🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
27-02-1445 ᴴ | 14-09-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
27-02-1445 ᴴ | 14-09-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت مولانا عبد الرحمٰن ضیائی پتافی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

ولادت:
نامور عالم دین ، استاد الشعر اء ، حضرت مولانا عبدالرحمن ’’ضیائی‘‘بن حضرت علامہ بہاء الدین ’’ بھائی ‘‘ پتافی کی ولادت صفر المظفر ۱۴۱۸ھ میں تحصیل میر پور ماتھیلو (ضلع گھوٹکی سندھ) میں ہوئی ۔

تعلیم و تربیت:
پرورش و تربیت اپنے والدماجد کی سر پرستی میں ہوئی۔ ناظرہ قرآن مجید اپنی والد ہ ماجدہ پڑھا جو کہ انتہائی متقی و پرہیز گار تھیں ۔ فارسی میں کریما رحیما ، گلستان ، بوستان اور سکندر نامہ وغیرہ کتابیں والد محترم سے پڑھیں ۔ عربی کی تعلیم حضرت علامہ مفتی محمد قاسم ؒ گڑھی یاسین کے پاس حاصل کی۔ دوران تعلیم ان کا انتقال ہو گیا اس لئے مولانا عبدالکریم کورائی (کور سلیمان تحصیل قمبر ضلع لاڑکانہ )کے پاس آگئے اور یہیں پڑھتے رہے اس کے بعد ماد ر علمی کی کشش آپ کو واپس لے آئی اور مدرسہ ہاشمیہ گڑھی یاسین (ضلع شکار پور ) میں مولانا مفتی محمد ابراہیم کے پاس بقیہ کتب کی تکمیل کے بعد فارغ التحصیل ہوئے ۔

درس و تدریس:
بعد فراغت مختلف مدارس میں درس دیا ۔ ہمایون شریف میں حضرت مفتی عبدالباقی ہمایونیؒ کے صاحبزادوں کو درس دیا ۔ ہمایون شریف میں حضرت مفتی عبدالباقی ہمایونیؒ کے صاحبزادوں کو درس دیا۔ اس کے بعد اپنے والد محترم کی قائم کردہ درسگاہ میں آخر عمر تک درس و تدریس کی مجلس کو قائم رکھا۔

بیعت:
شیخ طریقت حضرت خواجہ محمد عمر جان نقشبندی ؒ خانقاہ چشمہ شریف (کوئٹہ ) کے دست اقدس پر بیعت ہوئے ۔

شادی و اولاد:
دوران تعلیم شادی کی۔ اس سے تین بیٹے تولد ہوئے صاحبزادہ اکبر حافظ محمد یوسف صاحب ہیں اور حافظ رحیم بخش ’’غوثی ‘‘پتافی آپ کے بھتیجے ہیں ۔

تصنیف و تالیف:
محترم ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ صاحب رقمطراز ہیں :۔ مولانا عبدالرحمن صاحب فارسی اور سندھی کے شاعر ہیں ۔ اس وقت اپنے گوٹھ میں درس و تدریس میں فارسی اور سندھی میں کئی کتابیں آپ کی یاد گار ہیں ۔

٭ روائح العروض شرح بدر العروض (فارسی) مطبوعہ بہاولپور

٭ القول الکافی فی شرح تذکرۃ القوافی (فارسی) علم قافیہ کے متعلق غیر مطبوعہ

٭ مجموعہ الغزلیات (فارسی ، سندھی) غزلیات پر مشتمل ہے۔اس کتاب سے غزل الوحید اور روزنامہ مہران اخبار اور دیگر اخبارات و رسائل میں چھپتے رہتے تھے۔(شریعت سوانح نمبر۱۹۸۱ئ)

٭ دیوان ضیائی فارسی قلمی
٭ دیوان ضیائی سندھی قلمی
ٔ٭ ماشھیدان شرح ما مقیمان فارسی
٭ کاشف الغموض عن علم العروض

سفر حرمین شریفین:
حج بیت اللہ اور روضہ رسول ﷺ کی حاضری کی سعادت حاصل کی اور واپسی پر اکثر طبیعت نا ساز رہا کرتی تھی ۔ اور ہجر رسول پاک میں اکثر گریہ فرماتے تھے۔

سیلاب:
سن ۱۹۷۶ء میں دریائی اور بارانی سیلاب سے علاقے بہت متاثر ہوئے تھے۔ اس موقعہ پر بتواضع فرماتے:’’زمین و آسمان کی آفات و بلیات و مصائب سب میرے گناہوں کے سبب ہیں ‘‘یہ فرما کر بہت گریہ فرمایا کہ داڑھی آنسوں سے تر ہوگئی اور صلوۃ تنجینا شریف اکثر ورد میں رکھتے تھے اور اس کے ورد کی ہمیں بھی تلقین فرمایا کرتے تھے ۔

وصال:
سندھ کے نامور عالم ، بے مثال نقاش فطرت ، ثانی سعدی ، سادہ طبع ، استاد الشعراء علامہ عبدالرحمن ضیائی کو بسب علالت پنو عاقل ہسپتال میں لایا گیا انتقال سے تین دن قبل ہسپتال میں کاغذ نہ ملنے کی صورت میں ایک اخبار کے ٹکرے پر فارسی میں اپنی تاریخ وصال لکھی (جو آگے درج کی جارہی ہے) ایک روز فرمایا کہ یہاں رہنے سے کچھ فائدہ نہیں ، مجھے اپنے گوٹھ لے چلیں ۔ پنو عاقل سے میر پور ماتھیلو آئے وہاں کچھ قیام کیا۔ وہاں مولانا نے پانی طلب فرمایا لیکن نہ تھا ایک گھڑا تھا وہ بھی خالی تھا ، انکار پر فرمایا :۔

’’جاوٗ گھڑا (مٹی کا مٹکا ) دیکھو ، وہاں جا کر دیکھا تو سبحان اللہ !گھڑا سیدھا ہے اور ایک گلاس کی مقدا ر پانی موجود ہے وہ پانی پینے کے لئے پیش کیا گیا اور گھڑا اوندھا کر دیا گیا اور تقریبا ایک گھنٹہ کے بعد دوبارہ پانی طلب کیا تو وہ ہی صورتحال ۔ اس طرح آپ کی یہ کرامت بستر مرگ پر دوبار ظہور پذیر ہوئی ۔

۲۸ صفر المظفر ۱۳۹۷ھ / ۱۷ فرور ی ۱۹۷۷ء بروز جمعرات صبح ۵ بجے علامہ عبدالرحمن ضیائی نے کلمہ شہادت پڑھا اور روح مبارک پرواز کر گئی ۔ اس وقت میت کو گوٹھ ‘‘ مولوی بہاء الدین ’’پہنچایا گیا ۔ جہاں نماز جنازہ ہوئی جس میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی نماز جنازہ استاد الحفاظ حضرت حافظ عبدالستار قادری صاحب مہتمم مدرسہ گوٹھ جھنگاں ڈھر کی کی امامت میں اد اکی گئی ۔ بعد نماز جنازہ آپ کو حضرت مولانا بہاوٗ الدین بھائی کے روضہ میں سپرد خاک کیا گیا۔

(مضمون نگار حافظ رحیم بخش غوثی ، الراشدر جب شعبان ۱۳۹۷ھ)

( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-rahman-ziaee-patafi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت ابوالقاسم شاہ سید میر محمد احمد صدیق رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

المتلخص بہ قاتل لکھنوی الاجمیری قادری

حضرت مولانا سید محمد احمد صدیق شاہ بن حضرت سید میر یعقوب علی شاہ ، ۱۴ جنوری ۱۸۸۵ء کو لکھنوٗ ( بھارت ) میں تولد ہوئے۔ والدہ ماجدہ نے ہمیشہ آپ کو باوضو ہو کر دودھ پلایا۔ عالم کم سنی میں بچوں میں کھیل کود کے دوران اکثر آپ پر سکوت طاری ہو جاتا اور آپ عالم تفکر کی گہرائیوں میں ڈوب جاتے ۔ کافر دیر تک دنیا و مافیہا سے بے خبر رہتے ۔ آپ کا نام محمد احمد صدیق ، کنیت ابو القاسم ، تخلص : قاتل ، خطاب ادبی شیف الکلام ، نسب حسنی و حسینی سید، مسلکا اہل سنت و جماعت ، مذہبا حنفی ۔

