حضرت مولانا مفتی محمد صادق رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
ولادت:
حضرت مولانا مفتی محمد صادق رحمہ اللہ تعالیٰ ۱۳۴۴ھ ؍ ۱۹۲۵ء میں موضع برزائی (ضلع کیمبلپور) میں پیدا ہوئے ۔
قرآن مجید پڑھنے کے بعد آٹھویں جماعت تک سکول میں تعلیم حاصل کی، بعد ازاں اپنے بڑے بھائی سے ابتدائی تعلیم حاصل کی، پھر حضر و ضلع کیمبلپور کے مختلف مدارس میں تعلیم حاصل کی، درس نظامی کی متداول کتب پڑھنے کے بعد ۱۳۶۷ھ ؍ ۱۹۴۷ء میں مغربی پاکستان کی قدیم درس گاہ دار العلوم حزب الاحناف (لاہور) میں درس حدیث لیا اور امتیازی حیثیت سے کامیاب ہوئے ۔
تحصیل علم کے بعد راولپنڈی میں مستقل سکونت اختیارکی اور تبلیغ دین کا کام شروع کیا ۔ ۱۳۸۲ھ ؍ ۱۹۶۲ء میں سراپا اشتیاق و محبت بن کر حجاز مقدس کا سفر کیا اور حرمین شریفین کی حاضری سے شاد کام ہوئے آپ سلسلۂ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں دربار عالیہ گولڑہ شریف کے حلقۂ ارادت میں داخل تھے ۔
مفتی صاحب ہر دلعزیز اور مقبول عام شخصیت تھے، فن خطابت میں ید طولیٰ حاصل تھا اکثر و بیشتر تبلیغی دوروں پر رہا کرتے، دین متین کی تبلیغ اور نشر و اشاعت کے لئے بے پناہ درد رکھتے تھے، راولپنڈی میں جب تنظیم العلماء کے نام سے ایک جماعت قائم کی گئی تو مفتی صاحب نے پر جوش اور سر گرم رکن کی حیثیت سے کام کیا، تنظیم کے تحت ہفتہ وار گراموں میں باقاعد گی سے شریک ہوئے، چونکہ آپ کی قیام گاہ مورگاہ میں تھی اور رات کو اجلاس کے اختتام پر کوئی سواری بھی میسر نہ ہوتی تھی اس لئے پیدل ہی اپنی قیام گاہ پر تشریف لے جاتے ۔ یہ ان کے خلوص و ایثار کی بین دلیل تھی کہ وہ تبلیغ دین کے جذبے کے تحت اپنے آرام و سکون کو پس پشت ڈال دیتے تھے، جب بھی کوئی مجلس مشاورت منعقد ہوتی تو آپ کی یہی کوشش ہوتی کہ غیر متعلقہ باتوں کی بجائے پوری توجہ علماء کی تنظیم اور جماعت کی ترقی و استحکام کے مختلف پہلوئوں پر صرف کی جائے ۔
مفتی صاحب سحر بیان خطیب تھے، جب خطبہ شروع کرتے تو تمام مجمع پر سکوت طاری ہو جاتا اور ہر شخص ان کی تقریر سننے کے لئے ہمہ تن گوش ہو کر بیٹھ جاتا اور جب پر سوز آواز میں مثنوی شریف پڑھتے تو سامعین جھوم اٹھتے اور اکثر لوگوں کی آنکھیں بے اختیار اشکبار ہو جاتیں ۔
وصال:
۱۲؍صفر المظفر،۲۳ مئی (۱۳۸۷ھ؍۱۹۶۷ئ) بروز منگل شام ساڑھے چار بجے مورگاہ اٹک آئل کمپنی سے ایک ضروری دینی کام کے لئے سکوٹر پر سٹلائٹ ٹائون جا رہے تھے کہ راستے میں مری روڈ پر پولیس کی گاڑی سے حادثہ ہو گیا جس میں آپ شدید طور پر زخمی ہو گئے اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے تین بجے شب محبوبِ حقیقی کے دربار میں حاضر ہو گئے، دوسرے دن بوندا باندی کے باوجود شہر بھر کے علماء اور بیس ہزار سے زائد افراد نے نماز جنازہ میں شرکت کی اور مورگاہ کی مسجد میں باچشم نم سپرد خاک کیا ۔ مفتی صاحب نے پسماند میں ایک بیوہ اور چھ بچے چھوڑے [1]
[1] ہفت روزہ (اب ماہنامہ) رضائے مصطفیٰ
( تذکرہ اکابرِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-mufti-muhammad-sadiq
ولادت:
حضرت مولانا مفتی محمد صادق رحمہ اللہ تعالیٰ ۱۳۴۴ھ ؍ ۱۹۲۵ء میں موضع برزائی (ضلع کیمبلپور) میں پیدا ہوئے ۔
