🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
ارم سےا ن کی سر فروشانہ دینی خدمات کا غلغلہ اساتذہ اور احباب کے حلقوں میں سنتا رہا۔ان کا اخلاص، ان کا استقلال، ان کا ایثار، ہمیشہ دلوں میں احترام کا ماحول پیدا کیے رہا، خصوصاً امام اہلِ سنت، مجددین و ملت امام احمد رضا قادری برکاتی قدس سرہ سے اس چشتی مشرب صوفی بزرگ کی والہانہ وابستگی اور شیفتگی کی حد تک لگاؤ تو ہم اہلِ سنت کے واسطے بہت جاذ بیت رکھتا تھا۔

یہ مجمع اخلاق و محاسن ۲۸/صفرالمظفر ۱۳۴۶ھ /۲۷/اگست۱۹۲۷/ کو امرتسر کی تاریخی سر زمین پر پیدا ہوا اور پھر اس نخل کرم کو عابدانہ تعلیمی ماحول ملا۔ والد ماجد حکیم فقیر محمد چشتی نظامی متوفی ۱۳۱۷ ھ ایک صوفی مشرب بزرگ تھے جنہیں نالہ نیم شبی کی لذت بھی میسر تھی اور فخرالاطبا کا اعزاز بھی۔ طبابت خاندانی پیشہ تھا اس لیے نفاست اور شرافت خاندانی میراث تھی۔

حکیم صاحب علوم و فنون کی متوسط تکمیل کے بعد طبابت کے پیشہ سے وابستہ ہوگئے جو آپ کے واسطے مسائل حیات کے پیچ و خم سلجھانے کا واحد ذریعہ تھا۔ بقول خود:

"میں صبح سے مغرب تک مطب کرتا ہوں، مطب میری آمدنی کا واحد ذریعہ ہے۔ میں رزق حلال پر یقین رکھتا ہوں۔ اس مطب کی آمدنی سے گھر کی کفالت، کتابوں کا خریدنا اور کتابوں کی چھپائی میں قلمکاروں کی مقدور بھر معاونت کے معاملات چلتے ہیں۔"(۱)

حکیم اہلِ سنت کا مطب، جسمانی شفا خانے کے ساتھ ساتھ علمی اور روحانی سر چشمہ فیض بھی تھا جہاں تشنگان ِذوق، جوق در جوق حاضر ہوتے اور اپنے اپنے ظرف کے مطابق سیراب ہوا کرتے۔

ڈاکٹر احمد حسین قلعداری صاحب کے لفظوں میں:

میں نے دیکھا کہ مطب پرا ربابِ علم وحکمت کا مجمع رہتا، چائے چلتی رہتی اور علم و حکمت کے چشمے ابلتے رہتے۔ مطب کیا تھا؟ عباسیوں کا بیت الحکمت تھا۔ عباسیوں کے بیت الحکمت میں علماء، فضلا کا اجتماع شاید ہفتہ عشرہ کے بعد ہوتا، اس بیت الحکمت میں اربابِ عقل و دانش سارا سارا دن بیٹھے رہتے۔

اس جمگھٹے کے جذب و کشش میں حکیم اہلِ سنت کی علم دوستی اور معلوماتی ہمہ جہتی کے ساتھ ساتھ آپ کی سادہ دلی اور کریمانہ اخلاق کابھی بہت زیادہ دخل تھا۔ جو آپ سے ایک بارمل لیتا اسے آپ کے حسن اخلاق کا گرویدہ ہونا پڑتا۔

مولانا محمد صدیق ہزاروی ’’تعارف علمائے اہلِ سنت‘‘ میں لکھتے ہیں:

حکیم محمد موسٰی امرتسری نہایت وسیع القلب اور خلیق و شفیق انسان ہیں اور اہلِ سنت کے نو خیز اہلِ قلم حضرات کی خوب حوصلہ افزائی فرماتے ہیں۔

آپ کے اخلاق و اوصاف کے متعلق پروفیسر محمد ایوب قادری لکھتے ہیں:

حکیم صاحب نہایت وسیع الاخلاق، مہمان نواز، علم و ادب کے شیدائی، معارف پرور، پرانی قدروں کے محافظ اور مجموعہ اخلاق و آداب ہیں۔ ان کا مطب، طبی مرکز سے زیادہ علم و ادب اور تہذیب و ثقافت کا مرکز ہے۔

محمد عطاءالرحمٰن لاہوری صاحب ایک امریکی اسکالر کے حوالے سے حکیم اہلِ سنت کے اخلاق جذب و اثر کے بارے میں لکھتے ہیں:

دراصل حکیم صاحب کی ذات کو پر کشش بنانے والی چیز ان کا اخلاق تھا، ان کی محبت تھی، ان کی الفت تھی--- کیا امیر، کیا غریب؟ سبھی ان کے شفقت و التفات کے دریا سے فیض یاب ہوتے تھے۔ ایک دنیا اس بات کی گواہی دے گی کہ ان کا ابر کرم ہر آنے والے پر بلا تخصیص اور بلا تفریق برستا تھا اور اس حقیقت کا تو انکار ممکن ہی نہیں کہ مئے خانے میں ہجوم تب ہی ہوتا ہے جب پیر مغاں مرد خلیق ہوتا ہے---حکیم صاحب کی شفقت کا ایک نمونہ ملا حظہ فرمایئے:

امریکی اسکالر آرتھر فرینک (Arthur Frank Buchlar) نے میں ہارورڈ یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کا مقالہ پیش کیا۔ اپنی تحقیق کے سلسلے میں وہ لاہور میں قیام کے دوران حکیم صاحب سے بھی رہنمائی لیتے رہے۔ انہوں نے اپنے مقالے کے آغاز میں اظہار تشکر کے لیے حکیم صاحب کا ذکر ایک پیر اگراف میں کیا ہے۔ اس کا ترجمہ ذیل میں درج کیا جاتا ہے تا کہ معلوم ہو سکے کہ ایک مغربی محقق، حکیم صاحب کی علمی مدد کو کس انداز میں بیان کرتا ہے:

’’میرے بشریاتی عملی تجربے کا بڑا حصہ نہ ختم ہونے والی اس تلاش و جستجو کا نتیجہ ہے جو مجھے صوفیانہ مواد کے لیے کرنا پڑی۔ یہ مواد پاکستان بھر میں ذاتی اور عوامی ذخائر کتب میں بکھرا پڑا ہے۔ کون کون سی کتابیں لکھی گئیں اور کہاں کہاں موجود ہیں؟ یہ کتابیاتی معلومات کا زندہ خزانہ ہیں۔ انہوں نے ہی اس تحقیق میں میری سب سے زیادہ رہنمائی کی بہت سے لوگوں کے لیے حکیم صاحب ایک صوفی ہیں جن کا پیشہ طبابت ہے۔ میں ہفتے میں ایک بار ان کے مطب پر حاضری دیتا جہاں وہ فاضل اسکالروں اور مصنفین کے ملے جلے سا معین کے درمیان مسند صدارت پر رونق افروز ہوتے اور اس کے ساتھ ساتھ مریضوں کی ایک قطار مطب میں داخل ہوتی اور چلی جاتی۔ علمی گفتگو اور نسخہ نویسی کے ساتھ ساتھ وہ مجھے لاہور شہر کے قرب و جوار میں کتابیں تلاش کرنے کے لیے دس کام بتا دیتے، جب میں یہ کام مکمل کر لیتا تو ان کو جا کر بتاتا، وہ کئی اور کام مجھے تفویض کر دیتے۔اگرچہ میں نے شروع میں ا
1👍1
س طریق کار کو پسند نہ کیا کیونکہ علمی کمی کی وجہ سے کتابوں کے بارے میں ہی سوچتا۔ انجام کار میں ایسے مقامات پر گیا جہاں میں دوسری صورت میں کبھی نہ جاتا جیسے قرآنی مکاتب، مساجد اور یہاں تک کہ کپڑے کی دکان میں بھی۔ تا ہم اس دوران میں نے پاکستانی کلچر اور مذہب کے بارے میں بہت کچھ جان لیا۔‘‘(۱)

فکر و قلم کا یہ بزم آرا خود بھی ان کی توانائیوں سے آراستہ و پیراستہ تھا۔

پیر زادہ اقبال احمد صاحب فاروقی لکھتے ہیں:

آپ نہایت بلند پایہ ادیب اور علم و حکمت کا قیمتی ذخیرہ ہیں۔ آپ کی تصانیف میں (۱) تذکرہ علماء امرتسر (غیر مطبوعہ) (۲) مولانا غلام محمد ترنم رحمہ اللہ (۳) مولانا نور احمد امرتسری (۴) ذکر مغفور (تذکرہ سید مغفور القادری رحمہ اللہ) (۵) اذکار جمیل (تذکرہ سید برکت علی شاہ خلیجا نوی) بہت ہی مشہور ہوئیں۔ آپ نے کئی علمی کتابوں پر زور دار دیبا چے لکھے۔ مقدمہ ’’کشف المحجوب‘‘ مقدمہ ’’مکتوبات مجدد الف ثانی رحمہ اللہ‘‘ اور مقدمہ ’’عبادالرحمٰن‘‘ اہل علم کی توجہ کا مرکز بن گئے۔(۱)

حکیم اہلِ سنت کے حسن اخلاق کا چرچا اپنی جگہ، علم دوستی کا جذبہ فراواں بھی تسلیم، بے نفسی اور ایثار بھی تعارف کے محتاج نہیں لیکن اس چشتی مشرب کی امام اہلِ سنت سیدنا اعلٰی حضرت قدس سرہ کے ساتھ ایسی والہانہ شیفتگی کہ خود ہی نذر عقیدت لے کر حاضر نہیں ہوتے بلکہ ان کی عقیدتوں کی مشعل لے کر سراپا تحریک بن جاتے ہیں، اک جہان کے لیے باعث حیرت ہے۔ عقل عجب سے دائرہ میں گردش کرتی محسوس ہوتی ہے۔ جناب محمد اشرف لودھی صاحب مدیر ماہنامہ ’’ساحل‘‘ کراچی نے کچھ اسی طرح کا سوال حکیم اہلِ سنت سے کیا۔

حکیم صاحب! آپ سے کئی حوالوں سے گفتگو کرنی ہے۔ سب سے پہلے تو "مجلس رضا لاہور" کہ جس کو آپ نے قائم کیا، وہ کیا عوامل تھے کہ آپ باوجود اس کے کہ نہ تو اعلٰی حضرت احمد رضا بریلوی کے تلامذہ اور نہ ہی سلسلہ سے آپ کا تعلق تھا، اس ملک میں ان کے کتنے تلامذہ اور خلفا کے ہوتے ہوئے آپ نے امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت اور ان کی خدمات کو روشناس کرانے کا بیڑا اٹھایا؟

آپ نے فرمایا:

مطالعہ میرا شروع سے شغف رہا ہے۔ میرے مطالعہ کے نتیجہ میں مجھے اس بات نے پریشان کیا کہ تحریک پاکستان کی تاریخ میں ان علما نے کہ جنہون نے کھل کر پاکستان کی مخالفت کی، انگریزوں کی کاسہ لیسی کی، ان کا تذکرہ تو ہیرو کے طور پر ملتا ہے اور اعلٰی حضرت احمد رضا بریلوی کہ جن کے حوالے سے تاریخ میں انگریز دوستی یا تعلق کا کوئی حوالہ نہیں ملتا بلکہ انگریزوں کے شدید مخالف نظر آتے ہیں، ان کا سرے سے کوئی تذکرہ ہی نہیں ہے؟ میں ان سوالات کو پروفیسر ایوب قادری جو کہ لاہور میں جب بھی تشریف لاتے میرے یہاں قیام کرتے تھے، سے اکثر کیا کرتا مگر چونکہ ان کا دیوبندیت کی جانب زیادہ جھکاؤ تھا اس لیے وہ میرے اس سوال کے جواب کو گول کر جاتے جس سے مجھے اعلٰی حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں پڑھنے کی مزید جستجو ہوئی۔ یہ ۱۹۶۰ء کی بات ہے، میں نے اعلٰی حضرت کی تصانیف جو کہ اس دور میں نایاب تھیں، تلاش کر کے پڑھیں اور اس نتیجہ پر پہنچا کہ اعلٰی حضرت فاضل بریلوی حالیہ تاریخ کی ایک مظلوم شخصیت ہیں لہٰذا اس پر کام کرنے کا ارادہ کیا اور کام شروع کر دیا۔[1]

