حافظ الحدیث امام نسائی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
نام: احمد بن شعیب بن یحیٰ بن سنان بن دینار نسائی خراسانی ہے۔ کنیت: ابو عبدالرحمن ، لقب: حافظ الحدیث ہے۔
تاریخ و مقامِ ولادت:
آپ رحمۃ اللہ علیہ 215 ھ میں خراسان کے ایک مشہور شہر نَسا میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے دیار کے شیوخ سے اخذِ علم کے بعد، قتیبہ بن سعید کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے دوسال استفادہ کیا، اس کے علاوہ خراسان، عراق، حجاز، جزیرہ، شام اور مصر وغیرہ مختلف مقامات کا حصولِ علم کے لئے سفر کیا۔
سیرت و خصائص:
امام نَسائی رحمۃ اللہ علیہ بے حد عبادت گزار اور شب بیدار تھے۔ ایک دن روزہ اور ایک دن افطار صومِ داؤدی کے طریقہ کو اپنایا ہوا تھا ۔ طبیعت اور مزاج میں حد درجہ استغناء تھا، اس لئے حکام کی مجلس سے ہمیشہ احتراز کرتے تھے ۔
امام نسائی عقائد میں بھی راسخ و متصلب تھے۔ جس زمانہ میں معتزلہ کے عقیدہ خلقِ قرآن کا چرچا تھا ان دنوں محمد بن اعین نے ایک مرتبہ عبد اللہ بن مبارک سے کہا کہ فلاں شخص کہتاہے کہ جو شخص آیہ کریمہ إِنَّنِي أَنَا اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدْنِي (طہ، آیت 14) ترجمہ کنز الایمان: ” بیشک میں ہی ہوں اللہ کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو میری بندگی“ کو مخلوق مانے وہ کافر ہے۔
عبد اللہ بن مبارک نے فرمایا:
یہ حق ہے ۔ امام نسائی نے جب یہ روایت سنی تو کہا میرا مذہب بھی یہی ہے ۔ عبادت میں امام نسائی کی کثرت کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ آپ دن کے وقت میں امیرِ مصر کے ساتھ جہاد کرتے اور رات ساری عبادت میں گذار دیتے تھے ۔
طبعاً فیاض تھے اور مسلمان قیدیوں کا فدیہ دے کر چھڑایا کرتے تھے ۔ انہوں نے اپنی ساری زندگی اسوہ رسول ﷺ کو اپنانے اور اخلاقِ صالحین کے تخلق میں گذاری یہاں تک کہ دمشق میں خوارج کے ہاتھوں جامِ شہادت نوش کیا۔
امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ پر شیعہ ہونے کا الزام:
کچھ لوگوں نے لاعلمی اور جہالت کی وجہ سے امام نسائی پر شیعہ ہونے کا الزام لگایا حالانکہ اس الزام سے آپ کو دور کا بھی علاقہ نہیں تھا ۔ بعض لوگوں نے اس باب میں ابنِ خلکان کی اس عبارت سے دھوکا کھایا ہے: وکان یتشیع (وہ تشیع کرتے تھے) (وفیات الاعیان، جلد 1، صفحہ 35)
علامہ ابنِ خلاکان نے امام نسائی کے لئے تشیع کا لفظ استعمال فرمایا ہے اور تشیع اور رفض میں بہت فرق ہے۔ جو شخص حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو شیخین سے افضل جانے وہ رافضی اور جو ان کو حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے افضل جانے وہ شیعی ہے، لیکن امام نسائی کی تصانیف سے یہ کہیں ثابت نہیں ہوتا کہ وہ حضرت علی کو شیخین یا حضرت عثمان پر فضیلت دیتے ہوں ۔
انہوں نے اپنی کتاب السنن میں بیعت حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وقت حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ فرمان روایت کیا کہ ” حضرت عمر نے سقیفہ بنو ساعدہ میں مہاجرین اور انصار کے اجتماع سے خطاب کرکے فرمایا: کیا تم نہیں جانتے کہ حضور ﷺ نے حضرت ابو بکر کو امامت کرانے کا حکم دیا پھر تم میں سے کون ابو بکر پر مقدم ہونا چاہتا ہے؟ ان سب نے یک زبان ہوکر کہا : ہم ابو بکر پر مقدم ہونے سے خدا کی پناہ چاہتے ہیں“۔
