🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
تلامذہ:
علامہ محمد حیات سندھی مدنی سے عربستان ، مصر ، شام ، مراکش ، ہندوستان اور پاکستان سے سیکڑوں علماء و مشائخ اور حجاج کرام نے فیض حاصل کیا ۔

ان میں بعض اہم نام درج ذیل ہیں:
٭ علامہ ابو الحسن صغیر ھوی محدث مدنی موٗلف : ’’انباء الانباء فی حیاۃ الانبیاء ‘‘
٭ علامہ محمد قائم سندھی (متوفی ۱۱۵۷ھ مدفون مدینہ منورہ ، تذکرہ علماء ہند ص )
٭ شیخ احمد بن عبدالرحمن سندھی
٭ علامہ سید غلام علی آزاد بلگرامی (متوفی ۱۲۰۰ ھ مدفون انڈیا)
٭ شیخ محمد سعید بن محمد امین سفر المدنی متوفی ۱۱۹۴ھ
٭ شیخ عبدالقادر بن خلیل بن عبداللہ رومی مدنی حنفی کرک
٭ شیخ سید عبدالقادر بن احمد بن عبدالقادر
٭ شیخ عبدالکریم بن عبدالرحیم الداغستانی متوفی ۱۱۹۸ھ
٭ شیخ سید علی بن ابراھیم بن جمعۃ العیسی کیلانی حلبی حنفی
٭ شیخ علی بن صادق الداغستانی حنفی ۱۱۹۹ھ
٭ شیخ عبدالکریم بن احمد الشراباتی
٭ شیخ علی بن عبدالرحمن استنبولی
* شیخ علی بن محمد الزھری الشروانی حنفی مدنی ۱۲۰۰ھ
٭ مفتی محمد بن عبداللہ الخلیفتی حنفی فقیہ مدنی ۱۱۷۱ھ
٭ شیخ علیم اللہ بن عبدالرشید حنفی لاھوری مدفون دمشق (شام )
٭ شیخ خیر الدین بن محمد ازاھد بن حسین محمد حنفی نقشبندی ۱۲۰۶ھ مدفون سورت (بھارت)
٭ سلسلہ فاخریہ کے سر خیل علامہ سید محمد فاخر زائر الہ آبادی متوفی ۱۱۶۴ھ مدفون برہان پور (انڈیا) کے تفصیلی حالات کے لئے دیکھئے تذکار اولیاء ص ۳۱ مطبوعہ کراچی
٭ شیخ محمد بن عبداللہ فیروز احسائی ( ۱۲۱۶ھ ؍ ۱۸۰۱ء کو بصرہ (عراق ) میں وفات پائی)
٭ شیخ عبدالرحمن بن جعفر شافعی الکردی مدفون دمشق ( شام )
٭ شیخ عبد الخالق بن ابی بکر ز بیدی حنفی
٭ امیر یمانی محمد بن اسماعیل شارح ’’بلوغ المرام ‘‘ ۱۱۸۲ھ
٭ شیخ ابراہیم بن مصطفیٰ حنفی حلبی مداری مدفون قسطنطنیہ
٭ حضرت شیخ ولی اللہ محدث دہلوی سنی حنفی
٭ محمد بن عبدالوہاب نجدی خارجی ( بانی فرقہ وہابیہ نجدیہ )

نجدی کی تفصیلات جاننے کے لئے راقم الحروف راشدی کی دیکھئے کتاب : اصلی کون ؟

مسلک:
آپ کا مسلک کیا تھا ؟
یہ سوال اس لئے اٹھا کہ مولوی دین محمد وفائی نے صاف لکھا ہے: ’’شیخ محمد حیات ‘‘ شخصی تقلید ’’ کے قائل نہیں تھے ‘‘ ۔ (تذکرہ مشاہیر سندھ ص ۷۲) ـ

