Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
حضرت شیخ ابو محمد رویم بغدادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
اسمِ گرامی:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کا اسم گرامی رویم بن احمد بغدادی تھا اور کنیت: ابو محمد تھی ۔
تحصیلِ علم:
شیخ ابو محمد رویم بغدادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ادریس بن عبد الکریم الحداد اور دیگر اساتذہ کرام سے درسیات کی تکمیل کی ۔
سیرت و خصائص:
شیخ ابو محمد رویم بغدادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بلند پایہ فقہی، مفسر، صوفی اور بغداد کے اجلہ مشائخ ِ کرام سے تھے۔آپ رحمۃ اللہ علیہ ہمہ وقت دین کی خدمت مصروف رہتے، اور کتابوں کی تصنیف وتالیف میں مشغول رہتے ۔ لواحقین کی اخلاقی ، روحانی اور ذہنی تربیت فرمانا آپ کا مطمعِ نظر تھا۔مسلمانوں کی اصلاح اور مسلمانوں میں اٹھتے ہوئے غلط رسومات کے خلاف جہاد کرناآپ کی عادت تھی ۔ آپ نے علم کے نور سے خلقِ کثیر کے سینوں کو منور کیااور انہیں جہالت کے اندھیروں سے نکال کر علم کی روشنی میں لائے۔
تاریخِ وصال:
شیخ ابو محمد رویم بغدادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا وصال 19 صفر المظفر 303 ھ کو ہوا ۔
ماخذ و مراجع:
طبقات الاولیاء ۔ معجم المؤلفین ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abu-muhammad-baghdadi
اسمِ گرامی:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کا اسم گرامی رویم بن احمد بغدادی تھا اور کنیت: ابو محمد تھی ۔
تحصیلِ علم:
شیخ ابو محمد رویم بغدادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ادریس بن عبد الکریم الحداد اور دیگر اساتذہ کرام سے درسیات کی تکمیل کی ۔
سیرت و خصائص:
شیخ ابو محمد رویم بغدادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بلند پایہ فقہی، مفسر، صوفی اور بغداد کے اجلہ مشائخ ِ کرام سے تھے۔آپ رحمۃ اللہ علیہ ہمہ وقت دین کی خدمت مصروف رہتے، اور کتابوں کی تصنیف وتالیف میں مشغول رہتے ۔ لواحقین کی اخلاقی ، روحانی اور ذہنی تربیت فرمانا آپ کا مطمعِ نظر تھا۔مسلمانوں کی اصلاح اور مسلمانوں میں اٹھتے ہوئے غلط رسومات کے خلاف جہاد کرناآپ کی عادت تھی ۔ آپ نے علم کے نور سے خلقِ کثیر کے سینوں کو منور کیااور انہیں جہالت کے اندھیروں سے نکال کر علم کی روشنی میں لائے۔
تاریخِ وصال:
شیخ ابو محمد رویم بغدادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا وصال 19 صفر المظفر 303 ھ کو ہوا ۔
ماخذ و مراجع:
طبقات الاولیاء ۔ معجم المؤلفین ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abu-muhammad-baghdadi
scholars.pk
Hazrat Sheikh Abu Muhammad Ruwaim Baghdadi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت میاں علی محمد مشوری قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
فقیہ اعظم ، تاج الفقہاء ، بحر العلوم و الفیوض ، غوث الزمان ، محبوب الدوران ،استاد الا ساتذہ ، اما م اہلسنت حضرت خواجہ محمد قاسم مشوری قدس سرہ الاقدس کے صا حبزادہ اکبر اور جانشین تاج الا صفیاء حضرت مولانا الحاج میاں علی محمد مشوری کی ولادت۲۵ ، شعبان المعظم ۱۳۳۷ھ بمطابق ۱۹۱۸ء بروز بدھ درگاہ و درسگاہ حضرت مشوری شریف ( ضلع لاڑکانہ ) میں ہوئی ۔
تعلیم و تربیت:
اپنے والد ماجد کی خدمت عالیہ یں رہ کر تعلیم و تربیت حاصل کی اور مدرسہ جامعہ عربیہ قاسم العلوم مشوری شریف سے درس نظامی میں تکمیل کی ۔ ۱۹۴۴ء میں فارغ التحصیل ہو کر دستار فضیلت حاصل کی ۔
بچپن سے صابر ، شاکر صوم صلوۃ کے پابند ، کم گو سادگی پسند اور فقراء کی صحبت کے پابند تھے ۔
بیعت و خلافت:
