علامہ حیات سندھی کی دور رس نگاہوں پر قربان کہ فرقہ وہابیہ کی ابھی بنیاد بھی نہ رکھی گئی تھی ، بانی فرقہ ابتدائی کتابیں پڑھ رہا تھا کہ آپ نے پیشانی دیکھ کر نوشتہ دیوار پڑھ لیا اور سب کچھ بتادیا۔ اس کا مطلب آپ ابتدا سے ’’وہابی تحریک‘‘ کے مخالف تھے بلکہ محاسبہ کرنے والے اولین میں آپ کا شمار ہوتا ہے اور آپ کے تامذہ نے بھی تحریراً و تقریراً اس کا رد بلیغ کیا۔ جس کو حضور پاک ﷺ نے قرن الشیطان (شیطان کا سینگ) قرار دیا۔ بھلا اس کی حمایت ایک عالم ربانی کیسے کر سکتا ہے۔ آج اگر کوئی ان دلائل کو نظر انداز کرکے انہیں غیر مقلد وہابی کہنے میں مصر ہو تو اس زبردستی و نا انصافی پر سوائے احتجاج کے اور کیا کر سکتے ہیں؟
وصال:
سندھ کے فاضل جلیل عظیم حنفی علام ، عاشق رول محدث، عارف باللہ محمد حیات مدنی نے اپنا سرمایہ مدینہ منورہ کے غریب اور مسافر طلبا پر صرف کیا ۔ روپیہ پیسہ کچھ بھی جمع نہیں کیا۔ صوفیائے کرام کی طرح ساری زندگی توکل علی اللہ میں بسر فرمائی۔ شب و روز قال اللہ و قال رسول اللہ ﷺ میں صرف کرکے ۲۶ صفر المظفر ۱۱۶۳ھ / ۱۷۶۰ء بروز بدھ کو وصال کیا ۔ حرم نبوی میں گنبد خضریٰ کے سایہ میںنماز جنازہ ادا ہوئی اور جنت البقیع میں تدفین ہوئی ۔ (سبحۃ المرجان، سلک الدرر) ـ
(زیادہ تر مواد مولوی غلام مصطفی قاسمی کے مجموعہ ’’مقالات قاسمی‘‘ مطبوعہ حیدرآباد ۲۰۰۰ء سے لیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ باحوالہ مواد شامل کرکے مضمون ترتیب دیا گیا ہے۔)
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-hayat-sindhi-madani
وصال:
سندھ کے فاضل جلیل عظیم حنفی علام ، عاشق رول محدث، عارف باللہ محمد حیات مدنی نے اپنا سرمایہ مدینہ منورہ کے غریب اور مسافر طلبا پر صرف کیا ۔ روپیہ پیسہ کچھ بھی جمع نہیں کیا۔ صوفیائے کرام کی طرح ساری زندگی توکل علی اللہ میں بسر فرمائی۔ شب و روز قال اللہ و قال رسول اللہ ﷺ میں صرف کرکے ۲۶ صفر المظفر ۱۱۶۳ھ / ۱۷۶۰ء بروز بدھ کو وصال کیا ۔ حرم نبوی میں گنبد خضریٰ کے سایہ میںنماز جنازہ ادا ہوئی اور جنت البقیع میں تدفین ہوئی ۔ (سبحۃ المرجان، سلک الدرر) ـ
(زیادہ تر مواد مولوی غلام مصطفی قاسمی کے مجموعہ ’’مقالات قاسمی‘‘ مطبوعہ حیدرآباد ۲۰۰۰ء سے لیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ باحوالہ مواد شامل کرکے مضمون ترتیب دیا گیا ہے۔)
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-hayat-sindhi-madani
scholars.pk
Hazrat Sheikh Hayat Sindhi Madani
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
حضرت مولانا امیر علی امیٹھوی شہید رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
