن خود بخود کپڑے بنتے جاتے ۔
ایک دن قاضی حمید الدین ناگوری رحمۃ اللہ علیہ شیخ احمد نہروانی کو ملنے کے لیے تشریف لے گئے، اس وقت شیخ کھڈی پر بیٹھے کپڑا بن رہے تھے اپنے پیر و مرشد سے وہاں ہی ملاقات ہوئی وداع کے وقت قاضی حمید الدین نے فرمایا ’’احمد اصل کام چھوڑ کر کب تک اس کام میں لگے رہو گے تمہیں کوئی اچھا کام کرنا چاہیے یہ کام اللہ کے بندوں کا نہیں ہے اسے چھوڑ و اور اپنا کام کرو جو تمہارے کسی کام آئے، اس کام سے تو بے کار ی بہتر ہے‘‘ ۔ قاضی حمیدالدین رخصت ہوئے تو حضرت شیخ احمد اٹھے اور ایک موٹی سی لکڑی کو ہاتھ میں لیا تاکہ میخ کو ٹھونک سکیں کیونکہ اُس میخ سے آپ کی کھڈی کی رسیاں ڈھیلی پڑ گئی تھیں جونہی آپ نے وہ لکڑی میخ پر ماری تو آپ کے ہاتھ پر آلگی ہاتھ ٹوٹ گیا اور اس کام سے بے کار ہوگئے اور اب دن رات اللہ کی عبادت میں مشغول رہنے لگے، آپ کی وفات چھ سو اکسٹھ ہجری میں ہوئی ۔
شیخ احمد چوں ز دنیا رخت بست
داخل فردوس شد آں جنتی
سالِ ترحیلش چو گفتم از خرد
گشت احمد مرشد دین منجلی
۶۶۱ھ
-----------------------------------
آپ قاضی حمیدالدین محمد بن عطا، ناگوری کے مریدِ خاص کامل بزرگ تھے اور باعتبار پیشہ کے جولاہے تھے، شیخ الاسلام بہاؤ الدین زکریا فرمایا کرتے تھے، اگر کوئی شیخ احمد نہروانی کے مشغول بحق ہونے کا اندازہ لگائے تو دس صوفیوں کے اشغال بالذکر سے کم نہ پائے گا، سلطان المشائخ نظام الدین اولیاء نے فرمایا جس مجلس سماع میں بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ کو خاص واقعہ پیش آیا اس مجلس میں شیخ احمد نہروانی بھی موجود تھے ۔
شیخ نصیرالدین محمود چراغ آپ کے بارے میں یوں ارشاد فرماتے ہیں کہ شیخ احمد نہروانی کو کبھی کبھی کرگھے پر کام کرتے وقت حالت وجد طاری ہوجاتی تھی اور اس وجہ سے آپ کپڑا بننا چھوڑ دیتے تھے، لیکن کرگھا چلتا رہتا اور کپڑا خود بخود تیار ہوتا رہتا، ایک دفعہ قاضی حمیدالدین ناگوری (جن کے حالات پہلے گزر چکے) آپ کے ہاں بغرض ملاقات تشریف لائے اور جاتے وقت فرمانے لگے شیخ احمد کب تک اس کام میں لگے رہو گے؟ یہ فرماکر قاضی صاحب تو تشریف لے گئے اور شیخ احمد نہروانی ان میخوں کو کسنے کے لیے اُٹھے جو ڈھیلی پڑ گئی تھیں، ابھی ایک میخ کسنا ہی چاہتے تھے کہ آپ کا ہاتھ ٹوٹ گیا جس پر شیخ احمد نہروانی نے ہندی زبان میں فرمایا کہ پیر قاضی حمیدالدین نے میرا ہاتھ توڑ دیا۔
اس واقعہ کے بعد آپ نے جولاہوں کا پیشہ ترک فرمادیا اور مکمل طور پر یاد الٰہی عزوجل میں مصروف و مشغول ہوگئے، آپ کا مزار بدایوں میں ہے۔
(اخبار الاخیار)
حضرت شیخ احمد نہروانی
(رحمۃ اللہ علیہ)
حضرت شیخ احمد نہروانی اس مجلس سماع میں موجود تھےکہ جس میں قطب الاقطاب حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی (رحمتہ اللہ علیہ )نے وصال فرمایا۔
بیعت و خلافت:
آپ حضرت قاضی حمید الدین ناگوری کے مرید ہیں۔
پیشہ:
آپ بافندگی کاکام کرتے تھے۔
زندگی میں کایا پلٹ:
آپ کے پیر و مرشد حضرت قاضی حمیدالدین ناگوری ایک مرتبہ آپ کے مکان پرتشریف لائے، آپ اپنا کام کر رہے تھے، اپنے پیر و مرشد کی تعظیم بجا لائے ۔ حضرت قاضی جب چلنے لگے تو انہوں نے آپ سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ۱؎
