سوال : حضرت ابراہیم علیه السلام نے
اس مینڈهے کے گوشت کو کیا کیا تها ؟
جواب : اس مینڈهے کے گوشت کو
حضرت ابراہیم علیه السَّلام نے پرندوں
کـو کهـلا دیا تهـا کـیونکہ جـنّتی ہُـونے کے
باعـث اسپر آگ اثر نـہـیں کرتی تهـی اور
اس کے دونوں سِـینگ سـر سـمـیت کـعـبـہ
شـریف پر لـٹکا دیئے تهـے حضرت ابن زبیر
رضی الـلّٰـهُ تعالیٰ عـنـهُـمـا کے دور حکومـت
میں جب بیت الله شریف میں آگ لگی تهی
اسوقت تک سر اور سینگ لٹکے ہوئے تهے !
اسلامی حیرت انگیز معلومات سـ¹³ صـ¹²¹
بحوالہ : ابن کثیر پارہ²³ رکوع⁷ حاشیہ²¹
تفسیر جلالین شریف صـفـحہ ³⁷⁷
اس مینڈهے کے گوشت کو کیا کیا تها ؟
جواب : اس مینڈهے کے گوشت کو
حضرت ابراہیم علیه السَّلام نے پرندوں
کـو کهـلا دیا تهـا کـیونکہ جـنّتی ہُـونے کے
باعـث اسپر آگ اثر نـہـیں کرتی تهـی اور
اس کے دونوں سِـینگ سـر سـمـیت کـعـبـہ
شـریف پر لـٹکا دیئے تهـے حضرت ابن زبیر
رضی الـلّٰـهُ تعالیٰ عـنـهُـمـا کے دور حکومـت
میں جب بیت الله شریف میں آگ لگی تهی
اسوقت تک سر اور سینگ لٹکے ہوئے تهے !
اسلامی حیرت انگیز معلومات سـ¹³ صـ¹²¹
بحوالہ : ابن کثیر پارہ²³ رکوع⁷ حاشیہ²¹
تفسیر جلالین شریف صـفـحہ ³⁷⁷
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مَـکِّی و مَـدنی سُورتوں کی تعداد
اور قرآن کی کُل سورتوں کی تعداد
یاد رَکهـنے کا آسَان ترین طـریـقَـہ ‼
سورة البقره شریف کے حَوالے سے ‼
━═─────────═━
سورة البقرة میں کُل ²⁸⁶ آیات ہیں!
❶ مکی سُورتیں معلوم کرنے کا طریقہ : اگر ²⁸⁶ میں سے ² کو الگ کر دیں تو باقی⁸⁶ بَچتے ہَیں تو یہ مکی سُورتوں کی تعداد ہے !
━═─────────═━
❷ مدنی سورتیں معلوم کرنے کا طریقہ : اگر ²⁸⁶ میں سے ⁶ کو الگ کر دیں تو باقی ²⁸ بَچتے ہَیں تو یہ مدنی سُورتوں کی تعداد ہے !
━═─────────═━
❸ قرآن کی کُل سُورتیں معلوم کرنے کا طریقہ : اگر⁸⁶ اور²⁸ دُونوں کو جمع کریں تُو ٹوٹل¹¹⁴ بنتے ہیں اور یہ قرآن مجید کی تمام سُورتوں کی تعداد ہے ‼
━═─────────═━
سُبحان اللہ العظيم ﷻ ‼
یہ ہے قرآن مجید کی باریک بینی، اللہ تعالیٰ ہَم سب کو قرآن کریم پر غور و فکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
اور قرآن کی کُل سورتوں کی تعداد
یاد رَکهـنے کا آسَان ترین طـریـقَـہ ‼
سورة البقره شریف کے حَوالے سے ‼
━═─────────═━
سورة البقرة میں کُل ²⁸⁶ آیات ہیں!
❶ مکی سُورتیں معلوم کرنے کا طریقہ : اگر ²⁸⁶ میں سے ² کو الگ کر دیں تو باقی⁸⁶ بَچتے ہَیں تو یہ مکی سُورتوں کی تعداد ہے !
━═─────────═━
❷ مدنی سورتیں معلوم کرنے کا طریقہ : اگر ²⁸⁶ میں سے ⁶ کو الگ کر دیں تو باقی ²⁸ بَچتے ہَیں تو یہ مدنی سُورتوں کی تعداد ہے !
━═─────────═━
❸ قرآن کی کُل سُورتیں معلوم کرنے کا طریقہ : اگر⁸⁶ اور²⁸ دُونوں کو جمع کریں تُو ٹوٹل¹¹⁴ بنتے ہیں اور یہ قرآن مجید کی تمام سُورتوں کی تعداد ہے ‼
━═─────────═━
سُبحان اللہ العظيم ﷻ ‼
یہ ہے قرآن مجید کی باریک بینی، اللہ تعالیٰ ہَم سب کو قرآن کریم پر غور و فکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ختم قادریہ کبیر Khatme Qadiriyah.pdf
5.6 MB
🌹 ختمِ قادریہ شریف 🌹
اِس میں جو وظائِف ہَیں ان کو پڑھ کر - تمام نبی رسول عَلَیۡہِمُ السَّلَامۡ - تمام صحابہ صحابیات رَضِیَ اللهُ عَنۡهُمۡ - تمام اولیاءِ کاملین وَ علماءِ ربانیین عَلَیۡہِمُ الرَّحۡمَہۡ بالخصوص سرکارِ غَوثِ اعظم رَضِیَ اللهُ عَنۡہۡ کی بارگاہ میں ایصالِ ثواب کریں - اور تمام نبی رسول عَلَیۡہِمُ السَّلَامۡ - صحابہ صحابیات رَضِیَ اللهُ عَنۡهُمۡ - اولیاءِ کاملین وَ علماءِ ربانیین عَلَیۡہِمُ الرَّحۡمَہۡ بالخصوص سرکارِ غوثُ الاعظم رَضِیَ اللهُ عَنۡہۡ کے وسیلے سے دُعا مانگے - اِنۡ شَآءَ اللہ ﷻ دُعا قبول ہُوگی !!
اِس میں جو وظائِف ہَیں ان کو پڑھ کر - تمام نبی رسول عَلَیۡہِمُ السَّلَامۡ - تمام صحابہ صحابیات رَضِیَ اللهُ عَنۡهُمۡ - تمام اولیاءِ کاملین وَ علماءِ ربانیین عَلَیۡہِمُ الرَّحۡمَہۡ بالخصوص سرکارِ غَوثِ اعظم رَضِیَ اللهُ عَنۡہۡ کی بارگاہ میں ایصالِ ثواب کریں - اور تمام نبی رسول عَلَیۡہِمُ السَّلَامۡ - صحابہ صحابیات رَضِیَ اللهُ عَنۡهُمۡ - اولیاءِ کاملین وَ علماءِ ربانیین عَلَیۡہِمُ الرَّحۡمَہۡ بالخصوص سرکارِ غوثُ الاعظم رَضِیَ اللهُ عَنۡہۡ کے وسیلے سے دُعا مانگے - اِنۡ شَآءَ اللہ ﷻ دُعا قبول ہُوگی !!
