🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
26-02-1445 ᴴ | 13-09-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
26-02-1445 ᴴ | 13-09-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
Nizamat نظامت Naqeeb
❶ جلسہ میں کسی نقیب کی الگ سے ضرورت نہیں ـ مولانا عبد القادر نوری صاحب ممبئی
❷ نقابت کا فتنہ ختم ہونا چاہئے ـ علامہ ظفر سیالوی صاحب
❸ عقیدت میں اتنے اندھے مت ہو جاؤ کہ عقیدہ ہی خراب ہو جائے ـ رفیق ملت
❹ عقیدت مزاج شریعت کے مطابق ہو تو عقیدہ میں پختگی پیدا کرتی ہے، ورنہ غلو عقیدت سبب ہلاکت ہے ـ مولانا حسن نوری گونڈوی
❺ چودہویں صدی ہجری میں سیرت پر سب سے زیادہ کام کرنے والے کا نام اعلیٰ حضرت ہے ـ مولانا حسن نوری گونڈوی
❻ امام اہلسنت نے غیر اللہ کو تعظیم و ادب کا سجدہ کرنا قرآنی آیت ، 40 احادیث اور 150 فقہی نصوص سے حرام ثابت کیا ہے ـ نعت اکیڈمی
❼ اللہ و رسول کی رضا حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ تعلیماتِ اعلیٰ حضرت ہیں ـ نعت اکیڈمی
❽ ہر جمعہ کے دن عبادت کے ساتھ اصلاح معاشرہ ـ نعت اکیڈمی
❾ عالم وہ ہے جو عقائد سے پوری طرح آگاہ ہو ، اور اپنی ضروریات کو بغیر کسی کی مدد کے کتب سے نکال سکے ـ تحریک فروغ رضویات
❿ رافضی مدعی سیادت ہر گز سید نہیں، روافض تو مسلمان ہی نہیں سید کیسے؟ ـ ضرب اہلسنت
Nizamat نظامت Naqeeb
2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت مولانا عثمان قرانی تھر

ولادت:
علامہ ابو سعید محمد عثمان قرانی بن حافظ جام قوم بھنبھرا ۲۷، صفر المظفر ۱۲۹۶ھ بروز جمعرات گوتھ ڈھینگان بھر گڑی تحصیل جیمس آباد ( کوٹ غلام محمد ) ضلع میر پور خاص ( سندھ ) میں تولد ہوئے ۔

قرانی کی وجہ تسمیہ:
قرانی لفظ کے معنی ’’قریب شدن چیزے بچیزے ‘‘ یعنی دو چیزوں کو آپس میں ملانا جیسے حج و عمرہ ملانا جس کو حج قران کہتے ہیں وغیرہ اور نجومیوں کی اصطلاح میں دو ستاروں کا ملنا، ایک وقت برج میں۔ ان کو قران السعدین ‘‘بھی کہتے ہیں ۔ یعنی نیک بخت اور سعادت مند۔

تعلیم و تربیت:
مولانا محمد عثمان کے والد حافظ دجام نے آپ کو سات سال کی عمر میں گوٹھ امیر علی خان رند میں میاں حاجی سید احمد شاہ صاحب کے پاس قرآ ن شریف کی تعلیم کیلئے مکتب میں داخل کرایا۔ حاجی سید احمد شاہ صاحب اس مکتب سے جلد رخصت ہو گئے جس کے سبب آپ واپس اپنے گھر آئے اور والد محترم کے پاس تعلیم قرآن جاری رکھی ۔ فارسی کی تعلیم میاں محمد علی پٹھان ( گوٹھ سید لاکھو شاہ ) کے پاس حاصل کی ۔ ( میاں محمد علی مرحوم کو شعر گوئی اور نظم سنجی میں کافی دسترس حاصل تھی، استاد محترم کی صحبت بافیض میں مولانا محمد عثمان قرانی نے بھی شاعری میں ملکہ حاصل کیا)۔ اس کے بعد عربی کی تعلیم حضرت قدوۃ العلماء قاضی القضاۃ علامہ مولانا لعل محمد مٹیاروی ؒ کی خدمت میں ٹنڈو میر غلام علی ( ضلع بدین ) میں شروع کی۔ صرف تمام ، نحو، شرح جامی ، علم فقہ میں ہدایہ شریف تک کتب پڑھیں اس کے بعد علم منطق و نحو خصوصی طور پر حضرت علامہ مولانا خیر محمد صاحب سے پڑھیں ۔ اس کے بعد دوبارہ حضرت علامہ قاضی لعل محمد مٹیاروی کی خدمت میں رہ کر بقیہ کتب احادیث وفقہ میں تکمیل پائی ۔ فارغ التحصیل ہوئے اور علامہ لعل محمد سے سند حاصل کی ۔ علامہ لعل محمد مٹیاروی ، مخدوم اہل سنت، علامۃ الزمان ، فھامۃ الدوران مخدوم حسن اللہ صدیقی قدس سرہ الاقدس کے خاص شاگرد رشید تھے۔ مخدوم حسن اللہ کون ؟ وہی مخدوم صاحب ہیں جنہوں نے علماء سلف کی ترجمانی کرتے ہوئے شفیع اعظم ، نور مجسم ، ہادی عالم ﷺ کے علم غیب شریف کے اثبات میں انگریزوں کی دریافت ، فرقہ جدیدہ وہابی دیوبندی نظریات کے اکابر علماء مثلا:

٭ مولوی اسماعیل دہلوی ثم بالا کوٹی مصنف تقویۃ الایمان
٭ مولوی قاسم نانوتوی مصنف تحذیر الناس
٭ مولوی محمود الحسن دیوبندی مصنف جھد المقل
٭ مولوی اشرف علی تھانوی مصنف حفظ الایمان
٭ مولوی خلیل احمد انبیٹوی ثم سہار نپوری مصنف برہان قلطعہ
٭ مولوی رشید احمد گنگوہی مصنف فتاویٰ رشید یہ
٭ مولوی حسین احمد مدنی مصنف شہاب الثاقب

کی تردید میں معرکۃ الآرا کتاب ’’ نور العینین فی اثبات علم غیب لسید المرسلین ﷺ ‘‘رقم فرمائی ۔ جس کی ضرب آج بھی باطل کے ایوانوں میں سنی جاتی ہے ۔ اسی مخدوم کے تربیت یافتہ قاضی لعل محمد تھے اور ان کے فیض یافتہ مولانا محمد عثمان قرانی تھے ۔

بیعت:
مولانا محمد عثمان قرانی کے دادا جان حضرت مخدوم ابو محمد عبد اللہ ولہاری سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں شیخ طریقت حضرت خواجہ عبدالرحمن جان سر ہندی مجددی فاروقی ؒ سے بیعت تھے۔ (دیکھئے: مہران سوانح نمبر ۱۹۵۷ئ)

حضرت خواجہ عبدالرحمن کے جانشین و لخت جگر علامہ خواجہ محمد حسن جان سر ہندی ؒ ہیں تفصیلی حالات ان کے تذکرہ میں دیکھیں ۔ انہوں نے وہابیت دیونبدیت وغیرہ مقلدیت کی تردید میں دو کتابیں رقم فرمائی ۔ آپ کی ایک کتاب ’’الاصول الاربعہ فی تردید الوھابیہ‘‘ ہے جس کا سلیس اردو ترجمہ استاد العلماء مولانا حافظ محمد عبدالستار صاحب سعیدی ( ناظم تعلیمات جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ) نے کیا ہے۔ شروع کتاب میں مصنف کا سوانحی تعارف از قلم : ادیب شہیر ، سرمایہ اہل سنت علامہ محمد عبدالحکیم شرف قادری مدظلہ بھی شامل اشاعت ہے۔ جسے رضا دار الاشاعت چاہ میراں ، محبوب روڈ لاہور نے شائع کیا ہے۔

حافظ عبدالرزاق مہران صاحب سانگھڑ سے راقم کے نام ایک مکتوب میں رقمطراز ہیں :۔ مولانا محمد عثمان قرانی سنی حنفی نقشبندی تھے اور حضرت پیر طریقت ، قاطع نجدیت وبدعت خواجہ محمد حسن جان سر ہندی ؒ کے مرید و خاص مقرب تھے۔ جس کا ذکر حضرت آغا عبداللہ جان سر ہندی ؒ نے ’’مونس المخلصین ‘‘( فارسی ) میں کیا ہے۔ (مکتوب ۱۶، جنوری ۲۰۰۲ئ)

حضرت پیر ابراہیم جان سر ہندی صاحب رقمطراز ہیں :

مولانا محمد عثمان بڑے عالم بزرگ ولی اللہ تھے۔ وہ صحیح العقیدہ سنی عالم دین تھے، وہابیوں سے مناظر ے کئے ۔ حضرت خواجہ محمد حسن جان سر ہندی قدس سرہ کے مرید و خلیفہ تھے۔ حضرت صاحب نے دیونبد یوں وہابیوں کے خلاف کتابیں لکھیں ان پر مولانا عثمان نے تقاریظ تائیدی نوٹ تحریر فرمائے ۔مگر ان کی اولاد و ہابی نظریات کی حامل ہو گئی ہے۔ ( مکتوبات خلیلی ۸۷) ـ
1
دارالعلوم کا قیام:
۱۳۱۵ھ؍ ۱۸۹۷ء میں مولانا محمد عثمان قرانی نے اپنے گوٹھ عمر بھنبھر و نزد اسٹیشن شادی پلی ( تحصیل ساماروضلع عمر کوٹ) میں امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد فاروقی سر ہندی قدس سرہ کی نسبت مبارکہ سے ’’مدرسہ مجددیہ ‘‘ قائم کیا ۔

درس و تدریس:
تھر جو کہ قحط مفلسی کی وجہ سے شہر ت رکھتا ہے، وہاں جہالت کی کالک بھی مختلف نہ تھی ، جہاں پینے کے لئے صرف پانی نایاب نہیں بلکہ علم اس سے بھی کہیںزیادہ نایاب تھا ۔ ایسے علاقہ میں جہالت کے بادل تار تار کرنے کے لئے مولانا قرانی نے تعلیم قرآن کو فروغ دیا، علم کی روشنی کو عام کیا۔ آپ تدریس کے بادشاہ تھے۔ آپ کے درس کی شہرت سن کر دور دراز افتادہ علاقہ سے علم کے پیاسوں نے پیاس بجھانے کے لئے مدرسہ مجددیہ کا رخ کیا۔