امام اہلِ سنت قدس سرہ کے عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اتباع سنت کی عجب پر کیف اور دلر باسی برکت ہے کہ جو آپ سے قریب ہوتا ہے وہ آپ ہی کا جو کر رہ جاتا ہے۔ حکیم محمد موسٰی امرتسری کی رودادِ محبت ان کی زبانی آپ سن ہی چکے۔ محترمی ڈاکٹر محمد مسعود احمد مد ظلہ ۱۹۷۰میں جب متوجہ ہوئے تو اس جہان عشق و معرفت کی زعفران زار دلکشی میں کھو کر رہ گئے، اب تک ’’جہان رضا‘‘ کی سیر ہو رہی ہے لیکن طبیعت ہے کہ سیر ہی نہیں ہوتی۔۔۔ آپ خود لکھتے ہیں:

راقم ۱۹۵۷ء سے برابر لکھ رہا ہے، ۱۹۶۹ء تک امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کے مطالعہ سے محروم رہا۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ ما سوا والد ماجد حضرت مفتی اعظم محمد مظہر اللہ الرحمہ راقم کے بیشتر اساتذہ کا تعلق امام احمد رضا کے مخالفین یا مخالفین کے مویدین سے رہا لیکن جب ۰۷۹۱ء میں مطالعہ کا آغاز کیا تو ایک اور ہی عالم نظر آیا جس نے حیران و ششدر ک دیا۔ اللہ اکبر! حقیقت کیا تھی اور کیا بتایا گیا؟ اب جوں جوں مطالعہ کرتا ہوں حیرانگی بڑھتی جاتی ہے۔[2]

جامعہ ازہر مصر کے پروفیسر ابو حازم محمد محفوظ متوجہ ہوئے تو امام احمد رضا انہیں ’’المجد والا اکبر الامام‘‘ نظر آئے۔ امام احمد رضا کے حوالے سے وہ اب تک پانچ عربی کتابیں عالم عرب کو پیش کر چکے ہیں--- مقالات اور اخباری مضامین اس کے علاوہ ہیں اور اب فکر رضا کی توسیع و اشاعت میں تو وہ مصر کے پروفیسر مسعود بن چکے ہیں۔

برطانیہ کے نو مسلم دانشور ڈاکٹر پروفیسر محمد ہارون مرحوم متوجہ ہوئے تو بیسیوں انگریزی کتابیں یورپی ممالک کو پیش کر ڈالیں جن میں
1
تصانیف رضا کے تراجم بھی ہیں اور تعارفی کتابیں بھی--- لطف کی بات یہ ہے کہ یہ سارے مرحلے انعام اور تعریف سے بے نیاز ہو کر محض رضائے الٰہی کی طلب اور خلوص دل سے طے ہوتے جا رہے ہیں اور غیب سے اسباب پیدا ہوتے جاتے ہیں--- بقول مسعود ملت:

حقیقت یہ ہے کہ امام احمد رضا پر خلوص سے کام کرنے والوں کی غیبی مدد ہوتی ہے۔ یہ راقم کا ذاتی تجربہ ہے اور یہ بارگاہ ایزدی میں امام احمد رضا کی مقبولیت کی دلیل ہے۔

حکیم اہلِ سنت علیہ الرحمہ کا رضویات کے حوالے سے سب سے عظیم کارنامہ مرکزی مجلس رضا لاہور کا قیام اور استحکام ہے۔ اسی پلیٹ فارم سے آپ نے امام اہلِ سنت سیدنا اعلٰی حضرت قدس سرہ کے افکار و علوم کی نشر و اشاعت کا وہ لازوال کارنامہ انجام دیا جو رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔ اس کی خشت اول کیسے رکھی گئی اور سب سے پہلے یوم رضا کا انعقاد کس حال اور انداز میں ہوا؟ اسے خود بانی کی زبانی سینے:

’’مجلس کے کا آغاز میں میرے پہلے ہم خیال مرحوم قاضی عبدالنبی کو کب تھے۔ میں پنجاب پبلک لائبریری اور پنجاب یونیورسٹی لائبریری جایا کرتا تھا۔ قاضی صاحب سے میری وہاں دوستی ہو گئی تھی۔ میں نے امام احمد رضا کے بارے میں مل کر لاہور میں مجلس رضا کے نام سے تنظیم قائم کی اور اس کے زیر اہتمام لاہور میں یومِ رضا سالانہ جلسہ کی داغ بیل ڈالی۔ میں نے مجلس کے کام لے لیے ابتدا میں مولانا عبدالستار خاں نیازی صاحب سے رابطہ قائم کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کام میں مولویوں کی مخلافت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ میں نے مولانا سے کہا کہ آپ گورنر ملک امیر محمد خان کالا باغ سے تو نہیں ڈرتے، مولویوں سے ڈرتے ہیں۔ یہ سست اور بیکار لوگ ہیں، ان کی پروانہ کریں۔ مجلس کے کاموں میں میری سب سے زیادہ رہنمائی مولوی ابراہیم علی چشتی علیہ الرحمہ نے کی۔ مولوی ابراہیم چشتی پنجاب مسلم لیگ کے بانی اور مولانا عبدالستار نیازی، م- ش اور حمید نظامی کے استاد تھے۔ میں نے مولوی صاحب کے ذریعہ نیازی صاحب کو مجلس کے کاموں کے لیے تیار کیا چنانچہ پہلا یوم رضا جو کہ ۱۹۸۶ء میں ہوا، اس میں مولوی ابراہیم علی چشتی، م- ش اور مولانا نیازی صاحب وغیرہ سب شریک تھے۔ غالباً مولانا غلام علی اوکاڑوی صاحب بھی مجلس کے اس پہلے جسلہ میں شریک تھے۔ اس پہلے یومِ رضا کے جلسہ سے لاہور کے عوامی اور علمی حلقوں میں اعلٰی حضرت کے بارے میں گفتگو شروع ہو گئی۔

اس پہلے جلسہ کے موقع پر مقررین کے پاس اعلٰی حضرت کے بارے میں کہنے کے لیے مواد کی کمی تھی۔ مولانا عبدالستار نیازی صاحب کو میں نے اعلٰی حضرت کی کتاب ’’حرمت سجدۂ تعظیمی‘‘ اور ’’مقال العرفا‘‘ پڑھنے کے لیے دیں۔ اعلٰی حضرت کے علمی حوالے سے مجھے علی گڑھ کے مولانا مقتدا خاں شیروانی سے خاصی مدد ملی۔ انہوں نے میری رہنمائی ا علٰی حضرت رحمۃ اللہ علیہ سے کسی تعلق کے بنا پر نہیں کی۔ وہ تو سر سید احمد خان کے ساتھیوں میں سے تھے۔ انہوں نے بڑی عمر پائی، میری ان سے پہلے سے خط و کتابت تھی غالباً پروفیسر ایوب قادری نے ان سے مجھے متعارف کروایا تھا چنانچہ مولانا شیروانی نے مجھے اعلٰی حضرت کی کتاب ’’المحجۃ الموتمنہ‘‘ بھیج دی۔ یہ کتاب ہمارے لیے بڑی مفید ثابت ہوئی۔ اس وقت تک پورے پاکستان میں یہ کتاب نہیں تھی، اس کے بعد مولانا شیروانی نے مولانا سید سلیمان اشرف صاحب کی کتاب ’’النور‘‘ بھیج دی، وہ بھی اس طرح کہ آدھی ایک بار اور آدھی دوسری بار تو ہم نے ان دو کتابوں میں سے اعلٰی حضرت کی تحریروں سے ان کے دو قومی نظریے سے اتفاق کو منظر عام پر پیش کیا۔ مولانا مقتدا خان چونکہ کانگریس کے مخالف تھے لہٰذا انہوں نے کانگریس دشمنی میں ہماری یہ مدد کی۔ ’’المحجۃ الموتمنۃ‘‘ اعلٰی حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے آخری دور کی تصنیف تھی۔ ہم نے اس کتاب کی نقلیں یہاں علمی حلقوں میں پڑھوائیں۔

یوم رضا کے اہتمام کے سلسلہ میں ابتدا میں ایک میں تھا اور ایک ظہور دین تھا۔ بعد میں ایک محمد نظامی صوفی اللہ دتہ نعت خواں ہوا کرتے تھے۔ ہم رات میں مزنگ میں بیٹھ کر لئی پکاتے تھے پھر سارے لاہور میں سائیکل پر ’’یومِ رضا‘‘ کے اشتہار لگاتے تھے۔ ایک بشیر حسین ناظم صاحب کے سالے سلیم صاحب بھی ہمارے ساتھ کام کرتے تھے۔ آج کل وہ کسی بینک کے منیجر ہیں۔ ہم لاہور کے علاوہ لاہور کے مضافات کے دیہاتوں میں بھی یومِ رضا کے اشتہار لگواتے تھے۔ میں صبح فجر کی نماز پڑھ کر دریائے راوی کے بند پر کھڑا ہوجاتا تھا اور گاؤں کی جانب کسی جانیوالے شخص کو پوسٹر دیدیتا تھا اور وہ مولانا ریاض تک پہنچا دیتا تھا، وہ اسے دوسرے گاؤں دیہات تک پہنچا دیتے تھے۔ یہ سب کام ایک ہی آدمی کرتا تھا۔ بعد میں میاں زبیر بھی ہمارے ساتھ شامل ہو گئے۔ بہادلپور کے ایک مولانا ہاشمی صاحب ہوا کرتے تھے۔ وہ بھی بڑی باقاعدگی سے جب بھی چٹھی جاتی تشریف لے آتے۔ مولانا عمر اچھروی صاحب نے بھی ایک بار یومِ رضا کے جسلہ میں شرکت کی، وہ ان کی آخری تقریب تھی۔ ایک بار میں بغی
1
ر کسی حوالے کے پیر صغت اللہ مجددی کے چچا زاد بھائی، کابل کے پیر فضل عثمان مجددی صاحب جو کہ لاہور میں ماڈل ٹاؤن میں رہتے تھے، کے یہاں چلا گیا اور انہیں یومِ رضا کے جلسہ میں بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی دعوت دی۔ انہوں نے سرسری انداز میں آنے کی ہامی بھر لی۔ میں تو سمجھا تھا کہ وہ نہیں آئیں گے مگر وہ جلسہ میں آئے۔ ان میں دینداری اس درجہ تھی کہ جب وہ جلسہ گاہ میں پہنچے تو تلاوت کلام پاک ہو رہی تھی۔ میں مسجد کے باہر کھڑا تھا، ان سے آگے چلنے کی درخواست کی، وہ فوراً مسجد میں جوتوں کے قریب ہی بیٹھ گئے۔ بعد میں جب تلاوت ختم ہو گئی تو کہا کہ اب آگے چلتے ہیں۔ تلاوت کلام کا اس درجہ احترام ان کی دینداری کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘[3]

پھر مرکزی مجلس رضا کے چمنستان سے اس بلبل بوستان رضانے عشق رضا کے وہ نغمے گائے کہ سارا چمن چہچہانے لگا۔

وہ چمن میں کیا گیا گویادبستاں کھل گیا

لوگ جوق در جوق کوچہ رضا میں کھچنے لگے، وارفتگی کشاں کشاں آستان رضا تک لے جانے لگی۔ امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کا ایک نادیدہ عاشق بد کنے والوں کو بلاتا رہا، سونے والوں کو جگاتا رہا، آنے والوں کی رہنمائی کرتا رہا۔

ہوا ہے گو تند و تیز لیکن چراغ اپنا جلا رہا ہے
وہ مرد درویش جس کو حق نے دیئے ہیں انداز خسروانہ

خوب لکھا ہے اخلاق احمد رضوی سہسرامی صاحب نے:

مرکزی مجلس رضا ہو یا سنی رائٹرز گلڈ، یومِ رضا کا شاندار اجلاس ہو یا مطب کی بارونق علمی محفل، ہر جگہ یہ بلبل بوستان رضا اس عاشق رسول ﷺکے علم و فن کے گیت گاتا رہا، اس کے عشق پر سوزکی حرارتیں تقسیم کرتا رہا۔ یہ بوڑھا مجاہد اسمبلی کے اراکین، وزراء، وکلا، جج صاحبان، پروفیسر ان، دانشوران، ادباء، محققین، علماء، طلبا ءسبھی کو بیدار کرتا رہا، عصری تقاضے یاد دلاتا رہا، گلشن رضا کی سیر کراتا، غلط فہیموں کے غبار دور کرتا رہا، روٹھوں کو مناتا رہا، بچھڑوں کو ملاتا رہا، ہر سال لاکھوں کے اخراجات سے یومِ رضا کا اہتمام، مقالات یومِ رضا کی اشاعت، اٹھارہ لاکھ سے زائد اسلامیات اور رضویات پر سہ لسانی لڑیچر کی مفت تقسیم، اس بوڑھے مجاہد کے وہ لازوال کارنامے ہیں جو رہتی دنیا تک یادگار ہیں گے۔ آج علمی حلقوں میں فکر رضا کی جو رونقیں دکھائی دیتی ہیں وہ سب حکیم اہلِ سنت علیہ الرحمہ کی جا نفشاں کا دشوں کا اثر ہیں۔[4]