امام نسائی کی اس روایت کے ہوتے ہوئے ان کی طرف تشیع کی نسبت کیسے صحیح ہو سکتی ہے خصوصاً جبکہ انہوں نے باقی صحابہ کے فضائل خصوصاً خلفاء راشدین کے فضائل بھی تصنیف کئے ہیں ۔ اگر امام نسائی میں شیعیت اور رافضیت کا ٹھورا سا بھی عنصر ہوتا تو آپ صرف حضرت علی کے فضائل تصنیف فرماتے، اس کے بر عکس آپ نے کئی صحابہ کے فضائل تصنیف کرکے اپنے اوپر وارد ہونے والے شیعہ اور رافضی ہونے کے الزام کو قلع قمع کیا ۔
چنانچہ ان کے شاگرد محمد بن موسیٰ مامونی فرماتے ہیں : ”مجھے معلوم ہے کہ بعض لوگ حضرت علی کے فضائل لکھنے اور فضائل شیخین پر کچھ نہ لکھنے کی وجہ سے امام ابو عبد الرحمن نسائی کا انکار کرتے ہیں تو میں نے اس مسئلہ پر امام نسائی سے گفتگو کی انہوں نے فرمایا: جب میں دمشق گیا تو وہاں اکثر لوگوں کو حضرت علی سے منحرف پایا پس میں نے خصائصِ علی اس توقع سے تصنیف کیے کہ وہ لوگ راہ راست پر آجائیں ۔ مامونی کہتے ہیں: اس کے بعد انہوں نے باقی صحابہ کے فضائل بھی تصنیف کیے“۔ اس اقتباس سے ثابت ہوا کہ امام نسائی حسبِ مراتب تمام صحابہ کے فضائل کے معتقد تھے۔
وصالِ پر ملال:
امام نسائی نے جب دمشق کی مسجد میں خصائصِ علی کا اقتباس سنایا اور لوگوں نے آپ کو زد و کوب کیا تو خدام اٹھا کر آپ کو گھر لے آیا ۔ آپ نے فرمایا کہ مجھے فوراً مکہ معظمہ پہنچایا جائے تاکہ مکہ یا اس کے راستے میں میرا انتقال ہو جائے چنانچہ مکہ معظمہ پہنچنے پر 13 صفر المظفر 303ھ / بمطابق اگست 915 ء کو آپ کا انتقال ہوا ۔
ماخذ و مراجع: تذکرۃ المحدثین
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abu-abdur-rahman-ahmad-nasai
نام و نسب:
نام: احمد بن شعیب بن یحیٰ بن سنان بن دینار نسائی خراسانی ہے۔ کنیت: ابو عبدالرحمن ، لقب: حافظ الحدیث ہے۔
تاریخ و مقامِ ولادت:
آپ رحمۃ اللہ علیہ 215 ھ میں خراسان کے ایک مشہور شہر نَسا میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے دیار کے شیوخ سے اخذِ علم کے بعد، قتیبہ بن سعید کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے دوسال استفادہ کیا، اس کے علاوہ خراسان، عراق، حجاز، جزیرہ، شام اور مصر وغیرہ مختلف مقامات کا حصولِ علم کے لئے سفر کیا۔
سیرت و خصائص:
امام نَسائی رحمۃ اللہ علیہ بے حد عبادت گزار اور شب بیدار تھے۔ ایک دن روزہ اور ایک دن افطار صومِ داؤدی کے طریقہ کو اپنایا ہوا تھا ۔ طبیعت اور مزاج میں حد درجہ استغناء تھا، اس لئے حکام کی مجلس سے ہمیشہ احتراز کرتے تھے ۔
امام نسائی عقائد میں بھی راسخ و متصلب تھے۔ جس زمانہ میں معتزلہ کے عقیدہ خلقِ قرآن کا چرچا تھا ان دنوں محمد بن اعین نے ایک مرتبہ عبد اللہ بن مبارک سے کہا کہ فلاں شخص کہتاہے کہ جو شخص آیہ کریمہ إِنَّنِي أَنَا اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدْنِي (طہ، آیت 14) ترجمہ کنز الایمان: ” بیشک میں ہی ہوں اللہ کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو میری بندگی“ کو مخلوق مانے وہ کافر ہے۔
عبد اللہ بن مبارک نے فرمایا:
یہ حق ہے ۔ امام نسائی نے جب یہ روایت سنی تو کہا میرا مذہب بھی یہی ہے ۔ عبادت میں امام نسائی کی کثرت کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ آپ دن کے وقت میں امیرِ مصر کے ساتھ جہاد کرتے اور رات ساری عبادت میں گذار دیتے تھے ۔
طبعاً فیاض تھے اور مسلمان قیدیوں کا فدیہ دے کر چھڑایا کرتے تھے ۔ انہوں نے اپنی ساری زندگی اسوہ رسول ﷺ کو اپنانے اور اخلاقِ صالحین کے تخلق میں گذاری یہاں تک کہ دمشق میں خوارج کے ہاتھوں جامِ شہادت نوش کیا۔
امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ پر شیعہ ہونے کا الزام:
کچھ لوگوں نے لاعلمی اور جہالت کی وجہ سے امام نسائی پر شیعہ ہونے کا الزام لگایا حالانکہ اس الزام سے آپ کو دور کا بھی علاقہ نہیں تھا ۔ بعض لوگوں نے اس باب میں ابنِ خلکان کی اس عبارت سے دھوکا کھایا ہے: وکان یتشیع (وہ تشیع کرتے تھے) (وفیات الاعیان، جلد 1، صفحہ 35)
علامہ ابنِ خلاکان نے امام نسائی کے لئے تشیع کا لفظ استعمال فرمایا ہے اور تشیع اور رفض میں بہت فرق ہے۔ جو شخص حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو شیخین سے افضل جانے وہ رافضی اور جو ان کو حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے افضل جانے وہ شیعی ہے، لیکن امام نسائی کی تصانیف سے یہ کہیں ثابت نہیں ہوتا کہ وہ حضرت علی کو شیخین یا حضرت عثمان پر فضیلت دیتے ہوں ۔
انہوں نے اپنی کتاب السنن میں بیعت حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وقت حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ فرمان روایت کیا کہ ” حضرت عمر نے سقیفہ بنو ساعدہ میں مہاجرین اور انصار کے اجتماع سے خطاب کرکے فرمایا: کیا تم نہیں جانتے کہ حضور ﷺ نے حضرت ابو بکر کو امامت کرانے کا حکم دیا پھر تم میں سے کون ابو بکر پر مقدم ہونا چاہتا ہے؟ ان سب نے یک زبان ہوکر کہا : ہم ابو بکر پر مقدم ہونے سے خدا کی پناہ چاہتے ہیں“۔
امام نسائی کی اس روایت کے ہوتے ہوئے ان کی طرف تشیع کی نسبت کیسے صحیح ہو سکتی ہے خصوصاً جبکہ انہوں نے باقی صحابہ کے فضائل خصوصاً خلفاء راشدین کے فضائل بھی تصنیف کئے ہیں ۔ اگر امام نسائی میں شیعیت اور رافضیت کا ٹھورا سا بھی عنصر ہوتا تو آپ صرف حضرت علی کے فضائل تصنیف فرماتے، اس کے بر عکس آپ نے کئی صحابہ کے فضائل تصنیف کرکے اپنے اوپر وارد ہونے والے شیعہ اور رافضی ہونے کے الزام کو قلع قمع کیا ۔
چنانچہ ان کے شاگرد محمد بن موسیٰ مامونی فرماتے ہیں : ”مجھے معلوم ہے کہ بعض لوگ حضرت علی کے فضائل لکھنے اور فضائل شیخین پر کچھ نہ لکھنے کی وجہ سے امام ابو عبد الرحمن نسائی کا انکار کرتے ہیں تو میں نے اس مسئلہ پر امام نسائی سے گفتگو کی انہوں نے فرمایا: جب میں دمشق گیا تو وہاں اکثر لوگوں کو حضرت علی سے منحرف پایا پس میں نے خصائصِ علی اس توقع سے تصنیف کیے کہ وہ لوگ راہ راست پر آجائیں ۔ مامونی کہتے ہیں: اس کے بعد انہوں نے باقی صحابہ کے فضائل بھی تصنیف کیے“۔ اس اقتباس سے ثابت ہوا کہ امام نسائی حسبِ مراتب تمام صحابہ کے فضائل کے معتقد تھے۔
وصالِ پر ملال:
امام نسائی نے جب دمشق کی مسجد میں خصائصِ علی کا اقتباس سنایا اور لوگوں نے آپ کو زد و کوب کیا تو خدام اٹھا کر آپ کو گھر لے آیا ۔ آپ نے فرمایا کہ مجھے فوراً مکہ معظمہ پہنچایا جائے تاکہ مکہ یا اس کے راستے میں میرا انتقال ہو جائے چنانچہ مکہ معظمہ پہنچنے پر 13 صفر المظفر 303ھ / بمطابق اگست 915 ء کو آپ کا انتقال ہوا ۔
ماخذ و مراجع: تذکرۃ المحدثین
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abu-abdur-rahman-ahmad-nasai
scholars.pk
Hazrat Abu Abdur Rahman Ahmad Nasai
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
12-02-1445 ᴴ | 30-08-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
13-02-1445 ᴴ | 31-08-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
13-02-1445 ᴴ | 31-08-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
13-02-1445 ᴴ | 31-08-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1