🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت خواجہ محمود راجن رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ
(م: ۹۰۰ھ)

تحریر: ڈاکٹر محمد اسحاق قریشی

خواجہ محمود راجن رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنے والد گرامی خواجہ علم الدین رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے بعد مسند نشین ہوئے، چشتیہ نسبت کے علاوہ شیخ خازن رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے خرقۂ سہروردیہ بھی پایا تھا بلکہ سیّد محمد گیسودراز رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ، حضرت شیخ ابوالفتح رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ اور حضرت شیخ عزیز اللہ (خلیفہ مجاز حضرت محبوب الہٰی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ) سے بھی خلافت عطا ہوئی تھی ۔ (تذکرہ خواجگانِ تونسوی: ۵۳) ـ

ذہنی میلان یہ تھا کہ یک گیرد محکم گیر پر عمل پیرا رہا با جائے، اہل علم سے تھے اور علم کے قدر دان تھے، روایت ہے کہ

’’جو شخص بھی آپ سے کسب فیض کے لیے آتا آپ پہلے اسے دینی علوم کی طرف لگاتے اور اگر اس شخص میں علم کی رغبت و محبت ہوتی تو اس پر بے شمار انعامات کرتے، کتابیں اور نقدی اپنی گرہ سے عطا فرماتے اور پھر جو شخص علوم دینیہ کے حصول کے بعد آپ کا مرید ہو جاتا اسے قلیل مدت میں بغیر کسی مجاہدہ کے درجات اعلٰی تک پہنچا دیتے۔‘‘ (مخزن چشت: ص ۲۹۳) ـ

اللہ اللہ! کس قدر علم دوستی کے مظاہر ان بزرگانِ سلف سے ہویدا ہوتے رہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس سلسلۂ عظیم کے تمام نامور شیوخ علم کے بغیر کسی مقام و مرتبہ کے قائل نہ تھے، انہیں خوب دیا تھا کہ فرمانِ الہٰی یہی ہے کہ علم اور بے علم برابر نہیں ہو سکتے، یہ تو عام متوسلین کے حوالے سے تھا خلافت کے لیے تو علم بنیادی شرائط میں سے تھا، علم، عمل اخلاص ان بزرگوں کے نزدیک خلافت کے لزومات میں سے تھے، ایسا نہ ہوتا تو انکار کر دیتے جیسا کہ حضرت محبوب الہٰی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے اخی سراج رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے حوالے سے بیان کیا ہے، روایت ہے کہ جب حضرت محبوب الہٰی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ اپنے مریدین کو خلافت سے سرفراز فرمانے لگے تو لوگوں نے اس (یعنی اخی سراج رحمۃا للہ تعالٰی علیہ) کا نام بھی پیش کیا، شیخ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے فرمایا: ’’اس کام میں سب سے پہلا درجہ علم کا ہے۔‘‘ مولانا فخرالدین زرادی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کو رحم آگیا اور انہوں نے چھ مہینے کے اندر اس کو عالم متبحر بنانے کا دعویٰ کیا گیا تو انہوں نے ’’آئینہ ہند‘‘ کا خطاب دے کر خالفت سے سرفراز فرمایا ۔ (تاریخ مشائخ چشت: ص ۲۵۴) ـ

یہ تھا وہ معیار جو شیخ راجن رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے ہمیشہ پیشِ نظر رہا۔

حضرت شیخ راجن رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے ۲۲ صفر ۹۰۰ھ کو انتقال فرمایا، کہا اجتا ہے کہ احمدآباد میں دفن کیا گیا مگر بعد میں آپ کے مرید باصفا شیخ چمن رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے مزار کھود کر آپ کا جسد نکال لیا اور آبائی قبرستان پیراں پتن میں دفن کیا جو آج بھی زیارت گاہ ہے ۔

(حوالہ: بہارِ چشت، ص ۱۱۱ تا ۱۱۲)

https://scholars.pk/ur/scholar/khwaja-mehmood-rajan
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت شیخ حیات سندھی مدنی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

ولادت:
علامہ شیخ محمد حیات بن ملا فلاریو چاچڑ گوٹھ عادل پور تحصیل گھوٹکی (سندھ) میں تولد ہوئے ۔

تعلیم و تربیت:
علامہ مرادی کی روایت کے مطابق آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے علاقہ میں حاصل کی اس کے بعد علمی مرکز ٹھٹھہ کارخ کیا اور وہاں مولانا محمد معین بن محمد امین ٹھٹھوی کے پاس تعلیم حاصل کی ۔ پھر وہاں سے نقل مکانی کر کے حرمین شریفین منتقل ہوئے اور مدینہ منورہ کو اپنا وطن بنایا۔وہاں علامۃ الفھامہ ، شارح صحاح ستہ علامہ ابوالحسن کبیر ٹھٹھوی سندھی مدنی کی صحبت بابرکت کو اپنے لئے لازم قرار دیا۔ علامہ سندھی کے علاوہ شیخ عبداللہ بن سالم بصری، شیخ ابو طاہر محمد بن ابراہیم بن حسن کردی کو رانی شافعی اور شیخ کبیر ابو الاسرار حسن بن علی عحیمی حنفی سے درسی نصاب میں تکمیل و اجازت حاصل کی ۔ (سلک الدرر، ج ۴، ص) ـ

آپ کے شاگرد رشید میر غلام علی آزاد بلگرامی لکھتے ہیں:۔

عالم ربانی ، محدث کبیر جامع العلوم مولانا شیخ محمد حیات سندھی مدنی قدس سرہ نو جوانی میں حرمین شریفین پہنچے پہلے مکہ مکرمہ میں حج کیا اس کے بعد حضور نبی اکرم ﷺ کے شہر مدینہ منورہ کو اپنا مسکن بنایا۔ اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ کے سبب دنیاوی اسباب سے دور رہ کر حصل علم میں لگے رہے۔ خاتم المحدثین شیخ عبداللہ بن سالم بصری سے حدیث کی سندحاصل کی ۔ (سبحۃالمرجان ص۵۶) ـ

درس و تدریس:
غلام علی آزاد رقمطراز ہے:
بعد فراغت ، حدیث نبوی کا درس تا حیات جاری رکھا۔ آپ کا یہ دستور تھا کہ روز نماز فجر سے قبل مسجد نبوی شریف میں وعظ دیا کرتے تھے۔

(سبحۃ المرجان فی آثار ھندوستان ص ۵۶ طبع جدید حیدرآباد دکن )

شیخ عبد الحئی کتانی لکھتے ہیں:
علامہ ابو الحسن کبیر سندھی کے انتقال کے بعد ان کی مسند پر محدث حجاز علامہ شیخ الحافظ محمد حیات سندھی نے مسلسل ۲۴ برس درس دیا ۔ ( فھرس الفھارس والاثبات ص۲۶۴) ـ

عرب و عجم کے لاتعداد علماء نے مولانا سندھی سے استفادہ کیا ۔ ( سبحۃ المرجان ) ـ

عادات و خصائل:
شیخ مرادی لکھتے ہیں :’’وہ ایک پر ہیز گار انسان تھے۔ درس و تدریس کے علاوہ عوام الناس میں نہیں بیٹھے تھے ( یعنی فضولیات میں وقت ضائع نہیں کرتے تھے)نماز پنج گانہ مسجد نبوی میں پہلی صف میں ادا کرنا آپ کا معمول تھا‘‘ ۔ ( سلک الدرر ) ـ

تصنیف و تالیف:
مسجد نبوی (مدینہ منورہ) میں سارا دن تدریس کے سلسلہ میں مصروف رہتے ۔ دنیا بھر کے علماء و مشائخ استفادہ کرتے ہوئے نظر آتے ۔ نماز تہجد کے بعد مسجد نبوی میں آپ کا وعظ سننے کے لئے کثیر تعداد میں علماء صوفیاء مشاہیر اور عوام الناس موجود ہوتے، اس کے علاوہ عبادت اور ورد ووظائف لہذا شب و روز مصرو فیت کی وجہ سے تصنیف و تالیف کا موقعہ بہت کم ملا لیکن اس کے باوجود بعض کتابیں تحریر فرمائی ۔

قاسمی صاحب نے تصانیف کے سلسلہ میں درج ذیل اسماء تحریر کئے ہیں ۔ ان میں اکثر آج بھی غیر مطبوعہ اور منتشر ہیں کہیں ایک جگہ پر جمع نہیں ہیں ۔ ان کی تصانیف پر کام نہیں ہو سکا ہے ہو سکتا ہے کہ بعض کتابیں ان کے نام سے منسوب کی گئی ہوں ، بہر حال یہ تحقیق طلب کام ہے ۔

٭ شرح علی الترغیب والترھیب للمنذری ۲جلدیں
٭ تحفۃ المحبین شرح الربعین للنووی

(مدینہ منورہ میں مکتبہ شیخ الاسلام عارف حکمت کی لائبریری میں قاسمی صاحب نے قلمی صورت میں مطالعہ کیا ہے) ـ

٭ مختصر الزواجرلا بن حجر مکی
٭ شرح الاربعین حدیث امن جمع الملا علی القاری
٭ الایقاف علیٰ سبب الاختلاف ناشر مکتبہ سلفیہ لاہور
٭ رسالہ رد بدعت تعزیہ (مولانا معین ٹھٹوی کے رسالہ کارد )
٭ ارشاد النقاد الی تیسیر الجتھاد
٭ فتح الغفور فی النھی عن عشق المردان والنسوان (لڑکوں اور لڑکیوں سے عشق کرنے کے رد میں ، مولوی وفائی نے اس رسالہ سے اقتباس درج کیا ہے)
٭ تحریم الدخان (تمباکو حرام ہے ) مطبوعہ درگاہ مشوری شریف لاڑکانہ
٭ کراھیۃ الاخضاب بالسواد (سیاہ خضاب کی کراھت )
٭ الجنۃ فی عقیدۃ اھل السنۃ
٭ اتخاذ الماتم من الماثم
٭ رد الرسالۃ الشیخ معین السندی فی مسئلۃ الفدک رارث الانبیاء (معین ٹھٹوی کارد )
٭ رد قرۃ العیز علی البکاء علی الحین رضی اللہ عنہ (اعازادری کا رد )
٭ العطیۃ العلیۃ فی مسئلۃ الافضلۃ
٭ رد مواھب سید البشر فی حدیث الخلفاء الاثنیٰ عشر
٭ رسالۃ فی حرمۃ اخذ الاجرۃ علی القرآن
٭ مواھب الحکم شرح الحکم الھدایۃ کا مخطوطہ دارالکتب مصریہ قاہرہ میں زیر نمبر ۵ ۲۴۶۸ب میں موجود ہے ۔ (مکہ مکرمہ کے عجیمی علماء ص ۴۷)
٭ موقظ الھمم شرح الحکم العطائیہ
٭ تحفۃ الانام فی العمل بحدیث النبی علیہ الصلوۃ والسلام ـ