اپنے والد ماجد تاج العافین سر کار مشوری قدس سرہ الاقدس کے دست اقدس پر بیعت ہو کر سلوک طئے کیا ، سلسلہ قادریہ راشدیہ اور سلسلہ نقشبند یہ راشدیہ کے اذکار و افکار کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی ۔ریاضتوں مجاہدوں اور اذکار و افکار میں مشغول ہو کر مرشد کریم کے منظور نظر ہو گئے تھے اور خلافت و اجازت سے سر فراز ہوئے کیلن عرضہ طویل کے بعد حضرت قبلہ عالم کی علالت کی وجہ سے ۱۹۸۶ء سے جماعت کے اسرار کے پیش نظر بیعت کا سلسلہ شروع کیا ورنہ حضور قبلہ عالم کی صحت و عافیت کے دور میں آپ نے کسی کو بیعت میں نہ لیا ۔ تادم مرشد کریم کے مشن کو جاری رکھا ، ابتدا میں درس و تدریس دیتے تھے بعد میں موقوف کر دیا ، ہزاروں نفوس کو سلسلہ عالیہ میں داخل فرمایا اور ان کی اسلامی روحانی تربیت فرمائی ۔ نو جوانی سے درگاہ شریف پر لنگر کی ڈیو ٹی آپ پر تھی آپ ساری زندگی فقراء مہمانوں کی خدمت سر انجام دیتے رہے ۔
خطابت:
آپ حق گو مقرر تھے ، انتہائی سادہ لیکن پر جوش خطاب فرماتے ۔ آپ کی خطابت تعویذات ، صحبت وغیرہ سارے کام فی سبیل اللہ ہوتے صرف اس جذبہ کے تحت کہ شاید کسی کو ہدایت نصیب ہو جائے ۔ خطاب میں توحید رسالت موقع محل کی مناسبت سے موضوع پر بات کرتے جس کو حق سمجھتے اس کو برملا بیان فرما دیتے تھے ۔ عصبیت پرستوں کی کھلے عام جلسوں میں تردید کی جب کہ ان دنوں میں ان کا زور تھا ۔شیعت اور وہابیت کے علاقوں میں ان کے باطل عقائد کی جراٗ ت ایمانی وغیرت اسلامی سے تردید فرماتے ۔ آپ نہ دبنے والے ، نہ جھکنے والے ، نہ ڈرنے والے تھے ۔وہ اللہ والے تھے اور ہر کام اللہ و رسول ﷺ کی رضا کی خاطر سر انجام دیا کرتے تھے ۔ اصلاح معاشرہ کے حوالہ سے بھی اسپیشلسٹ تھے ، معاشرہ کی ہر برائی کی خرابی سے عوام الناس کو آگاہ کیا ۔ بلکہ مجسمہ نصیحت و ہدایت تھے بلکہ ’’سیف اللہ ‘‘ ( اللہ کی تلوار) تھے ۔
خاک نشینی:
آپ عالم دین پیر طریقت تھے اس کے باوجود سادہ طبیعت ، سادہ لباس ، سادہ مزاج ایک کچا سادہ کمرہ لیکن مخزن سرور تھا، جس میں فرش پر تشریف رکھتے ، جہاں چند کتابیں دوات ، قلم، عصاء ، تسبیح نئی پرانی دو چار رلیاں (سندھی چادر ) سے یہ کمرہ مزین تھا آپ کا تسبیح خانہ جو کہ ’’کل کائنات ‘‘تھا ۔ لباس کو بغیر استری کئے ہوئے پسند فرماتے ، قمیص میں جیب نہیں ہوتی تھی ، زہد و تقویٰ سادگی اور توکل سے مالا مال زندگی گذاری ، دن میں کمرے سے باہر نکل کر کھلے فرش پر تشریف رکھتے او رسارا دن فقراء مہما نوں سے صحبت فرماتے اور طالب المولیٰ کو واصل باللہ کرتے ۔ اور غربا ء مساکین اور فقراء طالب المولیٰ پر ماں باپ سے زیادہ مہربان و مشفق و شفیق تھے ۔ کہیں دعوت پر تشریف لے جاتے تو وہ ہی سادگی نہ کوئی فرمائش کر تے نہ ہی آڈر جاری فرماتے بلکہ فرماتے ’’فقیر ساگ روٹی کھائے گا اور ریل گاڑی میں سفر کرے گا آپ کوئی تکلف نہ کریں کوئی پریشان نہ ہوں ‘‘۔ ایک بار حرمین شریفین گئے تو ضروری سامان کا بیگ بھی سا تھ نہیں لے گئے ایک جوڑے میں گئے اسی میں واپس آگئے ۔
سفر حرمین شریفین:
آپ نے دو حج کئے ۔ پہلا حج مبارک ۱۳۷۴ھ ؍ ۱۹۵۵ء میں اور دوسرا حج مبارک ۱۳۸۷ھ ؍۱۹۶۸ء میں حضرت محبوب مرشد مربی قدس سرہ کی معیت میں کیا ۔ علاوہ ازیں کئی بار حضرت نے مدینہ عالیہ اور مکہ معظمہ زادھما اللہ تعالیٰ شرفا و تعظیما کی حاضری کا شرف حاصل کیا ۔ اس سفر محبت میں آپ کا ادب و احترام عشق و محبت دیدنی تھا ۔
۱۹۸۹ء میں عراق کا سفر اختیار کیا۔ نجف اشرف میں امیر المومنین حضرت سید نا علی المرتضیٰ شاہ کر بلا معلی میں سید الشہداء حضر ت سید نا امام حسین شہید کر بلا بغداد شریف میں سر کار غوث اعظم ، محبوب سبحانی قطب ربانی، سید نا عبدالقادر جیلا نی او ر سر کار پاک امام اعظم سیدنا امام ابو حنیفہ کے مزارات پر انوار پر حاضری و خاک پوشی کا شرف حاصل کیا ۔ ان کے علاوہ دیگر انبیاء کرام و اولیا ء اللہ کی مزارات مقدسہ کی حاضری کی سعادت حاصل کی ۔ بغداد شریف میں ۱۲ دن قیام کے بعد حرمین شریفین کی حاضری کا سفر اختیار کیا دربار رسالت ماب ﷺ کی حاضری سے دل و آنکھوں کو معطر و منو رکیا ۔
فقیہ اعظم ، تاج الفقہاء ، بحر العلوم و الفیوض ، غوث الزمان ، محبوب الدوران ،استاد الا ساتذہ ، اما م اہلسنت حضرت خواجہ محمد قاسم مشوری قدس سرہ الاقدس کے صا حبزادہ اکبر اور جانشین تاج الا صفیاء حضرت مولانا الحاج میاں علی محمد مشوری کی ولادت۲۵ ، شعبان المعظم ۱۳۳۷ھ بمطابق ۱۹۱۸ء بروز بدھ درگاہ و درسگاہ حضرت مشوری شریف ( ضلع لاڑکانہ ) میں ہوئی ۔
