🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت مولانا محمد عمر لاکھو رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

میاں محمد عمر بن حکیم مولانا میاں محمد حسین لاکھو گوٹھ و ددو بگھیہ ضلع نواب شاہ میں ۱۳۱۹ھ کو تولد ہوئے۔ آپ کی ولادت پر ولی اللہ حضرت حافظ میاں محمد ابراہیم لاکھو بہت مسرور ہوئے۔ اور اپنے پوتے کو ہاتھوں میں اٹھا کر کانوں میں اذان و تکبیر کہی۔

تعلیم و تربیت:
میاں محمد عمر نے ابتدائی تعلیم (قرآن مجید ، فارسی اور بعض عربی کتب) اپنے والد محترم سے حاصل کی ۔ اس کے بعد ایک عرصہ تک تعلیم کو موقوف کردیا۔ ایک بار اپنے ہم درس اور رضائی بھائی مفتی محمد دائود بگھیو سے ملاقات پر تعلیم کو جاری رکھنے کے سلسلہ میں مشورہ لیا اور پھر حصول علم کیلئے سفر پر روانہ ہوگئے اور علامہ مخدوم امیر احمد عباسی کے گوٹھ جاکر ان سے استفادہ کیا۔ اور اپنے والد محترم میان محمد حسین لاکھو کے پاس نصاب کی تکمیل کرکے فارغ التحصیل ہوئے۔

میاں محمد عمر نے اپنے نواسہ حکیم غلام رسول لاکھو کو بتایا کہ مخدوم امیر احمد صاحب عمر میں ہم سے اصغر تھے لیکن علوم میں اکبر ۔

درس و تدریس:
اپنے والد و استاد میاں محمد حسین کے ہاں دوران تعلیم ، ان کے زیر سایہ درس کا عمل بھی جاری کئے ہوئے تھے۔ اور باقاعدہ تدریس کا عمل بعد فراغت جاری کیا۔ مدرسہ کے ساتھ ملا اسکول قائم کروایا جس کے ہیڈ معلم مقرر ہوئے اور آپ کے بھائی محمد صڈیق لاکھو کام کاج میں ساتھی اور اسکول میں استاد تھے۔

آپ نے درس و تدریس کا عمل ساری زندگی جاری رکھا اپنے مدرسہ کے علاوہ دیگر بستیوں مثلاً گوٹھ مانک جو باغ، گتوٹھ عاقلانی اور پڈ عیدن کے متصل ایک گوٹھ میں در۴س دیا۔ اور بروز جمعہ گوٹھ مانک جو باغ میں خطاب فرماتے اور جمعہ پڑھاتے تھے۔

بیعت:
مولانامحمد عمر لاکھو، درگاہ خنیاری شریف (ضلع نواب شاہ ) کے کسی پیر صاحب سے ارادت رکھتے تھے اور اکثر درگاہ شریف پر حاضری دیتے تھے۔

تلامذہ:
آپ کے درس سے مستفیض طلباء میں سے بعض کے اسماء درج ذیل ہیں:

٭ مفتی محمود بگھیو

٭ مولانا محمد ابراہیم اوٹھو

٭ حاجی فیض محمد کوری

٭ حکیم مولانا محمد صالح لاکھو

٭ حکیم غلام رسول لاکھو شاہ پور جھانیہ

٭ اور اپنی بیوی کو فارسی کی تعلیم دی۔

تصنیف و تالیف:
میاں محمد عمر نے درس و تدریس کے ساتھ تصنیف و تالیف کا کام بھی کیا۔ بعض تصانیف کا علم ہو سکا ہے جو کہ درج ذیل ہیں:

٭ سرور کائنات ﷺ (سندھی) نبی کریم ﷺ کی شان و عظمت میں ہے ۔ مطبوعہ آر ایچ احمد حیدر آباد سندھ

٭ سوانح حضرت ایزید بسطامی ۔ مطبوعہ آر ایچ احمد حیدر آباد سندھ

٭ منبھات ابن حجر عسقلانی۔ کا سندھی ترجمہ کیا اور بعد وفات وہ مسودہ گم ہوگیا کوئی ادب پرور ساتھ لے گیا اور دوبارہ پلٹ کر نہ آیا۔

