🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
حضرت خواجہ شمس الدین سیالوی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
حضرت خواجہ شمس الدین سیالوی ۔ القاب: شمس العارفین، برہان العاشقین، پیر سیال لجپال ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
برہان العاشقین، شمس العارفین حضرت خواجہ شمس الدین سیالوی بن حضرت خواجہ محمد یار بن میاں محمد شریف بن میاں بر خور دار بن میاں تاج محمود بن میاں شیر کرم علی ۔

آپ کے آباؤ اجداد کئی پشتوں سے دنیاوی عزو جاہ اور علم و تقویٰ میں ممتاز تھے ۔آپ کے جد اعلیٰ، حضرت موسیٰ پاک شہید ملتانی قدس سرہ کے خلیفۂ مجاز تھے ۔

آپ کا سلسلۂ نسب پچاس واسطوں سے حضرت عباس علمدار شہید کر بلا رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جا ملتا ہے ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1214ھ، مطابق 1799ء کو " سیال شریف " ضلع سرگودھا، پنجاب پاکستان میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
حضور اعلیٰ سیالوی قدس سرہ ساڑھے چار سال کی عمر میں قرآن کی تعلیم کے لئے مکتب میں بٹھائے گئے ۔ سات سال کی عمر میں قرآن کریم حفظ کر لیا ۔

علم دین کی تحصیل کے لئے علاقہ پنڈی گھیپ کے ایک گاؤں" میکی ڈھوک "میں گئے ۔ ابھی فارسی کی ابتدائی کتابیں پڑھی تھیں کہ استاذ گرامی کا وصال ہو گیا ۔ پھر مکھڈ شریف تشریف لے گئے، وہاں مولانا محمد علی مکھڈی سے تکمیل فرمائی ۔ اسی طرح مولانا حافظ دراز پشاوری سے بھی تعلیم حاصل کی ۔ آپ اپنے وقت کے جید عالمِ دین تھے ۔

بیعت و خلاف:
غوثِ زمان حضرت خوجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی رحمۃ اللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور 36سال کی عمر میں خلافت سے مشرف کیے گئے ۔

سیرت و خصائص:
اقلیمِ معرفت کا تاجدار، میدانِ جود و عطاء کا شہسوار، کاروانِ عشق ومستی کا قافلہ سالار، مطلعِ ہدایت کے نیرِ تاباں، خضر گم کردہِ راہاں، فخرالاتقیاء، برہان العاشقین، شمس العارفین حضرت خواجہ شمس الدین سیالوی رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ کا شمار اکابرِ اولیاء کرام میں سے ہوتا ہے ۔ آپ کی تعیلمات سے ایک زمانہ روشن ہوا ہے ۔ پیر کرم شاہ فرماتے ہیں: حضرت کا اندازِ تبلیغ و ارشاد بالکل نرالا تھا ۔ اسوۂ نبوت کا کامل نمونہ تھے ۔ جوبات بیان فرماتے، پیار و محبت کے رنگ میں فرماتے ۔ بڑے سے بڑا جھگڑالو مدِ مقابل بھی خلوص کی مہک سے از خود رفتہ ہو کر سر نیاز قدموں میں رکھ دیتا ۔ بڑے بڑے علماء و فضلاء مناظرے کرنے کے لئے حاضر ہوئے، لیکن نگاہِ ناز کی تب نہ لاکر ہمیشہ کے لئے غلامِ بے دام بن کر رہ گئے ۔

آپ کے فضل وکمال کا اندازہ لگانے کےلئے صرف یہ کہ دینا ہی کافی ہے کہ "غوث الاسلام سیدنا پیر مہر علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ "آپ کے فیض یافتہ تھے ۔ آپ ملکوت صفات اور قدسی اخلاق کے پیکر تھے، آپ کے قائم کردہ لنگر سے ہر مسافر مفلس اور مسکین بہرہ ور ہوتا اور آپ ہر در مند کی دکھ بھری داستان سنتے اور حسب حال اس کا مداوا فرماتے، شریعت مقدسہ کی اتباع اور پیروی میں اپنی مثال آپ تھے، نماز باجماعت ادا کرتے اور مریدین کو بھی اتباع سنت مطہرہ کا سختی سے حکم دیتے، آپ نے رشد و ہدایت کا پیغام اعلیٰ پیمانے پر عوام و خواص تک پہنچا یا اور بے شمار مریدین کو درجۂ کمال تک پہنچایا ۔

آپ نے اپنے پیر و مرشد کی خدمت کاحق ادا کر دیا ۔ اپنے پیر سے عشق کی حد تک لگاؤ تھا ۔ بلکہ آخری عمر میں تو فنافی الشیخ کے درجے پر فائز ہو گئے تھے ۔ جب آپ نے سیال شریف میں قیام کا ارادہ فرمایا اور ارشاد مرشد کے مطابق تمام اور ادو اذکار ادا کرنے کے ساتھ درس و تدریس سلسلہ شروع کیا، سال میں کئی دفعہ پا پیادہ مرشد کامل کے دربار میں حاضری دیتے اور کم و بیش چالیس دن تک وہاں قیام کرتے ۔

چودہ مرتبہ حضرت پیر پٹھان کی معیت میں تونسہ شریف سے مہار شریف کا سفر اس اس شان نیاز سے کیا کہ مرشد ِکامل گھوڑی پر سوار ہوتے اور آپ آنحضور کا قرآن مجید، رحل اور دیگر وظائف سر پر رکھے، پانی کا کوزہ دائیں ہاتھ میں ،مصلیٰ اور عصا بغل میں دبائے ساتھ ساتھ دوڑ تے جاتے تھے، دیکھنے والے اس پیکر ِحسن و جمال کی جفا کشی اور عقیدت کیشی کو دیکھ کر محو حیرت رہ جاتے اور اہل نظر اس شہباز معرفت کی قوت پر واز کو رشک کی نگاہ سے دیکھتے ۔

