🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
13-02-1445 ᴴ | 31-08-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ #فیضان_اعلی_حضرت قسط 85
13-02-1445 ᴴ | 31-08-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#فیضان_اعلی_حضرت قسط 86
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
फ़रमाने अअ़्ला ह़ज़रत علیہ‌الرحمہ
उ़ल्मा ए किराम का अदब अ़वाम पर बाप से ज़्यादह फ़र्ज़ है! [फ़तावा रज़विया, जि²⁵, स़²¹⁶]
فرمانِ اعلیٰ حضرت علیہ‌الرحمہ:
علمائے کرام کا ادب عوام پر باپ سے زیادہ فرض ہے ـ [فتاویٰ رضویہ، جِـ²⁵، صَـ²¹⁶]
Farmane A'ala Hazrat:
Ulamaa e Kiram Ka Adab Awaam Par Baap Se Ziyaada Farz Hai.
[Fatãwã Razaviyyah, J²⁵, P²¹⁶]
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
اِس سلسلے کی پہلی قِسط یہاں ہے↯
https://t.me/islaamic_Knowledge/7170
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت مفتی وقار الدین قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
مفتی محمد وقار الدین ۔ لقب: فقیہ العصر، مفتیِ اعظم پاکستان، وقار الملت والدین ۔ والد کا اسم گرامی: حافظ حمید الدین علیہ الرحمہ ۔

حضرت مفتی صاحب کے آباؤ اجداد زراعت سے وابستہ اور زمیندار تھے ۔مذہب کے اعتبار سے سب صوم و صلوٰۃ کے پابند ،اور عقیدتاً سنی تھے۔آپ کے والد اور چچا حافظ قرآن تھے۔اسی طرح آپ کے خاندان میں حفاظِ کرام کافی تعداد میں تھے۔ (حیات وقار الملت:4)

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت با سعادت بروز جمعۃ المبارک، 14 صفر المظفر 1333ھ مطابق یکم جنوری 1915ء کو قصبہ ’’کھمریہ‘‘ ضلع پیلی بھیت (انڈیا) میں ہوئی ۔ (ایضا: 4)

تحصیلِ علم:
اسکول کی ابتدائی تعلیم چوتھی کلاس تک اپنے گاؤں میں حاصل کی۔ پانچویں کلاس میں بریلی شریف کے اسکول میں داخلہ لیا۔ پانچویں کلاس کا امتحان ہوا تو ضلع بھر میں فرسٹ پوزیشن حاصل کی اور انعام بھی ملا ۔ آپ کے بے حد اصرار پر آپ کے والد صاحب نے آپ کو پیلی بھیت میں مدرسہ ’’آستانہ شیریہ ‘‘ میں دینی تعلیم کیلئے داخل کروایا۔ اس مدرسہ میں آپ کے اساتذہ میں ایک مولانا حبیب الرحمن تھے جو کہ حضرت مولانا مفتی وصی احمد محدث سورتی کے خاص شاگردوں میں سے تھے اور دوسرے مولانا عبد الحق تھے جن کو اکثر کتابوں کی عبارات زبانی یاد تھیں ۔ چار سال اس مدرسہ میں تعلیم حاصل کی۔ ایک روز آپ کے استاد محترم مولانا حبیب الرحمن نے آپ کو مشورہ دیا کہ مزید تعلیم کیلئے بریلی شریف چلے جائیں ، چنانچہ مولانا حبیب الرحمن نے آپ کو خانقاہ رضویہ بریلی شریف کے مدرسہ ’’جامعہ رضویہ منظر الاسلام ‘‘ میں داخلہ دلوایا۔ وہیں آپ نے صدر الشریعۃ مفتی محمد امجد علی اعظمی،محدث اعظم پاکستان مولانا سر دار احمد، شیخ الحدیث علامہ تقدس علی خان رضوی ، مولانا سردار علی خان رضوی ، مولانا احسان الہی وغیرہ اساتذہ کرام سے تعلیم حاصل کی۔ جب مفتی امجد علی اعظمی بریلی شریف سے ’’دادوں‘‘ چلے گئے تو آپ صدر الشریعہ کی خدمت میں دادوں حاضر ہو گئے اور مزید تین سال تک وہیں تعلیم حاصل کی۔ 1938ء میں دورہ حدیث شریف مکمل کیا اور اسی سال دستار بندی ہوئی۔ (انوار علمائے اہل سنت سندھ: 1008)