٭ ببر کی خاصیت ۔ ببر(ببول) درخت کی خاصیت پر رقم فرمایا۔

٭ مجموعہ کلام

شاعری:
میاں محمد عمر نے فارسی اور سندھی میں شاعری کی۔مثنوی ، کافی اور غزل کی صنف میں بامقصد شاعری کی ہے۔ عمر، عمر الدین اور کبھی احق و مفتون تخلص استعمال میں لائے۔

حرمین شریفین:
میاں محمد عمر نے دوبار حجاز مقدس کا سفر اختیار کیا۔ حج کے بعد مدینہ منورہ حاضری دی، پاک پیغمبر ﷺ کے آستانہ مبارکہ سنہری جالیوں کے سامنے سراپا احترام بن کر درود و سلام کا نذرانہ عقیدت پیش کیا۔ ۱۹۵۰ء میں دوسری بار حج کرنے کا ارادہ کرلیا ان دنوں گوٹھ دو دو بگھیہ میں قیام تھا اور سفر حج کیلئے اخراجات نہ ہونے کی صورت میں اپنی زمین بیچ دی، رشتہ داروں نے زمین بیچنے سے سختی سے منع کی لیکن اس متوکل بندے نے حضور پر نور ﷺ کے دربار مقدس کی حاضری کو زمین پر ترجیح دی اور زمین بیچ کر سفر حرمین اختیار کیا۔ آقا علیہ السلام کے حضور حاضری دے کر یوں محسوس کیا جیسے بے قرار دل کو قرار مل گیا۔

شادی و اولاد:
میاں محمد عمر نے دو شادیاں کیں ۔ اپنے والد کے حکم سے پہلی شادی ایک بیوہ عورت سے کی، اس کے بطن سے ایک بیٹی تولد ہوئی، اس بیٹی سے حکیم غلام رسول لاکھو (مہران طیبہ کالج مورو) تولد ہوئے۔ دوسری شادی خاندان میں سے کی اس کے بطن سے پانچ بیٹے اور دو بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ چار بیٹے جوانی میں انتقال کر گئے۔ ایک بیٹا میاں عبدالرحمن لاکھو حیات اور صاحب اولاد ہے۔

وصال:
میاں محمد عمر آخر عمر میں اپنے سسرال کے ’’گوٹھ بھارجی کور‘‘ نقل مکانی کر گئے۔ وہاں بھی درس و تدریس اورع حکمت کا مشغلہ جاری رکھا۔ سارا دن مسجد و مدرسہ میں بسر کرتیتھے دین کے مخلص، ایک عالم با عمل اور عاشق رسول تھے۔

۲۰ صفر المظفر ۱۳۸۹ھ/۱۹۶۹ء کو ۷۰ سال کی عمر میں انتقال کیا اور اسی گوٹھ میں مدفون ہیں۔

’حکیم غلام رسول صاحب لاکھو نے مواد مہیا کیا۔ جس کیلئے فقیر مشکور ہے]

( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-muhammad-umar-lakho
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت پیر سید علی کلاں شیرازی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

اسمِ گرامی:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کا اسمِ گرامی پیر سید علی کلاں شیرازی تھا ۔

تاریخ ولادت:
پیر علی شیرازی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 795ھ کو ہوئی ۔

بیعت و خلافت:
آپ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے سگے بھائی پیر سید مراد رحمۃ اللہ علیہ کے دستِ حق پرست بیعت کرکے خلافت حاصل کی ۔

سیرت و خصائص:
حضرت پیر سید علی کلاں شیرازی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ جامع کمالات بزرگ تھے۔ آپ کے شیخ نے آپ کے لیے اور آپ کی اولاد کے لیے دین دنیا کی برکات کی دعا کی تھی جو قبول ہوئی۔ آپ صاحب کشف و کرامت ہوئے۔ علم تفسیر و فقہ میں منفرمقام حاصل کیا۔ تمام اوقات مخلوقِ خدا کی مدد ،ان کی روحانی تربیت اور عبادت وریاضت میں گزارتے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ اللہ تعالیٰ کی عطا سے خلقِ خدا کی حاجت روائی فرماتے تھے۔ آپ وسیع الاخلاق، خندہ رو، دوست آشنا، سادہ وضع، متورع اور متقی تھے۔

تاریخِ وصال:
میاں سید علی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات 20 صفر 877ھ میں بروز جمعہ ہوئی ۔ اپنے والد کے قریب کوہ مکلی پر مدفون ہیں۔

