🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
بموقعۂ عرس حضور سیدالشہداء فی الہند حضرت سیدسالار مسعود غازی رَضِیَ الــلّٰــهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَــعَــالیٰ عَــنۡـہۡ آستانۂمقدسہ شہر بہرائچ شریفUP ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ یومِ ولادت ²¹ رجب المرجب ۵۰۴ھ بمطابق ¹⁵ فروری ۵۱۰۱ء بروز اتوار یومِ شہادت ¹⁴رجب المرجب۴۲۴ھ…
منقبت = شان سید الشہداء فی الہند
بموقعۂ عرس حضور سیدالشہداء فی
الہند حضرت سیدسالار مسعود غازی
رَضِیَ الــلّٰــهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَــعَــالیٰ عَــنۡـہۡ
آستانۂمقدسہ شہر بہرائچ شریفUP
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یومِ ولادت ²¹ رجب المرجب ۵۰۴ھ
بمطابق ¹⁵ فروری ۵۱۰۱ء بروز اتوار
یومِ شہادت ¹⁴رجب المرجب۴۲۴ھ
کل عمر = ¹⁸ سال ¹¹ ماہ ²⁴ دِن
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
بموقعۂ عرس حضور سیدالشہداء فی
الہند حضرت سیدسالار مسعود غازی
رَضِیَ الــلّٰــهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَــعَــالیٰ عَــنۡـہۡ
آستانۂمقدسہ شہر بہرائچ شریفUP
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یومِ ولادت ²¹ رجب المرجب ۵۰۴ھ
بمطابق ¹⁵ فروری ۵۱۰۱ء بروز اتوار
یومِ شہادت ¹⁴رجب المرجب۴۲۴ھ
کل عمر = ¹⁸ سال ¹¹ ماہ ²⁴ دِن
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
حضرت تاج الفحول شاہ عبدالقادر
رَضِیَ الــلّٰــهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـہۡ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یومِ ولادت ¹⁷رجب المرجب ۳۵۲۱ھ
یومِ وفات ¹⁸ جمادی الآخر ۹۱۳۱ھ
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
رَضِیَ الــلّٰــهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـہۡ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یومِ ولادت ¹⁷رجب المرجب ۳۵۲۱ھ
یومِ وفات ¹⁸ جمادی الآخر ۹۱۳۱ھ
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
حضرتمولانا عبدالقیوم شہید بدایونی
رَضِیَ الــلّٰــهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَــعَــالیٰ عَــنۡـہۡ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یومِ ولادت ھ
یومِ وفات ¹⁷رجب المرجب۸۱۳۱ھ
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
رَضِیَ الــلّٰــهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَــعَــالیٰ عَــنۡـہۡ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یومِ ولادت ھ
یومِ وفات ¹⁷رجب المرجب۸۱۳۱ھ
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
حضور محدث اعظم ہند
رَضِیَ الــلّٰــهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَــعَــالیٰ عَــنۡـہۡ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یومِ ولادت ¹⁵ ذوالقعدہ ۱۱۳۱ھ
یومِ وفات ¹⁷رجب المرجب ۳۸۳۱ھ
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
رَضِیَ الــلّٰــهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَــعَــالیٰ عَــنۡـہۡ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یومِ ولادت ¹⁵ ذوالقعدہ ۱۱۳۱ھ
یومِ وفات ¹⁷رجب المرجب ۳۸۳۱ھ
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Bimari Ur Kar Nahin Lagti
بیماری اڑ کر نہیں لگتی !!
Post Telegram Par Link↴
https://t.me/islaamic_Knowledge/5883
بیماری اڑ کر نہیں لگتی !!
