🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت شاہ مینا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

اسمِ گرامی:
آپ کا اسمِ گرامی شیخ محمد بن شیخ قطب الدین رحمۃ اللہ علیہما ۔ لقب: شاہ اور شاہ مینا تھا ۔

تحصیلِ علم:
جب آپ پانچ برس کی عمر کو پہنچے تو آپ کو بغرض تعلیم مکتب بھیجا گیا معلم نے آپ کو پڑھانا شروع کیا اور کہا: الف ۔ آپ نے کہا: الف ۔ لیکن جب معلم نے کہا: کہو ب ۔ تو آپ نے کہا: یہی کافی ہے، اب " ب " کی ضرورت نہیں ۔

پھر الف کے اس درجہ معنیٰ بتائے کہ مکتب کے طلباء اور معلم سب ہی حیران رہ گئے ۔ دس برس کی عمر تک شیخ قوام الدین نے آپ کی تربیت فرمائی اور پھر شیخ صاحب کی حسبِ وصیت آپ نے ان کے خلیفہ قاضی فریدوں اور قاضی فریدوں کے بعد مولانا شیخ اعظم سے بِالترتیب شرح کافیہ اور کتاب وقایہ پڑھی ۔

بیعت و خلافت:
آپ رحمۃ اللہ علیہ حضرت شیخ سارنگ کے مرید و خلیفہ ہیں ۔

سیرت و خصائص:
حضرت شاہ مینا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ عالمِ باعمل متقی ، پرہیزگا، سخی، خوش دل ، وسیع الظرف، صبر و تحمل کے حامل شخص تھے ۔ بچپن ہی میں آپ کے عادات و اطوار سے آثار ولایت ظاہر تھے ۔

آپ لکھنو کے صاحب ولایت تھے، آپ ترک و تجرید میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے ۔ آپ دنیا اور دنیوی معاملات سے الگ رہتے تھے ۔ آپ ریاضت، مجاہدہ میں حقیقی خوشی پاتے تھے ۔ آپ رات کو دیوار پر بیٹھ کر عبادت میں مشغول رہتے تھے، اگر نیند آئے تو دیوار سے نیچے گر پڑیں، آنکھ کھل جائے اور عبادت میں مشغول ہوں ۔ اور اگر زمین پر بیٹھ کر عبادت کرتے تو اپنے چاروں طرف کانٹے رکھ لیتے تاکہ اگر نیند کے غلبہ سے گر پڑیں تو کانٹوں پر گریں اور بھر ہوشیار ہو جائیں ۔

تاریخِ وصال:
چھ ماہ علیل رہنے کے بعد 23 صفر 884ھ کو آپ نے وصال فرمایا ۔ آپ کا مزار پر انوار لکھنؤ میں مرجع خلائق ہے ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ اولیائے پاک وہند

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-makhdoom-sheikh-muhammad-meena-lakhnavi
3
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
یمین الدولہ سلطان محمود غزنوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

اسمِ گرامی:
آپ کا اسمِ گرامی محمود بن سبکتگین رحمۃ اللہ علیہما ۔ کنیت: ابو القاسم تھی ۔ آپ محمود غزنوی کے نام سے مشہور ہوئے ۔

تاریخِ ولادت:
سلطان محمود غزنوی رحمۃ اللہ علیہ کی 361 ھ / بمطابق نومبر 971ء میں ولادت ہوئی ۔

بیعت:
سلطان محمود غزنوی رحمۃ اللہ علیہ نے ابو الحسن خرقانی رحمۃ اللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت کی ۔

سیرت و خصائص:
یمین الدولہ، امین الملت، فاتحِ ہند سلطان محمود غزنوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بہت رحیم و کریم اور عادل حاکم تھے ۔ 997ء سے اپنے انتقال تک سلطنت غزنویہ کا حکمران تھے ۔ سلطان محمود غزنوی بچپن سے ہی بڑے نڈر اور بہادر تھے ۔ وہ اپنے والد ماجد کے ساتھ کئی لڑائیوں میں حصہ لے چکے تھے ۔ بادشاہ ہونے کے بعد انہوں نے سلطنت کو بڑی وسعت دی ۔ وہ کامیاب سپہ سالار اور فاتح بھی تھا ۔ شمال میں انہوں نے " خوارزم " اور " بخارا " پر قبضہ کر لیا اور " سمرقند " کے علاقے کے چھوٹے چھوٹے حکمرانوں نے اس کی اطاعت قبول کر لی ۔ جنوب میں انہوں نے " رے " " اصفہان " اور " ہمدان " فتح کر لئے جو بنی بویہ کے قبضے میں تھے ۔ مشرق میں انہوں نے قریب قریب وہ تمام علاقہ اپنی سلطنت میں شامل کر لیا جو اب پاکستان کہلاتا ہے ۔ محمود عدل و انصاف اور علم و ادب کی سر پرستی کے باعث بھی مشہور ہے ۔ اس کے دور کی مشہور شخصیات میں فردوسی اور البیرونیکسی تعارف کے محتاج نہیں ۔ انہوں نے غزنی شہر کو دنیا کے دولت مند ترین شہروں میں تبدیل کردیا اور اس کی وسیع سلطنت میں موجودہ مکمل افغانستان، ایران اور پاکستان کے کئی حصے اور شمال مغربی بھارت شامل تھا ۔ آپ کے عظیم حملوں میں سے ایک حملہ سومنات کے مندر پر تھا، کئی روز ہو چکے تھے مگر مندر کی چڑھائی پر کامیابی حاصل نہیں ہو رہی تھی آپ رحمۃ اللہ علیہ نے اللہ تعالی کی بارگاہ میں اپنے پیر و مرشد کا خرقہ کا وسیلہ پیش کیا، وسیلہ پیش کرنا ہی تھا کہ اگلے دن سومنات کا مندر فتح ہو گیا ۔ سلطان محمود غزنوی نے لشکر کشی کرکے نہ صرف اس مندر کو تباہ کیا بلکہ سومنات کے بت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دئے ۔ وہ تاریخ اسلامیہ کے پہلا حکمران تھے جنہوں نے سلطان کا لقب اختیار کیا ۔ وہ پہلے مسلمان حکمران تھے جنہوں نے ہندوستان پر 17 حملے کئے اور ہر حملے میں فتح حاصل کی ۔ اس عظیم مجاہد کے گھوڑوں کی ٹاپوں سے ہندوستان کے بت کدے لرز اٹھتے تھے ۔

تاریخِ وصال:
سلطان محمود غزنوی رحمۃ اللہ علیہ کا انتقال 23 صفر المظفر 421ھ کو ہوا ۔ آپ کا مزار افغانستان کے شہر غزنی میں ہے ۔

ماخذ و مراجع: سلطنتِ غزنویہ

وصال:
انتقال 30 اپریل 1030ء

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sultan-mehmood-ghaznavi
3👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
22-02-1445 ᴴ | 09-09-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
23-02-1445 ᴴ | 10-09-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
23-02-1445 ᴴ | 10-09-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
23-02-1445 ᴴ | 10-09-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1