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
· سنہ سَن سِن
سَنہ بہ معنی 'سال' کو
بعض احباب بغیر ہ کے ' سن ' لکھ دیتے ہیں جو کہ غلط ہے -
سن اور سنہ ، دو الگ الگ لفظ ہیں -
"سَنہ" ہائے مُختفی سے ہو تو اس کامعنی سال ہے، جیسے:
سَنہ ہِجْری ، سَنہ مِیلادی ، سَنہ رَواں، سَنہ عِیسْوی -
ِسن (سین کے زیر سے ) ہو تو اس کے معنی ' عمر' کے ہیں -
ان معنی میں یہ لفظ بغیر " ہ "کے ہے -
اسی سے : کم ِسن ، ِسن خورْدَہ ، ِسن رَسِیدَہ ، ِسنِ بُلوُغَت وغیرہ ہے -
میرحسن کا ایک بہت ہی پیارا شعر ہے:
برس پندرہ یاکہ سولہ کا سن
مرادوں کی راتیں ، جوانی کا دِن
سَن (سین کے زبر کے ساتھ ) ایک قسم کے پودے کو کہتے ہیں جس کی چھال سے رسیاں بناتے ہیں -
اور
سَن (مؤنث) کسی چیز کے زور سے جانے کی آواز کو کہتے ہیں ، جیسے : سَن سے گولی نکل گئی -
━═─────────═━
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
━═─────────═━
سَنہ بہ معنی 'سال' کو
بعض احباب بغیر ہ کے ' سن ' لکھ دیتے ہیں جو کہ غلط ہے -
سن اور سنہ ، دو الگ الگ لفظ ہیں -
"سَنہ" ہائے مُختفی سے ہو تو اس کامعنی سال ہے، جیسے:
سَنہ ہِجْری ، سَنہ مِیلادی ، سَنہ رَواں، سَنہ عِیسْوی -
ِسن (سین کے زیر سے ) ہو تو اس کے معنی ' عمر' کے ہیں -
ان معنی میں یہ لفظ بغیر " ہ "کے ہے -
اسی سے : کم ِسن ، ِسن خورْدَہ ، ِسن رَسِیدَہ ، ِسنِ بُلوُغَت وغیرہ ہے -
میرحسن کا ایک بہت ہی پیارا شعر ہے:
برس پندرہ یاکہ سولہ کا سن
مرادوں کی راتیں ، جوانی کا دِن
سَن (سین کے زبر کے ساتھ ) ایک قسم کے پودے کو کہتے ہیں جس کی چھال سے رسیاں بناتے ہیں -
اور
سَن (مؤنث) کسی چیز کے زور سے جانے کی آواز کو کہتے ہیں ، جیسے : سَن سے گولی نکل گئی -
━═─────────═━
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
━═─────────═━
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
نمازی کے آگے سے
کِتنی دوری سے بندہ نِکل سکتا ہے ؟
(مسئلہ)
بکر پچھلی صف میں نماز ادا کر رہا تھا اور زید کو آگے جانا تھا تبھی خالد آگیا اور کہنے لگا کہ اگر کوئی پچھلی صف میں نماز ادا کر رہا ہو اور آپ کو آگے کی صف میں جانا ہو تو آپ تین صف چھوڑ کر اس کے آگے سے جا سکتے ہیں. اس کی وضاحت فرمائیں ؟
(الجواب)
خالد غلط کہتا ہے.
چھوٹی مسجد میں تین صفوف بعد سے ہو یا تیس صفوف کوئی شخص نمازی کے سامنے سے نہیں گزر سکتا جب تک اس نمازی اور اس کے بیچ کوئی چیز حائل نہ ہو اور اگر بلا حائل گزرے تو گنہگار ہوگا.
قال الإمام رحمه الله :
نماز اگر مکان یا چھوٹی مسجد میں پڑھتا ہو تو دیوار قبلہ تک نکلنا جائز نہیں جب تک بیچ میں آڑ نہ ہو اور صحرا یا بڑی مسجد (مثلا مسجد قدس یا مسجد خوارزم) میں پڑھتا ہو توصرف موضع سجود تک نکلنے کی اجازت نہیں اس سے باہر نکل سکتا ہے.
موضع سجود کے یہ معنی ہیں کہ
آدمی جب قیام میں اہل خشوع وخضوع کی طرح اپنی نگاہ خاص جائے سجود پر جمائے یعنی جہاں سجدے میں اس کی پیشانی ہوگی تو نگاہ کا قاعدہ ہے کہ جب سامنے روک نہ ہو تو جہاں جمائے وہاں سے کچھ آگے بڑھتی ہے جہاں تک آگے بڑھ کر جائے وہ سب موضع میں ہے اس کے اندر نکلنا حرام ہے.
(فتاویٰ رضویہ، ٢٥٤/٨) والله تعالیٰ اعلم
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
کِتنی دوری سے بندہ نِکل سکتا ہے ؟
(مسئلہ)
بکر پچھلی صف میں نماز ادا کر رہا تھا اور زید کو آگے جانا تھا تبھی خالد آگیا اور کہنے لگا کہ اگر کوئی پچھلی صف میں نماز ادا کر رہا ہو اور آپ کو آگے کی صف میں جانا ہو تو آپ تین صف چھوڑ کر اس کے آگے سے جا سکتے ہیں. اس کی وضاحت فرمائیں ؟
(الجواب)
خالد غلط کہتا ہے.
چھوٹی مسجد میں تین صفوف بعد سے ہو یا تیس صفوف کوئی شخص نمازی کے سامنے سے نہیں گزر سکتا جب تک اس نمازی اور اس کے بیچ کوئی چیز حائل نہ ہو اور اگر بلا حائل گزرے تو گنہگار ہوگا.
قال الإمام رحمه الله :
نماز اگر مکان یا چھوٹی مسجد میں پڑھتا ہو تو دیوار قبلہ تک نکلنا جائز نہیں جب تک بیچ میں آڑ نہ ہو اور صحرا یا بڑی مسجد (مثلا مسجد قدس یا مسجد خوارزم) میں پڑھتا ہو توصرف موضع سجود تک نکلنے کی اجازت نہیں اس سے باہر نکل سکتا ہے.
موضع سجود کے یہ معنی ہیں کہ
آدمی جب قیام میں اہل خشوع وخضوع کی طرح اپنی نگاہ خاص جائے سجود پر جمائے یعنی جہاں سجدے میں اس کی پیشانی ہوگی تو نگاہ کا قاعدہ ہے کہ جب سامنے روک نہ ہو تو جہاں جمائے وہاں سے کچھ آگے بڑھتی ہے جہاں تک آگے بڑھ کر جائے وہ سب موضع میں ہے اس کے اندر نکلنا حرام ہے.
(فتاویٰ رضویہ، ٢٥٤/٨) والله تعالیٰ اعلم
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کرونا وائرس کی حقیقت :
سوال مولانا تاج محمد صاحب قبلہ
اَلسَّلَامُ عَلَیۡکُمۡ وَرَحۡمَةُ اللهِ تَعَالیٰ وَبَرَکَاتُه
بعد سلام عرض ہے کہ کرونا وائرس کی حقیت کیا ہے؟ اس سے بچنے کے لئے ہمیں کیا کرنا چا ہئے؟ امید ہے کہ آپ اپنی مصروفیات کے باوجود بھی میرے سوال کا جواب عنا یت فرماکر امت مسلمہ کی رہنما ئی کریں گے۔
المستفتی : سلمان رضا عرب
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
وَعَلَیۡكُمُ السَّلَامُ وَرَحۡمَةُ اللهِ تَعَالیٰ وَبَرَكَاتُه
﷽ الجواب بعون الملک الوھاب
کرونا اصل میں ایک بیماری ہے جو چائنہ سے پھیلی ہے اس کے پھیلنے کی وجہ ہے ناجائز حرام اشیاء کا کھانا جیسے کیڑے چمگاڈر بچھو وغیرہ چونکہ ان جانور وپرندوں میں جراثیم زیادہ تعداد میں پائے جاتے ہیں وہی جراثیم جب انسان کو کمزور کرلیا اور اپنی طاقت بڑھا لیا تو بیمار کرنا شروع کردیا لوگوں کا نظریہ ہے کہ کرونا وائرس کے ذریعہ یعنی اڑ کر دوسرے کو لگ جا تی ہے جس سے انسان پریشان اور بیمارہو جا تا ہے،لیکن یہ اسلام کے خلاف ہے کہ بیماری اڑکر دوسرے کونہیں لگ سکتی ہے کیونکہ یہ احادیث طیبہ کے برعکس ہے ترمذی شریف میں ہے ”حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ، حَدَّثَنَا سُفْیَانُ، عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَۃَ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَرِیرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا صَاحِبٌ لَنَا، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ قَامَ فِینَا رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَال لَا یُعْدِی شَیْءٌ شَیْءًا فَقَالَ أَعْرَابِیٌّ یَا رَسُولَ اللَّہِ، الْبَعِیرُ الْجَرِبُ الْحَشَفَۃُ نُدْبِنُہُ فَیُجْرِبُ الْإِبِلُ کُلُّہَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم فَمَنْ أَجْرَبَ الْأَوَّلَ، لَا عَدْوَی وَلَا صَفَر خَلَقَ اللَّہُ کُلَّ نَفْسٍ وَکَتَبَ حَیَاتَہَا وَرِزْقَہَا وَمَصَاءِبَہَا، قَالَ أَبُو عِیسَی وَفِی الْبَابِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَأَنَسٍ قَالَ وَسَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ صَفْوَانَ الثَّقَفِیَّ الْبَصْرِیَّ قَال سَمِعْتُ عَلِیَّ بْنَ الْمَدِینِیِّ یَقُولُ لَوْ حَلَفْتُ بَیْنَ الرُّکْنِ وَالْمَقَامِ، لَحَلَفْتُ أَنِّی لَمْ أَرَ أَحَدًا أَعْلَمَ مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَہْدِیٍّ.