Post Telegram Par Link↴
https://t.me/islaamic_Knowledge/5883
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Bimari Ur Kar Nahin Lagti بیماری اڑ کر نہیں لگتی !! Post Telegram Par Link↴ https://t.me/islaamic_Knowledge/5883
*رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ”لَا عَدْوٰی وَلَا صَفَرَ وَلَا ھَامَۃ“یعنی نہ بیماری کا اُڑ کر لگنا ہے، نہ صَفَر کی نحوست ہے نہ اُلّو کی نحوست ہے* ۔ ایک اعرابی نے عرض کی: یارسولَ اللہ! پھرکیا وجہ ہے کہ میرے اونٹ مٹی میں ہرن کی طرح (چست،تندرست و توانا)ہوتے ہیں،تو ایک خارش زدہ اونٹ ان میں داخل ہوتا ہے اور ان کو بھی خارش زدہ کر دیتا ہے ؟تو حضور علیہ الصّلوٰۃو السَّلام نے فرمایا: پہلے کو کس سے خارش لگی ؟(بخاری،ج4،ص26،حدیث:5717)
تعدیہ مرض سے کیا مراد ہے؟”اَلْعَدْوَی“ سے مراد یہ ہے کہ بیماری ایک شخص سے بڑھ کر دوسرے کو لگ جائے۔ ”لَا عَدْوَی“ والی حدیث اسی سےہے یعنی ایک شے دوسری شے کی طرف مُتَعَدِّی (یعنی منتقل Transfer) نہیں ہوتی۔ (التوقیف علی مہمات التعاریف، ص238)
بیماری اُڑ کر لگنے کے بارے میں اسلامی نقطہ نظر
(1)ایک کی بیماری یا مرض کااُڑ کر دوسرے کو لگ جانا یا کسی مریض سے مرض تجاوُز کرکے صحیح سلامت تندرست آدمی میں منتقل ہوجانا!یہ بالکل باطل ہے۔اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ زمانۂ جاہلیت میں لوگ یہ اعتقاد رکھتے تھے بیماری خود اُڑ کر دوسرے کو لگ جاتی ہے، خدا تعالیٰ کی تقدیر کا اس میں کوئی دخل نہیں بلکہ یہ خود ہی مؤثر ( یعنی بذاتِ خود اثر انداز ہونے والی) ہے۔ حدیثِ پاک میں اسی نظریے کا ردفرماتے ہوئے ارشاد فرمایا:”لَاعَدْوَی“ یعنی بیماری کا اُڑ کر لگنا کچھ نہیں ہے۔ یہی وجہ تھی کہ آپ نے مجذوم(جذام کے مریض) کے ساتھ کھانا بھی کھایا تاکہ لوگوں کو علم ہوجائے کہ مرض اڑ کر دوسرے کو نہیں لگتا۔ (2) تعدیۂ جراثیم یعنی ”مرض کے جراثیم کا اُڑ کر دوسرے کو لگنا“کھلی حقیقت ہے، جراثیم خود مرض نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی چھوٹی سی مخلوق ہے جو صرف خردبین یا الٹرامائکرواسکوپ (Ultra-Microscope)کے ذریعے ہی نظر آتی ہے اور یہ جراثیم مرض کا سبب بنتے ہیں۔ پہلے زمانے کے لوگ ان جراثیم سے واقف نہ تھے تو انہوں نے یہی نظریہ بنا لیا کہ مرض مُتَعَدِّی ہوا ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ اسلام نے اس کی نفی فرمائی کہ کوئی مرض مُتَعَدِّی نہیں ہوتا اسلام کے تعدیہ مرض کی نفی کرنے سے جراثیم کے مُتَعَدِّی ہونے کی نفی قطعاً نہیں ہوتی۔فتح الباری میں ہے:تعدیہ کی نفی سے مراد یہ ہے کہ کوئی شے اپنی طبیعت کے اعتبار سے دوسری چیز کو نہیں لگتی، چونکہ زمانۂ جاہلیت کے لوگ اعتقاد رکھتے تھے کہ امراض اپنی طبیعت کے اعتبار سے مُتَعَدِّی ہوتے ہیں اور وہ ان کی نسبت اللّٰہ تعالٰیکی طرف نہیں کرتے تھے، لہذا اس اعتقاد کی نفی کی گئی اورنبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ وسلَّم نے ان کے اعتقاد کو باطل فرمایا اور مجذوم کے ساتھ کھانا کھایا تا کہ آپ انہیں بیان کردیں کہ اللہ ہی بیمار کرتا ہے اور شفا دیتا ہے۔(فتح الباری لابن حجر،ج11،ص136،تحت الحدیث: 5707)