تعلیم و تربیت:
اپنے والد ماجد کی خدمت عالیہ یں رہ کر تعلیم و تربیت حاصل کی اور مدرسہ جامعہ عربیہ قاسم العلوم مشوری شریف سے درس نظامی میں تکمیل کی ۔ ۱۹۴۴ء میں فارغ التحصیل ہو کر دستار فضیلت حاصل کی ۔
بچپن سے صابر ، شاکر صوم صلوۃ کے پابند ، کم گو سادگی پسند اور فقراء کی صحبت کے پابند تھے ۔
بیعت و خلافت:
اپنے والد ماجد تاج العافین سر کار مشوری قدس سرہ الاقدس کے دست اقدس پر بیعت ہو کر سلوک طئے کیا ، سلسلہ قادریہ راشدیہ اور سلسلہ نقشبند یہ راشدیہ کے اذکار و افکار کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی ۔ریاضتوں مجاہدوں اور اذکار و افکار میں مشغول ہو کر مرشد کریم کے منظور نظر ہو گئے تھے اور خلافت و اجازت سے سر فراز ہوئے کیلن عرضہ طویل کے بعد حضرت قبلہ عالم کی علالت کی وجہ سے ۱۹۸۶ء سے جماعت کے اسرار کے پیش نظر بیعت کا سلسلہ شروع کیا ورنہ حضور قبلہ عالم کی صحت و عافیت کے دور میں آپ نے کسی کو بیعت میں نہ لیا ۔ تادم مرشد کریم کے مشن کو جاری رکھا ، ابتدا میں درس و تدریس دیتے تھے بعد میں موقوف کر دیا ، ہزاروں نفوس کو سلسلہ عالیہ میں داخل فرمایا اور ان کی اسلامی روحانی تربیت فرمائی ۔ نو جوانی سے درگاہ شریف پر لنگر کی ڈیو ٹی آپ پر تھی آپ ساری زندگی فقراء مہمانوں کی خدمت سر انجام دیتے رہے ۔
خطابت:
آپ حق گو مقرر تھے ، انتہائی سادہ لیکن پر جوش خطاب فرماتے ۔ آپ کی خطابت تعویذات ، صحبت وغیرہ سارے کام فی سبیل اللہ ہوتے صرف اس جذبہ کے تحت کہ شاید کسی کو ہدایت نصیب ہو جائے ۔ خطاب میں توحید رسالت موقع محل کی مناسبت سے موضوع پر بات کرتے جس کو حق سمجھتے اس کو برملا بیان فرما دیتے تھے ۔ عصبیت پرستوں کی کھلے عام جلسوں میں تردید کی جب کہ ان دنوں میں ان کا زور تھا ۔شیعت اور وہابیت کے علاقوں میں ان کے باطل عقائد کی جراٗ ت ایمانی وغیرت اسلامی سے تردید فرماتے ۔ آپ نہ دبنے والے ، نہ جھکنے والے ، نہ ڈرنے والے تھے ۔وہ اللہ والے تھے اور ہر کام اللہ و رسول ﷺ کی رضا کی خاطر سر انجام دیا کرتے تھے ۔ اصلاح معاشرہ کے حوالہ سے بھی اسپیشلسٹ تھے ، معاشرہ کی ہر برائی کی خرابی سے عوام الناس کو آگاہ کیا ۔ بلکہ مجسمہ نصیحت و ہدایت تھے بلکہ ’’سیف اللہ ‘‘ ( اللہ کی تلوار) تھے ۔
خاک نشینی:
آپ عالم دین پیر طریقت تھے اس کے باوجود سادہ طبیعت ، سادہ لباس ، سادہ مزاج ایک کچا سادہ کمرہ لیکن مخزن سرور تھا، جس میں فرش پر تشریف رکھتے ، جہاں چند کتابیں دوات ، قلم، عصاء ، تسبیح نئی پرانی دو چار رلیاں (سندھی چادر ) سے یہ کمرہ مزین تھا آپ کا تسبیح خانہ جو کہ ’’کل کائنات ‘‘تھا ۔ لباس کو بغیر استری کئے ہوئے پسند فرماتے ، قمیص میں جیب نہیں ہوتی تھی ، زہد و تقویٰ سادگی اور توکل سے مالا مال زندگی گذاری ، دن میں کمرے سے باہر نکل کر کھلے فرش پر تشریف رکھتے او رسارا دن فقراء مہما نوں سے صحبت فرماتے اور طالب المولیٰ کو واصل باللہ کرتے ۔ اور غربا ء مساکین اور فقراء طالب المولیٰ پر ماں باپ سے زیادہ مہربان و مشفق و شفیق تھے ۔ کہیں دعوت پر تشریف لے جاتے تو وہ ہی سادگی نہ کوئی فرمائش کر تے نہ ہی آڈر جاری فرماتے بلکہ فرماتے ’’فقیر ساگ روٹی کھائے گا اور ریل گاڑی میں سفر کرے گا آپ کوئی تکلف نہ کریں کوئی پریشان نہ ہوں ‘‘۔ ایک بار حرمین شریفین گئے تو ضروری سامان کا بیگ بھی سا تھ نہیں لے گئے ایک جوڑے میں گئے اسی میں واپس آگئے ۔
سفر حرمین شریفین:
آپ نے دو حج کئے ۔ پہلا حج مبارک ۱۳۷۴ھ ؍ ۱۹۵۵ء میں اور دوسرا حج مبارک ۱۳۸۷ھ ؍۱۹۶۸ء میں حضرت محبوب مرشد مربی قدس سرہ کی معیت میں کیا ۔ علاوہ ازیں کئی بار حضرت نے مدینہ عالیہ اور مکہ معظمہ زادھما اللہ تعالیٰ شرفا و تعظیما کی حاضری کا شرف حاصل کیا ۔ اس سفر محبت میں آپ کا ادب و احترام عشق و محبت دیدنی تھا ۔