قرآن مجید پڑھنے کے بعد آٹھویں جماعت تک سکول میں تعلیم حاصل کی، بعد ازاں اپنے بڑے بھائی سے ابتدائی تعلیم حاصل کی، پھر حضر و ضلع کیمبلپور کے مختلف مدارس میں تعلیم حاصل کی، درس نظامی کی متداول کتب پڑھنے کے بعد ۱۳۶۷ھ ؍ ۱۹۴۷ء میں مغربی پاکستان کی قدیم درس گاہ دار العلوم حزب الاحناف (لاہور) میں درس حدیث لیا اور امتیازی حیثیت سے کامیاب ہوئے ۔
تحصیل علم کے بعد راولپنڈی میں مستقل سکونت اختیارکی اور تبلیغ دین کا کام شروع کیا ۔ ۱۳۸۲ھ ؍ ۱۹۶۲ء میں سراپا اشتیاق و محبت بن کر حجاز مقدس کا سفر کیا اور حرمین شریفین کی حاضری سے شاد کام ہوئے آپ سلسلۂ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں دربار عالیہ گولڑہ شریف کے حلقۂ ارادت میں داخل تھے ۔
مفتی صاحب ہر دلعزیز اور مقبول عام شخصیت تھے، فن خطابت میں ید طولیٰ حاصل تھا اکثر و بیشتر تبلیغی دوروں پر رہا کرتے، دین متین کی تبلیغ اور نشر و اشاعت کے لئے بے پناہ درد رکھتے تھے، راولپنڈی میں جب تنظیم العلماء کے نام سے ایک جماعت قائم کی گئی تو مفتی صاحب نے پر جوش اور سر گرم رکن کی حیثیت سے کام کیا، تنظیم کے تحت ہفتہ وار گراموں میں باقاعد گی سے شریک ہوئے، چونکہ آپ کی قیام گاہ مورگاہ میں تھی اور رات کو اجلاس کے اختتام پر کوئی سواری بھی میسر نہ ہوتی تھی اس لئے پیدل ہی اپنی قیام گاہ پر تشریف لے جاتے ۔ یہ ان کے خلوص و ایثار کی بین دلیل تھی کہ وہ تبلیغ دین کے جذبے کے تحت اپنے آرام و سکون کو پس پشت ڈال دیتے تھے، جب بھی کوئی مجلس مشاورت منعقد ہوتی تو آپ کی یہی کوشش ہوتی کہ غیر متعلقہ باتوں کی بجائے پوری توجہ علماء کی تنظیم اور جماعت کی ترقی و استحکام کے مختلف پہلوئوں پر صرف کی جائے ۔
مفتی صاحب سحر بیان خطیب تھے، جب خطبہ شروع کرتے تو تمام مجمع پر سکوت طاری ہو جاتا اور ہر شخص ان کی تقریر سننے کے لئے ہمہ تن گوش ہو کر بیٹھ جاتا اور جب پر سوز آواز میں مثنوی شریف پڑھتے تو سامعین جھوم اٹھتے اور اکثر لوگوں کی آنکھیں بے اختیار اشکبار ہو جاتیں ۔
وصال:
۱۲؍صفر المظفر،۲۳ مئی (۱۳۸۷ھ؍۱۹۶۷ئ) بروز منگل شام ساڑھے چار بجے مورگاہ اٹک آئل کمپنی سے ایک ضروری دینی کام کے لئے سکوٹر پر سٹلائٹ ٹائون جا رہے تھے کہ راستے میں مری روڈ پر پولیس کی گاڑی سے حادثہ ہو گیا جس میں آپ شدید طور پر زخمی ہو گئے اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے تین بجے شب محبوبِ حقیقی کے دربار میں حاضر ہو گئے، دوسرے دن بوندا باندی کے باوجود شہر بھر کے علماء اور بیس ہزار سے زائد افراد نے نماز جنازہ میں شرکت کی اور مورگاہ کی مسجد میں باچشم نم سپرد خاک کیا ۔ مفتی صاحب نے پسماند میں ایک بیوہ اور چھ بچے چھوڑے [1]
[1] ہفت روزہ (اب ماہنامہ) رضائے مصطفیٰ
( تذکرہ اکابرِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-mufti-muhammad-sadiq
scholars.pk
Hazrat Molana Mufti Muhammad Sadiq
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
مجاہد جنگ آزادی امام فضل حق خیرآبادی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: علامہ فضلِ حق خیر آبادی ۔ القاب: مجاہدِ جنگِ آزادی، بطلِ حریت، امام المناطقہ، رئیس المتکلمین وغیرہ ۔ والد کا اسمِ گرامی: بانیِ سلسلۂ خیر آبادیت امام المناطقہ حضرت علامہ مولانا فضلِ امام خیرآبادی رحمۃ اللہ علیہ ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