ماخذ و مراجع: تذکرہ اولیاء سندھ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-peer-syed-ali-kalan-sherazi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
شاعرِ مشرق ڈاکٹر اقبال صاحب


ولادت:
3 ذو القعدہ 1294ھ

وصال:
20 صفر المظفر 1357ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/poet-of-the-east-dr-allama-iqbal
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
डॉ. इक़बाल

बदरुल उलमा, हज़रत अल्लामा मौलाना बदरुद्दीन अहमद सिद्दीकी अलैहिर्रहमा, डॉ. इक़बाल के बारे में लिखते है :
रज़वी दारुल इफ्ता, बरेली शरीफ मे एक इस्तेफ्ता पेश किया गया जिस में डॉ. इक़बाल के कुछ (कुफ़्रिया) अश'आर के मुताल्लिक़ सवाल किया गया था तो मौलाना मुफ़्ती मुहम्मद आज़म ने (फतवे में) उन अश'आर को कुफ़्रिया करार दिया और काईल (यानी डॉ. इक़बाल) के बारे में तहरीर किया के मैने हुज़ूर मुफ़्तीये आज़म -ए- हिन्द, अल्लामा मुस्तफ़ा रज़ा खान अलैहिर्रहमा से डॉ. इक़बाल के बारे में दरियाफ्त किया तो आप ने फरमाया :
बेशक इक़बाल से खिलाफ -ए- शरह उमूर का सुदूर हुआ है, कुफ़्रियात तक उस से सादिर हुए है मगर वो अल्लाह त'आला के महबूब, सरकार -ए- दो आलम ﷺ की शान में गुस्ताख़ व बेअदब नही था बेशक जहालत की बिना पर उस से कुफ्र तक पहुचने वाली गलतिया हुई है मगर आखिर वक़्त में मरने से पहले उस की तौबा भी मशहूर है और जो अल्लाह के महबूब की शान में गुस्ताख़ नही होता उस को तौबा की तौफ़ीक़ होती है उस के बाद हुज़ूर मुफ्तिये आज़म -ए- हिन्द ने इक़बाल का ये शेर पढ़ा :

بمصطفی برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
گر با و نر سیدی تمام بو لہبی است


ये शेर पढ़ कर हज़रत की आंखों में आंसू भर गए और फरमाने लगे के इस शेर से हुज़ूर ﷺ के साथ इक़बाल की सच्ची मुहब्बत ज़ाहिर है, उस के बाद फरमाया के इक़बाल के बारे में तवक़्क़ूफ़ चाहिए और हज़रत का ये फरमान नासाज़ीये तबा से 15-16 साल पहेले का है और हज़रत के इस फरमान पर हमारा अमल है।

(فتاوی بدر العلماء، ص126، 229، ملخصاً)

खलीफा -ए- हुज़ूर मुफ्तिये आज़म -ए- हिन्द हज़रत अल्लामा मुफ़्ती शरीफुल हक़ अमजदी अलैहिर्रहमा, डॉ. इक़बाल के एक शेर की तावील करते हुए लिखते है के हमे हुक्म है के मोमिन के कलाम को अच्छे मानो पर महमूल करना वाजिब है।

(فتاوی شارح بخاری، ج2، ص486، ملتقطاً)

आप रहिमहुल्लाहू त'आला एक और मक़ाम पर लिखते है के इक़बाल की तौबा मशहूर है, बहुत से मुस्तनद आलिमो ने उस की (तौबा की) रिवायत भी की है इस लिए इस बारे में सुकूत किया जाता है।

(فتاوی شارح بخاری، ج3، ص491، ملتقطاً)

