🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت سید علیم اللہ چشتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

آپ قصبہ جالندھر کے سادات گھرانے سے تعلق رکھتے تھے آپ کا شجرہ نسب زید بن حسن رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے آپ شاہ ابو المعالی قدس سرہ کے مرید تھے ظاہری علوم میں کمال حاصل کیا اور علماء وقت میں ممتاز ہوئے آپ کی تصانیف میں انہار الاسرار شرح بوستان سعدی نزہتہ السالکین شرح اخلاق ناصری۔ زبدۃ الروایات نثر الجواہر جو اندر مرجان کا فارسی ترجمہ ہے جس میں بلند پایا کتابیں یاد گار زمانہ ہیں بچپن میں ہی حضرت شاہ ابوالمعالی چشتی کی خدمت میں رہنے لگے تھے مگر بڑے ہوئے تو آپ کو سید میراں بھیکھہ رحمۃ اللہ علیہ سے خرقۂ خلافت ملا۔ آپ کی ساری عمر طلبا کی تعلیم اور خدامین کی تلقین میں گزری آپ کا شعری مذاق بڑا بلند تھا اور شعر خاص انداز میں کہتے تھے ہم آپ کی ایک غزل کا مطلع و مقطع دیتے ہیں۔

یار از خلوت گہہ قدسی عیاں تاختہ
تیغ استغنا بگردن ہائے اعتبار آختہ

از تلو نہائے تو شکر لباں گا علیم
ہمچو سیخ افسردہ گاہے چوں نمک بگداختہ

آپ کی کرامات اسرار تعلیم مولّفہ شیخ عبداللہ قدس سرہ میں کثرت سے بیان کی گئی ہیں مگر ہم یہاں آپ کے تصرفات کا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں۔ آدینہ بیگ فوجدار دوآبہ جالندھر کے زمانہ میں ایک شخص صدیق بیگ کو قصبہ نور محل کا حاکم بنا دیا گیا اس نے نور محل پہنچتے ہی سب سے پہلا اقدام یہ کیا کہ ایک سید جو جالندھر کے سادات میں سے تھا کی تمام جائیداد ضبط کرلی اور ساتھ ہی تیس روپے جرمانہ بھی طلب کرلیا اس سیّد نے حضرت شاہ علیم اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوکر سفارش کی استدعا کی آپ نے حاکم نور محل کے نام ایک سفارشی رقعہ لکھا مگر حاکم نے قبول نہ کیا اور بڑی بے ہودہ باتیں کیں۔ دوسرے ہی دن آدینہ بیگ نے اس حاکم کو کسی پرانے جرم میں طلب کر کے قید کردیا اور تیس ہزار تاوان بھی مقرر کر دیا گیا۔

آپ بائیس جمادی الاوّل ۱۱۰۹ھ کو پیدا ہوئے اور سولہ (۱۶) صفر ۱۲۰۲ھ کو فوت ہوئے آپ کا مزار جالندھری شہر میں ہے آپ کے مزار پر آفتاب چشتیہ (۱۲۰۲ھ) سے تاریخ نکال کر پتھر پر لکھی ہوئی ہے۔

حضرت سید علیم اللہ پیر
صاحب صدق و صفا خیر الانام
فیض دیدار است تولیدش عیاں
سال ترحیلش بگو شیخ الکرام
۱۲۰۲ھ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-aleemullah-chishti
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت مولانا سلطان الدین جے پوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