"احمد! یہ کام کب تک کرتے رہوگے"۔
حضرت قاضی صاحب کےتشریف لے جانے کے بعد آپ کا ہاتھ میخ پر اتفاقاً جا لگا، ہاتھ ٹوٹ گیا، آپ مسکرائے اور فرمایا۔
"اس بوڑھے (قاضی حمید الدین) نے میرا ہاتھ توڑ ڈال"۔
اس دن سے آپ نے بافندگی کا کام چھوڑ دیا۔ دنیا کو ترک کرکے یاد الٰہی میں مشغول ہوئے۔
وفات:
آپ نے ۶۶۱ھ میں وفات پائی، مزار بدایوں میں ہے ۔۲؎
سیرت:
حضرت بہاؤالدین زکریا ملتانی (رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں) کہ۔
"اگر احمد کی مشغولی وزن کی جائے تو دس صوفیوں کی مشغولی کے برابر ہوگی"۔
کرامت:
کبھی کبھی ایسا ہوتا تھا کہ آپ اپنا کام کرتے کرتے از خود رفتہ ہو جاتے تھے، آپ کام بند کر دیتے تھے لیکن کپڑا بغیر آپ کی امداد کے بنتا جاتا تھا۔
حواشی:
ا؎ اخبار الاخیار (اُردوترجمہ)ص۹۳
۲؎ اخبارالاخیار (اُردوترجمہ) ص۹۳
( تذکرہ اولیاءِ پاک و ہند )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-ahmed-neharwani
scholars.pk
Hazrat Sheikh Ahmed Neharwani
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
حضرت میر محمد یعقوب گیلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آپ عالم عامل اور عامل کامل تھے آپ قلعۂ یعقوب میں رہا کرتے تھے اور اسمائے ربانی کے زرو سے حاکمانہ قوت کے مالک تھے ۔ خلق خدا ان سے دین و دنیا کے فائدے اٹھایا کرتی تھیب۔ دیوانہ کتے کے زخمی لوگ آپ کے پاس آتے اور شفا یاب ہوتے آپ کی دعا کے بعد تادم حیات کسی پر دیوانگی کے اثرات نہ رہتے آپ کی نسبت آبائی جناب غوث الاعظم محی الدین ابو محمد عبد القادر جیلانی سے ملتی ہے ۔
سلسلۂ نسب:
میر محمد یعقوب بن میر محمد زمان بن میر محمد حاجی بن میر صدر الدین ۔ بن سید نور الدین بن سید بدر الدین بن سید جعفر بن سید احمد بن سید مومن بن میر حیدر بن شاہ قمیص قادری (جن کا ذکر خیر سلسلہِ قادریہ میں گذر چکا ہے) بن ابی الحیات ۔ بن تاج الدین محمود بن بہاء الدین محمد بن جلال الدین احمد بن سید علی جمال الدین قاضی ابو صالح نصر بن سید آلافاق شیخ عبد الرزاق بن شیخ سید سلطان ابو محمد محی الدین عبد القادر جیلانی قدس سرھم ۔
آپ کی روحانی نسبت پیران قادریہ کے سلسلہ سے یوں درج ہے ۔
آپ سید فضل علی لاہوری کے مرید تھے ۔ وہ شیخ عبد الرحیم جار اللہ وہ حاجی محمد سعید لاہوری (جن کا ذکر خیر سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجدّدیہ میں لکھا گیا ہے) وہ سید محمد محمود کردی ۔ وہ سید جلال الدین وہ سید شہاب الدین وہ سید جلال الدین عبد اللہ وہ سید شمس الدین ابو الوفا وہ سید شہاب الدین احمد وہ سید قاسم وہ سید عبد الباسط وہ سید بہاء الدین ابو العباس اور وہ سید بدر الدین حسن اور وہ سید علاء الدین اور وہ سید شرف الدین یحییٰ تا تاری اور وہ سید ابو النصر اور وہ قطب آلافاق سیّد عبد الرزاق اور وہ سیدنا عبد القادر جیلانی غوث الاعظم کے مرید تھے (رضی اللہ عنہم) امام میر یعقب گیلانی نے دوسرے سلاسل عالیہ سے بھی فیض پایا تھا ۔ اس طرح آپ مقتدائے زمانہ ہوئے ۔
