آپ علیہ الرحمہ کا حلقۂ درس بہت وسیع تھا ۔ دور دراز علاقوں سے سفر کرکے لوگ آپ کے پاس آ کر علمی پیاس بجھاتے تھے ۔ تمام علوم و فنون پر یکساں مہارت حاصل تھی ۔ تقریباً تیس برس تدریس فرمائی اسی حالت میں واصل باللہ ہوئے
۔ اسی طرح افتاء میں آپ کا ایک نام تھا ۔ درس و تدریس اور افتاء وغیرہ سےوقت نکال کروقت کےتقاضوں کے مطابق تالیف میں مشغول رہتے تھے ۔ ہر جمعہ کو بعد نماز جمعہ اپنی مسجد میں قرآن کریم کی تفسیر بقدر ایک رکوع اسرار و نکات کے ساتھ بیان فرماتے تھے ۔ یہ مجلسِ خیر عصر کے قریب تک قائم رہتی ۔ سامعین کی یہ حالت ہوتی کہ گریہ و بکاء، اور سکتہ کی کیفیت طاری رہتی ۔ بعض حضرات بے خود ہو کر اپنا سر در و دیوار پر مارتے تھے ۔ تیس سال میں دو مرتبہ آپ نے قرآن مجید کی اول تا آخر مکمل تفسیر بیان فرمائی ۔ (حیات مولانا ارشاد حسین رامپوری ص:22) ـ
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال پیر کا دن گزار کر بوقتِ صبحِ کاذب، 15 جمادی الاخریٰ 1311ھ، مطابق 25 دسمبر 1893ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار پر انوار، رام پور (انڈیا) میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔ حیات مولانا ارشاد حسین رام پوری ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-irshad-hussain-rampuri
۔ اسی طرح افتاء میں آپ کا ایک نام تھا ۔ درس و تدریس اور افتاء وغیرہ سےوقت نکال کروقت کےتقاضوں کے مطابق تالیف میں مشغول رہتے تھے ۔ ہر جمعہ کو بعد نماز جمعہ اپنی مسجد میں قرآن کریم کی تفسیر بقدر ایک رکوع اسرار و نکات کے ساتھ بیان فرماتے تھے ۔ یہ مجلسِ خیر عصر کے قریب تک قائم رہتی ۔ سامعین کی یہ حالت ہوتی کہ گریہ و بکاء، اور سکتہ کی کیفیت طاری رہتی ۔ بعض حضرات بے خود ہو کر اپنا سر در و دیوار پر مارتے تھے ۔ تیس سال میں دو مرتبہ آپ نے قرآن مجید کی اول تا آخر مکمل تفسیر بیان فرمائی ۔ (حیات مولانا ارشاد حسین رامپوری ص:22) ـ
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال پیر کا دن گزار کر بوقتِ صبحِ کاذب، 15 جمادی الاخریٰ 1311ھ، مطابق 25 دسمبر 1893ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار پر انوار، رام پور (انڈیا) میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔ حیات مولانا ارشاد حسین رام پوری ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-irshad-hussain-rampuri
scholars.pk
Hazrat Molana Shah Irshad Hussain Rampuri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت حاجی مصطفیٰ سرہندی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
حضرت شیخ محمد میاں میر بالا پیر کے نامور مرید و خلیفہ تھے ۔
زاہد و عابد تھے ۔ آپ پر اکثر و بیشتر حالتِ جذب و سکر طاری رہتی تھی ۔
نقل ہے:
آپ ایک دفعہ امامِ جماعت ہوئے ۔ حالتِ رکوع میں ایسے استغراق میں گئے کہ دیر تک سر نہ اٹھایا ۔ مقتدیوں نے جب یہ حالت دیکھی تو اپنی اپنی نماز ادا کی ۔ آپ اس حالت میں سات روز تک مستغرق رہے ۔
