🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت ابو عبد اللہ خاقان صوفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

آپ بغداد کے کبار مشائخ میں سے تھے۔ بڑے صاحبِ کرامات اور صاحب مقامات جلیلہ تھے۔ ابن قصاب رازی﷫ فرماتے ہیں کہ میرا والد بغداد کے بڑے بازار میں دکانداری کرتے تھے۔ میں اگرچہ نو عمر تھا تاہم بعض اوقات دکان پر بیٹھا کرتا تھا۔ ایک دن میں دکان پر بیٹھا تھا کہ ایک شخص فقیرانہ لباس میں بازار سے گزرا، میں اس کے پیچھے گیا اور نہایت ادب سے سلام کیا۔ میرے پاس ایک دینار تھا، پیش کیا اس نے دینار لیا اور اپنی راہ لی میرے دل میں خیال آیا کہ میں نے دینار خواہ مخواہ ضائع کیا میں اسی خیال میں اس کے پیچھے پیچھے چلتا رہا وہ مسجد شویزیہ میں داخل ہونے لگا دروازے پر تین اور فقیر بیٹھے تھے۔ اس نے وہ دینار انہیں دے دیا اور خود نماز میں مشغول ہوگیا ان تینوں میں سے ایک نے دینار لیا اور بازار کی طرف چلا گیا۔ اب میں اس فقیر کے پیچھے پیچھے ہو لیا۔ اس نے اس دینار سے تینوں کے لیے کھانا خریدا اور واپس آکر سامنے رکھ کر کھانے لگے لیکن ابھی تک وہ شخص نماز میں ہی مشغول تھا وہ کھانے سے فارغ ہوئے تو وہ بھی نماز سے فارغ ہوگیا۔ اس نے انہیں کہا تمہیں معلوم ہے میں تمہارے کھانے میں کیوں شریک نہیں ہوا تھا۔ دراصل یہ دینار مجھے ایک بچے نے دیا تھا میں نماز کے دوران اس بچے کے لیے دعا مانگ رہا تھا اے اللہ اس بچے کو غلامی سے محفوظ رکھنا اب میری دعا قبول ہوئی ہے تو میں آیا ہوں، اس دن سے تمام دنیا کی دولت میری نظروں میں بے وقعت ہوگئی۔ یہ اس بزرگ کی دعا کا نتیجہ ہے یہ دعا کرنے والے بزرگ شیخ ابو عبداللہ خاقانی تھے ۔

وصال:
آپ کی وفات ۲۷۹ھ میں ہوئی ۔

شیخ عبداللہ خاقانی ولی
شد وصالش اہل دل قطب زماں
۲۷۹

رفت از دنیا چو در خلد بریں
ہم بخواں ہادی حق مطولب دین
۲۷۹

( خزینۃ الاصفیاء )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abu-abdullah-khaqan-sufi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت ابو القاسم علی گرگانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و کنیت:
آپ کا اسم مبارک علی بن عبداللہ اور کنیت ابوالقاسم ہے۔ آپ کو فیض باطنی شیخ ابوالحسن خرقانی سے اور تین واسطہ سے سید الطائفہ جنید بغدادی سے ہے۔ اپنے وقت میں بے نظیر و بے بدل اور مرجع کل تھے اور مریدوں کے واقعہ کے کشف میں یدِ طولیٰ رکھتے تھے۔

کرامات:
۱۔ حضرت قطب دوراں داتا گنج بخش ہجویری لاہوری فرماتے ہیں! کہ مجھے ایک واقعہ پیش آیا جس کے حل کا طریقہ دشوار ہوا۔ میں شیخ ابوالقاسم کرگانی[۱] کی زیارت کے ارادے سےطوس میں پہنچا اور آپ کو مسجد میں اپنے حجرے کے اندر تنہا پایا۔ آپ اس وقت بعینہ میرے واقعہ کو ایک ستون سے ارشاد فرمارہے تھے۔ میں نے عرض کیا اے شیخ! آپ گفتگو کس سے کر رہے ہیں؟ فرمایا: اے لڑکے! اللہ تعالیٰ نے اس وقت اس ستون کو میرے ساتھ گویا کر دیا کہ اس نے مجھ سے سوال کیا جس کا میں جواب دے رہا ہوں۔

[۱۔ کرگان بضم کاف و تشدید رائے مہملہ مفتوح و کاف ذار سی دیہات طوس میں سے ایک گاؤں کا نام ہے۔]

کشف کی کیفیت:
ایک روز شیخ ابو سعید اور شیخ ابو القاسم طوس میں ایک تخت پر بیٹھے ہوئے تھے اور درویشوں کی ایک جماعت ان کے آگے کھڑی تھی۔ ایک درویش کے دل میں آیا کہ ان بزرگوں کا مرتبہ کیا ہے۔ شیخ ابوسعید ﷫نے اس درویش کی طرف متوجہ ہوکر کہا کہ جو شخص دو بادشاہوں کو ایک وقت میں ایک جگہ پر ایک تخت پر دیکھنا چاہے اسے کہہ دو کہ آکر دیکھ لے۔ یہ سن کر وہ درویش دونوں کی طرف دیکھنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھ کے آگے سے حجاب اٹھادیا۔ پس شیخ کے قول کی صداقت اس کے دل پر منکشف ہوگئی۔ اور اس نے ان کی بزرگی کو دیکھ لیا۔ پھر اس کے دل میں خیال آیا کہ کیا آج روئے زمین پر خدا تعالیٰ کا کوئی بندہ ایسا بھی ہے جو ان دونوں سے بڑا بزرگ ہو۔ شیخ ابوسعید ﷫نے اس درویش کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا کہ ایک چھوٹا سا ملک ہوتا ہے جس میں ہر روز ابوسعید و ابوالقاسم جیسے ستر ہزار جاتے ہیں اور ستر ہزار آتے ہیں۔

وصال مبارک:
سفینۃ الاولیاء میں آپ کا سنہ وفات (۲۳ صفر) ۴۵۰ھ لکھا ہے۔

ارشاداتِ عالیہ:
۱۔ علی بن عثمان یعنی حضرت داتا گنج بخش لاہوری قدس سرہ کا بیان ہے کہ میں نے شیخ المشائخ ابوالقاسم کرگانی ﷫سے طوس میں پوچھا کہ درویش کے لیے کم سے کم کون سی چیز ہونی چاہیے تاکہ فقر کے نام کے شایا ں ہوں، آپ نے فرمایا کہ تین چیزیں ہونی چاہییں۔ تین سے کم نہ چاہیے۔ ایک یہ کہ گدڑی پر پیوند درست لگانا جانتا ہو۔ دوسرے یہ کہ بات درست سننا جانتا ہو۔ تیسرے یہ کہ زمین پر پاؤؤں درست مارنا جانتا ہو۔ جب شیخ نے یہ فرمایا درویشوں کا ایک گروہ میرے ساتھ حاضر تھا ہم جب اپنے مکان پر واپس آئے میں نے کہا آؤ ہم میں سے ہر ایک ارشاد شیخ کی نسبت اپنا اپنا خیال ظاہر کرے۔ چنانچہ ہر ایک نے اظہار خیال کیا جب میری باری آئی تو میں نے کہا کہ پیوند درست وہ ہوتا ہے جو بنا بر احتیاج و ضرورت ہو نہ کہ زینت کے لیے۔ جب بنا بر ضرورت پیوند لگایا جائے تو وہ خواہ درست نہ ہو۔ مگر راست و موجب حصول مقصد ہوگا۔ بات درست وہ ہوتی ہے جو درویش حال میں سنے نہ کہ امیدو آرزو میں۔ اور اس میں حق و جد کے ساتھ تصرف کرے نہ کہ بذل کے ساتھ۔ اور پاؤں درست وہ ہوتا ہے جو وجد سے زمین پر مارے نہ کہ لہو سے۔ کسی نے یہ توجیہ حضرت سید ابوالقاسم سے بیان کردی۔ آپ نے سن کر فرمایا علی نے درست کہا۔ اللہ تعالیٰ اس کا حال اچھا کردے۔

۲۔حضرت شیخ ابوالقاسم کرگانی قدس سرہ نے اپنی کتاب اصول الطریقہ و فصول الحقیقہ میں ذکر کیا ہے کہ کسی کام میں جو گناہ نہ ہو بھائیوں کی موافقت کی فضیلت نفلی روزے سے کم نہیں ہے۔ اور روزے کے آداب میں سے ایک یہ ہے کہ روزہ دار کی نظر میں اپنے روزے کی قدر و مقدار نہ ہو۔ (انیس الطالبین ص۶۰)۔

۳۔خواجہ عبیداللہ احرار فرماتے تھے کہ شیخ ابوالقاسم کرگانی قدس سرہ کا ارشاد ہے کہ تو ایسے شخص کی صحبت میں بیٹھ کر تو سراسروہ ہوجائے یا وہ سراسر تو ہو جائے یا دونوں حق سبحانہ میں گم ہوجائیں کہ نہ تو رہے نہ وہ۔ (رشحات، ص۶۰) ـ

(کشف المحجوب ۔ نفحات الانس)
( مشائخِ نقشبندیہ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abul-qasim-ali-gurgani
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت ابو العباس احمد بن محمد الصنہاجی الاندلسی المعروف ابن العریف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

اسم گرامی:
آپ کا نام احمد بن محمد ہے ۔

علوم کا عالم اور قرات کے اقسام کے عارف تھےاور تمام روایات میں انتہا تک پہنچے ہوئے تھے۔بہت سے مرید و طالب ان کے پاس جمع ہوگئے تھے۔بادشاہ وقت کو ان کی طر ف سے دل میں خوف پیدا ہوا اور ان کو طلب کیا۔

وصال:
آپ راستہ میں فوت ہوگئے ۔ بعض کہتے ہیں کہ بادشاہ کے پاس پہنچنے سے پہلے اور بعض کہتے ہیں، پہنچنے کے بعد اور ان کی وفات ۵۳۶ھ میں ہوئی ۔

صاحب فتوحات اپنے شیخ ابو عبد اللہ غزالی سے نقل کرتے ہیں کہ وہ یہ کہتے تھے ۔ میں ایک دن اپنے شیخ ابن عریف کے پاس سے باہر آیا۔جنگل می سیر کرتا تھا۔جب درخت یا گھاس پر میں پہنچتا تھا ۔ وہ کہتا تھا، مجھ کو پکڑ کر میں فلاں بیماری کے لیے مفید ہوں اور فلاں ضرر کو دفع کرتا ہوں۔ مجھ کو اس حال سے حیرانی پیدا ہوئی ۔ اپنے شیخ کے پاس واپس گیا اور یہ قصہ ان سے بیان کیا ۔ شیخ نے کہا، ہم نے تم کی اس لیے تو تربیت تو نہ کی تھی ۔

این کان منک الغار والنا فع حین قالت لک الاشجار انھا نا فعۃ وضارۃ فقال یاسیدی التوبۃ یعنی تم سے نفع و ضر کہاں ہے ۔جب تجھ سے درختوں نے کہا کہ وہ نافع وضر رساں ہیں ۔

تب اس نے کہا، میرے سردار میری توبہ ہے ۔ شیخ نے کہا، خدائے تعالی نے تجھے آزمایا ہے ۔ ورنہ میں نے تجھے خدا کا راستہ دکھایا تھا، نہ اس کے غیر کا ۔ اب تیری سچی توبہ کی علامت یہ ہے کہ اس جگہ پر پھر جائے اور وہ درخت اور گھاس تجھ سے کوئی بات نہ کریں ۔

ابو عبد اللہ اس جگہ پر پھر گئے تو ان باتوں میں سے کچھ نہ سنا ۔ خدائے تعالی کے شکر کا سجدہ کیا اور شیخ کی طرف لوٹا اور اس کو بتایا۔شیخ نے کہا، الحمد للہ الذی اختارک لنفسہ ولم بد فعک الی کون مثلک من اکوانہ یعنی اس خدا کی تعریف ہے کہ جس نے تجھے اپنے لیے پسند کرلیااور نہ دفع کیا۔تجھ جیسے کو اپنے اور مخلوق کی طرف ۔

صاحب فتوحات یہ بھی لکھتے ہیں:
کنت یوما عند شیخنا ابوالعباس العریفی باسبیلنا جا لساو اردنا اوارہ احدا عطاء معروف فقال شخص من ال جماعۃ للذی یرید ان یتصدق الا قربون اولی بالمعروف فقال الشیخ من فورہ متصلا بکلام الفضائل الی اللہ فیما یردھا علی الکبد واللہ ما سمعتھا فی تلک الحالۃ الا من اللہ تعالی حتی قیل لی انھا کذا نزلت فی القران مما تحققت بھا و اشر بھا قلبی وکذا جمیع من حضر فلا ینبغی ان یاکل نعم اللہ الا اھل اللہ ولھم خلقت خلقت ویا کلھا غیر ھا کم التبعیتہ فھم المقصودون بالنعم ـ

یعنی میں ایک دن اپنے شیخ ابو العباس عریفی کے پاس اشبلیہ میں بیٹھا ہوا تھا ۔ ہم نے ارادہ کیا یا کسی نے ارادہ کیا کچھ عطیہ کا یعنی صدقہ وغیرہ کا۔تب جماعت میں سے ایک شخص نے صدقہ دینے والے سے کہاکہ قریبی لوگ زیادہ مستحق صدقہ دینے کے ہیں۔پھر شیخ نے فوراً قائل کے کلام کے ساتھ ملا کر کہا،یعنی مراد یہ ہے کہ خد ا سے جو زیادہ قریب ہوں ۔پس اس کلمہ کی کیا ہی ٹھنڈک جگر پر پہنچی ۔واللہ میں نے اس حالت میں اس کو سنا،مگر اللہ تعالی سے حتی کہ مجھ سے کہا گیا کہ قرآن میں ایسا نازل ہوا ہے۔جس کو میں نے اچھی طرح جان لیا اور میرے دل نے اس کو پی لیا۔ایسا ہی تمام حاضرین سمجھ گئے۔اب خدا کی نعمتوں کے لائق صرف اہل اللہ ہیں ۔ انہیں کے لیے پیدا کی گئی ہیں اور باقی لوگ ان کے تابع ہو کر کھاتے ہیں ۔ کیونکہ نعمتوں سے وہی لوگ مقصود ہیں ۔ آپ رحمتہ اللہ ۵۳۶ ہجری میں فوت ہوئے ۔

( نفحاتُ الاُنس )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abul-abbas-ahmad-bin-muhammad-ibn-al-areef
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت شیخ عفیف الدین سلمان تلمسانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

وقت کے امام اور زمانہ کے شیخ تھے کلام آہستہ کرتے مگر سخن بلند ہوتا شیخ الاسلام عبداللہ انصاری کی کتاب منازل السایٔرین کی آپ نے شرح لکھی تھی جو بڑی مقبول ہوئی ـ

وصال:
۶۹۰ھ میں وفات پائی ۔

چوں عفیف الدّین از دنیائے دوں
سال وصلش خاص گو مخدوم خواں
۶۹۰ھ

یافت از فضل خدا در خلد جا
ہم عفیف دین کامل راھنما
۶۹۰ھ

( خزینۃ الاصفیاء )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-afeefuddin-salman-tilmisani
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت مولانا مفتی داؤد بگھیو رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

مولانا مفتی محمد داؤد بن محمد احسان بگھیو گوٹھ دو دو بگھیو ( نزد شاہ پور جھانیہ ضلع نوابشاہ ) میں تقریبا ۱۳۲۹ھ بمطابق ۱۹۱۱ء کو تولد ہوئے۔

تعلیم و تربیت:
بچپن میں چروا ہے کاکام کرتے تھے ، چنانچہ آپ کے جانوروں کو بیماری لگی جس کے سبب آپ کا دل اس فانی کام سے اٹھ گیا اور دل میں حصول علم کی تڑپ پیدا ہوئی ۔ گھر والوں کو اطلاع دئے بغیر مورد کے قریب گوٹھ ’’دو نگھن ‘‘ میں پڑھنے لگے ۔مولانا محمد قاسم صاحب، مولانا محمد داوٗ د کھوکھر ( متوفی ۲۳، صفر المظفر ۱۳۶۰ھ) دولت پور والے اور اپنے برادر بزرگ مولانا محمد صالح بگھیو کے پاس بھی تعلیم حاصل کی۔

اس کے بعد مدرسہ عین العلوم امینانی شریف ( ضلع دادو) میں حضرت مولانا سید امیر محمد شاہ حسینی کے پاس مزید علم حاصل کیا۔ اس کے بعد سندھ کے نامور محقق ادیب و عالم علامہ مخدوم امیر احمد عباسی کی خدمت میں رہ کر استفادہ کیا اور جلد ہی مدرسہ عین العلوم واپس لوٹے وہیں دروس نظامی میں تکمیل کر کے فارغ التحصیل ہوئے۔

درس و تدریس:
مفتی محمد داؤد نے فارغ التحصیل ہونے کے بعد درگاہ خنیاری شریف ( نوابشاہ ) میں ایک سال درس دیا۔ اس کے بعد گوٹ صوبھوڈاہری ( تحصیل دولت پور) میں دس سال درس دیا۔ اس کے بعد گوٹھ حاجی غلام حیدرڈاہری میں مدرسہ قائم کیا اور گیارہ برس تک پڑھایا۔ آپ کے ہمراہ مولانا محمد تونیہ اکتڑائی اور مولانا تاج محمد بگھیو بھی اس درسگاہ میں پڑھاتے رہے۔ اس کے بعد اپنا آباد کردہ ’’گوٹھ مولوی محمد داؤد بگھیو ‘‘ ( بھان پوتو) میں ’’مدرسہ عربیہ داؤد یہ ‘‘ قائم کیا۔ بقیہ زندگی اس درسگاہ میں درس و تدریس ، فتاویٰ نویسی ووعظ و نصیحت میں گذاری ۔

بیعت:
مولانا مفتی محمد داؤد بگھیو پہلے درگاہ خنیاری شریف کے سجادہ نشین سے سلسلہ نقشبندیہ میں بیعت ہوئے۔ اس کے بعد حضرت علامہ الحاج مفتی خواجہ محمد قاسم مشوری قدس سرہ الاقدس بانی درگاہ عالیہ مشوری شریف کے بافیض مرید و خلیفہ حضرت حافظ علی مراد مست زرداری مورو( وفات ۱۴، شوال ۱۳۸۴ھ ) کے دست اقدس پر سلسلہ عالیہ قادریہ راشدیہ میں بیعت ہوئے ۔

اولاد:
مفتی محمدداؤد کو تین بیٹیاں اور ایک بیٹا مولانا محمد عرف نالے مٹھو بگھیو تولد ہوئے۔ خطیب اہل سنت مولانا نالے مٹھو بگھیو صاحب، جامعہ راشدیہ کے فاضل ، جا مع مسجد تاج مورو کے نامور خطیب اور مدرسہ داوٗ دیہ کے مہتمم ہیں ۔

وصال:
مولانا مفتی محمد داوٗ د نے ۲۳، صفر المظفر ۱۳۹۹ھ ؍ ۱۹۷۹ء کو انتقال کیا۔ مدرسہ عربیہ داؤدیہ ( گوٹھ مولوی داؤد نزد شاہ پور جہانیہ ، مورو) کی مسجد شریف کے احاطہ میں آپ کی مزار شریف ہے۔ جہاں ہر سال عرس و جلسہ منعقد ہوتا ہے ۔ آپ کے وصال پر منصور ویرا گی ( شاعر) نے سندھی میں قطعہ تاریخ وفات کہا۔ ( ماخوذ : سہ ماہی الھدیٰ شاہ پور چاکر)

( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-mufti-daud-bagyo
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
جرنیلِ اہلِ سنّت جناب محمد سلیم قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

(امیر شہدائے اہلِ سنت، بانی سنی تحریک)


اسمِ گرامی:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کا اسمِ گرامی سلیم قادری اور والدِ ماجد کا اسمِ گرامی ابراہیم رحمۃ اللہ علیہما تھا۔

ولادت:
جناب محمد سلیم قادری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1960 ء میں، کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں ہوئی۔

تحصیلِ علم:
آپ رحمۃ اللہ علیہ نے قرآن مجید کی تعلیم حاصل کی۔ میٹرک آل بلدیہ اسکول بلدیہ ٹائون سے پاس کیا۔

بیعت:
جناب سلیم قادری امیرِ دعوتِ اسلامی حضرت مولانا الیاس عطار قادری مدظلہٗ سے سلسلہ قادریہ میں بیعت ہوئے اس لئے قادری کہلائے۔

سیرت و خصائص:
جرنیلِ اہلسنّت جناب محمد سلیم قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا خاندان مذہبی تھا، بچپن سے صالحین اور علماء اہلسنت کی صحبت میسر تھی۔سلیم قادری کو قدرت نے بچپن سے مسلک کی تڑپ دے رکھی تھی ان میں دینی جذبہ تھا، وہ کچھ کرنا چاہتے تھے انہی دنوں 1980ء میں علماء اہلسنت کی سر پرستی میں تبلیغ قرآن و سنت کیلئے ایک تحریک چلی جو ایک تنظیم ’’دعوت اسلامی‘‘ کی صورت میں نمودار ہوئی۔ اس سے متاثر ہو کر امیرِ دعوتِ اسلامی سے بیعت ہوئے اور 9برس تک مبلغ بن کر کام کیا۔ خود عمامہ باندھا، سنتوں پر عمل کرنے لگے اور تبلیغ بھی کرتے رہے درس دیا، قافلہ کے ساتھ تبلیغی سفر کیا ، گلی کوچوں میں صلوٰۃ و سنت کی دعوت دی۔ بلدیہ ٹائون سعید آباد میں چند نوجوانوں کو جمع کرکے انجمن اشاعت اسلام کے نام سے تنظیم قائم کی۔ اس کے تحت لائبریری کا قیام عمل میں آیا، مدرسہ لگنے لگا اور دینی کتابوں کی مفت اشاعت ہونے لگی۔1980ء کو احباب کے اسرار پر اپنے اہل خانہ کے ہمراہ سعید آباد بلدیہ ٹائون میں رہائش اختیار کی۔ اس کے بعد جمعیت علمائے پاکستان میں کام کرنے لگے اور1988ء کے انتخابات میں جمعیت کی پارلیمانی کمیٹی نے محمد سلیم قادری کو بلدیہ ٹائون سے صوبائی الیکشن کے امیدوار کا ٹکٹ دیا۔

سنی تحریک کا قیام:
سلیم قادری کے دل میں مسلک کیلئے لگن تھی وہ کچھ کرنا چاہتے تھے ، یہی لگن انہیں مختلف پلیٹ فارم پر لے گئی لیکن انہیں تسلی نہ ہوئی، وہ جس اندا زمیں تحریک چلانا چاہتے تھے وہ ادارے موزوں نہیں تھے۔ اسلئے انہوں نے اہلسنت و جماعت کے غیور جوانوں کی جماعت تیار کی جو آگے چل کر ’’سنی تحریک‘‘ کے نام سے وجود میں آئی۔ اس پلیٹ فارم سے وہ اپنے انداز میں کام کرنے لگے اغراض و مقاصد کے تحت منزل کی جانب بڑھتے چلے گئے۔ حقوقِ اہلسنّت کے حصول کی جنگ عمر بھر لڑتے رہے کبھی بھی اپنے منشور سے پیچھے نہیں ہٹے۔ آپ سنی تحریک کے نہ صرف قائد تھے بلکہ پر جوش خطیب بھی تھے آپ کی تقریر روایتی تقریر نہیں تھی بلکہ ایک دردِ دل کا پیغام تھا۔ آپ کا خطاب اذھان کو جھنجوڑنے والا آلہ تھا۔ غافل لوگوں کو بیدار کرنے والا ولولہ تھا، ملک کے جس بھی علاقے میں گئے سنیت کا درد بانٹتے رہے، غیرت مند نوجوانوں کا قافلہ در قافلہ تیار کرتے رہے۔ انہیں متحد کیا، منظم کیا، ان مین سنی سوچ بانٹی ، بلکہ انہیں عزت سے جینے کا قرینہ سکھایا۔ نورانی رحمت مسجد بلدیہ ٹائون سیکٹر 19 ڈی میں 14 سال فی سبیل اللہ خطاب کیا۔

تاریخِ وصال:
23 صفر المظفر 1422ھ بمطابق 18 مئی 2001ء بروز جمعۃ المبارک قائد سنی تحریک محمد سلیم قادری نے نورانی رحمت مسجد بلدیہ ٹائون میں نماز جمعہ کی امامت کیلئے تیاری کی، غسل کیا، سفید لباس زیب تن کیا، سر پر عمامہ کا تاج سجایا، بعض رشتہ داروں کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ کر گھر سے نکلے ۔ ایک بج کر 35 منٹ سیکٹر19 ڈی پر ایک بڑا اسپیڈ بریکر آیا ، اب کیا ہوگیا کہ آنا فاناً چاروں طرف سے گولیاں چلائی گئیں سلیم قادری نے اپنے کمسن بچوں بلال رضا قادری اور اویس رضا قادری کو سیٹ کے نیچے پائوں میں جھکا دیا اور اپنے سینے کو آگے کردیا اور سلیم قادری گولیوں کی زد میں آکر شہید ہوگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ دوسرے روز بعد نماز مغرب عید گاہ قصابان (ایم اے جناح رود) کی شاہراہ پر نماز جنازہ ادا کی گئی۔ نماز جنازہ کی امامت تحریک کے سینئر رہنما افتخار بھٹی نے کروائی۔ نماز جنازہ میں سنی تحریک کے کارکنان، عوام اہل سنت کے علاوہ اہلِ سنت و جماعت کی مقتدر شخصیات نے شرکت کی۔ مثلاً علامہ شاہ احمد نورانی، علامہ سید شاہ تراب الحق قادری، پروفیسر شاہ فرید الحق، مولانا حسن حقانی، مفتی محمد جان نعیمی، مولانا قاری رضاء المصطفی اعظمی، سید عبداالقادر شاہ صاحب (دعوت اسلامی کے نگراں) وغیرہ کے علاوہ سنی ، سیاسی و رفاہی تنظیموں کے رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔ سلیم قادری اور ان کے رفقاء کو اہلِ سنت خدمت کمیٹی ہسپتال (سعید آباد بلدیہ ٹائون کراچی) کے صحن میں دفن کیا گیا۔ جہاں روضہ تعمیر ہوگا۔

ماخذ و مراجع:
انوارِ علمائے اہلسنت

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-muhammad-saleem-qadri-shaheed
2