وصال:
آپ کی تاریخ وفات ۲۹ صفر المظفر ۱۱۷۹ھ ہے مگر میر فضل علی نے تاریخ وفات ۴ محرم الحرام ۱۱۶۰ھ لکھی ہے ۔
مزار مبارک:
آپ کا مزار پر انور مزنگ لاہور کے قلعہ میر یعقوب میں ہے آپ کے تین بیٹے سید محمد یوسف ۔ میر سید علی اور میر اسماعیل تھے ۔ تینوں صاحباں علم و فضل اور ظاہر و باطن مراتب پر فائز ہوئے ۔
شد چو از دنیا بفضل ایزدی
ارتحالش ہست خورشید جہاں
۱۱۷۹ھ
درجناں یعقوب مخدوم الکریم
ہم بخواں یعقوب مخدوم الکریم
۱۱۷۹ھ
( خذینۃ الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-meer-muhammad-yakub-gilani
آپ عالم عامل اور عامل کامل تھے آپ قلعۂ یعقوب میں رہا کرتے تھے اور اسمائے ربانی کے زرو سے حاکمانہ قوت کے مالک تھے ۔ خلق خدا ان سے دین و دنیا کے فائدے اٹھایا کرتی تھیب۔ دیوانہ کتے کے زخمی لوگ آپ کے پاس آتے اور شفا یاب ہوتے آپ کی دعا کے بعد تادم حیات کسی پر دیوانگی کے اثرات نہ رہتے آپ کی نسبت آبائی جناب غوث الاعظم محی الدین ابو محمد عبد القادر جیلانی سے ملتی ہے ۔
سلسلۂ نسب:
میر محمد یعقوب بن میر محمد زمان بن میر محمد حاجی بن میر صدر الدین ۔ بن سید نور الدین بن سید بدر الدین بن سید جعفر بن سید احمد بن سید مومن بن میر حیدر بن شاہ قمیص قادری (جن کا ذکر خیر سلسلہِ قادریہ میں گذر چکا ہے) بن ابی الحیات ۔ بن تاج الدین محمود بن بہاء الدین محمد بن جلال الدین احمد بن سید علی جمال الدین قاضی ابو صالح نصر بن سید آلافاق شیخ عبد الرزاق بن شیخ سید سلطان ابو محمد محی الدین عبد القادر جیلانی قدس سرھم ۔
آپ کی روحانی نسبت پیران قادریہ کے سلسلہ سے یوں درج ہے ۔
آپ سید فضل علی لاہوری کے مرید تھے ۔ وہ شیخ عبد الرحیم جار اللہ وہ حاجی محمد سعید لاہوری (جن کا ذکر خیر سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجدّدیہ میں لکھا گیا ہے) وہ سید محمد محمود کردی ۔ وہ سید جلال الدین وہ سید شہاب الدین وہ سید جلال الدین عبد اللہ وہ سید شمس الدین ابو الوفا وہ سید شہاب الدین احمد وہ سید قاسم وہ سید عبد الباسط وہ سید بہاء الدین ابو العباس اور وہ سید بدر الدین حسن اور وہ سید علاء الدین اور وہ سید شرف الدین یحییٰ تا تاری اور وہ سید ابو النصر اور وہ قطب آلافاق سیّد عبد الرزاق اور وہ سیدنا عبد القادر جیلانی غوث الاعظم کے مرید تھے (رضی اللہ عنہم) امام میر یعقب گیلانی نے دوسرے سلاسل عالیہ سے بھی فیض پایا تھا ۔ اس طرح آپ مقتدائے زمانہ ہوئے ۔
وصال:
آپ کی تاریخ وفات ۲۹ صفر المظفر ۱۱۷۹ھ ہے مگر میر فضل علی نے تاریخ وفات ۴ محرم الحرام ۱۱۶۰ھ لکھی ہے ۔
مزار مبارک:
آپ کا مزار پر انور مزنگ لاہور کے قلعہ میر یعقوب میں ہے آپ کے تین بیٹے سید محمد یوسف ۔ میر سید علی اور میر اسماعیل تھے ۔ تینوں صاحباں علم و فضل اور ظاہر و باطن مراتب پر فائز ہوئے ۔
شد چو از دنیا بفضل ایزدی
ارتحالش ہست خورشید جہاں
۱۱۷۹ھ
درجناں یعقوب مخدوم الکریم
ہم بخواں یعقوب مخدوم الکریم
۱۱۷۹ھ
( خذینۃ الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-meer-muhammad-yakub-gilani
scholars.pk
Hazrat Meer Muhammad Yakub Gilani
