🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
27-02-1445 ᴴ | 14-09-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
27-02-1445 ᴴ | 14-09-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت مولانا عبد الرحمٰن ضیائی پتافی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

ولادت:
نامور عالم دین ، استاد الشعر اء ، حضرت مولانا عبدالرحمن ’’ضیائی‘‘بن حضرت علامہ بہاء الدین ’’ بھائی ‘‘ پتافی کی ولادت صفر المظفر ۱۴۱۸ھ میں تحصیل میر پور ماتھیلو (ضلع گھوٹکی سندھ) میں ہوئی ۔

تعلیم و تربیت:
پرورش و تربیت اپنے والدماجد کی سر پرستی میں ہوئی۔ ناظرہ قرآن مجید اپنی والد ہ ماجدہ پڑھا جو کہ انتہائی متقی و پرہیز گار تھیں ۔ فارسی میں کریما رحیما ، گلستان ، بوستان اور سکندر نامہ وغیرہ کتابیں والد محترم سے پڑھیں ۔ عربی کی تعلیم حضرت علامہ مفتی محمد قاسم ؒ گڑھی یاسین کے پاس حاصل کی۔ دوران تعلیم ان کا انتقال ہو گیا اس لئے مولانا عبدالکریم کورائی (کور سلیمان تحصیل قمبر ضلع لاڑکانہ )کے پاس آگئے اور یہیں پڑھتے رہے اس کے بعد ماد ر علمی کی کشش آپ کو واپس لے آئی اور مدرسہ ہاشمیہ گڑھی یاسین (ضلع شکار پور ) میں مولانا مفتی محمد ابراہیم کے پاس بقیہ کتب کی تکمیل کے بعد فارغ التحصیل ہوئے ۔

درس و تدریس:
بعد فراغت مختلف مدارس میں درس دیا ۔ ہمایون شریف میں حضرت مفتی عبدالباقی ہمایونیؒ کے صاحبزادوں کو درس دیا ۔ ہمایون شریف میں حضرت مفتی عبدالباقی ہمایونیؒ کے صاحبزادوں کو درس دیا۔ اس کے بعد اپنے والد محترم کی قائم کردہ درسگاہ میں آخر عمر تک درس و تدریس کی مجلس کو قائم رکھا۔

بیعت:
شیخ طریقت حضرت خواجہ محمد عمر جان نقشبندی ؒ خانقاہ چشمہ شریف (کوئٹہ ) کے دست اقدس پر بیعت ہوئے ۔

شادی و اولاد:
دوران تعلیم شادی کی۔ اس سے تین بیٹے تولد ہوئے صاحبزادہ اکبر حافظ محمد یوسف صاحب ہیں اور حافظ رحیم بخش ’’غوثی ‘‘پتافی آپ کے بھتیجے ہیں ۔

تصنیف و تالیف:
محترم ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ صاحب رقمطراز ہیں :۔ مولانا عبدالرحمن صاحب فارسی اور سندھی کے شاعر ہیں ۔ اس وقت اپنے گوٹھ میں درس و تدریس میں فارسی اور سندھی میں کئی کتابیں آپ کی یاد گار ہیں ۔

٭ روائح العروض شرح بدر العروض (فارسی) مطبوعہ بہاولپور

٭ القول الکافی فی شرح تذکرۃ القوافی (فارسی) علم قافیہ کے متعلق غیر مطبوعہ

٭ مجموعہ الغزلیات (فارسی ، سندھی) غزلیات پر مشتمل ہے۔اس کتاب سے غزل الوحید اور روزنامہ مہران اخبار اور دیگر اخبارات و رسائل میں چھپتے رہتے تھے۔(شریعت سوانح نمبر۱۹۸۱ئ)

٭ دیوان ضیائی فارسی قلمی
٭ دیوان ضیائی سندھی قلمی
ٔ٭ ماشھیدان شرح ما مقیمان فارسی
٭ کاشف الغموض عن علم العروض

سفر حرمین شریفین:
حج بیت اللہ اور روضہ رسول ﷺ کی حاضری کی سعادت حاصل کی اور واپسی پر اکثر طبیعت نا ساز رہا کرتی تھی ۔ اور ہجر رسول پاک میں اکثر گریہ فرماتے تھے۔

سیلاب:
سن ۱۹۷۶ء میں دریائی اور بارانی سیلاب سے علاقے بہت متاثر ہوئے تھے۔ اس موقعہ پر بتواضع فرماتے:’’زمین و آسمان کی آفات و بلیات و مصائب سب میرے گناہوں کے سبب ہیں ‘‘یہ فرما کر بہت گریہ فرمایا کہ داڑھی آنسوں سے تر ہوگئی اور صلوۃ تنجینا شریف اکثر ورد میں رکھتے تھے اور اس کے ورد کی ہمیں بھی تلقین فرمایا کرتے تھے ۔