تعلیم و تربیت:
ابتدائی تعلیم لکھنوٗ میں حاصل کی۔ بعد ازاں آپ کے والد محترم لکھنوٗ کی سکونت ترک کر کے اجمیر شریف کے محلہ مکیری میں قیام پذیر ہوئے تو آپ نے اجمیر شریف میں حصول علم کا دوبارہ آغاز کیا ۔ لیکن کچھ ہی عرصہ کے بعد آپ کے والد محترم کا تبادلہ ( بسلسلہ ملازمت ریلوے گارڈ ) آبوروڈ ہوگیا۔ ماوٗنٹ ، آبو، راجپوتانہ ہندوستان کا ایک مشہور و معروف پہاڑ ہے۔ موسم گرما میں یہاں امراء ، روساء اور راجے مہاراجہ بغرض سیر و تفریح آیا کرتے ہیں ۔ گویا یہ راجپوتا نہ کا مقام سیر و تفریح ہے۔ یہیں آپ کے والد ماجد کے ایک دوست ڈاکٹر ولایت حسین کا مستقلا قیام تھا۔ ڈاکٹر کے پاس اللہ تعالیٰ کا دیا سب ہی کچھ تھا لیکن اولاد کی نعمت سے محروم تھے ۔ آپ کو دیکھ کر ڈاکٹر آپ کو بے حد چاہنے لگے حتیٰ کہ ایک دن آپ کو آپ کے والد ماجد سے مانگ لیا۔ حضرت سید میر یعقوب علی نے مشیت ایزدی سمجھ کر اپنے لخت جگر کو ان کے حوالے کر دیا۔

ڈاکٹر ولایت حسین نے آپ کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی ۔ ابتدائی طور پر انگریزی اور ڈاکٹر کی تعلیم خود دی۔ بعد ازاں آپ کو بغرض تکمیل علوم بیرون ہندروانہ کردیا۔ جہاں پہلے آپ مصر تشریف لے گئے۔ وہاں دنیائے اسلام کی عظیم دینی درس گاہ جامعۃ الازھر ( قاہرہ ) سے علوم دینیہ پر دسترس حاصل کی اور سند حاصل کر کے یورپ روانہ ہو گئے۔ یورپ میں ڈاکٹریت کی بقیہ تعلیم حاصل کر کے عرصہ دراز بعد وطن عازم سفر ہوئے۔ یوں ان تمام مصارف کی سعادت محترم ڈاکٹر ولایت حسین صاحب کو عطا ہوئی۔

قیام اجمیر:
تما م علوم ظاہری سے فارغ ہو کر آپ نے والد محترم کی طرح اجمیر شریف میں مستقل قیام کو ترجیح دی ۔ ۱۹۰۴ء کو قیصر گنج اجمیر شریف میں ایک کلینک قائم کیا جس سے آپ کا م منشاء خدمت خلق اور اکل حلال کمانا تھا۔ آپ اپنے دواخانے میں غریبوں مسکینوں اور ضرورت مند مریضوں کا علاج شافی فی سبیل اللہ کرتے تھے۔

بیعت و خلافت:
ایک دن اشارہ غیبی پاکر نصیر آباد ( ضلع اجمیر ) پہنچے اور جناب خدا بخش کی معرفت حضرت قبلہ عالم عبدالشکور قدس سرہالغفور کے دستِ مبارک پر سلسلہ عالیہ قادریہ چشتیہ میں بیعت ہوئے۔

آپ کو سید ہونے کے ناطے وراثتًا برکات سیادت حاصل تھیں ۔ حضرت مرشد کریم کے فیوض و برکات اور توجہ خصوصی سے آپ نے ریاضات و مجاہدات میں کافی محنت شاقہ کی اور دو سال کے قلیل عرصہ میں آپ کو وہ کمال حاصل ہوگیا کہ جو دوسرے برسہابرس میں بھی حاصل نہ کر سکے تھے۔ ایک روز حضرت نے اپنے دست فیض اثر سے کلاہ مبارک آپ کے فرق عالی پر رکھ کر سر بلند فرمایا۔ تین مرتبہ آپ کی پشت پر دست مبارک سے تھپکی دی اور ارشاد فرمایا کہ ہم نے آپ کو اپنے بزرگان سلسلہ عالیہ رحمھم اللہ تعالیٰ اور اپنی جانب سے بیعت کرنے کی اجازت دی اور آپ کو خلافت سے سر فراز فرمایا۔

اب کیا تباوٗں میں ، مجھے مرشد نے کیا دیا
دل میں جو تھی امید کچھ اس سے سوا دیا

قاتل اسی کو کہتے ہیں ذرہ نوازیاں
دم بھر میں اک مرید کو مرشد بنایا

شادی و اولاد:
۱۹۰۴ء کو ہی آپ کی پہلی شادی آپ کے حقیقی ماموں الحاج سید علاء الدین قلعی گر کی دختر نیک اختر سیدہ سعیدہ خاتون سے ہوئی۔ ان سے ایک بیٹا سید شہید احمد تولد ہوئے۔ بیٹے کی پیدائش کے کچھ ہی عرصہ بعد سیدہ اس دار فانی سے کوچ کر گئیں ۔ بیٹے صاحب بھی نوجوانی میں ۱۸ سال کی عمر میں داغ مفارقت دے گئے۔ لاہور کا سکھ خاندان آپ کے دست حق پرست پر مشرف بہ اسلام ہوا۔ اسی خاندان کی ایک صاحبزادی جن کا اسلامی نام رحمت بی بی تھا۔ پہلی شریک حیات کے وصال کے بعد آپ کے عقد میں آئیں ۔ ان کے بطن سے کوئی اولاد پیدا نہیں ہوئی۔

۱۹۲۵ء کو حضرت مولانا جمال الدین رامپوری کی صاحبزادی تصویر النساء خاتون سے تیسری شادی ہوئی۔ اس کے بطن سے جو اولاد ہوئی اس کی تفصیل اس طرح ہے:

۱۔ سید محمد رضاء الانبیاء شاہ رومی
۲۔ سیدہ جمیلہ خاتون
۳۔ سیدہ حسینہ خاتون                         
۴۔ سید ضیاء الانبیاء شاہ
۵۔ سیدہ رضیہ خاتون                         
۶۔ سیدہ نسیمہ خاتون
۷۔ سیدہ حبیبہ خاتون                         
۸۔ سیدہ شکیلہ خاتون
۹۔ سیدہ ساجدہ خاتون                        
۱۰۔ سید ثناء الانبیاء شاہ
1
آپ کی تین صاحبزادیاں اور ایک صاحبزادے اجمیر شریف میں ہی داغ مفارقت دے گئے تھے ۔ سید ہ حبیبہ خاتون چھ سال کی عمر میں سیدہ جمیلہ خاتون ۱۶ سال کی عمر میں سیدہ حسینہ خاتون ۱۳ ماہ کی عمر میں اور صاحبزادہ ضیاء الانبیاء ۱۸ ماہ کی عمر میں انتقال کر گئے۔ بمبئی میں قیام کے دوران دو صاحبزادیوں سیدہ نسیمہ خاتون اور سیدہ شکیلہ خاتون نے بالترتیب ۷ سال اور ۱۶ ماہ کی عمر میں انتقال کیا اور یہاں کراچی میں سیدہ رضیہ خاتون ۱۸ سال کی عمر میں داغ مفارقت دے گئیں ۔ آپ میوہ شاہ قبرستان میں مدفون ہیں ۔

آپ کے دو صاحبزاد ے سید میر رضا الانبیاء شاہ قادری المعروف پیررومی (۲) سید میر ثناء الانبیاء شاہ اور صاحبزادی سیدہ ساجدہ خاتون سیدا سد علی کے حبالہٗ عقد میں ہیں ۔ تینوں صاحب اولاد ہیں اور اپنے سلسلہ کی ترویج میں مصروف رہے ۔

آپ کی چوتھی شادی ۱۹۳۶ء کو جناب ماسٹر ابو الحسن خان صاحب کی صاحبزادی زہرہ خانم سے احمد آباد ( بھارت ) میں ہوئی۔ اس کے بطن سے سید نثار الانبیاء شاہ بمبئی میں پیدا ہوئے۔ ان کے سوا ان کے بطن سے اور کوئی اولاد نہیں ہوئی ۔

شاعری:
آپ جن دنوں اجمیر شریف میں ہسپتال کے انتظام و انصرام میں مصروف تھے۔ اس زمانے میں ہندوستان کے مشہور و معروف شاعر حضرت سیماب اکبر آبادی کی شاگردی کو اپنی شاعری کیلئے ضروری سمجھا۔

