🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
14-02-1445 ᴴ | 01-09-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
14-02-1445 ᴴ | 01-09-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
14-02-1445 ᴴ | 01-09-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
14-02-1445 ᴴ | 01-09-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت میاں قاضی خان ظفر آبادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آپ شیخ حسن طاہر کے مرید بھی تھے اور خلیفہ بھی بڑے زاہد ۔ عابد اور صاحب استقامت و کرامت بزرگ تھے فرمایا کرتے تھے میں نے تیس سال جہاد کیا اور اس نفس آمارہ سے لڑتا رہا مجھے محسوس ہوا ہے کہ یہ نفس پلید انسان کو کن کن داؤ و پیچ سے مغلوب کرتا رہتا ہے ۔
نصیر الدین ہمایوں بادشاہ نے کئی بار کوشش کی کہ آپ نذرانہ قبول فرمالیں مگر ہر بار اِنکار فرما دیا کرتے تھے ایک بادشاہی مرتبت کے بادشاہ نے کہلا بھیجا آپ جو شہریا جاگیر اپنے نام پر لکھ دیں وہ آپ کے لیے ہوگی مگر آپ نے فرمایا مجھے یہ چیزیں درکار نہیں ہیں ہم نے اپنے پیر و مرشد سے وعدہ کیا ہے کہ جو کچھ مانگیں گے اپنے خدا سے مانگیں گے ہمایوں نے کہا اچھا یہ چیزیں اپنے بیٹوں کے لیے لے لیں آپ نے فرمایا وہ بالغ ہیں انہیں اختیار ہے اپنے لیے کیا چیز حاصل کریں آخر کار یہ فرمان آپ کے بڑے بیٹے عبداللہ کی خدمت میں پیش کیا گیا انہوں نے بھی معذرت کر دی ۔
وصال:
قاضی خان پندرہ ماہ صفر ۹۷۰ھ کو فوت ہوئے ۔ 15 صفر المظفر 970 ھ ـ
از قضائے قاضیٔ ہر دوسرا
کرد قاضی خان چو در جنت مکان
سال وصلش قاضی مہدی بگو ۹۷۰ھ
قاضی ہندیست قاضی جہاں ۹۷۰ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-mian-qazi-khan-zafar-abadi
آپ شیخ حسن طاہر کے مرید بھی تھے اور خلیفہ بھی بڑے زاہد ۔ عابد اور صاحب استقامت و کرامت بزرگ تھے فرمایا کرتے تھے میں نے تیس سال جہاد کیا اور اس نفس آمارہ سے لڑتا رہا مجھے محسوس ہوا ہے کہ یہ نفس پلید انسان کو کن کن داؤ و پیچ سے مغلوب کرتا رہتا ہے ۔
نصیر الدین ہمایوں بادشاہ نے کئی بار کوشش کی کہ آپ نذرانہ قبول فرمالیں مگر ہر بار اِنکار فرما دیا کرتے تھے ایک بادشاہی مرتبت کے بادشاہ نے کہلا بھیجا آپ جو شہریا جاگیر اپنے نام پر لکھ دیں وہ آپ کے لیے ہوگی مگر آپ نے فرمایا مجھے یہ چیزیں درکار نہیں ہیں ہم نے اپنے پیر و مرشد سے وعدہ کیا ہے کہ جو کچھ مانگیں گے اپنے خدا سے مانگیں گے ہمایوں نے کہا اچھا یہ چیزیں اپنے بیٹوں کے لیے لے لیں آپ نے فرمایا وہ بالغ ہیں انہیں اختیار ہے اپنے لیے کیا چیز حاصل کریں آخر کار یہ فرمان آپ کے بڑے بیٹے عبداللہ کی خدمت میں پیش کیا گیا انہوں نے بھی معذرت کر دی ۔
وصال:
قاضی خان پندرہ ماہ صفر ۹۷۰ھ کو فوت ہوئے ۔ 15 صفر المظفر 970 ھ ـ
از قضائے قاضیٔ ہر دوسرا
کرد قاضی خان چو در جنت مکان
سال وصلش قاضی مہدی بگو ۹۷۰ھ