وصال:
سندھ کے نامور عالم ، بے مثال نقاش فطرت ، ثانی سعدی ، سادہ طبع ، استاد الشعراء علامہ عبدالرحمن ضیائی کو بسب علالت پنو عاقل ہسپتال میں لایا گیا انتقال سے تین دن قبل ہسپتال میں کاغذ نہ ملنے کی صورت میں ایک اخبار کے ٹکرے پر فارسی میں اپنی تاریخ وصال لکھی (جو آگے درج کی جارہی ہے) ایک روز فرمایا کہ یہاں رہنے سے کچھ فائدہ نہیں ، مجھے اپنے گوٹھ لے چلیں ۔ پنو عاقل سے میر پور ماتھیلو آئے وہاں کچھ قیام کیا۔ وہاں مولانا نے پانی طلب فرمایا لیکن نہ تھا ایک گھڑا تھا وہ بھی خالی تھا ، انکار پر فرمایا :۔

’’جاوٗ گھڑا (مٹی کا مٹکا ) دیکھو ، وہاں جا کر دیکھا تو سبحان اللہ !گھڑا سیدھا ہے اور ایک گلاس کی مقدا ر پانی موجود ہے وہ پانی پینے کے لئے پیش کیا گیا اور گھڑا اوندھا کر دیا گیا اور تقریبا ایک گھنٹہ کے بعد دوبارہ پانی طلب کیا تو وہ ہی صورتحال ۔ اس طرح آپ کی یہ کرامت بستر مرگ پر دوبار ظہور پذیر ہوئی ۔

۲۸ صفر المظفر ۱۳۹۷ھ / ۱۷ فرور ی ۱۹۷۷ء بروز جمعرات صبح ۵ بجے علامہ عبدالرحمن ضیائی نے کلمہ شہادت پڑھا اور روح مبارک پرواز کر گئی ۔ اس وقت میت کو گوٹھ ‘‘ مولوی بہاء الدین ’’پہنچایا گیا ۔ جہاں نماز جنازہ ہوئی جس میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی نماز جنازہ استاد الحفاظ حضرت حافظ عبدالستار قادری صاحب مہتمم مدرسہ گوٹھ جھنگاں ڈھر کی کی امامت میں اد اکی گئی ۔ بعد نماز جنازہ آپ کو حضرت مولانا بہاوٗ الدین بھائی کے روضہ میں سپرد خاک کیا گیا۔

(مضمون نگار حافظ رحیم بخش غوثی ، الراشدر جب شعبان ۱۳۹۷ھ)

( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-rahman-ziaee-patafi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت ابوالقاسم شاہ سید میر محمد احمد صدیق رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

المتلخص بہ قاتل لکھنوی الاجمیری قادری

حضرت مولانا سید محمد احمد صدیق شاہ بن حضرت سید میر یعقوب علی شاہ ، ۱۴ جنوری ۱۸۸۵ء کو لکھنوٗ ( بھارت ) میں تولد ہوئے۔ والدہ ماجدہ نے ہمیشہ آپ کو باوضو ہو کر دودھ پلایا۔ عالم کم سنی میں بچوں میں کھیل کود کے دوران اکثر آپ پر سکوت طاری ہو جاتا اور آپ عالم تفکر کی گہرائیوں میں ڈوب جاتے ۔ کافر دیر تک دنیا و مافیہا سے بے خبر رہتے ۔ آپ کا نام محمد احمد صدیق ، کنیت ابو القاسم ، تخلص : قاتل ، خطاب ادبی شیف الکلام ، نسب حسنی و حسینی سید، مسلکا اہل سنت و جماعت ، مذہبا حنفی ۔

تعلیم و تربیت:
ابتدائی تعلیم لکھنوٗ میں حاصل کی۔ بعد ازاں آپ کے والد محترم لکھنوٗ کی سکونت ترک کر کے اجمیر شریف کے محلہ مکیری میں قیام پذیر ہوئے تو آپ نے اجمیر شریف میں حصول علم کا دوبارہ آغاز کیا ۔ لیکن کچھ ہی عرصہ کے بعد آپ کے والد محترم کا تبادلہ ( بسلسلہ ملازمت ریلوے گارڈ ) آبوروڈ ہوگیا۔ ماوٗنٹ ، آبو، راجپوتانہ ہندوستان کا ایک مشہور و معروف پہاڑ ہے۔ موسم گرما میں یہاں امراء ، روساء اور راجے مہاراجہ بغرض سیر و تفریح آیا کرتے ہیں ۔ گویا یہ راجپوتا نہ کا مقام سیر و تفریح ہے۔ یہیں آپ کے والد ماجد کے ایک دوست ڈاکٹر ولایت حسین کا مستقلا قیام تھا۔ ڈاکٹر کے پاس اللہ تعالیٰ کا دیا سب ہی کچھ تھا لیکن اولاد کی نعمت سے محروم تھے ۔ آپ کو دیکھ کر ڈاکٹر آپ کو بے حد چاہنے لگے حتیٰ کہ ایک دن آپ کو آپ کے والد ماجد سے مانگ لیا۔ حضرت سید میر یعقوب علی نے مشیت ایزدی سمجھ کر اپنے لخت جگر کو ان کے حوالے کر دیا۔