حضرت مفتی وقار الدین کو اللہ جل شانہ نے قوت حافظہ کی نعمت عطاء فرمائی تھی۔جو بات ایک بار پڑھ لیتے وہ ذہن میں نقش ہوجاتی۔ کتبِ فقہ کی عبارات اور اختلاف آئمہ سب ذہن میں محفوظ تھا۔آپ نے خود بیان کیا کہ: ’’صدر الشریعہ مولانا امجد علی اعظمی فرماتے تھے، کہ اساتذہ سے پوچھا کرو ،آج اگر شرم کروگے تو پھر کب سیکھوگے۔ اس لیے کلاس میں سب سےزیادہ سوالات میں ہی کرتاتھا۔بعض دوسرے ساتھی جو صدرالشریعہ کے رعب کی وجہ سے گھبراتےتھے،وہ بھی مجھے کہتےتھے کہ میرا سوال حضرت سےپوچھو، چنانچہ میں پوچھ لیا کرتا تھا‘‘۔ (مقدمہ وقارالفتاویٰ جلد اول)

ساری رات مطالعہ کرنا:
حضرت مولانا مفتی وقار الدین اکثر پوری پوری رات مطالعے میں گزار دیتےتھے۔ بخاری شریف پڑھنے کے لیے ’’عینی‘‘ کا مطالعہ کرنا اپنے اوپر لازم کرلیا تھا۔روزانہ بخاری شریف کے آٹھ صفحات پڑھنے ہوتے تھے،اور بخاری کے ایک صفحہ کی تشریح عینی کے کئی صفحات بن جاتے ہیں۔ آپ کی محنت اور صلاحیت کی بناء پر فراغت کے بعد دارالعلوم منظر اسلام میں تدریس کےلئے منتخب کیا گیا ۔

بیعت و خلافت:
آپ بعد فراغتِ تحصیلِ علم حجۃ الاسلام حضرت علامہ مولانا حامد رضا خان بریلوی کے دست مبارک پر بیعت ہوئے اور ان کے چھوٹے بھائی مفتی اعظم ہند حضرت مولانا مفتی مصطفی رضا خان بریلوی نے خلافت سے نوازا ۔