۱۹۸۹ء میں عراق کا سفر اختیار کیا۔ نجف اشرف میں امیر المومنین حضرت سید نا علی المرتضیٰ شاہ کر بلا معلی میں سید الشہداء حضر ت سید نا امام حسین شہید کر بلا بغداد شریف میں سر کار غوث اعظم ، محبوب سبحانی قطب ربانی، سید نا عبدالقادر جیلا نی او ر سر کار پاک امام اعظم سیدنا امام ابو حنیفہ کے مزارات پر انوار پر حاضری و خاک پوشی کا شرف حاصل کیا ۔ ان کے علاوہ دیگر انبیاء کرام و اولیا ء اللہ کی مزارات مقدسہ کی حاضری کی سعادت حاصل کی ۔ بغداد شریف میں ۱۲ دن قیام کے بعد حرمین شریفین کی حاضری کا سفر اختیار کیا دربار رسالت ماب ﷺ کی حاضری سے دل و آنکھوں کو معطر و منو رکیا ۔
👍2❤1
۱۹۹۵ء میں دوسری بار جماعت کے وفد کے ساتھ عراق کا سفر ٹرین اور بس کے ذریعے کیا ۔ کوئٹہ ، تافتان ، زاہدان ، ایران اور ایران سے بذریعہ ٹرین و بس کے عراق گئے ، وہیں زیارات کی واپسی میں ایران کی زیارات کر کے بس کے ذریعہ واپس کوئٹہ پہنچے جہاں سے ٹرین میں لاڑکانہ واپس ہوئے ۔
آخری عمر ہ ۱۹۹۸ء میں کیا اور پورا رمضان شریف مدینہ منورہ میں گنبد خضریٰ کے زیر سایہ گذارا اور واپسی پر چار ماہ کے بعد وصال فرمایا۔
تصنیف و تالیف:
٭ ھدایۃالمصلی (سندھی ) طہارت و نماز کے مسائل پر جامع کتاب ہے دو ( ۲) با ر زیور طباعت سے آراستہ ہو چکی ہے۔
٭ گلدستہ فیض روحانی فی الذکر و الافکار یزدانی (سندھی) تصوف کے موضوع پر بہترین کتاب ہے پہلا ایڈیشن چھپ چکا ہے ۔ قاری ممتاز احمد قاسمی نے اردو کا جامہ پہنایا ہے ۔
اور ادارہ قاسم العرفان کراچی نے ۲۰۰۴ء میں شائع کیا ۔
٭ معراج نامہ ۔ پردہ عورت ۔ تحفۃ الفیض ۔ حکم الشریعۃ فی رویۃ الھلال ۔ روئد اد سفر وغیرہ ـ
شادی و اولاد:
آپ نے پہلی شادی اپنے خاندان میں کی جس کے بطن سے دو صاحبزادے اور ایک صاحبزادی تولد ہوئی ۔
۱۔ صاحبزادہ احمد مٹھو مشوری مرحوم
۲۔ صاحبزادہ حضرت مولانا منیر احمد مشوری مدظلہ العالی
بزرگی میں دوسری شادی فقیر عبدالحی ملاح ( مدئجی ) کی ہمشیرہ سے کی جس سے کوئی اولاد نہ ہوئی ۔
وصال:
حضرت قبلہ میاں علی محمد مشوری قادری نے ۱۹، صفرالمظفر ۱۴۱۹ھ؍۱۵، جون ۱۹۹۸ء بروز پیر صبح صادق کے وقت اسی ( ۸۰) سال کی عمر مبارک میں وصال کیا ۔ درگاہ مشوری شریف ( ضلع لاڑکانہ ) کے گنبد شریف کے زیر سایہ آپ کا مزار شریف مرجع خلائق ہے۔
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-mian-ali-muhammad-mashori-qadri
آخری عمر ہ ۱۹۹۸ء میں کیا اور پورا رمضان شریف مدینہ منورہ میں گنبد خضریٰ کے زیر سایہ گذارا اور واپسی پر چار ماہ کے بعد وصال فرمایا۔
تصنیف و تالیف:
٭ ھدایۃالمصلی (سندھی ) طہارت و نماز کے مسائل پر جامع کتاب ہے دو ( ۲) با ر زیور طباعت سے آراستہ ہو چکی ہے۔
٭ گلدستہ فیض روحانی فی الذکر و الافکار یزدانی (سندھی) تصوف کے موضوع پر بہترین کتاب ہے پہلا ایڈیشن چھپ چکا ہے ۔ قاری ممتاز احمد قاسمی نے اردو کا جامہ پہنایا ہے ۔
اور ادارہ قاسم العرفان کراچی نے ۲۰۰۴ء میں شائع کیا ۔
٭ معراج نامہ ۔ پردہ عورت ۔ تحفۃ الفیض ۔ حکم الشریعۃ فی رویۃ الھلال ۔ روئد اد سفر وغیرہ ـ
شادی و اولاد:
آپ نے پہلی شادی اپنے خاندان میں کی جس کے بطن سے دو صاحبزادے اور ایک صاحبزادی تولد ہوئی ۔
۱۔ صاحبزادہ احمد مٹھو مشوری مرحوم
۲۔ صاحبزادہ حضرت مولانا منیر احمد مشوری مدظلہ العالی
بزرگی میں دوسری شادی فقیر عبدالحی ملاح ( مدئجی ) کی ہمشیرہ سے کی جس سے کوئی اولاد نہ ہوئی ۔
وصال:
حضرت قبلہ میاں علی محمد مشوری قادری نے ۱۹، صفرالمظفر ۱۴۱۹ھ؍۱۵، جون ۱۹۹۸ء بروز پیر صبح صادق کے وقت اسی ( ۸۰) سال کی عمر مبارک میں وصال کیا ۔ درگاہ مشوری شریف ( ضلع لاڑکانہ ) کے گنبد شریف کے زیر سایہ آپ کا مزار شریف مرجع خلائق ہے۔
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-mian-ali-muhammad-mashori-qadri
scholars.pk
Hazrat Mian Ali Muhammad Mashori Qadri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت ابو الولید ہشام اول رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بن عبد الرحمٰن الداخل الاموی (خلیفۂ اسپین)
اسمِ گرامی:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کا اسمِ گرامی ہشام بن عبد الرحمن ۔ کنیت: ابو الولید تھی ۔
تاریخ و مقامِ ولادت:
ابو الولید ہشام بن عبد الرحمٰن رحمۃ اللہ علیہما کی ولادت 139 ء میں ، قرطبہ ، اسپین میں ہوئی ۔