ڈاکٹر ولایت حسین نے آپ کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی ۔ ابتدائی طور پر انگریزی اور ڈاکٹر کی تعلیم خود دی۔ بعد ازاں آپ کو بغرض تکمیل علوم بیرون ہندروانہ کردیا۔ جہاں پہلے آپ مصر تشریف لے گئے۔ وہاں دنیائے اسلام کی عظیم دینی درس گاہ جامعۃ الازھر ( قاہرہ ) سے علوم دینیہ پر دسترس حاصل کی اور سند حاصل کر کے یورپ روانہ ہو گئے۔ یورپ میں ڈاکٹریت کی بقیہ تعلیم حاصل کر کے عرصہ دراز بعد وطن عازم سفر ہوئے۔ یوں ان تمام مصارف کی سعادت محترم ڈاکٹر ولایت حسین صاحب کو عطا ہوئی۔

قیام اجمیر:
تما م علوم ظاہری سے فارغ ہو کر آپ نے والد محترم کی طرح اجمیر شریف میں مستقل قیام کو ترجیح دی ۔ ۱۹۰۴ء کو قیصر گنج اجمیر شریف میں ایک کلینک قائم کیا جس سے آپ کا م منشاء خدمت خلق اور اکل حلال کمانا تھا۔ آپ اپنے دواخانے میں غریبوں مسکینوں اور ضرورت مند مریضوں کا علاج شافی فی سبیل اللہ کرتے تھے۔

بیعت و خلافت:
ایک دن اشارہ غیبی پاکر نصیر آباد ( ضلع اجمیر ) پہنچے اور جناب خدا بخش کی معرفت حضرت قبلہ عالم عبدالشکور قدس سرہالغفور کے دستِ مبارک پر سلسلہ عالیہ قادریہ چشتیہ میں بیعت ہوئے۔

آپ کو سید ہونے کے ناطے وراثتًا برکات سیادت حاصل تھیں ۔ حضرت مرشد کریم کے فیوض و برکات اور توجہ خصوصی سے آپ نے ریاضات و مجاہدات میں کافی محنت شاقہ کی اور دو سال کے قلیل عرصہ میں آپ کو وہ کمال حاصل ہوگیا کہ جو دوسرے برسہابرس میں بھی حاصل نہ کر سکے تھے۔ ایک روز حضرت نے اپنے دست فیض اثر سے کلاہ مبارک آپ کے فرق عالی پر رکھ کر سر بلند فرمایا۔ تین مرتبہ آپ کی پشت پر دست مبارک سے تھپکی دی اور ارشاد فرمایا کہ ہم نے آپ کو اپنے بزرگان سلسلہ عالیہ رحمھم اللہ تعالیٰ اور اپنی جانب سے بیعت کرنے کی اجازت دی اور آپ کو خلافت سے سر فراز فرمایا۔

اب کیا تباوٗں میں ، مجھے مرشد نے کیا دیا
دل میں جو تھی امید کچھ اس سے سوا دیا

قاتل اسی کو کہتے ہیں ذرہ نوازیاں
دم بھر میں اک مرید کو مرشد بنایا

شادی و اولاد:
۱۹۰۴ء کو ہی آپ کی پہلی شادی آپ کے حقیقی ماموں الحاج سید علاء الدین قلعی گر کی دختر نیک اختر سیدہ سعیدہ خاتون سے ہوئی۔ ان سے ایک بیٹا سید شہید احمد تولد ہوئے۔ بیٹے کی پیدائش کے کچھ ہی عرصہ بعد سیدہ اس دار فانی سے کوچ کر گئیں ۔ بیٹے صاحب بھی نوجوانی میں ۱۸ سال کی عمر میں داغ مفارقت دے گئے۔ لاہور کا سکھ خاندان آپ کے دست حق پرست پر مشرف بہ اسلام ہوا۔ اسی خاندان کی ایک صاحبزادی جن کا اسلامی نام رحمت بی بی تھا۔ پہلی شریک حیات کے وصال کے بعد آپ کے عقد میں آئیں ۔ ان کے بطن سے کوئی اولاد پیدا نہیں ہوئی۔

۱۹۲۵ء کو حضرت مولانا جمال الدین رامپوری کی صاحبزادی تصویر النساء خاتون سے تیسری شادی ہوئی۔ اس کے بطن سے جو اولاد ہوئی اس کی تفصیل اس طرح ہے:

۱۔ سید محمد رضاء الانبیاء شاہ رومی
۲۔ سیدہ جمیلہ خاتون
۳۔ سیدہ حسینہ خاتون                         
۴۔ سید ضیاء الانبیاء شاہ
۵۔ سیدہ رضیہ خاتون                         
۶۔ سیدہ نسیمہ خاتون
۷۔ سیدہ حبیبہ خاتون                         
۸۔ سیدہ شکیلہ خاتون
۹۔ سیدہ ساجدہ خاتون                        
۱۰۔ سید ثناء الانبیاء شاہ
1
آپ کی تین صاحبزادیاں اور ایک صاحبزادے اجمیر شریف میں ہی داغ مفارقت دے گئے تھے ۔ سید ہ حبیبہ خاتون چھ سال کی عمر میں سیدہ جمیلہ خاتون ۱۶ سال کی عمر میں سیدہ حسینہ خاتون ۱۳ ماہ کی عمر میں اور صاحبزادہ ضیاء الانبیاء ۱۸ ماہ کی عمر میں انتقال کر گئے۔ بمبئی میں قیام کے دوران دو صاحبزادیوں سیدہ نسیمہ خاتون اور سیدہ شکیلہ خاتون نے بالترتیب ۷ سال اور ۱۶ ماہ کی عمر میں انتقال کیا اور یہاں کراچی میں سیدہ رضیہ خاتون ۱۸ سال کی عمر میں داغ مفارقت دے گئیں ۔ آپ میوہ شاہ قبرستان میں مدفون ہیں ۔

آپ کے دو صاحبزاد ے سید میر رضا الانبیاء شاہ قادری المعروف پیررومی (۲) سید میر ثناء الانبیاء شاہ اور صاحبزادی سیدہ ساجدہ خاتون سیدا سد علی کے حبالہٗ عقد میں ہیں ۔ تینوں صاحب اولاد ہیں اور اپنے سلسلہ کی ترویج میں مصروف رہے ۔

آپ کی چوتھی شادی ۱۹۳۶ء کو جناب ماسٹر ابو الحسن خان صاحب کی صاحبزادی زہرہ خانم سے احمد آباد ( بھارت ) میں ہوئی۔ اس کے بطن سے سید نثار الانبیاء شاہ بمبئی میں پیدا ہوئے۔ ان کے سوا ان کے بطن سے اور کوئی اولاد نہیں ہوئی ۔

شاعری:
آپ جن دنوں اجمیر شریف میں ہسپتال کے انتظام و انصرام میں مصروف تھے۔ اس زمانے میں ہندوستان کے مشہور و معروف شاعر حضرت سیماب اکبر آبادی کی شاگردی کو اپنی شاعری کیلئے ضروری سمجھا۔

آپ ایک شاعر باکمال اور استاد سخن کی حیثیت سے نہ صرف اجمیر شریف بلکہ ہندوستان کی ادبی محافل اور حلقوں میں شہرت خصوصی رکھتے تھے۔ اور محفل مشاعرہ میں شرکت فرمایا کرتے تھے۔ شاعر ی کا نمونہ پیش خدمت ہے:

شاہ دنیا و دیں محی الدین
مہر و ماہ مبین محی الدین

آپ سن لیں کہیں محی الدین
داستان حزیں محی الدین

اپنے جد کے امین محی الدین
محی الدین مبین محی الدین

اب میں فریاد بھی کروں کس سے
کوئی سنتا نہیں محی الدین

آج آسان میری مشکل ہو
کوئی مشکل نہیں محی الدین

اک بھکاری پکارتا ہے تمہیں
کیا سنا ہی نہیں محی الدین

اس زمین پر اس آسماں کے تلے
تم سا قادر نہیں محی الدین

میرے ایماں میں تازگی دیدو
تاجدار یقیں محی الدین

کون ہے دستگیر قاتل کا
بس تمہیں ہو تمہیں محی الدین

( بحوالہ عین القادر ۱۹۹۰ء )

تصنیف و تالیف:
آپ کے کلام کا بیشتر ذخیرہ اجمیرشریف میں ہی ضائع ہو گیا۔ آپ کی شعری تصانیف میں ایک ’’نظم دل پذیر ‘‘ جو سید نا غوث الاعظم جیلانی قدس سرہ کی ایک کرامت پر مبنی ہے۔ کتابی صورت میں پہلے اجمیر شریف اور بار دیگر بمبئی سے شائع ہو چکی ہے۔

