حضرت مولانا غلام علی آزاد بلگرامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
غلام علی بن سید نوح واسطی بلگرامی: حسان الہند لقب اور آزاد تخلص تھا ـ
ولادت:
یکشنبہ کے روز ۲۵ ماہ صفر ۱۱۱۶ھ [1] میں قصبۂ بلگرام علاقہ صوبۂ اودھ میں پیدا ہوئے ۔
شجرۂ نسب:
نسب آپ کا امام زید شہید بن امام زین العابدین تک پہنچتا ہے ۔
تعلیم:
ابتداء شعور میں تحصیل علم کا سر رشتہ ہاتھ میں لاکر کتب و رسیہکو ابتاء سے انتہاء تک حلقۂ درس استاز المھققین میر طفیل محمد بلگرامی میں پڑھا اور کتب لغت و حدیث و سیر نبوی و فنون ادب کو میر عبد الجلیل بلگرامی اپنے جد فاس سے اخذ کیا اور عروض وقانی وغیرہ کو اپنے ماموں میر سید محمد سے حاصل کیا اور سند صحیح بخار اور اجازت صحاح ستہ وغیرہ کی شیخ محمد حیات مدنی اور سماعت بعض فوائد علم حدیث کی شیخ عبد الوہاب طنطاوی سے مکہ معظمہ میں حاصل کی۔
طنطاوی نے آپ کے اشعار عربی کی نہایت تحسین کی اور جب یہ سنا کہ آپ کا تخلص آزاد ہے تو اس کے معنی سمجھ کر فرمایا کہ یا سیدی انت من عتقاء اللہ،اس کے وجواب میں آپ نے فرمایا کہ حضرت کی اس عنایت سے جو اس عاجز کے حق میں مبذول ہوئی ہے، مجھ کو بہت سی امیدیں ہیں، رسم بیعت کی آپ سید لطف اللہ بلگرامی سے عمل میںلائے اور طریقہ چشتیہ رکھتے تھے ۔
مدت العمر میں تین سفر کیے، ایک دہلی کی طرف واسطے ملاقات میر عبد الجلیل کے اور وہاں دو سال رہ کر ان سے تربیت پائی ـ
دوسرے سیستان کی طرف جو سندھ میں واقع ہے اور اس کے ضمن میں لاہور و ملتان واُچ و بھکر وغیرہ کو دیکھا اور چار سال اس جگہ رہ کر اپنے ماموں سید محمد کی نہایت خدمت میر بخشیٰ اور وقائع نگاری میں بجالائے ۔
تیسرا سفر حرمین شریفین کا ہے اور اس کی روانگی کی تاریخ ’’سفر خیر اور تاریخ معاودت سفر بخیر ہے‘‘ حرمین سے معاووت فرما کر اورنگ آباد واقع دکن میں اقامت اختیار کی ۔
نظام الدولہ رئیسن حیدر آباد آپ کے تلامذہ میں سے تھا ۔ جب وہ بعد وفات اپنے باپ کے مسند نشین ہوا تو آپ کے بعض احباب نے آپ کو کہا کہ اب جو رتبہ آپ چاہین اختیار کر لیں ۔ آپ نے فرمایا کہ میں آزاد ہوا ہوں، بندہ مخلوق نہیں ہو سکتا دنیا ہنر کے ساتھ مکار دکھائی دیتی ہے ۔ عرفہ اس سے حلال ہے ار زیادہ حرام اور یہ شعر پڑھا ؎
دریں دیار کہ شاہی بہر گدا بخشند
غنیمت است کہ مارا ہمیں بما بخشند
خزانۂ عامرہ میں لکھتے ہیں کہ خواجہ حافظ شیرازی نے ساڑھے تین سو سال پہلے ہی سےمیرے نام اور تخلص کی طرف اس شعر میں اشارہ کیا ہے ؎
فاش میگویم واز گفتہ خو دل شادم
بندۂ عشقم و ازہر دجہاں آزدم
بندۂ عشق غلام علی کا ترجمہ ہے کیونکہ عشق عبارت حضرت علی مرتضٰی سے ہے جیسا کہ شعرا نے نظم میں باندھا ہے ۔
تصنیفات:
آپ کی تصنیفات حسب ذیل ہے، ضوء الدراری شرح صحیح البخاری کتاب الزکوٰ تک عربی میں، شمامۃ العنبر فی ما وردفی الہند من سید البشر، تسلیۃ الفوأد فی قصائد آزاد، سند السعادات فی حسن خاتمۃ السادات، روضۃ الاولیاء دربارۂ حالات مشائخ روضہ جو قلعہ دولت آباد کے قریب واقع ہے ۔
ید بیضا تذکرہ شعراء، مآثر الکرام تاریخ بلگرام، خزانۂ عامرہ تذکرہ شعراء، سجۃ المرجان فی آثا ہندوستان، غز لان الہند، دیوان فارسی، مثنوی مظہر البرکات ہفت دفتر عربی میں، مرأۃ الجمال قصیدہ مدح سراپائے محبوب میں ایک سو پانچ بیت، دیوان عربی تین ہزار بیت، شفاء العلیل فی اصطلاحات کلام ابی الطیب مثنّٰی، سات دیوان عربی میں المسمی بہ سبع سیارہ اور ان میں قصائد مستزاد مروف و مزدوج اور ترجیع ہیں جو کسی شاعر نے آپ سے پہلے اس قسم کے نظم نہیں کیے اور اہلِ ہند سے کسی کو نہیں سنا گیا کہ اس نے عربی میں کوئی دیوان بنایا ہو پس کجاسات دیوان ان دواوین میں آنحضرت ﷺ کی مدح میں معافی کثیرہ نادرہ ایجاد فرمائے ہیں جو مثل آپ کے شعرائے مفلقین اور فصحائے منہ پھٹوں مں سے کسی کو یہ بات حاصل نہیں ہوئی اور غزل بنانے میں ایک خاص طرز رکھتے تھے جس کو اس فن کے لوگ پہنچانتے ہیں ۔