سیرت و خصائص:
ہشام بن عبد الرحمن الداخل رحمۃ اللہ علیہ بہت بہادر، جواد، کریم اور عادل حاکم تھے۔ آپ کی ہر وقت یہی کوشش رہتی کہ کوئی مسلمان کافر کی قید میں نہ ہو چنانچہ اگر کوئی کافر کی قید میں ہوتا تو زرِ کثیر دے کر مسلمانوں کو چھڑواتے ۔ اور اگر کوئی سپاہی دورانِ جہاد شہید ہو جاتا تو اس شہید کے بچوں اور گھر والوں کی کفالت حکومت کے ذمہ لگاتے ۔
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تا دمِ حیات حاکمِ اسپین رہے اور عدل و انصاف کی ایک نئی تاریخ رقم فرمائی حتیٰ کہ اہلِ اسپین آپ کو عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ کا مثل قرار دیتے ۔
آپ اپنے مسلح افواج کے ساتھ اپنی رعایا کے پاس خود جاتے اور مظلوموں کی فریاد رسی کرتے ۔ راتوں کو اپنے علاقے کی گلیوں میں گشت کرکے نادار اور مفلس مسلمانوں کے یہاں راشن فراہم کرنا اور ان کی ضرورتوں کو پورا کرنا آپ کی صفتِ فاروقی تھی ۔
آپ کے عدل و انصاف کی وجہ سے اہل اسپین آپ سے بے حد محبت کرتے تھے ۔
تاریخِ وصال:
حضرت کا وصال 19 صفر المظفر 180 ء کو اسپین میں ہوا ۔
ماخذ و مراجع: الاعلام للزرکلی
Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/abul-waleed-hasham-awal
Copyright © Zia-e-Taiba
اسمِ گرامی:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کا اسمِ گرامی ہشام بن عبد الرحمن ۔ کنیت: ابو الولید تھی ۔
تاریخ و مقامِ ولادت:
ابو الولید ہشام بن عبد الرحمٰن رحمۃ اللہ علیہما کی ولادت 139 ء میں ، قرطبہ ، اسپین میں ہوئی ۔
سیرت و خصائص:
ہشام بن عبد الرحمن الداخل رحمۃ اللہ علیہ بہت بہادر، جواد، کریم اور عادل حاکم تھے۔ آپ کی ہر وقت یہی کوشش رہتی کہ کوئی مسلمان کافر کی قید میں نہ ہو چنانچہ اگر کوئی کافر کی قید میں ہوتا تو زرِ کثیر دے کر مسلمانوں کو چھڑواتے ۔ اور اگر کوئی سپاہی دورانِ جہاد شہید ہو جاتا تو اس شہید کے بچوں اور گھر والوں کی کفالت حکومت کے ذمہ لگاتے ۔
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تا دمِ حیات حاکمِ اسپین رہے اور عدل و انصاف کی ایک نئی تاریخ رقم فرمائی حتیٰ کہ اہلِ اسپین آپ کو عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ کا مثل قرار دیتے ۔
آپ اپنے مسلح افواج کے ساتھ اپنی رعایا کے پاس خود جاتے اور مظلوموں کی فریاد رسی کرتے ۔ راتوں کو اپنے علاقے کی گلیوں میں گشت کرکے نادار اور مفلس مسلمانوں کے یہاں راشن فراہم کرنا اور ان کی ضرورتوں کو پورا کرنا آپ کی صفتِ فاروقی تھی ۔
آپ کے عدل و انصاف کی وجہ سے اہل اسپین آپ سے بے حد محبت کرتے تھے ۔
تاریخِ وصال:
حضرت کا وصال 19 صفر المظفر 180 ء کو اسپین میں ہوا ۔
ماخذ و مراجع: الاعلام للزرکلی
Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/abul-waleed-hasham-awal
Copyright © Zia-e-Taiba
❤1
حضرت سید احمد کالپوی علیہ الرحمہ
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت میر سید احمد ۔ لقب: کالپی شریف کی نسبت سے ’’کالپوی‘‘ کہلاتے ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
میر سید احمد کالپوی بن میر سید محمد کالپوی بن حضرت ابو سعید بن بہاء الدین بن عماد الدین بن اللہ بخش بن سیف الدین بن مجید الدین بن شمس الدین بن شہاب الدین بن عمر بن حامد بن احمد الزاہد الحسینی الترمذی ثم الکالپوی ـ علیہم الرحمہ ـ
حضرت میر سید احمد کالپوی علیہ الرحمہ کے والد گرامی حضرت سید محمد کالپوی علیہ الرحمہ سلسلہ عالیہ قادریہ کے عظیم شیخِ طریقت اور تیسویں امام تھے ۔ آپ کے جدِّ امجد حضرت ابو سعید علیہ الرحمہ آپ کے والدِ گرامی کی ولادت سے قبل ہی محبت فی اللہ میں شہر دکن کی جانب تشریف لے گئے اور مفقود الخبر ہو گئے ۔
آپ کا آبائی وطن ترمذ تھا، آپ کے آباؤ اجداد ترمذ سے ہجرت کر کے جالندھر تشریف لائے ۔ آپ کے جد امجد سید ابو سعید علیہ الرحمہ نے وہاں سے کالپی کو اپنا وطن بنایا ۔ آپ ترمذی سادات کرام سے ہیں ۔ آپ کاخاندان علماء و صلحاء اتقیاء کا خاندان ہے ۔ (تذکرہ مشائخِ قادریہ رضویہ ص: 315)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت با سعادت کالپی شریف (ہند) میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