حضرت مولانا سلیم الدین جے پوری قدس سرہٗ العزیز کے چھوٹے بھائی، ۲۳رجب ۱۲۶۸ھ بروز سہ شنبہ ولادت ہوئی،تعلیم کی ابتداء والد ماجد سے کی،قرآن پاک ختم کرکے فارسی شروع کی،اپنے ماموں مولانا رشید الدین فائز اور برادر بزرگ سے درسیات پڑھی،اور سند اجازت حاصل کی،ریاست جے پور کے مفتی تھے، قادر الکلام واعظ تھے، بکثرت آپ کے وعظ کی محفلیں منعقد ہوئیں ایک بار میر باع میں آپ کی تقریرکا انتظام ہوا،صاحب مجلس سید عبد الرحمٰن نےو اقعۂ معراج بیان کرنے کی گذارش کی،آپ نے سُبْحَانَ الَّذِیْ اَسْریٰ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے جسمانی مراج کا اثبات فرمایا، ایک دوسرےعالم جو مدعو تھے،دوران تقریری میں آپ سے پوچھا کہ ‘‘اگر معراج جسمانی ہوئی تو قطع نظر معجزہ اور حکم الٰہی کے فضرتاً بربنائے عقل کرۂ نار سے صحیح وسالم گذرنائس طرح ممکن ہے؟ آپ نے فوراً جواب دیا، ‘‘بالکل! اسی طرح جیسے ایک پر کاہ بسرعت تمام آگ کی کپٹ سے صحیح وسالم گذرجاتا ہے،۔۔۔۔۔۔آپ پر گو شاعر بھی تھے،اور درجۂ استادی رکھتے تھے،مبین تخلص تھا، برادر بزرگ سے اصلاح حاصل کرتے تھے،حضرت شاہ حبیب الرحمٰن سرساو: شریف ضلع سہارن پور کے خلف اکبر و جانشین حضرت شاہ خلیل الرحمٰن کے مرید وخلیفہ اور صاحب مقامات تھے، ۱۶صفر المظفر ۱۳۳۶ھ مطابق ۵ دسمبر ۱۹۱۷ھ بروز چہار شنبہ مغرب کی اذان کے وقت فوت ہوئے۔

سید انور علی شاہ جے پوری نے ‘‘شُد مسلم رحنتِ سلطان دیں’’ اور احترام الدین شاعل عثمانی صاحب نے لَقَدْ فَازَ فَوْ زاً عَظِیْماً’’ تاریخ وفات کہی۔

( تذکرہ شعرائے جے پور )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-sultanuddin-jaipuri
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
اولاد حضرت لعل شہباز قلندر علیہ‌الرحمہ حضرت علامہ سید مغفور القادری رحمۃ اللہ علیہ

اسمِ گرامی:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کا اسمِ گرامی سید مغفور القادری اور والد ماجد کا اسمِ گرامی سید سرد احمد القادری تھا ۔

سلسلۂ نسب:
آپ کا سلسلۂ نسب سید عثمان مروندی مشہور بہ لعل شہباز قلندر سے جا ملتا ہے ۔ (رحمۃ اللہ علیہم) ـ

تاریخ و مقامِ ولادت:
آپ کی پیدائش 1326ھ / بمطابق 1906ء کو گڑھی اختیار خاں، ضلع رحیم یار خاں، مغربی پاکستان میں سندھ کے مشہور بزرگ حضرت سید عثمان مروندی مشہور بہٖ لعل شہباز قلندر کے خاندان میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
حضرت مولانا پیر مغفور القادری نے دربار بھر چونڈی شریف میں حضرت مولانا عبد الکریم ہزاروی سے اوّلاً اکتساب علم کیا، اس کےبعد مشہور فقیہ وعالم مولانا سراج احمد مکھن بہلوی سے فقہ کا درس لیا، اور حضرت مولانا مفتی محمد حیات ساکن گڑھی اختیار خاں سے تفسیر وعلم کلام حاصل کیا، اور دورۂ حدیث مدرسہ شمس العلوم بستی مولویان سابق ریاست بھاولپور کےعلماء سے کیا ۔ 25 برس کی عمر میں 1352ھ کو درسیات کی تکمیل سے فراغت پائی ۔