علامہ فضلِ حق خیر آبادی بن مولانا فضلِ امام خیر آبادی بن محمد ارشد بن محمد صالح بن عبد الواحد بن عبد الماجد بن قاضی صدر الدین خیر آبادی ۔(علیہم الرحمۃ والرضوان) ـ
آپ کا شجرۂ نسب تینتیس واسطوں سے امیر المؤمنین حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ سے جا ملتا ہے ۔ (حدائق الحنفیہ ۔ روشن دریچے، ص:61) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1212ھ، مطابق 1797ء کو خیر البلاد " خیر آباد " (ضلع سیتاپور، اتر پردیش، انڈیا) میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
علامہ فضلِ حق خیرآبادی علیہ الرحمہ نے معقولات اپنے والدِ گرامی علامہ فضلِ امام خیرآبادی علیہ الرحمہ سے اور منقولات خاتم المحدثین حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی اور حضرت شاہ عبد القادر محدث دہلوی اور تصوف و اخلاق حضرت شیخ الاسلام محمد علی خیر آبادی علیھم الرحمہ سے حاصل کیے ۔
آپ کی ذہانت و فطانت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ نے صِرف چار ماہ کی قلیل مدت میں قرآنِ مجید حفظ کر لیا ۔ تیرہ سال کی عمر میں درسیات سے فارغ ہو کر کامل استاد بن گئے ۔
بیعت و خلافت:
آپ رحمۃ اللہ علیہ سلسلۂ عالیہ چشتیہ میں حضرت شاہ دھومن دہلوی علیہ الرحمہ سے بیعت ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
مجاہدِ تحریک آزادی ، شیرِ خدا، بطل ِحریت، علوم و معارف کا بحر ِبیکراں، کشورِ علم کا تاجدار، منقولات و معقولات کا امام علامہ فضل حق خیر آبادی ، عمری، حنفی، ماتریدی، چشتی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ علم و فضل میں یگانۂ روزگار تھے ۔ فنونِ حکمیہ اور علومِ عقلیہ کے مسلم الثبوت امام تھے، بلکہ مجتہد و امام تھے ۔ بڑے ادیب ، بڑے منطقی، نہایت ذہن ، نہایت زکی، خلیق و ذلیق، انتہائی صاحبِ تدقیق و تحقیق تھے ۔ علامہ موصوف نے اپنے مشہور " قصیدے ہمزیہ " میں بطور تحدیثِ نعمت اپنے علم و فضل کا اس انداز سے ذکر کرتے ہیں:
؏: اللہ اقنانی علوما یقتنی
منھا علوماجمۃ علماء ۔
یعنی: اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ علوم عطاء کیے ہیں کہ ان میں سے بہت کچھ علماء نے حاصل کیے ۔
آپ معقولات کے تو امام تھے ہی لیکن حیرت کی بات ہے کہ عربی فارسی وغیرہ کے بہترین ناظم و ناثر بھی تھے ۔ علامہ فضلِ حق خیرآبادی علیہ الرحمہ صحیح العقیدہ سنی حنفی تھے ۔
آپ نے مولوی اسماعیل دہلوی کے رد میں " تحقیق الفتویٰ فی ابطال الطغویٰ " لکھی ۔ اس کی بعض گستاخانہ عبارات پر تکفیر فرمائی اور یہ فتویٰ دیا: " اس بے ہودہ کلام کا قائل از روئے شریعت کافر و بے دین ہے اور شرعاً اس کا حکم قتل اور تکفیر ہے " ۔ کچھ ہی عرصہ بعد اتفاقاً وہ بالاکوٹ کے غیور مسلمانوں کے ہاتھوں قتل بھی ہو گیا ۔
مولانا عبد القادر صدر الصدور فرماتے ہیں: "عربی ادب میں ابو الحسن اخفش جیسے ہیں ، ان کی نثر مقاماتِ حریری سے اور نظم دیوانِ متنبی سے ممتاز ہے " ۔
اس تاریخی حقیقت سے ہر اہل فہم اور ذی علم واقف ہے کہ سر زمینِ ہندوستان کو انگریزوں کی غلامی سے آزاد کرانے کی تحریک کے قائدِ اعظم کی حیثیت علامہ فضل حق خیر آبادی کو ہی حاصل ہے ۔