36سال کی عمر میں جب آپ کا قلب ِانور عبادت ور یاضت اور پیرِ کامل کی نگاہ ِکیمیا اثر کی برکت سے رشکِ شمس و قمر بن چکا تھا ۔ حضرت پیر پٹھان سلیمان زماں حضرت خواجہ محمد سیلمان تونسوی قدس سرہ نے خرقہ خلافت عطا کیا اور فرمایا: "جو شخص بیعت کی تمنا لے کر حاضر ہو، اس کی مراد بر لائی جائے، اور اپنے اشغال میں مصروف ہو کر اسے نظر اندزنہ کر دینا۔"
2
مرشد اکمل سے عقیدت و محبت کا یہ عالم تھا کہ ایک دفعہ ایک نورانی پیکر بزرگ حضرت پیر پٹھان قدس سرہ کے پاس تشریف لائے اور کچھ دیر محو ِگفتگو ہو کر رخصت ہو گئے ۔ ان کے جانے کے بعد حضرت نے فرمایا:"یہ حضرت خضر  علیہ السلام تھے، جو شخص ان کی زیارت کرنا چاہتا ہے جائے اور زیارت کرے " تمام حاضرین دیوانہ وار ان کے پیچھے چلے گئے، مگر حضرت خواجہ شمس العافین وہیں بیٹھے رہے ۔ حضرت خواجہ  شاہ سلیمان نے فرمایا:" مولوی !تمہیں حضرت خضر کی زیارت کا شتیاق نہیں" عر ض کی میرے لئے اسی کی زیارت کافی ہے جس کی ملاقات کے لئے حضرت خضر چل کر تشریف لائے ہیں ۔

؏: ہمہ شہر پر ز خوباںمنم و جمال ماہے
چہ کنم کہ چشم خوش مبیں نکند بہ کس نگا ہے۔

اس خلوص و محبت پر حضرت پیر پٹھان بہت خوش ہوئے اور دعاکی ۔ " اللہ سائیں میرے سیال کو رنگ لائیں ۔ " اس دعا کا یہ اثر ہو ا کی چہار دانگ عالم سے جام ِعرفان کے متلاشی پروانہ وار آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور تسکین دل و جاں اور منزل مراد حاصل کرتے ۔

تاریخِ وصال:
حضرت خواجہ شمس العارفین کا وصال 24 صفر المظفر 1300ھ، مطابق جنوری 1883ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار شریف " سیال شریف " ضلع سرگودھا، پنجاب پاکستان میں مرجعِ خلائق ہے ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابرِ اہلسنت ۔ ماہنامہ ضیائے حرم شمس العارفین نمبر ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-shamsuddin-sialvi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت خواجہ میر درد دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام ونسب:
آپ کا اسمِ گرامی سید خواجہ میر اور درد تخلص تھا ۔ والد ماجد کا نام خواجہ محمد ناصر تھا جو فارسی کے اچھے شاعر تھے اور عندلیب تخلص رکھتے تھے ۔

نسب:
خواجہ بہاو الدین نقشبندی اور والدہ کی طرف سے حضرت غوث اعظم سے ملتا ہے ۔ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم ـ

تاریخ و مقامِ ولادت:
خواجہ میر درد دہلی میں 1720ءمیں پیدا ہوئے ۔

تحصیلِ علم:
خواجہ میر درد دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ظاہری و باطنی کمالات اور جملہ علوم اپنے والد سے حاصل کیے ۔

بیعت و خلافت:
خواجہ میر درد رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد ماجد کے مرید و خلیفہ تھے ۔

سیرت و خصائص:
خواجہ میر درد دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ صاحبِ کرامات وکمالات تھے ۔ آپ نے درویشانہ تعلیمِ روحانیت کو جلا دی اور تصوف کے رنگ میں ڈوب گئے ۔ آغاز جوانی میں سپاہی پیشہ تھے ۔ پھر دنیا ترک کی اور والد صاحب کے انتقال کے بعد سجادہ نشین ہوئے ۔ آپ نے شاعری اور تصوف ورثہ میں پائے ۔ ذاتی تقدس ، خودداری، ریاضت و عبادت کی وجہ سے امیر غریب بادشاہ فقیر سب ان کی عزت کرتے تھے ۔

وہ ایک باعمل صوفی تھے اور دولت و ثروت کو ٹھکرا کر درویش گوشہ نشین ہو گئے تھے ۔ ان کے زمانے میں دلی ہنگاموں کا مرکز تھی، چنانچہ وہاں کے باشندے معاشی بدحالی، بے قدری اور زبوں حالی سے مجبور ہو کر دہلی سے نکل رہے تھے لیکن آپ کے پائے استقامت میں لغزش نہ آئی اور وہ دہلی میں مقیم رہے ۔

آپ کو بچپن ہی سے تصنیف و تالیف کا شوق تھا ۔ متعدد تصانیف لکھیں جو فارسی میں ہیں ۔ نظم میں ایک دیوان فارسی اور ایک دیوان اردو میں ہے ۔

تاریخِ وصال:
خواجہ میر درد دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے 24 صفر المظفر 1785ءمیں وفات پائی اور وہی جہاں تمام عمر بسر کی تھی مدفن قرار پایا ۔

ماخذ و مراجع: دیوانِ درد

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-meer-dard-dehlvi
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
23-02-1445 ᴴ | 10-09-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
24-02-1445 ᴴ | 11-09-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
24-02-1445 ᴴ | 11-09-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
24-02-1445 ᴴ | 11-09-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1