تصنیف و تالیف:
روزانہ سارا دن درس و تدریس کی مصروفیت کے بعد تصنیف کا وقت کہاں ملتا ہے؟ لیکن آپ نے تدریس سے کچھ وقت نکال کر فتاویٰ تحریر فرمائیں اس کے علاوہ کچھ کتابیں تحریر کی اور بعض درسی کتب پر حواشی رقم فرمائی ۔ لیکن ہمیں ان کتابوں کے نام نہیں مل سکے ۔ آپ نے مدرسہ مجددیہ سے ماہنامہ قرانی ( سندھی ) بھی جاری فرمایا تھا۔

شخصیت:
مولانا محمد عثمان قرانی صاحب حدیث ، تفسیر ، فقہ ، صرف ، نحو، منطق صغریٰ و کبریٰ ، علم حکمت ، ہیئت ، فلسفہ ، ریاضی ، علم ادب ، سلوک ، تصوف ، طب، وغیرہ تمام علوم کا خود درس دیتے تھے۔ جامع العلوم اور کمال تفقہ کے سبب اپنے وقت کے ’’مفتی اعظم ‘‘تھے۔

مولانا قرانی نہایت پرہیز گار ، شب خیز عابد، اور ادمجددیہ نقشبندیہ کے پابند ، وسیع مطالعہ ، مہمان نواز، سادہ طبیعت ، حسن اخلاق و سادگی کے پیکر ، ذہین ، قوی الحافظ ، صاحب الراء ، جفاکش اور دن رات درس و تدریس ان کا بہترین مشغلہ تھا۔ مسلسل جدوجہد سے صحرائے تھر میں علم کے پھول کھلائے ۔

پیدائش سے پہلے درویشوں ، مجذوبوں ، اللہ لوک فقیروں نے آپ کی ولادت کی بشارت دی اور بعد ولادت دعائیں دیں ۔ مولانا قرانی فقیروں درویشوں کی عطا تھے ۔ درویشوں کی اس دین نے صحرائے تھر کو علم دین سے روشن کیا۔ اور یہ روشنی ابھی تک بجھی نہیں بلکہ اس روشنی سے مساجد مدارس آج بھی روشن و منور ہیں ۔

ان دنوں میں ( آٹا پیسنے کی فلورمل وغیرہ ابھی دریافت نہ ہوئی تھی ) آپ ک والدہ محترم آٹا چکی پر خود پیس کر طلباء کے لئے روٹیاں پکایا کرتی تھیں ۔

مناظرہ:
آپ پیارے مصطفیٰ ﷺ کے نڈر سپاہی تھے، اہلسنت و جماعت کے نامور عالم و ترجمان تھے اس لئے باطل کو ہمیشہ للکارتے رہے۔ آپ نے باطل مذاہب کے علماء سے کئی کامیاب مناظرے کئے جس میں مخالف کو منہ کی کھانی پڑی ۔ آپ حاضر جوابی میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔

ضلع بدین کے غیر مقلدین وہابیوں کے ساتھ ’’فاتحہ خلف الامام ‘‘ کے موضوع پر مناظرہ کیا۔ جس میں آپ کو کامیاب قرار دیا گیا ۔ عیسائیوں کے پادریوں سے ’’حیات مسیح ‘‘ کے موضوع پر ’’گوٹھ فقیر صوفی حاجی محمد صاحب ‘‘ نزد عمر کوٹ میں کامیاب مناظرہ کیا جس میں مخالف کو شکست فاش ہوئی ۔ عیسائی کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہودیوں نے پھانسی دے دی تھی اس لئے وہ ’’صلیب کا نشان ‘‘ حضرت عیسیٰ کی وفات کے غم میں استعمال کرتے اور گلے میں لٹکاتے ہیں ۔ جب کہ قرآن مجید کا اعلان حق ہے کہ مسیح حیات ہیں اور آسمان پر اٹھائے گئے ہیں ۔ حیات مسیح پر آپ نے مدلل روشنی ڈالی ۔

شاعری:
آپ نے زمانہ طالب علمی سے شعر گوئی شروع کر رکھی تھی ۔ آپ کا کلام ( نعت ، غزل ، نظم ) عربی فارسی اور سندھی میں دیگر قلمی مواد کے ساتھ مدرسہ کے کتب خانہ میں موجود ہے ۔ تخلص ’’قرانی ‘‘تھا۔

اولاد:
مولانا قرانی کو تین بیٹے تولد ہوئے۔
٭ مولوی عبدالحئی
٭ مولوی محمد سعید
٭ مولوی عبدالحق

تلامذہ:
مولانا قرانی کے تلامذہ کا شمار مشکل ہے، یہاں بعض کے اسماء درج کئے جارہے ہیں:

٭ مولانا نور محمد بھنبھر و ( قرانی صاحب کے برادر )
٭ مولانا احمد آریسر جودھپوری
٭ مولانا محمد صالح (قرانی صاحب کے برادر)
٭ مولانا عبد اللہ ولھاری
٭ مولانا محمد حسن ریاست جودھپور (انڈیا)
٭ مولانا غوث محمد خان بھر گڑی
( ان کے شاگرد پیر ابراہیم جان سر ہندی ، سامار و والے تھے)
٭ مولانا محمد سلیمان ہالیپوتہ ریگستانی
٭ مولانا نور محمد سمون
٭ مولانا قاضی نور محمد پلی
٭ مولانا عبدالکریم مفتی ولہیٹ
٭ مولانا نبی بخش لغاری
٭ مولانا محمد علی صاحب مشائخ پوتہ
٭ مولانا علی محمد صاحب لسبیلہ بلوچستان
٭ مولانا حاجی محمد کھوسہ جیکب آباد
٭ مولانا یار محمد لغاری ٹنڈو محمد خان ضلع حیدرآباد
٭ مولانا حافظ عبد اللہ میمن
( نیبرہ حضرت مولانا مفتی حامد اللہ میمن گوٹھ بیلو ، سجاول ضلع ٹھٹھہ)
٭ مولانا ولی محمد ( نواسہ مفتی حامد اللہ میمن )
٭ مولانا رسول بخش
٭ مولانا عبد الرحمن درس علاقہ کچھ (انڈیا)
٭ مولانا مرید علی ہالیپوتہ
٭ مولانا محمد یعقوب خاصخیلی بدین وغیرہ وغیرہ
1
مولانا قرانی کا مسلک:
آپ کے مسلک کا ذکر مضمون میں ضمنا آچکا ہے۔ یہاں مسلک مبارک کی مختصر جھلک پیش کی جاتی ہے ۔ مولانا قرانی نے ایک نعت شریف ( سندھی ) میں نبی کریم ﷺ کو ’’احمد مختار ‘‘ساری دنیا کے صاحب و سردار ، محشر میں گنہگار وں کے ضامن اور شفاعت کرنیوالا، حضور کے سوا جائے پناہ نہیں۔ ’’بے وسیلوں کے وسیلہ ‘‘ گمراہوں کے ہادی لکھا ہے ۔
(سوانح نمبر ۱۹۵۷ء)

یہ نظریات کسی وہابی دیوبندی مولوی کے ہر گز نہیں ہو سکتے اس سے ثابت ہوا کہ یہ نظر یہ رکھنے والے مولانا قرانی خالص سنی عالم دین تھے ۔ بابائے وہابیت مولوی اسماعیل دہلوی ثم بالا کوٹی کا نظریہ باطل ہے: ’’محمد اور علی جس کا نام ہے وہ کسی چیز کا مختار نہیں ‘‘۔ (تقویۃ الایمان ) ـ

یعنی محمد رسول اللہ ﷺ اور امیر المومنین سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ کسی چیز کے مختار نہیں اور دوسرا یہ کہ نام مبارک انتہائی حقارت آمیز لہجے میں لکھا ہے ۔ یہ گھٹیا سوچ ، دلی نفرت اور رسول دشمنی وہابی کے سوا کسی مسلمان کی ہو نہیں سکتی ۔ جب کہ مولانا قرانی کا نظر یہ و مسلک ہے کہ حضور پر نور صاحب لولاک ﷺ احمد مختار ، شافع محشر اور گمراہوں کے ہادی ہیں ۔ مولانا نے اپنا نظر یہ واضح بیان کر کے دیوبندیوں ، وہابیوں کے امام کے نظر یہ کی دھجیاں اڑادیں ۔

وہ رضا کے نیزے کی مارہے
کہ عدو کے سینہ میں غار ہے

کسے چارہ جوئی کا وار ہے
کہ یہ وار وار سے پار ہے

نعت کے سوا مولانا قرانی نے اصلاحی نظم بھی لکھی ہیں ۔ ایک تنقیدی نظم میں گاندھی پر تنقید کی ہے ۔ یہ گاندھی وہ ہے جس کو تحریک خلافت کے دور میں ہندو سندھ کے دیوبندی مولویوں نے اپنا رہبر و رہنما منتخب کیا تھا اور اس کے اشارے پر چلا کرتے تھے ۔ اسی دور میں دار العلوم دیوبند سے ’’ ہندو مسلم بھائی بھائی ‘‘ کا نعرہ لگایا گیا تھا ۔ ان حالات میں مولانا قرانی نے ان پر طنز یہ فرماتے ہیں:

امامن ء صحابن جو کیل تفسیر باطل تیو
سنایل حکم گاندی جو روایت رکٹ گھرجی

ائمہ اور صحابہ کرام کا قرآنی تفسیر باطل ہوا، گاندھی کا حکم روایت میں رکھنا چاہئے!!

وصال:
مولانا قرانی ہمیشہ اپنا کفن ساتھ رکھتے تھے، کبھی بھی موت سے غافل نہ رہے ۔ تقریباً ڈیڑھ سال بیمار رہنے کے بعد ۱۵، رجب المرجب ۱۳۵۵ھ / ۱۹۳۶ء بروز پیر صبح کو ۵۹ سال کی عمر میں انتقال کیا ۔ اسی کفن میں دفن کئے گئے جو کہ ہمیشہ آپ کے ساتھ رہتا تھا ۔ آپ کی آخری آرام گاہ مدرسہ کا وہی کمرہ بنا جہاں آپ درس دیا کرتے تھے ۔

( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-usman-qirani
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت مولانا محمد کامل ولید پوری اعظمی

نام و نسب:
نام:
محمد کامل ـ آپ علیہ الرحمہ حضرت امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اولاد امجاد سے تھے ـ

ولادت:
اپنے گاؤں ولید پور ضلع اعظم گڑھ میں ۲ نومبر ۱۸۲۳ء میں پیدا ہوئے ـ

تعلیم:
پندرہ برس کی عمر فرنگی محل کے علماء کی خدمت میں آکر درسیات پڑھی ـ

بیعت و خلافت:
حضرت سید شاہ عبد العلیم لوہاری سے سلسلۂ قادریہ میں مرید ہوئے، بارہ برس پیر کی خدمت میں رہ کر تکمیل سلوک کی، اور اجازت و خلافت سے سر فراز ہوئے ـ

