مخالفین کے گھر سے گواہی:
مسلکِ مخالف کے شیخ الاسلام حسین احمد مدنی کہتے ہیں: "مولانا فضل حق صاحب خیر آبادی کو جو کہ تحریک کے بہت بڑے رکن تھے اور بریلی، علی گڑھ اور اس کے ملحقہ اضلاع کے دورانِ تحریک میں گورنر تھے، آخر ان کو گھر سے گرفتار کیا گیا ۔ جس مخبر نے ان کو گرفتار کرایا تھا اس نے انکار کر دیا کہ مجھے معلوم نہیں، فتویٰ جہاد پر جس نے دستخط کیے ہیں وہ یہ فضل حق ہیں یا کوئی اور ہیں ؟ ۔۔۔۔۔
مولانا نے فرمایا:
"مخبر نے پہلے جو رپورٹ لکھوائی تھی وہ بِالکل صحیح تھی کہ فتویٰ میرا ہے ۔ اب میری شکل و صورت سے مرعوب ہو کر یہ جھوٹ بول رہا ہے " ۔ قربان جائیے! علامہ کی شانِ استقلال پر خدا کا شیر گرج کر کہہ رہا ہے کہ میرا اب بھی وہی فیصلہ ہے کہ انگریز غاصب ہے اور اس کے خلاف جہاد کرنا فرض ہے ۔ خدا کے بندے ایسے ہی ہوا کرتے ہیں ۔ وہ جان کی پروا کیے بغیر سر بہ کف ہو کر میدان میں نکلتے ہیں اور لومڑی کی طرح ہیر پھیر کر کے جان نہیں بچاتے بلکہ شیروں کی طرح جان دینے کو فخر سمجھتے ہیں ۔ " (حسین احمد مدنی: تحریک ریشمی رومال، مطبوعہ لاہور ۔1960ء، ص:65) ـ
ان نام نہاد " محققین " کی تقلیدی اور متعصبانہ تحقیق پر ان کے اپنے مسلک کے منصف مزاج شخصیات نے تنقید کی ہے: پاکستان میں دیوبندی مکتبِ فکر کے آرگن ہفت روزہ " خدام الدین " لاہور کے ایک مضمون کے چند اقتباس ملاحظہ ہوں ۔ یہ اقتباسات علامہ فضل حق خیر آبادی کے فتوائے جہاد کے منکرین کے لیے لمحۂ فکریہ سے کم نہیں اور ان لوگوں کے لیے درسِ عبرت ہے جو علامہ کی مجاہدانہ سرگرمیوں کو محض ایک مخصوص مسلک کے لوگوں تک محدود کرنے کی سعیِ نا مشکور کر رہے ہیں ۔
فرماتے ہیں:
" بُرا ہو تاریخ کا ۔ اس نے اپنے حافظہ سے ایسی ایسی جاں باز، حق گو، بہادر اور جامع کمالات شخصیتوں کو دودھ سے مکھی کی طرح نکال پھینکا ۔ جنہوں نے اپنے دور میں وقت کے تیز و تند طوفانوں سے بے خوف ٹکر لی اور پیٹھ نہیں دکھائی ۔ مولانا فضل حق رحمۃ اللہ علیہ تاریخ کے ان جواں مرد اور نڈر مجاہدین میں سے تھے جن کی جرات و ہمت اور حق گوئی و بے باکی نے دنیا کو حیرت میں ڈال دیا ۔ مگر تاریخ کے صفحات میں ان کو شایانِ شان کیا، کوئی معمولی جگہ بھی نہیں مل سکی ۔ مولانا فضل حق خیر آبادی نے افضل الجہاد کلمۃ الحق عند سلطانِ جابر کا فریضہ ادا کیا اور اپنی عمرِ عزیز انڈومان میں حبسِ دوام کی نذر کر دی ۔ علامہ فضل حق خیر آبادی نے انگریزوں کے خلاف فتویٰ دے کر مسلمانوں کو عدم تعاون پر آمادہ کیا ـ مولانا فضل حق خیر آبادی (اسی جرم میں) " باغی " قرار دیے گئے " ۔ (مضمون: " مولانا فضل حق خیرآبادی " ۔ از: مستقیم احسنؔ حامدی ۔ فاضل دار العلوم دیوبند ۔ ہفت روزہ خدام الدین، لاہور 23 نومبر 1962ء، ص:9/10) ـ
الغرض تاریخی حیثیت سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ علامہ فضلِ حق خیرآبادی انگریزوں کے حامی و مددگار نہ تھے بلکہ ان کے حامیوں اور مدد گاروں کو مرتدو بے دین سمجھتے تھے ۔ وہ علم و فضل کے بحرِ بے کنار تھے ۔ انہوں نے اپنی زندگی کا حق ادا کر دیا ۔ سنتِ حسین پر عمل پیرا ہو کر اپنی جان قربان کر دی لیکن باطل کے سامنے اپنے موقف سے ایک اِنچ بھی پیچھے نہ ہوئے ۔
وصال:
جزیرہ انڈمان کی جیل میں ایک سال دس ماہ تیرہ دن اسیری میں رہ کر 12 صفر المظفر 1278ھ، مطابق 20 اگست 1861ء کو جہانِ فانی سے رخصت ہوئے ۔ آج بھی آپ کی قبر " آزادی " کی آذانیں سُنا رہی ہے ۔
ماخذ و مراجع:
حدائق الحنفیہ ۔ خیر آبادیات ۔ تذکرہ علمائے ہند ۔ دو قومی نظریہ اور علمائے اہلسنت ۔ جنگِ آزدی میں علامہ فضلِ حق خیر آبادی کا کردار ۔
بنا کر دند خوش رسمے بخاک و خون غلطیدن
خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-fazal-haq-khairabadi
