🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت ابو عبد اللہ خاقان صوفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

آپ بغداد کے کبار مشائخ میں سے تھے۔ بڑے صاحبِ کرامات اور صاحب مقامات جلیلہ تھے۔ ابن قصاب رازی﷫ فرماتے ہیں کہ میرا والد بغداد کے بڑے بازار میں دکانداری کرتے تھے۔ میں اگرچہ نو عمر تھا تاہم بعض اوقات دکان پر بیٹھا کرتا تھا۔ ایک دن میں دکان پر بیٹھا تھا کہ ایک شخص فقیرانہ لباس میں بازار سے گزرا، میں اس کے پیچھے گیا اور نہایت ادب سے سلام کیا۔ میرے پاس ایک دینار تھا، پیش کیا اس نے دینار لیا اور اپنی راہ لی میرے دل میں خیال آیا کہ میں نے دینار خواہ مخواہ ضائع کیا میں اسی خیال میں اس کے پیچھے پیچھے چلتا رہا وہ مسجد شویزیہ میں داخل ہونے لگا دروازے پر تین اور فقیر بیٹھے تھے۔ اس نے وہ دینار انہیں دے دیا اور خود نماز میں مشغول ہوگیا ان تینوں میں سے ایک نے دینار لیا اور بازار کی طرف چلا گیا۔ اب میں اس فقیر کے پیچھے پیچھے ہو لیا۔ اس نے اس دینار سے تینوں کے لیے کھانا خریدا اور واپس آکر سامنے رکھ کر کھانے لگے لیکن ابھی تک وہ شخص نماز میں ہی مشغول تھا وہ کھانے سے فارغ ہوئے تو وہ بھی نماز سے فارغ ہوگیا۔ اس نے انہیں کہا تمہیں معلوم ہے میں تمہارے کھانے میں کیوں شریک نہیں ہوا تھا۔ دراصل یہ دینار مجھے ایک بچے نے دیا تھا میں نماز کے دوران اس بچے کے لیے دعا مانگ رہا تھا اے اللہ اس بچے کو غلامی سے محفوظ رکھنا اب میری دعا قبول ہوئی ہے تو میں آیا ہوں، اس دن سے تمام دنیا کی دولت میری نظروں میں بے وقعت ہوگئی۔ یہ اس بزرگ کی دعا کا نتیجہ ہے یہ دعا کرنے والے بزرگ شیخ ابو عبداللہ خاقانی تھے ۔

وصال:
آپ کی وفات ۲۷۹ھ میں ہوئی ۔

شیخ عبداللہ خاقانی ولی
شد وصالش اہل دل قطب زماں
۲۷۹

رفت از دنیا چو در خلد بریں
ہم بخواں ہادی حق مطولب دین
۲۷۹

( خزینۃ الاصفیاء )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abu-abdullah-khaqan-sufi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت ابو القاسم علی گرگانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و کنیت:
آپ کا اسم مبارک علی بن عبداللہ اور کنیت ابوالقاسم ہے۔ آپ کو فیض باطنی شیخ ابوالحسن خرقانی سے اور تین واسطہ سے سید الطائفہ جنید بغدادی سے ہے۔ اپنے وقت میں بے نظیر و بے بدل اور مرجع کل تھے اور مریدوں کے واقعہ کے کشف میں یدِ طولیٰ رکھتے تھے۔

کرامات:
۱۔ حضرت قطب دوراں داتا گنج بخش ہجویری لاہوری فرماتے ہیں! کہ مجھے ایک واقعہ پیش آیا جس کے حل کا طریقہ دشوار ہوا۔ میں شیخ ابوالقاسم کرگانی[۱] کی زیارت کے ارادے سےطوس میں پہنچا اور آپ کو مسجد میں اپنے حجرے کے اندر تنہا پایا۔ آپ اس وقت بعینہ میرے واقعہ کو ایک ستون سے ارشاد فرمارہے تھے۔ میں نے عرض کیا اے شیخ! آپ گفتگو کس سے کر رہے ہیں؟ فرمایا: اے لڑکے! اللہ تعالیٰ نے اس وقت اس ستون کو میرے ساتھ گویا کر دیا کہ اس نے مجھ سے سوال کیا جس کا میں جواب دے رہا ہوں۔

[۱۔ کرگان بضم کاف و تشدید رائے مہملہ مفتوح و کاف ذار سی دیہات طوس میں سے ایک گاؤں کا نام ہے۔]

کشف کی کیفیت:
ایک روز شیخ ابو سعید اور شیخ ابو القاسم طوس میں ایک تخت پر بیٹھے ہوئے تھے اور درویشوں کی ایک جماعت ان کے آگے کھڑی تھی۔ ایک درویش کے دل میں آیا کہ ان بزرگوں کا مرتبہ کیا ہے۔ شیخ ابوسعید ﷫نے اس درویش کی طرف متوجہ ہوکر کہا کہ جو شخص دو بادشاہوں کو ایک وقت میں ایک جگہ پر ایک تخت پر دیکھنا چاہے اسے کہہ دو کہ آکر دیکھ لے۔ یہ سن کر وہ درویش دونوں کی طرف دیکھنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھ کے آگے سے حجاب اٹھادیا۔ پس شیخ کے قول کی صداقت اس کے دل پر منکشف ہوگئی۔ اور اس نے ان کی بزرگی کو دیکھ لیا۔ پھر اس کے دل میں خیال آیا کہ کیا آج روئے زمین پر خدا تعالیٰ کا کوئی بندہ ایسا بھی ہے جو ان دونوں سے بڑا بزرگ ہو۔ شیخ ابوسعید ﷫نے اس درویش کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا کہ ایک چھوٹا سا ملک ہوتا ہے جس میں ہر روز ابوسعید و ابوالقاسم جیسے ستر ہزار جاتے ہیں اور ستر ہزار آتے ہیں۔

وصال مبارک:
سفینۃ الاولیاء میں آپ کا سنہ وفات (۲۳ صفر) ۴۵۰ھ لکھا ہے۔

ارشاداتِ عالیہ:
۱۔ علی بن عثمان یعنی حضرت داتا گنج بخش لاہوری قدس سرہ کا بیان ہے کہ میں نے شیخ المشائخ ابوالقاسم کرگانی ﷫سے طوس میں پوچھا کہ درویش کے لیے کم سے کم کون سی چیز ہونی چاہیے تاکہ فقر کے نام کے شایا ں ہوں، آپ نے فرمایا کہ تین چیزیں ہونی چاہییں۔ تین سے کم نہ چاہیے۔ ایک یہ کہ گدڑی پر پیوند درست لگانا جانتا ہو۔ دوسرے یہ کہ بات درست سننا جانتا ہو۔ تیسرے یہ کہ زمین پر پاؤؤں درست مارنا جانتا ہو۔ جب شیخ نے یہ فرمایا درویشوں کا ایک گروہ میرے ساتھ حاضر تھا ہم جب اپنے مکان پر واپس آئے میں نے کہا آؤ ہم میں سے ہر ایک ارشاد شیخ کی نسبت اپنا اپنا خیال ظاہر کرے۔ چنانچہ ہر ایک نے اظہار خیال کیا جب میری باری آئی تو میں نے کہا کہ پیوند درست وہ ہوتا ہے جو بنا بر احتیاج و ضرورت ہو نہ کہ زینت کے لیے۔ جب بنا بر ضرورت پیوند لگایا جائے تو وہ خواہ درست نہ ہو۔ مگر راست و موجب حصول مقصد ہوگا۔ بات درست وہ ہوتی ہے جو درویش حال میں سنے نہ کہ امیدو آرزو میں۔ اور اس میں حق و جد کے ساتھ تصرف کرے نہ کہ بذل کے ساتھ۔ اور پاؤں درست وہ ہوتا ہے جو وجد سے زمین پر مارے نہ کہ لہو سے۔ کسی نے یہ توجیہ حضرت سید ابوالقاسم سے بیان کردی۔ آپ نے سن کر فرمایا علی نے درست کہا۔ اللہ تعالیٰ اس کا حال اچھا کردے۔

۲۔حضرت شیخ ابوالقاسم کرگانی قدس سرہ نے اپنی کتاب اصول الطریقہ و فصول الحقیقہ میں ذکر کیا ہے کہ کسی کام میں جو گناہ نہ ہو بھائیوں کی موافقت کی فضیلت نفلی روزے سے کم نہیں ہے۔ اور روزے کے آداب میں سے ایک یہ ہے کہ روزہ دار کی نظر میں اپنے روزے کی قدر و مقدار نہ ہو۔ (انیس الطالبین ص۶۰)۔

۳۔خواجہ عبیداللہ احرار فرماتے تھے کہ شیخ ابوالقاسم کرگانی قدس سرہ کا ارشاد ہے کہ تو ایسے شخص کی صحبت میں بیٹھ کر تو سراسروہ ہوجائے یا وہ سراسر تو ہو جائے یا دونوں حق سبحانہ میں گم ہوجائیں کہ نہ تو رہے نہ وہ۔ (رشحات، ص۶۰) ـ

(کشف المحجوب ۔ نفحات الانس)
( مشائخِ نقشبندیہ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abul-qasim-ali-gurgani
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت ابو العباس احمد بن محمد الصنہاجی الاندلسی المعروف ابن العریف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

اسم گرامی:
آپ کا نام احمد بن محمد ہے ۔

علوم کا عالم اور قرات کے اقسام کے عارف تھےاور تمام روایات میں انتہا تک پہنچے ہوئے تھے۔بہت سے مرید و طالب ان کے پاس جمع ہوگئے تھے۔بادشاہ وقت کو ان کی طر ف سے دل میں خوف پیدا ہوا اور ان کو طلب کیا۔

وصال:
آپ راستہ میں فوت ہوگئے ۔ بعض کہتے ہیں کہ بادشاہ کے پاس پہنچنے سے پہلے اور بعض کہتے ہیں، پہنچنے کے بعد اور ان کی وفات ۵۳۶ھ میں ہوئی ۔

صاحب فتوحات اپنے شیخ ابو عبد اللہ غزالی سے نقل کرتے ہیں کہ وہ یہ کہتے تھے ۔ میں ایک دن اپنے شیخ ابن عریف کے پاس سے باہر آیا۔جنگل می سیر کرتا تھا۔جب درخت یا گھاس پر میں پہنچتا تھا ۔ وہ کہتا تھا، مجھ کو پکڑ کر میں فلاں بیماری کے لیے مفید ہوں اور فلاں ضرر کو دفع کرتا ہوں۔ مجھ کو اس حال سے حیرانی پیدا ہوئی ۔ اپنے شیخ کے پاس واپس گیا اور یہ قصہ ان سے بیان کیا ۔ شیخ نے کہا، ہم نے تم کی اس لیے تو تربیت تو نہ کی تھی ۔

این کان منک الغار والنا فع حین قالت لک الاشجار انھا نا فعۃ وضارۃ فقال یاسیدی التوبۃ یعنی تم سے نفع و ضر کہاں ہے ۔جب تجھ سے درختوں نے کہا کہ وہ نافع وضر رساں ہیں ۔

تب اس نے کہا، میرے سردار میری توبہ ہے ۔ شیخ نے کہا، خدائے تعالی نے تجھے آزمایا ہے ۔ ورنہ میں نے تجھے خدا کا راستہ دکھایا تھا، نہ اس کے غیر کا ۔ اب تیری سچی توبہ کی علامت یہ ہے کہ اس جگہ پر پھر جائے اور وہ درخت اور گھاس تجھ سے کوئی بات نہ کریں ۔

ابو عبد اللہ اس جگہ پر پھر گئے تو ان باتوں میں سے کچھ نہ سنا ۔ خدائے تعالی کے شکر کا سجدہ کیا اور شیخ کی طرف لوٹا اور اس کو بتایا۔شیخ نے کہا، الحمد للہ الذی اختارک لنفسہ ولم بد فعک الی کون مثلک من اکوانہ یعنی اس خدا کی تعریف ہے کہ جس نے تجھے اپنے لیے پسند کرلیااور نہ دفع کیا۔تجھ جیسے کو اپنے اور مخلوق کی طرف ۔

صاحب فتوحات یہ بھی لکھتے ہیں:
کنت یوما عند شیخنا ابوالعباس العریفی باسبیلنا جا لساو اردنا اوارہ احدا عطاء معروف فقال شخص من ال جماعۃ للذی یرید ان یتصدق الا قربون اولی بالمعروف فقال الشیخ من فورہ متصلا بکلام الفضائل الی اللہ فیما یردھا علی الکبد واللہ ما سمعتھا فی تلک الحالۃ الا من اللہ تعالی حتی قیل لی انھا کذا نزلت فی القران مما تحققت بھا و اشر بھا قلبی وکذا جمیع من حضر فلا ینبغی ان یاکل نعم اللہ الا اھل اللہ ولھم خلقت خلقت ویا کلھا غیر ھا کم التبعیتہ فھم المقصودون بالنعم ـ

یعنی میں ایک دن اپنے شیخ ابو العباس عریفی کے پاس اشبلیہ میں بیٹھا ہوا تھا ۔ ہم نے ارادہ کیا یا کسی نے ارادہ کیا کچھ عطیہ کا یعنی صدقہ وغیرہ کا۔تب جماعت میں سے ایک شخص نے صدقہ دینے والے سے کہاکہ قریبی لوگ زیادہ مستحق صدقہ دینے کے ہیں۔پھر شیخ نے فوراً قائل کے کلام کے ساتھ ملا کر کہا،یعنی مراد یہ ہے کہ خد ا سے جو زیادہ قریب ہوں ۔پس اس کلمہ کی کیا ہی ٹھنڈک جگر پر پہنچی ۔واللہ میں نے اس حالت میں اس کو سنا،مگر اللہ تعالی سے حتی کہ مجھ سے کہا گیا کہ قرآن میں ایسا نازل ہوا ہے۔جس کو میں نے اچھی طرح جان لیا اور میرے دل نے اس کو پی لیا۔ایسا ہی تمام حاضرین سمجھ گئے۔اب خدا کی نعمتوں کے لائق صرف اہل اللہ ہیں ۔ انہیں کے لیے پیدا کی گئی ہیں اور باقی لوگ ان کے تابع ہو کر کھاتے ہیں ۔ کیونکہ نعمتوں سے وہی لوگ مقصود ہیں ۔ آپ رحمتہ اللہ ۵۳۶ ہجری میں فوت ہوئے ۔

( نفحاتُ الاُنس )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abul-abbas-ahmad-bin-muhammad-ibn-al-areef
2