وصال:
وفات آپ کی ۱۲۰۰ھ میں ہوئی اور اورنگ آباد میں دفن کیے گئے ۔ ’’شمع لامعہ ایوان ہندوستان‘‘ تاریخ وفات ہے ۔
1۔ ۱۱۱۰ھ ( نزہۃ الخوطر ) ( مرتب )
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-ghulam-ali-azad-bilgrami
غلام علی بن سید نوح واسطی بلگرامی: حسان الہند لقب اور آزاد تخلص تھا ـ
ولادت:
یکشنبہ کے روز ۲۵ ماہ صفر ۱۱۱۶ھ [1] میں قصبۂ بلگرام علاقہ صوبۂ اودھ میں پیدا ہوئے ۔
شجرۂ نسب:
نسب آپ کا امام زید شہید بن امام زین العابدین تک پہنچتا ہے ۔
تعلیم:
ابتداء شعور میں تحصیل علم کا سر رشتہ ہاتھ میں لاکر کتب و رسیہکو ابتاء سے انتہاء تک حلقۂ درس استاز المھققین میر طفیل محمد بلگرامی میں پڑھا اور کتب لغت و حدیث و سیر نبوی و فنون ادب کو میر عبد الجلیل بلگرامی اپنے جد فاس سے اخذ کیا اور عروض وقانی وغیرہ کو اپنے ماموں میر سید محمد سے حاصل کیا اور سند صحیح بخار اور اجازت صحاح ستہ وغیرہ کی شیخ محمد حیات مدنی اور سماعت بعض فوائد علم حدیث کی شیخ عبد الوہاب طنطاوی سے مکہ معظمہ میں حاصل کی۔
طنطاوی نے آپ کے اشعار عربی کی نہایت تحسین کی اور جب یہ سنا کہ آپ کا تخلص آزاد ہے تو اس کے معنی سمجھ کر فرمایا کہ یا سیدی انت من عتقاء اللہ،اس کے وجواب میں آپ نے فرمایا کہ حضرت کی اس عنایت سے جو اس عاجز کے حق میں مبذول ہوئی ہے، مجھ کو بہت سی امیدیں ہیں، رسم بیعت کی آپ سید لطف اللہ بلگرامی سے عمل میںلائے اور طریقہ چشتیہ رکھتے تھے ۔
مدت العمر میں تین سفر کیے، ایک دہلی کی طرف واسطے ملاقات میر عبد الجلیل کے اور وہاں دو سال رہ کر ان سے تربیت پائی ـ
دوسرے سیستان کی طرف جو سندھ میں واقع ہے اور اس کے ضمن میں لاہور و ملتان واُچ و بھکر وغیرہ کو دیکھا اور چار سال اس جگہ رہ کر اپنے ماموں سید محمد کی نہایت خدمت میر بخشیٰ اور وقائع نگاری میں بجالائے ۔
تیسرا سفر حرمین شریفین کا ہے اور اس کی روانگی کی تاریخ ’’سفر خیر اور تاریخ معاودت سفر بخیر ہے‘‘ حرمین سے معاووت فرما کر اورنگ آباد واقع دکن میں اقامت اختیار کی ۔
نظام الدولہ رئیسن حیدر آباد آپ کے تلامذہ میں سے تھا ۔ جب وہ بعد وفات اپنے باپ کے مسند نشین ہوا تو آپ کے بعض احباب نے آپ کو کہا کہ اب جو رتبہ آپ چاہین اختیار کر لیں ۔ آپ نے فرمایا کہ میں آزاد ہوا ہوں، بندہ مخلوق نہیں ہو سکتا دنیا ہنر کے ساتھ مکار دکھائی دیتی ہے ۔ عرفہ اس سے حلال ہے ار زیادہ حرام اور یہ شعر پڑھا ؎
دریں دیار کہ شاہی بہر گدا بخشند
غنیمت است کہ مارا ہمیں بما بخشند
خزانۂ عامرہ میں لکھتے ہیں کہ خواجہ حافظ شیرازی نے ساڑھے تین سو سال پہلے ہی سےمیرے نام اور تخلص کی طرف اس شعر میں اشارہ کیا ہے ؎
فاش میگویم واز گفتہ خو دل شادم
بندۂ عشقم و ازہر دجہاں آزدم
بندۂ عشق غلام علی کا ترجمہ ہے کیونکہ عشق عبارت حضرت علی مرتضٰی سے ہے جیسا کہ شعرا نے نظم میں باندھا ہے ۔
تصنیفات:
آپ کی تصنیفات حسب ذیل ہے، ضوء الدراری شرح صحیح البخاری کتاب الزکوٰ تک عربی میں، شمامۃ العنبر فی ما وردفی الہند من سید البشر، تسلیۃ الفوأد فی قصائد آزاد، سند السعادات فی حسن خاتمۃ السادات، روضۃ الاولیاء دربارۂ حالات مشائخ روضہ جو قلعہ دولت آباد کے قریب واقع ہے ۔