۱۔ روضۃ الرضا ( مطبوعہ ملتان )
۲۔ گلہائے عقیدت
۳۔ کیف بغداد
۴۔ مرقع قاتل

تبلیغ:
دربار شیخ سے خلافت کا منصب جلیل عطا ہونے کے بعد آپ نے اپنی تمام زندگی تبلیغ سلسلہ عالیہ قادریہ چشتیہ کیلئے وقف کر دی اور تبلیغ سلسلہ عالیہ کے فرض کی ادائیگی میں ہمہ تن کوشش فرماتے رہے۔ اجمیر شریف مع گرد و نواح میں کمال سر گرمی سے سلسلہ عالیہ کی اشاعت فرمائی، رفتہ رفتہ پورے ہندوستان میں آپ کا سلسلہ پھیلا ، مزید برآں غیر ممالک میں بھی سلسلہ عالیہ کی شاخیں قائم ہوئیں ۔

خلفاء:
آپ کے سوانح نگار نے آپ کے خلفاء کے ضمن میں ۴۶ اسماء گرامی درج کئے ہیں ۔ ان میں سے بعض کے نام درج ذیل ہیں :

٭ صاحبزادہ سید رضا ء الانبیاء شاہ پیررومی کراچی
٭ حضرت ابو الرضا محمد عمر رضا روحی قاتلی متوفی ۱۹۷۷ء حیدرآباد سندھ

پاکستان آمد:
قیام پاکستان کے بعد آپ پاکستان آگئے اور کراچی میں مستقل قیام فرمایا۔

وصال:
حضرت سید محمد احمد صدیق شاہ قاتل نے ۲۸ ، صفر ۱۳۷۰ھ بمطابق ۹، دسمبر ۱۹۵۰ء بروز ہفتہ بوقت ۹ بجکر ۵۵ منٹ پر ۶۵ سال کی عمر میں انتقال کیا۔ مولانا عبدالحامد بدایونی قادری نے نماز جنازہ کے فرائض انجام دیئے۔ حضرت قبلہ عالم شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے قبہ میں ( جامع کلاتھ مارکیٹ ایم اے جناح روڈ کراچی میں ) تدفین ہوئی، جہاں آ پ کی مزار مرجع خلائق ہے اور سالانہ عرس نہایت عقیدت و احترام سے منایا جاتا ہے۔

[مرقع قاتل ، مرتبہ و سوانح گار مولانا شمس بریلوی مطبوعہ کراچی ندارد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کے ضروری صفحات کی نقل پاکستان ہاوٗ س نارتھ ناظم آباد کراچی سے محترم الحاج شمیم الدین صاحب نے مرحمت فرمائی جس سے فقیر نے مضمون ترتیب دیا]

( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-meer-muhammad-ahmad-siddiq
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت خواجہ شیخ یحییٰ مدنی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ (م: ۱۱۰۱ھ)

تحریر: ڈاکٹر محمد اسحاق قریشی

خواجہ ابو یوسف محی الدین یحییٰ مدنی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کو خلافت اپنے دادا شیخ محمد رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے ملی ـ

کہا گیا کہ جد امجد نے اپنے صاجزادوں سے آپ کو ترجیح دی، یہ ترجیح اعلان کر رہی ہے کہ آپ کی سیرت اور آپ کا صوفیانہ رویہ جد محترم کو زیادہ پسند آ گیا تھا، اگرچہ اجازت شیخ کی زندگی ہی میں مل گئی تھی مگر آپ نے سلسلہ بیعت ان کی وفات کے بعد جاری کیا کہ ادب کا خیال رہا ـ

روایت یہی ہے کہ اشارہ پایا تھا اس لیے شیخ حج و زیارت کے لیے روانہ ہو گئے، مدینہ منورہ یوں مقیم ہوئے کہ مستقل قیام کر لیا ـ

وصال:
تقریباً چودہ سال حاضر دربار رہے اور وہیں ۲۸ صفر ۱۱۰۱ھ کو وفات پائی ۔ جنت البقیع میں حضرت عثمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے قریب دفن ہوئے، ’’ زہے قسمت ‘‘ ـ

( حوالہ: بہارِ چشت، ص ۱۱۶ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-abu-yousuf-mohiuddin-yahya-madani
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت ابوبکر محمد دقاق رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

آپ کا اسم گرامی عبد اللہ تھا، علوم ظاہری و باطنی میں جامع تھے سیّد الطائفہ جناب شیخ بغدادی سے صحبت رہتی تھی، حضرت ابوالحسن نوری کے فیض یافتہ تھے، وفات ۲۹۱ھ میں ہوئی۔

حضرت بوبکر دقاق آنکہ بود
بندہ بوبکر سال رحلتش

ور علوم ظاہر و باطن فہیم
نیر سرور گفت ہادیٔ کریم
۲۹۰ھ

( خزینۃ الاصفیاء )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abu-bakr-muhammad-daqaq
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حکیمِ اہلِ سنت حکیم محمد موسیٰ امرتسری رحمۃ اللہ علیہ