بیعت و خلافت:
پیر سید مغفور القادری نے قطب الوقت حضرت شیخ محمد عبداللہ ساکن بھر چونڈی شریف ضلع سکھر صوبہ سندھ کے خلیفہ حضرت حافظ محمد صدیق قدس سرہما بھرچونڈی شریف سے بیعت کی، قطب الوقت کے خلیفہ وجانشین مجاہد اسلام حضرت پیر عبدالرحمٰن نے خلافت مرحمت فرمائی، آپ کو اپنے والد ماجد سے خاندانی پیر عبدارلرحمٰن بھی نے خلافت مرحمت فرمائی، آپ کواپنے والد ماجد سے خاندانی سلسلہ قادریہ میں اجازت بھی حاصل تھی ۔

سیرت و خصائص:
حضرت علامہ مولانا سید مغفور القادری رحمۃ اللہ علیہ کو مسلک اہل سنت کی ترویج وتبلیغ کی طرف خاص توجہ تھی، اس سلسلہ میں سندھ اور بھاول پور میں تبلیغی دورے کیے، مناظرے کیے، مسجدیں تعمیر کرائیں، مدارس قائم کرائے، مسجد منزل گاہ کے مشہور تنازعہ میں پیش پیش رہے، آپ کی قائم کردہ جماعت احیاء اسلام نے عقائد واعمال واخلاق میں نمایاں کام کیا، ‘‘الجماعۃ’’ کے نام سے اخبار جاری کیا، قیام پاکستان کے بعد مملکت کو دستور اسلامی میں ڈھالنے کےلیے تنظیم المشایخ کے نام سےمشایخ کی انجمن قائم کی۔ آپ کی ذات فقر ودرویشی کا پیکر اور عشق رسول ﷺ کا مجسمہ تھی، استغناء اور بے نیازی آپ کی خصوصی شان تھی، آواز میں بلاکا سوز و سحر تھا، قرآن پاک کی تلاوت کرتے تو خود بے خود ہوتے، اور سامعین کو بھی بے خود کر دیتے ۔ 1946ء میں سندھ کے نمائندہ کی حیثیت سے ایک سو افراد کے ہمراہ آل انڈیا سنی کانفرنس،بنارس میں شرکت کی اور کانفرنس کی خصوصی میٹنگوں میں شریک ہوئے، اسی دوران اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پر بھی حاضر ہوئے حضرت مغفور القادری، سرور عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسم کی محبت سے پوری طرح سرشار تھے ۔ آپ نے مسلک اہل سنت و جماعت کی نا قابل فراموش خدمات سر انجام دیں ـ

تاریخ وصال:
بروز دو شنبہ 16 صفر المظفر 1390ھ میں آپ کی وفات ہوئی ۔

ماخذ و مراجع:
حدائق الحنفیہ ۔ تذکرہ اکابرِ اہلسنت

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-syed-maghfoor-ul-qadri
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضور رئیس القلم حضرت علامہ ارشد القادری رحمۃ اللہ علیہ

اسمِ گرامی:
آپ کا اسمِ گرامی ارشد القادری تھا ۔ آپ کے والد ماجد بحر الاسرار حضرت شاہ عبد العلیم آسی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید اور سلسلۂ رشیدیہ کے سالک تھے، اسی وجہ سے آپ کا نام غلام رشید تجویز فرمایا۔ اور بعد میں ارشد القادری سے مشہور ہوئے ۔ (علیہم الرحمہ) ـ

تاریخ و مقامِ ولادت:
اردو کے مشہور انشاء پر دراز رئیس التحریر حضرت علامہ ارشد القادری رضوی موضع سید پور، ضلع بلیا میں 1924ء کو پیدا ہوئے ۔

تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے ضلع کے مدارس اسلامیہ میں حاصل کی اور اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے جامعہ اشرفیہ مبارک پور کا سفر کیا اور وہاں پر حضور حافظِ ملت مولانا عبد العزیز رضوی مراد آبادی کے مخصوص شاگرد رہے ۔