ید بیضا تذکرہ شعراء، مآثر الکرام تاریخ بلگرام، خزانۂ عامرہ تذکرہ شعراء، سجۃ المرجان فی آثا ہندوستان، غز لان الہند، دیوان فارسی، مثنوی مظہر البرکات ہفت دفتر عربی میں، مرأۃ الجمال قصیدہ مدح سراپائے محبوب میں ایک سو پانچ بیت، دیوان عربی تین ہزار بیت، شفاء العلیل فی اصطلاحات کلام ابی الطیب مثنّٰی، سات دیوان عربی میں المسمی بہ سبع سیارہ اور ان میں قصائد مستزاد مروف و مزدوج اور ترجیع ہیں جو کسی شاعر نے آپ سے پہلے اس قسم کے نظم نہیں کیے اور اہلِ ہند سے کسی کو نہیں سنا گیا کہ اس نے عربی میں کوئی دیوان بنایا ہو پس کجاسات دیوان ان دواوین میں آنحضرت ﷺ کی مدح میں معافی کثیرہ نادرہ ایجاد فرمائے ہیں جو مثل آپ کے شعرائے مفلقین اور فصحائے منہ پھٹوں مں سے کسی کو یہ بات حاصل نہیں ہوئی اور غزل بنانے میں ایک خاص طرز رکھتے تھے جس کو اس فن کے لوگ پہنچانتے ہیں ۔
وصال:
وفات آپ کی ۱۲۰۰ھ میں ہوئی اور اورنگ آباد میں دفن کیے گئے ۔ ’’شمع لامعہ ایوان ہندوستان‘‘ تاریخ وفات ہے ۔
1۔ ۱۱۱۰ھ ( نزہۃ الخوطر ) ( مرتب )
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-ghulam-ali-azad-bilgrami
scholars.pk
Hazrat Molana Ghulam Ali Azad Bilgrami
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
اعلیٰ حضرت، عظیم البرکت، مجدد دین و ملت، امام اہلِ سنّت، امام عشق و محبت، امام احمد رضا خان قادری برکاتی محدث بریلوی رضی الله تعالیٰ عنه
نام و نسب:
اسمِ گرامی: محمد ۔ تاریخی نام: المختار ۔ جدِّ امجد حضرت مولانا رضا علی خاں علیہ الرحمہ نے ’’ احمد رضا ‘‘ نام رکھا، اور اسی نام سے مشہور ہوئے ـ اَلقاب: اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سنّت، مجددِ دین و ملّت، شیخ الاسلام، حامیِ سنّت، ماحیِ بدعت وغیرہ ۔
اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت مولانا شاہ محمد احمد رضا خاں بریلوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا تعلّق افغانستان کے معزز قبیلہ ’’ بڑھیچ پٹھان ‘‘ سے ہے ۔
سلسلۂ نسب اِس طرح ہے:
اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان بن مولانا نقی علی خاں بن مولانا رضا علی خاں بن حافظ کاظم علی خاں بن محمد اعظم خاں بن محمد سعادت یار خاں بن محمد سعید ﷲ خاں ـ (علیہم الرحمۃ والرضوان) ۔
ولادت:
آپ کی ولادتِ باسعادت بروز ہفتہ 10 شوّال المکرم 1272ھ مطابق 14 جون 1856ء، بوقتِ ظہر، محلہ جسولی، بریلی شریف (انڈیا) میں ہوئی ۔
سنِ ولادت قرآن سے:
خود امامِ اہلِ سنّت نے اپنی ولادت کا سن ہجری 1272ھ اس آیتِ مبارکہ سے اخذ کیا ہے:
اُولٰٓئِکَ کَتَبَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمُ الْاِیۡمٰنَ وَ اَیَّدَہُمۡ بِرُوۡحٍ مِّنْہُ ـ (پارہ: ۲۸، سورۃ المجادلۃ آیت:22)
ترجمہ:
یہ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان نقش فرما دیا اور اپنی طرف کی روح سے ان کی مدد کی ۔ ترجمۂ قرآن کنز الایمان ـ
تحصیلِ علم اور اَساتذۂ کرام:
اعلیٰ حضرت رضی الله تعالیٰ عنه کی رسمِ بِسْمِ اللہ کے بعد تعلیم کا سلسلہ جاری ہو گیا ۔ آپ نے چار برس کی ننھی سی عمر میں ناظرہ قرآنِ مجید ختم کر لیا ۔
چھ سال کی عمر میں ماہِ ربیع الاوّل شریف کی تقریب میں ایک بہت بڑے اجتماع کے سامنے ’’ میلاد شریف ‘‘ کے موضوع پر ایک پُر مغز اور جامع بیان کرکے علمائے کرام اور مشائخ عظام سے تحسین و آفرین کی داد وصول کی ـ
ابتدائی اردو اور فارسی کی کتب پڑھنے کے بعد ’’ میزان ‘‘ و ’’ منشعب ‘‘ حضرت مولانا مرزا غلام قادر بیگ علیہ الرحمہ سے پڑھیں ۔ پھر آپ نے اپنے والدِ ماجد سند المحققین حضرت مولانا شاہ نقی علی خان علیہ الرحمہ سے اکیس 21 علوم حاصل کیے ۔ ’’ شرحِ چغمینی ‘‘ کا بعض حصّہ حضرت علامہ مولانا عبد العلی رام پوری علیہ الرحمہ سے پڑھا ۔ ابتدائی علمِ ’’ تکسیر ‘‘ و ’’ جفر ‘‘ شیخ المشائخ حضرت شاہ ابو الحسین احمد نوری مارہروی علیہ الرحمہ سے حاصل کیے ۔
علمِ تصوّف کی تعلیم استاذ العارفین مولانا سیّد آلِ رسول مارہروی علیہ الرحمہ سے حاصل فرمائی ۔ تیرہ برس دس مہینے پانچ دن کی عمر میں 14 شعبان المعظّم 1286ھ، مطابق 19 نومبر 1869ء کو فارغ التحصیل ہوئے اور دستارِ فضیلت سے نوازے گئے ۔
