🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
11-02-1445 ᴴ | 29-08-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ #عید_غوثیہ 51 #غوث_الاعظم ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ اِس سلسلے کی پہلی قِسط یہاں ہے↯ https://t.me/islaamic_Knowledge/10175 https://t.me/SirfUrduTahrir/6731
11-02-1445 ᴴ | 29-08-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
نظم ... داڑھی منڈانا چھوڑ دے
یزید پلید فتاوی رضویہ جلد¹⁴
یزید پلید خطبات محرم ص³⁴²
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
نظم ... داڑھی منڈانا چھوڑ دے
یزید پلید فتاوی رضویہ جلد¹⁴
یزید پلید خطبات محرم ص³⁴²
❤2
Forwarded from Urdu Tahrir (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت شاہ عبد اللطیف بھٹائی
تاریخِ پیدائش:
آپ کی ولادت باسعادت 1102ھ، مطابق 1689ء کو قصبہ " قندر " قریب ہالہ ،سندھ میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے والدِ گرامی سے حاصل کی، دیگر اساتذہ کے ساتھ خصوصاً مولانا میاں نور محمد بھٹو کا نام آتا ہے آپ اپنے استاد کی بڑی قدر کرتے تھے بھٹ شاہ میں اپنے استادِ محترم کو ایک گھر بنواکر دیا تھا ـ
بیعت و خلافت:
شاہ صاحب اپنے والدِ گرامی حضرت سید حبیب شاہ کے دست حق پرست پرسلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت ہوئے ـ
سیرت و خصائص:
آپ کے پاکیزہ نغموں سے سندھ کے گاؤں گاؤں اور گلی کوچے آج بھی گونج رہے ہیں۔ آپ کے کلام کی سب سے بڑی خصوصیّت یہ ہے کہ اُس سے تعلیم یافتہ طبقہ بھی لطف اندوز ہوتا ہے اور ناخواندہ طبقہ بھی ان کے اشعار میں ایک لذّت محسوس کر رہے ہیں۔ آج بھی عورتیں گھروں میں، کسان کھیتوں میں، اور بچے گلیوں میں، صوفیا خانقاہوں میں اور واعظ محافلِ و عظ میں شاہ صاحب کے کلام کو پڑھتے ہیں ۔
تبلیغ کے سلسلے میں آپ روزانہ کئی کئی میل پیدل سفر کرتے اور راستے میں جتنے گاؤں آتے، قافلے ملتے یا کوئی بھی شخص ملتا اُس کو دین کی دعوت دیتے تھے ۔
آپ نے سندھ کا سارا علاقہ پیدل گھوما اور لوگوں میں ایمان کے زر و جواہر لٹائے ۔ آپ کا سفر " سفرِ و سیلۂ ظفر " تھا ۔ عمر بھر آپ کے توسّل سے نیکی اعتماد اور پاکیزگی کی دولت لوگوں میں تقسیم ہوتی رہی ۔ شاہ صاحب نے قرآنی تعلیمات کے فروغ کے لیے جو خدمات انجام دیں وہ سنہری حروف میں لکھنے کے قابل ہیں ۔ سندھی زبان سے آپ نے اسلام کی تبلیغ اور قرآنی تعلیمات کے فروغ و اشاعت کا کام لے کر اس زبان کو غیر معمولی بنا دیا ۔
زبدۃ العارفین قدوۃ السالکین حضرت شاہ عبد اللطیف بھٹائی علیہ الرحمہ مذہباً سنی، مسلکاً حنفی اور مشرباً قادری تھے۔ انسانوں کی ہدایت پر ساری عمر صرف کردی تھی۔ سرکشوں کو اللہ کے قریب کیا، گمراہوں کو راہِ رست پر لگایا بے دینوں کو دین کا فلسفہ سمجھایا، دنیا کی محبت، حرص، لالچ، حسد، کینہ، بغض، وغیرہ جیسی گندی خصلتوں سے مسلمانوں کے من کو صاف کیا۔ بحیثیت انسان شاہ صاحب ایک سادہ طبیعت کے مالک تھے ۔ آپ کی طینت میں حلم، صبر، شکر، قناعت اور منکسرالمزاجی قدرت کی طرف سے ودیعت کردی گئی تھی۔ ہمدردی وایثار، بے لوث روادرای، مشفقانہ رحمدلی اور متعدد اوصافِ حسنہ کے مالک تھے ۔
قرآن وسنت پر خود سختی سے عمل پیرا رہتے تھے اور مسلمانوں کو اس پرعمل کی تلقین کرتے تھے ۔ شاہ صاحب ظاہری عبادت کو لازمی سمجھتے تھے اور اسے ہی قربِ خداوندی کاذریعہ سمجھتے تھے ۔ اپنے مریدین و متوسلین کو کم کھانا ،کم سونا، خود غرضی سے بچنے اور دوسروں ہمدردی، راضی برضا رہنے اور ذکروفکر میں مشغول رہنے کی تلقین کرتے تھے۔ ہر قسم کی نشہ آور اور حرام چیزوں سے سختی سے منع کرتے تھے ۔ مسلمانوں کی بقاء رسول اللہ ﷺ کی اطاعت میں ہے۔ سرورِ عالم ﷺ کی محبت مسلمانوں کا سرمایۂ حیات ہے۔ آپ نے اپنی شاعری کے ذریعے اللہ جل شانہ کی محبت کا درس دیا ہے۔آپ کے دیوان کا نام " شاہ جو رسالو " ہے ۔ جو مقبولِ عام و خاص ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-abdul-latif-bhitai
وصال:
آپ کا وصال 14 صفرالمظفر 1165ھ مطابق دسمبر 1752ء کو 63 سال کی عمر میں ہوا ۔ آپ کامزار "بھٹ شاہ" سندھ پاکستان میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اولیاءِ سندھ
حیات شاہ عبد اللطیف بھٹائی
تاریخِ پیدائش:
آپ کی ولادت باسعادت 1102ھ، مطابق 1689ء کو قصبہ " قندر " قریب ہالہ ،سندھ میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے والدِ گرامی سے حاصل کی، دیگر اساتذہ کے ساتھ خصوصاً مولانا میاں نور محمد بھٹو کا نام آتا ہے آپ اپنے استاد کی بڑی قدر کرتے تھے بھٹ شاہ میں اپنے استادِ محترم کو ایک گھر بنواکر دیا تھا ـ
بیعت و خلافت:
شاہ صاحب اپنے والدِ گرامی حضرت سید حبیب شاہ کے دست حق پرست پرسلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت ہوئے ـ
سیرت و خصائص:
آپ کے پاکیزہ نغموں سے سندھ کے گاؤں گاؤں اور گلی کوچے آج بھی گونج رہے ہیں۔ آپ کے کلام کی سب سے بڑی خصوصیّت یہ ہے کہ اُس سے تعلیم یافتہ طبقہ بھی لطف اندوز ہوتا ہے اور ناخواندہ طبقہ بھی ان کے اشعار میں ایک لذّت محسوس کر رہے ہیں۔ آج بھی عورتیں گھروں میں، کسان کھیتوں میں، اور بچے گلیوں میں، صوفیا خانقاہوں میں اور واعظ محافلِ و عظ میں شاہ صاحب کے کلام کو پڑھتے ہیں ۔
تبلیغ کے سلسلے میں آپ روزانہ کئی کئی میل پیدل سفر کرتے اور راستے میں جتنے گاؤں آتے، قافلے ملتے یا کوئی بھی شخص ملتا اُس کو دین کی دعوت دیتے تھے ۔
آپ نے سندھ کا سارا علاقہ پیدل گھوما اور لوگوں میں ایمان کے زر و جواہر لٹائے ۔ آپ کا سفر " سفرِ و سیلۂ ظفر " تھا ۔ عمر بھر آپ کے توسّل سے نیکی اعتماد اور پاکیزگی کی دولت لوگوں میں تقسیم ہوتی رہی ۔ شاہ صاحب نے قرآنی تعلیمات کے فروغ کے لیے جو خدمات انجام دیں وہ سنہری حروف میں لکھنے کے قابل ہیں ۔ سندھی زبان سے آپ نے اسلام کی تبلیغ اور قرآنی تعلیمات کے فروغ و اشاعت کا کام لے کر اس زبان کو غیر معمولی بنا دیا ۔
زبدۃ العارفین قدوۃ السالکین حضرت شاہ عبد اللطیف بھٹائی علیہ الرحمہ مذہباً سنی، مسلکاً حنفی اور مشرباً قادری تھے۔ انسانوں کی ہدایت پر ساری عمر صرف کردی تھی۔ سرکشوں کو اللہ کے قریب کیا، گمراہوں کو راہِ رست پر لگایا بے دینوں کو دین کا فلسفہ سمجھایا، دنیا کی محبت، حرص، لالچ، حسد، کینہ، بغض، وغیرہ جیسی گندی خصلتوں سے مسلمانوں کے من کو صاف کیا۔ بحیثیت انسان شاہ صاحب ایک سادہ طبیعت کے مالک تھے ۔ آپ کی طینت میں حلم، صبر، شکر، قناعت اور منکسرالمزاجی قدرت کی طرف سے ودیعت کردی گئی تھی۔ ہمدردی وایثار، بے لوث روادرای، مشفقانہ رحمدلی اور متعدد اوصافِ حسنہ کے مالک تھے ۔
قرآن وسنت پر خود سختی سے عمل پیرا رہتے تھے اور مسلمانوں کو اس پرعمل کی تلقین کرتے تھے ۔ شاہ صاحب ظاہری عبادت کو لازمی سمجھتے تھے اور اسے ہی قربِ خداوندی کاذریعہ سمجھتے تھے ۔ اپنے مریدین و متوسلین کو کم کھانا ،کم سونا، خود غرضی سے بچنے اور دوسروں ہمدردی، راضی برضا رہنے اور ذکروفکر میں مشغول رہنے کی تلقین کرتے تھے۔ ہر قسم کی نشہ آور اور حرام چیزوں سے سختی سے منع کرتے تھے ۔ مسلمانوں کی بقاء رسول اللہ ﷺ کی اطاعت میں ہے۔ سرورِ عالم ﷺ کی محبت مسلمانوں کا سرمایۂ حیات ہے۔ آپ نے اپنی شاعری کے ذریعے اللہ جل شانہ کی محبت کا درس دیا ہے۔آپ کے دیوان کا نام " شاہ جو رسالو " ہے ۔ جو مقبولِ عام و خاص ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-abdul-latif-bhitai
وصال:
آپ کا وصال 14 صفرالمظفر 1165ھ مطابق دسمبر 1752ء کو 63 سال کی عمر میں ہوا ۔ آپ کامزار "بھٹ شاہ" سندھ پاکستان میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اولیاءِ سندھ
حیات شاہ عبد اللطیف بھٹائی
scholars.pk
Hazrat Shah Abdul Latif Bhitai
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
Hazrat Shah Abdul Latif Bhittai
❤1
حضرت مولانا شاہ عبد الرحیم
محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
مولوی عبد الرحیم دہلوی ، عمری (فاروقی) نسب، حنفی، نقشبندی مشرب، جامع علوم عقلی و نقلی، حاوی علوم اصلی و فرعی عظیم محدّث تھے ۔
صاحبزادے:
ان کے دو نامور بیٹے مولانا شاہ ولی اللہ دہلوی اور مولانا شاہ اہل اللہ دہلوی ہوئے۔
ایں خانہ تمام آفتاب است
وصال:
۱۲ صفر ۱۱۳۱ھ / ۱۷۱۸ء میں وقت چاشت انتقال ہوا ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-abdul-rahim-muhaddith-dehlvi
محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
مولوی عبد الرحیم دہلوی ، عمری (فاروقی) نسب، حنفی، نقشبندی مشرب، جامع علوم عقلی و نقلی، حاوی علوم اصلی و فرعی عظیم محدّث تھے ۔
صاحبزادے:
ان کے دو نامور بیٹے مولانا شاہ ولی اللہ دہلوی اور مولانا شاہ اہل اللہ دہلوی ہوئے۔
ایں خانہ تمام آفتاب است
وصال:
۱۲ صفر ۱۱۳۱ھ / ۱۷۱۸ء میں وقت چاشت انتقال ہوا ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-abdul-rahim-muhaddith-dehlvi
scholars.pk
Hazrat Molana Shah Abdul Rahim Muhaddith Dehlvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
سید میراں محمد شاہ ٹکھڑائی رحمۃ اللہ علیہ
اسمِ گرامی:
آپ کا اسمِ گرامی سید میراں محمد شاہ اور والدِ ماجد کا اسمِ گرامی حکیم سید محمد شاہ تھا ۔ آپ کا تعلق متعلوی سادات سے تھا ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادتِ باسعادت 12 صفر المظفر 1240ھ میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
اوائلِ عمر میں آپ نے گاؤں" ٹکھڑ " کے ہی علماء اور اساتذہ سے تحصیلِ علم کیا ۔ بِالخصوص علمِ طب میں آپ نے کافی مہارت حاصل کی ۔ آخری عمر میں آپ نے اپنی ذکاوت اور ذہانت کے باعث انگریزی زبان میں بھی اچھی خاصی مہارت حاصل کرلی تھی ۔ اور فارسی زبان میں تو بڑا عبور حاصل تھا ۔
بیعت و خلافت:
ظاہری کمالات کے ساتھ ساتھ باطنی کمالات سے بھی آپ آراستہ تھے، اور اس کی تکمیل کے لئےآپ نے سندھ کے مشہور روحانی سرہندی بزرگ حضرت خواجہ عبد القیوم مجددی رحمۃ اللہ علیہ کا دامن تھاما اور ان کے ہاتھ پر سلسلۂ نقشبندیہ میں بیعت کی ۔
سیرت و خصائص:
سید میراں محمد شاہ رحمۃ اللہ علیہ علمی اور روحانی، ظاہری اور باطنی کے بلند و بالا مقامات پر فائز تھے ۔ آپ اپنے دور کے با کمال حکیم، عالم، حافظِ قرآن اور ولی کامل تھے ۔
انگریزوں کے ابتدائی دور میں سندھ کے جن بڑے بڑے زبان داں علماء، مفکروں ادیبوں نے سندھی زبان کو باقاعدہ مرتب و مدون کیا ان میں سید میراں محمد شاہ کا نام بھی سرِ فہرست ہے ۔
چنانچہ اس زمانہ کے کمشنر کی درخواست پر آپ نے سندھی زبان میں ایک کہانی لکھی، جو آپ ہی کے نام سے اس وقت اشاعت پذیر ہوئی ۔ آپ کی سیرت کا ایک باب آپ کا اپنے مرشد سے والہانہ محبت بھی ہے کہ مرشد کی محبت آپ کے خون میں شامل تھا ۔ مرشد سے محبت کرنے کا ہی یہ ثمر تھا کہ مرشد کے وصال فرمانے کے بعد آپ نے ان کے صاحب زادے سے بھی اسی طرح محبت کی ۔
تاریخِ وصال:
دینی اور دنیوی دولت سے مالامال یہ فقیر پیر کے دن 5 جمادی الاول 1309ھ / بمطابق دسمبر 1891ء میں مغرب کے وقت نمونیہ کے عارضہ میں مبتلا ہو کر واصل باللہ ہوئے ۔
ماخذ و مراجع:
صوفیائے نقشبند ۔ تذکرۂ اولیاء سندھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-hafiz-hakeem-syed-muhammad-meeran
اسمِ گرامی:
آپ کا اسمِ گرامی سید میراں محمد شاہ اور والدِ ماجد کا اسمِ گرامی حکیم سید محمد شاہ تھا ۔ آپ کا تعلق متعلوی سادات سے تھا ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادتِ باسعادت 12 صفر المظفر 1240ھ میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
اوائلِ عمر میں آپ نے گاؤں" ٹکھڑ " کے ہی علماء اور اساتذہ سے تحصیلِ علم کیا ۔ بِالخصوص علمِ طب میں آپ نے کافی مہارت حاصل کی ۔ آخری عمر میں آپ نے اپنی ذکاوت اور ذہانت کے باعث انگریزی زبان میں بھی اچھی خاصی مہارت حاصل کرلی تھی ۔ اور فارسی زبان میں تو بڑا عبور حاصل تھا ۔
بیعت و خلافت:
ظاہری کمالات کے ساتھ ساتھ باطنی کمالات سے بھی آپ آراستہ تھے، اور اس کی تکمیل کے لئےآپ نے سندھ کے مشہور روحانی سرہندی بزرگ حضرت خواجہ عبد القیوم مجددی رحمۃ اللہ علیہ کا دامن تھاما اور ان کے ہاتھ پر سلسلۂ نقشبندیہ میں بیعت کی ۔
سیرت و خصائص:
سید میراں محمد شاہ رحمۃ اللہ علیہ علمی اور روحانی، ظاہری اور باطنی کے بلند و بالا مقامات پر فائز تھے ۔ آپ اپنے دور کے با کمال حکیم، عالم، حافظِ قرآن اور ولی کامل تھے ۔
انگریزوں کے ابتدائی دور میں سندھ کے جن بڑے بڑے زبان داں علماء، مفکروں ادیبوں نے سندھی زبان کو باقاعدہ مرتب و مدون کیا ان میں سید میراں محمد شاہ کا نام بھی سرِ فہرست ہے ۔
چنانچہ اس زمانہ کے کمشنر کی درخواست پر آپ نے سندھی زبان میں ایک کہانی لکھی، جو آپ ہی کے نام سے اس وقت اشاعت پذیر ہوئی ۔ آپ کی سیرت کا ایک باب آپ کا اپنے مرشد سے والہانہ محبت بھی ہے کہ مرشد کی محبت آپ کے خون میں شامل تھا ۔ مرشد سے محبت کرنے کا ہی یہ ثمر تھا کہ مرشد کے وصال فرمانے کے بعد آپ نے ان کے صاحب زادے سے بھی اسی طرح محبت کی ۔
تاریخِ وصال:
دینی اور دنیوی دولت سے مالامال یہ فقیر پیر کے دن 5 جمادی الاول 1309ھ / بمطابق دسمبر 1891ء میں مغرب کے وقت نمونیہ کے عارضہ میں مبتلا ہو کر واصل باللہ ہوئے ۔
ماخذ و مراجع:
صوفیائے نقشبند ۔ تذکرۂ اولیاء سندھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-hafiz-hakeem-syed-muhammad-meeran
scholars.pk
Hazrat Allama Hafiz Hakeem Syed Muhammad Meeran
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت مولانا مفتی محمد صادق رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
ولادت:
حضرت مولانا مفتی محمد صادق رحمہ اللہ تعالیٰ ۱۳۴۴ھ ؍ ۱۹۲۵ء میں موضع برزائی (ضلع کیمبلپور) میں پیدا ہوئے ۔
قرآن مجید پڑھنے کے بعد آٹھویں جماعت تک سکول میں تعلیم حاصل کی، بعد ازاں اپنے بڑے بھائی سے ابتدائی تعلیم حاصل کی، پھر حضر و ضلع کیمبلپور کے مختلف مدارس میں تعلیم حاصل کی، درس نظامی کی متداول کتب پڑھنے کے بعد ۱۳۶۷ھ ؍ ۱۹۴۷ء میں مغربی پاکستان کی قدیم درس گاہ دار العلوم حزب الاحناف (لاہور) میں درس حدیث لیا اور امتیازی حیثیت سے کامیاب ہوئے ۔
تحصیل علم کے بعد راولپنڈی میں مستقل سکونت اختیارکی اور تبلیغ دین کا کام شروع کیا ۔ ۱۳۸۲ھ ؍ ۱۹۶۲ء میں سراپا اشتیاق و محبت بن کر حجاز مقدس کا سفر کیا اور حرمین شریفین کی حاضری سے شاد کام ہوئے آپ سلسلۂ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں دربار عالیہ گولڑہ شریف کے حلقۂ ارادت میں داخل تھے ۔