وصال:
۱۴ ماہِ صفر بروز چہار شنبہ ۱۰۲۹ھ میں اللہ کو پیارے ہوئے ۔
مصطفیٰ متقی امجد پیر
شد ز دنیا بجنتِ اعلیٰ
گو بہ ترحیلِ آں شہِ والا
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-haji-mustafa-sirhindi
حضرت شیخ محمد میاں میر بالا پیر کے نامور مرید و خلیفہ تھے ۔
زاہد و عابد تھے ۔ آپ پر اکثر و بیشتر حالتِ جذب و سکر طاری رہتی تھی ۔
نقل ہے:
آپ ایک دفعہ امامِ جماعت ہوئے ۔ حالتِ رکوع میں ایسے استغراق میں گئے کہ دیر تک سر نہ اٹھایا ۔ مقتدیوں نے جب یہ حالت دیکھی تو اپنی اپنی نماز ادا کی ۔ آپ اس حالت میں سات روز تک مستغرق رہے ۔
وصال:
۱۴ ماہِ صفر بروز چہار شنبہ ۱۰۲۹ھ میں اللہ کو پیارے ہوئے ۔
مصطفیٰ متقی امجد پیر
شد ز دنیا بجنتِ اعلیٰ
گو بہ ترحیلِ آں شہِ والا
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-haji-mustafa-sirhindi
scholars.pk
Hazrat Haji Mustafa Sirhindi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
قاضی ابو المحاسن بہاؤ الدین یوسف بن رافع اسدی المعروف بہ ابنِ شداد رحمۃ اللہ علیہ
اسمِ گرامی:
يوسف بن رافع بن تمیم بن عتبہ اسدی موصلی ۔ کنیت: ابو المحاسن ۔ لقب: بہاؤ الدین تھی ۔ اور آپ ابنِ شداد کے نام سے مشہور و معروف ہوئے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کی ولادتِ باسعادت 10 رمضان المبارک 539 ھ کو عراق کے شہر موصل میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے بچپن میں ہی قرآنِ پاک حفظ کر لیا تھا ۔ موصل میں جلیل القدر شیوخ کے پاس حدیث، فقہ، تفسیر ، قراءت اور ادب کی کتابیں پڑھیں نیز اکتسابِ علم کے لئے آپ نے مختلف ممالک کا سفر بھی کیا ۔
سیرت و خصائص:
ابنِ شداد رحمۃ اللہ علیہ ایک مایہ ناز مورخ، بہترین فقیہ اور عمدہ قاضی تھے ۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ کے بھی استاد تھے اور سلطان آپ کی طرزِ تحریر کو بہت پسند بھی کرتے تھے ۔ آپ کی خدا داد صلاحیتوں کی بناء پر سلطان نے آپ کو عہدۂ قضاء سپرد کیا اور آپ نے اس عہدے کو خوش دلی سے قبول بھی کیا اور خوش اسلوبی سے ادا بھی کیا ۔
آپ کے زمانے کے کثیر علماء نے آپ کی مدح و تعریف کے پل باندھے، چنانچہ فرماتے ہیں کہ ابنِ شداد اپنے وقت کے امام اور ثقہ عالم و فاضل تھے ۔ دین اور دنیا دونوں کی کامل معرفت رکھتے تھے ۔آپ کے عدل و انصاف کے فیصلے امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کی طرح تھے ۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ اپنی آخری عمر تک درس و تدریس، افتاء و تصنیف میں مشغول رہے ۔
تاریخِ وصال:
ابنِ شداد رحمۃ اللہ علیہ نے 14 صفر المظفر 632 ھ / بمطابق نومبر 1234 ء میں انتقال فرمایا ۔
ماخذ و مراجع: سیر اعلام النبلاء ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-qazi-abul-mahasin-yousuf-bin-rafay-al-asadi
اسمِ گرامی:
يوسف بن رافع بن تمیم بن عتبہ اسدی موصلی ۔ کنیت: ابو المحاسن ۔ لقب: بہاؤ الدین تھی ۔ اور آپ ابنِ شداد کے نام سے مشہور و معروف ہوئے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کی ولادتِ باسعادت 10 رمضان المبارک 539 ھ کو عراق کے شہر موصل میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے بچپن میں ہی قرآنِ پاک حفظ کر لیا تھا ۔ موصل میں جلیل القدر شیوخ کے پاس حدیث، فقہ، تفسیر ، قراءت اور ادب کی کتابیں پڑھیں نیز اکتسابِ علم کے لئے آپ نے مختلف ممالک کا سفر بھی کیا ۔
سیرت و خصائص:
ابنِ شداد رحمۃ اللہ علیہ ایک مایہ ناز مورخ، بہترین فقیہ اور عمدہ قاضی تھے ۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ کے بھی استاد تھے اور سلطان آپ کی طرزِ تحریر کو بہت پسند بھی کرتے تھے ۔ آپ کی خدا داد صلاحیتوں کی بناء پر سلطان نے آپ کو عہدۂ قضاء سپرد کیا اور آپ نے اس عہدے کو خوش دلی سے قبول بھی کیا اور خوش اسلوبی سے ادا بھی کیا ۔
آپ کے زمانے کے کثیر علماء نے آپ کی مدح و تعریف کے پل باندھے، چنانچہ فرماتے ہیں کہ ابنِ شداد اپنے وقت کے امام اور ثقہ عالم و فاضل تھے ۔ دین اور دنیا دونوں کی کامل معرفت رکھتے تھے ۔آپ کے عدل و انصاف کے فیصلے امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کی طرح تھے ۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ اپنی آخری عمر تک درس و تدریس، افتاء و تصنیف میں مشغول رہے ۔
تاریخِ وصال:
ابنِ شداد رحمۃ اللہ علیہ نے 14 صفر المظفر 632 ھ / بمطابق نومبر 1234 ء میں انتقال فرمایا ۔
ماخذ و مراجع: سیر اعلام النبلاء ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-qazi-abul-mahasin-yousuf-bin-rafay-al-asadi
scholars.pk
Hazrat Qazi Abul Mahasin Yousuf Bin Rafay Al Asadi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
قاضی ابو المحاسن بہاؤ الدین یوسف بن رافع اسدی المعروف بہ ابنِ شداد رحمۃ اللہ علیہ اسمِ گرامی: يوسف بن رافع بن تمیم بن عتبہ اسدی موصلی ۔ کنیت: ابو المحاسن ۔ لقب: بہاؤ الدین تھی ۔ اور آپ ابنِ شداد کے نام سے مشہور و معروف ہوئے ۔ تاریخِ ولادت: آپ رحمۃ اللہ…
سلطان صلاح الدین ایوبی کے استاذ گرامی
https://t.me/islaamic_Knowledge/38104
https://t.me/islaamic_Knowledge/57798
https://t.me/islaamic_Knowledge/38104
https://t.me/islaamic_Knowledge/57798
❤1
حضرت علامہ وکیل احمد سکندر پوری حنفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
شاہ محمد عبد العلیم آسی رشیدی قدس سرہٗ کے برادر عم زاد، وکیل احمد نام نامی ۔
ولادت:
۹ ذی الحجہ ۱۲۵۸ھ میں اپنے گاؤں سکندر پور ضلع بلیا میں پیدا ہوئے ـ
تعلیم:
ابتدائی تعلیم وطن میں پائی، حضرت مولانا عبد الحلیم فرنگی کا شہرہ سُن کر جون پور پہونچے، نور الاونار کا مشہور حاشیہ ‘‘ قمر الاقمار ’’ مولانائے فرنگی محلی نے آپ ہی کے لیے لکھا، ۱۲۷۶ھ میں درسیات تمام کیں، لکھنؤ میں حکیم نور کریم لکھنوی سے طب پڑھی، کچھ عرصہ مطب بھی کیا ـ