(جامع ترمذی تاب تقدیر کا بیان باب عدوی صفر اور ہامہ کی نفی کے متعلق حدیث نمبر2143)
ترجمہ:۔عبداللہ بن مسعود (رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایاکسی کی بیماری دوسرے کو نہیں لگتی، ایک اعرابی (بدوی) نے عرض کیا اللہ کے رسول! خارشتی شرمگاہ والے اونٹ سے (جب اسے باڑہ میں لاتے ہیں) تو تمام اونٹ (کھجلی والے) ہوجاتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پھر پہلے کو کس نے کھجلی دی؟ کسی کی بیماری دوسرے کو نہیں لگتی ہے، اور نہ ماہ صفر کی نحوست کی کوئی حقیقت ہے، اللہ تعالیٰ نے ہر نفس کو پیدا کیا ہے اور اس کی زندگی رزق اور مصیبتوں کو لکھ دیا ہے۔
چونکہ زمانہ جاہلیت میں ان تینوں باتوں پر لوگ یقین رکھتے تھے اور اس حدیث میں ان تینوں باتوں کی نفی کی گئی ہے، اور اس حدیث میں متعدی مرض اور صفر کے سلسلے میں موجود بداعتقادی پر نکیر ہے، اہل جاہلیت کا یہ عقیدہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور فیصلے کے بغیر بیماری خود سے متعدی ہوتی ہے، یعنی خود سے پھیل جاتی ہے، اسلام نے ان کے اس اعتقاد باطل کو غلط ٹھہرایا، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا”لاعدوی“ یعنی بیماری خود سے متعدی نہیں ہوتی، اور اس کے لیے سب سے پہلے اونٹ کو کھجلی کی بیماری کیسے لگی، کی بات کہہ کر سمجھایا اور بتایا کہ کسی بیماری کا لاحق ہونا اور اس بیماری سے شفاء دینا یہ سب اللہ رب العالمین کے حکم سے ہے وہی مسبب الاسباب ہے،سب کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی بنائی ہوئی تقدیر سے ہوتا ہے۔
اس حدیث طیبہ سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ بیماری اڑ کر کسی اور کو نہیں لگ سکتی ہے البتہ اس بیماری سے پیدا ہونے والے جو جراثیم یا کٹانو یا وائرس کہاجائے وہ بہت چھوٹے ہوتے ہیں جو بغیر آلہ کے دیکھے نہیں جاسکتے وہ اڑ کر جب کسی کے ناک میں میں گھس جاتے ہیں اور ان کی تعداد زیادہ ہوتی ہے اور بندے کا جسم کمزور ہونے کی وجہ سے اسے بیمار کردہتے ہیں یہی سائنس داں کا بھی کہنا ہے یعنی بیماری اڑکر نہیں لگتی بلکہ اس کے جراثیم اڑتے ہیں اسے لئے ہمیں اس کی حفاظت کے لئے ناک منھ چھپانے کا حکم ڈاکٹر دیتے ہیں اور یہی سبق ہمیں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے نے دیا ہے حدیث شریف میں ہے”لَا تُدِیمُوا النَّظَرَ إِلَی الْمُجَذَّمِینَ، وَ إِذَا کَلَّمْتُمُوہُمْ فَلْیَکُنْ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَہُمْ قِیدُ رُمْحٍ“یعنی جذام زدہ مریضوں پر زیادہ دیر تک نظر نہ ڈالو اور جب تم ان سے کلام کرو تو تمہارے اور ان کے درمیان ایک نیزے کے برابر فاصلہ ہونا چاہئے۔(مسند احمد حدیث نمبر۵۸۱)
سوال مولانا تاج محمد صاحب قبلہ
اَلسَّلَامُ عَلَیۡکُمۡ وَرَحۡمَةُ اللهِ تَعَالیٰ وَبَرَکَاتُه
بعد سلام عرض ہے کہ کرونا وائرس کی حقیت کیا ہے؟ اس سے بچنے کے لئے ہمیں کیا کرنا چا ہئے؟ امید ہے کہ آپ اپنی مصروفیات کے باوجود بھی میرے سوال کا جواب عنا یت فرماکر امت مسلمہ کی رہنما ئی کریں گے۔
المستفتی : سلمان رضا عرب
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
وَعَلَیۡكُمُ السَّلَامُ وَرَحۡمَةُ اللهِ تَعَالیٰ وَبَرَكَاتُه
﷽ الجواب بعون الملک الوھاب
کرونا اصل میں ایک بیماری ہے جو چائنہ سے پھیلی ہے اس کے پھیلنے کی وجہ ہے ناجائز حرام اشیاء کا کھانا جیسے کیڑے چمگاڈر بچھو وغیرہ چونکہ ان جانور وپرندوں میں جراثیم زیادہ تعداد میں پائے جاتے ہیں وہی جراثیم جب انسان کو کمزور کرلیا اور اپنی طاقت بڑھا لیا تو بیمار کرنا شروع کردیا لوگوں کا نظریہ ہے کہ کرونا وائرس کے ذریعہ یعنی اڑ کر دوسرے کو لگ جا تی ہے جس سے انسان پریشان اور بیمارہو جا تا ہے،لیکن یہ اسلام کے خلاف ہے کہ بیماری اڑکر دوسرے کونہیں لگ سکتی ہے کیونکہ یہ احادیث طیبہ کے برعکس ہے ترمذی شریف میں ہے ”حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ، حَدَّثَنَا سُفْیَانُ، عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَۃَ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَرِیرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا صَاحِبٌ لَنَا، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ قَامَ فِینَا رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَال لَا یُعْدِی شَیْءٌ شَیْءًا فَقَالَ أَعْرَابِیٌّ یَا رَسُولَ اللَّہِ، الْبَعِیرُ الْجَرِبُ الْحَشَفَۃُ نُدْبِنُہُ فَیُجْرِبُ الْإِبِلُ کُلُّہَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم فَمَنْ أَجْرَبَ الْأَوَّلَ، لَا عَدْوَی وَلَا صَفَر خَلَقَ اللَّہُ کُلَّ نَفْسٍ وَکَتَبَ حَیَاتَہَا وَرِزْقَہَا وَمَصَاءِبَہَا، قَالَ أَبُو عِیسَی وَفِی الْبَابِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَأَنَسٍ قَالَ وَسَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ صَفْوَانَ الثَّقَفِیَّ الْبَصْرِیَّ قَال سَمِعْتُ عَلِیَّ بْنَ الْمَدِینِیِّ یَقُولُ لَوْ حَلَفْتُ بَیْنَ الرُّکْنِ وَالْمَقَامِ، لَحَلَفْتُ أَنِّی لَمْ أَرَ أَحَدًا أَعْلَمَ مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَہْدِیٍّ.
(جامع ترمذی تاب تقدیر کا بیان باب عدوی صفر اور ہامہ کی نفی کے متعلق حدیث نمبر2143)
ترجمہ:۔عبداللہ بن مسعود (رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایاکسی کی بیماری دوسرے کو نہیں لگتی، ایک اعرابی (بدوی) نے عرض کیا اللہ کے رسول! خارشتی شرمگاہ والے اونٹ سے (جب اسے باڑہ میں لاتے ہیں) تو تمام اونٹ (کھجلی والے) ہوجاتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پھر پہلے کو کس نے کھجلی دی؟ کسی کی بیماری دوسرے کو نہیں لگتی ہے، اور نہ ماہ صفر کی نحوست کی کوئی حقیقت ہے، اللہ تعالیٰ نے ہر نفس کو پیدا کیا ہے اور اس کی زندگی رزق اور مصیبتوں کو لکھ دیا ہے۔
چونکہ زمانہ جاہلیت میں ان تینوں باتوں پر لوگ یقین رکھتے تھے اور اس حدیث میں ان تینوں باتوں کی نفی کی گئی ہے، اور اس حدیث میں متعدی مرض اور صفر کے سلسلے میں موجود بداعتقادی پر نکیر ہے، اہل جاہلیت کا یہ عقیدہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور فیصلے کے بغیر بیماری خود سے متعدی ہوتی ہے، یعنی خود سے پھیل جاتی ہے، اسلام نے ان کے اس اعتقاد باطل کو غلط ٹھہرایا، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا”لاعدوی“ یعنی بیماری خود سے متعدی نہیں ہوتی، اور اس کے لیے سب سے پہلے اونٹ کو کھجلی کی بیماری کیسے لگی، کی بات کہہ کر سمجھایا اور بتایا کہ کسی بیماری کا لاحق ہونا اور اس بیماری سے شفاء دینا یہ سب اللہ رب العالمین کے حکم سے ہے وہی مسبب الاسباب ہے،سب کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی بنائی ہوئی تقدیر سے ہوتا ہے۔
اس حدیث طیبہ سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ بیماری اڑ کر کسی اور کو نہیں لگ سکتی ہے البتہ اس بیماری سے پیدا ہونے والے جو جراثیم یا کٹانو یا وائرس کہاجائے وہ بہت چھوٹے ہوتے ہیں جو بغیر آلہ کے دیکھے نہیں جاسکتے وہ اڑ کر جب کسی کے ناک میں میں گھس جاتے ہیں اور ان کی تعداد زیادہ ہوتی ہے اور بندے کا جسم کمزور ہونے کی وجہ سے اسے بیمار کردہتے ہیں یہی سائنس داں کا بھی کہنا ہے یعنی بیماری اڑکر نہیں لگتی بلکہ اس کے جراثیم اڑتے ہیں اسے لئے ہمیں اس کی حفاظت کے لئے ناک منھ چھپانے کا حکم ڈاکٹر دیتے ہیں اور یہی سبق ہمیں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے نے دیا ہے حدیث شریف میں ہے”لَا تُدِیمُوا النَّظَرَ إِلَی الْمُجَذَّمِینَ، وَ إِذَا کَلَّمْتُمُوہُمْ فَلْیَکُنْ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَہُمْ قِیدُ رُمْحٍ“یعنی جذام زدہ مریضوں پر زیادہ دیر تک نظر نہ ڈالو اور جب تم ان سے کلام کرو تو تمہارے اور ان کے درمیان ایک نیزے کے برابر فاصلہ ہونا چاہئے۔(مسند احمد حدیث نمبر۵۸۱)
یعنی احتیاطاً ماسک وغیرہ سے منھ کو ڈھانپ کر رکھیں جب بات کریں دوری بنائیں رکھے مگر توکل اللہ ہی کی ذات پر ہو.
