🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
12-02-1445 ᴴ | 30-08-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ #فیضان_اعلی_حضرت قسط 83
12-02-1445 ᴴ | 30-08-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#فیضان_اعلی_حضرت قسط 84
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
اِس سلسلے کی پہلی قِسط یہاں ہے↯
https://t.me/islaamic_Knowledge/7170
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#فیضان_اعلی_حضرت قسط 84
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
اِس سلسلے کی پہلی قِسط یہاں ہے↯
https://t.me/islaamic_Knowledge/7170
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت ابو محمد عبداللہ مرتعش رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آپ عبد اللہ بن محمد نیشاپوری کے نام سے مشہور تھے بغداد میں قیام رہا، ابو حفص حدّاد اور سید الطائفہ حضرت جیند بغدادی رحمۃ اللہ علیہما کے خلفاء میں سے تھے، آپ نے سیاحت میں دنیائے تہذیب کو چھان مارا تھا۔
جب حضرت مرتعش اپنے پیرو مرشد کے حکم سے سیاحت پر نکلے تو ہر سال ایک ہزار فرسنگ سفر کرتے، تقریباً ایک ہزار قصبوں میں گھومتے مگر کسی قصبے میں دس روز سے زیادہ قیام نہ کرتے، آپ نے فرمایا: میں نے زندگی میں تیس حج پا پیادہ کیے ہیں، میں نے اس توکل کی زندگی پر غور سے نظر ڈالی تو محسوس کیا کہ یہ بھی نفس کی خواہش کی تکمیل تھی لوگوں نے پوچھا یہ بات کس طرح معلوم ہوئی، آپ نے فرمایا: ایک دن مجھے میرے والدہ نے کہا کہ کنویں سے ایک گھڑا پانی لے آؤ، مجھے والدہ کا یہ حکم گراں گزرا، اس سے خیال آیا کہ یہ تمام حج بھی تو اپنے نفس کی خواہش پر کیے ہیں۔
ایک درویش نے یہ واقعہ سنایا کہ میں ایک بار بغداد سے حج کے ارادے کے لیے روانہ ہوانا چاہتا تھا، مجھے معلوم ہوا کہ ابو محمد مرتعش کے پاس پندرہ درینار ہیں، اگر وہ مجھے عنایت کردیں تو میں پہاڑی علاقے میں سفر کے لیے جوتے خرید لوں میں نے ابھی خیال کیا ہی تھا کہ کسی نے میرے دروازے پر دستک دی، میں نے دروازہ کھولا، دیکھا تو حضرت ابو محمد مرتعش کھڑے ہیں، آپ نے ہاتھ بڑھا کر پندرہ دینار دیتے ہوئے کہا کہ یہ لو اور مجھے تکلیف دینے نہ آنا۔
ایک دن حضرت مرتعش بغداد کے ایک محلے سے گزر رہے تھے آپ کو پیاس نے تنگ کیا ایک دروازہ کھٹکھٹایا تو ایک حسین و جمیل نوخیز لڑکی نے ہاتھ بڑھاکر پانی کا ایک پیالہ پیش کیا، آپ کی نظروں نے اس خوبصورت چہرے کو دیکھا تو اس کے حسن و جمال کی رعنائی پر مفتون ہوگئے دروازے پر بیٹھ گئے کچھ وقت گزرا، تو گھر کا مالک آیا، اسے فرمانے لگے آپ کے گھر سے ایک لڑکی نکلی ایک پیالہ پانی کا دے کر میرا دل لے گئی ہے، وہ شخص حضرت شیخ کو جانتا تھا کہنے لگا وہ لڑکی تو میری بیٹی ہے، اگر آپ فرمائیں تو میں اسے آپ کے نکاح میں دے دوں گا، حضرت نے کہا، بہت اچھا، صاحب خانہ نے ایک مجلس نکاح سجائی، احباب کو دعوت دی اور اپنی بیٹی حضرت مرتعش کے نکاح میں دے دی اور کہا اب شیخ کو حمام میں لے جاؤ، کپڑے بدلو خرقہ فقر اتار دو، شب عروسی ہوئی، شیخ نے وضو کیا مصلی بچھایا اور نماز ادا کرنے لگے چند لمحے گزرنے پائے تو فریاد کرنے لگے میری گودڑی کہاں ہے، یہ بوجھل کپڑے اتاردو، اسی وقت بیوی کو طلاق دے دی، اور وہی لباس فقر پہن کر باہر آگئے لوگوں نے پوچھا حضرت آپ نے یہ کیا کیا آپ نے فرمایا: مجھے ایک آواز آئی کہ تم نے ایک نگاہ سے غیر کو دیکھا ہم نے لباس فقر اتروالیا، اب اگر دوسری بار نگاہ کرو گے تو یاد رکھنا لباس آشنائی بھی اتروا دیا جائے گا۔
آپ ۳۲۸ھ میں فوت ہوئے۔
بو محمد شاہ زمین و زماں
سالِ تاریخ رحلتش سرور
آنکہ درد و ستاں حق طاق است
بو محمد ولی آفاق است
۳۲۸ھ
( خزینۃ الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abu-muhammad-abdullah-martaash
آپ عبد اللہ بن محمد نیشاپوری کے نام سے مشہور تھے بغداد میں قیام رہا، ابو حفص حدّاد اور سید الطائفہ حضرت جیند بغدادی رحمۃ اللہ علیہما کے خلفاء میں سے تھے، آپ نے سیاحت میں دنیائے تہذیب کو چھان مارا تھا۔
