🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
18-02-1445 ᴴ | 05-09-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ بے شک ہمارے نبی آخری نبی ہیں ﷺ #ہمارے_نبی_آخری_نبی_ہیں_ﷺ ❶
بے شک ہمارے نبی آخری نبی ہیں ﷺ
#ہمارے_نبی_آخری_نبی_ہیں_ﷺ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
قادیانی کے ساتھ مل کر
کاروبار کرنا کیسا ہے ... ؟
قادیانیوں کی Products
مصنوعات خریدنے کا حکم
قادیانی کون ہے؟ Qadiyani
2👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
💯3
حضرت شیخ صلاح الدین درویش رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

آپ شیخ صدرالدین رحمۃ اللہ علیہ کے مرید اور خلیفہ تھے، بڑے بزرگ اور عالی مرتبت تھے، شیخ نصیر الدین محمود چراغ دہلوی کے معاصر اور ہمسایہ تھے، سلطان محمد تغلق بادشاہ کی طرف سے مشائخ کو جو تکالیف پہنچائی جاتی تھیں، میر سید شیخ نصیرالدین نے تو ان سب کو اپنے شیخ کی وصیت کے مطابق برداشت کیا، لیکن شیخ صلاح الدین درویش بادشاہ سے ہمیشہ ترش کلامی سے پیش آتے تھے شیخ صلاح الدین نے ملتان سے رحلت فرماکر دہلی کو اپنا وطن بنالیا تھا اور دہلی ہی میں انتقال فرمایا، نصیرالدین محمود چراغ دہلوی کے مزار کے قریب ہی آپ کا مزار ہے، 22؍صفرالمظفر کو آپ کا عرس ہوتا ہے، آپ کی مناجات ہے جس کو لوگ مناجات صلاح کہتے ہیں، اس میں آپ کہتے ہیں کہ اے اللہ عزوجل مجھے اس گھڑی اور وقت کی قسم جب کہ تو نے صلاح الدین درویش کو سفید ہاتھی کہا، اے اللہ عزوجل! مجھے قسم اس وقت اور گھڑی کی جب تو نے صلاح درویش کو امروہہ میں ایک بوہڑ کے درخت کے نیچے فرمایا کہ (کہ اللہ تجھ کو سلام کہتا ہے) اور اسی قسم کی مختلف باتیں اس مناجات میں ہیں۔

اللہ عزوجل والوں کے راز:

ایک نوجوان گھوڑے پر سوار کہیں جا رہا تھا، گھوڑا خوبصورت اور بہت تیز رفتار تھا، اچانک اس نوجوان نے گھوڑے کو زور سے کوڑا مارا جس کے زخم کا نشان گھوڑے کے سر پر نقش کر گیا، شیخ صلاح الدین یہ دیکھ کر اس نوجوان پر غضب ناک اور ناراض ہوئے اور اسے بہت سخت سست کہا (آپ کے غضب ناک ہونے اور نوجوان کو ڈانٹنے کا یہ اثر ہوا) کہ وہ گھوڑے سے گِر پڑا، لوگوں نے دیکھا کہ کوڑے کے زخم کا اثر شیخ صلاح الدین درویش کے جسم پر منقوش ہے۔

اخبار الاخیار

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-salahuddin-darvesh-chishti-soharwardi
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت شیخ عبداللہ قریشی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

آپ شیخ بہاؤالدین زکریا کی اولاد میں سے تھے جس زمانے میں آپ کے آباؤاجداد ملتان سے دہلی آئے تو سلطان بہلول نے اپنی دختر نیک اختر کی آپ سے شادی کردی آپ ایک مجذوب بزرگ تھے، ظاہری شان و شوکت کے بھی مالک تھے، سلوک کے ابتدائی دور میں آپ نے بے انتہا ریاضت اور انسانی طاقت سے وراء الوریٰ مجاہدے کیے تھے، آپ فرمایا کرتے تھے کہ میں سلوک کے ابتدائی مراحل میں روزانہ کم از کم ایک ہزار رکعت پڑھا کرتا تھا اور تین قرآن ختم کرتا تھا اور ایک ساعت اللہ کی یاد اور اس کے ذکر سے جو فوائد حاصل ہوتے وہ تمام عبادتوں سے زیادہ ہوتے تھے۔

شیخ حاجی عبدالوہاب اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ ایک رات میں اپنے مُرشد عبداللہ یوسف کی خِدمت میں حاضر ہوا، آپ اپنے علوم الٰہی سے بھی مجھے بہرہ یاب فرمایا کرتے تھے۔اس لیے اس رات جب مجھے مشاہدے کی کیفیت کے آخری مراحل تک پہنچادیا تو فرمایا کہ یہ علم باتوں کے ذریعہ سینہ میں داخل نہیں کیا جاسکتا، البتہ اس کے حاصل کرنے اور سکھانے میں مکمل رشدو ہدایت دخیل ہے کیونکہ دل ایک برتن کے مثل ہے جس میں مختلف حالات جمع ہیں اور دنیا میں کوئی بھی دل ایسا نہیں جو احوال کے اعتبار سے ایک دوسرے سے الگ اور متفرق نہ ہو، اسی لیے دو مختلف الحال دل ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتے، اس لیے کہ ہر دل میں دوسرے دل کے علاوہ ایک خاص قسم کی لذت ہے۔

آپ ایک دن اپنے دومنزلہ مکان کی چھت پر کھڑے تھے جو اب بھی آپ کے مقبرے کے برابر موجود ہے، اچانک آپ پر وجد کی حالت طاری ہوگئی اور اسی حالت میں مکان کی چھت سے گر گئے لیکن اس کے باوجود کہ مکان دومنزلہ تھا آپ کے کوئی چوٹ وغیرہ نہ لگی۔

آپ نے ایک مرتبہ جذبہ و حال کی کیفیت میں ایک بکری کو اُٹھاکر زمین پر دے مارا جس سے وہ مرگئی، لوگوں نے آپ سے کہا کہ غریب بکری کو آپ نے خواہ مخواہ مار دیا، اس کے بعد آپ نے اس مردہ بکری کی پشت پر لات مارکر فرمایا کہ کھڑی ہوجا اور کسی کو بدنام نہ کر، قدرت خداوندی سے وہ مردہ بکری زندہ ہوگئی ایک دن آپ نے وجد کی حالت میں اپنے خادِموں سے فرمایا کہ گھر کے اندر جتنا اثاثہ اور سامان و اسباب ہے اس کو نکال کر باہر پھینک دو اور گھر کو آگ لگادو، اس وقت آپ کے چھوٹے بیٹے احمد شاہ آپ کے پاس موجود تھے انہوں نے عرض کیا کہ ابا جی سامان نکالنے میں لوگوں کو تکلیف ہوگی بہتر یہ ہوگا کہ سامان مکان کے اندر ہی رہے اور اس کو آگ لگادی جائے تاکہ تمام چیزیں ایک دم جل جائیں اور قصہ تمام ہوجائے، آپ کو اپنے فرزند کی یہ بات پسند آئی۔

آپ کا مزار پرانی دلی میں مشہور ہے لوگ اس کی زیارت کرکے برکت حاصل کرتے ہیں، آپ نے 22؍صفر کو انتقال فرمایا۔

( اخبار الاخیار )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abdullah-qureshi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت بھلن شاہ پیر جیلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب: آپ رحمۃ اللہ علیہ کا اسمِ گرامی حضرت پیر سید بھلن شاہ جیلانی بن یاسین شاہ جیلانی علیہ الرحمۃ تھا۔ آپ حضرت سید شاہ محمد اسماعیل قادری جیلانی علیہ الرحمۃ کی اولاد میں سے ہیں۔

سیرت وخصائص: حضرت بھلن شاہ پیر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ بڑے بار عب و حشمت وجاہ و جلال کے مالک تھے ۔ اللہ نے آپ کو دنیوی نعمتوں سے بھی مالا مال کیا تھا۔ کبھی غیر اختیاری طور پر کرامت کا صدرو بھی ہوتا تھا۔ مذہباًسنی تھے۔ محرم کے دنوں میں واعظین کو مدعو کر کے شہادت حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کے واقعات سنتے تھے اور نیاز حسین کا بھی اہتمام فرماتے تھے ۔ آپ نے چار شادیاں کیں لیکن کسی سے بھی کوئی اولاد نہ ہوئی ۔ سب لوگ آپ کو نورائی شریف کا حاکم تسلیم کرتے تھے ۔ حضرت پیر سید قنبر علی شاہ جیلانی علیہ الرحمۃسے آپ کا بڑا ہی گہرا دوستانہ تھا۔ آپ کے مریدین پورے سندھ میں پھیلے ہوئے ہیں۔ تاریخِ وصال: آپ نے نونائی شریف میں 22 /صفر /1367 ھ /بمطابق جنوری1948ء کو وفات فرمائی۔ آپ کو آپ ہی کے بنگلہ میں مدفون کیاگیا۔ آپ کی بہن نے اس پر بہترین گنبد تعمیر کروایا۔ اور شروع میں بڑے وسیع پیمانے پر آپ کا میلہ ہوا کرتا تھا۔ پھر یہ سلسلہ منقطع ہوگیا۔

ماخذ و مراجع: تذکرۂ اولیاء سندھ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-peer-syed-bhulan-shah-jilani
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت شاہ غلام علی دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

اسمِ گرامی: آپ رحمۃ اللہ علیہ کا اسمِ گرامی شاہ غلام علی ، والد ماجد کا نام شاہ عبد اللطیف رحمۃ اللہ علیہما تھا۔ آپ کا سلسلۂ نسب مولائے کائنات ، مولا علی مشکل کشا کرم اللہ وجہہ الکریم سے ملتا ہے۔

ولادت با سعادت: حضرت شاہ غلام علی قدس سرہ قصبہ بٹالہ علاقہ پنجاب میں1158ھ میں پیدا ہوئے۔

بیعت وخلافت: آپ رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت میرزا جانجاناں رحمۃ اللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت کی اور ان ہی سے خلافت واجازت حاصل کی۔

سیرت وخصائص: حضرت شاہ غلام علی دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اکثر اولیاے کبار کی ارواح کا مشاہدہ کیا کرتے تھے۔ علم حدیث و تفسیر کے ساتھ مناسبت حاصل تھی۔ باوجود کمال کے آپ میں انکسار اس درجہ کا تھا کہ ایک دن فرمایا کہ کتا جو میرے گھر میں آتا ہے میں کہتا ہوں۔الٰہی میں کون ہوں کہ تیرے دوستوں کو وسیلہ بناؤں۔ اس مخلوق کے واسطے تو مجھ پر رحم فرما۔ اسی طرح جو طالب آتا ہے میں اس کے واسطہ سے قربِ الٰہی طلب کرتا ہوں۔اکثر آپ کا عمل حدیث شریف پر تھا۔ آپ نے حدیث کی مسند شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کے صاحبزادوں اور اپنے پیر سے حاصل کی تھی۔ اور کلام اللہ شریف حفظ تھا۔ لیکن لوگوں کو معلوم نہ تھا۔ آپ سوتے کم تھے۔ تہجد کے وقت اگر لوگ خواب میں ہوتے تو آپ جگاہ دیتے اور نماز تہجد پڑھ کر آپ مراقبہ اور تلاوت قرآن مجید میں مشغول ہوجاتے اور ہر روز دس پارے پڑھتے۔ آپ لباس موٹا پہنا کرتے۔ اگر کوئی شخص نفیس کپڑا بھیجتا تو اُسے بیچ کر کئی کپڑے خرید کر فی سبیل اللہ تقسیم کر دیتے۔ اور فرماتے کہ یہ بہتر ہے کہ بجائے ایک آدمی کے کئی آدمی پہن لیں۔آپ نہایت سختی تھے اور اخفاء کی رعایت بہت کرتے تھے۔ چنانچہ حلقہ کے وقت لوگوں کو عطا فرمایا کرتے۔ اور حیا آپ پر ایسا غالب تھا کہ لوگوں کی شکل کا تو کیا ذکر اپنی شکل بھی آئینہ میں نہ دیکھتے تھے۔ مومنوں پر شفقت کا یہ عالم تھا کہ اکثر رات کو اُن کے واسطے دُعا کیا کرتے تھے۔ا مر بالمعروف و نہی عن المنکر آپ کا شیوہ حسنہ تھا۔مرض موت میں ترمذی شریف آپ کے سینہ پر تھی۔ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی فعل حدیث میں نکل آتا۔ اُس پر عمل کرتے۔ بکری کے شانہ کا گوشت پکوا کر کھایا کرتے کہ مسنون ہے۔ قرآن مجید کا نہایت شوق تھا۔ ایک دفعہ آتشِ دوزخ کے خوف نے مجھ پر بہت غلبہ کیا۔ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ فرما رہے ہیں کہ جو شخص ہم سے محبت رکھتا ہے وہ دوزخ میں نہ جائے گا۔

تاریخِ وصال: بتاریخ 22 صفر 1240ھ /بمطابق اکتوبر 1824 ءمیں آپ کا وصال ہوا۔ نماز جنازہ جامع مسجد میں حضرت شاہ ابو سعید رحمۃ اللہ علیہ نے پڑھائی۔ بعد ازاں حسبِ وصیت جنازہ کو آثار شریفہ میں لے گئے اور وہاں سے لاکر حضرت شہید رحمۃ اللہ علیہ کے پہلو میں دفن کردیا۔

ماخذ و مراجع: مشائخ نقشبند

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-ghulam-ali-dehlvi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت مولانا سید حسن شاہ رامپوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

اسمِ گرامی: آپ رحمۃ اللہ علیہ کااسمِ گرامی سید حسن شاہ رامپوری تھا۔

مقامِ ولادت: حضرت مولانا سید حسن شاہ رامپوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ رام پور میں اپنے آبائی مکان میں پیدا ہوئے۔حضرت مخدوم سید جلال بخاری سے نسبی تعلق رکھتے تھے۔

تحصیلِ علم: سید حسن شاہ رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت مولانا شرف الدین مفتئ رام پور مولانا غفر اللہ صاحب ولایتی اور مولانا مفتی سعداللہ سے درسیات پڑھی،چھ برس مراد آباد میں رہ کر مولانا عالم علی محدث سے صحاح ستہ کا دور کیا۔

بیعت وخلافت: سید حسن شاہ رحمۃ اللہ علیہ نے غلام جیلانی بلاس پوری رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت ہوئے اور انہیں سے خلافت واجازت حاصل کی۔

سیرت وخصائص: سید حسن شاہ رحمۃ اللہ علیہ نامور عالم ومحدث تھے۔ جس طرح آپ کی ذات شریعت میں مرجعِ عوام وخواص تھی اسی طرح طریقت میں بھی مرجع خلائق تھی۔آپ دین کی تبلیغ واشاعت کے لئے ہمہ وقت مصروف رہتے،سوتے کم اور دین کی خدمت زیادہ کرتے۔لوگوں کی تربیت کرنا اور انہیں صراطِ مستقیم پرلانا آپ کا معمول ومطلوب تھا۔ہمیشہ لوگوں کے مسائل کو حل کرنے کے درپے رہتے یہاں تک کہ اگر خلقِ خدا کی مصائب وپرایشانی دور کرنے کے لئے کسی دوردراز علاقے کا سفر کرنا ہوتا تو اس سے بھی آپ دریغ نہیں کرتے۔اہلسنت کی نشرواشاعت ، اس کی ترویج اور دفاع آپ کو خاص محبوب تھی۔

تاریخِ وصال:حضرت علامہ مولانا سید حسن شاہ رحمۃ اللہ علیہ22صفر المظفر 1213ھ/بمطابق اگست 1798 ء کو انتقال ہوا۔حضرت سید عبداللہ بغدادیرحمۃ اللہ علیہ کی درگاہ میں چپوترہ پر جمعہ کے دن دفن ہوئے ۔

ماخذ و مراجع: تذکرۂ علماء اہلسنت

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-syed-hassan-shah-rampuri
1