🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت ابو عبد اللہ محمد بن علی حکیم ترمذی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

اسمِ گرامی:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کا اسمِ گرامی محمد بن علی بن حسن بن بشر حکیم ترمذی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تھا۔ کنیت: ابوعبداللہ تھی ۔

تحصیلِ علم:
آپ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے والد، قتیبہ بن سعید، صالح بن عبد اللہ ترمذی، علی بن حجر سعدی، یعقوب دورقی اور دیگر ائمہ سے اکتسابِ علم کیا ۔

سیرت و خصائص:
مشائخ و اولیاء میں آپ بہت بلند مقام پر فائز تھے۔ صاحب تصنیف بزرگ تھے۔ حدیث پر عبور تھا۔ حضرت امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کی صحبت کے فیض یافتہ تھے حضرت خضرعلیہ السلام سے ملاقات تھی۔ آپ کی تصانیف میں سے ختم الولائیت اور نوادِ والاصول تو یادگار زمانہ کتابیں ہیں۔ آپ نے قرآن پاک کی تفسیر بھی لکھنا شروع کی مگر مکمل نہ کرسکے۔ ابتدائی زمانہ میں ایک ساتھی طالب علم کے ساتھ طلب علم میں روانہ ہوئے اپنی والدہ سے اجازت حاصل کی، والدہ رو پڑیں اور کہنے لگیں مجھے کس کے حوالے کرتے جا رہے ہو؟ یہ بات آپ کے دل پر اثر انداز ہوئی، سفر کا ارادہ ترک کردیا، آپ کے ساتھی روانہ ہوگئے پانچ ماہ گزر گئے مگر طلب علم اور حکم والدہ کی کشمکش باقی تھی۔ ایک دن قبرستان میں بیٹھے تھے کہ زار زار رو رہے تھے اور افسوس کر رہے تھے کہ میں نے اپنا قیمتی وقت ضائع کردیا ہے۔ میرے دوست عالم فاضل بن کر واپس آئیں گے میں ان کے سامنے جاہل اور شرمسار رہوں گا ناگاہ ایک نورانی شکل نمودار ہوئی اور فرمانے لگے علم کے حصول کے لیے یہ بے قراری واقعی قابلِ قدر ہے۔ میں ہر روز یہاں آیا کروں گا اور تمہاری علمی تشنگی دور کرتا رہوں گا تم اپنے ساتھیوں سے پیچھے نہیں رہو گے۔ آپ نے کہا یہ تو آپ کی عنایت ہوگی۔ چنانچہ اس بزرگ نے آپ کو لگاتار تین سال تک پڑھایا۔ یہ ساری محنت اور عنایت ان کے شوقِ علم اور خدمتِ والدہ کے صلے میں تھی۔ حقیقت میں یہ استاد بزرگ حضرت خضر تھے ،تعلیم مکمل ہونے کے بعد حضرت خضر ہفتہ وار تشریف لاتے اور اپنے شاگرد کی مجلس کو تازہ فرماتے۔ ۔ حضرت خواجہ ترمذی نے اپنی عمر میں ایک ہزار ایک بار اللہ تعالیٰ کو خواب میں دیکھا تھا ۔

تاریخِ وصال:
آپ کا سن وفات21 صفر المظفر 255ھ لکھا ہے ۔

ماخذ و مراجع:
طبقات الشافعیۃ الکبریٰ ۔ سفینۃ الاولیاء

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abu-abdullah-muhammad-bin-ali-hakeem-tirmizi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
تلمیذ امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمہ
حضرت داؤد طائی رحمۃ الله تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی:
داؤد ۔ کنیت: ابو سلیمان ۔ لقب: طائی ۔ سلسلۂ نسب: ابو سلیمان داؤد بن نصیر طائی ۔ آپ کا خاندانی تعلق مشہور عرب سخی حاتم طائی کے خاندان سے ہے ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 21 صفر المظفر 47ھ کو شام میں ہوئی ۔ لیکن آپ کی زندگی کوفہ میں گزری ۔ (اردو دائرہ معارف اسلامیہ) ـ

تحصیلِ علم:
جس زمانے میں آپ نے آنکھ کھولی اس وقت علوم کے سلاطین موجود تھے ۔ صحابۂ کرام کے چشمۂ صافی سے تشنگانِ علم و عرفان اپنی علمی پیاس بجھا رہے تھے ۔ بڑے آئمہ کرام حیات تھے ۔ تو حضرت داؤد طائی علیہ الرحمہ کو علم حاصل کرنے کا خوب موقع میسر ہوا ۔ ہر شہر و علاقے میں علومِ نبویہ کے وارثین نے مسندیں بچھا رکھیں تھیں ۔ ابتدائی علوم حاصل کرنے کے بعد علمِ حدیث کی تحصیل کے لئے امام اعمش، ابنِ ابی لیلیٰ، اور عبد الملک بن عمیر وغیرہ کی خدمت میں پہنچے ۔ ان سے روایت و کتابت کی ۔ علمِ حدیث کے آئمہ میں شمار ہونے لگے ۔ پھر آپ سے ایک جماعت نے حدیثیں روایت کی ہیں ۔ ان میں سے ایک نام مشہور محدث اسماعیل بن علیہ کا بھی ہے ۔

علم الحدیث میں مہارت حاصل کرنے کے بعد خلیفہ مہدی کے زمانے میں بغداد تشریف لائے، یہاں کے شیوخ سے اخذِ فیض کیا ۔ پھر کوفہ واپس آئے اور امام الآئمہ سراج الامہ حضرت سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ رضی الله تعالیٰ عنه کی مجلسِ درس میں شامل ہو گئے ۔ بیس سال تک حضرت امام صاحب کی خدمت میں رہ کر علمِ فقہ و اصولِ فقہ پر مہارت حاصل کی ۔

ولید بن عقبہ الشیبانی فرماتے ہیں:
امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کےحلقۂ درس میں بلند آواز سے بحث کرنے والا داؤد طائی کے علاوہ کوئی اور نہیں تھا ۔ پھر یہ خلوت نشینی اختیار کرکے عبادت میں مشغول ہو گئے ۔

بیعت و خلافت:
آپ نے عظیم مشائخ کی صحبت اختیار کی ۔ جن میں حضرت امام اعظم ابو حنیفہ، حضرت فضیل بن عیاض، اور حضرت ابراہیم بن ادھم وغیرہ کثیر مشائخِ کرام ہیں ۔ آپ حضرت خواجہ حبیب راعی کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور خرقۂ خلافت سے مشرف ہوئے ۔ (کشف المحجوب:240) ۔

حضرت حبیب راعی حضرت حسن بصری کے مرید تھے ۔ اسی طرح حضرت امام اعظم نے آپ کی خصوصی تربیت فرمائی تھی ۔ ابتداء ہی سے انہیں دنیا سے نفرت تھی ۔ جب حضرت امام صاحب نے آپ کی یہ کیفیت ملاحظہ فرمائی تو ارشاد فرمایا: آپ دنیا کو چھوڑ کر گوشہ نشیں ہو جائیں ۔ چنانچہ آپ گوشہ نشیں ہو گئے ۔ اگر تصوف و طریقت اور معرفت میں امامِ اعظم کا مرتبہ دیکھنا ہو تو حضرت داؤد طائی کو دیکھ لیں ۔

حضرت محارب بن دثار فرماتے ہیں:
اگر حضرت داؤد طائی سابقہ امتوں میں سے ہوتے تو اللہ ﷻ آپ کے زہد و تقویٰ کی خبر ہمیں قرآن میں ضرور دیتا ـ (الطبقات السنیۃ فی تراجم الحنفیۃ؛ جلد اول؛ ص:278) ۔

جب شاگرد کا یہ مقام ہے، تو استاذ کا کیا مقام ہوگا ۔ امامِ اعظم صرف شریعت کے امام نہیں تھے ۔ بلکہ طریقت کے بھی امام تھے ۔

سیرت و خصائص:
عارف باللہ، واصل باللہ، امام الاولیاء، سندالفقہاء، سید الاتقیاء، زُہد الانبیاء، وارثِ علومِ مصطفیٰ، فیض یافتہ امام الہدیٰ، فقیہ، محدث، عالم، عامل، عارف، زاہد، حضرت خواجہ داؤد طائی رضی الله تعالیٰ عنه ۔

آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے عظیم محدث، جید فقیہ، اور بے مثل صوفی تھے ۔ بیس سال امام اعظم علیہ الرحمہ کی خدمت میں رہ کر علمی کمال حاصل کیا ۔ اور اس درجے پر فائز ہوئے کہ امام صاحب کے اصحاب میں سے کسی کو آپ پر تقدم حاصل نہ تھا ۔

یہاں تک کہ جب صاحبین (حضرت امام محمد اور حضرت امام یوسف) کا کسی مسئلے میں اختلاف ہو جاتا تو وہ آپ کو اپنا مُنصف مقرر کرتے ۔ آپ کا دستور تھا کہ جب صاحبین آپ کے پاس تشریف لاتے تو آپ امام محمد کی طرف منہ اور امام ابو یوسف کی طرف پیٹھ کر لیتے، اور فرماتے کہ ہمارے استاد صاحب نے تازیانے کھا کھا کر اپنے آپ کو ہلاک کرا لیا ۔ مگر عہدۂ قضا قبول نہ فرمایا، اور امام ابو یوسف نے اپنے استاد کے خلاف کیا ۔ اگر امام محمد کا قول درست ہوتا تو فرماتے امام محمد کا قول ٹھیک ہے ۔ اور اگر امام ابو یوسف کا قول ٹھیک ہوتا تو اس طرح فرماتے کہ ان کا قول درست ہے ۔ اور ان کا نام اپنی زبان پر نہ لاتے ۔ (حدائق الحنفیہ:137) ۔

عرض کیا گیا کہ یہ دونوں حضرات اپنے زمانے کے امام تسلیم کیے جاتے ہیں مگر آپ ایک سے محبت فرماتے ہیں، اور دوسرے کی طرف توجہ بھی نہیں کرتے ۔ آپ نے فرمایا کہ امام محمد بن حسن نے دنیاوی نعمتوں کو ترک کرکے منصبِ علم کو پسند فرمایا ہے، اور میں ان کی عزت ان کے علم کی وجہ سے کرتا ہوں ۔ اور امام ابو یوسف نے علم کے سبب عہدۂ قضا حاصل کیا ہے ۔ (کشف المحجوب: 241) ۔
1
(یہ حضرت کا تقویٰ تھا ۔ حضرت امام ابو یوسف نے فقہِ حنفی کی بہت خدمت فرمائی ہے ۔ اس واقعہ سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اپنے وقت کا امام، اور بہت بڑا فقیہ، اُس وقت اگر سرکاری عہدۂ و منصب قبول کر لیتا تھا تو الفقر فخری کے وارث فقراء اس سے نظر پھیر لیتے تھے ۔ بادشاہ و وزراء ان کی نظر میں کتنی حقیر ہوں گے ۔ تونسویؔ غفرلہ) ـ

حضرت داتا علی ہجویری فرماتے ہیں: حضرت داؤد طائی اہل تصوف میں سید السادات تھے ۔ اپنے زمانے کے بے مثل صوفی اور امام اعظم کے شاگرد تھے ۔ آپ کو علومِ عقلیہ و نقلیہ سے وافر حصہ ملا، اور فن فقہ میں فقیہ الفقہاء مشہور تھے ۔ حکومت و ریاست چھوڑ کر آپ نے گوشہ نشینی اختیار فرمائی ۔ آپ کا زہد و ورع خصوصیت سے مشہور ہے ۔ آپ کے فضائل و مناقب بہت زیادہ ہیں ۔

حضرت معروف کرخی فرماتے ہیں:
کہ میں نے حضرت داؤد طائی جیسا مستغنی عن الدنیا نہیں دیکھا ۔ ان کی نظر میں تمام دنیا اور اہل دنیا کی کچھ حیثیت ہی نہیں تھی ۔ (کشف المحجوب: 241) ۔

حضرت داؤد طائی نے چالیس سال تک اس حال میں روزہ رکھا کہ گھر والوں کو خبر تک نہ ہوئی ۔ آپ صبح گھر سے اپنا کھانا ساتھ لے جاتے، اور راستے میں اسے صدقہ کر دیتے ۔ (گھر والے یہ سمجھتے کہ کھا لیا ہوگا) رات کو واپس آتے ـ (الطبقات السنیۃ فی تراجم الحنفیۃ؛ جلد اول؛ ص:278) ـ

اسی طرح آپ کے بارے میں منقول ہے کہ آپ روٹی پانی میں بھگو کر کھا لیتے تھے، اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’جتنا وقت لقمے بنانے میں صرف ہوتا ہے، اتنی دیر میں قرآن کریم کی پچاس آیتیں پڑھ لیتا ہوں ‘‘ ۔ (تذکرۃ الاولیاء؛ ج1؛ ص:201 ) ۔

ایک دن ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ آپ کی چھت میں ایک شہتیر ٹوٹا ہوا ہے فرمایا: اے بھتیجے! میں نے بیس سال سے مکان کی چھت کی طرف نہیں دیکھا ۔ (احیاء العلوم:112) ـ

جب آپ کے والد ماجد کا انتقال ہوا، تو اَسّی (80) درہم اور ایک مکان ورثہ میں ملا ۔ وہ درہم عمر بھر کے لیے کافی ہوئے، اور مکان کے ایک کمرے میں بیٹھا کرتے جب وہ گر گیا، دوسرے میں بیٹھنا شروع کیا ۔ جب وہ اس قابل نہ رہا تو اور درجے میں بیٹھ گئے ۔ ادھر ان کی روح نے پرواز کیا ۔ ادھر بعض صالحین نے خواب میں دیکھا کہ داؤد طائی نہایت خوشی کے ساتھ ہشاش بشاش دوڑے ہوئے چلے جا رہے ہیں ۔ انہوں نے کبھی آپ کو اس حالت میں نہ دیکھا تھا ۔ پوچھا کیا ہے، کیوں دوڑے جاتے ہو! فرمایا: ابھی جیل خانہ سے چھوٹا ہوں ۔ خبر پائی کہ وہی وقتِ انتقال کا تھا ۔ (الرسالۃ القشیریۃ، ص35، ملخّصاً ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت، ص:467) ۔

جب آپ کے پاس دس درہم باقی رہ گئے تو امام ابو یوسف نے آپ کی والدہ سے پوچھا کہ آپ کس قدر روزانہ خرچ کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایک درہم ۔ امام صاحب نے اس کا حساب کر لیا، اور جس دن وہ روپیہ تمام ہوا تو آپ نے بعد نماز فجر کے اپنے مصاحبین سے فرمایا کہ داؤد کی خبر لاؤ ۔ ایک آدمی گیا اور یہ خبر لایا کہ وہ آج صبح فوت ہو گئے ۔ (حدائق الحنفیہ، ص:138) ـ

جس رات میں ان کی وفات ہوئی بہت سے مشائخ نے اس رات میں یہ خواب دیکھا کہ جنت میں خوب زینت کی جا رہی ہے اور ہر طرف نور ہی نور پھیلا ہوا ہے ۔ تو مشائخ نے خواب ہی میں پوچھا کہ یہ کون سی رات ہے تو آواز آئی کہ اس رات میں حضرت داؤد طائی کی وفات ہو گئی ہے ۔ ہر طرف فرشتوں کا ہجوم، یہ آرائش اور چہل پہل ان کی روح کی آمد کے لیے ہے ۔ (احیاء العلوم، ج:4، ص:433) ـ

تاریخِ وصال:
ایک قول کے مطابق آپ 19 ذو القعدہ 162ھ ،اوردوسرے قول کے مطابق 8 ربیع الاول 165ھ کو واصل باللہ ہوئے ۔ یہی صحیح ہے ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-dawood-tai
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
خلیفۂ اعلیٰ حضرت، حضور صدر الافاضل، حضرت علامہ سید نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
آپ کا نام سید نعیم الدین بن معین الدین بن امین الدین بن کریم الدین ہے ۔ (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم)

تاریخ و مقامِ ولادت:
آپ کی ولادت بروزپیر،21 صفر المظفر 1300ھ بمطابق جنوری 1883ء مراد آباد (یو.پی) میں ہوئی۔

تحصیلِ علم:
صدر الافاضل علیہ رحمۃ اللہ علیہ جب چار سال کے ہوئے تو آپ کے والد گرامی نے "" بسم اللہ خوانی "" کی پاکیزہ رسم ادا فرمائی۔ ناظرہ قرآنِ پاک ختم کرنے کے بعد آٹھ سال کی عمر میں حفظِ قرآن کی تکمیل کی۔ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد سے حاصل فرمائی ، متوسطات تک علوم درسیہ کی تکمیل حضرت مولانا حکیم فضل احمد صاحب سے کی، اس کے بعد بقیہ علوم کی تحصیل و تکمیل حضرت علامہ مولانا سید محمد گل صاحب کابلی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے کی۔

بیعت و خلافت:
آپ اپنے ہی استاذ گرامی حضرت مولانا سید محمد گل صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے اور اجازت وخلافت سے نوازے گئے۔ حضرت نے اپنے لائق وفائق تلمیذِ رشید کو چاروں سلسلوں اور جملہ اوراد ووظائف کی اجازت عطافرماکر ماذون ومجاز بنا دیا۔اس کے بعد غوث ِوقت، قطبِ دوراں، شیخ المشائخ حضرت شاہ سید علی حسین صاحب اشرفی میاں کچھوچھوی نے بھی خلافت واجازت سے سر فراز فرمایا۔

سیرت و خصائص:
حضور صدر الافاضل اپنی علمی جاہ وحشمت، شرافتِ نفس، اتباعِ شریعت، زہد وتقویٰ، سخن سَنجی،حق گوئی، جرأت وبے باکی اور دین حق کی حفاظت کے معاملے میں فقید المثال تھے۔ آپ اپنی مختلف دینی، علمی، تبلیغی، تحقیقی و تصنیفی مصروفیات اور مناظرہ ومقابلہ اور فِرَقِ باطلہ کے رد وابطال جیسی سرگرمیوں کے باوجود تاحیات درس و تدریس سے وابستہ رہے ۔آپ کا طرزِ تدریس بڑا دلچسپ و منفرد تھاافہام وتفہیم میں آپ یکتائے روزگار تھے جس کی بدولت اسباق طلبا کے دل ودماغ پر پوری طرح نقش ہو جاتے۔ طَلَبَہ کے خورد ونوش اور مدرسین کی تنخواہ آپ اداکرتے تھے۔ حضرت صدر الافاضل کو دیگر علوم وفنون کے علاوہ فنِ تقریرو مناظرہ میں بھی مہارت حاصل تھی۔ آپ اپنے وقت کے تقریباً تمام فِرَقِ باطلہ سے نبرد آزما رہے، ایک سے بڑھ کر ایک مناظر آپ کے مقابل آیا لیکن ہمیشہ میدان آپ کے ہاتھ رہا۔جو دلائل و حجج قائم فرماتے کسی کو اتنی طاقت نہ ہوتی کہ توڑ سکتا مخالف ایڑی چوٹی کا زور لگاتا لیکن ناممکن تھا کہ جو گرفت فرمائی تھی اس سے گُلُو خلاصی پاسکتایا وہ گرفت نرم پڑ جاتی،مخالف غضب و عناد میں انگلیاں چباتے مگر کچھ نہ کر سکتے۔حضور صدر الافاضل اپنی گوناگوں مصروفیات کے باوجود دار الافتاء بھی بڑی خوبی اور باقاعدگی کے ساتھ چلاتے،ہند وبیرون ہندنیز مراد آباد کے اطراف و اکناف سے بے شمار اِسْتِفْتا اور استفسارات آتے اور تمام جوابات آپ خود عنایت فرماتے۔ بفضلہ تعالیٰ فقہی جزئیات اس قدر مستحضر تھے کہ جوابات لکھنے کے لیے کُتُبْہَائے فقہ کی طرف مراجعت کی ضرورت بہت ہی کم پیش آتی ۔ قیامِ پاکستان میں آپ نے بھرپور حصہ لیا۔

وفات:
18 ذوالحجہ 1367ھ مطابق 23 اکتوبر 1948ء بروز جمعۃ المبارک صدر الافاضل نے داعی اجل کو لبیک کہا۔وقت وصال ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی، کلمہ طیبہ کا ورد جاری تھا، پیشانی اقدس اور چہرہ مبارک پر بے حد پسینہ آنے لگا، ازخود قبلہ رخ ہوکر دستہائے پاک اور قدمہائے ناز کو سیدھا کرلیا، ۱۲ بجکر ۲۰ منٹ پر اہل سنت کا یہ سالار اپنے خالقِ حقیقی سے جاملا۔ اِنَّا لِلّٰہ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔آپ کی تدفین جامعہ نعیمیہ کی مسجدکےبائیں گوشے میں کی گئی۔

ماخذ و مراجع: روشن دریچے

https://scholars.pk/ur/scholar/sadrul-afazil-hazrat-allama-naeemuddin-muradabadi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1