آپ ایک شاعر باکمال اور استاد سخن کی حیثیت سے نہ صرف اجمیر شریف بلکہ ہندوستان کی ادبی محافل اور حلقوں میں شہرت خصوصی رکھتے تھے۔ اور محفل مشاعرہ میں شرکت فرمایا کرتے تھے۔ شاعر ی کا نمونہ پیش خدمت ہے:

شاہ دنیا و دیں محی الدین
مہر و ماہ مبین محی الدین

آپ سن لیں کہیں محی الدین
داستان حزیں محی الدین

اپنے جد کے امین محی الدین
محی الدین مبین محی الدین

اب میں فریاد بھی کروں کس سے
کوئی سنتا نہیں محی الدین

آج آسان میری مشکل ہو
کوئی مشکل نہیں محی الدین

اک بھکاری پکارتا ہے تمہیں
کیا سنا ہی نہیں محی الدین

اس زمین پر اس آسماں کے تلے
تم سا قادر نہیں محی الدین

میرے ایماں میں تازگی دیدو
تاجدار یقیں محی الدین

کون ہے دستگیر قاتل کا
بس تمہیں ہو تمہیں محی الدین

( بحوالہ عین القادر ۱۹۹۰ء )

تصنیف و تالیف:
آپ کے کلام کا بیشتر ذخیرہ اجمیرشریف میں ہی ضائع ہو گیا۔ آپ کی شعری تصانیف میں ایک ’’نظم دل پذیر ‘‘ جو سید نا غوث الاعظم جیلانی قدس سرہ کی ایک کرامت پر مبنی ہے۔ کتابی صورت میں پہلے اجمیر شریف اور بار دیگر بمبئی سے شائع ہو چکی ہے۔

۱۔ روضۃ الرضا ( مطبوعہ ملتان )
۲۔ گلہائے عقیدت
۳۔ کیف بغداد
۴۔ مرقع قاتل

تبلیغ:
دربار شیخ سے خلافت کا منصب جلیل عطا ہونے کے بعد آپ نے اپنی تمام زندگی تبلیغ سلسلہ عالیہ قادریہ چشتیہ کیلئے وقف کر دی اور تبلیغ سلسلہ عالیہ کے فرض کی ادائیگی میں ہمہ تن کوشش فرماتے رہے۔ اجمیر شریف مع گرد و نواح میں کمال سر گرمی سے سلسلہ عالیہ کی اشاعت فرمائی، رفتہ رفتہ پورے ہندوستان میں آپ کا سلسلہ پھیلا ، مزید برآں غیر ممالک میں بھی سلسلہ عالیہ کی شاخیں قائم ہوئیں ۔

خلفاء:
آپ کے سوانح نگار نے آپ کے خلفاء کے ضمن میں ۴۶ اسماء گرامی درج کئے ہیں ۔ ان میں سے بعض کے نام درج ذیل ہیں :

٭ صاحبزادہ سید رضا ء الانبیاء شاہ پیررومی کراچی
٭ حضرت ابو الرضا محمد عمر رضا روحی قاتلی متوفی ۱۹۷۷ء حیدرآباد سندھ

پاکستان آمد:
قیام پاکستان کے بعد آپ پاکستان آگئے اور کراچی میں مستقل قیام فرمایا۔

وصال:
حضرت سید محمد احمد صدیق شاہ قاتل نے ۲۸ ، صفر ۱۳۷۰ھ بمطابق ۹، دسمبر ۱۹۵۰ء بروز ہفتہ بوقت ۹ بجکر ۵۵ منٹ پر ۶۵ سال کی عمر میں انتقال کیا۔ مولانا عبدالحامد بدایونی قادری نے نماز جنازہ کے فرائض انجام دیئے۔ حضرت قبلہ عالم شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے قبہ میں ( جامع کلاتھ مارکیٹ ایم اے جناح روڈ کراچی میں ) تدفین ہوئی، جہاں آ پ کی مزار مرجع خلائق ہے اور سالانہ عرس نہایت عقیدت و احترام سے منایا جاتا ہے۔

[مرقع قاتل ، مرتبہ و سوانح گار مولانا شمس بریلوی مطبوعہ کراچی ندارد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کے ضروری صفحات کی نقل پاکستان ہاوٗ س نارتھ ناظم آباد کراچی سے محترم الحاج شمیم الدین صاحب نے مرحمت فرمائی جس سے فقیر نے مضمون ترتیب دیا]

( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-meer-muhammad-ahmad-siddiq
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت خواجہ شیخ یحییٰ مدنی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ (م: ۱۱۰۱ھ)

تحریر: ڈاکٹر محمد اسحاق قریشی

خواجہ ابو یوسف محی الدین یحییٰ مدنی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کو خلافت اپنے دادا شیخ محمد رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے ملی ـ

کہا گیا کہ جد امجد نے اپنے صاجزادوں سے آپ کو ترجیح دی، یہ ترجیح اعلان کر رہی ہے کہ آپ کی سیرت اور آپ کا صوفیانہ رویہ جد محترم کو زیادہ پسند آ گیا تھا، اگرچہ اجازت شیخ کی زندگی ہی میں مل گئی تھی مگر آپ نے سلسلہ بیعت ان کی وفات کے بعد جاری کیا کہ ادب کا خیال رہا ـ

روایت یہی ہے کہ اشارہ پایا تھا اس لیے شیخ حج و زیارت کے لیے روانہ ہو گئے، مدینہ منورہ یوں مقیم ہوئے کہ مستقل قیام کر لیا ـ

وصال:
تقریباً چودہ سال حاضر دربار رہے اور وہیں ۲۸ صفر ۱۱۰۱ھ کو وفات پائی ۔ جنت البقیع میں حضرت عثمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے قریب دفن ہوئے، ’’ زہے قسمت ‘‘ ـ

( حوالہ: بہارِ چشت، ص ۱۱۶ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-abu-yousuf-mohiuddin-yahya-madani
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت ابوبکر محمد دقاق رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

آپ کا اسم گرامی عبد اللہ تھا، علوم ظاہری و باطنی میں جامع تھے سیّد الطائفہ جناب شیخ بغدادی سے صحبت رہتی تھی، حضرت ابوالحسن نوری کے فیض یافتہ تھے، وفات ۲۹۱ھ میں ہوئی۔

حضرت بوبکر دقاق آنکہ بود
بندہ بوبکر سال رحلتش

ور علوم ظاہر و باطن فہیم
نیر سرور گفت ہادیٔ کریم
۲۹۰ھ

( خزینۃ الاصفیاء )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abu-bakr-muhammad-daqaq
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حکیمِ اہلِ سنت حکیم محمد موسیٰ امرتسری رحمۃ اللہ علیہ

اے حکیم اہلِ سنت موسٰی طورِ رضا
تیری بزمِ علم تھی یا جلوۂ نور ِرضا

ولادت و خاندان:
ہندوستان کی مردم خیزآباد یوں میں پنجاب کا ایک تاریخی شہرامر تسر بھی ہے۔ تقسیم ہند سے قبل یہ شہر اہلِ علم و دانش کی جو لانگاہ اور اہل عشق و عرفان کا مرکزِ فیضان تھا۔ اس کی خاک سے ایک سے بڑھکر ا یک یگانۂ روزگار اور کج کلاہان فکر و فن اٹھے اس شہر کے حوالے سے جب اہل عشق و تصوف اور ارباب علم و حکمت کی داستان چھڑ جاتی ہے تو روح میں تازگی اور دماغ میں بالید گی کی لہر دوڑ جاتی ہے مگر حوادث روز گار کی دست درازیوں نے بھی کتنے چمن اجاڑدئے آج کے امر تسر پر جب نگاہ پڑتی ہے تو عہد ماضی کے تمام حقائق ایک خواب سے معلوم ہوتے ہیں۔ حکیم محمد موسٰی چشتی امر تسری اسی شہر کے ایک علمی اور اور طبیب خاندان میں ۲۸ المظفر۱۳۴۶ھ / ۲۷ اگست ۱۹۲۷ میں پیدا ہوئے ۔