آپ علیہ الرحمہ نے ابتدائی کتب اپنے والدِ ماجد سے پڑھیں، اس کے بعد آپ کے والد محترم نے آپ کی تعلیم و تربیت کے لئے اپنے مرید و خلیفہ حضرت شاہ افضل بن عبد الرحمن الہ آبادی علیہ الرحمہ کو منتخب فرمایا۔جن کی خدمت میں آپ نے حسامی سے بیضاوی تک جملہ علوم متداولہ کی تکمیل فرمائی ۔
استاذِ گرامی آپ کی علمی صلاحیت و قابلیت کی بنیاد پر آپ سے بے انتہاء محبت فرماتے تھے ۔ آپ علیہ الرحمہ عربی و فارسی ادب کے ماہر کامل اور علومِ منقولات و معقولات کے بے بدل عالمِ دین اور اپنے وقت کے بے مثال مدرس و مصنف تھے ۔
بیعت و خلافت:
آپ علیہ الرحمہ نے علومِ دینیہ کی تکمیل کے بعد اپنے والدِ معظم سے بیعت کا شرف حاصل کیا، اور صرف 24 سال کی عمر میں مسندِ والد ماجد پر رونق افروز ہوئے، اور تلقین و ارشاد کی محفل کو رونق عطاء کی ۔
سیرت و خصائص:
شیخ المشائخ، واقفِ اسرار حقائق، وارثِ علومِ نبوت، آفتابِ ہدایت، ماہتابِ ولایت، حضرت شیخ سید میر احمد کالپوی علیہ الرحمہ ۔
آپ علیہ الرحمہ سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ کے اکتیسویں امام اور شیخِ طریقت ہیں ۔ آپ جامع علومِ ظاہر و باطن اور شناورِ بحارِ حقیقت و معرفت تھے ۔ زہد و تقویٰ، عبادت و ریاضت میں ماہرِ کامل تھے ۔ اخلاق و عادات میں نبیِ مکرم ﷺ کی تعلیم کی تصویرِ مجسم تھے ۔ علوم و معارف آپ کی نوکِ زبان پر جاری رہتے ۔ کشف و کرامات اخفاء کے باوجود کثرت سے ظاہر ہو جاتیں ۔ نورِ ہدایت و معرفت آپ کی روشن پیشانی سے عیاں تھا ۔
اللہ جل شانہ نے آپ کو کمالِ معنوی کے ساتھ جمال صوری سے بھی خوب نوازا تھا ۔ چنانچہ حضرت شاہ خوب اللہ الہ آبادی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ’’میرے شیخ نے مجھے فرمایا کہ پہلی بار جب میں حضرت شیخ کی ملاقات سے مشرف ہوا ۔ تو ان کے اندر سرخیِ جمال و عشقِ حقیقی کو مجتمع پایا، اور اس کی وجہ سے جو شعاع نورانی ہو یدا ہوتی، اس کو دیکھنے سے میری نگاہ خیرہ ہو جاتی‘‘ ۔ (ایضا: 325)
عادات و خصائل:
آپ علیہ الرحمہ عبادت و ریاضت میں کامل اور بڑے متبعِ سنت تھے ۔ اس کے علاوہ آپ کا بہترین مشغلہ رسائلِ توحید اور مقالاتِ شیخ محی الدین ابن عربی علیہ الرحمہ کی تشریح بیان کرنا، اور ہر نماز کے بعد سلام سے متصل نو مرتبہ کلمۂ طیبہ کا ورد بآواز بلند کرتے تھے ۔ مسئلہ توحیدِ باری کی تشریح پر اگر کوئی معترض ہوتا تو اس سے مناظرے بھی کرتے تھے ۔
آپ علیہ الرحمہ حضرت شیخِ اکبر علیہ الرحمہ کے محبین میں سے تھے، اور آپ ان کے نظریات کا دفاع کرتے تھے ۔
خواجہ غریب نواز سے عقیدت:
آپ علیہ الرحمہ کو سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین حسن چشتی اجمیری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی بارگاہ سے خاص عقیدت و محبت تھی ۔ چنانچہ ایک مرتبہ اپنے والدِ ماجد حضرت سید میر محمد علیہ الرحمہ کے ہمراہ روضہ مبارکہ پر حاضر ہوئے، اور آپ کو بارگاہِ خواجہ سے روحانی فیض حاصل ہوا ۔
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت میر سید احمد ۔ لقب: کالپی شریف کی نسبت سے ’’کالپوی‘‘ کہلاتے ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
میر سید احمد کالپوی بن میر سید محمد کالپوی بن حضرت ابو سعید بن بہاء الدین بن عماد الدین بن اللہ بخش بن سیف الدین بن مجید الدین بن شمس الدین بن شہاب الدین بن عمر بن حامد بن احمد الزاہد الحسینی الترمذی ثم الکالپوی ـ علیہم الرحمہ ـ
حضرت میر سید احمد کالپوی علیہ الرحمہ کے والد گرامی حضرت سید محمد کالپوی علیہ الرحمہ سلسلہ عالیہ قادریہ کے عظیم شیخِ طریقت اور تیسویں امام تھے ۔ آپ کے جدِّ امجد حضرت ابو سعید علیہ الرحمہ آپ کے والدِ گرامی کی ولادت سے قبل ہی محبت فی اللہ میں شہر دکن کی جانب تشریف لے گئے اور مفقود الخبر ہو گئے ۔