مگر کو رذوقوں کو اس بلبل ہزار داستان کی نغمہ سنجی ایک آنکھ نہ بھائی، وہ روٹھے روٹھے سے رہنے لگے، بات ذرا اور آگے بڑھی تو راہ و رسم بھی ختم کر ڈالی لیکن پاکیزہ روحیں مستانہ وار جھومنے لگیں، اس کے نغموں پہ جان دینے لگیں۔ سنیے یہ داستان طلسم کشا خود اسی کی زبانی سینے:

’’میرے وہ دوست جو کہ پکے دیوبندی تھے انہوں نے تو مجھ سے کنارہ کشتی اختیار کر لی اور وہ لوگ جو تھے تو سنی بریلوی مگر انداز گول مول تھا، ان کو پکا بریلوی بننا پڑا مثلاً مولانا عبدالستار خان نیازی، مجلس کے کام کے بعد ہی پکے بریلوی بن گئے۔ ہمارے دوست مرحوم پروفیسر ایوب قادری جو کہ تھے تو ہمارے ہی مگر ان پر دیوبندیوں نے قبضہ کر رکھا تھا، ان سے بھی ہم نے بہت کچھ لکھوایا۔ ایک دو بار یومِ رضا کے موقع پر لاہور میں تھے تو جلسہ میں بھی آکر بیٹھے۔ ہم ’’انوار رضا‘‘ کے لیے مختلف اہلِ قلم سے رابطہ کر کے اعلٰی حضرت پر مقالات لکھوا کر چھاپتے تھے۔ پروفیسر ڈاکٹر مسعود احمد صاحب بھی اس طرح ہمارے رابطہ میں آئے۔ ان کے ذریعہ مسعود صاحب کی ایک کتاب جو کہ شاہ محمد غوث گوالیاری علیہ الرحمہ پر تھی، مجھ تک پہنچی۔ انوار رضا کے لیے مقالہ کے لیے جب مسعود صاحب سے خط و کتابت ہوئی تو انہوں نے ’’اعلٰی حضرت اور تحریک ترک موالات‘‘ کے عنوان سے مقالہ لکھنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ ہم نے کہا: آپ لکھیں۔ جب ان کا مسودہ مجھے ملا تو میں نے دیکھا کہ بہت ہی عمدہ تحریر تھی، ایسی اردو لکھنے والے ہمارے یہاں کم ہوں گے۔ ہم نے چھاپا اور کتاب بار بار چھپی اور اس کا خاصا اثر ہوا۔[5]

راقم کے مقالے ’’فاضل بریلوی اور ترک موالات‘‘ کا شائع ہونا تھا کہ غیظ و غضب کی لہر دوڑ گئی کیونکہ تسلیم شدہ حقائق تار عنکبوت کی طرح بکھرنے لگے۔ ایک یونیورسٹی کے شیخ الحدیث نے اپنی نجی محفل میں راقم سے بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: "میں فلاں پبلشر سے کہوں گا کہ پروفیسر مسعود احمد کی کتابیں نہ چھاپا کریں "دوسری یونیورسٹی کے صدر شعبۂ تاریخ بھی ناراض ہوگئے اور دیرینہ دوستی بھی ختم کردی۔ راقم نے عرض کیا: ’’تاریخی حقائق عقائد نہیں ہوتے، آپ میری بات غلط ثابت کر دیں، میں اپنی بات کاٹ کر آپ کی بات لکھ دوں گا، کوئی لڑائی جھگڑا نہیں ، یہ تو تحقیق و ریسرچ ہے، جو بات ثابت ہوگی وہی لکھی جائے گی‘‘پھر خدا کی شان کہ مولوی حسین احمد دیوبندی کی کتاب ’’الشہاب الثاقب‘‘ میں یہ بات مل گئی کہ جب سید صاحب صوبہ سرحد میں اپنی کار روائیوں میں مصروف تھے تو انگریز اسلحہ سے ان کی مدد کر رہے تھے، چنانچہ مقالے کے دوسرے ایڈیشن میں یہ حوالہ پیش کر دیا گیا اور معترضین خ
1
اموش ہو گئے۔ تاریخ میں غلط بیانی یا دھونس سے کسی بات کو منوانے کی گنجائش نہیں۔لیڈن یونیورسٹی ہالینڈ کے کہنہ سال مستشرق پروفیسر ڈاکٹر جے ایم ایس بلیان نے راقم کے اس موقف کی تائید کی کہ سید صاحب نے انگریزوں کے خلاف کوئی جدوجہد نہیں کی۔ حقائق و شواہد کی روشنی میں ہر محقق اسی نتیجے پر پہنچے گا ------ تو عرض یہ کر رہا تھا کہ راقم کا مقالہ ’’فاضل بریلوی اور ترک موالات‘‘ شائع ہوا تو امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کے مخالفین نے ان پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا پھر جب راقم کی کتاب ’’فاضل بریلوی علمائے حجاز کی نظر میں‘‘ ۱۹۷۳ء میں شائع ہوئی اور امام احمد رضا کی عرب و عجم میں ہمہ گیر مقبولیت کے جلوے دکھائے گئے تو ماہر القادری صاحب نے اپنے رسالے ’’فاران‘‘ (کراچی) میں ایک طویل مضمون لکھ کر مخالفین و معاندین کو خبر دار کیا کہ اگر دانشوروں نے امام احمد رضا کی عظمت و جلالت کے جلوے دیکھ لیے تو پھر ان کی نظروں میں کوئی نہیں سمائے گا۔ یہی کتاب جب مسلم یونیورسٹی علی گڑھ بھیجی گئی تو وہاں شعبہ سنی دینیات کے صدر پروفیسر ڈاکٹر محمد رضوان اللہ مرحوم نے اپنے ساتھی پروفیسروں کو دکھائی۔ انہوں نے پڑھ کر بیک زبان کہا کہ اس سے قبل ہم سخت غلط فہمی میں مبتلا تھے۔ بیس پچیس پروفیسروں نے یہ بات کہی۔ پھر کیا ہوا؟ یہ کتاب ڈاکٹر رضوان صاحب کی میز پر رکھی ہوئی تھی، وہ کسی کام سے باہر گئے، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کے کسی مخالف نے پار کر لی، واپس آئے تو کتاب میز پر نہ تھی۔ یہ بات مرحوم نے راقم کو خود بتائی۔ اس قسم کی اوچھی حرکتوں سے حق اور سچائی کو چھپایا نہیں جاسکتا۔ جس کی قسمت میں بلند ہونا ہے وہ بلند ہو کر رہتا ہے۔[6]

ان تمام کبیدہ خاطریوں اور ناخوشگواریوں کے باوجود اہلِ سنت کا یہ حکیم اور عاشق مصطفٰیﷺ، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کا نادیدہ عاشق، اللہ کے اس محبوب بندے کے گن گا تا رہا، اس کے عشق رسولﷺ کی سرشاریاں عام کرتا رہا یہاں تک کہ مندی مندی آنکھیں کھلنے لگیں، تھکی تھکی نگاہیں اٹھنے لگیں، دبی دبی آرزوئیں پھڑکنے لگیں، کھنچی کھنچی گرد نیں خم ہونےلگیں، جلے جلے دل ٹھنڈے ہونے لگے، رندھے رندھے گلے کھلنے لگے اور پھر فکر رضا کا ایک آوازہ سا بلند ہوا اور سارا جہان گنگنانے لگا

اے رؔضا جان عنا دل ترے نغموں کے نثار
بلبل باغ مدینہ تیرا کہنا کیا ہے!

ہاں! اے حکیم اہلِ سنت! تو طور رضا کا کلیم تھا، تو فکر رضا کا ندیم تھا، تو بہار رضا کی نسیم تھا، تو نے فضاؤں میں عشق رضا کی خوشبوئیں بکھیر دیں، تو نے دلوں میں نغمات رضا کی ترنگیں بھر دیں، تو نے کانوں میں رس گھول دئیے- زندہ باد! اے محبت رضا کے امیں! پائندہ باد! اے جہان رضا کے مکیں! تیری عظمتوں کو سلام، تیری الفتوں کو سلام، تیری امانتوں کو سلام، تیری دیانتوں کو سلام

اے حکیم اہلِ سنت! موسٰی طورِ رضا
تیری بزمِ علم تھی یا جلوۂ نورِ رضا

وصال مبارک:

۸ شعبان العظم ۱۴۲۰ھ مطابق ۱۷ نومبر ۱۹۹۹ء کو آپ کے وصال کی بات آپ کے اہل خانہ بیان کرتے ہیں کہ آپ نے روز وصال صبح قہوہ اپنے ہاتھ سے تیار فرمایا اور اپنی زوجہ محترمہ کو بھی دیا۔ مطب پر آئے، تھوڑی سی قے آئی اور درِ دولت تشریف لے آئے۔ فرمایا جسم میں تھوڑی سا درد ہو رہا ہے۔ گھر والے دبانے لگے پھر کوئی معمولی سی دوا کھائی۔ قہوہ الائچی، سبز چائے اور دار چینی پیا۔ پھر کچھ وقفہ کے بعد دو مرتبہ کہا ’’اللہ ہو‘ اللہ ہو‘‘ اور تقریباً بوقت پونے بارہ بجے دوپہر اللہ رب ذوالجلال اور رسول اکرمﷺکی بارگاہ میں جا پہنچے۔

اک شخص سارے شہر کو دیران کر گیا!

احقر(سید محمد سرفراز قادری ایم اے ،چودہ سال تک حکیم صاحب کے رفیق کار رہے) مستری رشید کے ساتھ قبرستان پہنچا۔ جب آپ کے اس مدفن کی قبر کشائی کی جسے آپ نے خود تعمیر کرایا تھا تو قارئین یقین کیجئے کہ یہ جگہ ۵ سال قبل تعمیر کے بعد بند کر دی گئی تھی۔ اندر کوئی کیڑا مکوڑا یا جالا وغیرہ نظر نہ آیا۔ ایک خوشبو تھی جو ہر طرف بکھر گئی۔ خوشبو ہی خوشبو۔ آپ فنافی اللہ کے درجہ پر فائز تھے۔ آپ ہمیشہ صابر و شاکر تھے۔ آپ کا سب کچھ اللہ کے لیے ہی تھا تو پھر ایسا کیوں نہ ہوتا ۔
2
غسل مبارک اور نمازِ جنازہ:
غسل کے انتظامات میں محترم فاروق شاہ صاحب نے خصوصی دلچسپی لی اور رحمت علی قادری صاحب نے غسل دیا۔ نماز جنازہ کا حال فاروق مصطفوی صاحب کی زبانی سنئے۔

’’ عاشق حبیب ﷺ ۔ مداح غوث و رضا محب داتا و خواجہ‘ مقبول حضرت میاں میر، (رحمۃ اللہ علیہم اجمعین) خلیفہ قطب مدینہ حکیم اہلِ سنت کا آخری دیدار بڑا دل کشا و دل افروز تھا ۔ آپ کا چہرہ مبارک بعد وصال ظاہری زندگی سے زیادہ تابندہ تھا ۔ مسکراہٹ اور تازگی عیاں تھی اور نیاز مندان حکیم اہلِ سنت ان کا کھلا کھلا چہرہ دیکھ کر ورطہ حیرت میں پڑ گئے۔ آخری دیدار کے دوران کلمہ طیبہ کا ورد جاری رہا۔ نماز جنازہ آپ کے دیرینہ دوست حضرت پیر سید محمد حسن گیلانی نوری نے پڑھائی اور نماز جنازہ میں اپنی بخشش اور خدا کا فضل چاہنے والوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ علماء و مشائخ‘ ڈاکٹرز‘ ججز‘ وکلاء‘ صحافی اور ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل تھے ۔

’’ احاطہ مقابر چشتیاں‘‘ قبرستان میاں میررحمۃ اللہ علیہ رات گیارہ بجے سسکیوں‘ محبت بھری آہوں‘ پر خلوص آنسوؤں اور کلمہ شہادت کی صداؤں میں حکیم اہلِ سنت کا جسد خاکی اپنی والدہ محترمہ کے پہلو میں اپنی ہی زیر نگرانی تیار کردہ قبر میں اتار دیا گیا۔ وصیت کے مطابق تمام تبرکات پیر و مرشد‘ آثار بزرگان‘ اجازت نامے اور اسناد صلحاء قبر میں محفوظ کر دی گئیں۔ تلاوت قرآن پاک ہوتی رہی‘ مزار اقدس پر مٹی ڈالتے رہے۔ تلاوت کے بعد صاجزادہ میاں زبیر احمد صاحب کی تحریک پر جس کی ابتدا انہوں نے خود کی‘ پانچ مرتبہ اذان دی گئی۔ دو نعتیں اعلٰی حضرت امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کی پڑھی گئیں ۔

(۱) ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیئے ہیں!

