🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضور رئیس القلم حضرت علامہ ارشد القادری رحمۃ اللہ علیہ

اسمِ گرامی:
آپ کا اسمِ گرامی ارشد القادری تھا ۔ آپ کے والد ماجد بحر الاسرار حضرت شاہ عبد العلیم آسی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید اور سلسلۂ رشیدیہ کے سالک تھے، اسی وجہ سے آپ کا نام غلام رشید تجویز فرمایا۔ اور بعد میں ارشد القادری سے مشہور ہوئے ۔ (علیہم الرحمہ) ـ

تاریخ و مقامِ ولادت:
اردو کے مشہور انشاء پر دراز رئیس التحریر حضرت علامہ ارشد القادری رضوی موضع سید پور، ضلع بلیا میں 1924ء کو پیدا ہوئے ۔

تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے ضلع کے مدارس اسلامیہ میں حاصل کی اور اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے جامعہ اشرفیہ مبارک پور کا سفر کیا اور وہاں پر حضور حافظِ ملت مولانا عبد العزیز رضوی مراد آبادی کے مخصوص شاگرد رہے ۔

بیعت و خلافت:
حضرت علامہ ارشد القادری رضوی کو ارادت اور خلافت کا شرف حضور مفتئ اعظم ہند علامہ مصطفیٰ رضا خاں نوری بریلوی رحمۃ اللہ علیہ سے حاصل ہے ۔ اور حضرت مولانا حبیب الرحمٰن رضوی نے اجازت سے نوازا۔

سیرت و خصائص:
رئیس القلم، مناظرِ اہلسنت حضرت علامہ مولانا ارشد القادری رحمۃ اللہ علیہ ایک با وقار شخصیت کے حامل  اور دین کا درد رکھنے والوں میں سے تھے ۔ تکمیل درس کے بعد مختلف مدارس میں تدریسی خدمات انجام دیں ۔ کچھ عرصہ ناگپور میں بسلسلۂِ تدریس مقیم رہے۔ فیض العلوم، ادارۂ شریعہ بہار کا قیام حضرت علامہ ارشد القادری نے تقریباً 1954ء میں کیا ۔

جمشید پور میں مشہور دیوبندی مولوی عبد اللطیف اعظمی سے کامیاب مناظرہ کیا، اور پورے جمشید پُور پر چھا گئے ۔ ٹاٹا کمپنی سے زمین حاصل کر کے عظیم الشان فیض العلوم قائم کیا ۔

اور 1388ھ میں سیوان، ضلع چھیرہ، صوبہ بہار میں صوبائی کانفرنس کا انعقاد اور اجلاس کے بطن سے پیدا شدہ ادارۂ شریعہ بہار علامہ ارشد القادری کی زندگی کا اہم کار نامہ ہے، ایک مست و سرشارِ بادۂِ حُبِ نبوی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے پورے بِہار کے سنی مسلمانوں کو ہوشیار و فرزانہ بنادیا ہے ۔

1990ء ؍ 1410ھ میں بھاگلپور کا فساد اور اس کثیر تعداد میں مسلمانوں کی ہلاکت، اس موقع پر ادارۂ شریعہ بِہار کی خدمات ہندوستان کے باشندوں پر روشن ہیں۔

علامہ ارشد القادری نے تَن مَن دَھن کی بازی لگا کر مسلمانوں کے ساتھ وہ تعاوُن کیا جس کی نظیر دوبارہ مِلنا مشکل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے گھر اور اپنے حبیب پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی آرام گاہ کا دیدار بھی کرا دیا ۔ سینکڑوں چھوٹے بڑے مدارس اور انجمنیں ان کی فعال اور متحرک ذہنیت کا زندہ ثبوت ہیں۔

جامِ کوثر اور جامِ نور علامہ ارشد القادری قوت عمل میں اپنی نظیر رکھتے ہیں ۔ جامِ کوثر پندرہ روزہ اخبار کلکتہ سے نکالا، اس کے بعد جامِ نور جاری کیا ۔ آپ منفرد اسلوب تحریر کے مالک ہیں، بلا مبالغہ آپ کو صاحبِ طرز انشاء پرداز کہا جا سکتا ہے۔

علامہ ارشد القادری کی ادیبانہ تحریر نے جامِ نور کو جو مقام دیا وہ مقام آج کل کے رسالوں میں نہیں پایا جاتا، مگر کچھ نا موافق حالات کی بنا پر جامِ نور بند ہو گیا۔

تاریخِ وِصال:
علامہ ارشد القادری رحمۃ اللہ علیہ کا وصال 16 صفر المظفر 1423ھ ، مطابق 29 اپریل 2002ء کو ہوا ۔

ماخذ و مراجع: تذکرہ علمائے اہلِ سنت

https://scholars.pk/ur/scholar/raees-ul-qalam-hazrat-allama-molana-arshadul-qadri
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
15-02-1445 ᴴ | 02-09-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
16-02-1445 ᴴ | 03-09-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
16-02-1445 ᴴ | 03-09-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
16-02-1445 ᴴ | 03-09-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1