علامہ کی تصنیف " الثورۃ الہندیہ " اور " قصائدِ فتنۃ الہند " جنگِ آزادی 1857ء کے نہایت قابلِ قدر ماخذ کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ چوں کہ علامہ فضل حق خیر آبادی نے محمد بن عبد الوہاب نجدی کی " کتاب التوحید " کے اردو چربہ " تقویۃ الایمان " مولفہ مولوی اسماعیل دہلوی کے ساتھ ساتھ دیگر عقائدِ وہابیہ کی تردید میں کلیدی کردار ادا کیا ۔
بایں سبب آپ کی شخصیت کو مجروح کرنے کی بہت زیادہ کوششیں کی گئیں ۔ چنانچہ تاریخی حقائق و شواہد پر پردہ ڈالنے اور جنگِ آزادی کے مسلمہ راہنماؤں کے خلاف فضا پیدا کرتے ہوئے کچھ لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ علامہ فضل حق خیر آبادی نے انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ نہیں دیا تھا ۔ اس تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کی ناپاک جسارت کی گئی ۔ لیکن حق چھپانے سے نہیں چھپ سکتا، اور ظاہر ہو کر رہتا ہے ۔ دروغ کو فروغ نہیں ہوتا ہے ۔
نام و نسب:
اسمِ گرامی: علامہ فضلِ حق خیر آبادی ۔ القاب: مجاہدِ جنگِ آزادی، بطلِ حریت، امام المناطقہ، رئیس المتکلمین وغیرہ ۔ والد کا اسمِ گرامی: بانیِ سلسلۂ خیر آبادیت امام المناطقہ حضرت علامہ مولانا فضلِ امام خیرآبادی رحمۃ اللہ علیہ ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
علامہ فضلِ حق خیر آبادی بن مولانا فضلِ امام خیر آبادی بن محمد ارشد بن محمد صالح بن عبد الواحد بن عبد الماجد بن قاضی صدر الدین خیر آبادی ۔(علیہم الرحمۃ والرضوان) ـ
آپ کا شجرۂ نسب تینتیس واسطوں سے امیر المؤمنین حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ سے جا ملتا ہے ۔ (حدائق الحنفیہ ۔ روشن دریچے، ص:61) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1212ھ، مطابق 1797ء کو خیر البلاد " خیر آباد " (ضلع سیتاپور، اتر پردیش، انڈیا) میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
علامہ فضلِ حق خیرآبادی علیہ الرحمہ نے معقولات اپنے والدِ گرامی علامہ فضلِ امام خیرآبادی علیہ الرحمہ سے اور منقولات خاتم المحدثین حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی اور حضرت شاہ عبد القادر محدث دہلوی اور تصوف و اخلاق حضرت شیخ الاسلام محمد علی خیر آبادی علیھم الرحمہ سے حاصل کیے ۔
آپ کی ذہانت و فطانت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ نے صِرف چار ماہ کی قلیل مدت میں قرآنِ مجید حفظ کر لیا ۔ تیرہ سال کی عمر میں درسیات سے فارغ ہو کر کامل استاد بن گئے ۔
بیعت و خلافت:
آپ رحمۃ اللہ علیہ سلسلۂ عالیہ چشتیہ میں حضرت شاہ دھومن دہلوی علیہ الرحمہ سے بیعت ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
مجاہدِ تحریک آزادی ، شیرِ خدا، بطل ِحریت، علوم و معارف کا بحر ِبیکراں، کشورِ علم کا تاجدار، منقولات و معقولات کا امام علامہ فضل حق خیر آبادی ، عمری، حنفی، ماتریدی، چشتی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ علم و فضل میں یگانۂ روزگار تھے ۔ فنونِ حکمیہ اور علومِ عقلیہ کے مسلم الثبوت امام تھے، بلکہ مجتہد و امام تھے ۔ بڑے ادیب ، بڑے منطقی، نہایت ذہن ، نہایت زکی، خلیق و ذلیق، انتہائی صاحبِ تدقیق و تحقیق تھے ۔ علامہ موصوف نے اپنے مشہور " قصیدے ہمزیہ " میں بطور تحدیثِ نعمت اپنے علم و فضل کا اس انداز سے ذکر کرتے ہیں:
؏: اللہ اقنانی علوما یقتنی
منھا علوماجمۃ علماء ۔
یعنی: اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ علوم عطاء کیے ہیں کہ ان میں سے بہت کچھ علماء نے حاصل کیے ۔
آپ معقولات کے تو امام تھے ہی لیکن حیرت کی بات ہے کہ عربی فارسی وغیرہ کے بہترین ناظم و ناثر بھی تھے ۔ علامہ فضلِ حق خیرآبادی علیہ الرحمہ صحیح العقیدہ سنی حنفی تھے ۔
آپ نے مولوی اسماعیل دہلوی کے رد میں " تحقیق الفتویٰ فی ابطال الطغویٰ " لکھی ۔ اس کی بعض گستاخانہ عبارات پر تکفیر فرمائی اور یہ فتویٰ دیا: " اس بے ہودہ کلام کا قائل از روئے شریعت کافر و بے دین ہے اور شرعاً اس کا حکم قتل اور تکفیر ہے " ۔ کچھ ہی عرصہ بعد اتفاقاً وہ بالاکوٹ کے غیور مسلمانوں کے ہاتھوں قتل بھی ہو گیا ۔
مولانا عبد القادر صدر الصدور فرماتے ہیں: "عربی ادب میں ابو الحسن اخفش جیسے ہیں ، ان کی نثر مقاماتِ حریری سے اور نظم دیوانِ متنبی سے ممتاز ہے " ۔
اس تاریخی حقیقت سے ہر اہل فہم اور ذی علم واقف ہے کہ سر زمینِ ہندوستان کو انگریزوں کی غلامی سے آزاد کرانے کی تحریک کے قائدِ اعظم کی حیثیت علامہ فضل حق خیر آبادی کو ہی حاصل ہے ۔
علامہ کی تصنیف " الثورۃ الہندیہ " اور " قصائدِ فتنۃ الہند " جنگِ آزادی 1857ء کے نہایت قابلِ قدر ماخذ کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ چوں کہ علامہ فضل حق خیر آبادی نے محمد بن عبد الوہاب نجدی کی " کتاب التوحید " کے اردو چربہ " تقویۃ الایمان " مولفہ مولوی اسماعیل دہلوی کے ساتھ ساتھ دیگر عقائدِ وہابیہ کی تردید میں کلیدی کردار ادا کیا ۔
بایں سبب آپ کی شخصیت کو مجروح کرنے کی بہت زیادہ کوششیں کی گئیں ۔ چنانچہ تاریخی حقائق و شواہد پر پردہ ڈالنے اور جنگِ آزادی کے مسلمہ راہنماؤں کے خلاف فضا پیدا کرتے ہوئے کچھ لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ علامہ فضل حق خیر آبادی نے انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ نہیں دیا تھا ۔ اس تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کی ناپاک جسارت کی گئی ۔ لیکن حق چھپانے سے نہیں چھپ سکتا، اور ظاہر ہو کر رہتا ہے ۔ دروغ کو فروغ نہیں ہوتا ہے ۔
❤1
مخالفین کے گھر سے گواہی:
مسلکِ مخالف کے شیخ الاسلام حسین احمد مدنی کہتے ہیں: "مولانا فضل حق صاحب خیر آبادی کو جو کہ تحریک کے بہت بڑے رکن تھے اور بریلی، علی گڑھ اور اس کے ملحقہ اضلاع کے دورانِ تحریک میں گورنر تھے، آخر ان کو گھر سے گرفتار کیا گیا ۔ جس مخبر نے ان کو گرفتار کرایا تھا اس نے انکار کر دیا کہ مجھے معلوم نہیں، فتویٰ جہاد پر جس نے دستخط کیے ہیں وہ یہ فضل حق ہیں یا کوئی اور ہیں ؟ ۔۔۔۔۔
مولانا نے فرمایا:
"مخبر نے پہلے جو رپورٹ لکھوائی تھی وہ بِالکل صحیح تھی کہ فتویٰ میرا ہے ۔ اب میری شکل و صورت سے مرعوب ہو کر یہ جھوٹ بول رہا ہے " ۔ قربان جائیے! علامہ کی شانِ استقلال پر خدا کا شیر گرج کر کہہ رہا ہے کہ میرا اب بھی وہی فیصلہ ہے کہ انگریز غاصب ہے اور اس کے خلاف جہاد کرنا فرض ہے ۔ خدا کے بندے ایسے ہی ہوا کرتے ہیں ۔ وہ جان کی پروا کیے بغیر سر بہ کف ہو کر میدان میں نکلتے ہیں اور لومڑی کی طرح ہیر پھیر کر کے جان نہیں بچاتے بلکہ شیروں کی طرح جان دینے کو فخر سمجھتے ہیں ۔ " (حسین احمد مدنی: تحریک ریشمی رومال، مطبوعہ لاہور ۔1960ء، ص:65) ـ