جب حضرت مرتعش اپنے پیرو مرشد کے حکم سے سیاحت پر نکلے تو ہر سال ایک ہزار فرسنگ سفر کرتے، تقریباً ایک ہزار قصبوں میں گھومتے مگر کسی قصبے میں دس روز سے زیادہ قیام نہ کرتے، آپ نے فرمایا: میں نے زندگی میں تیس حج پا پیادہ کیے ہیں، میں نے اس توکل کی زندگی پر غور سے نظر ڈالی تو محسوس کیا کہ یہ بھی نفس کی خواہش کی تکمیل تھی لوگوں نے پوچھا یہ بات کس طرح معلوم ہوئی، آپ نے فرمایا: ایک دن مجھے میرے والدہ نے کہا کہ کنویں سے ایک گھڑا پانی لے آؤ، مجھے والدہ کا یہ حکم گراں گزرا، اس سے خیال آیا کہ یہ تمام حج بھی تو اپنے نفس کی خواہش پر کیے ہیں۔
ایک درویش نے یہ واقعہ سنایا کہ میں ایک بار بغداد سے حج کے ارادے کے لیے روانہ ہوانا چاہتا تھا، مجھے معلوم ہوا کہ ابو محمد مرتعش کے پاس پندرہ درینار ہیں، اگر وہ مجھے عنایت کردیں تو میں پہاڑی علاقے میں سفر کے لیے جوتے خرید لوں میں نے ابھی خیال کیا ہی تھا کہ کسی نے میرے دروازے پر دستک دی، میں نے دروازہ کھولا، دیکھا تو حضرت ابو محمد مرتعش کھڑے ہیں، آپ نے ہاتھ بڑھا کر پندرہ دینار دیتے ہوئے کہا کہ یہ لو اور مجھے تکلیف دینے نہ آنا۔
ایک دن حضرت مرتعش بغداد کے ایک محلے سے گزر رہے تھے آپ کو پیاس نے تنگ کیا ایک دروازہ کھٹکھٹایا تو ایک حسین و جمیل نوخیز لڑکی نے ہاتھ بڑھاکر پانی کا ایک پیالہ پیش کیا، آپ کی نظروں نے اس خوبصورت چہرے کو دیکھا تو اس کے حسن و جمال کی رعنائی پر مفتون ہوگئے دروازے پر بیٹھ گئے کچھ وقت گزرا، تو گھر کا مالک آیا، اسے فرمانے لگے آپ کے گھر سے ایک لڑکی نکلی ایک پیالہ پانی کا دے کر میرا دل لے گئی ہے، وہ شخص حضرت شیخ کو جانتا تھا کہنے لگا وہ لڑکی تو میری بیٹی ہے، اگر آپ فرمائیں تو میں اسے آپ کے نکاح میں دے دوں گا، حضرت نے کہا، بہت اچھا، صاحب خانہ نے ایک مجلس نکاح سجائی، احباب کو دعوت دی اور اپنی بیٹی حضرت مرتعش کے نکاح میں دے دی اور کہا اب شیخ کو حمام میں لے جاؤ، کپڑے بدلو خرقہ فقر اتار دو، شب عروسی ہوئی، شیخ نے وضو کیا مصلی بچھایا اور نماز ادا کرنے لگے چند لمحے گزرنے پائے تو فریاد کرنے لگے میری گودڑی کہاں ہے، یہ بوجھل کپڑے اتاردو، اسی وقت بیوی کو طلاق دے دی، اور وہی لباس فقر پہن کر باہر آگئے لوگوں نے پوچھا حضرت آپ نے یہ کیا کیا آپ نے فرمایا: مجھے ایک آواز آئی کہ تم نے ایک نگاہ سے غیر کو دیکھا ہم نے لباس فقر اتروالیا، اب اگر دوسری بار نگاہ کرو گے تو یاد رکھنا لباس آشنائی بھی اتروا دیا جائے گا۔
آپ ۳۲۸ھ میں فوت ہوئے۔
بو محمد شاہ زمین و زماں
سالِ تاریخ رحلتش سرور
آنکہ درد و ستاں حق طاق است
بو محمد ولی آفاق است
۳۲۸ھ
( خزینۃ الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abu-muhammad-abdullah-martaash
scholars.pk
Hazrat Abu Muhammad Abdullah Martaash
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت فاضل کبیر محمد حسن سنبھلی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: محمد حسن والد کا نام شیخ ظہور حسن بن شمس علی تھا ۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ حضرت سیدنا عبد السلام صحابی رسول ﷺ و رضی اللہ عنہ کی اولاد سے تھے ۔
تاریخِ ولادت:
فاضلِ کبیر 1264ھ میں سنبھلی، ضلع مراد آباد، ہند میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
فاضلِ کبیر نے پہلے حفظ قرآن پاک کیا، پھر مفتی عبد السلام سنبھلی، مولانا عبد الکریم خاں دہلوی، مولانا سدید الدین خاں دہلوی، مولانا شاہ عبد القادر بدایونی سے تحصیل و تکمیل علوم کی، کچھ دنوں بدایوں میں مولوی سید یونس علی بدایونی کی تعلیم پر مامور
بیعت و خلافت:
فاضلِ کبیر رحمۃ اللہ علیہ شاہ ولدار علی مذاق بدایونی خلیفۂ حضرت اچھے میاں مارہروی سے مرید تھے ۔ اور اُنہیں سے سلاسل طریقت کی اجازت بھی پائی ۔
سیرت و خصائص:
فاضلِ کبیر محمد حسن سنبھلی رحمۃ اللہ علیہ اپنے زمانہ کے مشہور صاحب تصنیف عالم تھے ۔ عبادت و ریاضت کے حوالے سے آپ بہت مشہور ہوئے ۔ اہل سنت کی ترویج و اشاعت اور اہلسنت کے دفاع میں ہر وقت مصروف و مشغول رہتے تھے ۔
آپ رحمۃ اللہ علیہ اپنی خدا داد صلاحیتوں کی وجہ سے بہت جلد عوام و خواص کا مرجع بن گئے ۔ آپنے اپنی انہیں صلاحیتوں کے ساتھ دین متین کی خدمت کرکے ایک نمایا مقام حاصل کیا ۔ آپ نے ہمہ وقت لوگوں کی ذہنی، اخلاقی و روحانی تربیت کرنےمیں گذارا ۔
تاریخ وصال:
فاضلِ کبیر رحمۃ نے 13 صفر المظفر 1305ھ / بمطابق اکتوبر 1887ء میں رحلت فرمائی ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے ہند، تذکرۂ نوری
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-fazil-kabir-muhammad-hassan-sumbuli