حضرت مولانا شاہ امیر علی ابن علی ابن محمد بخش ابن امام الدین ابن محمد ابن حضرت مُلا جیون ۱۲۱۸ھ میں بمقام امیٹھی پیدا ہوئے، علماء لکھنؤ سے تحصیل علم کیا، ۱۲۳۶ھ میں مشہور صوفی عالم حضرت مولانا شید عبد الرحمٰن شکار پوری سندھی ثم لکھنوی (۱۱۶۲ھ/۱۲۴۵ھ) کی خدمتِ بابرکت میں حاضر ہوئے، مثنوی مولانا رومی،شرح مشکوٰۃ اور حضرت صوفی عبد الرحمٰن کا مشہور رسالہ ‘‘ کلمۃ الحق’’ اُن سے پڑھا،۱۲۴۲ھ میں عید الضحیٰ کے دن مرید ہوئے اور خلافت حاصل کی،
مولانا امیر علی قدس سرہٗ کی زندگی میں حادثۂ ہنومان گڑھی اجودھیا کو خاص اہمیت حاصل ہے،ہنومان گڑھی کی مشہور عالمگیری سجد کو شر پسند غیر مسلموں نے شہید کردیا تھا،یہ واقعہ ایسا نہ تھا کہ مسلمانوں کا دل مجروح نہ ہوتا، مولانا امیر علی کو خبر ملی تو بے چین ہوگئے،جہاد کے لیے کمرہمت باندھ لی، جانبازوں کی کثیر جماعت نے شرف جہاد کے حصول کے لیے درانا کے ہاتھ پر بیعت کی،حالات کے پیش نظر نواب واجد علی شاہ نے تصفیہ اور انصاف کا وعدہ کرلیا،وہ فیصلہ کرنا چاہتا تھا،مگر ریذیڈنٹ ہر لمحہ بادشاہ اور وزیر پر معاملہ کود بانے پر اصرار کرتا رہا انتظا ردیکھ کر مولانا مجاہدین کو لے کر اجودھیا کی طرف روانہ ہوئے،شاہی فوج مزاحم ہوئی،اور آگے بڑھنے سے روک کر محاصرہ کرلیا، مقابلہ ہوا،زوروں کا رَن پڑا،راہِ حق میں جہاد کرتے ہوئے ۲۶؍م صفر۱۲۷۲ھ بروز بدھ شہید ہوئے،حالات کو بگڑتے ہوئے دیکھ کر عقیدت مندوں نےمولانا سے محفوظ جگہ میں پہونچا نے کی پیشکش کی تو ان کی زبان حق بیان نے یہ مصرعہ ارشاد فرمایا۔؏ سرمیداں کفن بردوش دارم۔۔۔۔ بعد میں یہی مصرعیہ سال شہادت نکلا،ہنگامۂ جہاد ختم ہونے کے بعد سرمبارک گنّے کےکھیت میں لہو ٹپکتا پایاگیا۔۔۔ (باغی ہندوستان،تاریخ مدینۃ الاولیاء اجودھیا، تذکرل علمائے ہند، نزہۃ الخواطر)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-ameer-ali-ameethwi
حضرت مولانا شاہ امیر علی ابن علی ابن محمد بخش ابن امام الدین ابن محمد ابن حضرت مُلا جیون ۱۲۱۸ھ میں بمقام امیٹھی پیدا ہوئے، علماء لکھنؤ سے تحصیل علم کیا، ۱۲۳۶ھ میں مشہور صوفی عالم حضرت مولانا شید عبد الرحمٰن شکار پوری سندھی ثم لکھنوی (۱۱۶۲ھ/۱۲۴۵ھ) کی خدمتِ بابرکت میں حاضر ہوئے، مثنوی مولانا رومی،شرح مشکوٰۃ اور حضرت صوفی عبد الرحمٰن کا مشہور رسالہ ‘‘ کلمۃ الحق’’ اُن سے پڑھا،۱۲۴۲ھ میں عید الضحیٰ کے دن مرید ہوئے اور خلافت حاصل کی،
مولانا امیر علی قدس سرہٗ کی زندگی میں حادثۂ ہنومان گڑھی اجودھیا کو خاص اہمیت حاصل ہے،ہنومان گڑھی کی مشہور عالمگیری سجد کو شر پسند غیر مسلموں نے شہید کردیا تھا،یہ واقعہ ایسا نہ تھا کہ مسلمانوں کا دل مجروح نہ ہوتا، مولانا امیر علی کو خبر ملی تو بے چین ہوگئے،جہاد کے لیے کمرہمت باندھ لی، جانبازوں کی کثیر جماعت نے شرف جہاد کے حصول کے لیے درانا کے ہاتھ پر بیعت کی،حالات کے پیش نظر نواب واجد علی شاہ نے تصفیہ اور انصاف کا