آپ کا آبائی وطن ترمذ تھا، آپ کے آباؤ اجداد ترمذ سے ہجرت کر کے جالندھر تشریف لائے ۔ آپ کے جد امجد سید ابو سعید علیہ الرحمہ نے وہاں سے کالپی کو اپنا وطن بنایا ۔ آپ ترمذی سادات کرام سے ہیں ۔ آپ کاخاندان علماء و صلحاء اتقیاء کا خاندان ہے ۔ (تذکرہ مشائخِ قادریہ رضویہ ص: 315)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت با سعادت کالپی شریف (ہند) میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
آپ علیہ الرحمہ نے ابتدائی کتب اپنے والدِ ماجد سے پڑھیں، اس کے بعد آپ کے والد محترم نے آپ کی تعلیم و تربیت کے لئے اپنے مرید و خلیفہ حضرت شاہ افضل بن عبد الرحمن الہ آبادی علیہ الرحمہ کو منتخب فرمایا۔جن کی خدمت میں آپ نے حسامی سے بیضاوی تک جملہ علوم متداولہ کی تکمیل فرمائی ۔
استاذِ گرامی آپ کی علمی صلاحیت و قابلیت کی بنیاد پر آپ سے بے انتہاء محبت فرماتے تھے ۔ آپ علیہ الرحمہ عربی و فارسی ادب کے ماہر کامل اور علومِ منقولات و معقولات کے بے بدل عالمِ دین اور اپنے وقت کے بے مثال مدرس و مصنف تھے ۔
بیعت و خلافت:
آپ علیہ الرحمہ نے علومِ دینیہ کی تکمیل کے بعد اپنے والدِ معظم سے بیعت کا شرف حاصل کیا، اور صرف 24 سال کی عمر میں مسندِ والد ماجد پر رونق افروز ہوئے، اور تلقین و ارشاد کی محفل کو رونق عطاء کی ۔
سیرت و خصائص:
شیخ المشائخ، واقفِ اسرار حقائق، وارثِ علومِ نبوت، آفتابِ ہدایت، ماہتابِ ولایت، حضرت شیخ سید میر احمد کالپوی علیہ الرحمہ ۔
آپ علیہ الرحمہ سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ کے اکتیسویں امام اور شیخِ طریقت ہیں ۔ آپ جامع علومِ ظاہر و باطن اور شناورِ بحارِ حقیقت و معرفت تھے ۔ زہد و تقویٰ، عبادت و ریاضت میں ماہرِ کامل تھے ۔ اخلاق و عادات میں نبیِ مکرم ﷺ کی تعلیم کی تصویرِ مجسم تھے ۔ علوم و معارف آپ کی نوکِ زبان پر جاری رہتے ۔ کشف و کرامات اخفاء کے باوجود کثرت سے ظاہر ہو جاتیں ۔ نورِ ہدایت و معرفت آپ کی روشن پیشانی سے عیاں تھا ۔
اللہ جل شانہ نے آپ کو کمالِ معنوی کے ساتھ جمال صوری سے بھی خوب نوازا تھا ۔ چنانچہ حضرت شاہ خوب اللہ الہ آبادی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ’’میرے شیخ نے مجھے فرمایا کہ پہلی بار جب میں حضرت شیخ کی ملاقات سے مشرف ہوا ۔ تو ان کے اندر سرخیِ جمال و عشقِ حقیقی کو مجتمع پایا، اور اس کی وجہ سے جو شعاع نورانی ہو یدا ہوتی، اس کو دیکھنے سے میری نگاہ خیرہ ہو جاتی‘‘ ۔ (ایضا: 325)
عادات و خصائل:
آپ علیہ الرحمہ عبادت و ریاضت میں کامل اور بڑے متبعِ سنت تھے ۔ اس کے علاوہ آپ کا بہترین مشغلہ رسائلِ توحید اور مقالاتِ شیخ محی الدین ابن عربی علیہ الرحمہ کی تشریح بیان کرنا، اور ہر نماز کے بعد سلام سے متصل نو مرتبہ کلمۂ طیبہ کا ورد بآواز بلند کرتے تھے ۔ مسئلہ توحیدِ باری کی تشریح پر اگر کوئی معترض ہوتا تو اس سے مناظرے بھی کرتے تھے ۔
آپ علیہ الرحمہ حضرت شیخِ اکبر علیہ الرحمہ کے محبین میں سے تھے، اور آپ ان کے نظریات کا دفاع کرتے تھے ۔
خواجہ غریب نواز سے عقیدت:
آپ علیہ الرحمہ کو سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین حسن چشتی اجمیری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی بارگاہ سے خاص عقیدت و محبت تھی ۔ چنانچہ ایک مرتبہ اپنے والدِ ماجد حضرت سید میر محمد علیہ الرحمہ کے ہمراہ روضہ مبارکہ پر حاضر ہوئے، اور آپ کو بارگاہِ خواجہ سے روحانی فیض حاصل ہوا ۔
❤1
توجہ کی تاثیر:
آپ علیہ الرحمہ کے کشف و توجہ میں غضب کی تاثیر تھی ۔ جس شخص پر توجہ کی نظر کرتے، وہ بے خود ہو کر گر پڑتا ۔ چنانچہ حضرت شاہ خوب اللہ الہ آبادی علیہ الرحمہ بیان فرماتے ہیں: ایک شخص آپ علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: ’’ حضور ! میرے دل کی سختی اور تنگی اپنے شباب پر ہے، میرا کوئی قریبی رشتے دار یا لڑکا بھی وصال کر جائے تو حالتِ گریہ نہیں آ سکتی ۔ اس لئے حضور سے التماس ہے کہ میری اس حالتِ زار پر توجہ فرمائیں‘‘۔آپ علیہ الرحمہ نے اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں ہاتھوں میں مضبوطی سے پکڑ کر ہلایا مگر اس کی کیفیت بدستور باقی رہی، یہاں تک کہ تیسری بار میں اس پر رقّت کی کیفیت طاری ہوئی اور وہ آہ و بُکا کرنے لگا۔ اس کی دونوں آنکھوں سے آنسو جاری تھے ۔ جب اسے افاقہ ہوا تو اِس عظیم کرامت کو دیکھ کر آپ علیہ الرحمہ کے دستِ مبارک پر بیعت ہوا اور عقیدت مندوں میں داخل ہو گیا ۔ (ایضا: 326)