مراٰۃ المناجیح میں ہے:اہلِ عرب کا عقیدہ تھا کہ بیماریوں میں عقل و ہوش ہے جو بیمار کے پاس بیٹھے اسے بھی اس مریض کی بیماری لگ جاتی ہے۔ وہ پاس بیٹھنے والے کو جانتی پہچانتی ہے یہاں اسی عقیدے کی تردید ہے۔موجودہ حکیم ڈاکٹر سات بیماریوں کو مُتَعَدِّی مانتے ہیں: جذام،خارش،چیچک،موتی جھرہ،منہ کی یا بغل کی بو،آشوبِِ چشم،وبائی بیماریاں اس حدیث میں ان سب وہموں کو دفع فرمایا گیا ہے۔اس معنیٰ سے مرض کا اُڑ کر لگنا باطل ہے مگر یہ ہوسکتا ہے کہ کسی بیمار کے پاس کی ہوا متعفن ہو اور جس کے جسم میں اس بیماری کا مادہ ہو وہ اس تَعَفُّنْ سے اثر لے کر بیمار ہوجائے اس معنیٰ سے تَعَدِّی ہوسکتی ہے اس بنا پر فرمایا گیا کہ جذامی سے بھاگو لہٰذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں۔ غرضکہ عدویٰ یا تَعَدِّی اور چیز ہے کسی بیمار کے پاس بیٹھنے سے بیمار ہوجانا کچھ اور چیز ہے۔“(مراٰۃ المناجیح،ج6،ص256)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تعدیہ مرض سے کیا مراد ہے؟”اَلْعَدْوَی“ سے مراد یہ ہے کہ بیماری ایک شخص سے بڑھ کر دوسرے کو لگ جائے۔ ”لَا عَدْوَی“ والی حدیث اسی سےہے یعنی ایک شے دوسری شے کی طرف مُتَعَدِّی (یعنی منتقل Transfer) نہیں ہوتی۔ (التوقیف علی مہمات التعاریف، ص238)
بیماری اُڑ کر لگنے کے بارے میں اسلامی نقطہ نظر
(1)ایک کی بیماری یا مرض کااُڑ کر دوسرے کو لگ جانا یا کسی مریض سے مرض تجاوُز کرکے صحیح سلامت تندرست آدمی میں منتقل ہوجانا!یہ بالکل باطل ہے۔اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ زمانۂ جاہلیت میں لوگ یہ اعتقاد رکھتے تھے بیماری خود اُڑ کر دوسرے کو لگ جاتی ہے، خدا تعالیٰ کی تقدیر کا اس میں کوئی دخل نہیں بلکہ یہ خود ہی مؤثر ( یعنی بذاتِ خود اثر انداز ہونے والی) ہے۔ حدیثِ پاک میں اسی نظریے کا ردفرماتے ہوئے ارشاد فرمایا:”لَاعَدْوَی“ یعنی بیماری کا اُڑ کر لگنا کچھ نہیں ہے۔ یہی وجہ تھی کہ آپ نے مجذوم(جذام کے مریض) کے ساتھ کھانا بھی کھایا تاکہ لوگوں کو علم ہوجائے کہ مرض اڑ کر دوسرے کو نہیں لگتا۔ (2) تعدیۂ جراثیم یعنی ”مرض کے جراثیم کا اُڑ کر دوسرے کو لگنا“کھلی حقیقت ہے، جراثیم خود مرض نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی چھوٹی سی مخلوق ہے جو صرف خردبین یا الٹرامائکرواسکوپ (Ultra-Microscope)کے ذریعے ہی نظر آتی ہے اور یہ جراثیم مرض کا سبب بنتے ہیں۔ پہلے زمانے کے لوگ ان جراثیم سے واقف نہ تھے تو انہوں نے یہی نظریہ بنا لیا کہ مرض مُتَعَدِّی ہوا ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ اسلام نے اس کی نفی فرمائی کہ کوئی مرض مُتَعَدِّی نہیں ہوتا اسلام کے تعدیہ مرض کی نفی کرنے سے جراثیم کے مُتَعَدِّی ہونے کی نفی قطعاً نہیں ہوتی۔فتح الباری میں ہے:تعدیہ کی نفی سے مراد یہ ہے کہ کوئی شے اپنی طبیعت کے اعتبار سے دوسری چیز کو نہیں لگتی، چونکہ زمانۂ جاہلیت کے لوگ اعتقاد رکھتے تھے کہ امراض اپنی طبیعت کے اعتبار سے مُتَعَدِّی ہوتے ہیں اور وہ ان کی نسبت اللّٰہ تعالٰیکی طرف نہیں کرتے تھے، لہذا اس اعتقاد کی نفی کی گئی اورنبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ وسلَّم نے ان کے اعتقاد کو باطل فرمایا اور مجذوم کے ساتھ کھانا کھایا تا کہ آپ انہیں بیان کردیں کہ اللہ ہی بیمار کرتا ہے اور شفا دیتا ہے۔(فتح الباری لابن حجر،ج11،ص136،تحت الحدیث: 5707)