اے حکیم اہلِ سنت موسٰی طورِ رضا
تیری بزمِ علم تھی یا جلوۂ نور ِرضا

ولادت و خاندان:
ہندوستان کی مردم خیزآباد یوں میں پنجاب کا ایک تاریخی شہرامر تسر بھی ہے۔ تقسیم ہند سے قبل یہ شہر اہلِ علم و دانش کی جو لانگاہ اور اہل عشق و عرفان کا مرکزِ فیضان تھا۔ اس کی خاک سے ایک سے بڑھکر ا یک یگانۂ روزگار اور کج کلاہان فکر و فن اٹھے اس شہر کے حوالے سے جب اہل عشق و تصوف اور ارباب علم و حکمت کی داستان چھڑ جاتی ہے تو روح میں تازگی اور دماغ میں بالید گی کی لہر دوڑ جاتی ہے مگر حوادث روز گار کی دست درازیوں نے بھی کتنے چمن اجاڑدئے آج کے امر تسر پر جب نگاہ پڑتی ہے تو عہد ماضی کے تمام حقائق ایک خواب سے معلوم ہوتے ہیں۔ حکیم محمد موسٰی چشتی امر تسری اسی شہر کے ایک علمی اور اور طبیب خاندان میں ۲۸ المظفر۱۳۴۶ھ / ۲۷ اگست ۱۹۲۷ میں پیدا ہوئے ۔

آپ رحمۃ اللہ علیہ نے قرآن مجید ناظرہ قاری کریم بخش مرحوم سے پڑھا۔ کتب فارسی مفتی عبدالرحمان ہزاروی رحمۃ اللہ علیہ مدرس مدرسہ نعمانیہ امرتسر سے پڑھیں ۔ نیز حضرت علامہ مولانا محمد عالم آسی رحمۃ اللہ علیہ سے علمی استفادہ کیا۔ کتب طب اور مثنوی حضرت مولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ کے پہلے دو دفتر والد گرامی سے پڑھے۔ علم ریاضی کی باقاعدہ تحصیل کی اور بہی کھاتے کا حساب محمد شفیع پاندے سے حاصل کیا۔

آپ نے روحانی علم حاصل کرنے کے لئے حضرت قبلہ میاں علی محمد چشتی نظامی بستی شریف (ضلع ہوشیار پور‘ بھارت) کے ہاتھ‘ پر سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ نصیریہ فخریہ میں بیعت فرمائی۔ آپ کے والد گرامی بھی حضرت قبلہ میاں صاحب سے بیعت تھے۔ گویا آپ اپنے والد گرامی کے روحانی پیر بھائی بھی ہیں۔

آپ عابد‘ زاہد‘ تہجد گزار اور علم و عرفان کے منبع تھے۔ صاحب ذوق شوق‘ وسیع القلب‘ خوش خلق اور اشفق بزرگ تھے۔ آپ کے اخلاق و اوصاف کے بارے میں پروفیسر محمد ایوب صاحب قادری رقم طراز ہیں۔

’’ حکیم صاحب نہایت وسیع القلب‘ مہمان نواز‘ علم و ادب کے شیدائی‘ معارف پرور‘ پرانی قدروں کے محافظ اور مجموعہ اخلاق و آداب ہیں۔ اب کا مطب طبی مرکز سے زیادہ علم و ادب اور تہذیب و ثقافت کا مرکز ہے۔‘‘ آپ نے ۱۹۷۴ء میں حج بیت اللہ شریف اور زیارت گنبد خضرا کا شرف حاصل کیا۔ قطب مدینہ حضرت مولانا ضیاءالدین مدنی قادری رضوی رحمۃ اللہ علیہ سے دلائل الخیرات اور قصیدہ بردہ شریف کی اجازت حاصل کی۔ حضرت مولانا مدنی رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کو اعزازی خلافت سلسلہ قادریہ رزاقیہ برکاتیہ رضویہ میں بھی عطا فرمائی۔ اس سے قبل آپ سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں صاحب مجاز تھے۔

قرآن مجید ترجمہ اعلٰی حضرت رحمۃ اللہ علیہ ( کنزالایمان ) کی ضرورت ہوتی تو حضرت علامہ مفتی سید احمد ابو البرکات رحمۃ اللہ علیہ کی بارگاہ میں جاکر حاصل کرنا پڑتا ان دنوں کنزالایمان بھی غیر مجلد ہوتا تھا اور اعلٰی حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی تصانیف سے میرے جیسے کم علم لوگ واقف ہی نہ تھے گویا اعلٰی حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے علمی مقام اور تحقیقی کام سے عوام تو عوام خواص بھی بے خبر تھے ۔ لاہور کے سنی عوام زیادہ تر حضرت مولانا عبدالقادر المعروف بہ غلام قادر بھیروی رحمۃ اللہ علیہ سے خوب متاثر تھے ۔ جہاں بھی اہلِ علم کسے پاس حاضری ہوتی یا عوام کے ساتھ بات چیت ہوتی تو لوگ مولانا غلام قادر بھیروی رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے بات کرتے ۔ حضرت قبلہ حکیم صاحب مرحوم نے ۱۹۶۸ء میں ’’مرکزی مجلس رضا‘‘ کا قیام فرمایا اور اعلٰی حضرت کا لڑیچر چھپوا کر ملک کے کونے کونے میں بلا معاوضہ تقسیم کرنا شروع کیا۔ بلکہ بیرون ملک بھی بھجواتے جس سے مخالفین کے قلوب و اذہان میں زلزلہ آگیا۔ الحمدللہ! آج اعلٰی حضرت کے تحقیقی کام پر کئی اسکالرز پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ یہ حضرت حکیم صاحب کا ہی فیضان ہے۔