نام و نسب:
اسمِ گرامی: محمد حسن والد کا نام شیخ ظہور حسن بن شمس علی تھا ۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ حضرت سیدنا عبد السلام صحابی رسول ﷺ و رضی اللہ عنہ کی اولاد سے تھے ۔
تاریخِ ولادت:
فاضلِ کبیر 1264ھ میں سنبھلی، ضلع مراد آباد، ہند میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
فاضلِ کبیر نے پہلے حفظ قرآن پاک کیا، پھر مفتی عبد السلام سنبھلی، مولانا عبد الکریم خاں دہلوی، مولانا سدید الدین خاں دہلوی، مولانا شاہ عبد القادر بدایونی سے تحصیل و تکمیل علوم کی، کچھ دنوں بدایوں میں مولوی سید یونس علی بدایونی کی تعلیم پر مامور
بیعت و خلافت:
فاضلِ کبیر رحمۃ اللہ علیہ شاہ ولدار علی مذاق بدایونی خلیفۂ حضرت اچھے میاں مارہروی سے مرید تھے ۔ اور اُنہیں سے سلاسل طریقت کی اجازت بھی پائی ۔
سیرت و خصائص:
فاضلِ کبیر محمد حسن سنبھلی رحمۃ اللہ علیہ اپنے زمانہ کے مشہور صاحب تصنیف عالم تھے ۔ عبادت و ریاضت کے حوالے سے آپ بہت مشہور ہوئے ۔ اہل سنت کی ترویج و اشاعت اور اہلسنت کے دفاع میں ہر وقت مصروف و مشغول رہتے تھے ۔
آپ رحمۃ اللہ علیہ اپنی خدا داد صلاحیتوں کی وجہ سے بہت جلد عوام و خواص کا مرجع بن گئے ۔ آپنے اپنی انہیں صلاحیتوں کے ساتھ دین متین کی خدمت کرکے ایک نمایا مقام حاصل کیا ۔ آپ نے ہمہ وقت لوگوں کی ذہنی، اخلاقی و روحانی تربیت کرنےمیں گذارا ۔
تاریخ وصال:
فاضلِ کبیر رحمۃ نے 13 صفر المظفر 1305ھ / بمطابق اکتوبر 1887ء میں رحلت فرمائی ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے ہند، تذکرۂ نوری
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-fazil-kabir-muhammad-hassan-sumbuli
scholars.pk
Hazrat Fazil Kabir Muhammad Hassan Sumbuli
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
امام انقلاب سید صبغت اللہ شاہ ثانی شہید رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید صبغت اللہ شاہ ثانی راشدی ۔ القاب: امامِ انقلاب پیر صاحب پاگارہ ششم ، صاحبِ دستار (پگ دھنی)، سورھیہ بادشاہ ،شہید بادشاہ ، بطل ِحریت ، مجاہدِ اعظم ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت پیر سید صبغت اللہ شاہ ثانی راشدی بن حضرت پیر سید شاہ مردان شاہ اول بن حضرت پیر سید حزب اللہ شاہ بن حضرت پیر سید علی گوہر شاہ اصغر بن حضرت پیر سید صبغت اللہ شاہ اول بن امام العافین آفتابِ ولایت حضرت پیر سید محمد راشد شاہ المعروف پیر سائیں روضے دھنی رضی اللہ عنہ ۔
تاریخِ ولادت:
حضرت سید صبغت اللہ شاہ دوئم 23 صفر المظفر 1327ھ، مطابق مارچ /1909ء کو درگاہ عالیہ راشدیہ پیران پا گارہ (پیر جو گوٹھ ، ضلع خیر پور میرس ، سندھ ) میں تولد ہوئے ۔
والد ماجد شمس العلماء و العرفاء حضرت پیر سید شاہ مردان شاہ اول راشدی المعروف پیر صاحب پاگارہ پنجم کے وصال ( 7 ربیع الاول 1339ھ9 نومبر 1920ء ) کے بعد سید صبغت اللہ نومبر 1921ء کو فقط بارہ سال کی عمر میں مسند نشین ہو کر پیر صاحب پاگارہ ششم کی حیثیت سے متعارف ہوئے۔
تحصیلِ علم:
خانقاہ شریف میں اپنے والد ماجد و پیر و مرشد کی تربیت میں پروان چڑھے ۔ بعد مسند نشینی کے بھی تعلیم و مطالعہ کا سلسلہ جاری رکھا ۔ حافظ خدا بخش سومرو اور مولانا امام بخش مہیسر اساتذہ میں سے تھے۔
بیعت و خلافت:
آپ اپنے والدِ گرامی سے بیعت تھے ۔ ان کے وصال کے بعد جانشین منتخب کیے گئے۔
سیرت و خصائص:
امام ِ انقلاب، صاحبِ دستار (پگ دھنی)، بطل حریت ، مجاہد اعظم،شہیدِ حق،حضرت سید صبغت اللہ شاہ ثانی شہیدسورھیہ بادشاہ رحمۃ اللہ علیہ۔
آپ کاشمار ان نفوسِ قدسیہ سے ہے جنہوں نے باطل کو نیست و نابود کرکے حق کا بول بالا کر دیا ۔ آپ کا اسمِ شریف جرأت و بہادری کا استعارہ بن گیا تھا ۔ فرنگی عورتیں اپنے بچوں کو آپ کے نام سے ڈراتیں تھیں ۔ آپ نے بڑے منظم طریقے سے انگریز کافروں کا مقابلہ کیا۔ہزاروں فرنگی حر مجاہدین کے ہاتھوں جہنم واصل ہوئے۔
ہیبتِ فارقی، شجاعتِ حسینی، جرأتِ ایوبی، قوتِ حیدری، تقوی عثمانی کی زندہ مثال تھے ۔ انگریز غاصب و قابض تھا اس لئے آپ ان سے جہاد فرضِ عین سمجھتے تھے ۔ مسلم لیگی رہنما جناب قاضی محمد اکبر مرحوم آپ کی وجاہت کے متعلق رقم طراز ہیں:
مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میں نے پیر صاحب کو اپنی چشم ِگنہگار سے دیکھا ہے ۔ یہ انسانی حسن کا نادر نمونہ تھے اور روحانی عظمت نے ان کے چہرے پر بلا کا نور اور جلال بکھیر دیا تھا کہ کوئی شخص خواہ وہ کس قدر بھی مضبوط دل رکھتا ہو ان سے آنکھیں ملانے کی تاب نہیں لاسکتا تھا۔ بڑے بڑے انگریز ، سر، اور خان بہادر ، اس مجاہد اعظم کے سامنے جاتے تو یک بارگی لرز جاتے تھے لیکن یہ کس قدر شرمناک حقیقیت ہے کہ اس عظیم انقلابی مجاہد کے خلاف جھوٹا مقدمہ گھڑنے والے اور شہادتیں دینے والے بیگانے نہ تھے خود اپنے ہی تھے۔ اس طرح انہوں نے غداری کی روایت یہاں بھی قائم رکھی بہر حال انگریز "حر جماعت" کو کچل نہ سکا اور نہ ان کا شیرازہ منتشر کر سکا۔ (بحوالہ تذکرہ پیران پاگارہ از تبسم چوہدری)
ماہر فنون:
حضرت پیر صاحب شریعت مطہرہ کی پابندی ، حقوق العباد کی پاسداری ، جذبہ خدمت خلق ، ذکر و فکر ، شجاعت ہمت مرداں ، عسکری فکر سے سر شار ی ، آداب جہاد سے بیداری ، ذہانت کی بلندی ، دور اندیشی ، بردباری ، تکنیکی دماغ ، نظم و ضبط تنظیم سازی ، توکل علی اللہ، جہد مسلسل اور فہم و فراست ایمانی وغیرہ سے سر شار تھے۔
اس دور میں بھی آپ کے پاس جدید ہتھیار ، اسلحہ اور موٹر گاڑیاں وغیرہ سبھی کچھ تھا اور اس کی مشینری کی خرابی کیلئے آپ کو کسی میکینک کی ضرورت نہیں پڑتی تھی اس لئے کہ یہ سارا کام آپ خود کرتے تھے، جدید مشینوں کی رپیرنگ پر آپ پوری دسترس رکھتے تھے اور مجاہدین کو بھی سکھاتے تھے، اس طرح آپ ماہر فنون تھے۔
جیل سے آزادی کے بعد آپ نے پریس کے سامنے سکھر پل ( برج ) کی تین فنی خامیاں بتا کر اپنے ، پرائے ، دوست، دشمن سب کو حیرت میں ڈال دیا بلکہ انگیریز ماہر تعمیر و انجیئر بھی حیرت و اعتراف کا مجسمہ بن چکے تھے ۔
آپ نے فرمایا:
۱۔ پل طویل ہونے کی صورت میں اس پر سائبان ہونا چاہیے تھا تاکہ بارش یا برف باری کی صورت میں آنے جانے والوں کی حفاظت ہو سکتی تھی ۔
۲۔ پل کی چوڑائی کم رکھی گئی ہے، مستقل قریب میں ٹریفک کے بڑھنے کے باعث ؟ تکالیف کا سامنا ہو گا۔
۳۔ دریا میں جو دروازے بنائے گئے ہیں وہ تنگ و چھوٹے ہیں جس کے باعث بڑی کشتی یا جہاز کے گزرنے کا مسئلہ پیدا ہو گا۔ کم از کم ایک دروازہ بڑا رکھا جاتا۔ ( امام انقلاب صفحہ ۸۶)
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید صبغت اللہ شاہ ثانی راشدی ۔ القاب: امامِ انقلاب پیر صاحب پاگارہ ششم ، صاحبِ دستار (پگ دھنی)، سورھیہ بادشاہ ،شہید بادشاہ ، بطل ِحریت ، مجاہدِ اعظم ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت پیر سید صبغت اللہ شاہ ثانی راشدی بن حضرت پیر سید شاہ مردان شاہ اول بن حضرت پیر سید حزب اللہ شاہ بن حضرت پیر سید علی گوہر شاہ اصغر بن حضرت پیر سید صبغت اللہ شاہ اول بن امام العافین آفتابِ ولایت حضرت پیر سید محمد راشد شاہ المعروف پیر سائیں روضے دھنی رضی اللہ عنہ ۔
تاریخِ ولادت:
حضرت سید صبغت اللہ شاہ دوئم 23 صفر المظفر 1327ھ، مطابق مارچ /1909ء کو درگاہ عالیہ راشدیہ پیران پا گارہ (پیر جو گوٹھ ، ضلع خیر پور میرس ، سندھ ) میں تولد ہوئے ۔
والد ماجد شمس العلماء و العرفاء حضرت پیر سید شاہ مردان شاہ اول راشدی المعروف پیر صاحب پاگارہ پنجم کے وصال ( 7 ربیع الاول 1339ھ9 نومبر 1920ء ) کے بعد سید صبغت اللہ نومبر 1921ء کو فقط بارہ سال کی عمر میں مسند نشین ہو کر پیر صاحب پاگارہ ششم کی حیثیت سے متعارف ہوئے۔
تحصیلِ علم:
خانقاہ شریف میں اپنے والد ماجد و پیر و مرشد کی تربیت میں پروان چڑھے ۔ بعد مسند نشینی کے بھی تعلیم و مطالعہ کا سلسلہ جاری رکھا ۔ حافظ خدا بخش سومرو اور مولانا امام بخش مہیسر اساتذہ میں سے تھے۔
بیعت و خلافت:
آپ اپنے والدِ گرامی سے بیعت تھے ۔ ان کے وصال کے بعد جانشین منتخب کیے گئے۔
سیرت و خصائص:
امام ِ انقلاب، صاحبِ دستار (پگ دھنی)، بطل حریت ، مجاہد اعظم،شہیدِ حق،حضرت سید صبغت اللہ شاہ ثانی شہیدسورھیہ بادشاہ رحمۃ اللہ علیہ۔
آپ کاشمار ان نفوسِ قدسیہ سے ہے جنہوں نے باطل کو نیست و نابود کرکے حق کا بول بالا کر دیا ۔ آپ کا اسمِ شریف جرأت و بہادری کا استعارہ بن گیا تھا ۔ فرنگی عورتیں اپنے بچوں کو آپ کے نام سے ڈراتیں تھیں ۔ آپ نے بڑے منظم طریقے سے انگریز کافروں کا مقابلہ کیا۔ہزاروں فرنگی حر مجاہدین کے ہاتھوں جہنم واصل ہوئے۔
ہیبتِ فارقی، شجاعتِ حسینی، جرأتِ ایوبی، قوتِ حیدری، تقوی عثمانی کی زندہ مثال تھے ۔ انگریز غاصب و قابض تھا اس لئے آپ ان سے جہاد فرضِ عین سمجھتے تھے ۔ مسلم لیگی رہنما جناب قاضی محمد اکبر مرحوم آپ کی وجاہت کے متعلق رقم طراز ہیں:
مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میں نے پیر صاحب کو اپنی چشم ِگنہگار سے دیکھا ہے ۔ یہ انسانی حسن کا نادر نمونہ تھے اور روحانی عظمت نے ان کے چہرے پر بلا کا نور اور جلال بکھیر دیا تھا کہ کوئی شخص خواہ وہ کس قدر بھی مضبوط دل رکھتا ہو ان سے آنکھیں ملانے کی تاب نہیں لاسکتا تھا۔ بڑے بڑے انگریز ، سر، اور خان بہادر ، اس مجاہد اعظم کے سامنے جاتے تو یک بارگی لرز جاتے تھے لیکن یہ کس قدر شرمناک حقیقیت ہے کہ اس عظیم انقلابی مجاہد کے خلاف جھوٹا مقدمہ گھڑنے والے اور شہادتیں دینے والے بیگانے نہ تھے خود اپنے ہی تھے۔ اس طرح انہوں نے غداری کی روایت یہاں بھی قائم رکھی بہر حال انگریز "حر جماعت" کو کچل نہ سکا اور نہ ان کا شیرازہ منتشر کر سکا۔ (بحوالہ تذکرہ پیران پاگارہ از تبسم چوہدری)
ماہر فنون:
حضرت پیر صاحب شریعت مطہرہ کی پابندی ، حقوق العباد کی پاسداری ، جذبہ خدمت خلق ، ذکر و فکر ، شجاعت ہمت مرداں ، عسکری فکر سے سر شار ی ، آداب جہاد سے بیداری ، ذہانت کی بلندی ، دور اندیشی ، بردباری ، تکنیکی دماغ ، نظم و ضبط تنظیم سازی ، توکل علی اللہ، جہد مسلسل اور فہم و فراست ایمانی وغیرہ سے سر شار تھے۔
اس دور میں بھی آپ کے پاس جدید ہتھیار ، اسلحہ اور موٹر گاڑیاں وغیرہ سبھی کچھ تھا اور اس کی مشینری کی خرابی کیلئے آپ کو کسی میکینک کی ضرورت نہیں پڑتی تھی اس لئے کہ یہ سارا کام آپ خود کرتے تھے، جدید مشینوں کی رپیرنگ پر آپ پوری دسترس رکھتے تھے اور مجاہدین کو بھی سکھاتے تھے، اس طرح آپ ماہر فنون تھے۔
جیل سے آزادی کے بعد آپ نے پریس کے سامنے سکھر پل ( برج ) کی تین فنی خامیاں بتا کر اپنے ، پرائے ، دوست، دشمن سب کو حیرت میں ڈال دیا بلکہ انگیریز ماہر تعمیر و انجیئر بھی حیرت و اعتراف کا مجسمہ بن چکے تھے ۔
آپ نے فرمایا:
۱۔ پل طویل ہونے کی صورت میں اس پر سائبان ہونا چاہیے تھا تاکہ بارش یا برف باری کی صورت میں آنے جانے والوں کی حفاظت ہو سکتی تھی ۔
۲۔ پل کی چوڑائی کم رکھی گئی ہے، مستقل قریب میں ٹریفک کے بڑھنے کے باعث ؟ تکالیف کا سامنا ہو گا۔
۳۔ دریا میں جو دروازے بنائے گئے ہیں وہ تنگ و چھوٹے ہیں جس کے باعث بڑی کشتی یا جہاز کے گزرنے کا مسئلہ پیدا ہو گا۔ کم از کم ایک دروازہ بڑا رکھا جاتا۔ ( امام انقلاب صفحہ ۸۶)
❤1
آپ جمہور اہلسنت کے موقف کے حامی تھے ۔ جس طرح انگریز کافر اور مسلمانوں کا دشمن ہے اسی طرح ہندو بھی کافر ہے ۔ یہی امامِ اہلسنت امام احمد رضا خان کا فلسفہ ہے ۔ اسی فلسفے کی بدولت پاکستان وجود میں آیا ۔ جب کانگریس کا ایک وفد "گاندھی جی" کی سیادت میں آزادی کا پیغام لایا، تو مجاہدِ اعظم نے فرمایا: "ہم کسی کی سیادت اور قیادت قبول کرنے کیلئے ہر گز تیار نہیں ہیں کیونکہ ہمارے رہنما اور ہادی برحق حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ہیں اور ہمارا دستور العمل قرآن ہے" ۔
مقدمہ کے دوران انگریزی حکومت نے اپنے کئی ایجنٹوں کو پیر صاحب کے پاس بھیجا کہ وہ حکومت سے معافی مانگ لیں تو انہیں معاف کیا جا سکتا ہے اور اس طرح وہ بھانسی سے بچ سکتے ہیں لیکن حضرت پیر صاحب نے ان سب کو ایک ہی جواب دیا اور بلاشبہ آزادی کا پر ستار اور سادات کا سپوت ایسے ہی جواب دے سکتا ہے۔ آپ نے فرمایا: "شہادت ہمارا تاج ہے ۔ اسے آگے بڑھ کر پہن لینا ہمارے لیے عبادت ہے۔ ہم نے صرف آزادی کو چاہا ہے اور یہ کوئی جرم نہیں ہے ۔ ظالم سے معافی مانگنے کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے ۔ ہم تو صرف اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں"
ملٹری کورٹ میں جب آپ پر مقدمہ چلایا گیا تو آپ نے ا س سے بیزاری اور بے رخی کا اس انداز سے اظہار کیا جو حریت پسندوں اور مجاہدوں کی شایان شان ہے۔ آپ نے مسکراتے ہوئے بھانسی کا پھندہ گلے میں ڈالنا پسند کر لیا لیکن کافر کی غلامی اور جابر سے معافی طلب کرنے کو ہر گز گوارانہ کیا۔ ( تذکرہ پیران پاگارہ ۱۸۸)
تاریخِ شہادت:
20 مارچ 1943ء ، مطابق 14 ربیع الاول 1362ھ، کو فجر کے وقت سینٹرل جیل حیدر آباد میں فقط 35 سال کی عمر میں آپ کو پھانسی دے دی گئی ۔