وعدہ کرلیا،وہ فیصلہ کرنا چاہتا تھا،مگر ریذیڈنٹ ہر لمحہ بادشاہ اور وزیر پر معاملہ کود بانے پر اصرار کرتا رہا انتظا ردیکھ کر مولانا مجاہدین کو لے کر اجودھیا کی طرف روانہ ہوئے،شاہی فوج مزاحم ہوئی،اور آگے بڑھنے سے روک کر محاصرہ کرلیا، مقابلہ ہوا،زوروں کا رَن پڑا،راہِ حق میں جہاد کرتے ہوئے ۲۶؍م صفر۱۲۷۲ھ بروز بدھ شہید ہوئے،حالات کو بگڑتے ہوئے دیکھ کر عقیدت مندوں نےمولانا سے محفوظ جگہ میں پہونچا نے کی پیشکش کی تو ان کی زبان حق بیان نے یہ مصرعہ ارشاد فرمایا۔؏ سرمیداں کفن بردوش دارم۔۔۔۔ بعد میں یہی مصرعیہ سال شہادت نکلا،ہنگامۂ جہاد ختم ہونے کے بعد سرمبارک گنّے کےکھیت میں لہو ٹپکتا پایاگیا۔۔۔ (باغی ہندوستان،تاریخ مدینۃ الاولیاء اجودھیا، تذکرل علمائے ہند، نزہۃ الخواطر)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-ameer-ali-ameethwi
scholars.pk
Hazrat Molana Shah Ameer Ali Ameethwi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
حضرت علامہ حافظ سید حسین احمد کاظمی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ
مولانا حافط سید حسین احمد کاظمی بن مولانا حافظ حاجی سید جمیل احمد کاظمی امروہہ (یوپی ، انڈیا) میں ۱۸، اکتوبر ۱۹۲۲ء کو تولد ہوئے ۔
تعلیم و تربیت:
آپ نے اپنے والد کے ہاں تعلیم کا آغاز کیا اور سات سال کی عمر میں انہی کے پاس قرآن مجید حفظ کیا ۔ مولانا قاری محمد مصلح الدین صدیقی سے علم قرأت و تجوید کی تعلیم حاصل کی ۔ مولوی عالم فاضل کے امتحانات کراچی بورڈ سے پاس کئے ۔
بیعت:
آپ اپنے چچا جان غزالی زماں حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی ملتانی رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے دست بیعت ہوئے ۔
شادی واولاد:
آپ نے شادی کی ۔ سات بیٹے اور دو بیٹیاں تولد ہوئیں ۔
۱۔ سید عبدالرحمن کاظمی مرحوم
۲۔ سید حمزہ احمد کاظمی
۳۔ سید محمد حسین کاظمی مرحوم
۴۔ سید شرف احمد کاظمی
۵۔ سید ظفر احمد کاظمی
۶۔ حافظ سید فضل احمد کاظمی
۷۔ سید نثار احمد کاظمی
۸۔ سیدہ آمنہ خاتون
۹۔سیدآصفہ خاتون
امامت و خطابت:
کراچی کی متعدد مساجد میں آپ نے امامت و خطابت کے فرائض سر انجام دئیے ۔امامت کے ساتھ محلے کے بچوں کو حفظ و ناظرہ قرآن مجید بھی پڑھاتے اور نکاح خوانی کے بھی فرائض سر انجام دیتے رہے۔ جامع مسجد مدینہ لیاقت آباد نمبر ۲ میں پچیس سال امام و خطیب کی حیثیت سے منسلک رہے۔ مسلم پاپولر اسکول نا ظم آباد اور کیانی میمن اسکول میں بھی تقریبا پچیس سالاستاد رہے ۔
تلامذہ:
آپ کے شاگردوں کے نام درج ذیل ہیں:
٭حافظ سید فضل احمد کاظمی آستانہ سلطانیہ ناظم آباد نمبر ۲
٭ حافظ سلیم احمد خان
٭ حافظ نثار احمد
٭ حافط حمید
عادات و خصائل:
آپ اپنے والد کی طرح نہایت ہی سادہ طبیعت کے مالک تھے ۔ آپ کا زیادہ تر وقت عبادت اور قرآن و حدیث کے مطالعے میں بسر ہوتا تھا ۔ آپ کے مطالعے کا طریقہ یہ تھا کہ آپ سخت دھوپ میں بیٹھ کر مطالعہ کرتے تھے ۔ آپ کے دل میں اللہ و رسول کا عشق اس قدر تھا کہ آپ جس وقت حضور اکرمﷺ کا نام آپ کے لبوں پر آتا تو آپ کے ہونٹ کا نپنے لگتے تھے ۔ آپ جس وقت کوئی آیت قرآنی یا حدیث نبوی بیان کرتے تو ایسا لگتاتھا کہ جیسے آپ حضور پاک ﷺ کا دیدار کر رہے ہوں۔ قرآن مجید حفظ کرنے کے بعد آپ نے سب سے پہلے گیارہ سال کی عمر میں توڑی (انڈیا) میں ایک ہی رات میں ختم قرآن کیا اور آپ اکثر ایک رات میں قرآن پاک سنایا کر تے تھے آپ نے ہمیشہ اپنے شاگردوں کو سادگی سچائی اور نیک اعمال کرنے کی تلقین کی۔ آپ سفید رنگ کا عمامہ اور سفید رنگ کا لباس ہی پسند کر تے تھے ۔ ہر وقت باوضورہتے تھے ۔
وصال:
حافظ سید حسین احمد کاظمی نے یکم ذوالقعدہ ۱۴۱۱ھ بمطابق ۱۹۹۱ء بروز جمعرات بوقت رات ساڑھے تین بجے ۶۹ سال کی عمر میں اپنے گھر پر انتقال کیا ۔ آپ کے چھوٹے بھائی سید متین احمد کاظمی نے نماز جنازہ کے فرائض سر انجام دیئے ۔ خاموش کالونی قبرستان (لیاقت آباد) میں تدفین عمل میں آئی۔
[آپ کے بیٹے حافظ فضل احمد کاظمی صاحب (ناظم آباد ) نے حالات مہیا کئے، فقیر مشکور ہے]
( انوارِعلماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-hafiz-syed-hussain-ahmad-kazmi
مولانا حافط سید حسین احمد کاظمی بن مولانا حافظ حاجی سید جمیل احمد کاظمی امروہہ (یوپی ، انڈیا) میں ۱۸، اکتوبر ۱۹۲۲ء کو تولد ہوئے ۔
تعلیم و تربیت:
آپ نے اپنے والد کے ہاں تعلیم کا آغاز کیا اور سات سال کی عمر میں انہی کے پاس قرآن مجید حفظ کیا ۔ مولانا قاری محمد مصلح الدین صدیقی سے علم قرأت و تجوید کی تعلیم حاصل کی ۔ مولوی عالم فاضل کے امتحانات کراچی بورڈ سے پاس کئے ۔
بیعت:
آپ اپنے چچا جان غزالی زماں حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی ملتانی رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے دست بیعت ہوئے ۔
شادی واولاد:
آپ نے شادی کی ۔ سات بیٹے اور دو بیٹیاں تولد ہوئیں ۔
۱۔ سید عبدالرحمن کاظمی مرحوم
۲۔ سید حمزہ احمد کاظمی
۳۔ سید محمد حسین کاظمی مرحوم
۴۔ سید شرف احمد کاظمی
۵۔ سید ظفر احمد کاظمی
۶۔ حافظ سید فضل احمد کاظمی
۷۔ سید نثار احمد کاظمی
۸۔ سیدہ آمنہ خاتون
۹۔سیدآصفہ خاتون
امامت و خطابت:
کراچی کی متعدد مساجد میں آپ نے امامت و خطابت کے فرائض سر انجام دئیے ۔امامت کے ساتھ محلے کے بچوں کو حفظ و ناظرہ قرآن مجید بھی پڑھاتے اور نکاح خوانی کے بھی فرائض سر انجام دیتے رہے۔ جامع مسجد مدینہ لیاقت آباد نمبر ۲ میں پچیس سال امام و خطیب کی حیثیت سے منسلک رہے۔ مسلم پاپولر اسکول نا ظم آباد اور کیانی میمن اسکول میں بھی تقریبا پچیس سالاستاد رہے ۔
تلامذہ:
آپ کے شاگردوں کے نام درج ذیل ہیں:
٭حافظ سید فضل احمد کاظمی آستانہ سلطانیہ ناظم آباد نمبر ۲
٭ حافظ سلیم احمد خان
٭ حافظ نثار احمد
٭ حافط حمید
عادات و خصائل:
آپ اپنے والد کی طرح نہایت ہی سادہ طبیعت کے مالک تھے ۔ آپ کا زیادہ تر وقت عبادت اور قرآن و حدیث کے مطالعے میں بسر ہوتا تھا ۔ آپ کے مطالعے کا طریقہ یہ تھا کہ آپ سخت دھوپ میں بیٹھ کر مطالعہ کرتے تھے ۔ آپ کے دل میں اللہ و رسول کا عشق اس قدر تھا کہ آپ جس وقت حضور اکرمﷺ کا نام آپ کے لبوں پر آتا تو آپ کے ہونٹ کا نپنے لگتے تھے ۔ آپ جس وقت کوئی آیت قرآنی یا حدیث نبوی بیان کرتے تو ایسا لگتاتھا کہ جیسے آپ حضور پاک ﷺ کا دیدار کر رہے ہوں۔ قرآن مجید حفظ کرنے کے بعد آپ نے سب سے پہلے گیارہ سال کی عمر میں توڑی (انڈیا) میں ایک ہی رات میں ختم قرآن کیا اور آپ اکثر ایک رات میں قرآن پاک سنایا کر تے تھے آپ نے ہمیشہ اپنے شاگردوں کو سادگی سچائی اور نیک اعمال کرنے کی تلقین کی۔ آپ سفید رنگ کا عمامہ اور سفید رنگ کا لباس ہی پسند کر تے تھے ۔ ہر وقت باوضورہتے تھے ۔
وصال:
حافظ سید حسین احمد کاظمی نے یکم ذوالقعدہ ۱۴۱۱ھ بمطابق ۱۹۹۱ء بروز جمعرات بوقت رات ساڑھے تین بجے ۶۹ سال کی عمر میں اپنے گھر پر انتقال کیا ۔ آپ کے چھوٹے بھائی سید متین احمد کاظمی نے نماز جنازہ کے فرائض سر انجام دیئے ۔ خاموش کالونی قبرستان (لیاقت آباد) میں تدفین عمل میں آئی۔
[آپ کے بیٹے حافظ فضل احمد کاظمی صاحب (ناظم آباد ) نے حالات مہیا کئے، فقیر مشکور ہے]
( انوارِعلماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-hafiz-syed-hussain-ahmad-kazmi
scholars.pk
Hazrat Allama Hafiz Syed Hussain Ahmad Kazmi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
حضرت میر سید حسن بغدادی علیہالرحمہ
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت میر سید حسن بغدادی ۔ لقب: شیخ الوقت ۔ والد کا اسم گرامی: عارفِ کامل حضرت میر سید موسیٰ ۔ خاندان سادات سے نسبی تعلق تھا ۔ علم و فضل تقویٰ و طہارت میں بے مثال تھے ۔
ولادت باسعادت:
آپ کی ولادت بغداد معلی میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
تمام علوم عقلیہ و نقلیہ کی تحصیل و تکمیل اپنے والد گرامی کے زیر سایہ ہوئی ۔ آپ اپنے وقت کےعالم متبحر اور عارف کامل تھے ۔
بیعت و خلافت:
والد گرامی سے تحصیل علم کے بعد سلوک کی منازل طے فرمائیں، اور پھر انہیں کے دستِ حق پرست پر سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت ہوئے، اور خلافت سے مشرف ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
سردار اولیاء، مشاہیر عصر، شیخ الوقت واقف رموز حقائق، دانندۂ اسرار دقائق، حضرت الشیخ میر سید حسن قادری بغدادی آپ سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ کے تئیسویں (23) امام وشیخ طریقت ہیں آپ عبادت و ریاضت میں جملہ معاصرین سے فائق تھے اور ذکر و فکر میں مشہور تھے ۔ علوحال ورموز احوال میں کمال رکھتے تھے ۔