بیعت و خلافت:
حضرت علامہ ارشد القادری رضوی کو ارادت اور خلافت کا شرف حضور مفتئ اعظم ہند علامہ مصطفیٰ رضا خاں نوری بریلوی رحمۃ اللہ علیہ سے حاصل ہے ۔ اور حضرت مولانا حبیب الرحمٰن رضوی نے اجازت سے نوازا۔

سیرت و خصائص:
رئیس القلم، مناظرِ اہلسنت حضرت علامہ مولانا ارشد القادری رحمۃ اللہ علیہ ایک با وقار شخصیت کے حامل  اور دین کا درد رکھنے والوں میں سے تھے ۔ تکمیل درس کے بعد مختلف مدارس میں تدریسی خدمات انجام دیں ۔ کچھ عرصہ ناگپور میں بسلسلۂِ تدریس مقیم رہے۔ فیض العلوم، ادارۂ شریعہ بہار کا قیام حضرت علامہ ارشد القادری نے تقریباً 1954ء میں کیا ۔

جمشید پور میں مشہور دیوبندی مولوی عبد اللطیف اعظمی سے کامیاب مناظرہ کیا، اور پورے جمشید پُور پر چھا گئے ۔ ٹاٹا کمپنی سے زمین حاصل کر کے عظیم الشان فیض العلوم قائم کیا ۔

اور 1388ھ میں سیوان، ضلع چھیرہ، صوبہ بہار میں صوبائی کانفرنس کا انعقاد اور اجلاس کے بطن سے پیدا شدہ ادارۂ شریعہ بہار علامہ ارشد القادری کی زندگی کا اہم کار نامہ ہے، ایک مست و سرشارِ بادۂِ حُبِ نبوی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے پورے بِہار کے سنی مسلمانوں کو ہوشیار و فرزانہ بنادیا ہے ۔

1990ء ؍ 1410ھ میں بھاگلپور کا فساد اور اس کثیر تعداد میں مسلمانوں کی ہلاکت، اس موقع پر ادارۂ شریعہ بِہار کی خدمات ہندوستان کے باشندوں پر روشن ہیں۔

علامہ ارشد القادری نے تَن مَن دَھن کی بازی لگا کر مسلمانوں کے ساتھ وہ تعاوُن کیا جس کی نظیر دوبارہ مِلنا مشکل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے گھر اور اپنے حبیب پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی آرام گاہ کا دیدار بھی کرا دیا ۔ سینکڑوں چھوٹے بڑے مدارس اور انجمنیں ان کی فعال اور متحرک ذہنیت کا زندہ ثبوت ہیں۔

جامِ کوثر اور جامِ نور علامہ ارشد القادری قوت عمل میں اپنی نظیر رکھتے ہیں ۔ جامِ کوثر پندرہ روزہ اخبار کلکتہ سے نکالا، اس کے بعد جامِ نور جاری کیا ۔ آپ منفرد اسلوب تحریر کے مالک ہیں، بلا مبالغہ آپ کو صاحبِ طرز انشاء پرداز کہا جا سکتا ہے۔

علامہ ارشد القادری کی ادیبانہ تحریر نے جامِ نور کو جو مقام دیا وہ مقام آج کل کے رسالوں میں نہیں پایا جاتا، مگر کچھ نا موافق حالات کی بنا پر جامِ نور بند ہو گیا۔

تاریخِ وِصال:
علامہ ارشد القادری رحمۃ اللہ علیہ کا وصال 16 صفر المظفر 1423ھ ، مطابق 29 اپریل 2002ء کو ہوا ۔

ماخذ و مراجع: تذکرہ علمائے اہلِ سنت

https://scholars.pk/ur/scholar/raees-ul-qalam-hazrat-allama-molana-arshadul-qadri
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
15-02-1445 ᴴ | 02-09-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
16-02-1445 ᴴ | 03-09-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1