قوتِ حافظہ:
اللہ تعالیٰ نے آپ کو قوتِ حافظہ سے خوب نوازا تھا ۔ صرف مغرب اور عشاء کے درمیانی وقت میں ایک پارہ حفظ کر لیتے تھے، اور ایک ماہ میں مکمل قرآنِ مجید حفظ کر لیا ۔ اعلیٰ حضرت کے اساتذہ کی فہرست تو بہت مختصر ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے حبیب ﷺ کی عطا سے آپ کا سینہ علم و معرفت کا خزینہ تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ آپ بہت سے علوم کے بانی و موجد ہیں ۔ ذَالِکَ فَضْلُ اللہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآءُ ۔
بیعت و خلافت:
آپ 1294ھ، مطابق 1877ء کو شیخ المشائخ حضرت شاہ آلِ رسول مارہروی علیہ الرحمہ کے دستِ حق پرست پر سلسلۂ عالیہ قادریہ میں بیعت ہوئے اور خلافت سے مشرف ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
آپ کے خلیفۂ اجل مبلغ اعظم حضرت علامہ شاہ محمد عبد العلیم صدّیقی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
تمہاری شان میں جو کچھ کہوں اُس سے سوا تم ہو
قسیمِ جامِ عرفاں، اے شہِ احمد رضا تم ہو
اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سنّت، عظیم البرکت، عظیم المرتبت، پروانۂ شمعِ رسالت، حامیِ سنّت، ماحیِ بدعت، شیخ الاسلام، مجددِ مأۃ ماضیہ، حالیہ، آتیہ، مفسرِ عدیم النظیر، محدثِ باکمال، فقیہِ عَلَی الْاِطْلاق شاہ امام احمد رضا خاں قادری برکاتی محدث بریلوی رضی الله تعالیٰ عنه
ایک فرد نہیں بلکہ ایک جامعہ ہیں ۔ آپ کی سیرتِ مبارکہ اور کارہائے نمایاں سے قرونِ اولیٰ کے اسلاف کی یاد تازہ ہو جاتی ہے ۔ آپ رضی الله تعالیٰ عنه کی شخصیت ایسی جامع و کامل و عالی مرتبت ہے، جن کی علمی سطوت و شوکت اور مخالفین و دشمنانِ اسلام پر ہیبت دبدبہ اِن شآء اللہ العزیز آئندہ تا قیامِ قیامت اپنی پوری آب و تاب اور شان و شوکت کے ساتھ آفتابِ نصف النہار کی طرح مطلعِ علم و شریعت پر چھائی رہے گی ۔
آپ کی پھیلائی ہوئی شمعِ عشقِ مصطفیٰ ﷺ کی شعاع پورے عالم کو روشن کرتی رہے گی اور ہر آنے والے دن کے ساتھ اس کی ضیاء اور فیض رسانی میں اضافہ ہوتا رہےگا ۔ اِن شآء الله تعالیٰ ﷻ ـ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: محمد ۔ تاریخی نام: المختار ۔ جدِّ امجد حضرت مولانا رضا علی خاں علیہ الرحمہ نے ’’ احمد رضا ‘‘ نام رکھا، اور اسی نام سے مشہور ہوئے ـ اَلقاب: اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سنّت، مجددِ دین و ملّت، شیخ الاسلام، حامیِ سنّت، ماحیِ بدعت وغیرہ ۔
اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت مولانا شاہ محمد احمد رضا خاں بریلوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا تعلّق افغانستان کے معزز قبیلہ ’’ بڑھیچ پٹھان ‘‘ سے ہے ۔
سلسلۂ نسب اِس طرح ہے:
اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان بن مولانا نقی علی خاں بن مولانا رضا علی خاں بن حافظ کاظم علی خاں بن محمد اعظم خاں بن محمد سعادت یار خاں بن محمد سعید ﷲ خاں ـ (علیہم الرحمۃ والرضوان) ۔
ولادت:
آپ کی ولادتِ باسعادت بروز ہفتہ 10 شوّال المکرم 1272ھ مطابق 14 جون 1856ء، بوقتِ ظہر، محلہ جسولی، بریلی شریف (انڈیا) میں ہوئی ۔
سنِ ولادت قرآن سے:
خود امامِ اہلِ سنّت نے اپنی ولادت کا سن ہجری 1272ھ اس آیتِ مبارکہ سے اخذ کیا ہے:
اُولٰٓئِکَ کَتَبَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمُ الْاِیۡمٰنَ وَ اَیَّدَہُمۡ بِرُوۡحٍ مِّنْہُ ـ (پارہ: ۲۸، سورۃ المجادلۃ آیت:22)
ترجمہ:
یہ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان نقش فرما دیا اور اپنی طرف کی روح سے ان کی مدد کی ۔ ترجمۂ قرآن کنز الایمان ـ
تحصیلِ علم اور اَساتذۂ کرام:
اعلیٰ حضرت رضی الله تعالیٰ عنه کی رسمِ بِسْمِ اللہ کے بعد تعلیم کا سلسلہ جاری ہو گیا ۔ آپ نے چار برس کی ننھی سی عمر میں ناظرہ قرآنِ مجید ختم کر لیا ۔
چھ سال کی عمر میں ماہِ ربیع الاوّل شریف کی تقریب میں ایک بہت بڑے اجتماع کے سامنے ’’ میلاد شریف ‘‘ کے موضوع پر ایک پُر مغز اور جامع بیان کرکے علمائے کرام اور مشائخ عظام سے تحسین و آفرین کی داد وصول کی ـ
ابتدائی اردو اور فارسی کی کتب پڑھنے کے بعد ’’ میزان ‘‘ و ’’ منشعب ‘‘ حضرت مولانا مرزا غلام قادر بیگ علیہ الرحمہ سے پڑھیں ۔ پھر آپ نے اپنے والدِ ماجد سند المحققین حضرت مولانا شاہ نقی علی خان علیہ الرحمہ سے اکیس 21 علوم حاصل کیے ۔ ’’ شرحِ چغمینی ‘‘ کا بعض حصّہ حضرت علامہ مولانا عبد العلی رام پوری علیہ الرحمہ سے پڑھا ۔ ابتدائی علمِ ’’ تکسیر ‘‘ و ’’ جفر ‘‘ شیخ المشائخ حضرت شاہ ابو الحسین احمد نوری مارہروی علیہ الرحمہ سے حاصل کیے ۔
علمِ تصوّف کی تعلیم استاذ العارفین مولانا سیّد آلِ رسول مارہروی علیہ الرحمہ سے حاصل فرمائی ۔ تیرہ برس دس مہینے پانچ دن کی عمر میں 14 شعبان المعظّم 1286ھ، مطابق 19 نومبر 1869ء کو فارغ التحصیل ہوئے اور دستارِ فضیلت سے نوازے گئے ۔
قوتِ حافظہ:
اللہ تعالیٰ نے آپ کو قوتِ حافظہ سے خوب نوازا تھا ۔ صرف مغرب اور عشاء کے درمیانی وقت میں ایک پارہ حفظ کر لیتے تھے، اور ایک ماہ میں مکمل قرآنِ مجید حفظ کر لیا ۔ اعلیٰ حضرت کے اساتذہ کی فہرست تو بہت مختصر ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے حبیب ﷺ کی عطا سے آپ کا سینہ علم و معرفت کا خزینہ تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ آپ بہت سے علوم کے بانی و موجد ہیں ۔ ذَالِکَ فَضْلُ اللہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآءُ ۔
بیعت و خلافت:
آپ 1294ھ، مطابق 1877ء کو شیخ المشائخ حضرت شاہ آلِ رسول مارہروی علیہ الرحمہ کے دستِ حق پرست پر سلسلۂ عالیہ قادریہ میں بیعت ہوئے اور خلافت سے مشرف ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
آپ کے خلیفۂ اجل مبلغ اعظم حضرت علامہ شاہ محمد عبد العلیم صدّیقی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
تمہاری شان میں جو کچھ کہوں اُس سے سوا تم ہو
قسیمِ جامِ عرفاں، اے شہِ احمد رضا تم ہو
اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سنّت، عظیم البرکت، عظیم المرتبت، پروانۂ شمعِ رسالت، حامیِ سنّت، ماحیِ بدعت، شیخ الاسلام، مجددِ مأۃ ماضیہ، حالیہ، آتیہ، مفسرِ عدیم النظیر، محدثِ باکمال، فقیہِ عَلَی الْاِطْلاق شاہ امام احمد رضا خاں قادری برکاتی محدث بریلوی رضی الله تعالیٰ عنه
ایک فرد نہیں بلکہ ایک جامعہ ہیں ۔ آپ کی سیرتِ مبارکہ اور کارہائے نمایاں سے قرونِ اولیٰ کے اسلاف کی یاد تازہ ہو جاتی ہے ۔ آپ رضی الله تعالیٰ عنه کی شخصیت ایسی جامع و کامل و عالی مرتبت ہے، جن کی علمی سطوت و شوکت اور مخالفین و دشمنانِ اسلام پر ہیبت دبدبہ اِن شآء اللہ العزیز آئندہ تا قیامِ قیامت اپنی پوری آب و تاب اور شان و شوکت کے ساتھ آفتابِ نصف النہار کی طرح مطلعِ علم و شریعت پر چھائی رہے گی ۔
آپ کی پھیلائی ہوئی شمعِ عشقِ مصطفیٰ ﷺ کی شعاع پورے عالم کو روشن کرتی رہے گی اور ہر آنے والے دن کے ساتھ اس کی ضیاء اور فیض رسانی میں اضافہ ہوتا رہےگا ۔ اِن شآء الله تعالیٰ ﷻ ـ
❤1
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں قادری محدث بریلوی رضی الله تعالیٰ عنه مروجہ علوم دینیہ کے علاوہ ایسے علوم پر بھی مہارت رکھتے تھے جن سے عام طور پر علماء تعلق نہیں رکھتے، اور کچھ علوم کے تو بانی و موجد ہیں، ہر فن میں قیمتی تحقیقات و تعلیقات کا اضافہ کیا ۔
آپ نے پچاس سے زیادہ علوم و فنون میں تصانیف کا یادگار ذخیرہ چھوڑا ۔جدید حساب سے ان کی تعداد ایک سو بیس کے قریب ہے ۔ اسی طرح مختلف علوم و فنون پر ایک ہزار سے زیادہ یادگار تصانیف چھوڑی ہیں ۔