۱۲۸۳ھ میں حیدر آباد دکن گئے، سرکار آصفیہ کے صوبہ شرقی کے نائب مقرر ہوئے ۔ مولانا عبد الحئی لکھنوی (آپ کے اُستاذ زادہ) اور نواب صدیق حسن قنوجی بھوپالی کے درمیان جب مشہور تحریری مناظرہ دربارۂ تقلید و مفتیان ائمہ ہوا تو آپ اُستاذ زادہ کے دوش بدوش تھے، اور نواب کے رسالۂ نظم کا جواب نظم میں بعنوان دیوان حنفی اور نثر کا جواب نثر میں دیا ـ
آپ علیہ الرحمہ اپنے زمانہ کے صاحبِ تصنیف اور اکابر علمائے اہل سنت میں سے تھے حضرت مولانا شاہ احمد رضا فاضل بریلوی قدس سرہٗ سے خاص تعلقات تھے ـ
بیعت:
سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ میں حضرت مولانا شاہ میر اشرف علی ابن مولانا میر سلطان علی قدس سرہما کے مرید تھے ـ
وصال:
آپ علیہ الرحمہ کا ۱۳۲۲ھ / ۱۹۰۴ء میں بمقام حیدر آباد انتقال ہوا ۔ (نذر مقبول) ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-wakeel-ahmad-sikandarpuri-hanafi
شاہ محمد عبد العلیم آسی رشیدی قدس سرہٗ کے برادر عم زاد، وکیل احمد نام نامی ۔
ولادت:
۹ ذی الحجہ ۱۲۵۸ھ میں اپنے گاؤں سکندر پور ضلع بلیا میں پیدا ہوئے ـ
تعلیم:
ابتدائی تعلیم وطن میں پائی، حضرت مولانا عبد الحلیم فرنگی کا شہرہ سُن کر جون پور پہونچے، نور الاونار کا مشہور حاشیہ ‘‘ قمر الاقمار ’’ مولانائے فرنگی محلی نے آپ ہی کے لیے لکھا، ۱۲۷۶ھ میں درسیات تمام کیں، لکھنؤ میں حکیم نور کریم لکھنوی سے طب پڑھی، کچھ عرصہ مطب بھی کیا ـ
۱۲۸۳ھ میں حیدر آباد دکن گئے، سرکار آصفیہ کے صوبہ شرقی کے نائب مقرر ہوئے ۔ مولانا عبد الحئی لکھنوی (آپ کے اُستاذ زادہ) اور نواب صدیق حسن قنوجی بھوپالی کے درمیان جب مشہور تحریری مناظرہ دربارۂ تقلید و مفتیان ائمہ ہوا تو آپ اُستاذ زادہ کے دوش بدوش تھے، اور نواب کے رسالۂ نظم کا جواب نظم میں بعنوان دیوان حنفی اور نثر کا جواب نثر میں دیا ـ
آپ علیہ الرحمہ اپنے زمانہ کے صاحبِ تصنیف اور اکابر علمائے اہل سنت میں سے تھے حضرت مولانا شاہ احمد رضا فاضل بریلوی قدس سرہٗ سے خاص تعلقات تھے ـ
بیعت:
سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ میں حضرت مولانا شاہ میر اشرف علی ابن مولانا میر سلطان علی قدس سرہما کے مرید تھے ـ
وصال:
آپ علیہ الرحمہ کا ۱۳۲۲ھ / ۱۹۰۴ء میں بمقام حیدر آباد انتقال ہوا ۔ (نذر مقبول) ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-wakeel-ahmad-sikandarpuri-hanafi
scholars.pk
Hazrat Allama Wakeel Ahmad Sikandarpuri Hanafi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت مالک بن دینار علیہ الرحمہ
تحصیلِ علم:
مالک بن دینار رحمۃ اللہ علیہ نے صحابیٔ رسول ﷺ انس بن مالک اور مشہور تابعی حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہما سے اکتسابِ علم کیا ـ
سیرت وخصائص:
حضرت مالک بن دینار رحمۃ اللہ علیہ اخیار اور صالحین تابعین میں سے تھے ـ آپ خواجہ حسن بصری کے ہم مجلس اور محب تھے صوفیاء میں ممتاز مقام رکھتے ہیں آپ اگرچہ غلام زادے تھے مگر دو جہان کی خواہشات سے آزاد تھے اور صرف اپنے ہاتھوں کی کمائی ہی سے کھاتے تھے ـ آپ رحمۃ اللہ علیہ جس طرح عبادت و ریاضت میں مشہور تھے اسی مذہبِ اسلام اور اہلسنت کی ترویج و اشاعت میں بھی معروف تھے حتی کہ اس سلسلہ میں آپ نے مناظرے بھی کئے