سیرت و خصائص:
جامع المنقول والمعقول، حاوی الفروع والاصول، فقیہ العصر، مفتیِ اعظم پاکستان، وقار الملت والدین حضرت علامہ مولانا مفتی وقار الدین ۔ مفتی صاحب علماء اہل سنت میں ایک علمی مقام رکھتے ہیں، آپ کی تدریسی، تصنیفی، قومی و ملی خدمات بہت زیادہ ہیں ۔ آپ تمام علوم و فنون پر کامل مہارت رکھتے تھے۔ بالخصوص فقہ میں تو فقیہ العصر اور اپنے وقت کے مفتیِ اعظم پاکستان تھے۔یہ سب کچھ آپ کی زمانۂ طالب علمی کی محنت،اور خداد صلاحیت، اور حضرت صدرالشریعہ ﷫ کی تربیت و محنت کی بدولت تھا۔دارالعلوم منظر اسلام بریلی شریف، کے پرنور ماحول میں طلباء کی ایسی ہی تربیت ہوا کرتی تھی،کہ ان کو دین و مسلک اور ملک و ملت کا درد ملتا تھا۔یہی وجہ ہے کہ اس دار العلوم کے فیض یافتگان کی فہرست پر نظر کریں کہ ایک ایک طالب علم یہاں سے ایسا منور ہوا، کہ اس نے پھر ایک جہان کو منور کر دیا ۔ مفتی صاحب بھی منظر اسلام کے خوشہ چیں تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ ساری زندگی درس و تدریس، تصنیف و تالیف، وعظ و نصیحت، اور ملک وملت کی خدمت میں گزری ۔
1
درس و تدریس:
بعد فراغت منظر الاسلام بریلی شریف میں مدرس مقرر ہوئے اور ساتھ ہی ناظم تعلیمات کا عہدہ بھی سونپا گیا۔ اس طرح آپ تقریبا دس سال تک خدمات سر انجام دیتے رہے۔ 1954ء کو دارالعلوم احمد یہ سنیہ چٹا گانگ ( بنگال ) میں آپ کو ناظم تعلیمات مقرر کیا گیا۔ وہیں تدریسی خدمات انجام دیتے رہے اسلام و سنیت کی اشاعت فرماتے رہے۔ مشرقی پاکستان ( بنگلہ دیش) کے حالات زیادہ خراب ہونے کی وجہ سے 22 مارچ 1971ء کو پاکستان تشریف لائے ۔ اور اسی سال کراچی میں اہل سنت و جماعت کی مرکزی درسگاہ دار العلوم امجد یہ میں ناظم تعلیمات مقرر ہوئے۔ درس و تدریس کے ساتھ دارالافتاء کی ذمہ داری بھی آپ کے ذمہ تھی۔ آپ آخر تک دارالعلوم امجد یہ سے وابستہ رہے اور تدریسی و فتاویٰ کی خدمات سر انجام دیتے رہے۔فنِ تدریس میں آپ کو کمال حاصل تھا،تدریس میں عمر گزر گئی تھی لیکن پھر بھی دوسرے دن پڑھایا جانے والا سبق رات کو مطالعہ کرکے آرام فرماتےتھے۔دوران ِ سبق خود ہی سوال بناکر اس کاجواب دیتےکیونکہ آج کل کا طالب علم سوال کرنے گھبراتا ہے۔آپ کی ذات میں علم کےساتھ عمل اور فتویٰ کے ساتھ تقویٰ موجود تھا۔علم و تقویٰ میں آپ کا مقام بہت بلند تھا۔آپ ظاہر و باطن میں اللہ جل شانہ سے ڈرنے والےتھے۔آپ کے معاصرین تقویٰ و پرہیزگاری میں آپ کی شخصیت کو بطورِ مثال پیش کرتے تھے ۔ (مقدمہ وقار الفتاویٰ جلد اول :27) ـ

اشاعتِ مَسلک:
بنگال میں اہل سنت و جماعت کی خوب اشاعت کی ، عوامِ اہلِ سنت کو بیدار کیا، ہند و پاک سے بڑے بڑے علماء کو مدعو کر کے بڑی کانفرنسوں کا اہتمام کیا، عقائد اہل سنت کو علمی دلائل سے جلسوں میں پیش کیا اور مذاہب باطلہ کا کھل کر رد کیا۔ اس طرح عوام اہل سنت میں کتب بنیی کا شوق پیدا ہوا اس لئے وہ ہندوستان سے علماء اہل سنت کی کتابیں منگوانے لگے ، ڈھاکہ کے ایک مولاناصاحب نے اس تحریک سے متاثر ہو کر مفتی احمد یار خان نعیمی کی بعض کتابوں کا بنگال میں ترجمہ کیا اور وہ کتب چھپ کر عام ہوئیں ۔ دوسری طرف تدریس کے ذریعہ علماء تیار کر کے بنگال کو دیئے۔

مناظرہ:
ضلع بریلی میں ایک تحصیل ’’میتھر‘‘ ہے ۔ اس تحصیل میں ’’ٹانڈہ‘‘ نام سے ایک گاؤں ہے ۔ وہاں کی سنی عوام نے آکر حضرت قبلہ مفتی اعظم ہند سے کہا کہ غیر مقلد ہمیں بہت پریشان کرتے ہیں ۔ لہٰذا آپ کسی عالم کو بھیج دیجیے جو ان کو علمی اعتبار سے جواب دے سکے ۔ حضرت مفتی اعظم ہند نے مولانا مفتی وقارالدین کو حکم فرمایا کہ جائیں اور غیر مقلدین سے گفتگو کریں ۔ چنانچہ وہاں آپ تشریف لے گئے اللہ جل شانہ نے آپ کو فتحِ مبین عطاء فرمائی ۔ جب واپس آئے تو حضرت مفتیِ اعظم ہند نے معززین شہر اور علماء کی ایک پر وقار تقریب منعقد فرمائی، اور آپ کو اپنا جبہ اور دستار عطاء کی ۔ اس کے علاوہ اور بھی کئی مناظرے کیے، ہر جگہ کامیابی ملی ۔ (مقدمہ وقار الفتاویٰ جلد اول) ـ