آپ کی تدفین اور مزار کے بارے میں اختلاف ہے ۔ ایک قول یہ ہے کہ ایک لانچ کے ذریعے پیر صاحب کو کراچی کے مغرب میں واقع ایک جزیرہ " استولا " پہنچا کر وہاں سپرد خاک کیا گیا ۔ لیکن محقق علامہ زین العابدین راشدی زید مجدہ و شرفہ فرماتے ہیں: قرائن اور میرا وجدان کہتا ہے کہ بہادر آباد کی پہاڑی پر نزد باغ و بہار لان آپ کا مزار شریف ہے جس کو عرف عام میں بسم اللہ بابا کا مزار کہا جاتا ہے ۔ (تونسوی) ۔ (اللہ و رسولہ اعلم)
ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہلسنت سندھ ۔
بنا کر دند خوش رسمے بخاک و خون غلطیدن
خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-peer-saen-sibghatullah-shaheed
مقدمہ کے دوران انگریزی حکومت نے اپنے کئی ایجنٹوں کو پیر صاحب کے پاس بھیجا کہ وہ حکومت سے معافی مانگ لیں تو انہیں معاف کیا جا سکتا ہے اور اس طرح وہ بھانسی سے بچ سکتے ہیں لیکن حضرت پیر صاحب نے ان سب کو ایک ہی جواب دیا اور بلاشبہ آزادی کا پر ستار اور سادات کا سپوت ایسے ہی جواب دے سکتا ہے۔ آپ نے فرمایا: "شہادت ہمارا تاج ہے ۔ اسے آگے بڑھ کر پہن لینا ہمارے لیے عبادت ہے۔ ہم نے صرف آزادی کو چاہا ہے اور یہ کوئی جرم نہیں ہے ۔ ظالم سے معافی مانگنے کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے ۔ ہم تو صرف اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں"
ملٹری کورٹ میں جب آپ پر مقدمہ چلایا گیا تو آپ نے ا س سے بیزاری اور بے رخی کا اس انداز سے اظہار کیا جو حریت پسندوں اور مجاہدوں کی شایان شان ہے۔ آپ نے مسکراتے ہوئے بھانسی کا پھندہ گلے میں ڈالنا پسند کر لیا لیکن کافر کی غلامی اور جابر سے معافی طلب کرنے کو ہر گز گوارانہ کیا۔ ( تذکرہ پیران پاگارہ ۱۸۸)
تاریخِ شہادت:
20 مارچ 1943ء ، مطابق 14 ربیع الاول 1362ھ، کو فجر کے وقت سینٹرل جیل حیدر آباد میں فقط 35 سال کی عمر میں آپ کو پھانسی دے دی گئی ۔
آپ کی تدفین اور مزار کے بارے میں اختلاف ہے ۔ ایک قول یہ ہے کہ ایک لانچ کے ذریعے پیر صاحب کو کراچی کے مغرب میں واقع ایک جزیرہ " استولا " پہنچا کر وہاں سپرد خاک کیا گیا ۔ لیکن محقق علامہ زین العابدین راشدی زید مجدہ و شرفہ فرماتے ہیں: قرائن اور میرا وجدان کہتا ہے کہ بہادر آباد کی پہاڑی پر نزد باغ و بہار لان آپ کا مزار شریف ہے جس کو عرف عام میں بسم اللہ بابا کا مزار کہا جاتا ہے ۔ (تونسوی) ۔ (اللہ و رسولہ اعلم)
ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہلسنت سندھ ۔
بنا کر دند خوش رسمے بخاک و خون غلطیدن
خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-peer-saen-sibghatullah-shaheed
scholars.pk
Hazrat Peer Saen Sibghatullah Shaheed
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
Hazrat Peer Saen Sibghatullah Shaheed (Father of Peer Pagara)
❤1
حافظ الحدیث امام نسائی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
نام: احمد بن شعیب بن یحیٰ بن سنان بن دینار نسائی خراسانی ہے۔ کنیت: ابو عبدالرحمن ، لقب: حافظ الحدیث ہے۔
تاریخ و مقامِ ولادت:
آپ رحمۃ اللہ علیہ 215 ھ میں خراسان کے ایک مشہور شہر نَسا میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے دیار کے شیوخ سے اخذِ علم کے بعد، قتیبہ بن سعید کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے دوسال استفادہ کیا، اس کے علاوہ خراسان، عراق، حجاز، جزیرہ، شام اور مصر وغیرہ مختلف مقامات کا حصولِ علم کے لئے سفر کیا۔
سیرت و خصائص:
امام نَسائی رحمۃ اللہ علیہ بے حد عبادت گزار اور شب بیدار تھے۔ ایک دن روزہ اور ایک دن افطار صومِ داؤدی کے طریقہ کو اپنایا ہوا تھا ۔ طبیعت اور مزاج میں حد درجہ استغناء تھا، اس لئے حکام کی مجلس سے ہمیشہ احتراز کرتے تھے ۔
امام نسائی عقائد میں بھی راسخ و متصلب تھے۔ جس زمانہ میں معتزلہ کے عقیدہ خلقِ قرآن کا چرچا تھا ان دنوں محمد بن اعین نے ایک مرتبہ عبد اللہ بن مبارک سے کہا کہ فلاں شخص کہتاہے کہ جو شخص آیہ کریمہ إِنَّنِي أَنَا اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدْنِي (طہ، آیت 14) ترجمہ کنز الایمان: ” بیشک میں ہی ہوں اللہ کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو میری بندگی“ کو مخلوق مانے وہ کافر ہے۔
عبد اللہ بن مبارک نے فرمایا:
یہ حق ہے ۔ امام نسائی نے جب یہ روایت سنی تو کہا میرا مذہب بھی یہی ہے ۔ عبادت میں امام نسائی کی کثرت کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ آپ دن کے وقت میں امیرِ مصر کے ساتھ جہاد کرتے اور رات ساری عبادت میں گذار دیتے تھے ۔
طبعاً فیاض تھے اور مسلمان قیدیوں کا فدیہ دے کر چھڑایا کرتے تھے ۔ انہوں نے اپنی ساری زندگی اسوہ رسول ﷺ کو اپنانے اور اخلاقِ صالحین کے تخلق میں گذاری یہاں تک کہ دمشق میں خوارج کے ہاتھوں جامِ شہادت نوش کیا۔
امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ پر شیعہ ہونے کا الزام:
کچھ لوگوں نے لاعلمی اور جہالت کی وجہ سے امام نسائی پر شیعہ ہونے کا الزام لگایا حالانکہ اس الزام سے آپ کو دور کا بھی علاقہ نہیں تھا ۔ بعض لوگوں نے اس باب میں ابنِ خلکان کی اس عبارت سے دھوکا کھایا ہے: وکان یتشیع (وہ تشیع کرتے تھے) (وفیات الاعیان، جلد 1، صفحہ 35)
علامہ ابنِ خلاکان نے امام نسائی کے لئے تشیع کا لفظ استعمال فرمایا ہے اور تشیع اور رفض میں بہت فرق ہے۔ جو شخص حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو شیخین سے افضل جانے وہ رافضی اور جو ان کو حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے افضل جانے وہ شیعی ہے، لیکن امام نسائی کی تصانیف سے یہ کہیں ثابت نہیں ہوتا کہ وہ حضرت علی کو شیخین یا حضرت عثمان پر فضیلت دیتے ہوں ۔
انہوں نے اپنی کتاب السنن میں بیعت حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وقت حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ فرمان روایت کیا کہ ” حضرت عمر نے سقیفہ بنو ساعدہ میں مہاجرین اور انصار کے اجتماع سے خطاب کرکے فرمایا: کیا تم نہیں جانتے کہ حضور ﷺ نے حضرت ابو بکر کو امامت کرانے کا حکم دیا پھر تم میں سے کون ابو بکر پر مقدم ہونا چاہتا ہے؟ ان سب نے یک زبان ہوکر کہا : ہم ابو بکر پر مقدم ہونے سے خدا کی پناہ چاہتے ہیں“۔
امام نسائی کی اس روایت کے ہوتے ہوئے ان کی طرف تشیع کی نسبت کیسے صحیح ہو سکتی ہے خصوصاً جبکہ انہوں نے باقی صحابہ کے فضائل خصوصاً خلفاء راشدین کے فضائل بھی تصنیف کئے ہیں ۔ اگر امام نسائی میں شیعیت اور رافضیت کا ٹھورا سا بھی عنصر ہوتا تو آپ صرف حضرت علی کے فضائل تصنیف فرماتے، اس کے بر عکس آپ نے کئی صحابہ کے فضائل تصنیف کرکے اپنے اوپر وارد ہونے والے شیعہ اور رافضی ہونے کے الزام کو قلع قمع کیا ۔
چنانچہ ان کے شاگرد محمد بن موسیٰ مامونی فرماتے ہیں : ”مجھے معلوم ہے کہ بعض لوگ حضرت علی کے فضائل لکھنے اور فضائل شیخین پر کچھ نہ لکھنے کی وجہ سے امام ابو عبد الرحمن نسائی کا انکار کرتے ہیں تو میں نے اس مسئلہ پر امام نسائی سے گفتگو کی انہوں نے فرمایا: جب میں دمشق گیا تو وہاں اکثر لوگوں کو حضرت علی سے منحرف پایا پس میں نے خصائصِ علی اس توقع سے تصنیف کیے کہ وہ لوگ راہ راست پر آجائیں ۔ مامونی کہتے ہیں: اس کے بعد انہوں نے باقی صحابہ کے فضائل بھی تصنیف کیے“۔ اس اقتباس سے ثابت ہوا کہ امام نسائی حسبِ مراتب تمام صحابہ کے فضائل کے معتقد تھے۔
وصالِ پر ملال:
امام نسائی نے جب دمشق کی مسجد میں خصائصِ علی کا اقتباس سنایا اور لوگوں نے آپ کو زد و کوب کیا تو خدام اٹھا کر آپ کو گھر لے آیا ۔ آپ نے فرمایا کہ مجھے فوراً مکہ معظمہ پہنچایا جائے تاکہ مکہ یا اس کے راستے میں میرا انتقال ہو جائے چنانچہ مکہ معظمہ پہنچنے پر 13 صفر المظفر 303ھ / بمطابق اگست 915 ء کو آپ کا انتقال ہوا ۔
ماخذ و مراجع: تذکرۃ المحدثین
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abu-abdur-rahman-ahmad-nasai
نام و نسب:
نام: احمد بن شعیب بن یحیٰ بن سنان بن دینار نسائی خراسانی ہے۔ کنیت: ابو عبدالرحمن ، لقب: حافظ الحدیث ہے۔
تاریخ و مقامِ ولادت:
آپ رحمۃ اللہ علیہ 215 ھ میں خراسان کے ایک مشہور شہر نَسا میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے دیار کے شیوخ سے اخذِ علم کے بعد، قتیبہ بن سعید کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے دوسال استفادہ کیا، اس کے علاوہ خراسان، عراق، حجاز، جزیرہ، شام اور مصر وغیرہ مختلف مقامات کا حصولِ علم کے لئے سفر کیا۔
سیرت و خصائص:
امام نَسائی رحمۃ اللہ علیہ بے حد عبادت گزار اور شب بیدار تھے۔ ایک دن روزہ اور ایک دن افطار صومِ داؤدی کے طریقہ کو اپنایا ہوا تھا ۔ طبیعت اور مزاج میں حد درجہ استغناء تھا، اس لئے حکام کی مجلس سے ہمیشہ احتراز کرتے تھے ۔
امام نسائی عقائد میں بھی راسخ و متصلب تھے۔ جس زمانہ میں معتزلہ کے عقیدہ خلقِ قرآن کا چرچا تھا ان دنوں محمد بن اعین نے ایک مرتبہ عبد اللہ بن مبارک سے کہا کہ فلاں شخص کہتاہے کہ جو شخص آیہ کریمہ إِنَّنِي أَنَا اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدْنِي (طہ، آیت 14) ترجمہ کنز الایمان: ” بیشک میں ہی ہوں اللہ کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو میری بندگی“ کو مخلوق مانے وہ کافر ہے۔
عبد اللہ بن مبارک نے فرمایا:
یہ حق ہے ۔ امام نسائی نے جب یہ روایت سنی تو کہا میرا مذہب بھی یہی ہے ۔ عبادت میں امام نسائی کی کثرت کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ آپ دن کے وقت میں امیرِ مصر کے ساتھ جہاد کرتے اور رات ساری عبادت میں گذار دیتے تھے ۔
طبعاً فیاض تھے اور مسلمان قیدیوں کا فدیہ دے کر چھڑایا کرتے تھے ۔ انہوں نے اپنی ساری زندگی اسوہ رسول ﷺ کو اپنانے اور اخلاقِ صالحین کے تخلق میں گذاری یہاں تک کہ دمشق میں خوارج کے ہاتھوں جامِ شہادت نوش کیا۔
امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ پر شیعہ ہونے کا الزام:
کچھ لوگوں نے لاعلمی اور جہالت کی وجہ سے امام نسائی پر شیعہ ہونے کا الزام لگایا حالانکہ اس الزام سے آپ کو دور کا بھی علاقہ نہیں تھا ۔ بعض لوگوں نے اس باب میں ابنِ خلکان کی اس عبارت سے دھوکا کھایا ہے: وکان یتشیع (وہ تشیع کرتے تھے) (وفیات الاعیان، جلد 1، صفحہ 35)
علامہ ابنِ خلاکان نے امام نسائی کے لئے تشیع کا لفظ استعمال فرمایا ہے اور تشیع اور رفض میں بہت فرق ہے۔ جو شخص حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو شیخین سے افضل جانے وہ رافضی اور جو ان کو حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے افضل جانے وہ شیعی ہے، لیکن امام نسائی کی تصانیف سے یہ کہیں ثابت نہیں ہوتا کہ وہ حضرت علی کو شیخین یا حضرت عثمان پر فضیلت دیتے ہوں ۔
انہوں نے اپنی کتاب السنن میں بیعت حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وقت حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ فرمان روایت کیا کہ ” حضرت عمر نے سقیفہ بنو ساعدہ میں مہاجرین اور انصار کے اجتماع سے خطاب کرکے فرمایا: کیا تم نہیں جانتے کہ حضور ﷺ نے حضرت ابو بکر کو امامت کرانے کا حکم دیا پھر تم میں سے کون ابو بکر پر مقدم ہونا چاہتا ہے؟ ان سب نے یک زبان ہوکر کہا : ہم ابو بکر پر مقدم ہونے سے خدا کی پناہ چاہتے ہیں“۔
امام نسائی کی اس روایت کے ہوتے ہوئے ان کی طرف تشیع کی نسبت کیسے صحیح ہو سکتی ہے خصوصاً جبکہ انہوں نے باقی صحابہ کے فضائل خصوصاً خلفاء راشدین کے فضائل بھی تصنیف کئے ہیں ۔ اگر امام نسائی میں شیعیت اور رافضیت کا ٹھورا سا بھی عنصر ہوتا تو آپ صرف حضرت علی کے فضائل تصنیف فرماتے، اس کے بر عکس آپ نے کئی صحابہ کے فضائل تصنیف کرکے اپنے اوپر وارد ہونے والے شیعہ اور رافضی ہونے کے الزام کو قلع قمع کیا ۔
چنانچہ ان کے شاگرد محمد بن موسیٰ مامونی فرماتے ہیں : ”مجھے معلوم ہے کہ بعض لوگ حضرت علی کے فضائل لکھنے اور فضائل شیخین پر کچھ نہ لکھنے کی وجہ سے امام ابو عبد الرحمن نسائی کا انکار کرتے ہیں تو میں نے اس مسئلہ پر امام نسائی سے گفتگو کی انہوں نے فرمایا: جب میں دمشق گیا تو وہاں اکثر لوگوں کو حضرت علی سے منحرف پایا پس میں نے خصائصِ علی اس توقع سے تصنیف کیے کہ وہ لوگ راہ راست پر آجائیں ۔ مامونی کہتے ہیں: اس کے بعد انہوں نے باقی صحابہ کے فضائل بھی تصنیف کیے“۔ اس اقتباس سے ثابت ہوا کہ امام نسائی حسبِ مراتب تمام صحابہ کے فضائل کے معتقد تھے۔
وصالِ پر ملال:
امام نسائی نے جب دمشق کی مسجد میں خصائصِ علی کا اقتباس سنایا اور لوگوں نے آپ کو زد و کوب کیا تو خدام اٹھا کر آپ کو گھر لے آیا ۔ آپ نے فرمایا کہ مجھے فوراً مکہ معظمہ پہنچایا جائے تاکہ مکہ یا اس کے راستے میں میرا انتقال ہو جائے چنانچہ مکہ معظمہ پہنچنے پر 13 صفر المظفر 303ھ / بمطابق اگست 915 ء کو آپ کا انتقال ہوا ۔
ماخذ و مراجع: تذکرۃ المحدثین
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abu-abdur-rahman-ahmad-nasai
scholars.pk
Hazrat Abu Abdur Rahman Ahmad Nasai
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
12-02-1445 ᴴ | 30-08-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
13-02-1445 ᴴ | 31-08-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2👍1