مراٰۃ المناجیح میں ہے:اہلِ عرب کا عقیدہ تھا کہ بیماریوں میں عقل و ہوش ہے جو بیمار کے پاس بیٹھے اسے بھی اس مریض کی بیماری لگ جاتی ہے۔ وہ پاس بیٹھنے والے کو جانتی پہچانتی ہے یہاں اسی عقیدے کی تردید ہے۔موجودہ حکیم ڈاکٹر سات بیماریوں کو مُتَعَدِّی مانتے ہیں: جذام،خارش،چیچک،موتی جھرہ،منہ کی یا بغل کی بو،آشوبِِ چشم،وبائی بیماریاں اس حدیث میں ان سب وہموں کو دفع فرمایا گیا ہے۔اس معنیٰ سے مرض کا اُڑ کر لگنا باطل ہے مگر یہ ہوسکتا ہے کہ کسی بیمار کے پاس کی ہوا متعفن ہو اور جس کے جسم میں اس بیماری کا مادہ ہو وہ اس تَعَفُّنْ سے اثر لے کر بیمار ہوجائے اس معنیٰ سے تَعَدِّی ہوسکتی ہے اس بنا پر فرمایا گیا کہ جذامی سے بھاگو لہٰذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں۔ غرضکہ عدویٰ یا تَعَدِّی اور چیز ہے کسی بیمار کے پاس بیٹھنے سے بیمار ہوجانا کچھ اور چیز ہے۔“(مراٰۃ المناجیح،ج6،ص256)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
Bimari Ur Kar Nahin Lagti
بیماری اُڑ کر نہیں لگتی !!
Post Telegram Par Link↴
https://t.me/islaamic_Knowledge/5883
بیماری اُڑ کر نہیں لگتی !!
Post Telegram Par Link↴
https://t.me/islaamic_Knowledge/5883
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کیا اپنا عقیقہ خود کر سکتا ہے ؟
اگر بچپن میں عقیقہ نہ ہوا ہو
تو اپنا عقیقہ خود کر سکتے ہیں
فتاویٰ رضویہ شریف جـ²⁰ صـ⁵⁸⁸
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
اگر بچپن میں عقیقہ نہ ہوا ہو
تو اپنا عقیقہ خود کر سکتے ہیں
فتاویٰ رضویہ شریف جـ²⁰ صـ⁵⁸⁸
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🗓 [ تاریخ حکمرانانِ ہندوستان ] 🗓
غوری سلطنت سے نریندر مودی تک !!
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
↓ غوری سلطنت ↓
1 = 1193 محمد غوری
2 = 1206 قطب الدین ایبک
3 = 1210 آرام شاہ
4 = 1211 التتمش
5 = 1236 ركن الدين فیروز شاہ
6 = 1236 رضیہ سلطان
7 = 1240 معیزالدین بہرام شاہ
8 = 1242 الہ دين مسعود شاہ
9 = 1246 ناصرالدين محمود
10 = 1266 غیاث الدین بلبن
11 = 1286 رنگ كھشرو
12 = 1287 مذدن كےكباد
13 = 1290 شمس الدین كےمرس
↑ غوری سلطنت اختتام ↑
(دور حکومت -97 سال تقریباً)
➻════════════➻
↓ خلجي سلطنت ↓
1 = 1290 جلال الدین فیروز خلجی
2 = 1292 الہ دین خلجی
4 = 1316 شھاب الدین عمر شاہ
5 = 1316 قطب الدین مبارک شاہ
6 = 1320 ناصر الدین خسرو شاہ
↑ خلجی سلطنت اختتام ↑
(دور حکومت -30 سال تقریباً)
➻════════════➻
↓ تغلق سلطنت ↓
1 = 1320 غیاث الدین تغلق (اول)
2 = 1325 محمد بن تغلق (دوم)
3 = 1351 فیروز شاہ تغلق
4 = 1388 غیاث الدین تغلق (دوم)
5 = 1389 ابوبکر شاہ
6 = 1389 محمد تغلق (سوم)
7 = 1394 الیگزینڈر شاہ (اول)
8 = 1394 ناصر الدین شاہ (دوم)
9 = 1395 نصرت شاہ
10 = 1399 ناصرالدين محمدشاہ (دوم)
11 = 1413 دولت شاه
↑ تغلق سلطنت اختتام ↑