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
حضرت مولانا محمد امان اللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
مولانا شیخ محمد امان اللہ بن مولانا صدر الدین رحمہما اللہ تعالیٰ چک عمر ضلع گجرات میں پیدا ہوئے، زیادہ تعلیم والد ماجد عم مکرم مولانا مخدوم عالم سے پائی، مزید تعلیم کے لئے کچھ عرصہ کر سال، ضلع جہلم میں رہے ، اس عرصہ میں آپ کے بڑے بھائی مولانا شیخ عبد اللہ (چک عمر) آپ کی جدائی سے متاثر ہو کر فراقیہ اشعار کہتے رہے جو ایک کتاب میں جمع کئے جا سکتے ہیں ۔
مولانا شیخ محمد امن اللہ رحمہ اللہ تعالیٰ اپنے دور کے متجر عالم اور عربی و فارسی کے اچھے شاعر تھے، آپ نے ج و از جمعہ کے بارے میں ایک عربی رسالہ لکھا تھا جسے علماء نے نگاہ تحسین سے دیکھا، یہ رسالہ پروفیسر قریشی احمد حسین، پروفیسر زمیند راہ کالج گجرات کے کتابخانہ میں محفوث ہے ۔ مولانا شیخ محمد امان اللہ کو خاندانی تناز عات اور مقدمات کی وجہ سے علم و ادب کی خدمت کا موقع نہ مل سکا اور نہ وہ نہ معلوم کیسے کیسے جواہر پارے یادگار چھوڑتے ۔
وصال:
۲۹ صفر / ۳۱ اگست ( ۱۳۱۲ھ/۱۸۹۴ئ) بروز جمعہ صبح کے وقت مولانا شیخ محمد امان اللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو وصال ہوا اور چک عمر،بضلع گجرات میں مدفون ہوئے ۔ آپ کے فرزند اجمند مولانا سلام اللہ شائق نامور عالمدین ہوئے ہیں [1]
[1] قریشی احمد حسین، پروفیسر: گجرات کی تمدنی تاریخ ( قلمی )
( تزکرہ اکابرِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-muhammad-amanullah
مولانا شیخ محمد امان اللہ بن مولانا صدر الدین رحمہما اللہ تعالیٰ چک عمر ضلع گجرات میں پیدا ہوئے، زیادہ تعلیم والد ماجد عم مکرم مولانا مخدوم عالم سے پائی، مزید تعلیم کے لئے کچھ عرصہ کر سال، ضلع جہلم میں رہے ، اس عرصہ میں آپ کے بڑے بھائی مولانا شیخ عبد اللہ (چک عمر) آپ کی جدائی سے متاثر ہو کر فراقیہ اشعار کہتے رہے جو ایک کتاب میں جمع کئے جا سکتے ہیں ۔
مولانا شیخ محمد امن اللہ رحمہ اللہ تعالیٰ اپنے دور کے متجر عالم اور عربی و فارسی کے اچھے شاعر تھے، آپ نے ج و از جمعہ کے بارے میں ایک عربی رسالہ لکھا تھا جسے علماء نے نگاہ تحسین سے دیکھا، یہ رسالہ پروفیسر قریشی احمد حسین، پروفیسر زمیند راہ کالج گجرات کے کتابخانہ میں محفوث ہے ۔ مولانا شیخ محمد امان اللہ کو خاندانی تناز عات اور مقدمات کی وجہ سے علم و ادب کی خدمت کا موقع نہ مل سکا اور نہ وہ نہ معلوم کیسے کیسے جواہر پارے یادگار چھوڑتے ۔
وصال:
۲۹ صفر / ۳۱ اگست ( ۱۳۱۲ھ/۱۸۹۴ئ) بروز جمعہ صبح کے وقت مولانا شیخ محمد امان اللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو وصال ہوا اور چک عمر،بضلع گجرات میں مدفون ہوئے ۔ آپ کے فرزند اجمند مولانا سلام اللہ شائق نامور عالمدین ہوئے ہیں [1]
[1] قریشی احمد حسین، پروفیسر: گجرات کی تمدنی تاریخ ( قلمی )
( تزکرہ اکابرِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-muhammad-amanullah
scholars.pk
Hazrat Molana Muhammad Amanullah
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2