آپ رحمۃ اللہ علیہ نے قرآن مجید ناظرہ قاری کریم بخش مرحوم سے پڑھا۔ کتب فارسی مفتی عبدالرحمان ہزاروی رحمۃ اللہ علیہ مدرس مدرسہ نعمانیہ امرتسر سے پڑھیں ۔ نیز حضرت علامہ مولانا محمد عالم آسی رحمۃ اللہ علیہ سے علمی استفادہ کیا۔ کتب طب اور مثنوی حضرت مولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ کے پہلے دو دفتر والد گرامی سے پڑھے۔ علم ریاضی کی باقاعدہ تحصیل کی اور بہی کھاتے کا حساب محمد شفیع پاندے سے حاصل کیا۔

آپ نے روحانی علم حاصل کرنے کے لئے حضرت قبلہ میاں علی محمد چشتی نظامی بستی شریف (ضلع ہوشیار پور‘ بھارت) کے ہاتھ‘ پر سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ نصیریہ فخریہ میں بیعت فرمائی۔ آپ کے والد گرامی بھی حضرت قبلہ میاں صاحب سے بیعت تھے۔ گویا آپ اپنے والد گرامی کے روحانی پیر بھائی بھی ہیں۔

آپ عابد‘ زاہد‘ تہجد گزار اور علم و عرفان کے منبع تھے۔ صاحب ذوق شوق‘ وسیع القلب‘ خوش خلق اور اشفق بزرگ تھے۔ آپ کے اخلاق و اوصاف کے بارے میں پروفیسر محمد ایوب صاحب قادری رقم طراز ہیں۔

’’ حکیم صاحب نہایت وسیع القلب‘ مہمان نواز‘ علم و ادب کے شیدائی‘ معارف پرور‘ پرانی قدروں کے محافظ اور مجموعہ اخلاق و آداب ہیں۔ اب کا مطب طبی مرکز سے زیادہ علم و ادب اور تہذیب و ثقافت کا مرکز ہے۔‘‘ آپ نے ۱۹۷۴ء میں حج بیت اللہ شریف اور زیارت گنبد خضرا کا شرف حاصل کیا۔ قطب مدینہ حضرت مولانا ضیاءالدین مدنی قادری رضوی رحمۃ اللہ علیہ سے دلائل الخیرات اور قصیدہ بردہ شریف کی اجازت حاصل کی۔ حضرت مولانا مدنی رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کو اعزازی خلافت سلسلہ قادریہ رزاقیہ برکاتیہ رضویہ میں بھی عطا فرمائی۔ اس سے قبل آپ سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں صاحب مجاز تھے۔

قرآن مجید ترجمہ اعلٰی حضرت رحمۃ اللہ علیہ ( کنزالایمان ) کی ضرورت ہوتی تو حضرت علامہ مفتی سید احمد ابو البرکات رحمۃ اللہ علیہ کی بارگاہ میں جاکر حاصل کرنا پڑتا ان دنوں کنزالایمان بھی غیر مجلد ہوتا تھا اور اعلٰی حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی تصانیف سے میرے جیسے کم علم لوگ واقف ہی نہ تھے گویا اعلٰی حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے علمی مقام اور تحقیقی کام سے عوام تو عوام خواص بھی بے خبر تھے ۔ لاہور کے سنی عوام زیادہ تر حضرت مولانا عبدالقادر المعروف بہ غلام قادر بھیروی رحمۃ اللہ علیہ سے خوب متاثر تھے ۔ جہاں بھی اہلِ علم کسے پاس حاضری ہوتی یا عوام کے ساتھ بات چیت ہوتی تو لوگ مولانا غلام قادر بھیروی رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے بات کرتے ۔ حضرت قبلہ حکیم صاحب مرحوم نے ۱۹۶۸ء میں ’’مرکزی مجلس رضا‘‘ کا قیام فرمایا اور اعلٰی حضرت کا لڑیچر چھپوا کر ملک کے کونے کونے میں بلا معاوضہ تقسیم کرنا شروع کیا۔ بلکہ بیرون ملک بھی بھجواتے جس سے مخالفین کے قلوب و اذہان میں زلزلہ آگیا۔ الحمدللہ! آج اعلٰی حضرت کے تحقیقی کام پر کئی اسکالرز پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ یہ حضرت حکیم صاحب کا ہی فیضان ہے۔

’’مرکزی مجلس رضا‘‘ کے زیر اہتمام نوری مسجد ریلوے اسٹیشن لاہور میں ہر سال اعلٰی حضرت قدس سرہ کا عرس منایا جاتا تھا جس میں عوام کے علاوہ علماء کرام اور مشائخ عظام کا جم غفیر ہوتا ہے اسے حکیم صاحب کی وسیع القلبی ہی کہا جائے گا کہ چشتی مشرب رکھتے ہوئے قادری بزرگ کے عرس کا اہتمام فرماتے تھے۔ اخلاق اور خلوص کا یہ عالم کہ معمولی کام کرنے والوں کی بھی دلجوئی فرماتے تھے۔ یہ آپ ہی کا مقام تھا ورنہ علمائے کرام دوسروں کو سر اٹھانے نہیں دیتے ۔

آپ کے والد ماجد فقیر محمد چشتی رحمۃ اللہ علیہ ماہر طبیب تھے شہر امر تسر میں انتہائی کامیاب مطب کرتے تھے پابند صوم و صلوٰۃ، خوش خلق، نیک سیرت، صالح و ضع قطع کے صوفی منش انسان تھے۔ اپنے رشتے کے چچا مولوی حکیم فتح الدین سے سلسلہ چشتیہ میں فیض حاصل کیا اور ان ہی کے اشارے پر حضرت مولانا الحاج میاں علی محمد خاں سجادہ نشین بستی شریف (م۱۵ محرم الحرام ۱۳۹۵ھ) سے بیعت ہوئے ۔ تقسیم کے بعد لاہور میں مطب کیا ۱۳۱۷ھ میں آپ کا وصال
1
ہوا لاہور میں حضرت میاں میر علیہ الرحمہ کے پہلو میں قبر مبارک ہے۔ حکیم اہلِ سنت کے خاندان کے تمام بزرگ مذہباً حنفی اور مشرباً صوفی تھے طبابت آپ کا خاندانی مشغلہ ہے آپ کے تین بڑے بھائی اور ایک چھوٹے بھائی بھی طبیب ہیں اگرچہ وہ مطب نہیں کرتے۔حکیم اہلِ سنت نے تقسیم سے قبل امر تسر کے رستا خیز واقعات اور سیاسی کشمکش کے حالات اپنے سر کی آنکھوں سے دیکھے تھے ان حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں!

جب تحریک پاکستان چل رہی تھی اس وقت امر تسر میں اکثر و بیشترجلسے ہوا کرتے تھے میں نے ان جلسوں میں اکثر میں بطور سامع کے شرکت کی مسلم لیگ کے جلسے شیخ صادق حسن صاحب کے زیرانتظام ہواکرتے تھے جس میں اکثر مولانا عبدالستار خاں نیازی،راجہ غضنفر علی وغیرہ بطور مقرر تشریف لاتے تھے، مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ مولانا نیازی کا عالم شباب تھا ان کا چہرہ بجلی کے قمقموں سے زیادہ سرخ اور چمک دار ہوا کرتا تھا۔ ان سے بھی زیادہ شعلہ بیان مقرر جو امر تسر سے آئے تھے مولوی بشیر احمد اخگر تھے۔ اس طرح راولپنڈی کے سید مصطفٰی شاہ گیلانی بھی بہت اچھی تقریر کیا کرتے تھے۔ ایک آدمی اور تھا جسے لاہور والوں نے مار دیا میں اکثر لوگوں سے پوچھتا ہوں بتاؤ وہ کہاں ہیں وہ تھے پروفیسر عنایت اللہ یہ صاحب ان سے بہتر مقرر تھے یہ لوگ پورے ملک کے دورے کر کے اپنی شعلہ بیانی سے کانگریس اور احراری مقرروں کے مقابلے میں مسلم لیگ کی راہ ہموار کرتے تھے۔ ان پڑھے لکھے مقرروں کے علاوہ ایک ان پڑھ مقرر جو اس زمانہ میں بہت مشہور ہوئے لاہور مزنگ کے استاد عشق لہر تھے، استاد عشق لہر اپنی پنجابی شاعری کو اپنے مخصوص انداز میں جب پڑھتے تھے تو مجمع میں آگ لگا دیا کرتے تھے مگر پاکستان بننے کے بعد ان محنتوں کی ان قومی ہیروں کی پزیرائی کا حال دیکھتا ہوں تو مجھے افسوس ہوتا ہے۔ حکومت تحریک پاکستان کے کارکنوں اور رہنماؤں کو ہر سال ایوارڈ سے نوازتی ہے ان میں اکثر محسنوں کو نظر انداز کیا گیا۔

