🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
حضرت شیخ عفیف الدین سلمان تلمسانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

وقت کے امام اور زمانہ کے شیخ تھے کلام آہستہ کرتے مگر سخن بلند ہوتا شیخ الاسلام عبداللہ انصاری کی کتاب منازل السایٔرین کی آپ نے شرح لکھی تھی جو بڑی مقبول ہوئی ـ

وصال:
۶۹۰ھ میں وفات پائی ۔

چوں عفیف الدّین از دنیائے دوں
سال وصلش خاص گو مخدوم خواں
۶۹۰ھ

یافت از فضل خدا در خلد جا
ہم عفیف دین کامل راھنما
۶۹۰ھ

( خزینۃ الاصفیاء )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-afeefuddin-salman-tilmisani
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت مولانا مفتی داؤد بگھیو رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

مولانا مفتی محمد داؤد بن محمد احسان بگھیو گوٹھ دو دو بگھیو ( نزد شاہ پور جھانیہ ضلع نوابشاہ ) میں تقریبا ۱۳۲۹ھ بمطابق ۱۹۱۱ء کو تولد ہوئے۔

تعلیم و تربیت:
بچپن میں چروا ہے کاکام کرتے تھے ، چنانچہ آپ کے جانوروں کو بیماری لگی جس کے سبب آپ کا دل اس فانی کام سے اٹھ گیا اور دل میں حصول علم کی تڑپ پیدا ہوئی ۔ گھر والوں کو اطلاع دئے بغیر مورد کے قریب گوٹھ ’’دو نگھن ‘‘ میں پڑھنے لگے ۔مولانا محمد قاسم صاحب، مولانا محمد داوٗ د کھوکھر ( متوفی ۲۳، صفر المظفر ۱۳۶۰ھ) دولت پور والے اور اپنے برادر بزرگ مولانا محمد صالح بگھیو کے پاس بھی تعلیم حاصل کی۔

اس کے بعد مدرسہ عین العلوم امینانی شریف ( ضلع دادو) میں حضرت مولانا سید امیر محمد شاہ حسینی کے پاس مزید علم حاصل کیا۔ اس کے بعد سندھ کے نامور محقق ادیب و عالم علامہ مخدوم امیر احمد عباسی کی خدمت میں رہ کر استفادہ کیا اور جلد ہی مدرسہ عین العلوم واپس لوٹے وہیں دروس نظامی میں تکمیل کر کے فارغ التحصیل ہوئے۔

درس و تدریس:
مفتی محمد داؤد نے فارغ التحصیل ہونے کے بعد درگاہ خنیاری شریف ( نوابشاہ ) میں ایک سال درس دیا۔ اس کے بعد گوٹ صوبھوڈاہری ( تحصیل دولت پور) میں دس سال درس دیا۔ اس کے بعد گوٹھ حاجی غلام حیدرڈاہری میں مدرسہ قائم کیا اور گیارہ برس تک پڑھایا۔ آپ کے ہمراہ مولانا محمد تونیہ اکتڑائی اور مولانا تاج محمد بگھیو بھی اس درسگاہ میں پڑھاتے رہے۔ اس کے بعد اپنا آباد کردہ ’’گوٹھ مولوی محمد داؤد بگھیو ‘‘ ( بھان پوتو) میں ’’مدرسہ عربیہ داؤد یہ ‘‘ قائم کیا۔ بقیہ زندگی اس درسگاہ میں درس و تدریس ، فتاویٰ نویسی ووعظ و نصیحت میں گذاری ۔

بیعت:
مولانا مفتی محمد داؤد بگھیو پہلے درگاہ خنیاری شریف کے سجادہ نشین سے سلسلہ نقشبندیہ میں بیعت ہوئے۔ اس کے بعد حضرت علامہ الحاج مفتی خواجہ محمد قاسم مشوری قدس سرہ الاقدس بانی درگاہ عالیہ مشوری شریف کے بافیض مرید و خلیفہ حضرت حافظ علی مراد مست زرداری مورو( وفات ۱۴، شوال ۱۳۸۴ھ ) کے دست اقدس پر سلسلہ عالیہ قادریہ راشدیہ میں بیعت ہوئے ۔