ایک دفعہ حضرت مالک بن دینار ایک دہریے سے مناظرہ کرنے لگے یہ مناظرہ طویل ہوا تو حکامِ وقت نے فیصلہ کیا کہ دونوں کا ہاتھ ایک دوسرے کے ہاتھ کے ساتھ باندھ دیا جائے اور دونوں کو آگ میں پھینک دیا جائے جو جل جائے وہ جھوٹا ہے ایسا ہی کیا گیا دونوں میں سے کسی ایک کو کوئی تکلیف نہ پہنچی حتی کہ آگ ٹھنڈی ہو گئی ـ حضرت مالک بڑے افسردہ ہوئے گھر گئے سجدہ میں سر رکھ کر روئے کہ اللہ میں اس دہریے بے دین کے برابر ہو گیا آواز آئی کہ اس بات سے افسردہ خاطر نہ ہونا، در اصل دہریے کا ہاتھ تمہارے ہاتھ میں تھا، جس کی وجہ سے آگ ٹھنڈی ہو گئی اگر وہ اکیلا آگ میں آتا تو جل کر خاک ہو جاتا ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syedina-malik-bin-dinar
تاریخِ وصال:
آپ کی وفات 14 صفر المظفر 128ھ /بمطابق نومبر 745ء میں ہوئی ـ
ماخذ و مراجع:
الثقات لابن حبان ـ تاریخِ دمشق ۔ خزینۃ الاصفیاء ـ
تحصیلِ علم:
مالک بن دینار رحمۃ اللہ علیہ نے صحابیٔ رسول ﷺ انس بن مالک اور مشہور تابعی حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہما سے اکتسابِ علم کیا ـ
سیرت وخصائص:
حضرت مالک بن دینار رحمۃ اللہ علیہ اخیار اور صالحین تابعین میں سے تھے ـ آپ خواجہ حسن بصری کے ہم مجلس اور محب تھے صوفیاء میں ممتاز مقام رکھتے ہیں آپ اگرچہ غلام زادے تھے مگر دو جہان کی خواہشات سے آزاد تھے اور صرف اپنے ہاتھوں کی کمائی ہی سے کھاتے تھے ـ آپ رحمۃ اللہ علیہ جس طرح عبادت و ریاضت میں مشہور تھے اسی مذہبِ اسلام اور اہلسنت کی ترویج و اشاعت میں بھی معروف تھے حتی کہ اس سلسلہ میں آپ نے مناظرے بھی کئے
ایک دفعہ حضرت مالک بن دینار ایک دہریے سے مناظرہ کرنے لگے یہ مناظرہ طویل ہوا تو حکامِ وقت نے فیصلہ کیا کہ دونوں کا ہاتھ ایک دوسرے کے ہاتھ کے ساتھ باندھ دیا جائے اور دونوں کو آگ میں پھینک دیا جائے جو جل جائے وہ جھوٹا ہے ایسا ہی کیا گیا دونوں میں سے کسی ایک کو کوئی تکلیف نہ پہنچی حتی کہ آگ ٹھنڈی ہو گئی ـ حضرت مالک بڑے افسردہ ہوئے گھر گئے سجدہ میں سر رکھ کر روئے کہ اللہ میں اس دہریے بے دین کے برابر ہو گیا آواز آئی کہ اس بات سے افسردہ خاطر نہ ہونا، در اصل دہریے کا ہاتھ تمہارے ہاتھ میں تھا، جس کی وجہ سے آگ ٹھنڈی ہو گئی اگر وہ اکیلا آگ میں آتا تو جل کر خاک ہو جاتا ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syedina-malik-bin-dinar
تاریخِ وصال:
آپ کی وفات 14 صفر المظفر 128ھ /بمطابق نومبر 745ء میں ہوئی ـ
ماخذ و مراجع:
الثقات لابن حبان ـ تاریخِ دمشق ۔ خزینۃ الاصفیاء ـ
scholars.pk
Hazrat Syedina Malik Bin Dinar
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
13-02-1445 ᴴ | 31-08-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
14-02-1445 ᴴ | 01-09-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1