حکیم اہلِ سنت کے والد گرامی تحقیق و مطالعہ کا بھی بڑا پاکیزہ ذوق رکھتے تھے امر تسر میں ۲۵ ہزار کتابیں خود ان کے ذاتی کتب خانہ میں موجود تھیں مگر تقسیم کے فسادات میں غیر مسلموں نے آپ کے کتب خانہ اور مطب کو نذر آتش کر دیا۔ مگر ان تمام قربانیوں کے باوجود پاکستان میں مہاجرین کو ان کا حق نہ مل سکا۔

حکیم اہلِ سنت اپنے ایک انٹرویو میں فرماتے ہیں:

اس وقت انگریز و ہند و ہمارے مد مقابل تھے، مسلمانو ں کے سامنے آزادی اور اسلام کی سر بلندی کا نصب العین تھا، جب میرے والد صاحب کا کتب خانہ اور دوا خانہ سکھوں نے جلا دیا۔ تو اس وقت لوگ والد صاحب سے اظہار افسوس کرنے آئے تو والد صاحب کے الفاظ تھے جب پاکستان بن جائے گا تو ہم سمجھیں گے کہ ہماری یہ قربانی قبول ہو گئی ہمارا کتب خانہ امر تسر کا سب سے بڑا کتب خانہ تھا اس میں ۲۵ ہزار کتابیں تھیں۔

ان سب قربانیوں کے بعد جب میں دیکھتا ہوں اس ۱۴/ اگست کو یوم آزادی کی صبح میں اپنے دروازے پر کھڑا ہوا اپنی تسبیح گھما رہا تھا۔ میں سوچ رہاتھا کہ یہاں سے پندرہ میل سر حد ہے اور وہاں سے دس میل دور ہمارا وطن امر تسر ہے آج ہم اپنے وطن جا نہیں سکتے، اسے دیکھ نہیں سکتے، اپنے بزرگوں کی قبروں پر فاتحہ پڑھ نہیں سکتے آخر کیوں؟ اس لیے کہ ہم ایک ملک اسلام کے لئے بنانا چاہتے تھے مگر آج میں دیکھتا ہوں کہ یہ تو زنا خانہ بنا ہوا ہے میری آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔

آپ لوگوں کو اندازہ نہیں کہ لوگ کیا کچھ قربان کر کے پاکستان آئے۔ شیخ صادق جو کہ امر تسر کے بہت بڑے امیر کبیر مسلمان رہنما تھے وہ تقسیم ملک سے پہلے کروڑپتی تھے مشرقی پنجاب کا ایک ہی مسلمان تھا جس کی چار ملیں تھیں آج آپ ان کی اولاد کو پاکستان میں تلاش کر کے بتائیں؟ ایسا لگتا ہے کہ پاکستان دشمنوں کے لئے بنا ہے اس کے بنانے والوں کی اولاد کا بھی پتہ نہیں چلتا۔

حکیم اہلِ سنت کے مندرجہ بالا تا ثرات سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں پاکستان کے حامی علماء حق اور ترک وطن کرنے والے مہاجرین کے ساتھ ہونے والی نا نصافیوں کا شدید احساس تھا، وہ نظام مصطفٰی ﷺوالے پاکستان کے خواہاں تھے مگر ان کا وہ خواب شرمندۃ تعبیر نہ ہوسکا۔

تعلیم و مطب:

اپنے والد گرامی سے قرآن عظیم پڑھا، قاری کریم بخش سے قرات سیکھی، فارسی کتابیں کریما سعدی، پندنامہ، گلستاں، بوستاں، سکندرنامہ، زلیخا، احسن القواعد، اخلاق محسنی وغیرہ اور عربی صرف کی کتابیں مفتی عبدالرحمٰن ہزاروی مدرس مدرسہ نعمانیہ امر تسر سے پڑھیں۔ حضرت مولانا آسی علیہ الرحمہ کی درسگاہ سے بھی استفادہ کیا، اپنے والد ماجد سے علم طب کی تعلیم حاصلی کی، مثنوی شریف کے پہلے دو دفتر پڑھے اور انہیں کے زیر سایہ مطب کی تربیت پائی فطری ذوق علم اور کثرت مطالعہ سے تاریخ و اد ب اور تصوف و اسلامیات کے مختلف صیغوں میں درک و کمال حاصل کیا۔ عربی، فارسی، اردو، پنجابی زبان و ادب پر ان کی گہر
1
ی نظر تھی وہ علمی حلقوں میں ایک بلند پایہ ادیب اور محقق کی حیثیت سے پہچانے جاتے تھے۔

۱۲/ اگست ۱۹۴۷میں امر تسر سے پاکستان تشریف لائے، چھ ماہ تک سر گودھا میں اور پھر اپنے والد گرامی کی طلب پر لاہور چلے گئے۔ لاہور پہنچ کر والد صاحب کے ساتھ لوہاری دروازہ کے باہر مطب شروع کیا، ۱۹۴۹میں رام گلی میں علیحدہ مطب کیا۔ ان دنوں آپ ۵۵ ریلوے روڈ لاہور میں مطب چلا رہے تھے۔

حکیم اہلِ سنت نے زندگی بھر طبابت کی ۔یہی ان کا پاکیزہ ذریعہ معاش تھا۔ طبابت کرتے تھے مگر اخلاص پیشہ کہلاتے تھے، وہ کار مطب عبادت سمجھ کر انجام دیتے تھے۔ وہ حسن کے پیکر اور خدمت خلق کے خوگر تھے، تلاش رزق سے زیادہ رضائے مولٰی کے متلاشی رہتے تھے۔ خاندانی طبیب تھے فن طب میں اعلٰی مقام رکھتے تھے، وہ سچ مچ مسیحائے قوم تھے ان کا مطب جسمانی اور روحانی بیماریوں کا شفا خانہ اور دین و دانش کا مرکز ِفیضان تھا۔ بقول پروفیسر محمد ایوب قادری ’’ان کا مطب طبی مرکز سے زیادہ علم و ادب اور تہذیب و ثقافت کا مرکز ہے۔

حکیم اہلِ سنت نے کسی درسگاہ میں بیٹھ کر درس نہیں دیا مگر ان کے فیض یافتگان کی فہرست طویل ہے۔ اہل قلم اور اہل تحقیق عام طور پر ان کے پاس آتے اور حکیم صاحب بھر پور ہمدردی کے ساتھ ان کے موضوع کے حوالے سے ماخذ اور مراجع کی نشاند ہی فرماتے رہتے باتوں میں بہت سی علمی گھتیاں سلجھا دیتے اور علم و تحقیق کے پیاسوں کو سیراب فرما دیتے۔

پروفیسر محمد صدیق فرماتے ہیں:

ان کا مطب نہ صرف جسمانی مریضوں کو شفا بخش ادویات فرہم کرتا ہے بلکہ متلا شیان علم کے لئے بھی مجرب نسخے تجویز کرتا ہے جس سے وہ ہمیشہ کے لئے صحت یاب ہو جاتے ہیں

ان کی بزم دین و دانش کے ایک حال آشنا رقم طراز ہیں۔

حکیم صاحب کی شخصیت کے یوں تو کئی پہلو ہیں مگر آپ کی شخصیت کا ایک نمایاں و صف آپ کا نوجوان دانشور محققین کی حوصلہ افزائی کرنا، ان سے شفقت سے پیش آنا ہے ملک بھر کی یونیورسیٹیوں میں مختلف علوم میں پی۔ ایچ۔ ڈی۔ ایم فل کے طلبہ کو ان کے موضوع کے لئے درکار ماخذ کی نشاند ہی اور رہنمائی کے لئےآپ ایک معتبر نام کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ آپ کی مجلس میں بیٹھنے والے علم کے متلاشیوں کو آپ نے ڈاکٹر، مصنف اور اسکالر بنا دیا۔ حکیم صاحب اپنی ذات میں ایک تحریک، ایک ادارہ ہیں۔

ان کی زندگی کا ایک روحانی ورق:

حکیم اہلِ سنت اخلاص و عمل کے بھی پیکر تھے، اخلاق و معاملات میں سنت مصطفٰی ﷺکے آئینہ دار تھے احسان و تصوف کے حال آشنا اور اولیاء ومشائخ کی بارگاہوں کے ادب شناس تھے، اسلاف کی روایات کے خاموش امین اور پر جوش داعی تھے۔پیر طریقت حضرت مولانا الحاج میاں علی محمد خاں علیہ الرحمہ سے سلسلہ چشتیہ میں بیعت تھے ۱۳۹۳ھ کو مدینہ منورہ میں حاضر ہوئے، ایک عرصہ تک شہر حبیب میں قیام کا موقع ملا، وہاں دنیائے اسلام کے بڑے بڑے شیوخ اور علما کرام کی مجالس سے استفادہ کیا، شیخ العرب و العجم حضرت مولانا ضیاءالدین احمد قادری رضوی مدنی رحمۃ اللہ علیہ خلیفئہ اعلٰی حضرت فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے مجاز ہوئے ’’سلسلہ قادریہ‘‘ کے معمولات کی اجازت دی شیخ الدلائل شیخ محمد ہاشم شفرون رحمۃ اللہ علیہ سے ’’دلائل الخیرات اور قصیدہ بردہ‘‘ کی اجازتیں حاصل کیں۔

ان کا وجود فیضانِ مشائخ کا مرکزِ انوار تھا، ان کی زندگی صبر و قناعت کی پیکر تھی، ان کا مطالعہ احسان و تصوف کے دبستانوں کا خوشاچیں تھا، ان کی زبان ذکر و فکر سے معمور تھی، ان کا قلم برگذید ان اسلام کے افکار و خدمات کا ترجمان تھا، ان کی محفل افق علم کے ستاروں کی کہکشاں تھی، جہاں عشق و عرفان کی خوشبوئیں تھیں اور دین و دانش کی چاندنی تھی۔

ان کی شب دو شیں کے ہم نشیں پیر زادہ اقبال احمد فاروقی فرماتے ہیں:

آپ کی مجلس علما، ادباء، صوفیاء، شعراء، اور مؤلفین و مصنفین سے بھری رہتی ہے۔ چشتی ہیں مگر نقشبندی سلسلہ تصوف کے ترجمان ہیں، نظامی ہیں مگر مجددی تعلیمات کی اشاعت کرتے ہیں طبیب ہیں مگر اعتقادی بیماریوں کا علاج کرتےہیں۔

بڑے متواضع اور ملنسار تھے مہمانوں کی خاطر تواضع میں کوئی کمی نہیں چھوڑتے تھے، چائے کا وقت ہو تو چائے، کھانے کا وقت ہو تو کھانا ہر فصل کے ثمرات سے اپنے احباب کی تواضع کرتے تھے مگر بقول محمد حنیف جن احباب سے انھیں خاص انس تھا انھیں خمیرہ گاؤزباں کی ا یک خوراک کھلاتے تھے۔ معاملات میں بہت صاف ستھرے تھے، اپنی ذاتی کمائی کا ایک بڑا حصہ’’مرکزی مجلس رضا‘‘ اور دیگر دینی و اشاعتی اداروں پر صرف کیا مجلس کی مکمل باگ ڈور ان کے ہاتھ میں تھی مگر کبھی ایک پائی بھی اپنی ذات پر خرچ نہیں کی اس عہد بلا خیز میں وہ عزیمت و استقامت اور دیانت و صداقت کی ایک مثال تھے۔

علامہ عبدالحکیم شرف قادری اپنے ایک مکتوب میں رقم طراز ہیں۔

اخلاق کا یہ عالم ہے کہ ہر ماہ سینکڑوں روپے اپنی گرہ سے ’’مرکزی مجلس رضا‘‘ پر خرچ کرت
1
ے ہیں مجلس کی ایک پائی بھی اپنی ذات پر خرچ کرنے کے روادار نہیں ہیں۔ آج سے کچھ عرصہ پہلے انھوں نے وصیت کی تھی کہ میری وفات پر بھی ’’مجلس رضا‘‘ کے فنڈ میں سے کچھ خرچ نہ کیا جائے بلکہ اگر تجہیز و تکفین کے لئے ضرورت پڑے تو میری کتابیں فروخت کر کے کام چلایا جائے۔ غرضیکہ مجلس کے فنڈ سے اپنی ذات کو عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالٰی عنہ کی طرح بالکل الگ تھلگ رکھا اور ایک پیسہ بھی اپنی ذات پر خرچ نہیں کیا۔

ذوقِ مطالعہ اور خدمت لوح و قلم:

حکیم اہلِ سنت نے شعور کی دہلیز پر قدم رکھا تو گھر آنگن میں علم و ادب کی خوشبوئیں تھیں، دین و دانش کی جلوہ ریزیاں تھیں رنگارنگ کتب کی قوس قزح تھی، تہذیب و ثقافت کی دودھیا چاندی تھی۔ ماہرین تعلیم کا تجربہ بتاتا ہے کہ جب کوئی اخاذ طبع، محنت و مطالعہ کا خوگر، علم و ادب اور تہذیب و ثقافت کی گھنی چھاؤں میں نشو و نما پاتا ہے توکلیوں کی طرح چٹکتا ہے۔ پھولوں کی طرح مہکتا ہے۔ چاندنی کی طرح چمکتا ہے۔ چڑھتے سورج کی طرح ابھرتا ہے اور سمندروں کی طرح پھیل جاتا ہے۔

حکیم صاحب کو کتابیں جمع کرنے کا ذوق اور تحقیقی مطالعہ کا شوق اپنے پدر بزر گوار سے وراثت میں ملا تھا۔ انھیں کتابوں سے عشق کی حد تک لگاؤ تھا، انھیں اپنے ذوق کی کتاب جہاں اور جس قیمت پر بھی ملتی حاصل کر کے ہی دم لیتے۔ ان کی دلچسپی کے موضوعات مختلف تھے، مذاہب عالم، تاریخ و سیر، سوانح و تذکار، تصوف واسلامیات اور جہان رضویات ۔وہ نصف صدی سے مسلسل کتابیں جمع کر رہے تھے۔ان کی لائبریری میں نایاب کتابیں بھی دستیاب تھیں۔ انھوں نے اپنے مطب کی کمائی کا بیشتر حصہ کتابیں خریدنے میں صرف کیا تھا۔

محمد اشرف لودھی آپ کی لائبریری کے حوالے سے رقم طراز ہیں:

دوا خانہ کی بالائی منزل پر قائم کتب خانہ کی شہرت لاہور سے نکل کر نہ صرف پورے پاکستان بلکہ پوری دنیا تک پہنچ چکی ہے۔ پرانی وضع کے حکیم محمد موسٰی امر تسری کا ہاتھ جدید علمی تحقیقی کی نبض پر اتنا گہرا ہے کہ ہر نئی چھپنے والی کتاب اور دربدر کی ٹھوکریں کھانے والے قدیم نسخوں کے خریدار حکیم صاحب ہیں۔ آپ نے امر تسر میں اپنے والد صاحب کا ۲۵ ہزار کتابوں پر مشتمل کتب خانہ جل جانے کے بعد اس روایت کو پاکستان میں آکر زندہ کیا اور اپنی حیات ہی اس کتب خانہ میں اتنی نایاب اور اہم کتابیں جمع کردیں کہ نہ صرف لاہور بلکہ یورپ کے محقیقن نے لاہور آکر آپ کے کتب خانہ سے استفادہ کیا۔

لیکن اس سے بھی بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اس درویش صفت مرد قلندر نے دس ہزار کتابوں پر مشتمل اپنا پورا کتب خانہ افادہ عام کے لئے پنجاب یونیورسٹی کی لائبریری کے لئے عطیہ کردیا، علمی دنیا میں ایثار و قربانی کا یہ وہ مثالی کارنامہ ہے جو صدیوں تک یاد رکھا جائے گا۔