مفتی صاحب ہر دلعزیز اور مقبول عام شخصیت تھے، فن خطابت میں ید طولیٰ حاصل تھا اکثر و بیشتر تبلیغی دوروں پر رہا کرتے، دین متین کی تبلیغ اور نشر و اشاعت کے لئے بے پناہ درد رکھتے تھے، راولپنڈی میں جب تنظیم العلماء کے نام سے ایک جماعت قائم کی گئی تو مفتی صاحب نے پر جوش اور سر گرم رکن کی حیثیت سے کام کیا، تنظیم کے تحت ہفتہ وار گراموں میں باقاعد گی سے شریک ہوئے، چونکہ آپ کی قیام گاہ مورگاہ میں تھی اور رات کو اجلاس کے اختتام پر کوئی سواری بھی میسر نہ ہوتی تھی اس لئے پیدل ہی اپنی قیام گاہ پر تشریف لے جاتے ۔ یہ ان کے خلوص و ایثار کی بین دلیل تھی کہ وہ تبلیغ دین کے جذبے کے تحت اپنے آرام و سکون کو پس پشت ڈال دیتے تھے، جب بھی کوئی مجلس مشاورت منعقد ہوتی تو آپ کی یہی کوشش ہوتی کہ غیر متعلقہ باتوں کی بجائے پوری توجہ علماء کی تنظیم اور جماعت کی ترقی و استحکام کے مختلف پہلوئوں پر صرف کی جائے ۔
مفتی صاحب سحر بیان خطیب تھے، جب خطبہ شروع کرتے تو تمام مجمع پر سکوت طاری ہو جاتا اور ہر شخص ان کی تقریر سننے کے لئے ہمہ تن گوش ہو کر بیٹھ جاتا اور جب پر سوز آواز میں مثنوی شریف پڑھتے تو سامعین جھوم اٹھتے اور اکثر لوگوں کی آنکھیں بے اختیار اشکبار ہو جاتیں ۔
وصال:
۱۲؍صفر المظفر،۲۳ مئی (۱۳۸۷ھ؍۱۹۶۷ئ) بروز منگل شام ساڑھے چار بجے مورگاہ اٹک آئل کمپنی سے ایک ضروری دینی کام کے لئے سکوٹر پر سٹلائٹ ٹائون جا رہے تھے کہ راستے میں مری روڈ پر پولیس کی گاڑی سے حادثہ ہو گیا جس میں آپ شدید طور پر زخمی ہو گئے اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے تین بجے شب محبوبِ حقیقی کے دربار میں حاضر ہو گئے، دوسرے دن بوندا باندی کے باوجود شہر بھر کے علماء اور بیس ہزار سے زائد افراد نے نماز جنازہ میں شرکت کی اور مورگاہ کی مسجد میں باچشم نم سپرد خاک کیا ۔ مفتی صاحب نے پسماند میں ایک بیوہ اور چھ بچے چھوڑے [1]
[1] ہفت روزہ (اب ماہنامہ) رضائے مصطفیٰ
( تذکرہ اکابرِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-mufti-muhammad-sadiq
ولادت:
حضرت مولانا مفتی محمد صادق رحمہ اللہ تعالیٰ ۱۳۴۴ھ ؍ ۱۹۲۵ء میں موضع برزائی (ضلع کیمبلپور) میں پیدا ہوئے ۔
قرآن مجید پڑھنے کے بعد آٹھویں جماعت تک سکول میں تعلیم حاصل کی، بعد ازاں اپنے بڑے بھائی سے ابتدائی تعلیم حاصل کی، پھر حضر و ضلع کیمبلپور کے مختلف مدارس میں تعلیم حاصل کی، درس نظامی کی متداول کتب پڑھنے کے بعد ۱۳۶۷ھ ؍ ۱۹۴۷ء میں مغربی پاکستان کی قدیم درس گاہ دار العلوم حزب الاحناف (لاہور) میں درس حدیث لیا اور امتیازی حیثیت سے کامیاب ہوئے ۔
تحصیل علم کے بعد راولپنڈی میں مستقل سکونت اختیارکی اور تبلیغ دین کا کام شروع کیا ۔ ۱۳۸۲ھ ؍ ۱۹۶۲ء میں سراپا اشتیاق و محبت بن کر حجاز مقدس کا سفر کیا اور حرمین شریفین کی حاضری سے شاد کام ہوئے آپ سلسلۂ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں دربار عالیہ گولڑہ شریف کے حلقۂ ارادت میں داخل تھے ۔
مفتی صاحب ہر دلعزیز اور مقبول عام شخصیت تھے، فن خطابت میں ید طولیٰ حاصل تھا اکثر و بیشتر تبلیغی دوروں پر رہا کرتے، دین متین کی تبلیغ اور نشر و اشاعت کے لئے بے پناہ درد رکھتے تھے، راولپنڈی میں جب تنظیم العلماء کے نام سے ایک جماعت قائم کی گئی تو مفتی صاحب نے پر جوش اور سر گرم رکن کی حیثیت سے کام کیا، تنظیم کے تحت ہفتہ وار گراموں میں باقاعد گی سے شریک ہوئے، چونکہ آپ کی قیام گاہ مورگاہ میں تھی اور رات کو اجلاس کے اختتام پر کوئی سواری بھی میسر نہ ہوتی تھی اس لئے پیدل ہی اپنی قیام گاہ پر تشریف لے جاتے ۔ یہ ان کے خلوص و ایثار کی بین دلیل تھی کہ وہ تبلیغ دین کے جذبے کے تحت اپنے آرام و سکون کو پس پشت ڈال دیتے تھے، جب بھی کوئی مجلس مشاورت منعقد ہوتی تو آپ کی یہی کوشش ہوتی کہ غیر متعلقہ باتوں کی بجائے پوری توجہ علماء کی تنظیم اور جماعت کی ترقی و استحکام کے مختلف پہلوئوں پر صرف کی جائے ۔
مفتی صاحب سحر بیان خطیب تھے، جب خطبہ شروع کرتے تو تمام مجمع پر سکوت طاری ہو جاتا اور ہر شخص ان کی تقریر سننے کے لئے ہمہ تن گوش ہو کر بیٹھ جاتا اور جب پر سوز آواز میں مثنوی شریف پڑھتے تو سامعین جھوم اٹھتے اور اکثر لوگوں کی آنکھیں بے اختیار اشکبار ہو جاتیں ۔
وصال:
۱۲؍صفر المظفر،۲۳ مئی (۱۳۸۷ھ؍۱۹۶۷ئ) بروز منگل شام ساڑھے چار بجے مورگاہ اٹک آئل کمپنی سے ایک ضروری دینی کام کے لئے سکوٹر پر سٹلائٹ ٹائون جا رہے تھے کہ راستے میں مری روڈ پر پولیس کی گاڑی سے حادثہ ہو گیا جس میں آپ شدید طور پر زخمی ہو گئے اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے تین بجے شب محبوبِ حقیقی کے دربار میں حاضر ہو گئے، دوسرے دن بوندا باندی کے باوجود شہر بھر کے علماء اور بیس ہزار سے زائد افراد نے نماز جنازہ میں شرکت کی اور مورگاہ کی مسجد میں باچشم نم سپرد خاک کیا ۔ مفتی صاحب نے پسماند میں ایک بیوہ اور چھ بچے چھوڑے [1]
[1] ہفت روزہ (اب ماہنامہ) رضائے مصطفیٰ
( تذکرہ اکابرِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-mufti-muhammad-sadiq
scholars.pk
Hazrat Molana Mufti Muhammad Sadiq
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