اس (کرونا وائرس)سے بچنے کے لئے مندرجہ ذیل باتوں پر عمل کریں۔
(۱)اللہ تعالیٰ جل شانہ سے دعائیں مانگے، اپنے گناہوں کو یاد کرکے روئیں گڑگڑا ئیں،نیز چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے کثرت سے تو بہ اسغفار کریں۔
(۲)گانا،فلم،ڈرامے،جوا، شراب نوشی،نیز ہر قسم کے خرافات سے دور رہیں۔
(۳)نماز کی پا پندی کریں کہ وضو کرنے سے ہاتھ منھ ناک سر گردن پیر کے جراثیم دھل جاتے ہیں لہذا زیادہ سے زیادہ وضو کریں اگر چہ وضو ہو پھر بھی تازہ کرلیا کریں. اور ہر نماز کے بعد دعائیں مانگے ارشاد ربا نی ہے ”فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ.وَاِلیٰ رَبِّکَ فَارْغَبْ“تو جب نماز سے فارغ ہو تو دعا میں محنت کرو اور اپنے رب ہی کی طرف رغبت کرو۔(سورہ الم نشرح آیت ۸)
(۴)اگر والدین باحیات ہوں تودل سے ان کی خدمت کریں اور اپنے حق میں ان سے دعا ئیں کرائیں کیونکہ اولاد کے حق میں والدین کی دعا ئیں بہت جلد قبول ہو تی ہیں۔
(۵) اللہ کی ذات پر یقین کامل رکھیں پھرنمازفجر ونمازمغرب کے بعد اول آخر تین بارکو ئی بھی درود اور تین بار اس دعا کو پڑھیں،حضرت طلق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرما جو شخص یہ کلمات کو صبح پرھے تو شام تک اور شام کو پڑھے تو صبح تک اس کو کوئی مصیبت نہیں آئے گی ”بِسْمِ اللہ ِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم.اَللّٰھُمَّ اَنْتَ رَبِّی لَااِلٰہَ اِلاَّاَنْتَ عَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ وَاَنْتَ رَبُّ الْعَرْشِ الْکَرِیْمِ مَاشَآءَ اللہ ُ کَانَ وَلَمْ یَشَآءُ لَمْ یَکُنْ وَّلَاحَوْلَ وَلَاقُوََّّۃَاِلاَّبِااللہ ِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ٭اَعْلَمُ اَنَّ اللہ َ عَلٰی کُلِّ شَیئٍ قَدِیْرٌ٭ْوَّ اَنَّ اللہ َقَدْاَحَاطَ بِکُلِّ شَیئٍئ عِلْمًا٭ اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ نَفْسِی وَمِنْ شَرِّ کُلِّ دَآبَۃٍ وَّاَنْتَ اٰخِذٌ م بِّنَاصِیَتِھَا اِنَّ رَبِّی عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ٭(ابو داؤد شریف)
بیان کیاجا تا ہے کہ صحابیئ رسول حضرت ابو دردہ رضی اللہ عنہ مسجد میں درس دے رہے تھے کہ اتنے میں ایک شخص آیا اور عرض کیا کہ حضرت چلئے آپ کا گھر جلنے والا ہے بغل کے دیکر مکانات جل رہے ہیں آپ نے کچھ شا گرد کو بھیجا اور کہا جاؤ اپنے بھا ئی کے گھر کو بچاؤ میرا گھر نہیں جلے گا پھر دوسرا شخص آیا اور گھبراتے ہو ئے یہی جملہ دہرایا آپ نے فرمایا میرا گھر نہیں جلے گا یو نہی تیسرا شخص آیا آپ نے پھر وہی فرمایا کہ میرا گھر نہیں جلے گا پھر چو تھا شخص آیا اور عرض کیا کہ مبارک ہو آپ کا گھر جلنے سے بچ گیا جیسے ہی لپٹ آپ کے گھر کی طرف بڑھی خود بخود بجھ گئی آپ نے فرمایا میں نے کہا تھا کہ میرا گھر نہیں جلے گا۔لوگوں نے عرض کیا حضور مگر آپ کو کیسے معلوم تھا کہ نہیں جلے گا جبکہ لپٹیں کا فی تیز تھیں اور آپ کے گھر کی طرف بڑھ رہی تھیں؟آپ نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرما تے ہو ئے سنا کہ جو شخص صبح اس دعا کو پڑھ لے گا وہ شام تک اور جو شام کو پڑھے گا وہ صبح تک ہر بلا سے محفوظ رہے گا اور میں نے صبح کو پڑھ لیا ہے تو پھر یہ بلا کیسے آسکتی ہے یعنی میرا گھر کیوں کر جل سکتا ہے اس لئے میں نے کہا کہ میرا گھر نہیں جلے گا۔وہ دعا اوپر مذکو ہوا۔
(۶)جب کسی شخص کو آشوب چشم،زکام،اور خارش کے سواکسی بلا یا مصیبت میں دیکھیں توفورا یہ دعا پڑھ لیں، حدیث شریف میں ہے کہ جو بھی کسی بیمار کو دیکھ کر اس دعا کو پڑھ لے گا ان شاء اللہ اس بلا سے محفوظ رہے گا”الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ عَافَانِی مِمَّا بْتَلَاکَ بِہٖ وَفَضَّلَنِیْ عَلیٰ کَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقَ تَفْضِیْلاً “(الملفوظ شریف)
فقیر کی اس مختصر تحریرپر عمل کریں ان شاء اللہ کورونا وائرس سے محفوظ رہیں گے بشرطیکہ اللہ تعا لیٰ پر یقین کا مل ہودعا ہے مو لیٰ اپنے حبیب دافع بلا صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقہ وطفیل جملہ مؤمن و مؤمنات کو تمام بیماریوں بلاؤں بالخصوص کورونا وائرس سے محفوظ فرما۔ آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم
کتبہ :
فقیر تاج محمد قادری واحدی
۱۹ رجب المرجب ۱۴۴۱ ہجری
۱۵ مارچ ۲۰۲۰ عیسوی بروز اتوار
الجواب صحیح والمجیب نجیح
✍محمد منظور احمد یار علوی
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
اس (کرونا وائرس)سے بچنے کے لئے مندرجہ ذیل باتوں پر عمل کریں۔
(۱)اللہ تعالیٰ جل شانہ سے دعائیں مانگے، اپنے گناہوں کو یاد کرکے روئیں گڑگڑا ئیں،نیز چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے کثرت سے تو بہ اسغفار کریں۔
(۲)گانا،فلم،ڈرامے،جوا، شراب نوشی،نیز ہر قسم کے خرافات سے دور رہیں۔
(۳)نماز کی پا پندی کریں کہ وضو کرنے سے ہاتھ منھ ناک سر گردن پیر کے جراثیم دھل جاتے ہیں لہذا زیادہ سے زیادہ وضو کریں اگر چہ وضو ہو پھر بھی تازہ کرلیا کریں. اور ہر نماز کے بعد دعائیں مانگے ارشاد ربا نی ہے ”فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ.وَاِلیٰ رَبِّکَ فَارْغَبْ“تو جب نماز سے فارغ ہو تو دعا میں محنت کرو اور اپنے رب ہی کی طرف رغبت کرو۔(سورہ الم نشرح آیت ۸)
(۴)اگر والدین باحیات ہوں تودل سے ان کی خدمت کریں اور اپنے حق میں ان سے دعا ئیں کرائیں کیونکہ اولاد کے حق میں والدین کی دعا ئیں بہت جلد قبول ہو تی ہیں۔
(۵) اللہ کی ذات پر یقین کامل رکھیں پھرنمازفجر ونمازمغرب کے بعد اول آخر تین بارکو ئی بھی درود اور تین بار اس دعا کو پڑھیں،حضرت طلق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرما جو شخص یہ کلمات کو صبح پرھے تو شام تک اور شام کو پڑھے تو صبح تک اس کو کوئی مصیبت نہیں آئے گی ”بِسْمِ اللہ ِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم.اَللّٰھُمَّ اَنْتَ رَبِّی لَااِلٰہَ اِلاَّاَنْتَ عَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ وَاَنْتَ رَبُّ الْعَرْشِ الْکَرِیْمِ مَاشَآءَ اللہ ُ کَانَ وَلَمْ یَشَآءُ لَمْ یَکُنْ وَّلَاحَوْلَ وَلَاقُوََّّۃَاِلاَّبِااللہ ِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ٭اَعْلَمُ اَنَّ اللہ َ عَلٰی کُلِّ شَیئٍ قَدِیْرٌ٭ْوَّ اَنَّ اللہ َقَدْاَحَاطَ بِکُلِّ شَیئٍئ عِلْمًا٭ اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ نَفْسِی وَمِنْ شَرِّ کُلِّ دَآبَۃٍ وَّاَنْتَ اٰخِذٌ م بِّنَاصِیَتِھَا اِنَّ رَبِّی عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ٭(ابو داؤد شریف)
بیان کیاجا تا ہے کہ صحابیئ رسول حضرت ابو دردہ رضی اللہ عنہ مسجد میں درس دے رہے تھے کہ اتنے میں ایک شخص آیا اور عرض کیا کہ حضرت چلئے آپ کا گھر جلنے والا ہے بغل کے دیکر مکانات جل رہے ہیں آپ نے کچھ شا گرد کو بھیجا اور کہا جاؤ اپنے بھا ئی کے گھر کو بچاؤ میرا گھر نہیں جلے گا پھر دوسرا شخص آیا اور گھبراتے ہو ئے یہی جملہ دہرایا آپ نے فرمایا میرا گھر نہیں جلے گا یو نہی تیسرا شخص آیا آپ نے پھر وہی فرمایا کہ میرا گھر نہیں جلے گا پھر چو تھا شخص آیا اور عرض کیا کہ مبارک ہو آپ کا گھر جلنے سے بچ گیا جیسے ہی لپٹ آپ کے گھر کی طرف بڑھی خود بخود بجھ گئی آپ نے فرمایا میں نے کہا تھا کہ میرا گھر نہیں جلے گا۔لوگوں نے عرض کیا حضور مگر آپ کو کیسے معلوم تھا کہ نہیں جلے گا جبکہ لپٹیں کا فی تیز تھیں اور آپ کے گھر کی طرف بڑھ رہی تھیں؟آپ نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرما تے ہو ئے سنا کہ جو شخص صبح اس دعا کو پڑھ لے گا وہ شام تک اور جو شام کو پڑھے گا وہ صبح تک ہر بلا سے محفوظ رہے گا اور میں نے صبح کو پڑھ لیا ہے تو پھر یہ بلا کیسے آسکتی ہے یعنی میرا گھر کیوں کر جل سکتا ہے اس لئے میں نے کہا کہ میرا گھر نہیں جلے گا۔وہ دعا اوپر مذکو ہوا۔
(۶)جب کسی شخص کو آشوب چشم،زکام،اور خارش کے سواکسی بلا یا مصیبت میں دیکھیں توفورا یہ دعا پڑھ لیں، حدیث شریف میں ہے کہ جو بھی کسی بیمار کو دیکھ کر اس دعا کو پڑھ لے گا ان شاء اللہ اس بلا سے محفوظ رہے گا”الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ عَافَانِی مِمَّا بْتَلَاکَ بِہٖ وَفَضَّلَنِیْ عَلیٰ کَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقَ تَفْضِیْلاً “(الملفوظ شریف)
فقیر کی اس مختصر تحریرپر عمل کریں ان شاء اللہ کورونا وائرس سے محفوظ رہیں گے بشرطیکہ اللہ تعا لیٰ پر یقین کا مل ہودعا ہے مو لیٰ اپنے حبیب دافع بلا صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقہ وطفیل جملہ مؤمن و مؤمنات کو تمام بیماریوں بلاؤں بالخصوص کورونا وائرس سے محفوظ فرما۔ آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم
کتبہ :
فقیر تاج محمد قادری واحدی
۱۹ رجب المرجب ۱۴۴۱ ہجری
۱۵ مارچ ۲۰۲۰ عیسوی بروز اتوار
الجواب صحیح والمجیب نجیح
✍محمد منظور احمد یار علوی
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کیا ماسک باندھ کر نماز پڑھنا درست ہے؟
السلام علیکم ورحمۃاللہ تعالیٰ وبرکاتہ
سوال ماسک (کروناوائرس سے بچنے کے لئے پٹی) لگا کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟ توجہ فرمائیں
المستفتی : عبد القادر مصباحی
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ
ﷻ الجواب بعون الملک الوھاب
ماسک لگا کر نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے کیونکہ اس سے منھ چھپ جا تا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں منھ چھپا نے کو منع فرمایا ہے جیسا کہ حدیث شریف میں ہے”عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، قَالَ نَہَی رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یُغَطِّیَ الرَّجُلُ فَاہُ فِی الصَّلَاۃِ.
ترجمہ:۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز میں منہ ڈھانپنے سے منع فرمایا ہے۔ (سنن ابن ماجہ کتاب اقامت نماز اور اس کا طریقہ باب نماز کے مکر وہات حدیث نمبر۹۶۶)
یونہی فتاوی عالمگیری میں ناک منھ چھپا کر نماز پڑھنا مکروہ تحریمی لکھا ہے۔
(فتاوی عالمگیری جلد اول کتاب الصلوۃ باب فیما یفسد الصلوۃ ومایکرہ فیھا فصل الثانی)
لہذا ماسک لگا کر نماز نہ پڑھیں کیونکہ نماز مکروہ تحریمی ہو گی جس کا دہرانا واجب ہوگا،اگر چہ کرونا وائرس سے بچنے کے لئے ہی کیوں نہ ہو کیونکہ یہ یقنی نہیں ہے کہ نہ لگا نے پر کرونا وائرس ہو ہی جا ئے گا،ہم پو چھتے کیا صرف نماز ہی کے وقت کورونا وائرس ہو سکتا ہے کھا نا کھا تے وقت بھی کیا ماسک لگا رکھتے ہیں؟ یونہی غسل کے وقت بھی کیا ماسک لگا رکھتے ہیں؟یہ مسلمانوں کے ایمان کی کمزوری ہے کہ ذرہ برابر بھی دھمکی ملی نماز روزہ سے دور۔العیاذ باللہ تعا لیٰ
مسلمانوں کو چا ہئے کہ نماز کے وقتوں میں با جماعت نماز ادا کریں بعد نماز اپنے رب سے دعائیں مانگے ارشاد ربا نی ہے ”فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ.وَاِلیٰ رَبِّکَ فَارْغَبْ“تو جب نماز سے فارغ ہو تو دعا میں محنت کرو اور اپنے رب ہی کی طرف رغبت کرو۔(سورہ الم نشرح آیت ۸)
اللہ کی ذات پر بھروسہ رکھیں توبہ استغفار کرتے رہیں اور نماز کی پا بندی کریں اور یہ عقیدہ رکھیں کہ بیماری اڑ کر نہیں لگ سکتی جیسا کہ حدیث پاک میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”لاعدوی“ یعنی ایک بیماری کسی دوسری کو نہیں لگ سکتی۔
ہاں احتیاط کے لئے ماسک وغیرہ کا استعمال کریں جب کسی سے بات کریں تو دوری بنا ئیں رکھیں حدیث شریف میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا”لَا تُدِیمُوا النَّظَرَ إِلَی الْمُجَذَّمِینَ، وَ إِذَا کَلَّمْتُمُوہُمْ فَلْیَکُنْ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَہُمْ قِیدُ رُمْحٍ“یعنی جذام زدہ مریضوں پر زیادہ دیر تک نظر نہ ڈالو اور جب تم ان سے کلام کرو تو تمہارے اور ان کے درمیان ایک نیزے کے برابر فاصلہ ہونا چاہئے۔(مسند احمد حدیث نمبر۵۸۱)
لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ نظر ڈالنے سے بیما ری لگ جا ئے گی یا قریب سے بات کرنے سے بیما ری لگ جا ئے گی بلکہ یہ احتیاطی طور پر درس دیا گیا ہے تاکہ کمزور ایمان والے یہ نہ سمجھ بیٹھیں کہ فلا ں کے قریب تھا یا اس کے مرض کو دیکھ رہا تھا تو یہ بیما ری ہو گئی ہے،بلکہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مجذوب کو بلا یا اور اپنے سا تھ کھاناکھلایا جیسا کہ حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مجذوم کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے ساتھ کھانے کے برتن میں رکھا اور فرمایا”کُلْ ثِقَۃً بِاللَّہِ وَتَوَکُّلًا عَلَیْہِ“یعنی اللہ پر اعتماد و بھروسہ اور توکل کرتے ہوئے کھاو(سنن ترمذی حدیث نمبر۷۱۸۱/سنن ابن ماجہ حدیث نمبر۲۴۵۳/مشکوۃفال اور بد فالی کا بیان حدیث نمبر۴۵۸۵)
اس حدیث سے صاف طور پر ظاہر ہو گیا کہ پہلی حدیث میں تعلیم احتیاط تھی اور اس حدیث میں تؤکل کی تعلیم ہے۔
البتہ جراثیم ایک دوسرےاڑ کر لگ جاتے ہیں اسی کووائرس بھی کہتے اس لئے ماسک کا استعمال کیا جاتا تاکہ جراثیم ناک منھ میں نہ گھسنے پائیں لہذا احتیاطا ماسک وغیرہ کا استعمال کریں مگر حالت نماز میں نہ کریں کیونکہ اس وقت وضو بنانے یعنی کلی کرنے ناک میں پانی ڈالنے کی وجہ سے خود جراثیم دور ہوجاتے ہیں لہذا حالت نماز میں ماسک کا استعمال نہ کریں بلکہ اللہ کی ذات پر بھروسہ رکھیں کہ جو مقدر میں لکھا ہو گا وہی ہو گا پھر ہم کیوں نماز سے محروم رہیں یا نماز پڑھیں بھی تو اس طرح کہ ناقص ہو جا ئے،اور اگر کسی ملک میں حکومت کی جانب سے یہ قانون ہو کہ بغیر ماسک کے مسجد میں نماز نہیں پڑھ سکتے تو مسجد میں نماز پڑھنے کے بجا ئے اپنے محلہ میں چند مسلمان ملکرجماعت قائم کریں یہ بھی نہ ہو سکے تو گھر میں تنہا پڑھیں صرف جماعت کا ثواب نہیں ملے گا مگر نماز مکمل ہو جا ئے گی۔واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فقیر تاج محمد قادری واحدی
بتاریخ ۱۹ رجب المرجب ۱۴۴۱ھ
بمطابق ۱۵ مارچ ۲۰۲۰ء بروز اتوار
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
السلام علیکم ورحمۃاللہ تعالیٰ وبرکاتہ
سوال ماسک (کروناوائرس سے بچنے کے لئے پٹی) لگا کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟ توجہ فرمائیں
المستفتی : عبد القادر مصباحی
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ
ﷻ الجواب بعون الملک الوھاب
ماسک لگا کر نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے کیونکہ اس سے منھ چھپ جا تا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں منھ چھپا نے کو منع فرمایا ہے جیسا کہ حدیث شریف میں ہے”عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، قَالَ نَہَی رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یُغَطِّیَ الرَّجُلُ فَاہُ فِی الصَّلَاۃِ.
ترجمہ:۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز میں منہ ڈھانپنے سے منع فرمایا ہے۔ (سنن ابن ماجہ کتاب اقامت نماز اور اس کا طریقہ باب نماز کے مکر وہات حدیث نمبر۹۶۶)
یونہی فتاوی عالمگیری میں ناک منھ چھپا کر نماز پڑھنا مکروہ تحریمی لکھا ہے۔
(فتاوی عالمگیری جلد اول کتاب الصلوۃ باب فیما یفسد الصلوۃ ومایکرہ فیھا فصل الثانی)
لہذا ماسک لگا کر نماز نہ پڑھیں کیونکہ نماز مکروہ تحریمی ہو گی جس کا دہرانا واجب ہوگا،اگر چہ کرونا وائرس سے بچنے کے لئے ہی کیوں نہ ہو کیونکہ یہ یقنی نہیں ہے کہ نہ لگا نے پر کرونا وائرس ہو ہی جا ئے گا،ہم پو چھتے کیا صرف نماز ہی کے وقت کورونا وائرس ہو سکتا ہے کھا نا کھا تے وقت بھی کیا ماسک لگا رکھتے ہیں؟ یونہی غسل کے وقت بھی کیا ماسک لگا رکھتے ہیں؟یہ مسلمانوں کے ایمان کی کمزوری ہے کہ ذرہ برابر بھی دھمکی ملی نماز روزہ سے دور۔العیاذ باللہ تعا لیٰ
مسلمانوں کو چا ہئے کہ نماز کے وقتوں میں با جماعت نماز ادا کریں بعد نماز اپنے رب سے دعائیں مانگے ارشاد ربا نی ہے ”فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ.وَاِلیٰ رَبِّکَ فَارْغَبْ“تو جب نماز سے فارغ ہو تو دعا میں محنت کرو اور اپنے رب ہی کی طرف رغبت کرو۔(سورہ الم نشرح آیت ۸)
اللہ کی ذات پر بھروسہ رکھیں توبہ استغفار کرتے رہیں اور نماز کی پا بندی کریں اور یہ عقیدہ رکھیں کہ بیماری اڑ کر نہیں لگ سکتی جیسا کہ حدیث پاک میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”لاعدوی“ یعنی ایک بیماری کسی دوسری کو نہیں لگ سکتی۔
ہاں احتیاط کے لئے ماسک وغیرہ کا استعمال کریں جب کسی سے بات کریں تو دوری بنا ئیں رکھیں حدیث شریف میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا”لَا تُدِیمُوا النَّظَرَ إِلَی الْمُجَذَّمِینَ، وَ إِذَا کَلَّمْتُمُوہُمْ فَلْیَکُنْ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَہُمْ قِیدُ رُمْحٍ“یعنی جذام زدہ مریضوں پر زیادہ دیر تک نظر نہ ڈالو اور جب تم ان سے کلام کرو تو تمہارے اور ان کے درمیان ایک نیزے کے برابر فاصلہ ہونا چاہئے۔(مسند احمد حدیث نمبر۵۸۱)
لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ نظر ڈالنے سے بیما ری لگ جا ئے گی یا قریب سے بات کرنے سے بیما ری لگ جا ئے گی بلکہ یہ احتیاطی طور پر درس دیا گیا ہے تاکہ کمزور ایمان والے یہ نہ سمجھ بیٹھیں کہ فلا ں کے قریب تھا یا اس کے مرض کو دیکھ رہا تھا تو یہ بیما ری ہو گئی ہے،بلکہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مجذوب کو بلا یا اور اپنے سا تھ کھاناکھلایا جیسا کہ حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مجذوم کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے ساتھ کھانے کے برتن میں رکھا اور فرمایا”کُلْ ثِقَۃً بِاللَّہِ وَتَوَکُّلًا عَلَیْہِ“یعنی اللہ پر اعتماد و بھروسہ اور توکل کرتے ہوئے کھاو(سنن ترمذی حدیث نمبر۷۱۸۱/سنن ابن ماجہ حدیث نمبر۲۴۵۳/مشکوۃفال اور بد فالی کا بیان حدیث نمبر۴۵۸۵)
اس حدیث سے صاف طور پر ظاہر ہو گیا کہ پہلی حدیث میں تعلیم احتیاط تھی اور اس حدیث میں تؤکل کی تعلیم ہے۔
البتہ جراثیم ایک دوسرےاڑ کر لگ جاتے ہیں اسی کووائرس بھی کہتے اس لئے ماسک کا استعمال کیا جاتا تاکہ جراثیم ناک منھ میں نہ گھسنے پائیں لہذا احتیاطا ماسک وغیرہ کا استعمال کریں مگر حالت نماز میں نہ کریں کیونکہ اس وقت وضو بنانے یعنی کلی کرنے ناک میں پانی ڈالنے کی وجہ سے خود جراثیم دور ہوجاتے ہیں لہذا حالت نماز میں ماسک کا استعمال نہ کریں بلکہ اللہ کی ذات پر بھروسہ رکھیں کہ جو مقدر میں لکھا ہو گا وہی ہو گا پھر ہم کیوں نماز سے محروم رہیں یا نماز پڑھیں بھی تو اس طرح کہ ناقص ہو جا ئے،اور اگر کسی ملک میں حکومت کی جانب سے یہ قانون ہو کہ بغیر ماسک کے مسجد میں نماز نہیں پڑھ سکتے تو مسجد میں نماز پڑھنے کے بجا ئے اپنے محلہ میں چند مسلمان ملکرجماعت قائم کریں یہ بھی نہ ہو سکے تو گھر میں تنہا پڑھیں صرف جماعت کا ثواب نہیں ملے گا مگر نماز مکمل ہو جا ئے گی۔واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فقیر تاج محمد قادری واحدی
بتاریخ ۱۹ رجب المرجب ۱۴۴۱ھ
بمطابق ۱۵ مارچ ۲۰۲۰ء بروز اتوار
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کرونا کے ڈر سے
نماز جمعہ سے منع کرنا کیسا ہے؟
السلام علیکم ورحمۃاللہ تعالیٰ وبرکاتہ
سوال کیا فرما تے ہیں علماء کرام اس مسئلہ میں کہ!
کرونا کے ڈرسے مسجد سے منع کرنا کیسا ہے؟ جیسا کہ کل بروز جمعہ ہمارے شہر ممبئی میں نماز جمعہ سے منع کردیا گیا ہے کیا یہ درست ہے ؟ توجہ فرمائیں!
المستفتی : عبد الرحمن واحدی
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ
﷽ الجواب بعون الملک الوھاب
اللہ تعالیٰ جل شانہ قرآن مجید والفروان حمید میں ارشاد فرماتا ہے””یٰٓایھاالذین اٰمنوا اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول“ یعنی اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو۔(جل جلالہ و صلی اللہ علیہ وسلم)
اللہ ورسول(جل جلالہ و صلی اللہ علیہ وسلم) کی اطاعت کیا ہے ملاحظہ کریں ارشاد باری تعالیٰ ہے ”یٰاَیُّہَا الَّذِینَ اٰمَنُوا اذکُرُوا نِعمَتَ اللّٰہِ عَلَیکُم اِذْ ہَمَّ قَوْمٌ اَنْ یَّبْسُطُوْآ اِلَیْکُمْ اَیْدِیَہُمْ فَکَفَّ اَیْدِیَہُمْ عَنْکُمْ وَاتَّقُوا اللّٰہَ وَعَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ“(سورۃ نمبر ۵/ المائدۃآیت نمبر ۱۱)
ترجمہ:۔اے ایمان والو! اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو جب ایک قوم نے چاہا کہ تم پر دست درازی کریں تو اس نے ان کے ہاتھ تم پر سے روک دیئے اور اللہ سے ڈرو اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہئے۔(کنزلایمان)
نیز فرماتا ہے”قُلْ لَّنْ یُّصِیْبَْنَا اِلَّا مَا کَتَبَ اللّٰہُ لَنَا ہُوَ مَوْلٰنَا وَعَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ“ (سورۃ التوبۃآیت نمبر ۵۱)
ترجمہ:۔تم فرماؤ ہمیں نہ پہنچے گا مگر جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دیا وہ ہمارا مولیٰ ہے اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہیے۔(کنزلایمان)
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا”عَنْ عَبْدِ اللَّہِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الطِّیَرَۃُ شِرْکٌ وَمَا مِنَّا إِلَّا وَلَکِنَّ اللَّہَ یُذْہِبُہُ بِالتَّوَکُّلِ“
(سنن ابن ماجہ کتاب طب کا بیان باب نیک فال لینا پسندیدہ ہے اور بدفال لینا ناپسندیدہ ہے حدیث نمبر۳۵۳۸)
ترجمہ:۔عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بدشگونی شرک ہے اور ہم میں سے جسے بھی بدشگونی کا خیال آئے تو اللہ تعالیٰ پر توکل کی وجہ سے یہ خیال دور کر دے گا۔
مسلمانوں کو چا ہئے کہ اللہ کی ذات پر توکل(بھروسہ) کریں اور وہم بد گمانی سے پرہیز کریں یہی ہمیں قرآن واحادیث سے سبق ملا ہے حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مجذوم کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے ساتھ کھانے کے برتن میں رکھا اور فرمایا”کُلْ ثِقَۃً بِاللَّہِ وَتَوَکُّلًا عَلَیْہِ“یعنی اللہ پر اعتماد و بھروسہ اور توکل کرتے ہوئے کھاو۔
(سنن ترمذی حدیث نمبر۱۸۱۷/سنن ابن ماجہ حدیث نمبر۳۵۴۲/مشکوۃفال اور بد فالی کا بیان حدیث نمبر۳۵۳۸)
مگر افسوس صد افسوس کہ مسجد سے روکا جا رہا ہے جو ایک اہم فریضہ تھا ہم پوچھنا چا ہتے ہیں کہ کیا صرف مسجد ہی میں کرونا وائرس ہے یا مارکیٹ،بازار،دکان وغیرہ میں بھی ہے؟جمعہ کے لئے مسجد بند کردی گئی کیا لوگ اپنی اپنی دکانیں بھی بند کئے؟کیا مارکیٹ بازار بھی بند ہوئے؟جبکہ بند ہی کر نا تھا تو عبادت گا ہ نہیں بلکہ گھر کے ٹیلی ویزن بند کرنا چا ہئے، یوٹوب پر دیکھے جانے والے فلموں کو بند کرنا چا ہئے،سنیماحال بند کر نا چا ہئے، طوائف خانے و شراب خا نے بند کر نا چاہئے،جس سے وائرس پھیل رہا ہے وہ کام بند کریں یعنی ناجائز حرام چیزوں کا کھانا بند کریں کیونکہ جراثیم وہیں سے پھیلتے ہیں مگرافسوس کہ مسجد بند کیا جا رہا ہے، مسلمان کا ایمان اتنا کمزور ہو گیا ہے کہ اللہ ورسول جل شانہ و صلی اللہ علیہ وسلم کی بتا ئی ہو ئی باتوں پر یقین نہیں کرتا مگر دنیا دار کی باتوں پر مکمل یقین کرکے کس طرح نعمت عظمی سے محروم ہو رہا ہے، کیا یقین کا مل ہے کہ جمعہ کی نماز پڑھنے سے کرونا ہو جا ئے گا؟اگر نہیں تو کیوں نماز جمعہ سے محروم کیاجا رہا ہے؟نماز جمعہ سے روکنا مصیبت سے بچنا نہیں بلکہ مصیبت وبلا کو خود دعوت دینا ہے مسلمانوں کو چا ہئے کہ اللہ کی ذات پر توکل کریں اور مسجد میں جمع ہو کر اجتماعی طور پر اپنے رب سے دعا کریں روئیں گڑگڑا ئیں اپنے رب کو راضی کریں مگرافسوس کہ مسجد ہی سے دور ہو رہے ہیں۔
دعاہے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو سمجھنے کی تو فیق عطا فر ما ئے اور قرآن واحادیث پر عمل کرنے کی تو فیق عطا فرمائے۔آمین ثم آمین یا رب العلمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ والہ وبارک وسلم۔
کتبہ فقیر تاج محمد قادری واحدی
بتاریخ ۲۰ رجب المرجب ۱۴۴۱ھ
بمطابق ۱۶ مارچ ۲۰۲۰ء بروز پیر
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❶ کرونا وائرس کی حقیقت کیا ہے؟
❷ ماسک باندھ کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟
❸ کرونا وائرس کے ڈر سے
نماز جمعہ سے منع کرنا کیسا ہے ؟
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
نماز جمعہ سے منع کرنا کیسا ہے؟
السلام علیکم ورحمۃاللہ تعالیٰ وبرکاتہ
سوال کیا فرما تے ہیں علماء کرام اس مسئلہ میں کہ!
کرونا کے ڈرسے مسجد سے منع کرنا کیسا ہے؟ جیسا کہ کل بروز جمعہ ہمارے شہر ممبئی میں نماز جمعہ سے منع کردیا گیا ہے کیا یہ درست ہے ؟ توجہ فرمائیں!