سکندر لوٹ کر بھی خوش نہیں دولت زمانے کی
قلندر مایۂ ہستی لٹا کر رقص کرتا ہے

حکیم اہلِ سنت ایک بلند پایہ قلم کار، دل پذیر تذکرہ نگار، عظیم محقق اور بصیرت افروز مبصر تھے، کتابوں پر ان کے تبصرے بڑی جامعیت اوراہمیت کے حامل ہوتے تھے وہ تبصرہ لکھنے سے پہلے پوری کتاب کا تنقیدی مطالعہ کرتے تھے اور پھر کسی تعلق و دوستی کی رعایت کئے بغیر جو حق ہو تا پوری جامعیت سے سپرد قلم کر دیتے، آپ نے زیادہ تبصرے مجلّہ ’’فیض الاسلام‘‘ راولپنڈی کے لئے لکھے تھے، پہلے اپنے اصلی نام سے لکھتے تھے لیکن ان کی حق گوئی اور تنقید نگاری مصنفین و مؤلفین کے لئے ناگوار خاطر ہونے لگی اور کچھ لوگ ناراضگی کا اظہار کرنے لگے تو حکیم صاحب نے ’’آثم‘‘ کے قلمی نام سے لکھنا شروع کیا پھر علامہ عرشی کے مشورے سے ’’حکیم‘‘ نام سے ادبی دنیا میں نثر و نظم کی زلفیں سنوارتے رہے اور صالح تنقید نگاری کو فروغ دیتے رہے۔آپ نے تاریخ و سیر، تصوف و اسلامیات، تنقید و ادب اور تذکار و سوانحیات کی اہم کتب پر پیش لفظ، تعارف مصنف اور مقدمے تحریر کئے ہیں ان کی تعداد بھی قریب سو (۱۰۰) تک پہنچ جاتی ہے ان میں مکتوبات امام ربانی، کشف المحجوب اور عباد الرحمٰن کے مقدمات تواہل علم و دانش کی توجہ کے مرکز بن گئے ہیں۔ اور مختلف موضوعات پر آپ کے تحقیقی، ادبی اور سوانحی مضامین و مقالات کی فہرست سو سے بھی متجاوز ہے جو پاک و ہند کے رسائل و جرائد میں شائع ہو کر علم و ادب کی دنیا میں دھوم مچا چکے ہیں۔ آپ کی مطبوعہ تصانیف حسب ذیل ہیں۔

۱۔ اذکار جمیل ’’سوانح شیخ طریقت سید برکت علی شاہ خلچبالوی۔

۲۔ مولانا غلام محمد ترنم امر تسری، احوال و آثار۔

۳۔ ذکر مغفور۔ سوانح پیر طریقت حضرت سید مغفور القادری۔

۴۔ سوانح مولانا نور احمد پسروی ثم امرتسری۔

۵۔ تذکرہ مشاہیر امرتسری۔

اے کاش! کوئی قلم کار تلاش و تحقیق اور مکمل یکسوئی کے ساتھ آپ کے منتشر قلمی جواہر کو سلک ترتیب میں سجادے تو کئی گر انقدر اور وقیع مجموعے بن جائیں۔ اور اہلِ علم و ادب کی آ
1
نکھیں پر نور اور دل مسرور ہو جائیں۔ حکیم اہلِ سنت رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے یہ انتہائی اہم اور بنیادی کام ہے جسے اولین ترجیحات میں شامل کرنا چاہیئے۔

اور اب ذکر ان کی ’’مجلس رضا‘‘ کا:

آج امام احمد رضا کا علمی شہرہ مدارس سے یونیورسٹیوں تک پہنچ چکا ہے ان کی آفاقی فکر کا غلغلہ عجم سے عرب تک سنا جا رہا ہے، ان کی عبقری شخصیت کی دھمک مشرق سے مغرب تک محسوس کی جا رہی ہے۔ دانش کدوں میں ان کی فکر و شخصیت پر ریسرچ ہو رہی ہے۔ ان کی نثر و نظم یونیورسٹیوں میں داخل نصاب ہو چکی ہے، سائنسدان ان کے فلسفیانہ نظریات پر سر دھن رہے ہیں۔ ان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر درجنوں یونیورسیٹیوں سے پی، ایچ، ڈی کی ڈگریاں تفویض کی جا چکی ہیں۔ ان کے تجدیدی اور فقہی کارناموں پر اہل قلم بے تکان لکھتے چلے جا رہے ہیں۔ بیسویں صدی عیسوی کے آخری دودہائیوں میں جتنا آپ پر لکھا گیا کسی پر نہ لکھا گیا۔ عالم اسلام کی مرکزی درسگاہ الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور نے عرس عزیزی منعقدہ یکم جمادی الآخرہ ۱۴۲۰ھ کو علما، مشائخ اور دانشوروں کے اجتماع میں یہ اعلان کر دیا۔ ’’امام احمد رضا بیسویں صدی عیسوی کی سب سے عظیم شخصیت‘‘۔ اور الجامعۃ الاشرفیہ کے مجلس شوریٰ کے رکن ڈاکٹر شرر مصباحی پکار اٹھے۔

جو کل تھا وہ رضا کے کریموں کے نام تھا
جو آج ہے وہ سارا کا سارا رضا کا ہے
ایوان نجدیت ہو کہ قصر وہابیت
سب تہس نہس ہے وہ دھماکہ رضا کاہے۔

مگر ایک دور تھا امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ بآں فضل و کمال بے نام و نشان تھا۔ سلطان شعر و سخن تھا مگر گمنام تھا، مجدد اعظم تھا مگر بدنام تھا۔ غیروں کی ریشہ دوانیاں شباب پر تھیں، حقائق کو چھپایا جا رہا تھا امام احمد رضا کا چاند سا چہرہ تعصّبات کے پردوں میں ڈھانپ دیا گیا تھا۔ اتنی بد گمانیاں پھیلا دی گئیں تھیں کہ اہل قلم اس طرف رخ ہی نہیں کرتے تھے۔

حکیم اہلِ سنت رحمۃ اللہ علیہ کو اس ماحول میں رہانہ گیا، حساس دل تھا تڑپ اٹھا۔ اور انتہائی بے سر و سامانی کے عالم میں پورے عزم و حوصلے کے ساتھ چند احباب کو لیکر میدان عمل میں اتر پڑے۔ اور ۱۹۶۸میں ’’مرکزی مجلس رضا‘‘ کی بنیاد رکھ دی۔ جس کا بنیادی مقصد امام احمد رضا اور فکر رضا کا تعارف تھا، مسلک ِاعلٰی حضرت کو عام کرنا تھا۔

حکیم اہل، سنت ’’مرکزی مجلس رضا لاہور‘‘ کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے اپنے ایک انٹرویو میں فرماتے ہیں!

مطالعہ میرا شروع سے شغف رہا ہے میرے مطالعہ کے نتیجے میں مجھے اس بات نے پریشان کیا کہ تحریک پاکستان کی تاریخ میں ان علماء نے کہ جنہوں نے کھل کر پاکستان کی مخالفت کی انگریزوں کی کاسہ لیسی کی، ان کا تذکرہ تو ہیروز (Heroes) کے طور پر ملتا ہے۔ اور اعلٰی حضرت احمد رضا بریلوی کہ جن کے حوالے سے تاریخ میں انگریز دوستی یا تعلق کا کوئی حوالہ نہیں ملتا بلکہ انگریزوں کے شدید مخالف نظر آتے ہیں ان کا سرے سے کوئی تذکرہ ہی نہیں ہے۔ میں ان سوالات کو پروفیسر ایوب قادری (جو کہ لاہور میں جب بھی تشریف لاتے ہاں قیام کرتے تھے) سے اکثر کیا کرتا مگر کیوں کہ ان کا دیوبندیت کی جانب زیادہ جھکاؤ تھا۔ اس لئے وہ میرے اس سوال کے جواب کو گول کر جاتے جس سے مجھے اعلٰی حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں پڑھنے کی مزید جستجو ہوئی یہ ۱۹۶۰کی بات ہے۔ میں نے اعلٰی حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی تصانیف جو کہ اس دور میں نایاب تھیں تلاش کر کے پڑھیں اور اس نتیجے پر پہنچا کہ اعلٰی حضرت فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ حالیہ تاریخ کی ایک مظلوم شخصیت ہیں لہٰذا ان پر کام کرنے کا ارادہ کیا اور کام شروع کر دیا۔

آپ نے مرکزی مجلس رضا لاہور سے امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کی تصانیف اعلٰی معیار پر شائع کر کے ملک اور بیرون ملک میں لاکھوں کی تعداد میں مفت تقسیم کیں، اہل قلم کو رضویات کی جانب متوجہ کیا، عنوانات اور مواد دے دے کر امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے سیکڑوں مقالات اور درجنوں کتابیں لکھوائیں۔ جو دور تھے انہیں قریب کیا، جو قریب تھے انہیں مستعد کیا، جو متنفر تھے انہیں دلائل سے ہمنوا کیا اس طرح غلط فہمیوں کے بادل چھٹنے لگے، حقائق کے اجالے پھیلنے لگے اور پھر گلستان رضا میں بہار آگئی۔ آج پروفیسر مسعود احمد کا نام رضویات پر اتھارٹی (Authority) سمجھا جاتا ہے مگر انہیں ’’جہان رضا‘‘ میں لانے والے کا نام حکیم اہلِ سنت ہے۔

پروفیسر مسعود احمد رقم طراز ہیں!