’’مرکزی مجلس رضا‘‘ کے زیر اہتمام نوری مسجد ریلوے اسٹیشن لاہور میں ہر سال اعلٰی حضرت قدس سرہ کا عرس منایا جاتا تھا جس میں عوام کے علاوہ علماء کرام اور مشائخ عظام کا جم غفیر ہوتا ہے اسے حکیم صاحب کی وسیع القلبی ہی کہا جائے گا کہ چشتی مشرب رکھتے ہوئے قادری بزرگ کے عرس کا اہتمام فرماتے تھے۔ اخلاق اور خلوص کا یہ عالم کہ معمولی کام کرنے والوں کی بھی دلجوئی فرماتے تھے۔ یہ آپ ہی کا مقام تھا ورنہ علمائے کرام دوسروں کو سر اٹھانے نہیں دیتے ۔

آپ کے والد ماجد فقیر محمد چشتی رحمۃ اللہ علیہ ماہر طبیب تھے شہر امر تسر میں انتہائی کامیاب مطب کرتے تھے پابند صوم و صلوٰۃ، خوش خلق، نیک سیرت، صالح و ضع قطع کے صوفی منش انسان تھے۔ اپنے رشتے کے چچا مولوی حکیم فتح الدین سے سلسلہ چشتیہ میں فیض حاصل کیا اور ان ہی کے اشارے پر حضرت مولانا الحاج میاں علی محمد خاں سجادہ نشین بستی شریف (م۱۵ محرم الحرام ۱۳۹۵ھ) سے بیعت ہوئے ۔ تقسیم کے بعد لاہور میں مطب کیا ۱۳۱۷ھ میں آپ کا وصال
1
ہوا لاہور میں حضرت میاں میر علیہ الرحمہ کے پہلو میں قبر مبارک ہے۔ حکیم اہلِ سنت کے خاندان کے تمام بزرگ مذہباً حنفی اور مشرباً صوفی تھے طبابت آپ کا خاندانی مشغلہ ہے آپ کے تین بڑے بھائی اور ایک چھوٹے بھائی بھی طبیب ہیں اگرچہ وہ مطب نہیں کرتے۔حکیم اہلِ سنت نے تقسیم سے قبل امر تسر کے رستا خیز واقعات اور سیاسی کشمکش کے حالات اپنے سر کی آنکھوں سے دیکھے تھے ان حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں!

جب تحریک پاکستان چل رہی تھی اس وقت امر تسر میں اکثر و بیشترجلسے ہوا کرتے تھے میں نے ان جلسوں میں اکثر میں بطور سامع کے شرکت کی مسلم لیگ کے جلسے شیخ صادق حسن صاحب کے زیرانتظام ہواکرتے تھے جس میں اکثر مولانا عبدالستار خاں نیازی،راجہ غضنفر علی وغیرہ بطور مقرر تشریف لاتے تھے، مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ مولانا نیازی کا عالم شباب تھا ان کا چہرہ بجلی کے قمقموں سے زیادہ سرخ اور چمک دار ہوا کرتا تھا۔ ان سے بھی زیادہ شعلہ بیان مقرر جو امر تسر سے آئے تھے مولوی بشیر احمد اخگر تھے۔ اس طرح راولپنڈی کے سید مصطفٰی شاہ گیلانی بھی بہت اچھی تقریر کیا کرتے تھے۔ ایک آدمی اور تھا جسے لاہور والوں نے مار دیا میں اکثر لوگوں سے پوچھتا ہوں بتاؤ وہ کہاں ہیں وہ تھے پروفیسر عنایت اللہ یہ صاحب ان سے بہتر مقرر تھے یہ لوگ پورے ملک کے دورے کر کے اپنی شعلہ بیانی سے کانگریس اور احراری مقرروں کے مقابلے میں مسلم لیگ کی راہ ہموار کرتے تھے۔ ان پڑھے لکھے مقرروں کے علاوہ ایک ان پڑھ مقرر جو اس زمانہ میں بہت مشہور ہوئے لاہور مزنگ کے استاد عشق لہر تھے، استاد عشق لہر اپنی پنجابی شاعری کو اپنے مخصوص انداز میں جب پڑھتے تھے تو مجمع میں آگ لگا دیا کرتے تھے مگر پاکستان بننے کے بعد ان محنتوں کی ان قومی ہیروں کی پزیرائی کا حال دیکھتا ہوں تو مجھے افسوس ہوتا ہے۔ حکومت تحریک پاکستان کے کارکنوں اور رہنماؤں کو ہر سال ایوارڈ سے نوازتی ہے ان میں اکثر محسنوں کو نظر انداز کیا گیا۔