اولاد:
مفتی محمدداؤد کو تین بیٹیاں اور ایک بیٹا مولانا محمد عرف نالے مٹھو بگھیو تولد ہوئے۔ خطیب اہل سنت مولانا نالے مٹھو بگھیو صاحب، جامعہ راشدیہ کے فاضل ، جا مع مسجد تاج مورو کے نامور خطیب اور مدرسہ داوٗ دیہ کے مہتمم ہیں ۔

وصال:
مولانا مفتی محمد داوٗ د نے ۲۳، صفر المظفر ۱۳۹۹ھ ؍ ۱۹۷۹ء کو انتقال کیا۔ مدرسہ عربیہ داؤدیہ ( گوٹھ مولوی داؤد نزد شاہ پور جہانیہ ، مورو) کی مسجد شریف کے احاطہ میں آپ کی مزار شریف ہے۔ جہاں ہر سال عرس و جلسہ منعقد ہوتا ہے ۔ آپ کے وصال پر منصور ویرا گی ( شاعر) نے سندھی میں قطعہ تاریخ وفات کہا۔ ( ماخوذ : سہ ماہی الھدیٰ شاہ پور چاکر)

( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-mufti-daud-bagyo
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
جرنیلِ اہلِ سنّت جناب محمد سلیم قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

(امیر شہدائے اہلِ سنت، بانی سنی تحریک)


اسمِ گرامی:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کا اسمِ گرامی سلیم قادری اور والدِ ماجد کا اسمِ گرامی ابراہیم رحمۃ اللہ علیہما تھا۔

ولادت:
جناب محمد سلیم قادری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1960 ء میں، کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں ہوئی۔

تحصیلِ علم:
آپ رحمۃ اللہ علیہ نے قرآن مجید کی تعلیم حاصل کی۔ میٹرک آل بلدیہ اسکول بلدیہ ٹائون سے پاس کیا۔

بیعت:
جناب سلیم قادری امیرِ دعوتِ اسلامی حضرت مولانا الیاس عطار قادری مدظلہٗ سے سلسلہ قادریہ میں بیعت ہوئے اس لئے قادری کہلائے۔

سیرت و خصائص:
جرنیلِ اہلسنّت جناب محمد سلیم قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا خاندان مذہبی تھا، بچپن سے صالحین اور علماء اہلسنت کی صحبت میسر تھی۔سلیم قادری کو قدرت نے بچپن سے مسلک کی تڑپ دے رکھی تھی ان میں دینی جذبہ تھا، وہ کچھ کرنا چاہتے تھے انہی دنوں 1980ء میں علماء اہلسنت کی سر پرستی میں تبلیغ قرآن و سنت کیلئے ایک تحریک چلی جو ایک تنظیم ’’دعوت اسلامی‘‘ کی صورت میں نمودار ہوئی۔ اس سے متاثر ہو کر امیرِ دعوتِ اسلامی سے بیعت ہوئے اور 9برس تک مبلغ بن کر کام کیا۔ خود عمامہ باندھا، سنتوں پر عمل کرنے لگے اور تبلیغ بھی کرتے رہے درس دیا، قافلہ کے ساتھ تبلیغی سفر کیا ، گلی کوچوں میں صلوٰۃ و سنت کی دعوت دی۔ بلدیہ ٹائون سعید آباد میں چند نوجوانوں کو جمع کرکے انجمن اشاعت اسلام کے نام سے تنظیم قائم کی۔ اس کے تحت لائبریری کا قیام عمل میں آیا، مدرسہ لگنے لگا اور دینی کتابوں کی مفت اشاعت ہونے لگی۔1980ء کو احباب کے اسرار پر اپنے اہل خانہ کے ہمراہ سعید آباد بلدیہ ٹائون میں رہائش اختیار کی۔ اس کے بعد جمعیت علمائے پاکستان میں کام کرنے لگے اور1988ء کے انتخابات میں جمعیت کی پارلیمانی کمیٹی نے محمد سلیم قادری کو بلدیہ ٹائون سے صوبائی الیکشن کے امیدوار کا ٹکٹ دیا۔