محسن اہلِ سنت محترم حکیم محمد موسٰی امرتسری اور علامہ محمد عبدالحکیم اختر شاہ جہاں پوری کی تحریک پر ۱۹۷۰میں راقم نے امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ پر کام کا آغاز کیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب جامعات و کلیات اور تحقیقی اداروں میں محققین اور دانشور امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کے علمی مقام سے واقف نہ تھے بلکہ ان اداروں میں تو امام احمد رضارحمۃ اللہ علیہ کا ذکر و فکر معیوب سمجھا جاتا تھا اور خود راقم بھی حقائق سے باخبر نہ تھا۔

جماعت اہلِ سنت کے مشہور محقق ا
1
ور مصنف حضرت علامہ عبدالحکیم شرف قادری فرماتے ہیں!

حقیقت یہ ہے کہ محترم حکیم محمد موسٰی امرتسری (علیہ الرحمۃ) نے مجلس رضا قائم کر کے اہلِ سنت و جماعت کے عوام و خواص کو پڑھنے لکھنے کا شعور عطا کیا اور مجھ جیسے نو آموز قلم کاروں کی حوصلہ افزائی ہی نہیں رہنمائی بھی کی۔ یہی وجہ تھی کہ ہم جیسے لوگ ان کےبستہ فتراک (چمڑے کے تسمے جو زمین کے عقب میں دائیں بائیں جانب شکار یا سامان باندھنے کے واسطے لگے ہوتے ہیں، شکار بند) تھے اور بڑے بڑے علم، مشائخ ان کی زیارت کے لئے آیا کرتے تھے۔

رئیس القلم علامہ ارشد القادری مصباحی بساط رضویات کا عالمی جائزہ لیتے ہوئے رقم طراز ہیں!

’’ایشیا میں ’’رضویات‘‘ پر تحقیقی کام کرنے والا سب سے قدیم ادارہ پاکستان میں ہے جو ’’مرکزی مجلس رضا‘‘ کے نام سے جانا پہچانا جاتا ہے۔ اس کا صدر دفتر لاہور میں ہے۔ ادارہ کے بانیوں میں نقیب اہلِ سنت حضرت مولانا حکیم محمد موسٰی امرتسری کا نام سنہرے حرفوں میں لکھے جانے کے قابل ہےکہ موصوف نے ادارہ کے ذریعہ سیدنا امام احمد رضا فاضل بریلوی کی عبقری شخصیت، ان کے علمی کمالات، ان کی تصنیفی خدمات ان کے زہد و تقویٰ، ان کے مقام عشق و عرفان اور ان کے تجدیدی کارناموں سے دنیا کے بہت بڑے حصے کو روشناس کرایا۔‘‘

مولانا محمود احمد قادری اپنی تلوّن مزاجی کے باوجود یہ لکھنے پر مجبور ہیں:

یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ علوم و معارف احمد رضا بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے تعارف کے لئے کئی ادارے کام کر رہے ہیں۔ سچ یہ ہے کہ اس کا جذبہ ٔسعید حکیم ِاہلِ سنت مولانا حکیم محمد موسٰی چشتی نظامی امرتسری امیر مرکزی مجس رضا لاہور نے پیدا کیا اور وہی اس کارواں کے قافلہ سالار بھی ہیں۔

حکیم اہلِ سنت نے مرکزی مجلس رضا لاہور کے پلیٹ فارم سے درجنوں کتابیں عربی، اردو، انگریزی، سندھی اور پشتو میں اٹھارہ لاکھ سے زیادہ کی تعداد میں شائع کر کے دنیا بھر میں تقسیم کرائیں اور بقول علامہ اقبال احمد فاروقی ’’آج مرکزی مجلس رضا‘‘ اشاعتی سر گرمیوں کے ساتھ ساتھ اپنے ماہنامہ ’’جہان رضا‘‘ کے صفحات پر افکار رضا کو دنیا کے گوشے گوشے تک پھیلانے میں مصروف ہے اس کا سارا کریڈٹ (Credit) حکیم محمد موسٰی مرحوم کو جاتا ہے‘‘۔ایک مخالف نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ہم نے تو مولانا احمد رضا خان بریلوی کو دفن کر دیا تھا مگر حکیم محمد موسٰی امرتسری نے انہیں زندہ کر دیا‘‘ الفضل ماشہدت بہ الاعداء۔

ان گر انقدر تاثرات کی تیز روشنی میں آپ اس نتیجے تک پہنچ چکے ہوں گے کہ حکیم اہلِ سنت گلشن رضا کی سیر کرنے والے قافلہ ہائے شوق کے میر کارواں تھے۔ جو تصنیف و اشاعت کی پر خاروادیوں میں آبلہ پائی کے درد کا احساس کئے بغیر منزل کی جانب بڑھتے ہی رہے۔ اور انہوں نے فکر رضا کی اشاعت کا پہاڑ کے برابر کارنامہ اتنی لگن، دردمندی، نظم اور اخلاص کے ساتھ انجام دیا کہ ان کی آواز صدا بصحرا ثابت نہ ہوئی بلکہ آپ کی آواز پر اہل علم و قلم، اہل نقد و نظر، مصنفین، نارشرین ،مخلصین اور معاونین کی بھیڑ جمع ہوگئی اور ’’مجلس رضا‘‘ آسمان رضا کی کہکشاں بن گئی۔

مجلس رضا کی تحریک و دعوت اور نقش عمل پر ایشیاء ویورپ اور افریقہ امریکہ میں درجنوں ادارے قائم ہوئے۔ رضا اکیڈمی لندن، رضوی انٹرنیشنل سوسائٹی افریقہ، المجمع الاسلامی مبارکپور، رضا اکیڈمی بمبئی، ادارہ تحقیقات امام احمد رضا کراچی، المجمع المصباحی مبارکپور وغیرہ وغیرہ اور اب تو امام احمد رضا کا نام و کام اتنا دلکش اور مقبول انام ہو گیا ہے کہ مخالفین و معاندین بھی امام احمد رضا کی تصانیف بڑے چاؤ سے شائع کر رہے ہیں دہلی میں تقریباً ۲۵/ ناشرین ’’کنزالایمان مع خزائن العرفان‘‘ شائع کر کے ملک کے گوشے گوشے میں پھیلا رہے ہیں جو سب کے سب دیوبندی ہیں چند دیوبندی ناشرین نے اپنے مکتبوں کا نام بھی نام رضا سے منسوب کیا ہے ’’مکتبہ رضویہ دہلی‘‘ مکتبہ رضویہ نوریہ دہلی‘‘ اور رضا بک فاؤنڈیشن کا مالک بھی بریلوی نہیں ہے۔ لیکن ابھی سر کی آنکھیں کھلی ہیں دل کی آنکھیں نہیں کھلی ہیں دل کی آنکھیں کھل گئیں تو پورا وجود نور ایمان سے جگمگا اٹھے گا اور ہماری آواز میں آواز ملا کر پکار اٹھیں گے۔

ڈال دی قلب میں عظمت مصطفٰی
سیدی اعلٰی حضرت پہ لاکھوں سلام

اے کلیم وادی طورِ رضا!

مولانا محمد ارشاد احمد رضوی مصباحی جامعہ اشرفیہ مبارک پور (انڈیا) کی شگفتہ تحریر جس نے حکیم محمد موسٰی امرتسری رحمۃ اللہ علیہ کی خدمات کو مبارک پور سے ہد یہ تحسین پیش کیا ہے۔ آپ اس ان دیکھے سکالر کی پھولوں میں گھری ہوئی باتیں ملاحظہ فرمائیں۔

اے حکیم اہلِ سنت موسٰی طورِرضا
تیری بزمِ علم تھی یا جلوۂ نور رضا

حکیم اہلِ سنت محمد موسٰی امرتسری (1927-1999) ایک تاریخ ساز شخصیت کے مالک تھے۔ ایسی ہستیاں کم کم وجود میں آتی ہیں۔ راقم پندرہ سال سے جامعہ اشرفیہ کے علمی ماحول میں موجود ہے۔ابتدا سے لے کر اب تک حکیم صاحب کا ذکر خیر، مرکزی مجلس رضا کے پلیٹ ف
1