خلفاء:
آپ کے خلفاء وغیرہ کی تفصیل دستیاب نہ ہو سکی صرف حضرت سید احمد الجیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کے مشہور خلیفہ کے نام ملتے ہیں ۔
تاریخ وصال:
آپ کا وصال 26 صفرالمظفر 781ھ / جون 1379 کو بغداد شریف میں ہوا ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ مشائخِ قادریہ رضویہ
شجرہ شریف میں اس طرح ذکر ہے:
طورِ عرفان علو و حمد و حسنی بہا
دے علیؔ موسیٰؔ حسنؔ احمدؔ بہاؔ کےواسطے
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-mir-syed-hassan-baghdadi
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت میر سید حسن بغدادی ۔ لقب: شیخ الوقت ۔ والد کا اسم گرامی: عارفِ کامل حضرت میر سید موسیٰ ۔ خاندان سادات سے نسبی تعلق تھا ۔ علم و فضل تقویٰ و طہارت میں بے مثال تھے ۔
ولادت باسعادت:
آپ کی ولادت بغداد معلی میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
تمام علوم عقلیہ و نقلیہ کی تحصیل و تکمیل اپنے والد گرامی کے زیر سایہ ہوئی ۔ آپ اپنے وقت کےعالم متبحر اور عارف کامل تھے ۔
بیعت و خلافت:
والد گرامی سے تحصیل علم کے بعد سلوک کی منازل طے فرمائیں، اور پھر انہیں کے دستِ حق پرست پر سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت ہوئے، اور خلافت سے مشرف ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
سردار اولیاء، مشاہیر عصر، شیخ الوقت واقف رموز حقائق، دانندۂ اسرار دقائق، حضرت الشیخ میر سید حسن قادری بغدادی آپ سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ کے تئیسویں (23) امام وشیخ طریقت ہیں آپ عبادت و ریاضت میں جملہ معاصرین سے فائق تھے اور ذکر و فکر میں مشہور تھے ۔ علوحال ورموز احوال میں کمال رکھتے تھے ۔
خلفاء:
آپ کے خلفاء وغیرہ کی تفصیل دستیاب نہ ہو سکی صرف حضرت سید احمد الجیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کے مشہور خلیفہ کے نام ملتے ہیں ۔
تاریخ وصال:
آپ کا وصال 26 صفرالمظفر 781ھ / جون 1379 کو بغداد شریف میں ہوا ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ مشائخِ قادریہ رضویہ
شجرہ شریف میں اس طرح ذکر ہے:
طورِ عرفان علو و حمد و حسنی بہا
دے علیؔ موسیٰؔ حسنؔ احمدؔ بہاؔ کےواسطے
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-mir-syed-hassan-baghdadi
scholars.pk
Hazrat Syed Hassan Baghdadi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
25-02-1445 ᴴ | 12-09-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
26-02-1445 ᴴ | 13-09-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2