قاضی ہندیست قاضی جہاں ۹۷۰ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-mian-qazi-khan-zafar-abadi
scholars.pk
Hazrat Mian Qazi Khan Zafar Abadi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت مولانا سید عبد الفتاح ابن سید عبد اللہ ناسک گلشن آبادی علیہ الرحمہ
وطن:
حضرت مولانا سید عبد الفتاح ابن سید عبد اللہ ناسک گلشن آباد کے رہنے والے تھے ـ
تعلیم:
آپ نے حضرت مولانا خلیل الرحمٰن رامپوری اور حضرت مولانا شاہ فضل رسول بدایونی وغیرہ علماء سے تحصیل علم کیا، ۱۲۶۴ھ میں فارغ ہوئے ـ
سنہ ۱۲۷۱ھ میں خاندیش میں عدالت عالیہ کے مفتی مقرر ہوئے، اور ۱۲۸۴ھ میں الفنسٹن کالج بمبئی میں عربی و فارسی کے پروفیسر کی حیثیت سے کام کرنا شروع کیا ـ
تصانیف:
تصنیف و تالیف سے بھی خصوصی شغف تھا ” تحفہ محمدیہ ذرد وھابیہ “ آپ کی مشہور و معروف کتاب ہے، مشاہیر علمائے خاندیش حضرت مولانا نظام الدین و مولانا شیخ قطب الدین آپ کے مشہور شاگرد تھے ـ
وصال:
سنہ ۱۲۶۵ھ میں آپ فوت ہوئے ـ
اولاد:
مولانا سید امام الدین حسنی آپ کے صاحبزادے بھی علام متبحر اور عارف حق نگر تھے آپ ہی کی طرح درس و تدریس اور رشد و ہدایت کا مشغلہ رکھتے تھے ـ
شہزادے کی تصنیف:
حضرت مولانا امام الدین نے تین جلدوں میں تاریخ الالیاء کے نام سے عہد رسالت سے چودھویں صدی کے ربع اول تک کے اُن علماء کا تذکرہ لکھا جو عارف بھی تھے، اس کتاب کے دو حصے چھپ کر شائع ہو چکے ہیں، تیسرے حصہ کا حال معلوم نہیں ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-fatah-ghulshn-e-abadi
وطن:
حضرت مولانا سید عبد الفتاح ابن سید عبد اللہ ناسک گلشن آباد کے رہنے والے تھے ـ
تعلیم:
آپ نے حضرت مولانا خلیل الرحمٰن رامپوری اور حضرت مولانا شاہ فضل رسول بدایونی وغیرہ علماء سے تحصیل علم کیا، ۱۲۶۴ھ میں فارغ ہوئے ـ
سنہ ۱۲۷۱ھ میں خاندیش میں عدالت عالیہ کے مفتی مقرر ہوئے، اور ۱۲۸۴ھ میں الفنسٹن کالج بمبئی میں عربی و فارسی کے پروفیسر کی حیثیت سے کام کرنا شروع کیا ـ
تصانیف:
تصنیف و تالیف سے بھی خصوصی شغف تھا ” تحفہ محمدیہ ذرد وھابیہ “ آپ کی مشہور و معروف کتاب ہے، مشاہیر علمائے خاندیش حضرت مولانا نظام الدین و مولانا شیخ قطب الدین آپ کے مشہور شاگرد تھے ـ
وصال:
سنہ ۱۲۶۵ھ میں آپ فوت ہوئے ـ
اولاد:
مولانا سید امام الدین حسنی آپ کے صاحبزادے بھی علام متبحر اور عارف حق نگر تھے آپ ہی کی طرح درس و تدریس اور رشد و ہدایت کا مشغلہ رکھتے تھے ـ
شہزادے کی تصنیف:
حضرت مولانا امام الدین نے تین جلدوں میں تاریخ الالیاء کے نام سے عہد رسالت سے چودھویں صدی کے ربع اول تک کے اُن علماء کا تذکرہ لکھا جو عارف بھی تھے، اس کتاب کے دو حصے چھپ کر شائع ہو چکے ہیں، تیسرے حصہ کا حال معلوم نہیں ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-fatah-ghulshn-e-abadi
scholars.pk
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1