(۲) نعمتیں باتٹا جس سمت وہ ذیشان گیا!

جس وقت مندرجہ ذیل شعر پڑھا گیا تو لوگوں کے ذہن میں اس کی عملی تفسیر قبلہ پیر صاحب کی صورت میں سامنے آئی ؎

انہیں جانا انہیں مانا نہ رکھا غیر سے کام
للہ الحمد میں دنیا سے مسلمان گیا

بارگاہِ رسالت میں استغاثے کے بعد اویس خاں صاحب نے درود تاج اور قاضی صلاح الدین صاحب ضیائی نے ’’شجرہ قادریہ رضویہ ضیائیہ‘‘ پڑھا۔ آخر میں درود و سلام کے بعد دعا زبدۃ الحکماء حضرت سید امین الدین قادری خوشحالی نے کرائی اور یوں حکیم اہلِ سنت کا سفر آخرت جو صبح بارہ بجے سے قبل شروع ہوا تھا‘ بارہ بجے رات سے قبل اختتام پذیر ہوا۔

آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے!

ایک خواب:
شب وصال میری زوجہ جو حضرت سے غایت درجہ عقیدت اور ادب رکھتی ہے‘ نے خواب دیکھا کہ آپ ہمارے غریب خانہ پر تشریف لائے ہیں۔ گھر شیشے کا بن گیا ہے اور بہت بڑا ہجوم آپ کے پیچھے آرہا ہے۔ اندر دولت خانہ پر ہیں اور گھر کے عقب میں ایک دروازہ کھل گیا ہے جس کے باہر بہت خوبصورت باغ ہے۔ قبلہ پیر صاحب کی زوجہ محترمہ (اور ہماری ماں) اللہ تعالٰی انہیں صحت اور عمر عطا فرمائے‘ دریافت کرتی ہیں اب آپ نے ادھر دروازہ بنا لیا ہے۔ فرمایا ’’ہاں‘ اس لیے کہ آنے جانے میں آسانی رہے‘‘۔

علامہ اقبال نے کیا خوب کہا ہے!

؎ الفاظ و معافی میں تفاوت نہیں لیکن
ملاں کی اذاں اور ہے مجاہد کی اذاں اور
پرواز ہے دونوں کی اسی ایک جہاں میں
کر گسکا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور

ماخذ و مراجع:
(ماہنامہ جہان رضا (لاہور) اکتوبر، نومبر ۲۰۰۰ء / شعبان، رمضان۱۴۲۱ھ ۔ جلد ۹ ۔ شمارہ ۔ ۹۰) کے مختلف مضامین سے اقتباس کیا گیا ہے ۔

حواشی:
[1]۔ ماہنامہ جہان رضا، مئی ۳۹۹۱ء، ص ۱۴، ۱۵۔
[2]۔ گناہ بے گناہی، ص ۵ ۔
[3]۔ ماہنامہ جہان رضا، مئی ۳۹۹۱ء، ص ۱۵، ۱۶ اور ۱۸۔
[4]۔ جہان رضا، ۰۰۰۲ء ۔
[5]۔
[6]۔ آئینہ رضویات، حصہ دوم، کراچی، ص ۲۹۰ تا ۲۹۲ ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hakeem-muhammad-moosa-amritsari-chishti-nizami
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
خلیفۂ اعلیٰ حضرت، حضرت مولانا رحم الٰہی منگلوری رحمۃ اللہ علیہ

اسمِ گرامی:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کا اسمِ گرامی مولانا رحم الٰہی منگلوری تھا ۔

تحصیلِ علم:
آپ رحمۃ اللہ علیہ نے مدرسہ عالیہ رامپور میں درسِ نظامیہ کی تحصیل کی ۔ مولانا عبد العزیز امیٹھوی سے خصوصی تلمذ تھا ۔

خلافت:
آپ رحمۃ اللہ علیہ نے خلافت واجازت اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ سے حاصل کی ۔

سیرت و خصائص:
مولانا رحم الٰہی منگلوری علیہ الرحمۃ مایہ ناز عالم، بلند پایہ مفتی، پیکر علم وعمل،زاہد وعابد جواد اور ہردلعزیز شخص تھے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کو معقولات میں دسترس حاصل تھی۔ تدریس کا انداز خوب تھا۔مدرسہ منظر الاسلام بریلی، مدرسہ خانقاہ کبیریہ،مدرسہ الاسلامیہ اندر کوٹ میرٹھ وغیرہ میں بطورِ صدرِ مدرس رہے۔مفتیٔ اعظم ہند حضرت مولانا مصطفیٰ رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے آپ سے خصوصی درس لیا۔آخر عمر میں ضعفِ بینائی کے سبب وطن ہی میں سکونت اختیار فرمائی۔احباب وتلامذہ کی محبت نے جوش مارا تو بریلی تشریف لے آئے ۔

تاریخِ وصال:
مولانا رحم الٰہی منگلوری علیہ الرحمۃ کا وصال آخر صفر 1363 ھ کو ہوا ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرۂ خلفاء اعلیٰ حضرت ـ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-reham-elahi-muzaffar-nagri-manglori
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت شاہ جہانگیر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

وصال:
28 صفر المظفر

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-jahangeer
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ تعالٰی عنہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی: حسن ۔ کنیت: ابو محمد ۔القاب: تقی، نقی، زکی، سیّد شباب اہل الجنّۃ، سبطِ رسول، مجتبیٰ، جواد، کریم، شبیہ الرسول، ریحانۃ النبی ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
امام حسن مجتبیٰ بن علی المرتضیٰ بن ابی طالب بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبدِ مناف اِلٰٓی اٰخِرِہٖ ۔

والد: سیّدالاولیاء رضی اللہ عنہ ۔
والدہ: سیّدۃ النسآء رضی الله عنہا
نانا: سیّد الانبیاء ﷺ ہیں ۔

تاریخِ ولادت:
بروز منگل 15 رمضان المبارک 3ھ، مطابق فروری 625ء کو مدینۂ منوّرہ میں پیدا ہوئے ۔ سرورِ کونین ﷺ کو خوش خبری دی گئی ۔ آپ فوراً تشریف لائے، داہنے کان میں اَذان، اور بائیں کان میں اقامت کہی، گھٹی میں لعابِ دہن عطا کیا ۔ یہی وجہ ہے کہ شہزادہ جنّت کے نوجوانوں کا سردار ہوا ۔

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالٰی عنھما فرمایا کرتے تھے:

’’واللہ ما قامت النسآء عن مثلِ الحسن بن علی۔‘‘ اللہ کی قسم کسی عورت نے حسن بن علی کی مثل بچہ نہیں جنا ۔ (البدایۃ والنہایۃ)

سیرت و خصائص:
سیّد الاسخیا، امام الاولیا، صاحبِ جود و سخا، نورِ نظرِ سیّدۃ النسا، جگر گوشۂ علی المرتضیٰ، راکبِ دوشِ مصطفیٰ ﷺ، امام المسلمین حضرت امام حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔

آپ بڑے حلیم، سلیم، رحیم، کریم، متواضع، منکسر، صابر، متوکل اور با وقار تھے، زہد و مجاہدۂ نفس میں مشغول رہتے تھے۔ آپ سرورِ عالم ﷺ کے فرمان کے مطابق، آخری خلیفۂ راشد ہیں ۔

حضرت امام حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ سر سے سینے تک رسول اللہ ﷺ کے بہت زیادہ مشابہ تھے، اور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ سینے سے پاؤں مبارک تک بہت زیادہ مشابہ تھے۔

حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں: سیّدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا اور امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے بڑھ کر رسول اللہ ﷺ سے کوئی بھی مشابہ نہ تھا ۔

آپ نے پچیس حج پیدل کیے حالاں کہ اعلیٰ نسل کے اونٹ اور گھوڑے دروازے پر موجود ہوتے تھے ۔

بہت سخی تھے، کئی مرتبہ اپنے گھر کا سارا سامان اللہ راہ میں تصدق کر دیا ۔یتیموں، مسکینوں ، اور بیواؤں کی کفالت نصب العین تھا ۔

سیّدنا صدّیقِ اکبر کی امام حسن (رضی اللہ تعالٰی عنہما) سے محبّت: حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں: میں نے حضرت ابو بکر صدّیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کو دیکھا کہ آپ نے امام حسن کو اٹھایا ہوا ہے۔

وھو یقول بابی، شبیہ بالنبی لیس شبیہ بعلی وعلی یضحک ۔ ترجمہ: آپ فرما رہے تھے ۔ میرے ماں باپ قربان ۔ (اے حسن!) تم رسولِ خدا کے مشابہ ہو، اور علی کے مشابہ نہیں، اور یہ (سن کر ) حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ ہنس پڑے (صحیح البخاری، فی مناقب ِ حسن وحسین:187)۔

عَنْ أَبِي بَكْرٍ رَّضِيَ اللہُ عَنْهُ قَالَ: اُرْقُبُوْا مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَهْلِ بَيْتِهٖ۔ ترجمہ: حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ سرورِ عالم ﷺ کی خوشنودی آپ کی اہلِ بیت کی محبّت میں ہے ۔ (اَیْضًا)

سیّدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کی امام حسن سے محبّت: حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ حضرات حسنین کریمین کا بے حد احترام کرتے تھے ۔ اُن کا وظیفہ تمام صحابۂ کرام کے فرزندوں سے زیادہ مقرر کیا تھا ۔ بدری صحابہ کے فرزندوں کا وظیفہ دو ہزار تھا، مگر حسنین کریمین کا وظیفہ پانچ ہزار تھا ۔ (مناقبِ اہلِ بیت ص:406)

ایک مرتبہ سیّدۃ النساء حضرات حسنین کریمین کو سرورِ عالم ﷺ کے پاس لے کر آئیں، اور عرض کیا: یارسول اللہ ﷺ! میرے ان دونوں بچوں کو کچھ عطا فرمائیں ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اما الحسین فلہ ھیبتی وسوددی، و اما الحسین فلہ جرأتی وجودی ۔ یعنی حسن کو ہیبت اور سرداری عطا کی ہے، اور حسین کو شجاعت اور فیاضی عطا کی ہے (مناقبِ اہلِ بیت ص:404) ۔

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
من احبنی فلیحبہ، فلیبلغ الشاہد منکم الغائب (ذخائرالعقبٰی : 123)۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: من سرہ ان ینظر الٰی سیّد شباب اہل الجنۃ ،فلینظر الی الحسن۔(الصواعق المحرقۃ ص:192)

حضرت امام حسن کی خلافت:
حضرت مولا علی کی شہادت کے بعد رمضان المبارک 40ھ میں مسلمانوں نے حضرت امام حسن کے دستِ حق پرست پر بیعت کی ۔ جب یہ خبر والیِ شام تک پہنچی انھوں نے لشکر کشی کا ارادہ کیا اور ساٹھ ہزار افراد کا لشکر لے کر عراق فتح کرنے کے لیے نکلے، اور ادھر حضرت امام حسن کو جب یہ خبر پہنچی کہ شام سے ایک لشکر آ رہا ہے، تو آپ دفاع کے لیے ایک لشکر لے کر روانہ ہوئے ،اور مقامِ مسقف، مدائن میں لشکر ٹھہر گیا، فوج نے یہ گمان کر لیا تھا کہ آپ جنگ کا ارادہ نہیں رکھتے ۔ جب آپ سے اس امر کی تصدیق کی گئی تو آپ نے فرمایا: ’’مجھے مسلمانوں کا اتحاد، اور ان کی خوش حالی، اور ان کی جان و اموال، اور ان اکی آپس میں صلح پسندی بہت محبوب ہے۔‘‘
2👍1
آپ کے ان ارشادات سے آپ کی فوج میں اختلافات ہو گئے ۔ آپ بہت باوقار اور نہایت ہی برد بار شخصیت کے مالک تھے ۔ جذباتیت و انانیت نام کی کوئی چیز آپ کے پاس بھٹکی بھی نہ تھی ۔