صرف فتاوٰی رضویہ کی جدید طباعت تیس جلدوں میں ہے ۔ بہت سی کتب طباعت کے مراحل میں ہیں۔ آپ کی تصانیف، اور آپ پر تحقیق کی جدید انداز میں طباعت و اشاعت ’’انجمن ضیائے طیبہ‘‘ کی اوّلین ترجیح ہے۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا اس پیکرِ حق وصداقت، حاملِ علم ومعرفت کانام ہے جسے ’’ علمناہ من لدنا ‘‘ کی تعبیر اور ’’ انما یخشی الله من عبادہ العلمآء ‘‘ کی تصویر اور ’’ والراسخون فی العلم ‘‘ کی تفسیر کہیں تو بےجا نہ ہوگا ۔ مدح و ثنا خوانی میں حافظ شیرازی، امام بوصیری و جامی بلکہ حسان الہند کہیں تو مبالغہ نہ ہوگا ۔
صرف ’’ ترجمۂ قرآن کنز الایمان ‘‘ دیکھ لیں حقائق و معرفت کا خزینہ ہے، اس ترجمے میں رازی کی موشگافیاں، غزالی کا تصوف، جامی کی وارفتگی، حضرت بلال کا عشق، نعمان بن ثابت کا تفقہ ہے۔
اگر یقین نہ آئے تو اِس آیت کا ترجمہ پڑھ لیں:
وَ وَجَدَکَ ضَآلًّا فَہَدٰی ۪﴿۷﴾
ترجمہ: ’’اور تمہیں اپنی محبّت میں خود رفتہ پایا تو اپنی راہ دی ۔ ‘‘ (کنز الایمان)
مجھے حیرت ہے ان نام نہاد موحدین پر جو یہود و نصاریٰ کےظلم و ستم اور فواحش پر تو خاموش رہیں اور عظمتِ خدا و عشقِ مصطفیٰ ﷺ کے ترجمے پر پابندی لگا دیں ۔
مزید ستم ظریفی دیکھیں کہ جس امام نے رد و بدعات، بے حیائی و خرافات، جاہلانہ رسوم و رواج کے خلاف ساری زندگی جہاد فرمایا اور سب سے زیادہ ان جہال کے خلاف لکھا اس کی نظیر نہیں ملتی ۔
جس نے شریعتِ مصطفیٰ ﷺ کی خاطر اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر، دن رات دین کی خدمت کی اسے ’’ حامیِ بدعات ‘‘ بنا دیا، اور دینِ اسلام میں تحریف کرنے والے، عظمتِ خدا اور عزتِ مصطفیٰ ﷺ پر حملے کرنے والے، کفار و مشرکین سے دوستی کرنے والے، اور ان کے لیے مر مٹنے والے، ان کو منبروں پر بٹھانے والے، اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے والوں کو ’’ شیخ الاسلام ‘‘ اور ” توحید کا ٹھیکیدار ‘‘ بنا دیا ۔
حق کے آگے جتنے پروپیگنڈے کِیے جائیں، پردہ ڈالنے کی کوششیں کی جائیں، حق چھپانے سے چھپ نہیں سکتا، بلکہ حق ہوتا ہی وہ جو ظاہر ہو کر رہتا ہے۔ چاہے مخالفین کچھ بھی کر لیں ۔
جآء الحق و زہق البطل ؕ ان البطل کان زھوقا ۔ (پارہ: ۱۵، سورۃ بنی اسرائیل آیت: ۸۱)
ترجمہ: اور فرماؤ کہ حق آیا اور باطل مٹ گیا؛ بے شک باطل کو مٹنا ہی تھا ـ (کنزالایمان)
یہی وجہ ہے کہ آج پوری دنیا میں مصطفیٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام کی آواز قلوب و اذہان کو منوّر کر رہی ہے ۔ پوری دنیا میں عزتِ مصطفیٰ ﷺ کی بدولت عظمتِ احمد رضا کے ڈنکے بج رہے ہیں ۔ آج پوری دنیا کی یونیور سِٹیز میں مختلف زبانوں میں آپ کی سیرت و تصانیف پر متعدد افراد ڈاکٹریٹ کر چکے ہیں اور کئی افراد کر رہے ہیں، اور یہ علمی سفر جاری و ساری ہے ۔ ( الحمد للہ علٰی ذالک )
آپ کی ذات کی پہچان اور پوری حیات کا عرفان عشقِ مصطفیٰ ﷺ ہے ۔ آپ فنا فی الرسول ﷺ تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے دمِ آخریں اپنے عقیدت مندوں، وارثوں، اور تمام اہلِ سنّت کو جو وصیت فرمائی اس کو حرزِ جاں بنانے کی ضرورت ہے ۔
آپ فرماتے ہیں:
جس سے اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی شان میں ادنیٰ توہین پاؤ پھر وہ تمہارا کیسا ہی پیارا کیوں نہ ہو، فوراً اُس سے جدا ہو جاؤ، جس کو بارگاہِ رسالت مآِب ﷺ میں ذرا بھی گستاخ دیکھو، پھر وہ کیسا ہی بزرگ و معظّم کیوں نہ ہو اپنے اندر سے اسے دودھ کی مکھی کی طرح نکال کر پھینک دو ۔ وصایا شریف ـ
وصال:
بروز جمعۃ المبارکہ 25 صفر المظفر 1340ھ ، مطابق 28 اکتوبر 1921ء کو ہندوستان کے وقت کے مطابق دوپہر دو بَج کر 38 منٹ پر عین اذانِ جمعہ میں اُدھر ’’ حی علی الفلاح ‘‘ کی پکار سُنی اِدھر روحِ پُر فُتوح نے ’’ دَاعِیْ الی اللہ ‘‘ کو لبیک کہا ۔
مزارِ پُر اَنوار:
آپ کا مزارِ پُر انوار بریلی شریف (انڈیا) میں مرجعِ خلائق ہے ۔
مآخذ و مراجع:
حیات اعلیٰ حضرت ۔ سوانح امام احمد رضا المعروف سوانح اعلیٰ حضرت ۔ سیرت اعلیٰ حضرت ۔ تاجدار بریلی نمبر ۔
انجمن ضیاء طیبہ:
اَلْحَمْدُ للہ! انجمن ضیائے طیبہ کے زیرِ اہتمام عرسِ اعلیٰ حضرت تقریباً 1970ء سے بڑے احتشام و اہتمام سے منعقد ہوتا ہے، اور اعلیٰ حضرت کی پچیسویں شریف کی ماہانہ محفل بھی پابندی کے ساتھ ہوتی ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/ala-hazrat-imam-ahmed-raza-khan-barelvi
آپ نے پچاس سے زیادہ علوم و فنون میں تصانیف کا یادگار ذخیرہ چھوڑا ۔جدید حساب سے ان کی تعداد ایک سو بیس کے قریب ہے ۔ اسی طرح مختلف علوم و فنون پر ایک ہزار سے زیادہ یادگار تصانیف چھوڑی ہیں ۔
صرف فتاوٰی رضویہ کی جدید طباعت تیس جلدوں میں ہے ۔ بہت سی کتب طباعت کے مراحل میں ہیں۔ آپ کی تصانیف، اور آپ پر تحقیق کی جدید انداز میں طباعت و اشاعت ’’انجمن ضیائے طیبہ‘‘ کی اوّلین ترجیح ہے۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا اس پیکرِ حق وصداقت، حاملِ علم ومعرفت کانام ہے جسے ’’ علمناہ من لدنا ‘‘ کی تعبیر اور ’’ انما یخشی الله من عبادہ العلمآء ‘‘ کی تصویر اور ’’ والراسخون فی العلم ‘‘ کی تفسیر کہیں تو بےجا نہ ہوگا ۔ مدح و ثنا خوانی میں حافظ شیرازی، امام بوصیری و جامی بلکہ حسان الہند کہیں تو مبالغہ نہ ہوگا ۔
صرف ’’ ترجمۂ قرآن کنز الایمان ‘‘ دیکھ لیں حقائق و معرفت کا خزینہ ہے، اس ترجمے میں رازی کی موشگافیاں، غزالی کا تصوف، جامی کی وارفتگی، حضرت بلال کا عشق، نعمان بن ثابت کا تفقہ ہے۔
اگر یقین نہ آئے تو اِس آیت کا ترجمہ پڑھ لیں:
وَ وَجَدَکَ ضَآلًّا فَہَدٰی ۪﴿۷﴾
ترجمہ: ’’اور تمہیں اپنی محبّت میں خود رفتہ پایا تو اپنی راہ دی ۔ ‘‘ (کنز الایمان)
مجھے حیرت ہے ان نام نہاد موحدین پر جو یہود و نصاریٰ کےظلم و ستم اور فواحش پر تو خاموش رہیں اور عظمتِ خدا و عشقِ مصطفیٰ ﷺ کے ترجمے پر پابندی لگا دیں ۔
مزید ستم ظریفی دیکھیں کہ جس امام نے رد و بدعات، بے حیائی و خرافات، جاہلانہ رسوم و رواج کے خلاف ساری زندگی جہاد فرمایا اور سب سے زیادہ ان جہال کے خلاف لکھا اس کی نظیر نہیں ملتی ۔
جس نے شریعتِ مصطفیٰ ﷺ کی خاطر اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر، دن رات دین کی خدمت کی اسے ’’ حامیِ بدعات ‘‘ بنا دیا، اور دینِ اسلام میں تحریف کرنے والے، عظمتِ خدا اور عزتِ مصطفیٰ ﷺ پر حملے کرنے والے، کفار و مشرکین سے دوستی کرنے والے، اور ان کے لیے مر مٹنے والے، ان کو منبروں پر بٹھانے والے، اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے والوں کو ’’ شیخ الاسلام ‘‘ اور ” توحید کا ٹھیکیدار ‘‘ بنا دیا ۔
حق کے آگے جتنے پروپیگنڈے کِیے جائیں، پردہ ڈالنے کی کوششیں کی جائیں، حق چھپانے سے چھپ نہیں سکتا، بلکہ حق ہوتا ہی وہ جو ظاہر ہو کر رہتا ہے۔ چاہے مخالفین کچھ بھی کر لیں ۔
جآء الحق و زہق البطل ؕ ان البطل کان زھوقا ۔ (پارہ: ۱۵، سورۃ بنی اسرائیل آیت: ۸۱)
ترجمہ: اور فرماؤ کہ حق آیا اور باطل مٹ گیا؛ بے شک باطل کو مٹنا ہی تھا ـ (کنزالایمان)
یہی وجہ ہے کہ آج پوری دنیا میں مصطفیٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام کی آواز قلوب و اذہان کو منوّر کر رہی ہے ۔ پوری دنیا میں عزتِ مصطفیٰ ﷺ کی بدولت عظمتِ احمد رضا کے ڈنکے بج رہے ہیں ۔ آج پوری دنیا کی یونیور سِٹیز میں مختلف زبانوں میں آپ کی سیرت و تصانیف پر متعدد افراد ڈاکٹریٹ کر چکے ہیں اور کئی افراد کر رہے ہیں، اور یہ علمی سفر جاری و ساری ہے ۔ ( الحمد للہ علٰی ذالک )