(دور حکومت -94 سال تقریباً)
➻════════════➻
↓ سعید سلطنت ↓
1 = 1414 كھجر خان
2 = 1421 معیزالدین مبارک شاہ (دوم)
3 = 1434 محمد شاہ(چہارم)
4 = 1445 الہ دين عالم شاہ
↑ سعید سلطنت اختتام ↑
( دور حکومت -37 سال تقریباً )
➻════════════➻
↓ لودھی سلطنت ↓
1 = 1451 بهلول لودھی
2 = 1489 الیگزینڈر لودھی (دوم)
3 = 1517 ابراہیم لودھی
↑ لودھی سلطنت اختتام ↑
(دور حکومت -75 سال تقریباً)
➻════════════➻
↓ مغلیہ سلطنت اوّل ↓
1 = 1526 ظہیرالدين بابر
2 = 1530 ہمایوں
↑ مغلیہ سلطنت اختتام ↑
➻════════════➻
↓ سُوری سلطنت ↓
1 = 1539 شیر شاہ سوری
2 = 1545 اسلام شاہ سوری
3 = 1552 محمود شاہ سوری
4 = 1553 ابراہیم سوری
5 = 1554 پرویز شاہ سوری
6 = 1554 مبارک خان سوری
7 = 1555 الیگزینڈر سوری
↑ سوری سلطنت اختتام ↑
(دور حکومت -16 سال تقریباً)
➻════════════➻
↓ مغلیہ سلطنت دوبارہ ↓
1 = 1555 ہمايوں (دوبارہ گدی نشین)
2 = 1556 جلال الدين اکبر
3 = 1605 جہانگیر سلیم
4 = 1628 شاہ جہاں
5 = 1659 اورنگ زیب عالمگیر
6 = 1707 شاہ عالم (اول)
7 = 1712 بهادر شاہ
8 = 1713 پھاروكھشير
9 = 1719 ريپھد راجت
10 = 1719 ريپھد دولا
11 = 1719 نےكشييار
12 = 1719 محمود شاہ
13 = 1748 احمد شاہ
14 = 1754 اورنگ زیب عالمگیر
15 = 1759 شاہ عالم
16 = 1806 اکبر شاہ
17 = 1837 بہادر شاہ ظفر
↑ مغلیہ سلطنت اختتام ↑
(دور حکومت -315 سال تقریباً)
➻════════════➻
↓ برطانوی راج ↓
1 = 1858 لارڈ كینگ
2 = 1862 لارڈ جیمز بروس یلگن
3 = 1864 لارڈ جهن لورےنش
4 = 1869 لارڈ رچارڈ میو
5 = 1872 لارڈ نورتھبك
6 = 1876 لارڈ ایڈورڈ لٹین
7 = 1880 لارڈ جيورج ریپن
8 = 1884 لارڈ ڈفرین
9 = 1888 لارڈ هنني لےسڈون
10 = 1894 لارڈ وکٹر بروس یلگن
11 = 1899 لارڈ جيورج كرجھن
12 = 1905 لارڈ گلبرٹ منٹو
13 = 1910 لارڈ چارلس هارڈج
14 = 1916 لارڈ فریڈرک سےلمسپھورڈ
15 = 1921 لارڈ ركس ايجےك رڈيگ
16 = 1926 لارڈ ایڈورڈ ارون
17 = 1931 لارڈ پھرمےن وےلگدن
18 = 1936 لارڈ اےلےكجد لنلتھگو
19 = 1943 لارڈ اركبالڈ وےوےل
20 = 1947 لارڈ ماؤنٹ بیٹن
↑ برطانوی سامراج کا اختتام ↑
➻════════════➻
↓ بھارت 🇮🇳 وزرائے اعظم ↓
1 = 1947 جواہر لال نہرو
2 = 1964 گلزاری لال نندا
3 = 1964 لال بہادر شاستری
4 = 1966 گلزاری لال نندا
5 = 1966 اندرا گاندھی
6 = 1977 مرار جی ڈیسائی
7 = 1979 چرن سنگھ
8 = 1980 اندرا گاندھی
9 = 1984 راجیو گاندھی
10 = 1989 وشوناتھ پرتاپسہ
11 = 1990 چندرشیکھر
12 = 1991 پيوينرسہ راؤ
13 = 1992 اٹل بہاری واجپائی
14 = 1996 چڈيدے گوڑا
15 = 1997 ايل كے گجرال
16 = 1998 اٹل بہاری واجپائی
17 = 2004 منموہن سنگھ
18 = 2014 نریندر مودی
➻════════════➻
764 سالوں تک مسلم بادشاہت ہونے کے باوجود بھی ہندو، ہندوستان میں باقی ہیں. مسلمان حکمرانوں نے کبھی بھی ان کے ساتھ نا روا سلوک نہیں کیا
-------------- اور --------------
ہندوؤں کو اب تک 100 سال بھی نہیں ہوئے اور یہ مسلمانوں کو ختم کرنے کی بات کرتے ہیں
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ 🆔 @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
غوری سلطنت سے نریندر مودی تک !!