آپ نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے صلح کر لی اور خلافت سے دست بردار ہو گئے ۔

ہزاروں مسلمانوں کی قیمتی جانیں بچالیں، اور اپنے نانا جان کے فرمانِ عالیشان کے مُصدّق ہوئے ۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: انّ ابنی ھٰذا سیّد ولعلّ اللہ ان یصلح بہٖ بین فئتین عظیمتین من المسلمین (بخاری ۔ حدیث: 2704) ترجمہ: یہ میرا فرزند سیّد ہے، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے دوبڑے گروہوں کے مابین صلح کرا دے گا۔ جب آپ خلافت سے دست بردار ہو گئے تو آپ کے بعض (جذباتی) ساتھی کہنے لگے: ’’یا عار المسلمین!‘‘۔ آپ نے بر جستہ جواب دیا: ’’العارخیرمن النار‘‘۔

ان جملوں میں آج امّتِ مسلمہ کے قائدین کے لیے بہت بڑا سبق ہے ۔ اقتدار کی جنگ میں لاکھوں مسلمانوں کا خون ضائع ہو رہا ہے ۔ عدمِ اتفاق کی وجہ سے آج امّتِ مسلمہ زبوں حالی کا شکار ہے ۔ شاطر دشمن انتشار کے ذریعے امّتِ مسلمہ کو تباہ و برباد کر رہا ہے، اور مسلم حکمران عیاشیوں میں مصروف ہیں ۔ کاش! یہ حکمران حضرت امام حسن کی سیرتِ مبارکہ پر عمل کرتے ہوئے اتحاد و امن کے داعی بن جائیں، اور ہمیشہ کے لیے امر ہو جائیں ۔

تاریخِ شہادت:
شہادت کے سن اور تاریخ میں بڑا اختلاف ہے ۔ صحیح قول کے مطابق 28؍ صفر المظفر 49ھ ہے ۔

آپ کی شہادت زہر خورانی سے ہوئی ۔ زہر کس نے دیا تاریخ اس بارے میں خاموش ہے ۔ باقی سب قیاس آرائیاں اور روافض کی ملمع سازیاں ہیں ۔

مزار شریف:
آپ کی قبرِ انور جنّت البقیع میں ہے ۔

ماخذ و مراجع:
البدایہ والنہایہ ۔ الصواعق المحرقہ ۔
مناقبِ اہلِ بیت ۔ آلِ رسول ۔ بارہ امام

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-hassan-mujtaba
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﺎﻡ ﺭﺑّﺎﻧﯽ ﻣﺠﺪﺩ ﺍﻟﻒ ﺛﺎﻧﯽ ﺷﯿﺦ ﺍﺣﻤﺪ ﺳﺮﮨﻨﺪﯼ ﻓﺎﺭﻭﻗﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺮحمہ

ترتیب و پیش کش:
ڈاکٹر محمد حسین مشاہد رضوی

ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﺎﻡ ﺭﺑّﺎﻧﯽ ﻣﺠﺪﺩ ﺍﻟﻒ ﺛﺎﻧﯽ ﺷﯿﺦ ﺍﺣﻤﺪ ﺳﺮﮨﻨﺪﯼ ﻓﺎﺭﻭﻗﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺮﺣﻤۃ ﮐﯽ ﻭﻻﺩﺕ ١٤ ﺷﻮﺍﻝ ٩٧١ ﮪ / ١٥٦٣ﺀ ، ﺟﻼﻝ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺍﮐﺒﺮ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﮯ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺳﺮﮨﻨﺪ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺋﯽ۔ ﻋﻠﻮﻡ ﻋﻘﻠﯿﮧ ﻭ ﻧﻘﻠﯿﮧ ﻣﯿﮟ ﺳﻨﺪ ﻓﺮﺍﻍ ٩٨٨ﮪ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯽ ١٠٠٧ﮪ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪ ِ ﺑﺰﺭﮔﻮﺍﺭ ﺷﯿﺦ ﻋﺒﺪﺍﻻﺣﺪ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺮﺣﻤۃ ﮐﺎ ﻭﺻﺎﻝ ﮨﻮﺍ ۔ ﺳﻠﺴﻠﮧ ﻋﺎﻟﯿﮧ ﻗﺎﺩﺭﯾﮧ ﻣﯿﮟ ﺣﻀﺮﺕ ﺷﯿﺦ ﮐﻤﺎﻝ ﮐﯿﺘﮭﻠﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺮﺣﻤۃ ‏( ﻭﺻﺎﻝ ٩٨١ﮪ / ١٥٧٣ﺀ ‏) ﺳﮯ ﻧﺴﺒﺖ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯽ ۔ ١٠٠٨ﮪ / ١٥٩٩ﺀ ﻣﯿﮟ ﺩﮨﻠﯽ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻻ ﮐﺮ ، ﺯﺑﺪۃ ﺍﻟﻌﺎﺭﻓﯿﻦ ﺣﻀﺮﺕ ﺧﻮﺍﺟﮧ ﺑﺎﻗﯽ ﺑﺎﻟﻠﮧ ﻗﺪﺱ ﺳﺮﮦ، ﺳﮯ ﺳﻠﺴﻠﮧ ﻋﺎﻟﯿﮧ ﻧﻘﺸﺒﻨﺪﯾﮧ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﻌﺖ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﮐﻤﺎﻝ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﯽ ﺳﺎﻝ ﺣﻀﺮﺕ ﺷﺎﮦ ﺳﮑﻨﺪﺭ ﮐﯿﺘﮭﻠﯽ ‏( ﻧﺒﯿﺮﮦ ﺷﯿﺦ ﮐﻤﺎﻝ ﮐﯿﺘﮭﻠﯽ ‏) ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﻏﻮﺙِ ﺍﻋﻈﻢ ﺷﯿﺦ ﻋﺒﺪﺍﻟﻘﺎﺩﺭ ﺟﯿﻼﻧﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ، ‏( ﻑ ۔٥٦١ﮪ / ١١٦٤ﺀ ‏) ﮐﺎ ﺧﺮﻗﮧ ﺧﻼﻓﺖ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺠﺪﺩ ﮐﻮ ﻋﻄﺎ ﮐﯿﺎ۔ ﻋﮩﺪ ﺍﮐﺒﺮﯼ ﺍﻭﺭ ﺟﮩﺎﻧﮕﯿﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﻨﺪِ ﺍﻗﺘﺪﺍﺭ ﺳﮯ ﻟﮯ ﮐﺮ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﮯ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﭘﺴﻤﺎﻧﺪﮦ ﻃﺒﻘﮯ ﺗﮏ ﺍﻭﺭ ﺳﺮﯼ ﻟﻨﮑﺎ ﮐﮯ ﺳﺎﺣﻞ ﺳﮯ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺁﺳﺎﻡ ﺗﮏ ، ﺑﺤﯿﺮﮦ ﻋﺮﺏ ﮐﮯ ﺟﻨﻮﺑﯽ ﻣﺴﻠﻢ ﻋﻼﻗﻮﮞ ﺳﮯ ﻟﮯ ﮐﺮ ﭼﯿﻦ ﮐﯽ ﺳﺮﺣﺪﻭﮞ ﺗﮏ، ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺠﺪﺩ ﺍﻟﻒ ﺛﺎﻧﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺮﺣﻤﮧ ﻧﮯ ﺟﻮ ﺭﺷﺪ ﻭ ﮨﺪﺍﯾﺖ ﮐﯽ ﺷﻤﻊ ﻓﺮﻭﺯﺍﮞ ﮐﯽ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻣﺘﺬﮐﺮﮦ ﻋﻼﻗﻮﮞ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﭘﻮﺭﺍ ﻋﺎﻟﻢِ ﺍﺳﻼﻡ ﻣﻨﻮﺭ ﮨﻮﺍ۔ ﺳﻠﻄﻨﺖِ ﻣﻐﻠﯿﮧ ﮐﮯ ﻣﻘﺘﺪﺭ ﺍﯾﻮﺍﻧﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻋﺎﻡ ﻣﺴﻠﻢ ﮔﮭﺮﺍﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺗﺠﺪﯾﺪﯼ ﮐﺎﺭﻧﺎﻣﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﻋﺚ ﻻﮐﮭﻮﮞ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﺍﻭﺭ ﺭﺍﮦ ﯾﺎﺏ ﮨﻮﺋﮯ ۔ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺑﮯ ﺑﺎﮐﯽ، ﺑﮯ ﺧﻮﻓﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﻏﺮﺿﯽ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻗﺮﻭﻥِ ﺍﻭﻟﯽٰ ﻭ ﺛﺎﻧﯿﮧ ﮐﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﻭ ﺗﺎﺑﻌﯿﻦ ﮐﯽ ﯾﺎﺩ ﺗﺎﺯﮦ ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﻃﻮﯾﻞ ﻋﺮﺻﮧ ﺯﻧﺪﺍﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﯿﺮ ‏( ﺟﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﻧﻈﺮ ﺑﻨﺪ ‏) ﺭﮨﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭘﺎﺋﮯ ﺛﺒﺎﺕ ﻣﺘﺰﻟﺰﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺋﮯ۔ ﺁﭖ ﮐﺎ ﻭﺻﺎﻝ ﭘﺮ ﻣﻼﻝ ٦٣ ﺑﺮﺱ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﺮﻭﺯ ﺩﻭﺷﻨﺒﮧ ‏( ﭘﯿﺮ ‏) ٢٩ ﺻﻔﺮ ﺍﻟﻤﻈﻔﺮ ١٠٣٤ﮪ / ١٦٢٤ﺀ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺍ۔ ‏( ﮐﭽﮫ ﮐﺘﺐ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ 28 ﺻﻔﺮ ﺍﻟﻤﻈﻔﺮ ﮐﻮ ﺁﭖ ﮐﺎ ﻭﺻﺎﻝ ﮨﻮﺍ ‏) ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺻﺎﻝ ﮐﯽ ﺧﺒﺮ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺩﺱ ﺑﺮﺱ ﻗﺒﻞ ﮨﯽ ﺩﮮ ﺩﯼ ﺗﮭﯽ، ﺟﻮﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﯽ ﮐﺮﺍﻣﺖ ﮨﮯ۔ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﻣﯿﮟ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺤﻘﻖ ﻋﻠﯽ ﺍﻻﻃﻼﻕ ﺷﯿﺦ ﻋﺒﺪﺍﻟﺤﻖ ﻣﺤﺪﺙ ﺩﮨﻠﻮﯼ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺮﺣﻤۃ ، ﭘﯿﺮ ﻃﺮﯾﻘﺖ ﺣﻀﺮﺕ ﺧﻮﺍﺟﮧ ﺣﺴﺎﻡ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﻧﻘﺸﺒﻨﺪﯼ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺮﺣﻤۃ ﺍﻭﺭ ﺍﻣﺎﻡ ﺍﻟﻤﺘﮑﻠﻤﯿﻦ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻼﻣﮧ ﻋﺒﺪﺍﻟﺤﮑﯿﻢ ﺳﯿﺎﻟﮑﻮﭨﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺮﺣﻤۃ ﺗﮭﮯ۔

