🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
27-02-1445 ᴴ | 14-09-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
27-02-1445 ᴴ | 14-09-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
27-02-1445 ᴴ | 14-09-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
27-02-1445 ᴴ | 14-09-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
حضرت مولانا عبد الرحمٰن ضیائی پتافی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
ولادت:
نامور عالم دین ، استاد الشعر اء ، حضرت مولانا عبدالرحمن ’’ضیائی‘‘بن حضرت علامہ بہاء الدین ’’ بھائی ‘‘ پتافی کی ولادت صفر المظفر ۱۴۱۸ھ میں تحصیل میر پور ماتھیلو (ضلع گھوٹکی سندھ) میں ہوئی ۔
تعلیم و تربیت:
پرورش و تربیت اپنے والدماجد کی سر پرستی میں ہوئی۔ ناظرہ قرآن مجید اپنی والد ہ ماجدہ پڑھا جو کہ انتہائی متقی و پرہیز گار تھیں ۔ فارسی میں کریما رحیما ، گلستان ، بوستان اور سکندر نامہ وغیرہ کتابیں والد محترم سے پڑھیں ۔ عربی کی تعلیم حضرت علامہ مفتی محمد قاسم ؒ گڑھی یاسین کے پاس حاصل کی۔ دوران تعلیم ان کا انتقال ہو گیا اس لئے مولانا عبدالکریم کورائی (کور سلیمان تحصیل قمبر ضلع لاڑکانہ )کے پاس آگئے اور یہیں پڑھتے رہے اس کے بعد ماد ر علمی کی کشش آپ کو واپس لے آئی اور مدرسہ ہاشمیہ گڑھی یاسین (ضلع شکار پور ) میں مولانا مفتی محمد ابراہیم کے پاس بقیہ کتب کی تکمیل کے بعد فارغ التحصیل ہوئے ۔
درس و تدریس:
بعد فراغت مختلف مدارس میں درس دیا ۔ ہمایون شریف میں حضرت مفتی عبدالباقی ہمایونیؒ کے صاحبزادوں کو درس دیا ۔ ہمایون شریف میں حضرت مفتی عبدالباقی ہمایونیؒ کے صاحبزادوں کو درس دیا۔ اس کے بعد اپنے والد محترم کی قائم کردہ درسگاہ میں آخر عمر تک درس و تدریس کی مجلس کو قائم رکھا۔
بیعت:
شیخ طریقت حضرت خواجہ محمد عمر جان نقشبندی ؒ خانقاہ چشمہ شریف (کوئٹہ ) کے دست اقدس پر بیعت ہوئے ۔
شادی و اولاد:
دوران تعلیم شادی کی۔ اس سے تین بیٹے تولد ہوئے صاحبزادہ اکبر حافظ محمد یوسف صاحب ہیں اور حافظ رحیم بخش ’’غوثی ‘‘پتافی آپ کے بھتیجے ہیں ۔
تصنیف و تالیف:
محترم ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ صاحب رقمطراز ہیں :۔ مولانا عبدالرحمن صاحب فارسی اور سندھی کے شاعر ہیں ۔ اس وقت اپنے گوٹھ میں درس و تدریس میں فارسی اور سندھی میں کئی کتابیں آپ کی یاد گار ہیں ۔
٭ روائح العروض شرح بدر العروض (فارسی) مطبوعہ بہاولپور
٭ القول الکافی فی شرح تذکرۃ القوافی (فارسی) علم قافیہ کے متعلق غیر مطبوعہ
٭ مجموعہ الغزلیات (فارسی ، سندھی) غزلیات پر مشتمل ہے۔اس کتاب سے غزل الوحید اور روزنامہ مہران اخبار اور دیگر اخبارات و رسائل میں چھپتے رہتے تھے۔(شریعت سوانح نمبر۱۹۸۱ئ)