ان نام نہاد " محققین " کی تقلیدی اور متعصبانہ تحقیق پر ان کے اپنے مسلک کے منصف مزاج شخصیات نے تنقید کی ہے: پاکستان میں دیوبندی مکتبِ فکر کے آرگن ہفت روزہ " خدام الدین " لاہور کے ایک مضمون کے چند اقتباس ملاحظہ ہوں ۔ یہ اقتباسات علامہ فضل حق خیر آبادی کے فتوائے جہاد کے منکرین کے لیے لمحۂ فکریہ سے کم نہیں اور ان لوگوں کے لیے درسِ عبرت ہے جو علامہ کی مجاہدانہ سرگرمیوں کو محض ایک مخصوص مسلک کے لوگوں تک محدود کرنے کی سعیِ نا مشکور کر رہے ہیں ۔
فرماتے ہیں:
" بُرا ہو تاریخ کا ۔ اس نے اپنے حافظہ سے ایسی ایسی جاں باز، حق گو، بہادر اور جامع کمالات شخصیتوں کو دودھ سے مکھی کی طرح نکال پھینکا ۔ جنہوں نے اپنے دور میں وقت کے تیز و تند طوفانوں سے بے خوف ٹکر لی اور پیٹھ نہیں دکھائی ۔ مولانا فضل حق رحمۃ اللہ علیہ تاریخ کے ان جواں مرد اور نڈر مجاہدین میں سے تھے جن کی جرات و ہمت اور حق گوئی و بے باکی نے دنیا کو حیرت میں ڈال دیا ۔ مگر تاریخ کے صفحات میں ان کو شایانِ شان کیا، کوئی معمولی جگہ بھی نہیں مل سکی ۔ مولانا فضل حق خیر آبادی نے افضل الجہاد کلمۃ الحق عند سلطانِ جابر کا فریضہ ادا کیا اور اپنی عمرِ عزیز انڈومان میں حبسِ دوام کی نذر کر دی ۔ علامہ فضل حق خیر آبادی نے انگریزوں کے خلاف فتویٰ دے کر مسلمانوں کو عدم تعاون پر آمادہ کیا ـ مولانا فضل حق خیر آبادی (اسی جرم میں) " باغی " قرار دیے گئے " ۔ (مضمون: " مولانا فضل حق خیرآبادی " ۔ از: مستقیم احسنؔ حامدی ۔ فاضل دار العلوم دیوبند ۔ ہفت روزہ خدام الدین، لاہور 23 نومبر 1962ء، ص:9/10) ـ
الغرض تاریخی حیثیت سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ علامہ فضلِ حق خیرآبادی انگریزوں کے حامی و مددگار نہ تھے بلکہ ان کے حامیوں اور مدد گاروں کو مرتدو بے دین سمجھتے تھے ۔ وہ علم و فضل کے بحرِ بے کنار تھے ۔ انہوں نے اپنی زندگی کا حق ادا کر دیا ۔ سنتِ حسین پر عمل پیرا ہو کر اپنی جان قربان کر دی لیکن باطل کے سامنے اپنے موقف سے ایک اِنچ بھی پیچھے نہ ہوئے ۔
وصال:
جزیرہ انڈمان کی جیل میں ایک سال دس ماہ تیرہ دن اسیری میں رہ کر 12 صفر المظفر 1278ھ، مطابق 20 اگست 1861ء کو جہانِ فانی سے رخصت ہوئے ۔ آج بھی آپ کی قبر " آزادی " کی آذانیں سُنا رہی ہے ۔
ماخذ و مراجع:
حدائق الحنفیہ ۔ خیر آبادیات ۔ تذکرہ علمائے ہند ۔ دو قومی نظریہ اور علمائے اہلسنت ۔ جنگِ آزدی میں علامہ فضلِ حق خیر آبادی کا کردار ۔
بنا کر دند خوش رسمے بخاک و خون غلطیدن
خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-fazal-haq-khairabadi
مسلکِ مخالف کے شیخ الاسلام حسین احمد مدنی کہتے ہیں: "مولانا فضل حق صاحب خیر آبادی کو جو کہ تحریک کے بہت بڑے رکن تھے اور بریلی، علی گڑھ اور اس کے ملحقہ اضلاع کے دورانِ تحریک میں گورنر تھے، آخر ان کو گھر سے گرفتار کیا گیا ۔ جس مخبر نے ان کو گرفتار کرایا تھا اس نے انکار کر دیا کہ مجھے معلوم نہیں، فتویٰ جہاد پر جس نے دستخط کیے ہیں وہ یہ فضل حق ہیں یا کوئی اور ہیں ؟ ۔۔۔۔۔
مولانا نے فرمایا:
"مخبر نے پہلے جو رپورٹ لکھوائی تھی وہ بِالکل صحیح تھی کہ فتویٰ میرا ہے ۔ اب میری شکل و صورت سے مرعوب ہو کر یہ جھوٹ بول رہا ہے " ۔ قربان جائیے! علامہ کی شانِ استقلال پر خدا کا شیر گرج کر کہہ رہا ہے کہ میرا اب بھی وہی فیصلہ ہے کہ انگریز غاصب ہے اور اس کے خلاف جہاد کرنا فرض ہے ۔ خدا کے بندے ایسے ہی ہوا کرتے ہیں ۔ وہ جان کی پروا کیے بغیر سر بہ کف ہو کر میدان میں نکلتے ہیں اور لومڑی کی طرح ہیر پھیر کر کے جان نہیں بچاتے بلکہ شیروں کی طرح جان دینے کو فخر سمجھتے ہیں ۔ " (حسین احمد مدنی: تحریک ریشمی رومال، مطبوعہ لاہور ۔1960ء، ص:65) ـ
ان نام نہاد " محققین " کی تقلیدی اور متعصبانہ تحقیق پر ان کے اپنے مسلک کے منصف مزاج شخصیات نے تنقید کی ہے: پاکستان میں دیوبندی مکتبِ فکر کے آرگن ہفت روزہ " خدام الدین " لاہور کے ایک مضمون کے چند اقتباس ملاحظہ ہوں ۔ یہ اقتباسات علامہ فضل حق خیر آبادی کے فتوائے جہاد کے منکرین کے لیے لمحۂ فکریہ سے کم نہیں اور ان لوگوں کے لیے درسِ عبرت ہے جو علامہ کی مجاہدانہ سرگرمیوں کو محض ایک مخصوص مسلک کے لوگوں تک محدود کرنے کی سعیِ نا مشکور کر رہے ہیں ۔
فرماتے ہیں:
" بُرا ہو تاریخ کا ۔ اس نے اپنے حافظہ سے ایسی ایسی جاں باز، حق گو، بہادر اور جامع کمالات شخصیتوں کو دودھ سے مکھی کی طرح نکال پھینکا ۔ جنہوں نے اپنے دور میں وقت کے تیز و تند طوفانوں سے بے خوف ٹکر لی اور پیٹھ نہیں دکھائی ۔ مولانا فضل حق رحمۃ اللہ علیہ تاریخ کے ان جواں مرد اور نڈر مجاہدین میں سے تھے جن کی جرات و ہمت اور حق گوئی و بے باکی نے دنیا کو حیرت میں ڈال دیا ۔ مگر تاریخ کے صفحات میں ان کو شایانِ شان کیا، کوئی معمولی جگہ بھی نہیں مل سکی ۔ مولانا فضل حق خیر آبادی نے افضل الجہاد کلمۃ الحق عند سلطانِ جابر کا فریضہ ادا کیا اور اپنی عمرِ عزیز انڈومان میں حبسِ دوام کی نذر کر دی ۔ علامہ فضل حق خیر آبادی نے انگریزوں کے خلاف فتویٰ دے کر مسلمانوں کو عدم تعاون پر آمادہ کیا ـ مولانا فضل حق خیر آبادی (اسی جرم میں) " باغی " قرار دیے گئے " ۔ (مضمون: " مولانا فضل حق خیرآبادی " ۔ از: مستقیم احسنؔ حامدی ۔ فاضل دار العلوم دیوبند ۔ ہفت روزہ خدام الدین، لاہور 23 نومبر 1962ء، ص:9/10) ـ
الغرض تاریخی حیثیت سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ علامہ فضلِ حق خیرآبادی انگریزوں کے حامی و مددگار نہ تھے بلکہ ان کے حامیوں اور مدد گاروں کو مرتدو بے دین سمجھتے تھے ۔ وہ علم و فضل کے بحرِ بے کنار تھے ۔ انہوں نے اپنی زندگی کا حق ادا کر دیا ۔ سنتِ حسین پر عمل پیرا ہو کر اپنی جان قربان کر دی لیکن باطل کے سامنے اپنے موقف سے ایک اِنچ بھی پیچھے نہ ہوئے ۔
وصال:
جزیرہ انڈمان کی جیل میں ایک سال دس ماہ تیرہ دن اسیری میں رہ کر 12 صفر المظفر 1278ھ، مطابق 20 اگست 1861ء کو جہانِ فانی سے رخصت ہوئے ۔ آج بھی آپ کی قبر " آزادی " کی آذانیں سُنا رہی ہے ۔
ماخذ و مراجع:
حدائق الحنفیہ ۔ خیر آبادیات ۔ تذکرہ علمائے ہند ۔ دو قومی نظریہ اور علمائے اہلسنت ۔ جنگِ آزدی میں علامہ فضلِ حق خیر آبادی کا کردار ۔
بنا کر دند خوش رسمے بخاک و خون غلطیدن
خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-fazal-haq-khairabadi
scholars.pk
Hazrat Molana Fazal Haq Khairabadi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