سنی تحریک کا قیام:
سلیم قادری کے دل میں مسلک کیلئے لگن تھی وہ کچھ کرنا چاہتے تھے ، یہی لگن انہیں مختلف پلیٹ فارم پر لے گئی لیکن انہیں تسلی نہ ہوئی، وہ جس اندا زمیں تحریک چلانا چاہتے تھے وہ ادارے موزوں نہیں تھے۔ اسلئے انہوں نے اہلسنت و جماعت کے غیور جوانوں کی جماعت تیار کی جو آگے چل کر ’’سنی تحریک‘‘ کے نام سے وجود میں آئی۔ اس پلیٹ فارم سے وہ اپنے انداز میں کام کرنے لگے اغراض و مقاصد کے تحت منزل کی جانب بڑھتے چلے گئے۔ حقوقِ اہلسنّت کے حصول کی جنگ عمر بھر لڑتے رہے کبھی بھی اپنے منشور سے پیچھے نہیں ہٹے۔ آپ سنی تحریک کے نہ صرف قائد تھے بلکہ پر جوش خطیب بھی تھے آپ کی تقریر روایتی تقریر نہیں تھی بلکہ ایک دردِ دل کا پیغام تھا۔ آپ کا خطاب اذھان کو جھنجوڑنے والا آلہ تھا۔ غافل لوگوں کو بیدار کرنے والا ولولہ تھا، ملک کے جس بھی علاقے میں گئے سنیت کا درد بانٹتے رہے، غیرت مند نوجوانوں کا قافلہ در قافلہ تیار کرتے رہے۔ انہیں متحد کیا، منظم کیا، ان مین سنی سوچ بانٹی ، بلکہ انہیں عزت سے جینے کا قرینہ سکھایا۔ نورانی رحمت مسجد بلدیہ ٹائون سیکٹر 19 ڈی میں 14 سال فی سبیل اللہ خطاب کیا۔

تاریخِ وصال:
23 صفر المظفر 1422ھ بمطابق 18 مئی 2001ء بروز جمعۃ المبارک قائد سنی تحریک محمد سلیم قادری نے نورانی رحمت مسجد بلدیہ ٹائون میں نماز جمعہ کی امامت کیلئے تیاری کی، غسل کیا، سفید لباس زیب تن کیا، سر پر عمامہ کا تاج سجایا، بعض رشتہ داروں کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ کر گھر سے نکلے ۔ ایک بج کر 35 منٹ سیکٹر19 ڈی پر ایک بڑا اسپیڈ بریکر آیا ، اب کیا ہوگیا کہ آنا فاناً چاروں طرف سے گولیاں چلائی گئیں سلیم قادری نے اپنے کمسن بچوں بلال رضا قادری اور اویس رضا قادری کو سیٹ کے نیچے پائوں میں جھکا دیا اور اپنے سینے کو آگے کردیا اور سلیم قادری گولیوں کی زد میں آکر شہید ہوگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ دوسرے روز بعد نماز مغرب عید گاہ قصابان (ایم اے جناح رود) کی شاہراہ پر نماز جنازہ ادا کی گئی۔ نماز جنازہ کی امامت تحریک کے سینئر رہنما افتخار بھٹی نے کروائی۔ نماز جنازہ میں سنی تحریک کے کارکنان، عوام اہل سنت کے علاوہ اہلِ سنت و جماعت کی مقتدر شخصیات نے شرکت کی۔ مثلاً علامہ شاہ احمد نورانی، علامہ سید شاہ تراب الحق قادری، پروفیسر شاہ فرید الحق، مولانا حسن حقانی، مفتی محمد جان نعیمی، مولانا قاری رضاء المصطفی اعظمی، سید عبداالقادر شاہ صاحب (دعوت اسلامی کے نگراں) وغیرہ کے علاوہ سنی ، سیاسی و رفاہی تنظیموں کے رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔ سلیم قادری اور ان کے رفقاء کو اہلِ سنت خدمت کمیٹی ہسپتال (سعید آباد بلدیہ ٹائون کراچی) کے صحن میں دفن کیا گیا۔ جہاں روضہ تعمیر ہوگا۔

ماخذ و مراجع:
انوارِ علمائے اہلسنت

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-muhammad-saleem-qadri-shaheed
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت شاہ مینا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

اسمِ گرامی:
آپ کا اسمِ گرامی شیخ محمد بن شیخ قطب الدین رحمۃ اللہ علیہما ۔ لقب: شاہ اور شاہ مینا تھا ۔

تحصیلِ علم:
جب آپ پانچ برس کی عمر کو پہنچے تو آپ کو بغرض تعلیم مکتب بھیجا گیا معلم نے آپ کو پڑھانا شروع کیا اور کہا: الف ۔ آپ نے کہا: الف ۔ لیکن جب معلم نے کہا: کہو ب ۔ تو آپ نے کہا: یہی کافی ہے، اب " ب " کی ضرورت نہیں ۔

پھر الف کے اس درجہ معنیٰ بتائے کہ مکتب کے طلباء اور معلم سب ہی حیران رہ گئے ۔ دس برس کی عمر تک شیخ قوام الدین نے آپ کی تربیت فرمائی اور پھر شیخ صاحب کی حسبِ وصیت آپ نے ان کے خلیفہ قاضی فریدوں اور قاضی فریدوں کے بعد مولانا شیخ اعظم سے بِالترتیب شرح کافیہ اور کتاب وقایہ پڑھی ۔

بیعت و خلافت:
آپ رحمۃ اللہ علیہ حضرت شیخ سارنگ کے مرید و خلیفہ ہیں ۔

سیرت و خصائص:
حضرت شاہ مینا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ عالمِ باعمل متقی ، پرہیزگا، سخی، خوش دل ، وسیع الظرف، صبر و تحمل کے حامل شخص تھے ۔ بچپن ہی میں آپ کے عادات و اطوار سے آثار ولایت ظاہر تھے ۔

آپ لکھنو کے صاحب ولایت تھے، آپ ترک و تجرید میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے ۔ آپ دنیا اور دنیوی معاملات سے الگ رہتے تھے ۔ آپ ریاضت، مجاہدہ میں حقیقی خوشی پاتے تھے ۔ آپ رات کو دیوار پر بیٹھ کر عبادت میں مشغول رہتے تھے، اگر نیند آئے تو دیوار سے نیچے گر پڑیں، آنکھ کھل جائے اور عبادت میں مشغول ہوں ۔ اور اگر زمین پر بیٹھ کر عبادت کرتے تو اپنے چاروں طرف کانٹے رکھ لیتے تاکہ اگر نیند کے غلبہ سے گر پڑیں تو کانٹوں پر گریں اور بھر ہوشیار ہو جائیں ۔

تاریخِ وصال:
چھ ماہ علیل رہنے کے بعد 23 صفر 884ھ کو آپ نے وصال فرمایا ۔ آپ کا مزار پر انوار لکھنؤ میں مرجع خلائق ہے ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ اولیائے پاک وہند

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-makhdoom-sheikh-muhammad-meena-lakhnavi
3
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
یمین الدولہ سلطان محمود غزنوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

اسمِ گرامی:
آپ کا اسمِ گرامی محمود بن سبکتگین رحمۃ اللہ علیہما ۔ کنیت: ابو القاسم تھی ۔ آپ محمود غزنوی کے نام سے مشہور ہوئے ۔

تاریخِ ولادت:
سلطان محمود غزنوی رحمۃ اللہ علیہ کی 361 ھ / بمطابق نومبر 971ء میں ولادت ہوئی ۔

بیعت:
سلطان محمود غزنوی رحمۃ اللہ علیہ نے ابو الحسن خرقانی رحمۃ اللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت کی ۔

سیرت و خصائص:
یمین الدولہ، امین الملت، فاتحِ ہند سلطان محمود غزنوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بہت رحیم و کریم اور عادل حاکم تھے ۔ 997ء سے اپنے انتقال تک سلطنت غزنویہ کا حکمران تھے ۔ سلطان محمود غزنوی بچپن سے ہی بڑے نڈر اور بہادر تھے ۔ وہ اپنے والد ماجد کے ساتھ کئی لڑائیوں میں حصہ لے چکے تھے ۔ بادشاہ ہونے کے بعد انہوں نے سلطنت کو بڑی وسعت دی ۔ وہ کامیاب سپہ سالار اور فاتح بھی تھا ۔ شمال میں انہوں نے " خوارزم " اور " بخارا " پر قبضہ کر لیا اور " سمرقند " کے علاقے کے چھوٹے چھوٹے حکمرانوں نے اس کی اطاعت قبول کر لی ۔ جنوب میں انہوں نے " رے " " اصفہان " اور " ہمدان " فتح کر لئے جو بنی بویہ کے قبضے میں تھے ۔ مشرق میں انہوں نے قریب قریب وہ تمام علاقہ اپنی سلطنت میں شامل کر لیا جو اب پاکستان کہلاتا ہے ۔ محمود عدل و انصاف اور علم و ادب کی سر پرستی کے باعث بھی مشہور ہے ۔ اس کے دور کی مشہور شخصیات میں فردوسی اور البیرونیکسی تعارف کے محتاج نہیں ۔ انہوں نے غزنی شہر کو دنیا کے دولت مند ترین شہروں میں تبدیل کردیا اور اس کی وسیع سلطنت میں موجودہ مکمل افغانستان، ایران اور پاکستان کے کئی حصے اور شمال مغربی بھارت شامل تھا ۔ آپ کے عظیم حملوں میں سے ایک حملہ سومنات کے مندر پر تھا، کئی روز ہو چکے تھے مگر مندر کی چڑھائی پر کامیابی حاصل نہیں ہو رہی تھی آپ رحمۃ اللہ علیہ نے اللہ تعالی کی بارگاہ میں اپنے پیر و مرشد کا خرقہ کا وسیلہ پیش کیا، وسیلہ پیش کرنا ہی تھا کہ اگلے دن سومنات کا مندر فتح ہو گیا ۔ سلطان محمود غزنوی نے لشکر کشی کرکے نہ صرف اس مندر کو تباہ کیا بلکہ سومنات کے بت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دئے ۔ وہ تاریخ اسلامیہ کے پہلا حکمران تھے جنہوں نے سلطان کا لقب اختیار کیا ۔ وہ پہلے مسلمان حکمران تھے جنہوں نے ہندوستان پر 17 حملے کئے اور ہر حملے میں فتح حاصل کی ۔ اس عظیم مجاہد کے گھوڑوں کی ٹاپوں سے ہندوستان کے بت کدے لرز اٹھتے تھے ۔

تاریخِ وصال:
سلطان محمود غزنوی رحمۃ اللہ علیہ کا انتقال 23 صفر المظفر 421ھ کو ہوا ۔ آپ کا مزار افغانستان کے شہر غزنی میں ہے ۔

ماخذ و مراجع: سلطنتِ غزنویہ

وصال:
انتقال 30 اپریل 1030ء

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sultan-mehmood-ghaznavi
3👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
22-02-1445 ᴴ | 09-09-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
23-02-1445 ᴴ | 10-09-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2