مشاہیر سندھ میں وفائی صاحب کی ایسی قیاس آرائیاں ، بے تکی باتیں بے شمار ہیں جن کا فقیر راشدی نے مختلف مقامات پر نوٹس بھی لیا ہے ۔ یہ سچ ہے کہ وفائی کی اہل سنت احناف کے ساتھ بے وفائی اظہر من الشمس بن چکی ہے۔ اس کے علاوہ مولوی غلام مصطفی قاسمی فاضل دیوبند ( ڈائر یکٹر شاہ ولی اللہ اکیڈمی حیدر آباد ) علامہ سندھی کے مسلک کے متعلق غیر یقینی کیفیت میں مبتلا ہیں گویا کہ اہل حدیث وفائی کی عبارت کو فاضل دیوبند مزید تقویت پہنچانے کا فریضہ انجام دے رہے ہیں لیکن دوسری طرف ان کے قلم سے یہ بھی لکھا گیا ہے:

’’عربی اور فارسی کے تمام سوانح نگار شیخ محمد حیات سندھی کے حنفی مذہب پر متفق ہیں ‘‘۔

اس کے باوجود قیاس آرائیوں کو جنم دینا چہ معنی دارد؟اس کو زبردستی اپنے نظریات ٹھوسنے کے سوا کیا کہا جاسکتا ہے۔ اس لئے فقیر یہاں آپ کے مسلک کی وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہے۔

شیخ الاسلام ، مفتی مکہ ، امام حرم سید احمد بن زینی دحلان شافعی ؒ ( متوفی ۱۳۰۴ھ) رقمطراز ہیں :

’’محمد بن عبدالوہاب نجدی (بانی فرقہ وہابیہ ) ابتدائے عمر میں مدینہ منورہ میں طالب علم تھا۔ شیخ محمد بن سلیمان الکردی شافعی اور شیخ محمد حیات سندھی حنفی یہ دونوں بزرگ اس میں الحادو گمراہی کی علامت پاتے تھے اور فرماتے تھے یہ (طالب علم نجدی) عنقریب گمراہ ہو جایے گا اور اس کے سبب سے اور لوگ بھی گمراہ ہوں گے۔‘‘

(الدرر السنیۃ فی الرد علی الوھابیہ ص۴۳ مطبوعہ ایشیق استنبول ترکی)

علامہ سندھی کی پیشن گوئی بالکل سو فیصد ثابت ہوئی، مرد کامل نے جو کچھ قبل ازوقت نور بصیرت سے بتایا تھا وہ وقت آنے پر بالکل درست ثابت ہوا۔۔

علامہ محمد حیات سندھی کے ایک شاگر شیخ محمد بن عبداللہ فیروز احسائی علیہ الرحمۃ نے ابن عبدالوہاب نجدی کے رد میں ایک کتاب ’’الرسالۃ المرضیۃ فی الرد علی الووھابیہ‘‘ تحریر فرمایا۔

(مکہ مکرمہ کے عجمی علماء ص ۶۸)

علامہ حایت سندھی کے شاگر د ارشد مخدوم ابو الحسن صغیر سندھی حنفی محدث مدنی نے ’’انباء الانبیاء فی حیاۃ الانبیا‘‘ (عربی) میں کتاب تحریر فرمائی۔
علامہ حیات سندھی کی دور رس نگاہوں پر قربان کہ فرقہ وہابیہ کی ابھی بنیاد بھی نہ رکھی گئی تھی ، بانی فرقہ ابتدائی کتابیں پڑھ رہا تھا کہ آپ نے پیشانی دیکھ کر نوشتہ دیوار پڑھ لیا اور سب کچھ بتادیا۔ اس کا مطلب آپ ابتدا سے ’’وہابی تحریک‘‘ کے مخالف تھے بلکہ محاسبہ کرنے والے اولین میں آپ کا شمار ہوتا ہے اور آپ کے تامذہ نے بھی تحریراً و تقریراً اس کا رد بلیغ کیا۔ جس کو حضور پاک ﷺ نے قرن الشیطان (شیطان کا سینگ) قرار دیا۔ بھلا اس کی حمایت ایک عالم ربانی کیسے کر سکتا ہے۔ آج اگر کوئی ان دلائل کو نظر انداز کرکے انہیں غیر مقلد وہابی کہنے میں مصر ہو تو اس زبردستی و نا انصافی پر سوائے احتجاج کے اور کیا کر سکتے ہیں؟