مجاہد جنگ آزادی امام فضل حق خیرآبادی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: علامہ فضلِ حق خیر آبادی ۔ القاب: مجاہدِ جنگِ آزادی، بطلِ حریت، امام المناطقہ، رئیس المتکلمین وغیرہ ۔ والد کا اسمِ گرامی: بانیِ سلسلۂ خیر آبادیت امام المناطقہ حضرت علامہ مولانا فضلِ امام خیرآبادی رحمۃ اللہ علیہ ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
علامہ فضلِ حق خیر آبادی بن مولانا فضلِ امام خیر آبادی بن محمد ارشد بن محمد صالح بن عبد الواحد بن عبد الماجد بن قاضی صدر الدین خیر آبادی ۔(علیہم الرحمۃ والرضوان) ـ
آپ کا شجرۂ نسب تینتیس واسطوں سے امیر المؤمنین حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ سے جا ملتا ہے ۔ (حدائق الحنفیہ ۔ روشن دریچے، ص:61) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1212ھ، مطابق 1797ء کو خیر البلاد " خیر آباد " (ضلع سیتاپور، اتر پردیش، انڈیا) میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
علامہ فضلِ حق خیرآبادی علیہ الرحمہ نے معقولات اپنے والدِ گرامی علامہ فضلِ امام خیرآبادی علیہ الرحمہ سے اور منقولات خاتم المحدثین حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی اور حضرت شاہ عبد القادر محدث دہلوی اور تصوف و اخلاق حضرت شیخ الاسلام محمد علی خیر آبادی علیھم الرحمہ سے حاصل کیے ۔
آپ کی ذہانت و فطانت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ نے صِرف چار ماہ کی قلیل مدت میں قرآنِ مجید حفظ کر لیا ۔ تیرہ سال کی عمر میں درسیات سے فارغ ہو کر کامل استاد بن گئے ۔
بیعت و خلافت:
آپ رحمۃ اللہ علیہ سلسلۂ عالیہ چشتیہ میں حضرت شاہ دھومن دہلوی علیہ الرحمہ سے بیعت ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
مجاہدِ تحریک آزادی ، شیرِ خدا، بطل ِحریت، علوم و معارف کا بحر ِبیکراں، کشورِ علم کا تاجدار، منقولات و معقولات کا امام علامہ فضل حق خیر آبادی ، عمری، حنفی، ماتریدی، چشتی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ علم و فضل میں یگانۂ روزگار تھے ۔ فنونِ حکمیہ اور علومِ عقلیہ کے مسلم الثبوت امام تھے، بلکہ مجتہد و امام تھے ۔ بڑے ادیب ، بڑے منطقی، نہایت ذہن ، نہایت زکی، خلیق و ذلیق، انتہائی صاحبِ تدقیق و تحقیق تھے ۔ علامہ موصوف نے اپنے مشہور " قصیدے ہمزیہ " میں بطور تحدیثِ نعمت اپنے علم و فضل کا اس انداز سے ذکر کرتے ہیں:
؏: اللہ اقنانی علوما یقتنی
منھا علوماجمۃ علماء ۔
یعنی: اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ علوم عطاء کیے ہیں کہ ان میں سے بہت کچھ علماء نے حاصل کیے ۔
آپ معقولات کے تو امام تھے ہی لیکن حیرت کی بات ہے کہ عربی فارسی وغیرہ کے بہترین ناظم و ناثر بھی تھے ۔ علامہ فضلِ حق خیرآبادی علیہ الرحمہ صحیح العقیدہ سنی حنفی تھے ۔
آپ نے مولوی اسماعیل دہلوی کے رد میں " تحقیق الفتویٰ فی ابطال الطغویٰ " لکھی ۔ اس کی بعض گستاخانہ عبارات پر تکفیر فرمائی اور یہ فتویٰ دیا: " اس بے ہودہ کلام کا قائل از روئے شریعت کافر و بے دین ہے اور شرعاً اس کا حکم قتل اور تکفیر ہے " ۔ کچھ ہی عرصہ بعد اتفاقاً وہ بالاکوٹ کے غیور مسلمانوں کے ہاتھوں قتل بھی ہو گیا ۔
مولانا عبد القادر صدر الصدور فرماتے ہیں: "عربی ادب میں ابو الحسن اخفش جیسے ہیں ، ان کی نثر مقاماتِ حریری سے اور نظم دیوانِ متنبی سے ممتاز ہے " ۔
اس تاریخی حقیقت سے ہر اہل فہم اور ذی علم واقف ہے کہ سر زمینِ ہندوستان کو انگریزوں کی غلامی سے آزاد کرانے کی تحریک کے قائدِ اعظم کی حیثیت علامہ فضل حق خیر آبادی کو ہی حاصل ہے ۔
علامہ کی تصنیف " الثورۃ الہندیہ " اور " قصائدِ فتنۃ الہند " جنگِ آزادی 1857ء کے نہایت قابلِ قدر ماخذ کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ چوں کہ علامہ فضل حق خیر آبادی نے محمد بن عبد الوہاب نجدی کی " کتاب التوحید " کے اردو چربہ " تقویۃ الایمان " مولفہ مولوی اسماعیل دہلوی کے ساتھ ساتھ دیگر عقائدِ وہابیہ کی تردید میں کلیدی کردار ادا کیا ۔
بایں سبب آپ کی شخصیت کو مجروح کرنے کی بہت زیادہ کوششیں کی گئیں ۔ چنانچہ تاریخی حقائق و شواہد پر پردہ ڈالنے اور جنگِ آزادی کے مسلمہ راہنماؤں کے خلاف فضا پیدا کرتے ہوئے کچھ لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ علامہ فضل حق خیر آبادی نے انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ نہیں دیا تھا ۔ اس تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کی ناپاک جسارت کی گئی ۔ لیکن حق چھپانے سے نہیں چھپ سکتا، اور ظاہر ہو کر رہتا ہے ۔ دروغ کو فروغ نہیں ہوتا ہے ۔
نام و نسب:
اسمِ گرامی: علامہ فضلِ حق خیر آبادی ۔ القاب: مجاہدِ جنگِ آزادی، بطلِ حریت، امام المناطقہ، رئیس المتکلمین وغیرہ ۔ والد کا اسمِ گرامی: بانیِ سلسلۂ خیر آبادیت امام المناطقہ حضرت علامہ مولانا فضلِ امام خیرآبادی رحمۃ اللہ علیہ ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