آپ کی ذات کی پہچان اور پوری حیات کا عرفان عشقِ مصطفیٰ ﷺ ہے ۔ آپ فنا فی الرسول ﷺ تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے دمِ آخریں اپنے عقیدت مندوں، وارثوں، اور تمام اہلِ سنّت کو جو وصیت فرمائی اس کو حرزِ جاں بنانے کی ضرورت ہے ۔
آپ فرماتے ہیں:
جس سے اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی شان میں ادنیٰ توہین پاؤ پھر وہ تمہارا کیسا ہی پیارا کیوں نہ ہو، فوراً اُس سے جدا ہو جاؤ، جس کو بارگاہِ رسالت مآِب ﷺ میں ذرا بھی گستاخ دیکھو، پھر وہ کیسا ہی بزرگ و معظّم کیوں نہ ہو اپنے اندر سے اسے دودھ کی مکھی کی طرح نکال کر پھینک دو ۔ وصایا شریف ـ
وصال:
بروز جمعۃ المبارکہ 25 صفر المظفر 1340ھ ، مطابق 28 اکتوبر 1921ء کو ہندوستان کے وقت کے مطابق دوپہر دو بَج کر 38 منٹ پر عین اذانِ جمعہ میں اُدھر ’’ حی علی الفلاح ‘‘ کی پکار سُنی اِدھر روحِ پُر فُتوح نے ’’ دَاعِیْ الی اللہ ‘‘ کو لبیک کہا ۔
مزارِ پُر اَنوار:
آپ کا مزارِ پُر انوار بریلی شریف (انڈیا) میں مرجعِ خلائق ہے ۔
مآخذ و مراجع:
حیات اعلیٰ حضرت ۔ سوانح امام احمد رضا المعروف سوانح اعلیٰ حضرت ۔ سیرت اعلیٰ حضرت ۔ تاجدار بریلی نمبر ۔
انجمن ضیاء طیبہ:
اَلْحَمْدُ للہ! انجمن ضیائے طیبہ کے زیرِ اہتمام عرسِ اعلیٰ حضرت تقریباً 1970ء سے بڑے احتشام و اہتمام سے منعقد ہوتا ہے، اور اعلیٰ حضرت کی پچیسویں شریف کی ماہانہ محفل بھی پابندی کے ساتھ ہوتی ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/ala-hazrat-imam-ahmed-raza-khan-barelvi
scholars.pk
Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi, Ahmed Raza Khan Barelvi Books, Ala Hazr
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray…
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray…
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
اعلیٰ حضرت، عظیم البرکت، مجدد دین و ملت، امام اہلِ سنّت، امام عشق و محبت، امام احمد رضا خان قادری برکاتی محدث بریلوی رضی الله تعالیٰ عنه نام و نسب: اسمِ گرامی: محمد ۔ تاریخی نام: المختار ۔ جدِّ امجد حضرت مولانا رضا علی خاں علیہ الرحمہ نے ’’ احمد رضا ‘‘ نام…
#یوم_ولادت_ماہ_شوال_المکرم
#یوم_وصال_ماہ_صفر_المظفر
https://t.me/islaamic_Knowledge/49801
🌹 سرکار اعلیٰ حضرت، عظیم البرکت، مجدد دین و ملت، امام اہلسنت، امام عشق و محبت، الشاہ امام احمد رضا خان محدث بریلوی رضی الله تبارک و تعالیٰ عنه کے حوالے سے فوٹوز حاصل کرنے کے لئے آپ یہاں ↓ ٹچ کیجئے ـ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
🔍 #فیضان_اعلی_حضرت 🔎
https://t.me/islaamic_Knowledge/58795
#یوم_وصال_ماہ_صفر_المظفر
https://t.me/islaamic_Knowledge/49801
🌹 سرکار اعلیٰ حضرت، عظیم البرکت، مجدد دین و ملت، امام اہلسنت، امام عشق و محبت، الشاہ امام احمد رضا خان محدث بریلوی رضی الله تبارک و تعالیٰ عنه کے حوالے سے فوٹوز حاصل کرنے کے لئے آپ یہاں ↓ ٹچ کیجئے ـ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
🔍 #فیضان_اعلی_حضرت 🔎
https://t.me/islaamic_Knowledge/58795
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
24-02-1445 ᴴ | 11-09-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
25-02-1445 ᴴ | 12-09-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
25-02-1445 ᴴ | 12-09-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
25-02-1445 ᴴ | 12-09-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
۲۵ صفر المظفر عرس اعلیٰ حضرت
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
۲۵ صفر المظفر عرس اعلیٰ حضرت
❤1