المستفتی : عبد الرحمن واحدی
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ
﷽ الجواب بعون الملک الوھاب
اللہ تعالیٰ جل شانہ قرآن مجید والفروان حمید میں ارشاد فرماتا ہے””یٰٓایھاالذین اٰمنوا اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول“ یعنی اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو۔(جل جلالہ و صلی اللہ علیہ وسلم)
اللہ ورسول(جل جلالہ و صلی اللہ علیہ وسلم) کی اطاعت کیا ہے ملاحظہ کریں ارشاد باری تعالیٰ ہے ”یٰاَیُّہَا الَّذِینَ اٰمَنُوا اذکُرُوا نِعمَتَ اللّٰہِ عَلَیکُم اِذْ ہَمَّ قَوْمٌ اَنْ یَّبْسُطُوْآ اِلَیْکُمْ اَیْدِیَہُمْ فَکَفَّ اَیْدِیَہُمْ عَنْکُمْ وَاتَّقُوا اللّٰہَ وَعَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ“(سورۃ نمبر ۵/ المائدۃآیت نمبر ۱۱)
ترجمہ:۔اے ایمان والو! اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو جب ایک قوم نے چاہا کہ تم پر دست درازی کریں تو اس نے ان کے ہاتھ تم پر سے روک دیئے اور اللہ سے ڈرو اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہئے۔(کنزلایمان)
نیز فرماتا ہے”قُلْ لَّنْ یُّصِیْبَْنَا اِلَّا مَا کَتَبَ اللّٰہُ لَنَا ہُوَ مَوْلٰنَا وَعَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ“ (سورۃ التوبۃآیت نمبر ۵۱)
ترجمہ:۔تم فرماؤ ہمیں نہ پہنچے گا مگر جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دیا وہ ہمارا مولیٰ ہے اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہیے۔(کنزلایمان)
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا”عَنْ عَبْدِ اللَّہِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الطِّیَرَۃُ شِرْکٌ وَمَا مِنَّا إِلَّا وَلَکِنَّ اللَّہَ یُذْہِبُہُ بِالتَّوَکُّلِ“
(سنن ابن ماجہ کتاب طب کا بیان باب نیک فال لینا پسندیدہ ہے اور بدفال لینا ناپسندیدہ ہے حدیث نمبر۳۵۳۸)
ترجمہ:۔عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بدشگونی شرک ہے اور ہم میں سے جسے بھی بدشگونی کا خیال آئے تو اللہ تعالیٰ پر توکل کی وجہ سے یہ خیال دور کر دے گا۔
مسلمانوں کو چا ہئے کہ اللہ کی ذات پر توکل(بھروسہ) کریں اور وہم بد گمانی سے پرہیز کریں یہی ہمیں قرآن واحادیث سے سبق ملا ہے حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مجذوم کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے ساتھ کھانے کے برتن میں رکھا اور فرمایا”کُلْ ثِقَۃً بِاللَّہِ وَتَوَکُّلًا عَلَیْہِ“یعنی اللہ پر اعتماد و بھروسہ اور توکل کرتے ہوئے کھاو۔
(سنن ترمذی حدیث نمبر۱۸۱۷/سنن ابن ماجہ حدیث نمبر۳۵۴۲/مشکوۃفال اور بد فالی کا بیان حدیث نمبر۳۵۳۸)
مگر افسوس صد افسوس کہ مسجد سے روکا جا رہا ہے جو ایک اہم فریضہ تھا ہم پوچھنا چا ہتے ہیں کہ کیا صرف مسجد ہی میں کرونا وائرس ہے یا مارکیٹ،بازار،دکان وغیرہ میں بھی ہے؟جمعہ کے لئے مسجد بند کردی گئی کیا لوگ اپنی اپنی دکانیں بھی بند کئے؟کیا مارکیٹ بازار بھی بند ہوئے؟جبکہ بند ہی کر نا تھا تو عبادت گا ہ نہیں بلکہ گھر کے ٹیلی ویزن بند کرنا چا ہئے، یوٹوب پر دیکھے جانے والے فلموں کو بند کرنا چا ہئے،سنیماحال بند کر نا چا ہئے، طوائف خانے و شراب خا نے بند کر نا چاہئے،جس سے وائرس پھیل رہا ہے وہ کام بند کریں یعنی ناجائز حرام چیزوں کا کھانا بند کریں کیونکہ جراثیم وہیں سے پھیلتے ہیں مگرافسوس کہ مسجد بند کیا جا رہا ہے، مسلمان کا ایمان اتنا کمزور ہو گیا ہے کہ اللہ ورسول جل شانہ و صلی اللہ علیہ وسلم کی بتا ئی ہو ئی باتوں پر یقین نہیں کرتا مگر دنیا دار کی باتوں پر مکمل یقین کرکے کس طرح نعمت عظمی سے محروم ہو رہا ہے، کیا یقین کا مل ہے کہ جمعہ کی نماز پڑھنے سے کرونا ہو جا ئے گا؟اگر نہیں تو کیوں نماز جمعہ سے محروم کیاجا رہا ہے؟نماز جمعہ سے روکنا مصیبت سے بچنا نہیں بلکہ مصیبت وبلا کو خود دعوت دینا ہے مسلمانوں کو چا ہئے کہ اللہ کی ذات پر توکل کریں اور مسجد میں جمع ہو کر اجتماعی طور پر اپنے رب سے دعا کریں روئیں گڑگڑا ئیں اپنے رب کو راضی کریں مگرافسوس کہ مسجد ہی سے دور ہو رہے ہیں۔
دعاہے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو سمجھنے کی تو فیق عطا فر ما ئے اور قرآن واحادیث پر عمل کرنے کی تو فیق عطا فرمائے۔آمین ثم آمین یا رب العلمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ والہ وبارک وسلم۔
کتبہ فقیر تاج محمد قادری واحدی
بتاریخ ۲۰ رجب المرجب ۱۴۴۱ھ
بمطابق ۱۶ مارچ ۲۰۲۰ء بروز پیر
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❶ کرونا وائرس کی حقیقت کیا ہے؟
❷ ماسک باندھ کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟
❸ کرونا وائرس کے ڈر سے
نماز جمعہ سے منع کرنا کیسا ہے ؟
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❶ کرونا وائرس کی حقیقت کیا ہے؟
Post Telegram Par Link↴
https://t.me/islaamic_Knowledge/5901
Post Website Par Link↴
https://tajmohammadwahidi.blogspot.com/2020/03/blog-post.html
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❷ ماسک باندھ کر نماز پڑھنا کیسا؟
Post Telegram Par Link↴
https://t.me/islaamic_Knowledge/5904
Post Website Par Link↴
https://tajmohammadwahidi.blogspot.com/2020/03/blog-post_15.html
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❸ کرونا وائرس کے ڈر سے
نماز جمعہ سے منع کرنا کیسا ہے ؟
Post Telegram Par Link↴
https://t.me/islaamic_Knowledge/5906
Post Website Par Link↴
https://tajmohammadwahidi.blogspot.com/2020/03/blog-post_43.html
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
Post Telegram Par Link↴
https://t.me/islaamic_Knowledge/5901
Post Website Par Link↴
https://tajmohammadwahidi.blogspot.com/2020/03/blog-post.html
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❷ ماسک باندھ کر نماز پڑھنا کیسا؟
Post Telegram Par Link↴
https://t.me/islaamic_Knowledge/5904
Post Website Par Link↴
https://tajmohammadwahidi.blogspot.com/2020/03/blog-post_15.html
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❸ کرونا وائرس کے ڈر سے
نماز جمعہ سے منع کرنا کیسا ہے ؟
Post Telegram Par Link↴
https://t.me/islaamic_Knowledge/5906
Post Website Par Link↴
https://tajmohammadwahidi.blogspot.com/2020/03/blog-post_43.html
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اول ملوک اسلام 🌹 ناصر لدین اللہ
امیر المؤمنین🌹🌹🌹 کاتب وحی
صحابئ رسول حضرت امیر معاویہ
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَــعَــالیٰ عَــنۡـہۡ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یومِ ولادت تقریباً ۴۰۶ء
یومِ وصال ²² رجب المرجب ۰۶ھ
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
امیر المؤمنین🌹🌹🌹 کاتب وحی
صحابئ رسول حضرت امیر معاویہ
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَــعَــالیٰ عَــنۡـہۡ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یومِ ولادت تقریباً ۴۰۶ء
یومِ وصال ²² رجب المرجب ۰۶ھ
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
اول ملوک اسلام 🌹 ناصر لدین اللہ
امیر المؤمنین🌹🌹🌹 کاتب وحی
صحابئ رسول حضرت امیر معاویہ
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَــعَــالیٰ عَــنۡـہۡ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یومِ ولادت تقریباً ۴۰۶ء
یومِ وصال ²² رجب المرجب ۰۶ھ
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
امیر المؤمنین🌹🌹🌹 کاتب وحی
صحابئ رسول حضرت امیر معاویہ
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَــعَــالیٰ عَــنۡـہۡ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یومِ ولادت تقریباً ۴۰۶ء
یومِ وصال ²² رجب المرجب ۰۶ھ
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