ذوقِ شاعری:
آپ علیہ الرحمہ ہندی و فارسی کے قادر الکلام شاعر تھے ۔ آپ علیہ الرحمہ نے بہت اشعار تحریر فرمائے، جو آپ کے علمی و ادبی ذوق پر شاہد ہیں ۔ آپ کے اشعار کے مجموعے کا نام ’’دیوانِ شعر‘‘ ہے ۔
علمی و تصنیفی خدمات:
آپ صاحبِ تصنیف بزرگ تھے ۔ مختلف موضوعات پر آپ کی عمدہ تصانیف موجود ہیں۔
1جامع الکلم فارسی ۔
2 شرح اسماء الحسنیٰ ۔
3 شرح بسیط علیٰ عقائد النسفیہ ۔
4 رسالہ معارف ۔
5 مشاہدات الصوفیہ ۔
6 دیوان شعر ۔
اولادِ امجاد:
اللہ تعالیٰ نے آپ کو تین فرزند عطا فرمائے۔
جو نہایت ہی عابد و زاہد اور متقی و پرہیزگار تھے
حضرت سید شاہ فضل اللہ کالپوی ۔
حـضـرت سـید شاہ سلطان مقصود ـ
حـضـرت سـید شاہ سلطان محمود ـ
علیہم الرحمہ
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 10؍صفر المظفر، بروز پنجشبہ (جمعرات)، بوقتِ شام، 1084ھ، مطابق 25؍ مئی 673ء کو ہوا۔
مزار شریف:
آپ کا مزار مبارک کالپی شریف (ہند) میں مرجع خلائق ہے ۔
شجرہ شریف میں اس طرح ذکر ہے:
دے محمد کے لئے روزی کر احمد کے لئے
خوانِ فضل اللہ سے حصہ گدا کے واسطے
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
اے بنامت شیرۂ جاں شد نباتِ کالپی
احمد انوشیں لبا، شیریں ادا امداد کن
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-meer-syed-ahmad-kalpwi
آپ علیہ الرحمہ کے کشف و توجہ میں غضب کی تاثیر تھی ۔ جس شخص پر توجہ کی نظر کرتے، وہ بے خود ہو کر گر پڑتا ۔ چنانچہ حضرت شاہ خوب اللہ الہ آبادی علیہ الرحمہ بیان فرماتے ہیں: ایک شخص آپ علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: ’’ حضور ! میرے دل کی سختی اور تنگی اپنے شباب پر ہے، میرا کوئی قریبی رشتے دار یا لڑکا بھی وصال کر جائے تو حالتِ گریہ نہیں آ سکتی ۔ اس لئے حضور سے التماس ہے کہ میری اس حالتِ زار پر توجہ فرمائیں‘‘۔آپ علیہ الرحمہ نے اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں ہاتھوں میں مضبوطی سے پکڑ کر ہلایا مگر اس کی کیفیت بدستور باقی رہی، یہاں تک کہ تیسری بار میں اس پر رقّت کی کیفیت طاری ہوئی اور وہ آہ و بُکا کرنے لگا۔ اس کی دونوں آنکھوں سے آنسو جاری تھے ۔ جب اسے افاقہ ہوا تو اِس عظیم کرامت کو دیکھ کر آپ علیہ الرحمہ کے دستِ مبارک پر بیعت ہوا اور عقیدت مندوں میں داخل ہو گیا ۔ (ایضا: 326)
ذوقِ شاعری:
آپ علیہ الرحمہ ہندی و فارسی کے قادر الکلام شاعر تھے ۔ آپ علیہ الرحمہ نے بہت اشعار تحریر فرمائے، جو آپ کے علمی و ادبی ذوق پر شاہد ہیں ۔ آپ کے اشعار کے مجموعے کا نام ’’دیوانِ شعر‘‘ ہے ۔
علمی و تصنیفی خدمات:
آپ صاحبِ تصنیف بزرگ تھے ۔ مختلف موضوعات پر آپ کی عمدہ تصانیف موجود ہیں۔
1جامع الکلم فارسی ۔
2 شرح اسماء الحسنیٰ ۔
3 شرح بسیط علیٰ عقائد النسفیہ ۔
4 رسالہ معارف ۔
5 مشاہدات الصوفیہ ۔
6 دیوان شعر ۔
اولادِ امجاد:
اللہ تعالیٰ نے آپ کو تین فرزند عطا فرمائے۔
جو نہایت ہی عابد و زاہد اور متقی و پرہیزگار تھے
حضرت سید شاہ فضل اللہ کالپوی ۔
حـضـرت سـید شاہ سلطان مقصود ـ
حـضـرت سـید شاہ سلطان محمود ـ
علیہم الرحمہ
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 10؍صفر المظفر، بروز پنجشبہ (جمعرات)، بوقتِ شام، 1084ھ، مطابق 25؍ مئی 673ء کو ہوا۔
مزار شریف:
آپ کا مزار مبارک کالپی شریف (ہند) میں مرجع خلائق ہے ۔
شجرہ شریف میں اس طرح ذکر ہے:
دے محمد کے لئے روزی کر احمد کے لئے
خوانِ فضل اللہ سے حصہ گدا کے واسطے
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
اے بنامت شیرۂ جاں شد نباتِ کالپی
احمد انوشیں لبا، شیریں ادا امداد کن
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-meer-syed-ahmad-kalpwi
scholars.pk
Hazrat Meer Syed Ahmad Kalpwi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1