ﺷﺎﻋﺮِ ﻣﺸﺮﻕ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﻣﺤﻤﺪ ﺍﻗﺒﺎﻝ ﮐﺎ ﻧﺬﺭﺍﻧﮧ ﻋﻘﯿﺪﺕ: ؎
ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﺍ ﻣﯿﮟ ﺷﯿﺦ ﻣﺠﺪﺩ ﮐﯽ ﻟﺤﺪ ﭘﺮ
ﻭﮦ ﺧﺎﮎ ﮐﮧ ﮨﮯ ﺯﯾﺮ ﻓﻠﮏ ﻣﻄﻠﻊِ ﺍﻧﻮﺍﺭ
ﺍﺱ ﺧﺎﮎ ﮐﮯ ﺫﺭﻭﮞ ﺳﮯ ﮨﯿﮟ ﺷﺮﻣﻨﺪﮦ ﺳﺘﺎﺭﮮ
ﺍﺱ ﺧﺎﮎ ﻣﯿﮟ ﭘﻮﺷﯿﺪﮦ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺻﺎﺣﺐِ ﺍﺳﺮﺍﺭ
ﮔﺮﺩﻥ ﻧﮧ ﺟﮭﮑﯽ ﺟﺲ ﮐﯽ ﺟﮩﺎﻧﮕﯿﺮ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ
ﺟﺲ ﮐﮯ ﻧﻔﺲِ ﮔﺮﻡ ﺳﮯ ﮨﮯ ﮔﺮﻣﯿﺊ ﺍﺣﺮﺍﺭ
ﻭﮦ ﮨﻨﺪ ﻣﯿﮟ ﺳﺮﻣﺎﯾﮧ ﻣﻠّﺖ ﮐﺎ ﻧﮕﮩﺒﺎﮞ
ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺑﺮ ﻭﻗﺖ ﮐﯿﺎ ﺟﺲ ﮐﻮ ﺧﺒﺮﺩﺍﺭ

ﻋﻘﺎﺋﺪ ﻭ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﺳﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﺍﺭﺷﺎﺩﺍﺕ ﺍﮨﻠﺴﻨّﺖ ﮨﯽ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ :
ﻧﺠﺎﺕ ﺁﺧﺮﺕ ﮐﺎ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﻮﻧﺎ ﺻﺮﻑ ﺍﺳﯽ ﭘﺮ ﻣﻮﻗﻮﻑ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺗﻤﺎﻡ ﺍﻓﻌﺎﻝ ﻭ ﺍﻗﻮﺍﻝ ﻭ ﺍﺻﻮﻝ ﻭ ﻓﺮﻭﻉ ﻣﯿﮟ ﺍﮨﻠﺴﻨّﺖ ﻭ ﺟﻤﺎﻋﺖ ‏( ﺍﮐﺜﺮ ﮨﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ‏) ﮐﺎ ﺍﺗﺒﺎﻉ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺻﺮﻑ ﯾﮩﯽ ﻓﺮﻗﮧ ﺟﻨﺘﯽ ﮨﮯ ﺍﮨﻠﺴﻨّﺖ ﻭ ﺟﻤﺎﻋﺖ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﺟﺲ ﻗﺪﺭ ﻓﺮﻗﮯ ﮨﯿﮟ ﺳﺐ ﺟﮩﻨﻤﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﺁﺝ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﺎﻧﮯ ﯾﺎ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﻞ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﮐﮯ ﺩﻥ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﻮ ﺟﺎﻥ ﻟﮯ ﮔﺎ ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﮐﺎ ﺟﺎﻧﻨﺎ ﮐﭽﮫ ﻧﻔﻊ ﻧﮧ ﺩﮮ ﮔﺎ۔ ‏( ﻣﮑﺘﻮﺏ ٦٩ ﺟﻠﺪ ﺍﻭّﻝ ﻣﻄﺒﻊ ﻧﻮ ﻟﮑﺸﻮﺭ ﻟﮑﮭﻨﺆ ٨٦ )

ﺣﺒﯿﺐ ﺧﺪﺍ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻣﻘﺼﻮﺩ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ :
ﺣﺪﯾﺚ ﻗﺪﺳﯽ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺣﻀﻮﺭ ﺳﯿﺪﻧﺎ ﻣﺤﻤﺪ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺳﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎَﻟﻠّٰﮭُﻢَّ ﺍَﻧْﺖَ ﻭَﻣَﺎ ﺍَﻧَﺎ ﻭَﻣَﺎ ﺳﻮﺍﮎ ﺗَﺮَﮐْﺖُ ﻻَﺟَﻠِﮏَ ﯾﻌﻨﯽ ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻮﮨﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺮﮮ ﺳﻮﺍ ﺟﻮ ﮐﭽﮫ ﮨﮯ ﺳﺐ ﮐﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﻟﺌﮯ ﭼﮭﻮﮌﺩﯾﺎﺍﻟﻠﮧ ﺗﺒﺎﺭﮎ ﻭ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﺳﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎﯾَﺎ ﻣُﺤَﻤَّﺪ ﺍَﻧَﺎ ﻭَ ﺍَﻧْﺖَ ﻭَﻣَﺎ ﺳِﻮَﺍﮎَ ﺧَﻠَﻘْﺖُ ﻻﺟَﻠِﮏَ ﯾﻌﻨﯽ ﺍﮮ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺗﻮ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺮﮮ ﺳﻮﺍ ﺟﻮ ﮐﭽﮫ ﮨﮯ ﺳﺐ ﮐﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﮨﯽ ﻟﺌﮯ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﯿﺎ ۔ ‏( ﻣﮑﺘﻮﺏ ٨ ﺟﻠﺪ ﺩﻭﻡ ﺻﻔﺤﮧ ١٨ )

ﻣﻌﺮﻓﺖ ﺭﺏّ ﺍﻟﻌﺎﻟﻤﯿﻦ ﮐﺎ ﺳﺒﺐ ﺣﻘﯿﻘﯽ :
ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﺰﻭﺟﻞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﺳﮯ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ۔ﻟَﻮْ ﻻﮎَ ﻟَﻤَﺎ ﺧَﻠَﻘْﺖُ ﺍﻻﻓْﻼﮎ ﯾﻌﻨﯽ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﻧﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﻘﺼﻮﺩ ﻧﮧ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺁﺳﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﭘﯿﺪﺍ ﻧﮧ ﮐﺮﺗﺎﻟَﻮْ ﻻﮎَ ﻟَﻤَﺎ ﺍَﻇْﮩَﺮْﺕُ ﺍﻟﺮَّﺑُﻮْ ﺑِﯿَّۃَﯾﻌﻨﯽ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﻧﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﻘﺼﻮﺩ ﻧﮧ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﺭﺏ ﮨﻮﻧﺎ ﺑﮭﯽ ﻇﺎﮨﺮ ﻧﮧ ﮐﺮﺗﺎ۔ ‏( ﻣﮑﺘﻮﺏ ١١٢ﺟﻠﺪ ﺳﻮﻡ ﺻﻔﺤﮧ ٢٣٢ )

ﻣﺠﺪﺩ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﻣﺮﮐﺰ ﻭ ﻣﺤﻮﺭ :
ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﺒﺎﺭﮎ ﻭ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﺳﻠﺌﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻣﺤﻤﺪ ﻣﺼﻄﻔﯽ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﺎ ﺭﺏ ﮨﮯ ۔ ‏( ﻣﮑﺘﻮﺏ ٢٢١ﺟﻠﺪﺳﻮﻡ ﺻﻔﺤﮧ ٢٢٤ )

ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺼﻠﻮٰۃ ﻭﺍﻟﺴﻼﻡ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻧﻮﺭ ﺳﮯ ﮨﯿﮟ :
ﺣﻀﻮﺭ ﺍﻗﺪﺱ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﺧﻠﻘﺖ ﮐﺴﯽ ﺑﺸﺮ ﮐﯽ ﺧﻠﻘﺖ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﻋﺎﻟﻢ ﻣﻤﮑﻨﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﯿﺰ ﺑﮭﯽ ﺣﻀﻮﺭ ﺍﮐﺮﻡ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﭽﮫ ﻣﻨﺎﺳﺒﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮭﺘﯽ ۔ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺣﻀﻮﺭ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﺰﻭﺟﻞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﻮﺭ ﺳﮯ ﭘﯿﺪﺍ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮨﮯ۔ ‏( ﻣﮑﺘﻮﺏ ١٠٠ ﺟﻠﺪ ﺳﻮﻡ ﺻﻔﺤﮧ ١٨٧ )
1
ﺭﺳﻮﻝ ﺍﮐﺮﻡ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﺎﺳﺎﯾﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ :
ﻋﺎﻟﻢ ﺍﻣﮑﺎﻥ ﮐﻮ ‏( ﺟﻮ ﺗﺤﺖ ﺍﻟﺜﺮﯼٰ ﺳﮯ ﻋﺮﺵ ﺗﮏ ﮐﯽ ﺟﻤﻠﮧ ﻣﻮﺟﻮﺩﺍﺕ ﻭ ﮐﺎﺋﻨﺎ ﺕ ﮐﺎ ﻣﺤﯿﻂ ﮨﮯ ‏) ﺟﺲ ﻗﺪﺭ ﺩﻗﺖ ﻧﻈﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺣﻀﻮﺭ ﺍﻧﻮﺭﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﺎ ﻭﺟﻮﺩ ﭘﺎﮎ ﺍﺳﮑﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﻧﻈﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﺎ ۔ ﺳﺮﮐﺎﺭ ﺩﻭﻋﺎﻟﻢ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﺍﺱ ﺑﺰﻡ ﺍﻣﮑﺎﻥ ﺳﮯ ﺑﺎﻻ ﺗﺮ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﺳﯽ ﻟﺌﮯ ﺣﻀﻮﺭ ﺍﮐﺮﻡ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﺎ ﺳﺎﯾﮧ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ۔ ‏( ﻣﮑﺘﻮﺏ ١٠٠ ﺟﻠﺪ ﺳﻮﻡ ﺻﻔﺤﮧ ١٨٧ )

ﻋﻘﯿﺪﮦ ﻋﻠﻢ ﻏﯿﺐ :
ﺟﻮ ﻋﻠﻢ ﻏﯿﺐ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﺰﻭﺟﻞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﺨﺼﻮﺹ ﮨﮯ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﺎﺹ ﺭﺳﻮﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﻄﻠﻊ ﻓﺮﻣﺎﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ۔ ‏( ﻣﮑﺘﻮﺏ ٣١٠ ﺟﻠﺪ ﺍﻭﻝ ٤٤٦ )

ﺷﯿﺦ ﻣﺠﺪﺩ ﮐﺎ ﻣﺴﻠﮏ ﭘﺮﺗﺼﻠّﺐ ﻭ ﺗﺸﺪﺩ :
ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﺗﻤﺎﻡ ﺿﺮﻭﺭﯾﺎﺕ ﺩﯾﻦ ﭘﺮﺍﯾﻤﺎﻥ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﺎ ﺩﻋﻮﯼٰ ﮐﺮﮮ ﻟﯿﮑﻦ ﮐﻔﺮﻭ ﮐﻔﺎﺭ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻧﻔﺮﺕ ﻭ ﺑﯿﺰﺍﺭﯼ ﻧﮧ ﺭﮐﮭﮯ ﻭﮦ ﺩﺭﺣﻘﯿﻘﺖ ﻣﺮﺗﺪ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﻣﻨﺎﻓﻖ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﮨﮯ۔ ﺟﺐ ﺗﮏ ﺧﺪﺍ ﻋﺰﻭﺟﻞ ﺍﻭﺭ ﺭﺳﻮﻝ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﮯ ﺩﺷﻤﻨﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﺷﻤﻨﯽ ﻧﮧ ﺭﮐﮭﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺗﮏ ﺧﺪﺍ ﻭ ﺭﺳﻮﻝ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﺤﺒﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺳﮑﺘﯽ ۔ ﯾﮩﯿﮟ ﭘﺮ ﯾﮧ ﮐﮩﻨﺎ ﭨﮭﯿﮏ ﮨﮯ ﻋﺘﻮﻟّٰﯽ ﺑﮯ ﺗﺒﺮّ ﯼٰ ﻧﯿﺴﺖ ﻣﻤﮑﻦ ‏( ﻣﮑﺘﻮﺏ ٢٦٦ ﺟﻠﺪ ﺍﻭﻝ ﺻﻔﺤﮧ ٣٢٥ )