تحریکِ پاکستان میں خدمات:
آپ فرماتےہیں:
بریلی میں عرس اعلیٰ حضرت کے موقع پر چوٹی کےعلماءِ کرام جمع تھے ۔ اس موقع پر جو قرار دادیں پیش کی گئیں ان میں مسلمانوں کےلئے علیحدہ وطن کی قرار داد بھی پیش کی گئی۔لیکن اس قرارداد میں لفظ پاکستان شامل نہیں تھا۔اس وقت میں نے کھڑے ہوکر اس قراداد میں ترمیم کروائی اور سب علماء سے عرض کیا کہ اگر تائید کرنا ہے تو پھر صاف صاف اپنا موقف بیان کیجئے تاکہ عوام کو کسی قسم کا مغالطہ نہ ہو۔چنانچہ میری رائے کو اہمیت دی گئی،اور اسے قرارداد میں شامل کیا گیااوربعد شائع کیا گیا۔ اسی طرح قیام ِ پاکستان کے بعد نظام ِ مصطفیٰ ﷺ کے نفاذ کے لئے بھی بھر پور کوشش فرمائی۔آپ ابتداءً ’’ جمعیت علماء پاکستان ‘‘ سے وابستہ ہوئے اور صوبہ سندھ کے صدر رہے۔آپ دومرتبہ قومی اسمبلی کے ممبر بھی منتخب ہوئے۔پہلی مرتبہ جمعیت کےٹکٹ پر اور دوسری مرتبہ غیر جماعتی الیکشن 1985ء میں۔ممبر قومی اسمبلی ہونے کےباوجود تعلیم و تعلم اور نجی معاملات میں کوئی فرق نہیں آیا۔

تصنیف و تالیف:
مدرسہ کے انتظام و انصرام، درس و تدریس کی بے پنا ہ مصروفیات کی بناپر آپ کو تحریری کام کرنے کا موقع بہت کم ملا۔ ترجمانِ اہلسنت کراچی میں درسِ قرآن و درس ِحدیث کے عنوان میں چند مضامین شائع ہوئے۔ 1۔ وقار الفتاویٰ 3 جلدیں ۔مواعظِ وقارالملت۔ (ماخوذ از۔ انوار علمائے اہل سنت سندھ) ـ

تاریخِ وصال:
20 ربیع الاول 1413ھ مطابق 19 ستمبر 1993ء، بروز ہفتہ بوقت نماز فجر واصل باللہ ہوئے۔آپ کو دار العلوم امجدیہ عالمگیر روڈ کراچی میں حضرت علامہ عبد المصطفیٰ الازہری کے پہلو میں دفن کیا گیا ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/mufti-muhammad-waqaruddin
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت مولانا مفتی شاہ ارشاد حسین رام پوری رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت مولانا مفتی ارشاد حسین ۔ لقب: نبراس العلماء ، سراج الفقہاء ، قطب الارشاد وغیرہ ۔رامپور کی نسبت سے "رامپوری" کہلاتے ہیں ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا ارشاد حسین بن مولانا حکیم احمد حسین بن غلام محی الدین بن فیض احمد بن شاہ کمال الدین بن شیخ زین العابدین عرف میاں فقیر اللہ بن حضرت خواجہ محمد یحیٰ بن امام ربانی مجدد الف ثانی حضرت شیخ احمد سرہندی ۔ علیہم الرحمۃ والرضوان ـ