अब्दे मुस्तफ़ा
1
Dr. Iqbal

Badarul Ulama, Hazrat Allama Maulana Badruddin Ahmad Siddiqui Alaihi Rahma, Dr. Iqbal Ke Baare Mein Likhte Hain :
Razvi Darul Ifta, Bareli Shareef Mein Ek Istefta Pesh Kiya Gaya Jis Mein Dr. Iqbal Ke Kuchh (Kufriya) Ash'aar Ke Mutalliq Sawal Kiya Gaya Tha To Maulana Mufti Muhammad Aazam Ne (Fatwe Mein) Un Ash'aar Ko Kufriya Qaraar Diya Aur Qaayil (Yaani Dr. Iqbal) Ke Baare Mein Tehreer Kiya Ke Maine Huzoor Muftiye Aazam -e- Hind, Allama Mustafa Raza Khan Alaihi Rahma Se Dr. Iqbal Ke Baare Mein Daryaft Kiya To Aap Ne Farmaya :
Beshak Iqbal Se Khilaf -e- Shara Umoor Ka Sudoor Hua Hai, Kufriyaat Tak Us Se Saadir Huye Hain Magar Wo Allah Ta'ala Ke Mahboob, Sarkar -e- Do Aalam ﷺ Ki Shaan Mein Gustakh Wa Be Adab Nahin Tha
Beshak Jahalat Ki Bina Par Us Se Kufr Tak Pahunchane Waali Ghalatiya Huyi Hain Magar Aakhir Waqt Mein Marne Se Pehle Us Ki Tauba Bhi Mash'hoor Hai Aur Jo Allah Ke Mahboob Ki Shaan Mein Gustakh Nahin Hota Us Ko Tauba Ki Toufique Hoti Hai
Us Ke Baad Huzoor Muftiye Aazam -e- Hind Ne Iqbal Ka Ye Sher Padha :

بمصطفی برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
گر با و نر سیدی تمام بو لہبی است

Ye Sher Padh Kar Hazrat Ki Aankho Mein Aansu Bhar Gaye Aur Farmane Lage Ke Is Sher Se Huzoor ﷺ Ke Saath Iqbal Ki Sachhi Muhabbat Zaahir Hai, Uske Baad Farmaya Ke Iqbal Ke Baare Mein Tawaqquf Chahiye Aur Hazrat Ka Ye Farman Nasaaziye Taba Se 15-16 Saal Pehle Ka Hai Aur Hazrat Ke Is Farman Par Humara Amal Hai

(فتاوی بدر العلماء، ص126، 229، ملخصاً)

Khalifa -e- Huzoor Muftiye Aazam -e- Hind, Hazrat Allama Mufti Shariful Haque Amjadi Alaihi Rahma, Dr. Iqbal Ke Ek Sher Ki Taweel Karte Huye Likhte Hain Ke Humein Hukm Hai Ke Momin Ke Kalaam Ko Achhe Maano Par Mahmool Karna Wajib Hai

(فتاوی شارح بخاری، ج2، ص486، ملتقطاً)

Aap Rahimahullahu Ta'ala Ek Aur Maqaam Par Likhte Hain Ke Iqbal Ki Tauba Mash'hoor Hai, Bahut Se Mustanad Aalimo Ne Us Ki (Tauba Ki) Riwayat Bhi Ki Hai Is Liye Is Baare Mein Sukoot Kiya Jaata Hai

(فتاوی شارح بخاری، ج3، ص491، ملتقطاً)

Abde Mustafa
1
ڈاکٹر اقبال

بدر العلماء، حضرت علامہ مولانا بدر الدین احمد صدیقی علیہ الرحمہ، ڈاکٹر اقبال کے بارے میں لکھتے ہیں:
رضوی دار الافتاء بریلی شریف میں ایک استفتا پیش کیا گیا جس میں ڈاکٹر اقبال کے کچھ (کفریہ) اشعار کے متعلق سوال کیا گیا تھا تو مولانا مفتی محمد اعظم نے (فتوے میں) اُن اشعار کو کفریہ قرار دیا اور قائل (یعنی ڈاکٹر اقبال) کے بارے میں تحریر کیا کہ میں نے حضور مفتی اعظم ہند، علامہ مصطفی رضا خان علیہ الرحمہ سے ڈاکٹر اقبال کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے فرمایا:
بے شک اقبال سے خلاف شرع امور کا صدور ہوا ہے، کفریات تک اس سے صادر ہوئے ہیں مگر وہ اللہ تعالی کے محبوب، سرکارِ دو عالم ﷺ کی شان میں گستاخ و بے ادب نہیں تھا- بے شک جہالت کی بنا پر اس سے کفر تک پہنچانے والی غلطیاں ہوئی ہیں مگر آخر وقت میں مرنے سے پہلے اس کی توبہ بھی مشہور ہے اور جو اللہ کے محبوب کی شان میں گستاخ نہیں ہوتا اس کو توبہ کی توفیق ہوتی ہے-
اس کے بعد حضور مفتی اعظم ہند نے اقبال کا یہ شعر پڑھا:

بمصطفی برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
گر با و نر سیدی تمام بو لہبی است

یہ شعر پڑھ کر حضرت کی آنکھوں میں آنسو بھر گئے اور فرمانے لگے کہ اس شعر سے حضور ﷺ کے ساتھ اقبال کی سچی محبت ظاہر ہے- اس کے بعد فرمایا کہ اقبال کے بارے میں توقف چاہیے اور حضرت کا یہ فرمان ناسازی طبع سے پندرہ سولہ سال پہلے کا ہے اور حضرت کے اس فرمان پر ہمارا عمل ہے-

(فتاوی بدر العلماء، ص126، 229، ملخصاً)

خلیفۂ حضور مفتی اعظم ہند، حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدی رحمہ اللہ تعالی، ڈاکٹر اقبال کے ایک شعر کی تاویل کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ہمیں حکم ہے کہ مومن کے کلام کو اچھے معنوں پر محمول کرنا واجب ہے-

(فتاوی شارح بخاری، ج2، ص486، ملتقطاً)

آپ رحمہ اللہ تعالی ایک اور مقام پر لکھتے ہیں کہ اقبال کی توبہ مشہور ہے، بہت سے مستند عالموں نے اس کی (توبہ کی) روایت بھی کی ہے اس لیے اس کے بارے میں سکوت کیا جاتا ہے-

(فتاوی شارح بخاری، ج3، ص491، ملتقطاً)

عبد مصطفی
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👌1
Forwarded from محمد راحت خان قادری
ڈاکٹر اقبال
سب سے پہلے ڈاکٹر اقبال صاحب کی شرعی حیثیت بیان کردی جائےناصر سنیت مناظر اہل سنت مفتی ابوالطاہر طیب صدیقی قادری برکاتی داناپوری علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:
’’ڈاکٹر اقبا ل صاحب نے اپنی فارسی اور اردو نظموں میں دہریت اور الحاد کا زبردست پروپیگنڈہ کیا ہے۔ کہیں اللہ عز وجل پر اعتراضات کی بھرمار ہے کہیں علمائے شریعت و ائمۂ طریقت پر حملوں کی بوچھار ہے ۔ کہیں سیدنا جبریل امین و سیدنا موسی کلیم اللہ و سیدنا عیسی مسیح اللہ علیہم الصلاۃ والسلام کی تنقیصوں توہینوں کا انبار ہے۔ کہیں شریعت محمدیہ علیٰ صاحبہا وآلہ الصلاۃ والتحیہ واحکام مذہبیہ و عقائد اسلامیہ پر تمسخر و استہزا اور انکار ہے کہیں اپنی زندیقیت و بے دینی کا فخرو مباہات کے ساتھ کھلا ہوا اقرار ہے۔ ‘‘(تجانب اہل السنۃ عن اہل الفتنۃ ص:۴۷۵)
ڈاکٹر اقبال کے کچھ اشعار
اب ڈاکٹر اقبال کے کچھ ان اشعارکی مثالیں بھی ذکر کردی جائیں کہ جن سے کفر و الہاد کا اظہار ہوتا ہے:
(۱)
تیرے شیشے میں مئے باقی نہیں ہے!
بتا کیا تو مرا ساقی نہیں ہے!!
سمندر سے ملے پیاسے کو شبنم!
بخیلی ہے یہ رزاقی نہیں ہے!
(بال جبریل ص:۶)
غور کیجئے !ان اشعار میں ڈاکٹر صاحب نے رب العزت جواد کریم ذوالفضل العظیم جلَّ جلالہ کو بخیل بتایا اس کے رازق نہ ہونے کا گیت گایاہے۔
(۲)
اسے صبح ازل انکار کی جرأت ہوئی کیوں کر!
مجھے معلوم کیا وہ راز داں تیرا ہے یا میرا
(بال جبریل ص:۷)
اس شعر میں ڈاکٹر صاحب نے رب تبارک وتعالیٰ سے مخاطب ہوکر یہ کہا ہے کہ ابلیس کو تیرے حکم پر عمل کرنے سے انکار کی جرأت کیوں کر ہوئی یہ مجھے کیا معلوم! آخر وہ تیرا ہی تو راز دار ہے، میرا راز دار تو ہے نہیں میں کیا جانوں کہ ابلیس کو تیرا کون سا ایسا راز معلوم ہوگیا جس کی وجہ سے وہ تیرا حکم بجا لانے سے انکار کی جرأت کر بیٹھا۔
ڈاکٹر صاحب کا یہ انداز گفتگو ایسا ہی ہے جیسے کسی کے خفیہ عیب در پردہ بیان کئے جاتے ہیں۔معاذ اللہ رب العالمین
(۳)
حاضر ہیں کلیسا میں کباب و مئے گلگوں
مسجد میں دھرا کیا ہے بجز موعظ وپند
احکام تیرے حق ہیں مگر اپنے مفسر
تاویل سے بنا سکتے ہیں قرآن کو پازند
فردوس جو تیرا ہے کسی نے نہیں دیکھا
افرنگ کا ہر قریہ فردوس کی مانند
کہتا ہوں وہی بات سمجھتا ہوں جسے حق
نے ابلہِ مسجد ہوں نہ تہذیب کا فرزند!
چپ رہ نہ سکا حضرت یزداں میں بھی اقبالؔ
کرتا کوئی اس بندۂ گستاخ کا منہ بند
ان اشعار میں ڈاکٹر اقبال نے رب تبارک و تعالیٰ کی جناب میں گستاخی کرتے ہوئے کھری کھوٹی سنانے کی کوشش کی ہے۔ کہتے ہیں کہ گرجا گھر میں تو شراب و کباب حاضر ہیں ۔ مسجد میں وعظ و نصیحت کے علاوہ کیا رکھا ہے؟ اے اللہ! تیرے احکام تو حق ہیںلیکن ہمارے مفسرین نے قرآن عظیم کی تاویلیں کر کر کے اس کو پاژند یعنی پارسیوں کی مذہبی تفسیر بتا دیا ہے۔ تیرے فردوس کو تو کسی نے دیکھا ہی نہیں لیکن یوروپ کا ہر ایک گاؤں فردوس ہی کی مانند ہے میں وہی بات کہتا ہوں جسے حق سمجھتا ہوں۔ نہ تومیں مسجد کا بے وقوف ملاَّ ہوں۔ نہ تہذیب کا فرزند ہوں۔ یہ وہ اعتراضات ہیں جو ڈاکٹر صاحب نے حضرت حق سبحانہ وتعالیٰ کی بارگاہ بے نیاز پر جڑے ہیں۔ یہ استہزاءات و تمسخرات ہیں جو اقبال صاحب نے اللہ رب العزت جل جلالہ سے کئے ہیں۔ مقطع میں اس امر کا کھلم کھلا اقرار بھی کرلیا کہ شاعر مشرق صاحب اللہ عز وجل کی جناب میں گستاخیاں ضرور کرتے ہیں ۔
نوٹ: مفتی محمد اعظم صاحب مفتی رضوی دارالافتابریلی شریف فرماتے ہیںکہ حضور مفتی اعظم ہند مصطفی رضا خاں بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان نے فرمایا:
بے شک اس (اقبال) سے اس کی جہالت کی بنا پر کفر تک پہونچانے والی غلطیاں ہوئی ہیںمگر آخری وقت میں مرنے سے پہلے اس کی توبہ مشہور ہے۔انتہی کلامہ
توبہ کے مشہور ہونے کی وجہ سے قائل پر حکم کفر تو نہیں لگایا جائے گا لیکن اس کے کفریہ کلمات ہمیشہ کفریہ ہی رہیں گے اگرچہ توبہ حقیقۃ ہی کیوں نہ کر لی ہو۔ لہذا ان کفریہ کلمات سے اگر کوئی استدلال کرے تو وہ بھی مجرم قرار پائے گا۔

محمد راحت خان قادری غفرلہ القوی
خادم تدریس و افتا دار العلوم فیضان تاج الشریعہ بریلی شریف
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👌1
یوم ولادت ڈاکٹر اقبال ۳ ذو القعدہ
کیا ڈاکٹر اقبال کے بعض اشعار کفریہ
مخلوق کو قرآن کہنا کیسا ؟
ڈاکٹر اقبال کے متعلق شرعی حکم
خودی کو کر بلند اتنا | تاج الشریعہ
https://t.me/islaamic_Knowledge/14587
1