🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
حضرت پیر محمد عمر روحی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

حضرت پیر ابو الرضا محمد عمر روحی ۱۷ صفر المظفر ۱۳۱۸ھ ؍ ۱۶مئی ۱۹۰۰ء کو تولد ہوئے۔

ملازمت:
مارچ ۱۹۱۷ء میں آپ جودھپور ریلوے میں بطور تار بابو ملازمت اختیار کی اور اس سلسلہ میں مختلف مقامات پر تعینات رہے۔ جون ۱۹۱۹ء میں انہوں نے مستقل ملازمت محکمہٗ تار و ڈاک میں اختیار کی اور مختلف مقامات پر بطور پوسٹ ماسٹر تعینات رہے۔ مارچ ۱۹۲۳ء کو ان کا تبادلہ ان کے آبائی وطن ’’ناوہ کچا من‘‘ میں ہوا۔

بیعت و خلافت:
ناوہ کچا من میں جب ان کا تبادلہ ہوا تو یہیں ۱۹۲۳ء کے او آخر میں ان کی ملاقات حضرت میر سید محمد احمد صدیقی المتخلص بہ قاتل شاہ لکھنوی ( مدفون دربار عالم شاہ بخاری جامع کلاتھ کراچی ) سے ہوئی جو محکمہ ریلوے میں ملازم تھے اور اکثر اجمیر شریف سے قصبہ ناوہ آتے رہتے تھے۔ ان سے ملاقاتیں ہونے لگیں ، صحبت میں بیٹھنا نصیب ہوا، رنگ چڑھا اثر ہوا اور بالآخر ۲۵ ذی الحجہ ۱۳۴۳ھ؍ ۱۷ جولائی ۱۹۲۵؁ء کو سلسلہ عالیہ سہرور دیہ کی شاخ جہانگیری میں حضرت قاتل شاہ سے دست بیعت ہوئے اور ۲۶ ربیع الاول ۱۳۴۷ھ؍ ۱۱ ستمبر ۱۹۲۸ء کو انہیں خلافت و اجازت سے نواز ا گیا۔ یوں انہوں نے ملازمت کے ساتھ ساتھ سلسلہ کا کام بھی جاری رکھا۔

صدر الشریعۃ سے عقیدت:
انہیں خلیفۂ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی صدر الشریعہ علامہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے جو تعلق و محبت تھی وہ انہیں کے الفاظ میں درج ہے۔ وہ انہوں نے خود نوشت سوانح ’’ روئے کتابی ‘‘ میں یوں لکھتے ہیں:

( ۶مئی ۱۹۴۰ء کو )پالی پہنچنے پر وہاں کے مسلمان خصوصا چھیپے ملنے کیلئے آئے اور انہوں نے ہم سے کہا کہ صدر الشریعۃ مولانا امجد علی صاحب ( صاحبِ بہار شریعت ) جب تک اجمیر شریف میں درگاہ شریف میں درگاہ کے مدرس تھے ، ہر سال گیارہویں شریف میں تقریر کیلئے پالی تشریف لایا کرتے تھے۔ لیکن اب وہ دادوں ضلع مظفر پور چلے گئے ہیں ہم نے انہیں گیارہویں شریف پر بلانے کیلئے خط لکھے ہیں لیکن انہوں نے آنے سے انکار کردیا۔ ہم نے کہا کہ ہم ان کو بلائیں گے ، ان سے پتہ لے کر ہم نے انہیں تار دیا کہ اس جواب میں مولانا نے پالی آنے کا اقرار کر لیا۔۔۔۔بڑی گیارہویں شریف پر مولانا امجد صاحب پالی تشریف لے آئے اور شام کو چھیپوں کی بڑی مسجد کے سامنے پیارا چوک میں ان کی تقریر ہوئی، ہم نے بھی اور لوگوں کے ساتھ سامعین میں تقریرسنی ، تقریر ختم کرنے کے بعد مولانا چھیپوں کی بڑی مسجد کے اوپر حجرہ میں جائے قیام کیلئے تشریف لے گئے ،ہم بھی ان کے پیچھے پیچھے اوپر گئے ۔ وہ جب جا کر چار پائی پر بیٹھ گئے تو ہم نے ان کو سلام کیا اور دست بوسی کی، انہوں نے ہمارے حضرت قبلہ ( قاتل شاہ ) اور دادا قبلہ ( حضرت عبدالشکور ) کی خیریت معلوم کی اور دریافت کیا کہ آپ یہاں کیسے آئے ؟ میں نے عرض کیا کہ پوسٹ ماسٹر کی جگہ تبدیل ہو کر یہاں آیا ہوں ۔ آپ نے دریافت فرمایا کہ آپ نے یہاں کچھ سلسلہ کا کام کیا؟ میں نے عرض کیا کہ مجھے آئے ہوئے تھوڑا ہی عرصہ ہوا ہے اگر میرے حضرات کا کرم اور آپ کی دعا شامل حال رہی تو انشاء اللہ سلسلے کا کام شروع ہو جائے گا۔ آپ نے فرمایا کہ کل صبح کا ناشتہ ہمارے ساتھ کرنا ۔۔۔۔۔۔۔۔ لہذا دوسری صبح فجر کی نماز کے بعد مولانا کے ساتھ ناشتہ کیا دوسرے روز شام کو پھر محلہ ناڑی میں مولانا کی تقریر بھی عام سامعین کے ساتھ سنتے رہے۔ وعظ ختم ہونے کے بعد ہم السلام علیکم کر کے مصافحہ کیا۔ آپ نے فرمایا کہ آپ کہاں بیٹھے تھے ؟ یہاں میرے ساتھ تخت پر آکر بیٹھنا چاہیے تھا۔

میں نے عرض کیا کہ مجھے سامنے بیٹھ کر ہی سننے میں مزا آتا ہے‘‘۔ ( روئے کتابی صفحہ ۱۴۱ مطبوعہ حیدرآباد )

پاکستان آمد:
قیام پاکستان کے بعد پاکستان تشریف لائے اور حیدرآباد سندھ میں سکونت اختیار کی۔

وصال:
حضرت ابو الرضا محمد عمر روحی یکم محرم الحرام ۱۳۸۹ھ؍ ۱۲ دسمبر ۱۹۷۷ء ۷۷ سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔

[ جناب حسن نواز شاہ صاحب ( اسلام آباد ) کے مقالہ سے یہ مضمون ماخوذ ہے ]


( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-peer-muhammad-umar-rohi
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت مولانا شاہ محمد محی الدین بدایونی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی: شاہ محمد محی الدین ۔ بدایوں کی نسبت سے " بدایونی " کہلاتے ہیں ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا شاہ محمد محی الدین بدایونی بن سیف اللہ المسلول شاہ فضلِ رسول بدایونی بن شاہ عبد المجید بدایونی ۔ (علیہم الرحمہ) ـ

تاریخِ ولادت:
بروز ہفتہ، 17 صفر المظفر 1243ھ، بمطابق 8 ستمبر 1827ء کو پیدا ہوئے ۔ " مظہرِ محمود " تاریخی نام ہے ۔

تحصیلِ علم:
تمام علومِ نقلیہ و عقلیہ کی تحصیل و تکمیل اپنے والدِ گرامی سے ہوئی، اور اپنے ہم عصروں سے علمی اعتبار سے ممتاز ہو گئے ۔

بیعت و خلافت:
اپنے دادا مولانا شاہ عبد المجید بدایونی علیہ الرحمہ سے بیعت ہوئے، اور اپنے والدِ گرامی حضرت سیف اللہ المسلول شاہ فضلِ رسول رحمۃ اللہ علیہ نے خلافت عطاء فرمائی ۔

سیرت و خصائص:
قاطعِ وہابیت و نجدیت، جامع المنقولِ والمعقول، عالمِ ربانی، خلف الرشید حضرت شاہ فضلِ رسول بدایونی  علیہ الرحمہ حضرت علامہ مولانا شاہ محمد محی الدین بدایونی رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ علیہ الرحمہ حضرت شاہ فضلِ رسول بدایونی علیہ الرحمہ کے سب سے بڑے صاحبزادے ہیں ۔ بچپن ہی سے آثار بزرگی چہرے سے ظاہر تھے، والد ماجد سے علوم و فنون کا تکملہ کیا، آپ احیائے سنت میں مستعد اور وہابیوں کے حق میں برق خاطف تھے ۔

آپ اعلیٰ درجہ کے طبیب تھے۔ مریض ہر وقت گھیرے رکھتے ۔ درس و تدریس اور تصنیف کا خاص ذوق رکھتے تھے ۔ مولوی سراج سہسوانی مدرسہ عالیہ قادریہ کے تعلیم یافتہ تھے، مگر شامتِ اعمال سے ترک تقلید کے قائل، سودائے نجدیت سے سرشار تھے ۔ نجدی عقائد میں اُن کی تالیف "سراج الایمان" چھپ کر شائع ہوئی تو اس محی السنۃ نے حمایت حق میں "شمس الایمان" لکھ کر چراغ بے دینیت کو گلُ کر دیا، اور احقاقِ حق اور ردِ باطل میں اپنے والدِ گرامی کی یاد تازہ کر دی ۔ آپ ساری زندگی دینِ متین کے فروغ کیلئے کوشاں رہے۔

وصال:
بروز ہفتہ 6 ذیقعدہ 1270ھ، بمطابق 30 جولائی 1854ء کو وصال فرمایا ۔

حضرت شیخ نور قادری (از اولاد امجاد حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ جو عالمگیری عہد کے عظیم بزرگ تھے) کےآستانہ سہارن پور (انڈیا) میں جانب شمال مدفون ہیں ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-muhammad-mohiuddin-badayuni
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت مولانا حامد علی خان رامپوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

اسمِ گرامی:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کا اسمِ گرامی حامد علی خان تھا اور آپ کے والد ماجد کا اسمِ گرامی شہید علی خان بن مہدی علی خان تھا ۔ (رحمۃ اللہ علیہم)

تاریخ و مقامِ ولادت:
آپ غالباً 1906ء میں مصطفیٰ آباد (عرف رامپور، یوپی، ہند)کے محلہ حلقہ والی زیارت کے مقام پر پیدا ہوئے۔

تحصیلِ علم:
آپ رحمۃ اللہ علیہ نے حافظ حمایت اللہ خان صاحب سے شرح جامی اور اور قطبی تک تمام اسباق انہی سے پڑھے ، پھر مدرسہ عالیہ رامپور جو ہندوستان کی منفرد علمی درس گاہ ہے، میں داخلہ لیا اوروہاں کے کورس کے مطابق تعلیم حاصل کی۔حضرت نے 1930ء میں مدرسہ عالیہ رامپور سے سند فراغت حاصل کی اور تمام مدرسہ میں اول آئے۔

بیعت:
مولانا حامد علی خان رحمۃ اللہ علیہ نے شاہ عنایت رحمۃ اللہ علیہ کے دست حق پرست پر بیعت کی۔

سیرت و خصائص:
حضرت مولانا حامد علی خان رامپوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مایہ ناز عالم، بلند پایہ مفتی اور کامل شیخ طریقت تھے۔آپ رحمۃ اللہ علیہ زمانہ طالب علمی سے اور اد و وظائف کے پابند تھے، دونوں وقت خانقاہ عنایت میں ختم خواجگان اور حلقہ ذکر میں حاضری دیتے۔

بیعت کے بعد 5 سال مرشد کی خدمت میں رہ کر منازل سلوک طے کیں اور کارسلوک، ‘‘حقیقت ابراہیمی’’تک پہنچا ، شیخ کے وصال کے بعد ان کے صاحبزادے مولانا حمایت اللہ سجادہ نشین ہوئے تو ان کے فیض حاصل کیا ، انہی دنوں روہتک سے قاری خورشید صاحب رام پور آئے اور عرض کی کہ ہمیں ایک مدرس چاہیے چناں چہ مفتی حمایت اللہ صاحب نے آپ کو ان کے سپرد کر دیا، چناں چہ آپ نے 1932ء میں خیر لمعاد روہتک کا انتظام سنبھالا، آپ کی آمد سے اس مدرسہ کو چار چاند لگ گئے۔

شروع میں اپ بیعت فرمانے سے انکار کرتے تھے مگر بعد میں حضرت مولانا محمد اللہ خان صاحب سجادہ نشین خانقاہ عنایتہ کے حکم پر بیعت کرنا شروع کر دیا ۔

حضرت نے 1932ء سے 1947ء تک روہتک میں قیام فرمایا 1940ء سے 1947ء تک زمانہ روہتک کے مسلمانوں کے لیے بڑا صبر آزما تھا، کاروبار پر ہندو چھائے ہوئے تھے وہ غلہ کی دکانیں بند کردیتے تھے ، اور مسلمانوں کو فاقوں کی نوبت آتی تھی، حضرت نے یہ صورت حال دیکھ کر مدرسہ خیرالمعاد میں عمائدین شہر کا ایک اجلاس طلب کیا اور غذا کی قلت کو دور کرنے کے لیے ٹھوس تجاویز پیش کیں،

چنانچہ فیصلہ کیا گیا کہ مسلم ٹریڈرز کے نام سے ایک کمپنی کا اجراء کیا جائے، آپ کی کوششوں سے 5 لاکھ کے سرمایہ سے کمپنی نے کام شروع کیا یہ کمپنی مسلمانوں کو غلہ سپلائی کرتی تھی ۔

اس طرح مسلمان بھوک کی مصیبت سے محفوظ ہوئے۔ حضرت نے شروع ہی میں مسلم لیگ کا ساتھ دیا ایک مرتبہ روہتک میں فیروز خان نون تشریف لائے تو حضرت نے روہتک کی مساجد اور اہم مقامات دکھائے اور ۵ ہزار روپیہ مسلم لیگ کے فنڈ میں عطا کیا جب روہتک میں فسادات زائد ہونے لگے تو آپ رام پور تشریف لائے یہاں مدرسہ عالیہ رام پور میں شیخ التفسیر بنادیئے گئے، مگر حضرت کے روہتکی مریدین کی ایک بڑی جماعت ہجرت کر کے ملتان آگئی تھی اس کا اصرار تھا کہ آپ پاکستان تشریف لائیں چناں چہ آپ ملتان تشریف لائے اور یہاں مدرسہ خیر المعاد کا نظام سنبھالا،

یہاں کمیونزم اور سوشلزم کے خلاف جس ہمت مردانہ اور شجاعت قلندرانہ کا مظاہرہ کیا اس سے نہ تو کوئی پاکستانی بے خبر ہوگا اور نہ ہی اس کا منکر ہوگا، جب مسٹر بھٹو سابق وزیر اعظم پاکستان کے مقابلہ میں مسلمانوں نے کسی نمائندہ کو انتخابات کے لیے کھڑا کرنے کی ضرورت محسوس کی تو صرف آپ ہی کی ذات ایسی نظر آئی جس پر تمام سیاسی اور مذہبی پارٹیاں بیک زبان متفق ہوگئیں۔ پھر حضرت نے پورے وقار اور متانت کے ساتھ ملکی سیاست میں تادم زیست بھر پور حصہ لیا ۔

تاریخِ وصال:
آپ 17 صفر 1400ھ بروز پیر دوپہر کے وقت اس دار فانی سے کوچ کر گئے ۔

حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی رحمہ اللہ نے نماز جنازہ پڑھائی آپ کو قلعہ کہنہ قاسم باغ ملتان میں حضرت پیر دربر دھلوی کے پہلو دفن کیا گیا۔

آپ کے مزار پر عظیم الشان قبہ ہے اور متصل عربی کا مدرسہ اور مسجد ہے۔

ماخذ و مراجع: تذکرہ اولیاءِ سندھ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hamid-ali-khan-rampuri
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
16-02-1445 ᴴ | 03-09-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
17-02-1445 ᴴ | 04-09-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
17-02-1445 ᴴ | 04-09-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
17-02-1445 ᴴ | 04-09-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1