مسلکِ مخالف کے شیخ الاسلام حسین احمد مدنی کہتے ہیں: "مولانا فضل حق صاحب خیر آبادی کو جو کہ تحریک کے بہت بڑے رکن تھے اور بریلی، علی گڑھ اور اس کے ملحقہ اضلاع کے دورانِ تحریک میں گورنر تھے، آخر ان کو گھر سے گرفتار کیا گیا ۔ جس مخبر نے ان کو گرفتار کرایا تھا اس نے انکار کر دیا کہ مجھے معلوم نہیں، فتویٰ جہاد پر جس نے دستخط کیے ہیں وہ یہ فضل حق ہیں یا کوئی اور ہیں ؟ ۔۔۔۔۔
مولانا نے فرمایا:
"مخبر نے پہلے جو رپورٹ لکھوائی تھی وہ بِالکل صحیح تھی کہ فتویٰ میرا ہے ۔ اب میری شکل و صورت سے مرعوب ہو کر یہ جھوٹ بول رہا ہے " ۔ قربان جائیے! علامہ کی شانِ استقلال پر خدا کا شیر گرج کر کہہ رہا ہے کہ میرا اب بھی وہی فیصلہ ہے کہ انگریز غاصب ہے اور اس کے خلاف جہاد کرنا فرض ہے ۔ خدا کے بندے ایسے ہی ہوا کرتے ہیں ۔ وہ جان کی پروا کیے بغیر سر بہ کف ہو کر میدان میں نکلتے ہیں اور لومڑی کی طرح ہیر پھیر کر کے جان نہیں بچاتے بلکہ شیروں کی طرح جان دینے کو فخر سمجھتے ہیں ۔ " (حسین احمد مدنی: تحریک ریشمی رومال، مطبوعہ لاہور ۔1960ء، ص:65) ـ
ان نام نہاد " محققین " کی تقلیدی اور متعصبانہ تحقیق پر ان کے اپنے مسلک کے منصف مزاج شخصیات نے تنقید کی ہے: پاکستان میں دیوبندی مکتبِ فکر کے آرگن ہفت روزہ " خدام الدین " لاہور کے ایک مضمون کے چند اقتباس ملاحظہ ہوں ۔ یہ اقتباسات علامہ فضل حق خیر آبادی کے فتوائے جہاد کے منکرین کے لیے لمحۂ فکریہ سے کم نہیں اور ان لوگوں کے لیے درسِ عبرت ہے جو علامہ کی مجاہدانہ سرگرمیوں کو محض ایک مخصوص مسلک کے لوگوں تک محدود کرنے کی سعیِ نا مشکور کر رہے ہیں ۔
فرماتے ہیں:
" بُرا ہو تاریخ کا ۔ اس نے اپنے حافظہ سے ایسی ایسی جاں باز، حق گو، بہادر اور جامع کمالات شخصیتوں کو دودھ سے مکھی کی طرح نکال پھینکا ۔ جنہوں نے اپنے دور میں وقت کے تیز و تند طوفانوں سے بے خوف ٹکر لی اور پیٹھ نہیں دکھائی ۔ مولانا فضل حق رحمۃ اللہ علیہ تاریخ کے ان جواں مرد اور نڈر مجاہدین میں سے تھے جن کی جرات و ہمت اور حق گوئی و بے باکی نے دنیا کو حیرت میں ڈال دیا ۔ مگر تاریخ کے صفحات میں ان کو شایانِ شان کیا، کوئی معمولی جگہ بھی نہیں مل سکی ۔ مولانا فضل حق خیر آبادی نے افضل الجہاد کلمۃ الحق عند سلطانِ جابر کا فریضہ ادا کیا اور اپنی عمرِ عزیز انڈومان میں حبسِ دوام کی نذر کر دی ۔ علامہ فضل حق خیر آبادی نے انگریزوں کے خلاف فتویٰ دے کر مسلمانوں کو عدم تعاون پر آمادہ کیا ـ مولانا فضل حق خیر آبادی (اسی جرم میں) " باغی " قرار دیے گئے " ۔ (مضمون: " مولانا فضل حق خیرآبادی " ۔ از: مستقیم احسنؔ حامدی ۔ فاضل دار العلوم دیوبند ۔ ہفت روزہ خدام الدین، لاہور 23 نومبر 1962ء، ص:9/10) ـ
الغرض تاریخی حیثیت سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ علامہ فضلِ حق خیرآبادی انگریزوں کے حامی و مددگار نہ تھے بلکہ ان کے حامیوں اور مدد گاروں کو مرتدو بے دین سمجھتے تھے ۔ وہ علم و فضل کے بحرِ بے کنار تھے ۔ انہوں نے اپنی زندگی کا حق ادا کر دیا ۔ سنتِ حسین پر عمل پیرا ہو کر اپنی جان قربان کر دی لیکن باطل کے سامنے اپنے موقف سے ایک اِنچ بھی پیچھے نہ ہوئے ۔
وصال:
جزیرہ انڈمان کی جیل میں ایک سال دس ماہ تیرہ دن اسیری میں رہ کر 12 صفر المظفر 1278ھ، مطابق 20 اگست 1861ء کو جہانِ فانی سے رخصت ہوئے ۔ آج بھی آپ کی قبر " آزادی " کی آذانیں سُنا رہی ہے ۔
ماخذ و مراجع:
حدائق الحنفیہ ۔ خیر آبادیات ۔ تذکرہ علمائے ہند ۔ دو قومی نظریہ اور علمائے اہلسنت ۔ جنگِ آزدی میں علامہ فضلِ حق خیر آبادی کا کردار ۔
بنا کر دند خوش رسمے بخاک و خون غلطیدن
خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-fazal-haq-khairabadi