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 14 صفر المظفر 1248ھ، مطابق نومبر 1832ء کو محلہ پیلا تالاب شہر مصطفیٰ آباد عرف رام پور (انڈیا) میں ہوئی ۔

قبلِ ولادت بشارت:
عارف باللہ حضرت حاجی محمدی علیہ الرحمہ (جن کا مزار شریف پاک توپ خانہ روڈ رامپور میں مرجعِ خلائق ہے) نے حضرت مولانا حافظ عنایت اللہ خان رامپوری سے ان کے اصرارِ بیعت پر ایک دن فرمایا: "تم ابھی تعلیم حاصل کرو، ایک قطبِ وقت کا ظہور ہونے والا ہے، ان سےتمہیں نصیبِ کامل ملےگا" ۔ (حیات مولانا ارشاد حسین رام پوری: ص:14) ـ

تحصیلِ علم:
مولانا محمد ارشادحسین رامپوری علیہ الرحمہ نے فارسی کی ابتدائی کتب اپنے والد ماجد اور برادر مولانا امداد حسین رامپوری، شیخ احمد علی اور شیخ واجد علی سے پڑھیں ۔ اس کے بعد دیگر فنون کی تعلیم مولانا حافظ غلام نبی، مولانا جلال الدین، اور مولانا نصیر الدین خان سے حاصل کی ۔ اس کے بعد علومِ نقلیہ کی تکمیل کی ۔ معقولات کا درس علامۂ زماں مولانا محمد نواب خان افغانی نقشبندی سے لیا ۔

حِفظِ قرآن:
آپ نے عارف باللہ مولانا عبد الکریم عرف ملا فقیر اخوند قادری چشتی کی خانقاہ کے حجرے میں دورانِ قیام نو ماہ میں قرآنِ کریم حفظ کیا ۔

بیعت و خلافت:
حضرت مولانا شاہ احمد سعید مجددی سے مرید ہوئے، اور محبوبیت و مرادیت کا مقامِ بلند پایا، اجازت و خلافت سے سر فراز کیے گئے ۔

سیرت و خصائص:
حافظِ آیاتِ قرآنی، واقفِ اسرارِ ربانی، مفسرِ کلامِ ربِ العلمین، محدثِ حدیثِ سید المرسلین، مدرسِ فقہ واصول، جامع المنقولِ والمعقول ، مجمع البحرین، تاج المحدثین، سراج الفقہاء والمتکلمین، جامع شریعت و طریقت، نبراس العلماء حضرت علامہ مولانا مفتی شاہ ارشاد حسین رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ کا شمار اکابرین علماء اہلسنت میں ہوتا ہے ۔ آپ خاندانی شرافت و نجابت کے ساتھ علم و تقویٰ میں بھی بے مثال تھے ۔ رامپور ہمیشہ سے علم و فن کا گہوارہ رہا ہے ۔ خاص طور پر علماء و مشایخ، ادباء و شعراء، صوفیاء و حکماء کو اس شہر میں امتیاز حاصل رہا ہے ۔

انہیں نابغۂ روز گار اور باکمال ہستیوں میں جو علمی بالا دستی اور عظمت حضرت مولانا ارشاد حسین کے حصے میں آئی ہے، وہ آپ کا ہی خاصہ ہے ۔ آپ کا شمار ہندوستان کے ان برگزیدہ علماء میں ہوتا ہے جنہوں نے مشکل وقت میں چمن زار اہل سنت کی آبیاری اپنے قلم، علم و فضل، تقویٰ و طہارت، اور قول و فعل کی یکسانیت سے کی ہے ۔

انہوں نے مسلکِ حق کی ترویج و اشاعت میں امام احمد بن حنبل، امام اعظم ابو حنیفہ، اور حسینی کردار کو اپنے سامنے رکھا ۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت سے لے کر آج تک علماء اہلسنت انہیں اپنا مقتداء و پیشوا مانتے ہیں ۔ امام اہلسنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ آپ کے علم و فضل اور زہد و تقویٰ کے بڑے مداح تھے ۔ انہوں نے اپنی تحریروں میں اکثر مقامات پر بڑے ادب و احترام کے ساتھ آپ کا تذکرہ کیا ہے ۔