حکیم اہلِ سنت کے والد گرامی تحقیق و مطالعہ کا بھی بڑا پاکیزہ ذوق رکھتے تھے امر تسر میں ۲۵ ہزار کتابیں خود ان کے ذاتی کتب خانہ میں موجود تھیں مگر تقسیم کے فسادات میں غیر مسلموں نے آپ کے کتب خانہ اور مطب کو نذر آتش کر دیا۔ مگر ان تمام قربانیوں کے باوجود پاکستان میں مہاجرین کو ان کا حق نہ مل سکا۔

حکیم اہلِ سنت اپنے ایک انٹرویو میں فرماتے ہیں:

اس وقت انگریز و ہند و ہمارے مد مقابل تھے، مسلمانو ں کے سامنے آزادی اور اسلام کی سر بلندی کا نصب العین تھا، جب میرے والد صاحب کا کتب خانہ اور دوا خانہ سکھوں نے جلا دیا۔ تو اس وقت لوگ والد صاحب سے اظہار افسوس کرنے آئے تو والد صاحب کے الفاظ تھے جب پاکستان بن جائے گا تو ہم سمجھیں گے کہ ہماری یہ قربانی قبول ہو گئی ہمارا کتب خانہ امر تسر کا سب سے بڑا کتب خانہ تھا اس میں ۲۵ ہزار کتابیں تھیں۔

ان سب قربانیوں کے بعد جب میں دیکھتا ہوں اس ۱۴/ اگست کو یوم آزادی کی صبح میں اپنے دروازے پر کھڑا ہوا اپنی تسبیح گھما رہا تھا۔ میں سوچ رہاتھا کہ یہاں سے پندرہ میل سر حد ہے اور وہاں سے دس میل دور ہمارا وطن امر تسر ہے آج ہم اپنے وطن جا نہیں سکتے، اسے دیکھ نہیں سکتے، اپنے بزرگوں کی قبروں پر فاتحہ پڑھ نہیں سکتے آخر کیوں؟ اس لیے کہ ہم ایک ملک اسلام کے لئے بنانا چاہتے تھے مگر آج میں دیکھتا ہوں کہ یہ تو زنا خانہ بنا ہوا ہے میری آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔

آپ لوگوں کو اندازہ نہیں کہ لوگ کیا کچھ قربان کر کے پاکستان آئے۔ شیخ صادق جو کہ امر تسر کے بہت بڑے امیر کبیر مسلمان رہنما تھے وہ تقسیم ملک سے پہلے کروڑپتی تھے مشرقی پنجاب کا ایک ہی مسلمان تھا جس کی چار ملیں تھیں آج آپ ان کی اولاد کو پاکستان میں تلاش کر کے بتائیں؟ ایسا لگتا ہے کہ پاکستان دشمنوں کے لئے بنا ہے اس کے بنانے والوں کی اولاد کا بھی پتہ نہیں چلتا۔

حکیم اہلِ سنت کے مندرجہ بالا تا ثرات سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں پاکستان کے حامی علماء حق اور ترک وطن کرنے والے مہاجرین کے ساتھ ہونے والی نا نصافیوں کا شدید احساس تھا، وہ نظام مصطفٰی ﷺوالے پاکستان کے خواہاں تھے مگر ان کا وہ خواب شرمندۃ تعبیر نہ ہوسکا۔

تعلیم و مطب:

اپنے والد گرامی سے قرآن عظیم پڑھا، قاری کریم بخش سے قرات سیکھی، فارسی کتابیں کریما سعدی، پندنامہ، گلستاں، بوستاں، سکندرنامہ، زلیخا، احسن القواعد، اخلاق محسنی وغیرہ اور عربی صرف کی کتابیں مفتی عبدالرحمٰن ہزاروی مدرس مدرسہ نعمانیہ امر تسر سے پڑھیں۔ حضرت مولانا آسی علیہ الرحمہ کی درسگاہ سے بھی استفادہ کیا، اپنے والد ماجد سے علم طب کی تعلیم حاصلی کی، مثنوی شریف کے پہلے دو دفتر پڑھے اور انہیں کے زیر سایہ مطب کی تربیت پائی فطری ذوق علم اور کثرت مطالعہ سے تاریخ و اد ب اور تصوف و اسلامیات کے مختلف صیغوں میں درک و کمال حاصل کیا۔ عربی، فارسی، اردو، پنجابی زبان و ادب پر ان کی گہر
1