ﺍﮨﻠﺒﯿﺖ ﮐﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻣﮑﻤﻞ ﻧﮩﯿﮟ :
ﺣﻀﻮﺭ ﺍﻗﺪﺱ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﮯ ﺍﮨﻞ ﺑﯿﺖ ﮐﺮﺍﻡ ﮐﯿﺴﺎﺗﮫ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺎ ﻓﺮﺽ ﮨﻮﻧﺎ ﻧﺺِ ﻗﻄﻌﯽ ﺳﮯ ﺛﺎﺑﺖ ﮨﮯ ۔ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﺰﻭﺟﻞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺣﺒﯿﺐ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﺍﻟﯽ ﺍﻟﺤﻖ ﻭ ﺗﺒﻠﯿﻎ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﯽ ﺍﺟﺮﺕ ﺍﻣﺖ ﭘﺮ ﯾﮩﯽ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯼ ﮐﮧ ﺣﻀﻮﺭ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﮯ ﻗﺮﺍﺑﺖ ﺩﺍﺭﻭﮞ ﮐﯿﺴﺎﺗﮫ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ ﺟﺎﺋﮯ۔ ﻗُﻞ ﻻَّ ﺍَﺳْﺌَﻠُﮑُﻢْ ﻋَﻠَﯿْﮧِ ﺍَﺟْﺮًﺍ ﺍِﻻ ﺍﻟْﻤَﻮَﺩَّۃَ ﻓِﯽْ ﺍﻟْﻘُﺮْﺑٰﯽ۔ ‏( ﻣﮑﺘﻮﺏ ٢٦٦، ﺟﻠﺪ ﺍﻭﻝ ﺻﻔﺤﮧ ٣٢٦ )
ﺍﺻﺤﺎﺏ ﺭﺳﻮﻝ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ :

ﺣﻀﻮﺭ ﺍﮐﺮﻡ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮩﻢ ﺍﺟﻤﻌﯿﻦ ﮐﻮ ﻧﯿﮑﯽ ﮐﯿﺴﺎﺗﮫ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ۔ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﻮﺭ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮨﯽ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﺤﺒﺖ ﺭﮐﮭﻨﯽ ﭼﺎﮨﺌﮯ ۔ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﺤﺒﺖ ﺣﻀﻮﺭ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯿﺴﺎﺗﮫ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﮯ، ﺍﻧﮑﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻋﺪﺍﻭﺕ ﺣﻀﻮﺭ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮨﯽ ﮐﯿﺴﺎﺗﮫ ﻋﺪﺍﻭﺕ ﮨﮯ۔ ‏( ﻣﮑﺘﻮﺏ ٢٦٦، ﺟﻠﺪ ﺍﻭﻝ ﺻﻔﺤﮧ ٣٢٦ )

ﺍﺻﺤﺎﺏِ ﺭﺳﻮﻝ ﮐﮯ ﺩﺭﺟﺎﺕ :
ﺗﻤﺎﻡ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﻡ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺍﻓﻀﻞ ﻭ ﺍﻋﻠﯽٰ ﺳﯿﺪﻧﺎ ﺍﺑﻮﺑﮑﺮ ﺻﺪﯾﻖ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻋﻨﮧ ﮨﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺍﻓﻀﻞ ﺳﯿﺪﻧﺎ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻋﻨﮧ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﭘﺮ ﺍﺟﻤﺎﻉ ﺍﻣﺖ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﭼﺎﺭﻭﮞ ﺁﺋﻤﮧ ﻣﺠﺘﮩﺪﯾﻦ ﺍﻣﺎﻡ ﺍﻋﻈﻢ ﺍﺑﻮ ﺣﻨﯿﻔﮧ ﻭ ﺍﻣﺎﻡ ﺷﺎﻓﻌﯽ ﻭ ﺍﻣﺎﻡ ﻣﺎﻟﮏ ﻭ ﺍﻣﺎﻡ ﺍﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﺣﻨﺒﻞ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮩﻢ ﺍﺟﻤﻌﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﺍﮐﺜﺮ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﺍﮨﻠﺴﻨّﺖ ﮐﺎ ﯾﮩﯽ ﻣﺬﮨﺐ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺗﻤﺎﻡ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺍﻓﻀﻞ ﺳﯿﺪﻧﺎ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﮨﯿﮟ ، ﭘﮭﺮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺗﻤﺎﻡ ﺍﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺍﻓﻀﻞ ﺳﯿﺪﻧﺎ ﻣﻮﻟﯽٰ ﻋﻠﯽ ﮐﺮﻡ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺟﮩﮧ، ﮨﯿﮟ۔ ‏( ﻣﮑﺘﻮﺏ ٢٦٦، ﺟﻠﺪ ﺍﻭﻝ، ﺻﻔﺤﮧ٣٣٠ )

ﺭﻭﺍﻓﺾ ﺳﮯ ﺍﺟﺘﻨﺎﺏ :
ﺟﻮ ﻟﻮﮒ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺘﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮩﻢ ﺍﺟﻤﻌﯿﻦ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﺷﻤﻨﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﺰﻭﺟﻞ ﻧﮯ ﻗﺮﺁﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﻮ ﮐﺎﻓﺮ ﮐﮩﺎ ﮨﮯ۔ ﻟِﯿَﻐِﯿْﻆَ ﺑِﮩِﻢُ ﺍﻟْﮑُﻔَّﺎﺭ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮐﮩﻼﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﺪ ﻣﺬﮨﺐ ﮐﯽ ﺻﺤﺒﺖ ﮐﮭُﻠﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﺎﻓﺮ ﮐﯽ ﺻﺤﺒﺖ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﭘﮩﻨﭽﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔ ‏( ﻣﮑﺘﻮﺏ ٥٤ ﺟﻠﺪ ﺍﻭﻝ ﺻﻔﺤہ ۷۱

ﺍﻭﻟﯿﺎﺋﮯ ﮐﺮﺍﻡ ﮐﯽ ﻓﻀﯿﻠﺖ :
* ﺍﻧﺒﯿﺎ ﻭ ﺍﻭﻟﯿﺎﺀ ﮐﯽ ﭘﺎﮎ ﺭﻭﺣﻮﮞ ﮐﻮ ﻋﺮﺵ ﺳﮯ ﻓﺮﺵ ﺗﮏ ﮨﺮ ﺟﮕﮧ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﮐﯽ ﻧﺴﺒﺖ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﯿﺰ ﺍﻥ ﺳﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﻭ ﺩﻭﺭ ﻧﮩﯿﮟ۔ ‏( ﻣﮑﺘﻮﺏ ٢٨٩ ﺟﻠﺪ ۱ ﺻﻔﺤﮧ ٣٧١ )*
ﺣﻀﻮﺭ ﺍﻗﺪﺱ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﺍﻣﺖ ﮐﮯ ﺍﻭﻟﯿﺎﺋﮯ ﮐﺮﺍﻡ ﮐﺎ ﻃﻮﺍﻑ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﮐﻌﺒﮧ ﻣﻌﻈﻤﮧ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺑﺮﮐﺘﯿﮟ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ‏( ﻣﮑﺘﻮﺏ ٢٠٩ ﺟﻠﺪ ﺍﻭﻝ ﺻﻔﺤﮧ ٢١١ *( ﺍﮐﻤﻞ ﺍﻭﻟﯿﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﺰﻭﺟﻞ ﯾﮧ ﻗﺪﺭﺕ ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺑﯿﮏ ﻭﻗﺖ ﻣﺘﻌﺪﺩ ﻣﻘﺎﻣﺎﺕ ﭘﺮ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻓﺮﻣﺎ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ‏( ﻣﮑﺘﻮﺏ ٥٨ ﺟﻠﺪ ﺩﻭﻡ ﺻﻔﺤﮧ ١١٥ *( ﻋﺎﺭﻑ ﺍﯾﺴﮯ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﭘﺮ ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻋﺮﺽ ﮨﻮ ﯾﺎ ﺟﻮﮨﺮ، ﺁﻓﺎﻕ ﮨﻮ ﯾﺎ ﺍﻧﻔﺲ ﺗﻤﺎﻡ ﻣﺨﻠﻮﻗﺎﺕ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﺟﻮﺩﺍﺕ ﮐﮯ ﺫﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﺫﺭﮦ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻏﯿﺐ ﺍﻟﻐﯿﺐ ﮐﺎ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﺫﺭﮦ ﺑﺎﺭﮔﺎﮦ ﺍﻟٰﮩﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﺳﮑﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﯾﮏ ﺳﮍﮎ ﺑﻦ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ‏( ﻣﮑﺘﻮﺏ ١١٠ ﺟﻠﺪ ﺳﻮﻣﺼﻔﺤﮧ٢١٠ )

ﻏﻮﺙ ﺍﻋﻈﻢ ﺗﻘﺪﯾﺮ ﺑﺪﻝ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ :
۔ﺣﻀﻮﺭ ﭘﺮ ﻧﻮﺭ ﺳﯿﺪﻧﺎ ﻏﻮﺙ ﺍﻋﻈﻢ ﻣﺤﯽ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻘﺎﺩﺭ ﺟﯿﻼﻧﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﯾﮧ ﻗﺪﺭﺕ ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﻮ ﻗﻀﺎ ﻟﻮﺡ ﻣﺤﻔﻮﻁ ﻣﯿﮟ ﺑﺸﮑﻞ ﻣﺒﺮﻡ ﻟﮑﮭﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﻌﻠﯿﻖ ﺻﺮﻑ ﻋﻠﻢ ﺧﺪﺍﻭﻧﺪﯼ ﻣﯿﮟ ﮨﻮ۔ ﺍﯾﺴﯽ ﻗﻀﺎ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺫﻥ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﺼﺮﻑ ﻓﺮﻣﺎ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ‏( ﻣﮑﺘﻮﺏ ٢١٧ ﺟﻠﺪ ﺍﻭﻝ ﺻﻔﺤﮧ ٢٢٤ ‏) ﺣﻀﻮﺭ ﭘﺮ ﻧﻮﺭ ﺳﯿﺪﻧﺎ ﻏﻮﺙ ﺍﻋﻈﻢ ﻣﺤﯽ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﻋﺒﺪﺍﻟﻘﺎﺩﺭ ﺟﯿﻼﻧﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﺳﮯ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﺗﮏ ﺟﺘﻨﮯ ﺍﻭﻟﯿﺎﺀ ،ﺍﺑﺪﺍﻝ ، ﺍﻗﻄﺎﺏ ، ﺍﻭﺗﺎﺩ، ﻧﻘﺒﺎ، ﻧﺠﺒﺎﺉ، ﻏﻮﺙ ﯾﺎ ﻣﺠﺪﺩ ﮨﻮﻧﮕﮯ ، ﺳﺐ ﻓﯿﻀﺎﻥ ﻭﻻﯾﺖ ﻭ ﺑﺮﮐﺎﺕ ﻃﺮﯾﻘﺖ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺣﻀﻮﺭ ﻏﻮﺙ ﺍﻋﻈﻢ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﻣﺤﺘﺎﺝ ﮨﻮﻧﮕﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻭﺍﺳﻄﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﺳﯿﻠﮯ ﮐﮯ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﺗﮏ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﺨﺺ ﻭﻟﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ۔ ﺍﺣﻤﺪ ﺳﺮﮨﻨﺪﯼ ﺑﮭﯽ ﺣﻀﻮﺭ ﻏﻮﺙ ﺍﻋﻈﻢ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻋﻨﮧ ﮐﺎ ﻧﺎﺋﺐ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﺳﻮﺭﺝ ﮐﺎ ﭘﺮﺗﻮ ﭘﮍﻧﮯ ﺳﮯ ﭼﺎﻧﺪ ﻣﻨﻮﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﺣﻤﺪ ﺳﺮﮨﻨﺪﯼ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﻓﯿﻮﺽ ﻭ ﺑﺮﮐﺎﺕ ﺣﻀﻮﺭ ﻏﻮﺙ ﺍﻋﻈﻢ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻋﻨﮧ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﮔﺎﮦ ﺳﮯ ﻓﺎﺋﺰ ﮨﻮﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ۔ ‏( ﻣﮑﺘﻮﺏ ١٢٣ ﺟﻠﺪ ﺳﻮﻡ ﺻﻔﺤﮧ ٢٤٨ )
1
ﺗﻘﻠﯿﺪ ﻭﺍﺟﺐ ﮨﮯ :
ﻣﻘﻠﺪ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺟﺎﺋﺰ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻣﺎﻡ ﮐﯽ ﺭﺍﺋﮯ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﻗﺮﺁﻥ ﻋﻈﯿﻢ ﻭ ﺣﺪﯾﺚ ﺷﺮﯾﻒ ﺳﮯ ﺍﺣﮑﺎﻡ ﺷﺮﻋّﯿﮧ ﺧﻮﺩ ﻧﮑﺎﻝ ﮐﺮ ﺍﻥ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﮯ۔ ﻣﻘﻠﺪﯾﻦ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﯾﮩﯽ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺲ ﺍﻣﺎﻡ ﮐﯽ ﺗﻘﻠﯿﺪ ﮐﺮﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺳﯽ ﮐﮯ ﻣﺬﮨﺐ ﮐﺎ ﻣﻔﺘﯽ ﺑﮧ ﻗﻮﻝ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮐﺮﮐﮯ ﺍﺳﯽ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﮐﺮﯾﮟ۔ ‏( ﻣﮑﺘﻮﺏ ٢٨٦ ﺟﻠﺪ ﺍﻭﻝ ﺻﻔﺤﮧ ٣٧٥ )

ﺑﺪ ﻣﺬﮨﺒﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﭽﻮ !:
ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﻮ ﺟﻮ ﺧﻠﻖ ﻋﻈﯿﻢ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﻮﺻﻮﻑ ﮨﯿﮟ، ﮐﺎﻓﺮﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﻨﺎﻓﻘﻮﮞ ﭘﺮ ﺟﮩﺎﺩ ﮐﺮﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﺳﺨﺘﯽ ﻓﺮﻣﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ۔ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﯽ ﻋﺰﺕ ،ﮐﻔﺮ ﮐﯽ ﺫﻟﺖ ﭘﺮ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﻋﺰﺕ، ﮐﺎﻓﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﺫﻟﺖ ﭘﺮ ﻣﻮﻗﻮﻑ ﮨﮯ۔ ﺟﺲ ﻧﮯ ﮐﺎﻓﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﻋﺰﺕ ﮐﯽ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺫﻟﯿﻞ ﮐﯿﺎ۔ ﮐﺎﻓﺮﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﻨﺎﻓﻘﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺩﻭﺭ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ۔ ۔ﺧﺪﺍ ﻋﺰﻭﺟﻞ ﺍﻭﺭ ﺭﺳﻮﻝ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﮯ ﺩﺷﻤﻨﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﯿﻞ ﺟﻮﻝ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﺍ ﮔﻨﺎﮦ ﮨﮯ۔ ﺧﺪﺍ ﺍﻭﺭ ﺭﺳﻮﻝ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﮯ ﺩﺷﻤﻨﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﻭﺳﺘﯽ ﻭ ﺍﻟﻔﺖ ﺧﺪﺍ ﻋﺰﻭﺟﻞ ﻭ ﺭﺳﻮﻝ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﺩﺷﻤﻨﯽ ﻭ ﻋﺪﺍﻭﺕ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ۔ ‏( ﻣﮑﺘﻮﺏ ١٦٣ ﺟﻠﺪ ﺍﻭﻝ ﺻﻔﺤﮧ ١٦٥ )

ﻣﯿﻼﺩ ﻭ ﺍﻋﺮﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﺤﺎﻓﻞ ﺟﺎﺋﺰ ﮨﯿﮟ :
ﻣﺠﻠﺲ ﻣﯿﻼﺩ ﺷﺮﯾﻒ ﻣﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﺍﭼﮭﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻗﺮﺁﻥ ﭘﺎﮎ ﮐﯽ ﺗﻼﻭﺕ ﮐﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﻮﺭ ﺍﻗﺪﺱ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﻧﻌﺖ ﺷﺮﯾﻒ ﺍﻭﺭ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﻭ ﺍﮨﻞ ﺑﯿﺖ ﻋﻈﺎﻡ ﻭ ﺍﻭﻟﯿﺎﺋﮯ ﺍﻋﻼﻡ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮩﻢ ﺍﺟﻤﻌﯿﻦ ﮐﯽ ﻣﻨﻘﺒﺖ ﮐﮯ ﻗﺼﯿﺪﮮ ﭘﮍﮬﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺣﺮﺝ ﮨﮯ؟ ﻧﺎﺟﺎﺋﺰ ﺑﺎﺕ ﺗﻮ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻗﺮﺁﻥ ﻋﻈﯿﻢ ﮐﮯ ﺣﺮﻭﻑ ﻣﯿﮟ ﺗﻐﯿﺮ ﻭ ﺗﺤﺮﯾﻒ ﮐﺮ ﺩﯼ ﺟﺎﺋﮯ۔ ﺍﻭﺭ ﻗﺼﯿﺪﮮ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺭﺍﮔﻨﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﺳﯿﻘﯽ ﮐﮯ ﻗﻮﺍﻋﺪ ﮐﯽ ﺭﻋﺎﯾﺖ ﻭ ﭘﺎﺑﻨﺪﯼ ﮐﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﺎﻟﯿﺎﮞ ﺑﺠﺎﺋﯽ ﺟﺎﺋﯿﮟ۔ ﺟﺲ ﻣﺠﻠﺲ ﻣﯿﻼﺩ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﻧﺎﺟﺎﺋﺰ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﻧﮧ ﮨﻮﮞ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻧﺎﺟﺎﺋﺰ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﯿﺎ ﻭﺟﮧ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ؟ ﮨﺎﮞ ﺟﺐ ﺗﮏ ﺭﺍﮔﻨﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﺎﻝ ﺳُﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮔﺎﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﺎﻟﯿﺎﮞ ﺑﺠﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺑﻨﺪ ﻧﮧ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺍﺑﻮ ﺍﻟﮩﻮﺱ ﻟﻮﮒ ﺑﺎﺯ ﻧﮧ ﺁﺋﯿﮟ ﮔﮯ۔ ﺍﮔﺮ ﺍﻥ ﻧﺎﻣﺸﺮﻭﻉ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﮐﯽ ﺫﺭﺍ ﺳﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﺩﮮ ﺩﯼ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻧﺘﯿﺠﮧ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﺧﺮﺍﺏ ﻧﮑﻠﮯ ﮔﺎ۔ ‏( ﻣﮑﺘﻮﺏ ٧٢ ﺟﻠﺪ ﺳﻮﺋﻢ ﺻﻔﺤﮧ ١١٦ )

ﺑﮯ ﺍﺩﺑﻮﮞ ﮔﺴﺘﺎﺧﻮﮞ ﺳﮯ ﺻﻠﺢ ﺟﺎﺋﺰ ﻧﮩﯿﮟ :
ﺣﻀﻮﺭ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﻤﺎﻝ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺣﻀﻮﺭ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﮯ ﺩﺷﻤﻨﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﻤﺎﻝ ﺑﻐﺾ ﺭﮐﮭﯿﮟ۔ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﮐﮯ ﻣﺨﺎﻟﻔﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻋﺪﺍﻭﺕ ﮐﺎ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﺮﯾﮟ۔ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﭘﺎﻟﯿﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﭼﺎﭘﻠﻮﺳﯽ ﺟﺎﺋﺰ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻣﺤﺐ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﮐﺎ ﺩﯾﻮﺍﻧﮧ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﻭﮦ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﻮ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺳﮑﺘﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﮐﯽ ﻣﺨﺎﻟﻔﺖ ﮐﯽ ﺟﺎﺋﮯ۔ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﮐﮯ ﻣﺨﺎﻟﻔﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﺴﯽ ﻃﺮﺡ ﺑﮭﯽ ﺻﻠﺢ ﭘﺴﻨﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ۔ ﺩﻭ ﻣﺤﺒﺘﯿﮟ ﺟﻮ ﺁﭘﺲ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﯽ ﺿﺪ ﮨﻮﮞ ﺍﯾﮏ ﻗﻠﺐ ﻣﯿﮟ ﺍﮐﭩﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺳﮑﺘﯿﮟ ۔ ﮐﻔﺎﺭ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﻮ ﺧﺪﺍ ﺍﻭﺭ ﺭﺳﻮﻝ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﮯ ﺩﺷﻤﻦ ﮨﯿﮟ ﺩﺷﻤﻦ ﮨﻮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺫﻟﺖ ﻭ ﺧﻮﺍﺭﯼ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﺴﯽ ﻃﺮﺡ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﮐﻮ ﻋﺰﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﻨﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﺑﺪﺑﺨﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺠﻠﺲ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﻨﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺍُﻧﺲ ﻭ ﻣﺤﺒﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺨﺘﯽ ﻭ ﺷﺪﺕ ﮐﺎ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﺑﺮﺗﻨﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮨﻮﺳﮑﮯ ﮐﺴﯽ ﺑﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺭﺟﻮﻉ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﺑﺎﻟﻔﺮﺽ ﺍﻥ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﭘﮍ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻧﺎﮔﻮﺍﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﺒﻮﺭﯼ ﺳﮯ ﺑﯿﺖ ﺍﻟﺨﻼ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ۔ ‏( ﺧﻼﺻﮧ ﻣﮑﺘﻮﺏ ١٦٥ ﺟﻠﺪ ﺍﻭﻝ ﺻﻔﺤﮧ ١٦٦ ﺗﺎ ١٦٩ )

ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺣﮑﻤﺮﺍﮞ ﮐﯽ ﺣﯿﺜﯿﺖ :
ﺭﻋﺎﯾﺎ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﮯ ﺟﯿﺴﺎ ﺩﻝ ﮐﺎ ﺟﺴﻢ ﺳﮯ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ، ﺍﮔﺮ ﺩﻝ ﭨﮭﯿﮏ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺑﺪﻥ ﺑﮭﯽ ﭨﮭﯿﮏ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ، ﺍﮔﺮ ﺩﻝ ﺑﮕﮍ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺑﺪﻥ ﺑﮭﯽ ﺑﮕﮍ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ، ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﻣﻠﮏ ﮐﯽ ﺑﮩﺘﺮﯼ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﺑﮩﺘﺮﯼ ﭘﺮ ﻣﻨﺤﺼﺮ ﮨﮯ، ﺍﮔﺮ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺑﮕﮍ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺗﻮ ﻣﻠﮏ ﮐﺎ ﺑﮕﮍ ﺟﺎﻧﺎ ﺑﮭﯽ ﻻﺯﻣﯽ ﮨﮯ۔

ﺷﮩﺰﺍﺩﮦ ﺧﺮّﻡ ‏( ﺷﺎﮨﺠﮩﺎﮞ ‏) ﮐﻮ ﺑﺸﺎﺭﺕ ﺩﯼ :
ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺠﺪﺩ ﺗﻨﮩﺎ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺷﮩﺰﺍﺩﮦ ﺧﺮﻡ ﺁﭘﮑﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ! ﯾﮧ ﻋﺠﯿﺐ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺁﭖ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﺍﺭ ﻭ ﺣﻤﺎﯾﺖ ﮐﯽ ﻣﮕﺮ ﺁﭖ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺣﻖ ﻣﯿﮟ ﺩﻋﺎ ﮐﮯ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﮯ ﺣﻖ ﻣﯿﮟ ﺩﻋﺎ ﻓﺮﻣﺎﺩﯼ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺑﺎً ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ! '' ﻣﺖ ﮔﮭﺒﺮﺍ، ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺗﻮ ﻋﻨﻘﺮﯾﺐ ﺗﺨﺖ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺮﺍ ﻟﻘﺐ ﺷﺎﮦ ﺟﮩﺎﮞ ﮨﻮﮔﺎ۔ '' ﺷﮩﺰﺍﺩﮦ ﺧﺮﻡ ﻧﮯ ﺍﺳﺘﺪﻋﺎ ﮐﯽ ﮐﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﻄﻮﺭ ﺗﺒﺮﮎ ﺍﭘﻨﯽ ﺩﺳﺘﺎﺭ ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﻣﺎﻡ ﺭﺑﺎﻧﯽ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺩﺳﺘﺎﺭ ﺷﮩﺰﺍﺩﮦ ﮐﻮ ﺩﯼ ﺟﻮ ﻋﺮﺻﮧ ﺗﮏ ﻣﻐﻞ ﺑﺎﺩﺷﺎﮨﻮﮞ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺗﺒﺮﮐﺎً ﻣﺤﻔﻮﻅ ﺭﮨﯽ۔
ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﺎﻡ ﺭﺑّﺎﻧﯽ ﻣﺠﺪﺩ ﺍﻟﻒ ﺛﺎﻧﯽ ﺷﯿﺦ ﺍﺣﻤﺪ ﺳﺮﮨﻨﺪﯼ ﻓﺎﺭﻭﻗﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺮﺣﻤۃ کی تعلیمات پر اللّٰہ تعالی ہم سب کو عمل کی توفیق بخشے۔ آمین!

https://Instagram.com/naatacademy
1