۱۸۵۹ء میں دیانت داری و معدات گستری کی بناء پر جون پور کے منصف مقرر ہوئے، مسجد اٹالہ جونپور تعمیر کردہ سلطان ابراہیم شرفی کی مرمت صرف خاص سے کرائی ـ

وصال:
۸۶ برس کی عمر میں ۶ جمادی الثانیہ ۱۳۲۲ھ کو اِنتقال ہوا ـ

حضرت شاہ صوفی محمد جان ولید پوری جانشین ہوئے، ہر سال وقت مقررہ پر عرس ہوتا ہے، موجودہ سجادہ نشین شاہ مختار احمد ہیں ۔

( ماہنامہ صوفی بنار، تاریخ شیراز ہند جون پور )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-muhammad-kamil-waleed-puri-azmi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت خواجہ عبد الواحد بن زید رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

آں فائز بہ مکاشفات توحید وجود، مصداق تجسم ایقاصاً وہم رقود، شہباز قضائے تجرید، ہمائے آشیانۂ تفرید، صید محبت، فردِ حقیقت

حضرت خواجہ عبد الواحد بن زید قدس سرہٗ حضرت خواجہ حسن بصری، کے اعاظم خلفاء میں سے تھے۔

آپ کو ایک خرقۂ خلافت حضرت کمیل ابن زیاد رضی اللہ عنہ سے بھی ملا تھا۔ آپ کے کمالات وکرامات بیشمار ہیں۔ تربیت مریدین میں آپ ید طولیٰ رکھتے تھے۔ ریاضات و مجاہدات، ترک و تجرید، ذوق وعشق میں آپ کو نظیر نہیں تھا۔

آپ صائم الدہر تھے۔ اور تین دن کے بعد افطار کرتے تھے۔ اور تین لقمہ سے زیادہ تناول نہیں فرماتے تھے۔ آپ پر اکثر گریہ طاری رہتا تھا۔ اور آپ سماع سنتے تھے۔

بیعت ہونے سے چالیس سال قبل آپ ریاضت ومجاہدہ کر چکے تھے۔ آپ کو کمال علم حاصل تھا۔

آپ نے علم حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے حاصل کیا تھا۔ روایت ہے کہ کسب دانش آپ نے حضرت امام حسن علی کرم اللہ وجہہ سے حاصل کیا تھا۔ روایت ہے کہ کسب دانش آپ نے حضرت امام حسن بن علی سے کیا تھا۔ آپ خلق خدا سے الگ تھلگ رہتے تھے اور کسی سے نہیں ملتے تھے۔ لیکن اولیاء کرام کی زیارت کے لیے دور دراز سفر اختیار فرماتے تھے اور جس بزرگ کی خدمت میں جاتے سلام کرنے میں سبقت کرتے تھے۔ اور قیام تمام کرتے تھے۔