٭ دیوان ضیائی فارسی قلمی
٭ دیوان ضیائی سندھی قلمی
ٔ٭ ماشھیدان شرح ما مقیمان فارسی
٭ کاشف الغموض عن علم العروض
سفر حرمین شریفین:
حج بیت اللہ اور روضہ رسول ﷺ کی حاضری کی سعادت حاصل کی اور واپسی پر اکثر طبیعت نا ساز رہا کرتی تھی ۔ اور ہجر رسول پاک میں اکثر گریہ فرماتے تھے۔
سیلاب:
سن ۱۹۷۶ء میں دریائی اور بارانی سیلاب سے علاقے بہت متاثر ہوئے تھے۔ اس موقعہ پر بتواضع فرماتے:’’زمین و آسمان کی آفات و بلیات و مصائب سب میرے گناہوں کے سبب ہیں ‘‘یہ فرما کر بہت گریہ فرمایا کہ داڑھی آنسوں سے تر ہوگئی اور صلوۃ تنجینا شریف اکثر ورد میں رکھتے تھے اور اس کے ورد کی ہمیں بھی تلقین فرمایا کرتے تھے ۔
وصال:
سندھ کے نامور عالم ، بے مثال نقاش فطرت ، ثانی سعدی ، سادہ طبع ، استاد الشعراء علامہ عبدالرحمن ضیائی کو بسب علالت پنو عاقل ہسپتال میں لایا گیا انتقال سے تین دن قبل ہسپتال میں کاغذ نہ ملنے کی صورت میں ایک اخبار کے ٹکرے پر فارسی میں اپنی تاریخ وصال لکھی (جو آگے درج کی جارہی ہے) ایک روز فرمایا کہ یہاں رہنے سے کچھ فائدہ نہیں ، مجھے اپنے گوٹھ لے چلیں ۔ پنو عاقل سے میر پور ماتھیلو آئے وہاں کچھ قیام کیا۔ وہاں مولانا نے پانی طلب فرمایا لیکن نہ تھا ایک گھڑا تھا وہ بھی خالی تھا ، انکار پر فرمایا :۔
’’جاوٗ گھڑا (مٹی کا مٹکا ) دیکھو ، وہاں جا کر دیکھا تو سبحان اللہ !گھڑا سیدھا ہے اور ایک گلاس کی مقدا ر پانی موجود ہے وہ پانی پینے کے لئے پیش کیا گیا اور گھڑا اوندھا کر دیا گیا اور تقریبا ایک گھنٹہ کے بعد دوبارہ پانی طلب کیا تو وہ ہی صورتحال ۔ اس طرح آپ کی یہ کرامت بستر مرگ پر دوبار ظہور پذیر ہوئی ۔
۲۸ صفر المظفر ۱۳۹۷ھ / ۱۷ فرور ی ۱۹۷۷ء بروز جمعرات صبح ۵ بجے علامہ عبدالرحمن ضیائی نے کلمہ شہادت پڑھا اور روح مبارک پرواز کر گئی ۔ اس وقت میت کو گوٹھ ‘‘ مولوی بہاء الدین ’’پہنچایا گیا ۔ جہاں نماز جنازہ ہوئی جس میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی نماز جنازہ استاد الحفاظ حضرت حافظ عبدالستار قادری صاحب مہتمم مدرسہ گوٹھ جھنگاں ڈھر کی کی امامت میں اد اکی گئی ۔ بعد نماز جنازہ آپ کو حضرت مولانا بہاوٗ الدین بھائی کے روضہ میں سپرد خاک کیا گیا۔
(مضمون نگار حافظ رحیم بخش غوثی ، الراشدر جب شعبان ۱۳۹۷ھ)
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-rahman-ziaee-patafi
ولادت:
نامور عالم دین ، استاد الشعر اء ، حضرت مولانا عبدالرحمن ’’ضیائی‘‘بن حضرت علامہ بہاء الدین ’’ بھائی ‘‘ پتافی کی ولادت صفر المظفر ۱۴۱۸ھ میں تحصیل میر پور ماتھیلو (ضلع گھوٹکی سندھ) میں ہوئی ۔
تعلیم و تربیت:
پرورش و تربیت اپنے والدماجد کی سر پرستی میں ہوئی۔ ناظرہ قرآن مجید اپنی والد ہ ماجدہ پڑھا جو کہ انتہائی متقی و پرہیز گار تھیں ۔ فارسی میں کریما رحیما ، گلستان ، بوستان اور سکندر نامہ وغیرہ کتابیں والد محترم سے پڑھیں ۔ عربی کی تعلیم حضرت علامہ مفتی محمد قاسم ؒ گڑھی یاسین کے پاس حاصل کی۔ دوران تعلیم ان کا انتقال ہو گیا اس لئے مولانا عبدالکریم کورائی (کور سلیمان تحصیل قمبر ضلع لاڑکانہ )کے پاس آگئے اور یہیں پڑھتے رہے اس کے بعد ماد ر علمی کی کشش آپ کو واپس لے آئی اور مدرسہ ہاشمیہ گڑھی یاسین (ضلع شکار پور ) میں مولانا مفتی محمد ابراہیم کے پاس بقیہ کتب کی تکمیل کے بعد فارغ التحصیل ہوئے ۔
درس و تدریس:
بعد فراغت مختلف مدارس میں درس دیا ۔ ہمایون شریف میں حضرت مفتی عبدالباقی ہمایونیؒ کے صاحبزادوں کو درس دیا ۔ ہمایون شریف میں حضرت مفتی عبدالباقی ہمایونیؒ کے صاحبزادوں کو درس دیا۔ اس کے بعد اپنے والد محترم کی قائم کردہ درسگاہ میں آخر عمر تک درس و تدریس کی مجلس کو قائم رکھا۔
بیعت:
شیخ طریقت حضرت خواجہ محمد عمر جان نقشبندی ؒ خانقاہ چشمہ شریف (کوئٹہ ) کے دست اقدس پر بیعت ہوئے ۔
شادی و اولاد:
دوران تعلیم شادی کی۔ اس سے تین بیٹے تولد ہوئے صاحبزادہ اکبر حافظ محمد یوسف صاحب ہیں اور حافظ رحیم بخش ’’غوثی ‘‘پتافی آپ کے بھتیجے ہیں ۔
تصنیف و تالیف:
محترم ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ صاحب رقمطراز ہیں :۔ مولانا عبدالرحمن صاحب فارسی اور سندھی کے شاعر ہیں ۔ اس وقت اپنے گوٹھ میں درس و تدریس میں فارسی اور سندھی میں کئی کتابیں آپ کی یاد گار ہیں ۔
٭ روائح العروض شرح بدر العروض (فارسی) مطبوعہ بہاولپور
٭ القول الکافی فی شرح تذکرۃ القوافی (فارسی) علم قافیہ کے متعلق غیر مطبوعہ
٭ مجموعہ الغزلیات (فارسی ، سندھی) غزلیات پر مشتمل ہے۔اس کتاب سے غزل الوحید اور روزنامہ مہران اخبار اور دیگر اخبارات و رسائل میں چھپتے رہتے تھے۔(شریعت سوانح نمبر۱۹۸۱ئ)
٭ دیوان ضیائی فارسی قلمی
٭ دیوان ضیائی سندھی قلمی
ٔ٭ ماشھیدان شرح ما مقیمان فارسی
٭ کاشف الغموض عن علم العروض
سفر حرمین شریفین:
حج بیت اللہ اور روضہ رسول ﷺ کی حاضری کی سعادت حاصل کی اور واپسی پر اکثر طبیعت نا ساز رہا کرتی تھی ۔ اور ہجر رسول پاک میں اکثر گریہ فرماتے تھے۔
سیلاب:
سن ۱۹۷۶ء میں دریائی اور بارانی سیلاب سے علاقے بہت متاثر ہوئے تھے۔ اس موقعہ پر بتواضع فرماتے:’’زمین و آسمان کی آفات و بلیات و مصائب سب میرے گناہوں کے سبب ہیں ‘‘یہ فرما کر بہت گریہ فرمایا کہ داڑھی آنسوں سے تر ہوگئی اور صلوۃ تنجینا شریف اکثر ورد میں رکھتے تھے اور اس کے ورد کی ہمیں بھی تلقین فرمایا کرتے تھے ۔
وصال:
سندھ کے نامور عالم ، بے مثال نقاش فطرت ، ثانی سعدی ، سادہ طبع ، استاد الشعراء علامہ عبدالرحمن ضیائی کو بسب علالت پنو عاقل ہسپتال میں لایا گیا انتقال سے تین دن قبل ہسپتال میں کاغذ نہ ملنے کی صورت میں ایک اخبار کے ٹکرے پر فارسی میں اپنی تاریخ وصال لکھی (جو آگے درج کی جارہی ہے) ایک روز فرمایا کہ یہاں رہنے سے کچھ فائدہ نہیں ، مجھے اپنے گوٹھ لے چلیں ۔ پنو عاقل سے میر پور ماتھیلو آئے وہاں کچھ قیام کیا۔ وہاں مولانا نے پانی طلب فرمایا لیکن نہ تھا ایک گھڑا تھا وہ بھی خالی تھا ، انکار پر فرمایا :۔
’’جاوٗ گھڑا (مٹی کا مٹکا ) دیکھو ، وہاں جا کر دیکھا تو سبحان اللہ !گھڑا سیدھا ہے اور ایک گلاس کی مقدا ر پانی موجود ہے وہ پانی پینے کے لئے پیش کیا گیا اور گھڑا اوندھا کر دیا گیا اور تقریبا ایک گھنٹہ کے بعد دوبارہ پانی طلب کیا تو وہ ہی صورتحال ۔ اس طرح آپ کی یہ کرامت بستر مرگ پر دوبار ظہور پذیر ہوئی ۔
۲۸ صفر المظفر ۱۳۹۷ھ / ۱۷ فرور ی ۱۹۷۷ء بروز جمعرات صبح ۵ بجے علامہ عبدالرحمن ضیائی نے کلمہ شہادت پڑھا اور روح مبارک پرواز کر گئی ۔ اس وقت میت کو گوٹھ ‘‘ مولوی بہاء الدین ’’پہنچایا گیا ۔ جہاں نماز جنازہ ہوئی جس میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی نماز جنازہ استاد الحفاظ حضرت حافظ عبدالستار قادری صاحب مہتمم مدرسہ گوٹھ جھنگاں ڈھر کی کی امامت میں اد اکی گئی ۔ بعد نماز جنازہ آپ کو حضرت مولانا بہاوٗ الدین بھائی کے روضہ میں سپرد خاک کیا گیا۔
(مضمون نگار حافظ رحیم بخش غوثی ، الراشدر جب شعبان ۱۳۹۷ھ)
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-rahman-ziaee-patafi
scholars.pk
Hazrat Molana Abdul Rahman Ziaee Patafi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت ابوالقاسم شاہ سید میر محمد احمد صدیق رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
المتلخص بہ قاتل لکھنوی الاجمیری قادری
حضرت مولانا سید محمد احمد صدیق شاہ بن حضرت سید میر یعقوب علی شاہ ، ۱۴ جنوری ۱۸۸۵ء کو لکھنوٗ ( بھارت ) میں تولد ہوئے۔ والدہ ماجدہ نے ہمیشہ آپ کو باوضو ہو کر دودھ پلایا۔ عالم کم سنی میں بچوں میں کھیل کود کے دوران اکثر آپ پر سکوت طاری ہو جاتا اور آپ عالم تفکر کی گہرائیوں میں ڈوب جاتے ۔ کافر دیر تک دنیا و مافیہا سے بے خبر رہتے ۔ آپ کا نام محمد احمد صدیق ، کنیت ابو القاسم ، تخلص : قاتل ، خطاب ادبی شیف الکلام ، نسب حسنی و حسینی سید، مسلکا اہل سنت و جماعت ، مذہبا حنفی ۔
تعلیم و تربیت:
ابتدائی تعلیم لکھنوٗ میں حاصل کی۔ بعد ازاں آپ کے والد محترم لکھنوٗ کی سکونت ترک کر کے اجمیر شریف کے محلہ مکیری میں قیام پذیر ہوئے تو آپ نے اجمیر شریف میں حصول علم کا دوبارہ آغاز کیا ۔ لیکن کچھ ہی عرصہ کے بعد آپ کے والد محترم کا تبادلہ ( بسلسلہ ملازمت ریلوے گارڈ ) آبوروڈ ہوگیا۔ ماوٗنٹ ، آبو، راجپوتانہ ہندوستان کا ایک مشہور و معروف پہاڑ ہے۔ موسم گرما میں یہاں امراء ، روساء اور راجے مہاراجہ بغرض سیر و تفریح آیا کرتے ہیں ۔ گویا یہ راجپوتا نہ کا مقام سیر و تفریح ہے۔ یہیں آپ کے والد ماجد کے ایک دوست ڈاکٹر ولایت حسین کا مستقلا قیام تھا۔ ڈاکٹر کے پاس اللہ تعالیٰ کا دیا سب ہی کچھ تھا لیکن اولاد کی نعمت سے محروم تھے ۔ آپ کو دیکھ کر ڈاکٹر آپ کو بے حد چاہنے لگے حتیٰ کہ ایک دن آپ کو آپ کے والد ماجد سے مانگ لیا۔ حضرت سید میر یعقوب علی نے مشیت ایزدی سمجھ کر اپنے لخت جگر کو ان کے حوالے کر دیا۔
ڈاکٹر ولایت حسین نے آپ کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی ۔ ابتدائی طور پر انگریزی اور ڈاکٹر کی تعلیم خود دی۔ بعد ازاں آپ کو بغرض تکمیل علوم بیرون ہندروانہ کردیا۔ جہاں پہلے آپ مصر تشریف لے گئے۔ وہاں دنیائے اسلام کی عظیم دینی درس گاہ جامعۃ الازھر ( قاہرہ ) سے علوم دینیہ پر دسترس حاصل کی اور سند حاصل کر کے یورپ روانہ ہو گئے۔ یورپ میں ڈاکٹریت کی بقیہ تعلیم حاصل کر کے عرصہ دراز بعد وطن عازم سفر ہوئے۔ یوں ان تمام مصارف کی سعادت محترم ڈاکٹر ولایت حسین صاحب کو عطا ہوئی۔
قیام اجمیر:
تما م علوم ظاہری سے فارغ ہو کر آپ نے والد محترم کی طرح اجمیر شریف میں مستقل قیام کو ترجیح دی ۔ ۱۹۰۴ء کو قیصر گنج اجمیر شریف میں ایک کلینک قائم کیا جس سے آپ کا م منشاء خدمت خلق اور اکل حلال کمانا تھا۔ آپ اپنے دواخانے میں غریبوں مسکینوں اور ضرورت مند مریضوں کا علاج شافی فی سبیل اللہ کرتے تھے۔
بیعت و خلافت:
ایک دن اشارہ غیبی پاکر نصیر آباد ( ضلع اجمیر ) پہنچے اور جناب خدا بخش کی معرفت حضرت قبلہ عالم عبدالشکور قدس سرہالغفور کے دستِ مبارک پر سلسلہ عالیہ قادریہ چشتیہ میں بیعت ہوئے۔
آپ کو سید ہونے کے ناطے وراثتًا برکات سیادت حاصل تھیں ۔ حضرت مرشد کریم کے فیوض و برکات اور توجہ خصوصی سے آپ نے ریاضات و مجاہدات میں کافی محنت شاقہ کی اور دو سال کے قلیل عرصہ میں آپ کو وہ کمال حاصل ہوگیا کہ جو دوسرے برسہابرس میں بھی حاصل نہ کر سکے تھے۔ ایک روز حضرت نے اپنے دست فیض اثر سے کلاہ مبارک آپ کے فرق عالی پر رکھ کر سر بلند فرمایا۔ تین مرتبہ آپ کی پشت پر دست مبارک سے تھپکی دی اور ارشاد فرمایا کہ ہم نے آپ کو اپنے بزرگان سلسلہ عالیہ رحمھم اللہ تعالیٰ اور اپنی جانب سے بیعت کرنے کی اجازت دی اور آپ کو خلافت سے سر فراز فرمایا۔
اب کیا تباوٗں میں ، مجھے مرشد نے کیا دیا
دل میں جو تھی امید کچھ اس سے سوا دیا
قاتل اسی کو کہتے ہیں ذرہ نوازیاں
دم بھر میں اک مرید کو مرشد بنایا
شادی و اولاد:
۱۹۰۴ء کو ہی آپ کی پہلی شادی آپ کے حقیقی ماموں الحاج سید علاء الدین قلعی گر کی دختر نیک اختر سیدہ سعیدہ خاتون سے ہوئی۔ ان سے ایک بیٹا سید شہید احمد تولد ہوئے۔ بیٹے کی پیدائش کے کچھ ہی عرصہ بعد سیدہ اس دار فانی سے کوچ کر گئیں ۔ بیٹے صاحب بھی نوجوانی میں ۱۸ سال کی عمر میں داغ مفارقت دے گئے۔ لاہور کا سکھ خاندان آپ کے دست حق پرست پر مشرف بہ اسلام ہوا۔ اسی خاندان کی ایک صاحبزادی جن کا اسلامی نام رحمت بی بی تھا۔ پہلی شریک حیات کے وصال کے بعد آپ کے عقد میں آئیں ۔ ان کے بطن سے کوئی اولاد پیدا نہیں ہوئی۔
۱۹۲۵ء کو حضرت مولانا جمال الدین رامپوری کی صاحبزادی تصویر النساء خاتون سے تیسری شادی ہوئی۔ اس کے بطن سے جو اولاد ہوئی اس کی تفصیل اس طرح ہے:
۱۔ سید محمد رضاء الانبیاء شاہ رومی
۲۔ سیدہ جمیلہ خاتون
۳۔ سیدہ حسینہ خاتون
۴۔ سید ضیاء الانبیاء شاہ
۵۔ سیدہ رضیہ خاتون
۶۔ سیدہ نسیمہ خاتون
۷۔ سیدہ حبیبہ خاتون
۸۔ سیدہ شکیلہ خاتون
۹۔ سیدہ ساجدہ خاتون
۱۰۔ سید ثناء الانبیاء شاہ
المتلخص بہ قاتل لکھنوی الاجمیری قادری
حضرت مولانا سید محمد احمد صدیق شاہ بن حضرت سید میر یعقوب علی شاہ ، ۱۴ جنوری ۱۸۸۵ء کو لکھنوٗ ( بھارت ) میں تولد ہوئے۔ والدہ ماجدہ نے ہمیشہ آپ کو باوضو ہو کر دودھ پلایا۔ عالم کم سنی میں بچوں میں کھیل کود کے دوران اکثر آپ پر سکوت طاری ہو جاتا اور آپ عالم تفکر کی گہرائیوں میں ڈوب جاتے ۔ کافر دیر تک دنیا و مافیہا سے بے خبر رہتے ۔ آپ کا نام محمد احمد صدیق ، کنیت ابو القاسم ، تخلص : قاتل ، خطاب ادبی شیف الکلام ، نسب حسنی و حسینی سید، مسلکا اہل سنت و جماعت ، مذہبا حنفی ۔
تعلیم و تربیت:
ابتدائی تعلیم لکھنوٗ میں حاصل کی۔ بعد ازاں آپ کے والد محترم لکھنوٗ کی سکونت ترک کر کے اجمیر شریف کے محلہ مکیری میں قیام پذیر ہوئے تو آپ نے اجمیر شریف میں حصول علم کا دوبارہ آغاز کیا ۔ لیکن کچھ ہی عرصہ کے بعد آپ کے والد محترم کا تبادلہ ( بسلسلہ ملازمت ریلوے گارڈ ) آبوروڈ ہوگیا۔ ماوٗنٹ ، آبو، راجپوتانہ ہندوستان کا ایک مشہور و معروف پہاڑ ہے۔ موسم گرما میں یہاں امراء ، روساء اور راجے مہاراجہ بغرض سیر و تفریح آیا کرتے ہیں ۔ گویا یہ راجپوتا نہ کا مقام سیر و تفریح ہے۔ یہیں آپ کے والد ماجد کے ایک دوست ڈاکٹر ولایت حسین کا مستقلا قیام تھا۔ ڈاکٹر کے پاس اللہ تعالیٰ کا دیا سب ہی کچھ تھا لیکن اولاد کی نعمت سے محروم تھے ۔ آپ کو دیکھ کر ڈاکٹر آپ کو بے حد چاہنے لگے حتیٰ کہ ایک دن آپ کو آپ کے والد ماجد سے مانگ لیا۔ حضرت سید میر یعقوب علی نے مشیت ایزدی سمجھ کر اپنے لخت جگر کو ان کے حوالے کر دیا۔
ڈاکٹر ولایت حسین نے آپ کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی ۔ ابتدائی طور پر انگریزی اور ڈاکٹر کی تعلیم خود دی۔ بعد ازاں آپ کو بغرض تکمیل علوم بیرون ہندروانہ کردیا۔ جہاں پہلے آپ مصر تشریف لے گئے۔ وہاں دنیائے اسلام کی عظیم دینی درس گاہ جامعۃ الازھر ( قاہرہ ) سے علوم دینیہ پر دسترس حاصل کی اور سند حاصل کر کے یورپ روانہ ہو گئے۔ یورپ میں ڈاکٹریت کی بقیہ تعلیم حاصل کر کے عرصہ دراز بعد وطن عازم سفر ہوئے۔ یوں ان تمام مصارف کی سعادت محترم ڈاکٹر ولایت حسین صاحب کو عطا ہوئی۔
قیام اجمیر:
تما م علوم ظاہری سے فارغ ہو کر آپ نے والد محترم کی طرح اجمیر شریف میں مستقل قیام کو ترجیح دی ۔ ۱۹۰۴ء کو قیصر گنج اجمیر شریف میں ایک کلینک قائم کیا جس سے آپ کا م منشاء خدمت خلق اور اکل حلال کمانا تھا۔ آپ اپنے دواخانے میں غریبوں مسکینوں اور ضرورت مند مریضوں کا علاج شافی فی سبیل اللہ کرتے تھے۔
بیعت و خلافت:
ایک دن اشارہ غیبی پاکر نصیر آباد ( ضلع اجمیر ) پہنچے اور جناب خدا بخش کی معرفت حضرت قبلہ عالم عبدالشکور قدس سرہالغفور کے دستِ مبارک پر سلسلہ عالیہ قادریہ چشتیہ میں بیعت ہوئے۔
آپ کو سید ہونے کے ناطے وراثتًا برکات سیادت حاصل تھیں ۔ حضرت مرشد کریم کے فیوض و برکات اور توجہ خصوصی سے آپ نے ریاضات و مجاہدات میں کافی محنت شاقہ کی اور دو سال کے قلیل عرصہ میں آپ کو وہ کمال حاصل ہوگیا کہ جو دوسرے برسہابرس میں بھی حاصل نہ کر سکے تھے۔ ایک روز حضرت نے اپنے دست فیض اثر سے کلاہ مبارک آپ کے فرق عالی پر رکھ کر سر بلند فرمایا۔ تین مرتبہ آپ کی پشت پر دست مبارک سے تھپکی دی اور ارشاد فرمایا کہ ہم نے آپ کو اپنے بزرگان سلسلہ عالیہ رحمھم اللہ تعالیٰ اور اپنی جانب سے بیعت کرنے کی اجازت دی اور آپ کو خلافت سے سر فراز فرمایا۔
اب کیا تباوٗں میں ، مجھے مرشد نے کیا دیا
دل میں جو تھی امید کچھ اس سے سوا دیا
قاتل اسی کو کہتے ہیں ذرہ نوازیاں
دم بھر میں اک مرید کو مرشد بنایا
شادی و اولاد:
۱۹۰۴ء کو ہی آپ کی پہلی شادی آپ کے حقیقی ماموں الحاج سید علاء الدین قلعی گر کی دختر نیک اختر سیدہ سعیدہ خاتون سے ہوئی۔ ان سے ایک بیٹا سید شہید احمد تولد ہوئے۔ بیٹے کی پیدائش کے کچھ ہی عرصہ بعد سیدہ اس دار فانی سے کوچ کر گئیں ۔ بیٹے صاحب بھی نوجوانی میں ۱۸ سال کی عمر میں داغ مفارقت دے گئے۔ لاہور کا سکھ خاندان آپ کے دست حق پرست پر مشرف بہ اسلام ہوا۔ اسی خاندان کی ایک صاحبزادی جن کا اسلامی نام رحمت بی بی تھا۔ پہلی شریک حیات کے وصال کے بعد آپ کے عقد میں آئیں ۔ ان کے بطن سے کوئی اولاد پیدا نہیں ہوئی۔
۱۹۲۵ء کو حضرت مولانا جمال الدین رامپوری کی صاحبزادی تصویر النساء خاتون سے تیسری شادی ہوئی۔ اس کے بطن سے جو اولاد ہوئی اس کی تفصیل اس طرح ہے:
۱۔ سید محمد رضاء الانبیاء شاہ رومی
۲۔ سیدہ جمیلہ خاتون
۳۔ سیدہ حسینہ خاتون
۴۔ سید ضیاء الانبیاء شاہ
۵۔ سیدہ رضیہ خاتون
۶۔ سیدہ نسیمہ خاتون
۷۔ سیدہ حبیبہ خاتون
۸۔ سیدہ شکیلہ خاتون
۹۔ سیدہ ساجدہ خاتون
۱۰۔ سید ثناء الانبیاء شاہ
❤1