scholars.pk
Hazrat Molana Fazal Haq Khairabadi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
قائد انقلاب، مجاہد جنگِ آزادی، بطل حریت، حضرت علامہ محمد فضلِ حق خیر آبادی فاروقی حنفی ماتریدی چشتی رضی اللہ عنہ کی ولادت 1212ھ خیرآباد، ضلع سیتا پور، اترپردیش، ہندستان میں ہوئی۔ آپ حافظ قرآن، ماہر علوم عقیلہ و نقلیہ، امام المناطقہ، رئیس المتکلمین، استاذ العلماء، سلسلہ خیرآبادیہ کے چشم و چراغ، لکھنؤ کے قاضی القضاۃ، اردو و عربی کے شاعر، کئی کتب کے مصنف اور مؤثر ترین شخصیت کے مالک تھے۔ کتب میں امتناع النظیر اور الثورۃ الھندیہ معروف ہیں۔ 12 صفر المظفر 1278ه بروز پیر بمطابق 20 اگست 1861ء کو جزیرہ انڈمان میں شہید ہوئے، مزار شريف بھی وہیں ساؤتھ پوائنٹ پورٹ بلیر میں ہے۔ (حدائق الحنفیہ، خیرآبادیات، تذکرہ علمائے ہند)
Freedom fighter, Revolution leader, Allamah Muhammad Fazl-e-Haq Khayrabadi Farooqi Hanafi Maturidi Chishti (RadiyAllahu Anhu) was born in 1212 AH in Khairabad, District Sitapur, U.P., India. He was a Hafiz of the Holy Quran, an expert in traditional and rational branches of knowledge, leader of logicians, master of theologians, teacher of scholars, a beacon of light among the scholars of Khairabad, Islamic Chief Justice of Lucknow, Urdu, and Arabic poet, author of many books and an extremely influential personality. Imtina’ al-Nazeer and Al-Thawrat al-Hindiyyah are famous among his books. He was martyred on Monday, 12th Safar 1278 AH (i.e. 20th August 1861 CE) in Andaman Island. His blessed resting place is also located there in South Point, Port Blair, Andaman, and the Nicobar Islands. [Hadaiq al-Hanafiyyah, Khayrabadiyaat, Tazkirah Ulama-e-Hind]
https://www.facebook.com/100050689590519/posts/pfbid0ZDhwUPZ71Vj8A7GeE8pVeiVBTsbWWZKtaPCkReXxJfhxUgnDSKW1hnk4ndby7soFl/
Freedom fighter, Revolution leader, Allamah Muhammad Fazl-e-Haq Khayrabadi Farooqi Hanafi Maturidi Chishti (RadiyAllahu Anhu) was born in 1212 AH in Khairabad, District Sitapur, U.P., India. He was a Hafiz of the Holy Quran, an expert in traditional and rational branches of knowledge, leader of logicians, master of theologians, teacher of scholars, a beacon of light among the scholars of Khairabad, Islamic Chief Justice of Lucknow, Urdu, and Arabic poet, author of many books and an extremely influential personality. Imtina’ al-Nazeer and Al-Thawrat al-Hindiyyah are famous among his books. He was martyred on Monday, 12th Safar 1278 AH (i.e. 20th August 1861 CE) in Andaman Island. His blessed resting place is also located there in South Point, Port Blair, Andaman, and the Nicobar Islands. [Hadaiq al-Hanafiyyah, Khayrabadiyaat, Tazkirah Ulama-e-Hind]
https://www.facebook.com/100050689590519/posts/pfbid0ZDhwUPZ71Vj8A7GeE8pVeiVBTsbWWZKtaPCkReXxJfhxUgnDSKW1hnk4ndby7soFl/
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
11-02-1445 ᴴ | 29-08-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
12-02-1445 ᴴ | 30-08-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1😢1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
12-02-1445 ᴴ | 30-08-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
12-02-1445 ᴴ | 30-08-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1