چنانچہ اپنی مشہورِ زمانہ تصنیفِ لطیف " کفل الفقیہ الفاہم " میں آپ کا ذکر ان القاب و آداب سے کیا ہے ۔ " اقضیٰ علیہ ناس من کبار العلماء الہند کا الفاضل الکامل محمد ارشاد حسین الرامفوری رحمہ اللہ تعالی وغیرہ " ۔ (تذکرہ علماء اہلسنت ص:25 / فتاویٰ رضویہ ج:7 ص:161)

صدر الافاضل بدر المماثل حضرت مولانا مفتی محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ الرحمہ نے " سنی کی تعریف " ان الفاظ میں کی ہے: "سنی وہ ہے جو ما انا علیہ و اصحابی کا مصداق ہو ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خلفائے راشدین، آئمہ دین، مُسلَّم مشایخِ طریقت، اور متأخرین علماء کرام میں سے حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی، ملک العلماء، حضرت بحر العلوم فرنگی محلی، حضرت مولانا فضل حق خیر آبادی، حضرت مولانا شاہ فضل رسول بدایونی، حضرت مولانا مفتی ارشاد حسین رامپوری اور حضرت مولانا مفتی شاہ احمد رضا خاں بریلوی کے مسلک پر ہوں ۔ رحمہم اللہ تعالیٰ ۔ " (الفقیہ امرتسر 21 / اگست 1945ء، ص9)

تاج الفقہاء حضرت مولانا مفتی شاہ ارشاد حسین رام پوری رحمۃ اللہ علیہ خوش لباسی، خوش اخلاقی، اور خوش اوقاتی سے زندگی بسر کرتے تھے ۔ ہر شخص سے اچھا برتاؤ کرتے، عہد کو پورا کرتے، محتاجوں کی دستگیری فرماتے، امیروں سے بے نیاز رہتے تھے ۔ ہم عقیدہ مسلمانوں پر شفقت و عنایت فرماتے اور باطل پرستوں بدمذہبوں سے شدید نفرت کرتے تھے ۔ آپ کا ریاستِ رام پور میں خاص اثر تھا ۔ (تذکرہ علماء اہلسنت ص:25) ـ
1
آپ علیہ الرحمہ کا حلقۂ درس بہت وسیع تھا ۔ دور دراز علاقوں سے سفر کرکے لوگ آپ کے پاس آ کر علمی پیاس بجھاتے تھے ۔ تمام علوم و فنون پر یکساں مہارت حاصل تھی ۔ تقریباً تیس برس تدریس فرمائی اسی حالت میں واصل باللہ ہوئے
۔ اسی طرح افتاء میں آپ کا ایک نام تھا ۔ درس و تدریس اور افتاء وغیرہ سےوقت نکال کروقت کےتقاضوں کے مطابق تالیف میں مشغول رہتے تھے ۔ ہر جمعہ کو بعد نماز جمعہ اپنی مسجد میں قرآن کریم کی تفسیر بقدر ایک رکوع اسرار و نکات کے ساتھ بیان فرماتے تھے ۔ یہ مجلسِ خیر عصر کے قریب تک قائم رہتی ۔ سامعین کی یہ حالت ہوتی کہ گریہ و بکاء، اور سکتہ کی کیفیت طاری رہتی ۔ بعض حضرات بے خود ہو کر اپنا سر در و دیوار پر مارتے تھے ۔ تیس سال میں دو مرتبہ آپ نے قرآن مجید کی اول تا آخر مکمل تفسیر بیان فرمائی ۔ (حیات مولانا ارشاد حسین رامپوری ص:22) ـ

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال پیر کا دن گزار کر بوقتِ صبحِ کاذب، 15 جمادی الاخریٰ 1311ھ، مطابق 25 دسمبر 1893ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار پر انوار، رام پور (انڈیا) میں مرجعِ خلائق ہے ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔ حیات مولانا ارشاد حسین رام پوری ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-irshad-hussain-rampuri
1