قائد انقلاب، مجاہد جنگِ آزادی، بطل حریت، حضرت علامہ محمد فضلِ حق خیر آبادی فاروقی حنفی ماتریدی چشتی رضی اللہ عنہ کی ولادت 1212ھ خیرآباد، ضلع سیتا پور، اترپردیش، ہندستان میں ہوئی۔ آپ حافظ قرآن، ماہر علوم عقیلہ و نقلیہ، امام المناطقہ، رئیس المتکلمین، استاذ العلماء، سلسلہ خیرآبادیہ کے چشم و چراغ، لکھنؤ کے قاضی القضاۃ، اردو و عربی کے شاعر، کئی کتب کے مصنف اور مؤثر ترین شخصیت کے مالک تھے۔ کتب میں امتناع النظیر اور الثورۃ الھندیہ معروف ہیں۔ 12 صفر المظفر 1278ه بروز پیر بمطابق 20 اگست 1861ء کو جزیرہ انڈمان میں شہید ہوئے، مزار شريف بھی وہیں ساؤتھ پوائنٹ پورٹ بلیر میں ہے۔ (حدائق الحنفیہ، خیرآبادیات، تذکرہ علمائے ہند)
Freedom fighter, Revolution leader, Allamah Muhammad Fazl-e-Haq Khayrabadi Farooqi Hanafi Maturidi Chishti (RadiyAllahu Anhu) was born in 1212 AH in Khairabad, District Sitapur, U.P., India. He was a Hafiz of the Holy Quran, an expert in traditional and rational branches of knowledge, leader of logicians, master of theologians, teacher of scholars, a beacon of light among the scholars of Khairabad, Islamic Chief Justice of Lucknow, Urdu, and Arabic poet, author of many books and an extremely influential personality. Imtina’ al-Nazeer and Al-Thawrat al-Hindiyyah are famous among his books. He was martyred on Monday, 12th Safar 1278 AH (i.e. 20th August 1861 CE) in Andaman Island. His blessed resting place is also located there in South Point, Port Blair, Andaman, and the Nicobar Islands. [Hadaiq al-Hanafiyyah, Khayrabadiyaat, Tazkirah Ulama-e-Hind]
https://www.facebook.com/100050689590519/posts/pfbid0ZDhwUPZ71Vj8A7GeE8pVeiVBTsbWWZKtaPCkReXxJfhxUgnDSKW1hnk4ndby7soFl/
Freedom fighter, Revolution leader, Allamah Muhammad Fazl-e-Haq Khayrabadi Farooqi Hanafi Maturidi Chishti (RadiyAllahu Anhu) was born in 1212 AH in Khairabad, District Sitapur, U.P., India. He was a Hafiz of the Holy Quran, an expert in traditional and rational branches of knowledge, leader of logicians, master of theologians, teacher of scholars, a beacon of light among the scholars of Khairabad, Islamic Chief Justice of Lucknow, Urdu, and Arabic poet, author of many books and an extremely influential personality. Imtina’ al-Nazeer and Al-Thawrat al-Hindiyyah are famous among his books. He was martyred on Monday, 12th Safar 1278 AH (i.e. 20th August 1861 CE) in Andaman Island. His blessed resting place is also located there in South Point, Port Blair, Andaman, and the Nicobar Islands. [Hadaiq al-Hanafiyyah, Khayrabadiyaat, Tazkirah Ulama-e-Hind]
https://www.facebook.com/100050689590519/posts/pfbid0ZDhwUPZ71Vj8A7GeE8pVeiVBTsbWWZKtaPCkReXxJfhxUgnDSKW1hnk4ndby7soFl/
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
11-02-1445 ᴴ | 29-08-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
12-02-1445 ᴴ | 30-08-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1😢1