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
↓ غوری سلطنت ↓
1 = 1193 محمد غوری
2 = 1206 قطب الدین ایبک
3 = 1210 آرام شاہ
4 = 1211 التتمش
5 = 1236 ركن الدين فیروز شاہ
6 = 1236 رضیہ سلطان
7 = 1240 معیزالدین بہرام شاہ
8 = 1242 الہ دين مسعود شاہ
9 = 1246 ناصرالدين محمود
10 = 1266 غیاث الدین بلبن
11 = 1286 رنگ كھشرو
12 = 1287 مذدن كےكباد
13 = 1290 شمس الدین كےمرس
↑ غوری سلطنت اختتام ↑
(دور حکومت -97 سال تقریباً)
➻════════════➻
↓ خلجي سلطنت ↓
1 = 1290 جلال الدین فیروز خلجی
2 = 1292 الہ دین خلجی
4 = 1316 شھاب الدین عمر شاہ
5 = 1316 قطب الدین مبارک شاہ
6 = 1320 ناصر الدین خسرو شاہ
↑ خلجی سلطنت اختتام ↑
(دور حکومت -30 سال تقریباً)
➻════════════➻
↓ تغلق سلطنت ↓
1 = 1320 غیاث الدین تغلق (اول)
2 = 1325 محمد بن تغلق (دوم)
3 = 1351 فیروز شاہ تغلق
4 = 1388 غیاث الدین تغلق (دوم)
5 = 1389 ابوبکر شاہ
6 = 1389 محمد تغلق (سوم)
7 = 1394 الیگزینڈر شاہ (اول)
8 = 1394 ناصر الدین شاہ (دوم)
9 = 1395 نصرت شاہ
10 = 1399 ناصرالدين محمدشاہ (دوم)
11 = 1413 دولت شاه
↑ تغلق سلطنت اختتام ↑
(دور حکومت -94 سال تقریباً)
➻════════════➻
↓ سعید سلطنت ↓
1 = 1414 كھجر خان
2 = 1421 معیزالدین مبارک شاہ (دوم)
3 = 1434 محمد شاہ(چہارم)
4 = 1445 الہ دين عالم شاہ
↑ سعید سلطنت اختتام ↑
( دور حکومت -37 سال تقریباً )
➻════════════➻
↓ لودھی سلطنت ↓
1 = 1451 بهلول لودھی
2 = 1489 الیگزینڈر لودھی (دوم)
3 = 1517 ابراہیم لودھی
↑ لودھی سلطنت اختتام ↑
(دور حکومت -75 سال تقریباً)
➻════════════➻
↓ مغلیہ سلطنت اوّل ↓
1 = 1526 ظہیرالدين بابر
2 = 1530 ہمایوں
↑ مغلیہ سلطنت اختتام ↑
➻════════════➻
↓ سُوری سلطنت ↓
1 = 1539 شیر شاہ سوری
2 = 1545 اسلام شاہ سوری
3 = 1552 محمود شاہ سوری
4 = 1553 ابراہیم سوری
5 = 1554 پرویز شاہ سوری
6 = 1554 مبارک خان سوری
7 = 1555 الیگزینڈر سوری
↑ سوری سلطنت اختتام ↑
(دور حکومت -16 سال تقریباً)
➻════════════➻
↓ مغلیہ سلطنت دوبارہ ↓
1 = 1555 ہمايوں (دوبارہ گدی نشین)
2 = 1556 جلال الدين اکبر
3 = 1605 جہانگیر سلیم
4 = 1628 شاہ جہاں
5 = 1659 اورنگ زیب عالمگیر
6 = 1707 شاہ عالم (اول)
7 = 1712 بهادر شاہ
8 = 1713 پھاروكھشير
9 = 1719 ريپھد راجت
10 = 1719 ريپھد دولا
11 = 1719 نےكشييار
12 = 1719 محمود شاہ