علامہ فضلِ حق خیر آبادی بن مولانا فضلِ امام خیر آبادی بن محمد ارشد بن محمد صالح بن عبد الواحد بن عبد الماجد بن قاضی صدر الدین خیر آبادی ۔(علیہم الرحمۃ والرضوان) ـ
آپ کا شجرۂ نسب تینتیس واسطوں سے امیر المؤمنین حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ سے جا ملتا ہے ۔ (حدائق الحنفیہ ۔ روشن دریچے، ص:61) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1212ھ، مطابق 1797ء کو خیر البلاد " خیر آباد " (ضلع سیتاپور، اتر پردیش، انڈیا) میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
علامہ فضلِ حق خیرآبادی علیہ الرحمہ نے معقولات اپنے والدِ گرامی علامہ فضلِ امام خیرآبادی علیہ الرحمہ سے اور منقولات خاتم المحدثین حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی اور حضرت شاہ عبد القادر محدث دہلوی اور تصوف و اخلاق حضرت شیخ الاسلام محمد علی خیر آبادی علیھم الرحمہ سے حاصل کیے ۔
آپ کی ذہانت و فطانت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ نے صِرف چار ماہ کی قلیل مدت میں قرآنِ مجید حفظ کر لیا ۔ تیرہ سال کی عمر میں درسیات سے فارغ ہو کر کامل استاد بن گئے ۔
بیعت و خلافت:
آپ رحمۃ اللہ علیہ سلسلۂ عالیہ چشتیہ میں حضرت شاہ دھومن دہلوی علیہ الرحمہ سے بیعت ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
مجاہدِ تحریک آزادی ، شیرِ خدا، بطل ِحریت، علوم و معارف کا بحر ِبیکراں، کشورِ علم کا تاجدار، منقولات و معقولات کا امام علامہ فضل حق خیر آبادی ، عمری، حنفی، ماتریدی، چشتی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ علم و فضل میں یگانۂ روزگار تھے ۔ فنونِ حکمیہ اور علومِ عقلیہ کے مسلم الثبوت امام تھے، بلکہ مجتہد و امام تھے ۔ بڑے ادیب ، بڑے منطقی، نہایت ذہن ، نہایت زکی، خلیق و ذلیق، انتہائی صاحبِ تدقیق و تحقیق تھے ۔ علامہ موصوف نے اپنے مشہور " قصیدے ہمزیہ " میں بطور تحدیثِ نعمت اپنے علم و فضل کا اس انداز سے ذکر کرتے ہیں:
؏: اللہ اقنانی علوما یقتنی
منھا علوماجمۃ علماء ۔
یعنی: اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ علوم عطاء کیے ہیں کہ ان میں سے بہت کچھ علماء نے حاصل کیے ۔
آپ معقولات کے تو امام تھے ہی لیکن حیرت کی بات ہے کہ عربی فارسی وغیرہ کے بہترین ناظم و ناثر بھی تھے ۔ علامہ فضلِ حق خیرآبادی علیہ الرحمہ صحیح العقیدہ سنی حنفی تھے ۔
آپ نے مولوی اسماعیل دہلوی کے رد میں " تحقیق الفتویٰ فی ابطال الطغویٰ " لکھی ۔ اس کی بعض گستاخانہ عبارات پر تکفیر فرمائی اور یہ فتویٰ دیا: " اس بے ہودہ کلام کا قائل از روئے شریعت کافر و بے دین ہے اور شرعاً اس کا حکم قتل اور تکفیر ہے " ۔ کچھ ہی عرصہ بعد اتفاقاً وہ بالاکوٹ کے غیور مسلمانوں کے ہاتھوں قتل بھی ہو گیا ۔
مولانا عبد القادر صدر الصدور فرماتے ہیں: "عربی ادب میں ابو الحسن اخفش جیسے ہیں ، ان کی نثر مقاماتِ حریری سے اور نظم دیوانِ متنبی سے ممتاز ہے " ۔
اس تاریخی حقیقت سے ہر اہل فہم اور ذی علم واقف ہے کہ سر زمینِ ہندوستان کو انگریزوں کی غلامی سے آزاد کرانے کی تحریک کے قائدِ اعظم کی حیثیت علامہ فضل حق خیر آبادی کو ہی حاصل ہے ۔
علامہ کی تصنیف " الثورۃ الہندیہ " اور " قصائدِ فتنۃ الہند " جنگِ آزادی 1857ء کے نہایت قابلِ قدر ماخذ کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ چوں کہ علامہ فضل حق خیر آبادی نے محمد بن عبد الوہاب نجدی کی " کتاب التوحید " کے اردو چربہ " تقویۃ الایمان " مولفہ مولوی اسماعیل دہلوی کے ساتھ ساتھ دیگر عقائدِ وہابیہ کی تردید میں کلیدی کردار ادا کیا ۔
بایں سبب آپ کی شخصیت کو مجروح کرنے کی بہت زیادہ کوششیں کی گئیں ۔ چنانچہ تاریخی حقائق و شواہد پر پردہ ڈالنے اور جنگِ آزادی کے مسلمہ راہنماؤں کے خلاف فضا پیدا کرتے ہوئے کچھ لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ علامہ فضل حق خیر آبادی نے انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ نہیں دیا تھا ۔ اس تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کی ناپاک جسارت کی گئی ۔ لیکن حق چھپانے سے نہیں چھپ سکتا، اور ظاہر ہو کر رہتا ہے ۔ دروغ کو فروغ نہیں ہوتا ہے ۔
❤1
مخالفین کے گھر سے گواہی:
مسلکِ مخالف کے شیخ الاسلام حسین احمد مدنی کہتے ہیں: "مولانا فضل حق صاحب خیر آبادی کو جو کہ تحریک کے بہت بڑے رکن تھے اور بریلی، علی گڑھ اور اس کے ملحقہ اضلاع کے دورانِ تحریک میں گورنر تھے، آخر ان کو گھر سے گرفتار کیا گیا ۔ جس مخبر نے ان کو گرفتار کرایا تھا اس نے انکار کر دیا کہ مجھے معلوم نہیں، فتویٰ جہاد پر جس نے دستخط کیے ہیں وہ یہ فضل حق ہیں یا کوئی اور ہیں ؟ ۔۔۔۔۔
مولانا نے فرمایا:
"مخبر نے پہلے جو رپورٹ لکھوائی تھی وہ بِالکل صحیح تھی کہ فتویٰ میرا ہے ۔ اب میری شکل و صورت سے مرعوب ہو کر یہ جھوٹ بول رہا ہے " ۔ قربان جائیے! علامہ کی شانِ استقلال پر خدا کا شیر گرج کر کہہ رہا ہے کہ میرا اب بھی وہی فیصلہ ہے کہ انگریز غاصب ہے اور اس کے خلاف جہاد کرنا فرض ہے ۔ خدا کے بندے ایسے ہی ہوا کرتے ہیں ۔ وہ جان کی پروا کیے بغیر سر بہ کف ہو کر میدان میں نکلتے ہیں اور لومڑی کی طرح ہیر پھیر کر کے جان نہیں بچاتے بلکہ شیروں کی طرح جان دینے کو فخر سمجھتے ہیں ۔ " (حسین احمد مدنی: تحریک ریشمی رومال، مطبوعہ لاہور ۔1960ء، ص:65) ـ
ان نام نہاد " محققین " کی تقلیدی اور متعصبانہ تحقیق پر ان کے اپنے مسلک کے منصف مزاج شخصیات نے تنقید کی ہے: پاکستان میں دیوبندی مکتبِ فکر کے آرگن ہفت روزہ " خدام الدین " لاہور کے ایک مضمون کے چند اقتباس ملاحظہ ہوں ۔ یہ اقتباسات علامہ فضل حق خیر آبادی کے فتوائے جہاد کے منکرین کے لیے لمحۂ فکریہ سے کم نہیں اور ان لوگوں کے لیے درسِ عبرت ہے جو علامہ کی مجاہدانہ سرگرمیوں کو محض ایک مخصوص مسلک کے لوگوں تک محدود کرنے کی سعیِ نا مشکور کر رہے ہیں ۔
فرماتے ہیں:
" بُرا ہو تاریخ کا ۔ اس نے اپنے حافظہ سے ایسی ایسی جاں باز، حق گو، بہادر اور جامع کمالات شخصیتوں کو دودھ سے مکھی کی طرح نکال پھینکا ۔ جنہوں نے اپنے دور میں وقت کے تیز و تند طوفانوں سے بے خوف ٹکر لی اور پیٹھ نہیں دکھائی ۔ مولانا فضل حق رحمۃ اللہ علیہ تاریخ کے ان جواں مرد اور نڈر مجاہدین میں سے تھے جن کی جرات و ہمت اور حق گوئی و بے باکی نے دنیا کو حیرت میں ڈال دیا ۔ مگر تاریخ کے صفحات میں ان کو شایانِ شان کیا، کوئی معمولی جگہ بھی نہیں مل سکی ۔ مولانا فضل حق خیر آبادی نے افضل الجہاد کلمۃ الحق عند سلطانِ جابر کا فریضہ ادا کیا اور اپنی عمرِ عزیز انڈومان میں حبسِ دوام کی نذر کر دی ۔ علامہ فضل حق خیر آبادی نے انگریزوں کے خلاف فتویٰ دے کر مسلمانوں کو عدم تعاون پر آمادہ کیا ـ مولانا فضل حق خیر آبادی (اسی جرم میں) " باغی " قرار دیے گئے " ۔ (مضمون: " مولانا فضل حق خیرآبادی " ۔ از: مستقیم احسنؔ حامدی ۔ فاضل دار العلوم دیوبند ۔ ہفت روزہ خدام الدین، لاہور 23 نومبر 1962ء، ص:9/10) ـ
الغرض تاریخی حیثیت سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ علامہ فضلِ حق خیرآبادی انگریزوں کے حامی و مددگار نہ تھے بلکہ ان کے حامیوں اور مدد گاروں کو مرتدو بے دین سمجھتے تھے ۔ وہ علم و فضل کے بحرِ بے کنار تھے ۔ انہوں نے اپنی زندگی کا حق ادا کر دیا ۔ سنتِ حسین پر عمل پیرا ہو کر اپنی جان قربان کر دی لیکن باطل کے سامنے اپنے موقف سے ایک اِنچ بھی پیچھے نہ ہوئے ۔
وصال:
جزیرہ انڈمان کی جیل میں ایک سال دس ماہ تیرہ دن اسیری میں رہ کر 12 صفر المظفر 1278ھ، مطابق 20 اگست 1861ء کو جہانِ فانی سے رخصت ہوئے ۔ آج بھی آپ کی قبر " آزادی " کی آذانیں سُنا رہی ہے ۔
ماخذ و مراجع:
حدائق الحنفیہ ۔ خیر آبادیات ۔ تذکرہ علمائے ہند ۔ دو قومی نظریہ اور علمائے اہلسنت ۔ جنگِ آزدی میں علامہ فضلِ حق خیر آبادی کا کردار ۔
بنا کر دند خوش رسمے بخاک و خون غلطیدن
خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-fazal-haq-khairabadi
مسلکِ مخالف کے شیخ الاسلام حسین احمد مدنی کہتے ہیں: "مولانا فضل حق صاحب خیر آبادی کو جو کہ تحریک کے بہت بڑے رکن تھے اور بریلی، علی گڑھ اور اس کے ملحقہ اضلاع کے دورانِ تحریک میں گورنر تھے، آخر ان کو گھر سے گرفتار کیا گیا ۔ جس مخبر نے ان کو گرفتار کرایا تھا اس نے انکار کر دیا کہ مجھے معلوم نہیں، فتویٰ جہاد پر جس نے دستخط کیے ہیں وہ یہ فضل حق ہیں یا کوئی اور ہیں ؟ ۔۔۔۔۔
مولانا نے فرمایا:
"مخبر نے پہلے جو رپورٹ لکھوائی تھی وہ بِالکل صحیح تھی کہ فتویٰ میرا ہے ۔ اب میری شکل و صورت سے مرعوب ہو کر یہ جھوٹ بول رہا ہے " ۔ قربان جائیے! علامہ کی شانِ استقلال پر خدا کا شیر گرج کر کہہ رہا ہے کہ میرا اب بھی وہی فیصلہ ہے کہ انگریز غاصب ہے اور اس کے خلاف جہاد کرنا فرض ہے ۔ خدا کے بندے ایسے ہی ہوا کرتے ہیں ۔ وہ جان کی پروا کیے بغیر سر بہ کف ہو کر میدان میں نکلتے ہیں اور لومڑی کی طرح ہیر پھیر کر کے جان نہیں بچاتے بلکہ شیروں کی طرح جان دینے کو فخر سمجھتے ہیں ۔ " (حسین احمد مدنی: تحریک ریشمی رومال، مطبوعہ لاہور ۔1960ء، ص:65) ـ
ان نام نہاد " محققین " کی تقلیدی اور متعصبانہ تحقیق پر ان کے اپنے مسلک کے منصف مزاج شخصیات نے تنقید کی ہے: پاکستان میں دیوبندی مکتبِ فکر کے آرگن ہفت روزہ " خدام الدین " لاہور کے ایک مضمون کے چند اقتباس ملاحظہ ہوں ۔ یہ اقتباسات علامہ فضل حق خیر آبادی کے فتوائے جہاد کے منکرین کے لیے لمحۂ فکریہ سے کم نہیں اور ان لوگوں کے لیے درسِ عبرت ہے جو علامہ کی مجاہدانہ سرگرمیوں کو محض ایک مخصوص مسلک کے لوگوں تک محدود کرنے کی سعیِ نا مشکور کر رہے ہیں ۔
فرماتے ہیں:
" بُرا ہو تاریخ کا ۔ اس نے اپنے حافظہ سے ایسی ایسی جاں باز، حق گو، بہادر اور جامع کمالات شخصیتوں کو دودھ سے مکھی کی طرح نکال پھینکا ۔ جنہوں نے اپنے دور میں وقت کے تیز و تند طوفانوں سے بے خوف ٹکر لی اور پیٹھ نہیں دکھائی ۔ مولانا فضل حق رحمۃ اللہ علیہ تاریخ کے ان جواں مرد اور نڈر مجاہدین میں سے تھے جن کی جرات و ہمت اور حق گوئی و بے باکی نے دنیا کو حیرت میں ڈال دیا ۔ مگر تاریخ کے صفحات میں ان کو شایانِ شان کیا، کوئی معمولی جگہ بھی نہیں مل سکی ۔ مولانا فضل حق خیر آبادی نے افضل الجہاد کلمۃ الحق عند سلطانِ جابر کا فریضہ ادا کیا اور اپنی عمرِ عزیز انڈومان میں حبسِ دوام کی نذر کر دی ۔ علامہ فضل حق خیر آبادی نے انگریزوں کے خلاف فتویٰ دے کر مسلمانوں کو عدم تعاون پر آمادہ کیا ـ مولانا فضل حق خیر آبادی (اسی جرم میں) " باغی " قرار دیے گئے " ۔ (مضمون: " مولانا فضل حق خیرآبادی " ۔ از: مستقیم احسنؔ حامدی ۔ فاضل دار العلوم دیوبند ۔ ہفت روزہ خدام الدین، لاہور 23 نومبر 1962ء، ص:9/10) ـ
الغرض تاریخی حیثیت سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ علامہ فضلِ حق خیرآبادی انگریزوں کے حامی و مددگار نہ تھے بلکہ ان کے حامیوں اور مدد گاروں کو مرتدو بے دین سمجھتے تھے ۔ وہ علم و فضل کے بحرِ بے کنار تھے ۔ انہوں نے اپنی زندگی کا حق ادا کر دیا ۔ سنتِ حسین پر عمل پیرا ہو کر اپنی جان قربان کر دی لیکن باطل کے سامنے اپنے موقف سے ایک اِنچ بھی پیچھے نہ ہوئے ۔
وصال:
جزیرہ انڈمان کی جیل میں ایک سال دس ماہ تیرہ دن اسیری میں رہ کر 12 صفر المظفر 1278ھ، مطابق 20 اگست 1861ء کو جہانِ فانی سے رخصت ہوئے ۔ آج بھی آپ کی قبر " آزادی " کی آذانیں سُنا رہی ہے ۔
ماخذ و مراجع:
حدائق الحنفیہ ۔ خیر آبادیات ۔ تذکرہ علمائے ہند ۔ دو قومی نظریہ اور علمائے اہلسنت ۔ جنگِ آزدی میں علامہ فضلِ حق خیر آبادی کا کردار ۔
بنا کر دند خوش رسمے بخاک و خون غلطیدن
خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-fazal-haq-khairabadi
scholars.pk
Hazrat Molana Fazal Haq Khairabadi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
قائد انقلاب، مجاہد جنگِ آزادی، بطل حریت، حضرت علامہ محمد فضلِ حق خیر آبادی فاروقی حنفی ماتریدی چشتی رضی اللہ عنہ کی ولادت 1212ھ خیرآباد، ضلع سیتا پور، اترپردیش، ہندستان میں ہوئی۔ آپ حافظ قرآن، ماہر علوم عقیلہ و نقلیہ، امام المناطقہ، رئیس المتکلمین، استاذ العلماء، سلسلہ خیرآبادیہ کے چشم و چراغ، لکھنؤ کے قاضی القضاۃ، اردو و عربی کے شاعر، کئی کتب کے مصنف اور مؤثر ترین شخصیت کے مالک تھے۔ کتب میں امتناع النظیر اور الثورۃ الھندیہ معروف ہیں۔ 12 صفر المظفر 1278ه بروز پیر بمطابق 20 اگست 1861ء کو جزیرہ انڈمان میں شہید ہوئے، مزار شريف بھی وہیں ساؤتھ پوائنٹ پورٹ بلیر میں ہے۔ (حدائق الحنفیہ، خیرآبادیات، تذکرہ علمائے ہند)
Freedom fighter, Revolution leader, Allamah Muhammad Fazl-e-Haq Khayrabadi Farooqi Hanafi Maturidi Chishti (RadiyAllahu Anhu) was born in 1212 AH in Khairabad, District Sitapur, U.P., India. He was a Hafiz of the Holy Quran, an expert in traditional and rational branches of knowledge, leader of logicians, master of theologians, teacher of scholars, a beacon of light among the scholars of Khairabad, Islamic Chief Justice of Lucknow, Urdu, and Arabic poet, author of many books and an extremely influential personality. Imtina’ al-Nazeer and Al-Thawrat al-Hindiyyah are famous among his books. He was martyred on Monday, 12th Safar 1278 AH (i.e. 20th August 1861 CE) in Andaman Island. His blessed resting place is also located there in South Point, Port Blair, Andaman, and the Nicobar Islands. [Hadaiq al-Hanafiyyah, Khayrabadiyaat, Tazkirah Ulama-e-Hind]
https://www.facebook.com/100050689590519/posts/pfbid0ZDhwUPZ71Vj8A7GeE8pVeiVBTsbWWZKtaPCkReXxJfhxUgnDSKW1hnk4ndby7soFl/
Freedom fighter, Revolution leader, Allamah Muhammad Fazl-e-Haq Khayrabadi Farooqi Hanafi Maturidi Chishti (RadiyAllahu Anhu) was born in 1212 AH in Khairabad, District Sitapur, U.P., India. He was a Hafiz of the Holy Quran, an expert in traditional and rational branches of knowledge, leader of logicians, master of theologians, teacher of scholars, a beacon of light among the scholars of Khairabad, Islamic Chief Justice of Lucknow, Urdu, and Arabic poet, author of many books and an extremely influential personality. Imtina’ al-Nazeer and Al-Thawrat al-Hindiyyah are famous among his books. He was martyred on Monday, 12th Safar 1278 AH (i.e. 20th August 1861 CE) in Andaman Island. His blessed resting place is also located there in South Point, Port Blair, Andaman, and the Nicobar Islands. [Hadaiq al-Hanafiyyah, Khayrabadiyaat, Tazkirah Ulama-e-Hind]
https://www.facebook.com/100050689590519/posts/pfbid0ZDhwUPZ71Vj8A7GeE8pVeiVBTsbWWZKtaPCkReXxJfhxUgnDSKW1hnk4ndby7soFl/
❤1