آپ کا پر اسرار غلام
سیر الاقطاب’ میں لکھا ہے کہ حضرت خواجہ عبد الواحد بن زید نے ایک غلام اس شرف پر خریدا کہ رات کو حاضر رہے۔ اور خدمت کرے۔ جب نصف رات گزرگئی۔ تو آپ نے اُسے طلب کیا۔ آوازین دیں۔ گھر کے تمام دروازے مقفل تھے لیکن غلام نہیں تھا۔ جب صبح ہوئی تو وہ حاضری سے مجھے معذور رکھیں۔ حضرت اقدس نے یہ بات قبول کرلی۔ کچھ اسی طرح گذر جانے کے بعد ایک دن چند ہمسایوں نے آکر عرض کیا کہ آپ کا یہ غلام رات بھر نباشی (کفن چوری) کرتا ہے۔ آپ نے فرمایا اچھا آج رات اس کا امتحان لوں گا۔ رات کے وقت حضرت خواجہ کیا دیکھتے ہیں کہ آدھی رات کے وقت غلام نے اُتھ کر اشارے سے قفل کھولا اور باہر چلا گیا۔ جانے کے بعد قفل اسی طرح ٹھیک ہوگیا۔ دوسرے اور تیسرے دروازے پر پہنچ کر بھی وہی عمل کیا اور اشاروں سے تالے کھولتا ہوا باہر نکل گیا۔ حضرت خواجہ اس کے پیچھے چلے گئے۔ لیکن اس کو علم نہ ہوا۔ قبرستان میں پہنچ کر اس نے اپنے کپڑے اتاردیئے اور ایک قبر میں سے کپڑوں کا جوڑا نکالا اور پہن کر غار میں چلا گیا اور عبادت میں مشغول ہوگیا۔ صبح تک اسی جگہ عبادت میں مشغول رہا۔ صبح کے وقت بارگاہِ حق تعالیٰ میں مناجات کیں کہ خداوندا میرے آقا کی مزدوری عنایت کر۔ یہ کہنا تھا ایک دینار اُوپر سے گرا۔ اس نے دینار اٹھاکر اپنی جیب میں ڈال دیا۔ حضرت خواجہ نے جب یہ معاملہ دیکھا تو حیران رہ گئے اور اپنی بدگمانی پریشمان ہوئے۔ اور توبہ کی۔ آپ نے اُسی وقت تہیۃ کرلیا کہ جب وہ حق تعالیٰ کی بندگی میں اس قدر منہمک ہے تو میں اُسے آزاد کردوں گا۔ اس کے بعد وہ غلام غیب ہوگیا اور حضرت خواجہ علیہ رحمۃ اپنے گھر کی طرف روانہ ہوئے۔ تھوڑی دور گئے تھے کہ غیب سے ایک سوار ظاہر ہوا۔ آپ نے اس سے دریافت کیا کہ میرا فلاں شہر یہاں سے کتنی دور ہے اس نے جواب دیا کہ اگر تیز چلاجائے تو دو سال کا راستہ ہے۔ یہ سن کر آپ وہاں بیٹھ گئے اور دل میں کہنے لگے اب وہاں جانا بہت مشکل ہوگا۔ بہتر یہ ہے کہ آج رات اسی جگہ پر رہ جاؤں۔ غلام واپس آئے گا جب وہ واپس جانے لگے گا۔ تو اس کے پیچھے چلتا رہوں گا۔ غرضیکہ آپ کا سارا دن وہاں بیٹھے رہے جب رات ہوئی تو وہ غلام ٹھیک اُسی وقت پر پہنچ گیا اور عبادت میں مشغول ہوگیا۔ جب صبح ہوئی تو اس نے وہی دعا مانگی اور اُوپر سے دینار آ گرا۔ اس نے دینار کو اٹھاکر جیب میں ڈالا۔ حضرت خواجہ چھپے بیٹھے تھے غلام نے اُن کے پاس آکر دونوں دینار جیب سے نکالے اور حضرت اقدس کے پیش کیے کہ یہ لیجئے دونوں راتوں کی اُجرت ہے۔ اور جو نیت آپ نے میرے حق میں کر رکھی ہے اُسے پورا کیجئے۔ حضرت اقدس نے اُسے فوراً آزاد کردیا۔ غلام نے چند سنگریزے اٹھاکر حضرت اقدس کے دامن میں ڈالدیئے اور کہا کہ یہ شکرانہ ہے اسبات کا کہ آپ نےمجھے آزاد کیا ہے۔ یہ کہہ کر وہ روانہ ہوگیا اور حضرت اقدس کو اشارہ کیا کہ میرے پیچھے چلے آئیں۔ حضرت اقدس اس کے پیچھے روانہ ہوپڑے۔ زیادہ دور نہ گئے ہوں گے کہ اپنے شہر کے نزدیک پہنچ گئے اور اپنے گھر چلے گئے۔ غلام غیب ہوگیا۔ جب حضرت اقدس نے دامن کھولا تو کیا دیکھتے ہیں کہ ہر سنگپارہ ایک قیمتی جوہر بنا ہوا ہے۔ جب وہ لوگ جو غلام کو کفن چور کہتے تھے آئے تو حضرت اقدس نے ان سے کہا کہ دوستو تم لوگ جو اس شخص کے متعلق باتیں بنایا کرتے تھے اس کی حقیقت یہ ہے ۔ چنانچہ آپ نے جو کچھ دیکھا تھا سب اُن کو بتادیا۔ اور فرمایا کہ نباش النور ہے نہ کہ نباش القبور۔ اب آپخود خیال کر سکتے تھے کہ جس آقا کا غلام ایسا ہو وہ خود کیسا ہوگا۔ اگر اُسے سارے جہان کا آقا کہا جائے تو بجا ہے۔ زہے غلام جس کے آقا آپ ہوں سارے جہان کو آپ کی غ
1
لامی سے شرف حاصل ہوتا ہے۔

کرامت

اس کتاب میں یہ بھی لکھاہے کہ ایک دن حضرت اقدس راستے میں جارہے تھے کیا دیکھتے ہیں کہ ایک بوڑھا عاجز، ضعیف وناتواں دھوپ میں پڑا ہے اور کوئی شخص اس کا پرسانِ حال نہیں ہے۔ آپ کو اس کے حال راز پر رحم آیا۔ اور ابر کواشارہ کیا کہ اس بے نوا پر سایہ کرے۔ جب اس بوڑھے نے یہ کرامت دیکھی تو عرض کیا کہ حضور میرے لیے دعا کریں کہ مجھے صحت ہو۔ آپ نے دعا کی تو وہ اُسی وقت صحت یاب ہوگیا۔ اور اٹھ کر چلا گیا۔

کرامت

اس کتاب میں یہ بھی لکھاہ ے کہ ایک دفعہ درویشوں کی ایک جماعت حضرت اقدس کی خدمت میں حاضر تھی۔ ان پر بھوک غالب تھی جس کی وجہ سے وہ پریشان اور کمزور تھے۔ لیکن آپ کے پاس کھانے کی کوئی چیز نہ تھی جو ان کو دیتے۔ انہوں نے حضرت خواجہ سے فرمائش کی کہ ہمیں حلوہ کھلائیں۔ جب اس بات پر فقراء نے اصرار کیا تو آپ نے آسمان کی طرف منہ کیا۔ پھر کیا تھا کہ آسمان سے دیناروں کی بارش ہونے لگی۔ فقیر نے دینار اٹھانے کی خواہش کی تو حضرت اقدس نے فرمایا کہ اُسی قدر اٹھاؤ جس سے حلوہ خرید سکو۔ درویشوں نے اپ کے حکم کی تکمیل کی۔ اور دینار اٹھاکر بازار سے حلوہ خرید لائے۔ اور پیٹ بھر کر کھایا لیکن حضرت اقدس نے اس میں سے کچھ نہ کھایا۔

‘‘مراۃ الاسرار’’ میں لکھا ہے کہ حضرت خواجہ عبدالواحد بن زید میرا ایک گھٹنہ بیماری کی وجہ سے شل ہوگیا تھا۔ جس سے مجھے بہت تکلیف ہوتی تھی۔ ایک رات میں نماز کے لیے کھڑا ہوا لیکن جسم میں طاقت نہ ہونے کی وجہ سے بیٹھ گیا اور محراب میں سر دیکر سوگیا خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک ن ہایت ہی حسین و جمیل دوشیزہ دوسری لڑکیوں کے درمیان آئی ہے اس نے مجھے دیکھ کر دوسری لڑکیوں سے کہا کہ اس کو اٹھالو لیکن خیال کرنا نیند سے بیدار نہ ہونے پائے۔چنانچہ انہوں نے مجھے اٹھالیا۔ اس کے بعد اس نےکہا کہ ان کے لیے نرم بستر بچھاؤ۔ لڑکیوں نے ایسا عمدہ ہفت نہالی بستر بچھایا کہ دنیا میں میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے ہر رنگ کے عمدہ تکیے بستر پر رکھے اور مجھے آرام سے سلادیا۔ اور قسم و قسم کے عطریات اور پھول بستر پر ڈالے۔ اس کے بعد اُس لڑکی نے میرے پاس آکر میرے درد کی جگہ پر ہاتھ رکھا جس سے مجھے کامل شفا حاصل ہوگئی اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ کبھی شکایت ہی نہیں ہوئی تھی۔

ذوق شہادت وانعام

‘‘مراۃ الاسرار’’ میں یہ بھ ی لکھا ہے کہ حضرت شیخ عبدالواحد بن زید فرماتے ہیں ایک دفعہ میرے دل میں جہاد کی خواہش پیدا ہوئی اور ہم تیار ہوگئے۔ اس اثناء میں میرے ایک ساتھی نے یہ آیت پڑھی۔ اِنَّ اللہ اشتریٰ من المؤمنین انفسھم واموالھم بانّ لھم الجنّۃ۔(اللہ تعالیٰ مومنین سے ان کی جانیں اور مال خریدتا ہے جنت کے عوض)۔ وہاں ایک نو جواب لرکا کھڑا تھا جس کو اپنے والد کی طرف سے کافی مال و دولت ورثہ میں حاصل ہوا تھا۔ اس نے یہ آیت سنتے ہی کہا کہ اے شیخ یہ آیت سچ ہے۔ میں نے کہا بالکل سچ ہے۔ اس نے ک ہا آپ گواہ رہیں کہ میں نے اپنی ذات اور اپنا مال بہشت کے عوض فروخت کیا۔ اس کے بعد اس نے میرے ہاتھ پر بیعت کی اور اپنا تمام مال فروخت کر کے ایک گھوڑا او اسلحہ خریدا اور دوسرے دن ہمارے ساتھ جہاد پر روانہ ہوگیا۔ وہ دن میں روزہ رکھتا تھا اور رات میں کھڑا ہوکر نماز پڑھتا تھا۔ ایک رات اس نے یہ فریاد کی۔ اشوقاہ الی عین المرضیۃ (ہائے عین المرضیہ) میرے ساتھیوں نےیہ آواز سن کر کہا کہ شاید عقل جاتی رہی ہے۔ چنانچہ میں نے اس سے پوچھا کہ اے دوست کون ہے وہ عین المرضیہ؟۔ اس نے جواب دیا کہ حالت غنودگی میں ایک شخص نے آکر مجھ سے کہا کہ عین المرضیہ کے پاس چلو۔ میں اس کے ساتھ چلا گیا اور ہم ایک سبزہ زار میں پہنچ گئے جہاں ایک نہر بہہ رہی تھی۔ نہر کے کنارے پر دو شیزہ لڑکیوں کی ایک ٹولی دیکھی جو حسن وجمال اور زیب وزینت میں اپنا نظیر نہیں رکھتی تھیں۔ جونہی انہوں نے مجھے دیکھ کر خوشی کی حالت میں چِلّا اٹھیں کہ یہ ہے۔ عین المرضیہ کا خاوند۔ اس کے بعد ان لڑکیوں نے کہا کہ ہم عین المرضیہ کی خدمت گار ہیں۔ آپ جلدی ہمارے ساتھ چلیں چنانچہ ہم چل پڑے۔ تھوڑی دور جانے کے بعد ایک اور نہر کے کنارے کچھ اور لڑکیوں کی ٹوپی دیکھی جو حسن وجمال میں اُن سے بھی بڑھتی ہوئی تھیں۔ انہوں نے بھی یہی کہا کہ ہم عین المرضیہ کی خدمت گار ہیں آپ جلدی اُن کے پاس چلیں۔چنانچہ ہم آگے کی جانب روانہ ہوئے تو ایک شراب کی نہر نظر آئی جس کے کنارے دو شیزگان کی ایک اور ٹولی دیکھی جو اُن سے بھی زیادہ خوبصورت تھیں۔ میں نے ان سے دریافت کیا کہ کیا عین المرضیہ تم میں سے ہے۔ اُنہوںن ے جواب دیا کہ اے خدا کے دوست آگے چلو۔ ہم سب اس کی خدمت گار ہیں۔ وہاں سے آگے چل کر ہم نے ایک اور نہر دیکھی جو شہد خالص سے لبریز تھی اور اس کے کنارے پر جو لڑکیاں موجود تھیں وہ اُن سے بھی زیادہ خوبصورت تھیں۔ انہوں نے کہا کہ عین المرضیہ فلاں خیمہ میں آپ کا انتظار کر رہی ہیں۔ چنانچہ ہم آگے بڑھ کر اس خیمہ تک پہنچے جو سفید مروارید س
1
ے بنا ہوا تھا۔ اس کے دروازہ پر ایک لڑکی بیٹھی تھی جو نہایت ہی خوبصورت تھی اور زیب و زینت سے آراستہ تھی۔ وہ مجھے دیکھ کر خوش ہوئی اور خیمہ کے اندر جھانک کر آواز دی کہ یا عین المرضیہ آپ کا شوہر آگیا ہے۔ جب میں خیمہ کے اندر داخل ہوا تو کیا دیکھتا ہوں حسن و جمال کا پیکر ایک ایسے زرّین تحت پر جلوہ افروز ہے جو یاقوت ومروادید سے آراستہ پیراستہ ہے۔ میں اُسے دیکھتےہی فریضۃ ہوگیا مجھے دیکھ کر اس نے کہا ‘‘مرحبا یا ولی الرحمٰن’’۔ میں نے آگے بڑھ کر اپنا بازو اس کی گردن میں ڈالا اس نے کہا جلدی مت کرو۔ ابھی حکم نہیں آیا ابھی آپ قید حیات میں ہیں۔ آج رات آپ ہمارے ساتھ روزہ کھولیں گے۔ اس کے بعد میں بیدار ہوگیا اور اب مجھے اس کے بغیر قرار نہیں ہے۔ حضرت خواجہ عبدالواحد فرماتے ہیں کہ اس لڑکے نے یہ بات پوری کی ہی تھی کہ دشمن کی فوج کا ایک دستہ نمودار ہوا۔ اس لڑکے نے آگے بڑھ کر اس پر حملہ کیا اور دشمن کے نو آدمیوں کو موت کے گھاٹ اتار کر خود بھی شہید ہوگیا جب ہم اس کے پاس پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ اپنے خون میں غلطاں ہے اور قہقہے مار کر ہنس رہا ہے اسی حالت میں اس کا انتقال ہوگیا۔ رحمۃ اللہ علیہ۔

اس کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ ایک دن قریش کی ایک جماعت حضرت خواجہ عبدالواحد بن زید کی خدمت میں حاضر ہوئی اور تنگ دستی کی شکایت کی۔ آپ نے آسمان کی طرف سر اٹھاکر دعا کی کہ الٰہی میں تیرے نام سے سوال کرتا ہوں جو بلند ہے اور جس نام سے تو بزرگ کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور اپنے دوستوں کے دلوں کو اپنے اس اسم اعظم سے آگاہ کر تا ہے۔ اب تو ہمیں اپنے یہاں سے روزی عطا فرما۔ یہ کہنا تھا کہایک آواز بلند ہوئی اور آسمان سے درہم و دینار کی بارش شروع ہوگئی اور ان لوگوں نے چننا شروع کردیا۔ غرضیکہ آپ کی کرامات اس قدر ہیںکہ اس مختصر کتاب میں ان کی گنجائش نہیں ہے۔

خلفاء

سیر الاقطاب میں روایت ہے کہ حضرت خواجہ عبدالواحد بن زید کے تین خلفاء تھے۔ حضرت خواجہ فضیل ابن عیاض، حضرت خواجہ ابو الحسن علی بن زرّین اور حضرت خواجہ ابو یعقوب سوسی۔ جس تک حضرت شیخ ابو النجیب سہروردی اور حضرت شیخ نجم الدین کبریٰ کا سلسلہ جا ملتا ہے۔ اس کتاب میں یہ بھ ی لکھا ہے کہ آخر عمر میں حضرت خواجہ اس قدر بیمار ہوئے کہ اٹھنے کی طاقت نہ تھی۔ بلکہ حرکت بھی نہیں کر سکتے تھے۔ ایک دن نماز کے وقت خادم موجود نہ تھا کہ وضو کراتا۔ آپ نےحق تعالیٰ سے دعا کی کہ یا الٰہی مجھے اس قدر طاقت عنایت ہوکہ اٹھ کر وضو کروں اور نماز ادا کروں اس کے بعد جو حکم ہو بندہ حاضر ہے۔ دعا مانگتے ہی حضرت خواجہ صحت یاب ہوگئے اور اٹھ کر وضو کیا اور جی کھول کر نماز ادا کی۔ اس کے بعد جب اپنے بستر پرواپس گئے تو بدستور سابق بیمار ہوگئے اور ستائیس ماہ صفر ۱۷۷ھ کو ایک روایت کے مطابق ۱۷۰ھ میں جہان فانی سے بصرہ میں رحلت فرمائی۔ اس کتاب میں آپ کی تاریخ وفات یوں نکالی گئی ہے:۔

‘‘از اولیائے کامل بود’’

اللّٰھمّ صلّ علیٰ محمد والہٖ واصحابہٖ اجمعین۔

ازرہگذرِ خاکِ سرکوئے شمابود

ہر نافہ کہ دردستِ نسیم سحر افتاد

( اقتباس الانوار )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-abdul-wahid-bin-zaid
1