13 = 1748 احمد شاہ
14 = 1754 اورنگ زیب عالمگیر
15 = 1759 شاہ عالم
16 = 1806 اکبر شاہ
17 = 1837 بہادر شاہ ظفر
↑ مغلیہ سلطنت اختتام ↑
(دور حکومت -315 سال تقریباً)
➻════════════➻
↓ برطانوی راج ↓
1 = 1858 لارڈ كینگ
2 = 1862 لارڈ جیمز بروس یلگن
3 = 1864 لارڈ جهن لورےنش
4 = 1869 لارڈ رچارڈ میو
5 = 1872 لارڈ نورتھبك
6 = 1876 لارڈ ایڈورڈ لٹین
7 = 1880 لارڈ جيورج ریپن
8 = 1884 لارڈ ڈفرین
9 = 1888 لارڈ هنني لےسڈون
10 = 1894 لارڈ وکٹر بروس یلگن
11 = 1899 لارڈ جيورج كرجھن
12 = 1905 لارڈ گلبرٹ منٹو
13 = 1910 لارڈ چارلس هارڈج
14 = 1916 لارڈ فریڈرک سےلمسپھورڈ
15 = 1921 لارڈ ركس ايجےك رڈيگ
16 = 1926 لارڈ ایڈورڈ ارون
17 = 1931 لارڈ پھرمےن وےلگدن
18 = 1936 لارڈ اےلےكجد لنلتھگو
19 = 1943 لارڈ اركبالڈ وےوےل
20 = 1947 لارڈ ماؤنٹ بیٹن
↑ برطانوی سامراج کا اختتام ↑
➻════════════➻
↓ بھارت 🇮🇳 وزرائے اعظم ↓
1 = 1947 جواہر لال نہرو
2 = 1964 گلزاری لال نندا
3 = 1964 لال بہادر شاستری
4 = 1966 گلزاری لال نندا
5 = 1966 اندرا گاندھی
6 = 1977 مرار جی ڈیسائی
7 = 1979 چرن سنگھ
8 = 1980 اندرا گاندھی
9 = 1984 راجیو گاندھی
10 = 1989 وشوناتھ پرتاپسہ
11 = 1990 چندرشیکھر
12 = 1991 پيوينرسہ راؤ
13 = 1992 اٹل بہاری واجپائی
14 = 1996 چڈيدے گوڑا
15 = 1997 ايل كے گجرال
16 = 1998 اٹل بہاری واجپائی
17 = 2004 منموہن سنگھ
18 = 2014 نریندر مودی
➻════════════➻
764 سالوں تک مسلم بادشاہت ہونے کے باوجود بھی ہندو، ہندوستان میں باقی ہیں. مسلمان حکمرانوں نے کبھی بھی ان کے ساتھ نا روا سلوک نہیں کیا
-------------- اور --------------
ہندوؤں کو اب تک 100 سال بھی نہیں ہوئے اور یہ مسلمانوں کو ختم کرنے کی بات کرتے ہیں
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ 🆔 @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سوال : حضرت ابراہیم علیه السلام نے
اس مینڈهے کے گوشت کو کیا کیا تها ؟
جواب : اس مینڈهے کے گوشت کو
حضرت ابراہیم علیه السَّلام نے پرندوں
کـو کهـلا دیا تهـا کـیونکہ جـنّتی ہُـونے کے
باعـث اسپر آگ اثر نـہـیں کرتی تهـی اور
اس کے دونوں سِـینگ سـر سـمـیت کـعـبـہ
شـریف پر لـٹکا دیئے تهـے حضرت ابن زبیر
رضی الـلّٰـهُ تعالیٰ عـنـهُـمـا کے دور حکومـت
میں جب بیت الله شریف میں آگ لگی تهی
اسوقت تک سر اور سینگ لٹکے ہوئے تهے !