وصال:
سندھ کے فاضل جلیل عظیم حنفی علام ، عاشق رول محدث، عارف باللہ محمد حیات مدنی نے اپنا سرمایہ مدینہ منورہ کے غریب اور مسافر طلبا پر صرف کیا ۔ روپیہ پیسہ کچھ بھی جمع نہیں کیا۔ صوفیائے کرام کی طرح ساری زندگی توکل علی اللہ میں بسر فرمائی۔ شب و روز قال اللہ و قال رسول اللہ ﷺ میں صرف کرکے ۲۶ صفر المظفر ۱۱۶۳ھ / ۱۷۶۰ء بروز بدھ کو وصال کیا ۔ حرم نبوی میں گنبد خضریٰ کے سایہ میںنماز جنازہ ادا ہوئی اور جنت البقیع میں تدفین ہوئی ۔ (سبحۃ المرجان، سلک الدرر) ـ

(زیادہ تر مواد مولوی غلام مصطفی قاسمی کے مجموعہ ’’مقالات قاسمی‘‘ مطبوعہ حیدرآباد ۲۰۰۰ء سے لیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ باحوالہ مواد شامل کرکے مضمون ترتیب دیا گیا ہے۔)


( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-hayat-sindhi-madani
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
حضرت مولانا امیر علی امیٹھوی شہید رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

حضرت مولانا شاہ امیر علی ابن علی ابن محمد بخش ابن امام الدین ابن محمد ابن حضرت مُلا جیون ۱۲۱۸ھ میں بمقام امیٹھی پیدا ہوئے، علماء لکھنؤ سے تحصیل علم کیا، ۱۲۳۶ھ میں مشہور صوفی عالم حضرت مولانا شید عبد الرحمٰن شکار پوری سندھی ثم لکھنوی (۱۱۶۲ھ/۱۲۴۵ھ) کی خدمتِ بابرکت میں حاضر ہوئے، مثنوی مولانا رومی،شرح مشکوٰۃ اور حضرت صوفی عبد الرحمٰن کا مشہور رسالہ ‘‘ کلمۃ الحق’’ اُن سے پڑھا،۱۲۴۲ھ میں عید الضحیٰ کے دن مرید ہوئے اور خلافت حاصل کی،

مولانا امیر علی قدس سرہٗ کی زندگی میں حادثۂ ہنومان گڑھی اجودھیا کو خاص اہمیت حاصل ہے،ہنومان گڑھی کی مشہور عالمگیری سجد کو شر پسند غیر مسلموں نے شہید کردیا تھا،یہ واقعہ ایسا نہ تھا کہ مسلمانوں کا دل مجروح نہ ہوتا، مولانا امیر علی کو خبر ملی تو بے چین ہوگئے،جہاد کے لیے کمرہمت باندھ لی، جانبازوں کی کثیر جماعت نے شرف جہاد کے حصول کے لیے درانا کے ہاتھ پر بیعت کی،حالات کے پیش نظر نواب واجد علی شاہ نے تصفیہ اور انصاف کا وعدہ کرلیا،وہ فیصلہ کرنا چاہتا تھا،مگر ریذیڈنٹ ہر لمحہ بادشاہ اور وزیر پر معاملہ کود بانے پر اصرار کرتا رہا انتظا ردیکھ کر مولانا مجاہدین کو لے کر اجودھیا کی طرف روانہ ہوئے،شاہی فوج مزاحم ہوئی،اور آگے بڑھنے سے روک کر محاصرہ کرلیا، مقابلہ ہوا،زوروں کا رَن پڑا،راہِ حق میں جہاد کرتے ہوئے ۲۶؍م صفر۱۲۷۲ھ بروز بدھ شہید ہوئے،حالات کو بگڑتے ہوئے دیکھ کر عقیدت مندوں نےمولانا سے محفوظ جگہ میں پہونچا نے کی پیشکش کی تو ان کی زبان حق بیان نے یہ مصرعہ ارشاد فرمایا۔؏ سرمیداں کفن بردوش دارم۔۔۔۔ بعد میں یہی مصرعیہ سال شہادت نکلا،ہنگامۂ جہاد ختم ہونے کے بعد سرمبارک گنّے کےکھیت میں لہو ٹپکتا پایاگیا۔۔۔ (باغی ہندوستان،تاریخ مدینۃ الاولیاء اجودھیا، تذکرل علمائے ہند، نزہۃ الخواطر)

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-ameer-ali-ameethwi
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
حضرت علامہ حافظ سید حسین احمد کاظمی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ

مولانا حافط سید حسین احمد کاظمی بن مولانا حافظ حاجی سید جمیل احمد کاظمی امروہہ (یوپی ، انڈیا) میں ۱۸، اکتوبر ۱۹۲۲ء کو تولد ہوئے ۔

تعلیم و تربیت:
آپ نے اپنے والد کے ہاں تعلیم کا آغاز کیا اور سات سال کی عمر میں انہی کے پاس قرآن مجید حفظ کیا ۔ مولانا قاری محمد مصلح الدین صدیقی سے علم قرأت و تجوید کی تعلیم حاصل کی ۔ مولوی عالم فاضل کے امتحانات کراچی بورڈ سے پاس کئے ۔

بیعت:
آپ اپنے چچا جان غزالی زماں حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی ملتانی رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے دست بیعت ہوئے ۔

شادی واولاد:
آپ نے شادی کی ۔ سات بیٹے اور دو بیٹیاں تولد ہوئیں ۔

۱۔ سید عبدالرحمن کاظمی مرحوم
۲۔ سید حمزہ احمد کاظمی
۳۔ سید محمد حسین کاظمی مرحوم
۴۔ سید شرف احمد کاظمی
۵۔ سید ظفر احمد کاظمی
۶۔ حافظ سید فضل احمد کاظمی
۷۔ سید نثار احمد کاظمی
۸۔ سیدہ آمنہ خاتون
۹۔سیدآصفہ خاتون

امامت و خطابت:
کراچی کی متعدد مساجد میں آپ نے امامت و خطابت کے فرائض سر انجام دئیے ۔امامت کے ساتھ محلے کے بچوں کو حفظ و ناظرہ قرآن مجید بھی پڑھاتے اور نکاح خوانی کے بھی فرائض سر انجام دیتے رہے۔ جامع مسجد مدینہ لیاقت آباد نمبر ۲ میں پچیس سال امام و خطیب کی حیثیت سے منسلک رہے۔ مسلم پاپولر اسکول نا ظم آباد اور کیانی میمن اسکول میں بھی تقریبا پچیس سالاستاد رہے ۔

تلامذہ:
آپ کے شاگردوں کے نام درج ذیل ہیں:
٭حافظ سید فضل احمد کاظمی آستانہ سلطانیہ ناظم آباد نمبر ۲
٭ حافظ سلیم احمد خان
٭ حافظ نثار احمد
٭ حافط حمید

عادات و خصائل:
آپ اپنے والد کی طرح نہایت ہی سادہ طبیعت کے مالک تھے ۔ آپ کا زیادہ تر وقت عبادت اور قرآن و حدیث کے مطالعے میں بسر ہوتا تھا ۔ آپ کے مطالعے کا طریقہ یہ تھا کہ آپ سخت دھوپ میں بیٹھ کر مطالعہ کرتے تھے ۔ آپ کے دل میں اللہ و رسول کا عشق اس قدر تھا کہ آپ جس وقت حضور اکرمﷺ کا نام آپ کے لبوں پر آتا تو آپ کے ہونٹ کا نپنے لگتے تھے ۔ آپ جس وقت کوئی آیت قرآنی یا حدیث نبوی بیان کرتے تو ایسا لگتاتھا کہ جیسے آپ حضور پاک ﷺ کا دیدار کر رہے ہوں۔ قرآن مجید حفظ کرنے کے بعد آپ نے سب سے پہلے گیارہ سال کی عمر میں توڑی (انڈیا) میں ایک ہی رات میں ختم قرآن کیا اور آپ اکثر ایک رات میں قرآن پاک سنایا کر تے تھے آپ نے ہمیشہ اپنے شاگردوں کو سادگی سچائی اور نیک اعمال کرنے کی تلقین کی۔ آپ سفید رنگ کا عمامہ اور سفید رنگ کا لباس ہی پسند کر تے تھے ۔ ہر وقت باوضورہتے تھے ۔

وصال:
حافظ سید حسین احمد کاظمی نے یکم ذوالقعدہ ۱۴۱۱ھ بمطابق ۱۹۹۱ء بروز جمعرات بوقت رات ساڑھے تین بجے ۶۹ سال کی عمر میں اپنے گھر پر انتقال کیا ۔ آپ کے چھوٹے بھائی سید متین احمد کاظمی نے نماز جنازہ کے فرائض سر انجام دیئے ۔ خاموش کالونی قبرستان (لیاقت آباد) میں تدفین عمل میں آئی۔

[آپ کے بیٹے حافظ فضل احمد کاظمی صاحب (ناظم آباد ) نے حالات مہیا کئے، فقیر مشکور ہے]

( انوارِعلماءِ اہلسنت سندھ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-hafiz-syed-hussain-ahmad-kazmi
👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
حضرت میر سید حسن بغدادی علیہ‌الرحمہ

نام و نسب:
اسم گرامی:
حضرت میر سید حسن بغدادی ۔ لقب: شیخ الوقت ۔ والد کا اسم گرامی: عارفِ کامل حضرت میر سید موسیٰ ۔ خاندان سادات سے نسبی تعلق تھا ۔ علم و فضل تقویٰ و طہارت میں بے مثال تھے ۔

ولادت باسعادت:
آپ کی ولادت بغداد معلی میں ہوئی۔

تحصیلِ علم:
تمام علوم عقلیہ و نقلیہ کی تحصیل و تکمیل اپنے والد گرامی کے زیر سایہ ہوئی ۔ آپ اپنے وقت کےعالم متبحر اور عارف کامل تھے ۔

بیعت و خلافت:
والد گرامی سے تحصیل علم کے بعد سلوک کی منازل طے فرمائیں، اور پھر انہیں کے دستِ حق پرست پر سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت ہوئے، اور خلافت سے مشرف ہوئے ۔

سیرت و خصائص:
سردار اولیاء، مشاہیر عصر، شیخ الوقت واقف رموز حقائق، دانندۂ اسرار دقائق، حضرت الشیخ میر سید حسن قادری بغدادی آپ سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ کے تئیسویں (23) امام وشیخ طریقت ہیں آپ عبادت و ریاضت میں جملہ معاصرین سے فائق تھے اور ذکر و فکر میں مشہور تھے ۔ علوحال ورموز احوال میں کمال رکھتے تھے ۔

خلفاء:
آپ کے خلفاء وغیرہ کی تفصیل دستیاب نہ ہو سکی صرف حضرت سید احمد الجیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کے مشہور خلیفہ کے نام ملتے ہیں ۔

تاریخ وصال:
آپ کا وصال 26 صفرالمظفر 781ھ / جون 1379 کو بغداد شریف میں ہوا ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ مشائخِ قادریہ رضویہ

شجرہ شریف میں اس طرح ذکر ہے:
طورِ عرفان علو و حمد و حسنی بہا
دے علیؔ موسیٰؔ حسنؔ احمدؔ بہاؔ کےواسطے


https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-mir-syed-hassan-baghdadi
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
25-02-1445 ᴴ | 12-09-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
26-02-1445 ᴴ | 13-09-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2