اسلامی حیرت انگیز معلومات سـ¹³ صـ¹²¹
بحوالہ : ابن کثیر پارہ²³ رکوع⁷ حاشیہ²¹
تفسیر جلالین شریف صـفـحہ ³⁷⁷
اس مینڈهے کے گوشت کو کیا کیا تها ؟
جواب : اس مینڈهے کے گوشت کو
حضرت ابراہیم علیه السَّلام نے پرندوں
کـو کهـلا دیا تهـا کـیونکہ جـنّتی ہُـونے کے
باعـث اسپر آگ اثر نـہـیں کرتی تهـی اور
اس کے دونوں سِـینگ سـر سـمـیت کـعـبـہ
شـریف پر لـٹکا دیئے تهـے حضرت ابن زبیر
رضی الـلّٰـهُ تعالیٰ عـنـهُـمـا کے دور حکومـت
میں جب بیت الله شریف میں آگ لگی تهی
اسوقت تک سر اور سینگ لٹکے ہوئے تهے !
اسلامی حیرت انگیز معلومات سـ¹³ صـ¹²¹
بحوالہ : ابن کثیر پارہ²³ رکوع⁷ حاشیہ²¹
تفسیر جلالین شریف صـفـحہ ³⁷⁷
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مَـکِّی و مَـدنی سُورتوں کی تعداد
اور قرآن کی کُل سورتوں کی تعداد
یاد رَکهـنے کا آسَان ترین طـریـقَـہ ‼
سورة البقره شریف کے حَوالے سے ‼
━═─────────═━
سورة البقرة میں کُل ²⁸⁶ آیات ہیں!
❶ مکی سُورتیں معلوم کرنے کا طریقہ : اگر ²⁸⁶ میں سے ² کو الگ کر دیں تو باقی⁸⁶ بَچتے ہَیں تو یہ مکی سُورتوں کی تعداد ہے !
━═─────────═━
❷ مدنی سورتیں معلوم کرنے کا طریقہ : اگر ²⁸⁶ میں سے ⁶ کو الگ کر دیں تو باقی ²⁸ بَچتے ہَیں تو یہ مدنی سُورتوں کی تعداد ہے !
━═─────────═━
❸ قرآن کی کُل سُورتیں معلوم کرنے کا طریقہ : اگر⁸⁶ اور²⁸ دُونوں کو جمع کریں تُو ٹوٹل¹¹⁴ بنتے ہیں اور یہ قرآن مجید کی تمام سُورتوں کی تعداد ہے ‼
━═─────────═━
سُبحان اللہ العظيم ﷻ ‼
یہ ہے قرآن مجید کی باریک بینی، اللہ تعالیٰ ہَم سب کو قرآن کریم پر غور و فکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
اور قرآن کی کُل سورتوں کی تعداد
یاد رَکهـنے کا آسَان ترین طـریـقَـہ ‼
سورة البقره شریف کے حَوالے سے ‼
━═─────────═━
سورة البقرة میں کُل ²⁸⁶ آیات ہیں!
❶ مکی سُورتیں معلوم کرنے کا طریقہ : اگر ²⁸⁶ میں سے ² کو الگ کر دیں تو باقی⁸⁶ بَچتے ہَیں تو یہ مکی سُورتوں کی تعداد ہے !
━═─────────═━
❷ مدنی سورتیں معلوم کرنے کا طریقہ : اگر ²⁸⁶ میں سے ⁶ کو الگ کر دیں تو باقی ²⁸ بَچتے ہَیں تو یہ مدنی سُورتوں کی تعداد ہے !
━═─────────═━
❸ قرآن کی کُل سُورتیں معلوم کرنے کا طریقہ : اگر⁸⁶ اور²⁸ دُونوں کو جمع کریں تُو ٹوٹل¹¹⁴ بنتے ہیں اور یہ قرآن مجید کی تمام سُورتوں کی تعداد ہے ‼
━═─────────═━
سُبحان اللہ العظيم ﷻ ‼
یہ ہے قرآن مجید کی باریک بینی، اللہ تعالیٰ ہَم سب کو قرآن کریم پر غور و فکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM