🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
11-02-1445 ᴴ | 29-08-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ #عید_غوثیہ 51 #غوث_الاعظم ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ اِس سلسلے کی پہلی قِسط یہاں ہے↯ https://t.me/islaamic_Knowledge/10175 https://t.me/SirfUrduTahrir/6731
11-02-1445 ᴴ | 29-08-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
نظم ... داڑھی منڈانا چھوڑ دے
یزید پلید فتاوی رضویہ جلد¹⁴
یزید پلید خطبات محرم ص³⁴²
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
نظم ... داڑھی منڈانا چھوڑ دے
یزید پلید فتاوی رضویہ جلد¹⁴
یزید پلید خطبات محرم ص³⁴²
❤2
Forwarded from Urdu Tahrir (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت شاہ عبد اللطیف بھٹائی
تاریخِ پیدائش:
آپ کی ولادت باسعادت 1102ھ، مطابق 1689ء کو قصبہ " قندر " قریب ہالہ ،سندھ میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے والدِ گرامی سے حاصل کی، دیگر اساتذہ کے ساتھ خصوصاً مولانا میاں نور محمد بھٹو کا نام آتا ہے آپ اپنے استاد کی بڑی قدر کرتے تھے بھٹ شاہ میں اپنے استادِ محترم کو ایک گھر بنواکر دیا تھا ـ
بیعت و خلافت:
شاہ صاحب اپنے والدِ گرامی حضرت سید حبیب شاہ کے دست حق پرست پرسلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت ہوئے ـ
سیرت و خصائص:
آپ کے پاکیزہ نغموں سے سندھ کے گاؤں گاؤں اور گلی کوچے آج بھی گونج رہے ہیں۔ آپ کے کلام کی سب سے بڑی خصوصیّت یہ ہے کہ اُس سے تعلیم یافتہ طبقہ بھی لطف اندوز ہوتا ہے اور ناخواندہ طبقہ بھی ان کے اشعار میں ایک لذّت محسوس کر رہے ہیں۔ آج بھی عورتیں گھروں میں، کسان کھیتوں میں، اور بچے گلیوں میں، صوفیا خانقاہوں میں اور واعظ محافلِ و عظ میں شاہ صاحب کے کلام کو پڑھتے ہیں ۔
تبلیغ کے سلسلے میں آپ روزانہ کئی کئی میل پیدل سفر کرتے اور راستے میں جتنے گاؤں آتے، قافلے ملتے یا کوئی بھی شخص ملتا اُس کو دین کی دعوت دیتے تھے ۔
آپ نے سندھ کا سارا علاقہ پیدل گھوما اور لوگوں میں ایمان کے زر و جواہر لٹائے ۔ آپ کا سفر " سفرِ و سیلۂ ظفر " تھا ۔ عمر بھر آپ کے توسّل سے نیکی اعتماد اور پاکیزگی کی دولت لوگوں میں تقسیم ہوتی رہی ۔ شاہ صاحب نے قرآنی تعلیمات کے فروغ کے لیے جو خدمات انجام دیں وہ سنہری حروف میں لکھنے کے قابل ہیں ۔ سندھی زبان سے آپ نے اسلام کی تبلیغ اور قرآنی تعلیمات کے فروغ و اشاعت کا کام لے کر اس زبان کو غیر معمولی بنا دیا ۔
زبدۃ العارفین قدوۃ السالکین حضرت شاہ عبد اللطیف بھٹائی علیہ الرحمہ مذہباً سنی، مسلکاً حنفی اور مشرباً قادری تھے۔ انسانوں کی ہدایت پر ساری عمر صرف کردی تھی۔ سرکشوں کو اللہ کے قریب کیا، گمراہوں کو راہِ رست پر لگایا بے دینوں کو دین کا فلسفہ سمجھایا، دنیا کی محبت، حرص، لالچ، حسد، کینہ، بغض، وغیرہ جیسی گندی خصلتوں سے مسلمانوں کے من کو صاف کیا۔ بحیثیت انسان شاہ صاحب ایک سادہ طبیعت کے مالک تھے ۔ آپ کی طینت میں حلم، صبر، شکر، قناعت اور منکسرالمزاجی قدرت کی طرف سے ودیعت کردی گئی تھی۔ ہمدردی وایثار، بے لوث روادرای، مشفقانہ رحمدلی اور متعدد اوصافِ حسنہ کے مالک تھے ۔
قرآن وسنت پر خود سختی سے عمل پیرا رہتے تھے اور مسلمانوں کو اس پرعمل کی تلقین کرتے تھے ۔ شاہ صاحب ظاہری عبادت کو لازمی سمجھتے تھے اور اسے ہی قربِ خداوندی کاذریعہ سمجھتے تھے ۔ اپنے مریدین و متوسلین کو کم کھانا ،کم سونا، خود غرضی سے بچنے اور دوسروں ہمدردی، راضی برضا رہنے اور ذکروفکر میں مشغول رہنے کی تلقین کرتے تھے۔ ہر قسم کی نشہ آور اور حرام چیزوں سے سختی سے منع کرتے تھے ۔ مسلمانوں کی بقاء رسول اللہ ﷺ کی اطاعت میں ہے۔ سرورِ عالم ﷺ کی محبت مسلمانوں کا سرمایۂ حیات ہے۔ آپ نے اپنی شاعری کے ذریعے اللہ جل شانہ کی محبت کا درس دیا ہے۔آپ کے دیوان کا نام " شاہ جو رسالو " ہے ۔ جو مقبولِ عام و خاص ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-abdul-latif-bhitai
وصال:
آپ کا وصال 14 صفرالمظفر 1165ھ مطابق دسمبر 1752ء کو 63 سال کی عمر میں ہوا ۔ آپ کامزار "بھٹ شاہ" سندھ پاکستان میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اولیاءِ سندھ
حیات شاہ عبد اللطیف بھٹائی
تاریخِ پیدائش:
آپ کی ولادت باسعادت 1102ھ، مطابق 1689ء کو قصبہ " قندر " قریب ہالہ ،سندھ میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے والدِ گرامی سے حاصل کی، دیگر اساتذہ کے ساتھ خصوصاً مولانا میاں نور محمد بھٹو کا نام آتا ہے آپ اپنے استاد کی بڑی قدر کرتے تھے بھٹ شاہ میں اپنے استادِ محترم کو ایک گھر بنواکر دیا تھا ـ
بیعت و خلافت:
شاہ صاحب اپنے والدِ گرامی حضرت سید حبیب شاہ کے دست حق پرست پرسلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت ہوئے ـ
سیرت و خصائص:
آپ کے پاکیزہ نغموں سے سندھ کے گاؤں گاؤں اور گلی کوچے آج بھی گونج رہے ہیں۔ آپ کے کلام کی سب سے بڑی خصوصیّت یہ ہے کہ اُس سے تعلیم یافتہ طبقہ بھی لطف اندوز ہوتا ہے اور ناخواندہ طبقہ بھی ان کے اشعار میں ایک لذّت محسوس کر رہے ہیں۔ آج بھی عورتیں گھروں میں، کسان کھیتوں میں، اور بچے گلیوں میں، صوفیا خانقاہوں میں اور واعظ محافلِ و عظ میں شاہ صاحب کے کلام کو پڑھتے ہیں ۔
تبلیغ کے سلسلے میں آپ روزانہ کئی کئی میل پیدل سفر کرتے اور راستے میں جتنے گاؤں آتے، قافلے ملتے یا کوئی بھی شخص ملتا اُس کو دین کی دعوت دیتے تھے ۔
آپ نے سندھ کا سارا علاقہ پیدل گھوما اور لوگوں میں ایمان کے زر و جواہر لٹائے ۔ آپ کا سفر " سفرِ و سیلۂ ظفر " تھا ۔ عمر بھر آپ کے توسّل سے نیکی اعتماد اور پاکیزگی کی دولت لوگوں میں تقسیم ہوتی رہی ۔ شاہ صاحب نے قرآنی تعلیمات کے فروغ کے لیے جو خدمات انجام دیں وہ سنہری حروف میں لکھنے کے قابل ہیں ۔ سندھی زبان سے آپ نے اسلام کی تبلیغ اور قرآنی تعلیمات کے فروغ و اشاعت کا کام لے کر اس زبان کو غیر معمولی بنا دیا ۔
زبدۃ العارفین قدوۃ السالکین حضرت شاہ عبد اللطیف بھٹائی علیہ الرحمہ مذہباً سنی، مسلکاً حنفی اور مشرباً قادری تھے۔ انسانوں کی ہدایت پر ساری عمر صرف کردی تھی۔ سرکشوں کو اللہ کے قریب کیا، گمراہوں کو راہِ رست پر لگایا بے دینوں کو دین کا فلسفہ سمجھایا، دنیا کی محبت، حرص، لالچ، حسد، کینہ، بغض، وغیرہ جیسی گندی خصلتوں سے مسلمانوں کے من کو صاف کیا۔ بحیثیت انسان شاہ صاحب ایک سادہ طبیعت کے مالک تھے ۔ آپ کی طینت میں حلم، صبر، شکر، قناعت اور منکسرالمزاجی قدرت کی طرف سے ودیعت کردی گئی تھی۔ ہمدردی وایثار، بے لوث روادرای، مشفقانہ رحمدلی اور متعدد اوصافِ حسنہ کے مالک تھے ۔
قرآن وسنت پر خود سختی سے عمل پیرا رہتے تھے اور مسلمانوں کو اس پرعمل کی تلقین کرتے تھے ۔ شاہ صاحب ظاہری عبادت کو لازمی سمجھتے تھے اور اسے ہی قربِ خداوندی کاذریعہ سمجھتے تھے ۔ اپنے مریدین و متوسلین کو کم کھانا ،کم سونا، خود غرضی سے بچنے اور دوسروں ہمدردی، راضی برضا رہنے اور ذکروفکر میں مشغول رہنے کی تلقین کرتے تھے۔ ہر قسم کی نشہ آور اور حرام چیزوں سے سختی سے منع کرتے تھے ۔ مسلمانوں کی بقاء رسول اللہ ﷺ کی اطاعت میں ہے۔ سرورِ عالم ﷺ کی محبت مسلمانوں کا سرمایۂ حیات ہے۔ آپ نے اپنی شاعری کے ذریعے اللہ جل شانہ کی محبت کا درس دیا ہے۔آپ کے دیوان کا نام " شاہ جو رسالو " ہے ۔ جو مقبولِ عام و خاص ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-abdul-latif-bhitai
وصال:
آپ کا وصال 14 صفرالمظفر 1165ھ مطابق دسمبر 1752ء کو 63 سال کی عمر میں ہوا ۔ آپ کامزار "بھٹ شاہ" سندھ پاکستان میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اولیاءِ سندھ
حیات شاہ عبد اللطیف بھٹائی
scholars.pk
Hazrat Shah Abdul Latif Bhitai
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
Hazrat Shah Abdul Latif Bhittai
❤1
حضرت مولانا شاہ عبد الرحیم
محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
مولوی عبد الرحیم دہلوی ، عمری (فاروقی) نسب، حنفی، نقشبندی مشرب، جامع علوم عقلی و نقلی، حاوی علوم اصلی و فرعی عظیم محدّث تھے ۔
صاحبزادے:
ان کے دو نامور بیٹے مولانا شاہ ولی اللہ دہلوی اور مولانا شاہ اہل اللہ دہلوی ہوئے۔
ایں خانہ تمام آفتاب است
وصال:
۱۲ صفر ۱۱۳۱ھ / ۱۷۱۸ء میں وقت چاشت انتقال ہوا ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-abdul-rahim-muhaddith-dehlvi
محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
مولوی عبد الرحیم دہلوی ، عمری (فاروقی) نسب، حنفی، نقشبندی مشرب، جامع علوم عقلی و نقلی، حاوی علوم اصلی و فرعی عظیم محدّث تھے ۔
صاحبزادے:
ان کے دو نامور بیٹے مولانا شاہ ولی اللہ دہلوی اور مولانا شاہ اہل اللہ دہلوی ہوئے۔
ایں خانہ تمام آفتاب است
وصال:
۱۲ صفر ۱۱۳۱ھ / ۱۷۱۸ء میں وقت چاشت انتقال ہوا ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-abdul-rahim-muhaddith-dehlvi
scholars.pk
Hazrat Molana Shah Abdul Rahim Muhaddith Dehlvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
سید میراں محمد شاہ ٹکھڑائی رحمۃ اللہ علیہ
اسمِ گرامی:
آپ کا اسمِ گرامی سید میراں محمد شاہ اور والدِ ماجد کا اسمِ گرامی حکیم سید محمد شاہ تھا ۔ آپ کا تعلق متعلوی سادات سے تھا ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادتِ باسعادت 12 صفر المظفر 1240ھ میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
اوائلِ عمر میں آپ نے گاؤں" ٹکھڑ " کے ہی علماء اور اساتذہ سے تحصیلِ علم کیا ۔ بِالخصوص علمِ طب میں آپ نے کافی مہارت حاصل کی ۔ آخری عمر میں آپ نے اپنی ذکاوت اور ذہانت کے باعث انگریزی زبان میں بھی اچھی خاصی مہارت حاصل کرلی تھی ۔ اور فارسی زبان میں تو بڑا عبور حاصل تھا ۔
بیعت و خلافت:
ظاہری کمالات کے ساتھ ساتھ باطنی کمالات سے بھی آپ آراستہ تھے، اور اس کی تکمیل کے لئےآپ نے سندھ کے مشہور روحانی سرہندی بزرگ حضرت خواجہ عبد القیوم مجددی رحمۃ اللہ علیہ کا دامن تھاما اور ان کے ہاتھ پر سلسلۂ نقشبندیہ میں بیعت کی ۔
سیرت و خصائص:
سید میراں محمد شاہ رحمۃ اللہ علیہ علمی اور روحانی، ظاہری اور باطنی کے بلند و بالا مقامات پر فائز تھے ۔ آپ اپنے دور کے با کمال حکیم، عالم، حافظِ قرآن اور ولی کامل تھے ۔
انگریزوں کے ابتدائی دور میں سندھ کے جن بڑے بڑے زبان داں علماء، مفکروں ادیبوں نے سندھی زبان کو باقاعدہ مرتب و مدون کیا ان میں سید میراں محمد شاہ کا نام بھی سرِ فہرست ہے ۔
چنانچہ اس زمانہ کے کمشنر کی درخواست پر آپ نے سندھی زبان میں ایک کہانی لکھی، جو آپ ہی کے نام سے اس وقت اشاعت پذیر ہوئی ۔ آپ کی سیرت کا ایک باب آپ کا اپنے مرشد سے والہانہ محبت بھی ہے کہ مرشد کی محبت آپ کے خون میں شامل تھا ۔ مرشد سے محبت کرنے کا ہی یہ ثمر تھا کہ مرشد کے وصال فرمانے کے بعد آپ نے ان کے صاحب زادے سے بھی اسی طرح محبت کی ۔
تاریخِ وصال:
دینی اور دنیوی دولت سے مالامال یہ فقیر پیر کے دن 5 جمادی الاول 1309ھ / بمطابق دسمبر 1891ء میں مغرب کے وقت نمونیہ کے عارضہ میں مبتلا ہو کر واصل باللہ ہوئے ۔
ماخذ و مراجع:
صوفیائے نقشبند ۔ تذکرۂ اولیاء سندھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-hafiz-hakeem-syed-muhammad-meeran
اسمِ گرامی:
آپ کا اسمِ گرامی سید میراں محمد شاہ اور والدِ ماجد کا اسمِ گرامی حکیم سید محمد شاہ تھا ۔ آپ کا تعلق متعلوی سادات سے تھا ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادتِ باسعادت 12 صفر المظفر 1240ھ میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
اوائلِ عمر میں آپ نے گاؤں" ٹکھڑ " کے ہی علماء اور اساتذہ سے تحصیلِ علم کیا ۔ بِالخصوص علمِ طب میں آپ نے کافی مہارت حاصل کی ۔ آخری عمر میں آپ نے اپنی ذکاوت اور ذہانت کے باعث انگریزی زبان میں بھی اچھی خاصی مہارت حاصل کرلی تھی ۔ اور فارسی زبان میں تو بڑا عبور حاصل تھا ۔
بیعت و خلافت:
ظاہری کمالات کے ساتھ ساتھ باطنی کمالات سے بھی آپ آراستہ تھے، اور اس کی تکمیل کے لئےآپ نے سندھ کے مشہور روحانی سرہندی بزرگ حضرت خواجہ عبد القیوم مجددی رحمۃ اللہ علیہ کا دامن تھاما اور ان کے ہاتھ پر سلسلۂ نقشبندیہ میں بیعت کی ۔
سیرت و خصائص:
سید میراں محمد شاہ رحمۃ اللہ علیہ علمی اور روحانی، ظاہری اور باطنی کے بلند و بالا مقامات پر فائز تھے ۔ آپ اپنے دور کے با کمال حکیم، عالم، حافظِ قرآن اور ولی کامل تھے ۔
انگریزوں کے ابتدائی دور میں سندھ کے جن بڑے بڑے زبان داں علماء، مفکروں ادیبوں نے سندھی زبان کو باقاعدہ مرتب و مدون کیا ان میں سید میراں محمد شاہ کا نام بھی سرِ فہرست ہے ۔
چنانچہ اس زمانہ کے کمشنر کی درخواست پر آپ نے سندھی زبان میں ایک کہانی لکھی، جو آپ ہی کے نام سے اس وقت اشاعت پذیر ہوئی ۔ آپ کی سیرت کا ایک باب آپ کا اپنے مرشد سے والہانہ محبت بھی ہے کہ مرشد کی محبت آپ کے خون میں شامل تھا ۔ مرشد سے محبت کرنے کا ہی یہ ثمر تھا کہ مرشد کے وصال فرمانے کے بعد آپ نے ان کے صاحب زادے سے بھی اسی طرح محبت کی ۔
تاریخِ وصال:
دینی اور دنیوی دولت سے مالامال یہ فقیر پیر کے دن 5 جمادی الاول 1309ھ / بمطابق دسمبر 1891ء میں مغرب کے وقت نمونیہ کے عارضہ میں مبتلا ہو کر واصل باللہ ہوئے ۔
ماخذ و مراجع:
صوفیائے نقشبند ۔ تذکرۂ اولیاء سندھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-hafiz-hakeem-syed-muhammad-meeran
scholars.pk
Hazrat Allama Hafiz Hakeem Syed Muhammad Meeran
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت مولانا مفتی محمد صادق رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
ولادت:
حضرت مولانا مفتی محمد صادق رحمہ اللہ تعالیٰ ۱۳۴۴ھ ؍ ۱۹۲۵ء میں موضع برزائی (ضلع کیمبلپور) میں پیدا ہوئے ۔
قرآن مجید پڑھنے کے بعد آٹھویں جماعت تک سکول میں تعلیم حاصل کی، بعد ازاں اپنے بڑے بھائی سے ابتدائی تعلیم حاصل کی، پھر حضر و ضلع کیمبلپور کے مختلف مدارس میں تعلیم حاصل کی، درس نظامی کی متداول کتب پڑھنے کے بعد ۱۳۶۷ھ ؍ ۱۹۴۷ء میں مغربی پاکستان کی قدیم درس گاہ دار العلوم حزب الاحناف (لاہور) میں درس حدیث لیا اور امتیازی حیثیت سے کامیاب ہوئے ۔
تحصیل علم کے بعد راولپنڈی میں مستقل سکونت اختیارکی اور تبلیغ دین کا کام شروع کیا ۔ ۱۳۸۲ھ ؍ ۱۹۶۲ء میں سراپا اشتیاق و محبت بن کر حجاز مقدس کا سفر کیا اور حرمین شریفین کی حاضری سے شاد کام ہوئے آپ سلسلۂ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں دربار عالیہ گولڑہ شریف کے حلقۂ ارادت میں داخل تھے ۔
مفتی صاحب ہر دلعزیز اور مقبول عام شخصیت تھے، فن خطابت میں ید طولیٰ حاصل تھا اکثر و بیشتر تبلیغی دوروں پر رہا کرتے، دین متین کی تبلیغ اور نشر و اشاعت کے لئے بے پناہ درد رکھتے تھے، راولپنڈی میں جب تنظیم العلماء کے نام سے ایک جماعت قائم کی گئی تو مفتی صاحب نے پر جوش اور سر گرم رکن کی حیثیت سے کام کیا، تنظیم کے تحت ہفتہ وار گراموں میں باقاعد گی سے شریک ہوئے، چونکہ آپ کی قیام گاہ مورگاہ میں تھی اور رات کو اجلاس کے اختتام پر کوئی سواری بھی میسر نہ ہوتی تھی اس لئے پیدل ہی اپنی قیام گاہ پر تشریف لے جاتے ۔ یہ ان کے خلوص و ایثار کی بین دلیل تھی کہ وہ تبلیغ دین کے جذبے کے تحت اپنے آرام و سکون کو پس پشت ڈال دیتے تھے، جب بھی کوئی مجلس مشاورت منعقد ہوتی تو آپ کی یہی کوشش ہوتی کہ غیر متعلقہ باتوں کی بجائے پوری توجہ علماء کی تنظیم اور جماعت کی ترقی و استحکام کے مختلف پہلوئوں پر صرف کی جائے ۔
مفتی صاحب سحر بیان خطیب تھے، جب خطبہ شروع کرتے تو تمام مجمع پر سکوت طاری ہو جاتا اور ہر شخص ان کی تقریر سننے کے لئے ہمہ تن گوش ہو کر بیٹھ جاتا اور جب پر سوز آواز میں مثنوی شریف پڑھتے تو سامعین جھوم اٹھتے اور اکثر لوگوں کی آنکھیں بے اختیار اشکبار ہو جاتیں ۔
وصال:
۱۲؍صفر المظفر،۲۳ مئی (۱۳۸۷ھ؍۱۹۶۷ئ) بروز منگل شام ساڑھے چار بجے مورگاہ اٹک آئل کمپنی سے ایک ضروری دینی کام کے لئے سکوٹر پر سٹلائٹ ٹائون جا رہے تھے کہ راستے میں مری روڈ پر پولیس کی گاڑی سے حادثہ ہو گیا جس میں آپ شدید طور پر زخمی ہو گئے اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے تین بجے شب محبوبِ حقیقی کے دربار میں حاضر ہو گئے، دوسرے دن بوندا باندی کے باوجود شہر بھر کے علماء اور بیس ہزار سے زائد افراد نے نماز جنازہ میں شرکت کی اور مورگاہ کی مسجد میں باچشم نم سپرد خاک کیا ۔ مفتی صاحب نے پسماند میں ایک بیوہ اور چھ بچے چھوڑے [1]
[1] ہفت روزہ (اب ماہنامہ) رضائے مصطفیٰ
( تذکرہ اکابرِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-mufti-muhammad-sadiq
ولادت:
حضرت مولانا مفتی محمد صادق رحمہ اللہ تعالیٰ ۱۳۴۴ھ ؍ ۱۹۲۵ء میں موضع برزائی (ضلع کیمبلپور) میں پیدا ہوئے ۔
قرآن مجید پڑھنے کے بعد آٹھویں جماعت تک سکول میں تعلیم حاصل کی، بعد ازاں اپنے بڑے بھائی سے ابتدائی تعلیم حاصل کی، پھر حضر و ضلع کیمبلپور کے مختلف مدارس میں تعلیم حاصل کی، درس نظامی کی متداول کتب پڑھنے کے بعد ۱۳۶۷ھ ؍ ۱۹۴۷ء میں مغربی پاکستان کی قدیم درس گاہ دار العلوم حزب الاحناف (لاہور) میں درس حدیث لیا اور امتیازی حیثیت سے کامیاب ہوئے ۔
تحصیل علم کے بعد راولپنڈی میں مستقل سکونت اختیارکی اور تبلیغ دین کا کام شروع کیا ۔ ۱۳۸۲ھ ؍ ۱۹۶۲ء میں سراپا اشتیاق و محبت بن کر حجاز مقدس کا سفر کیا اور حرمین شریفین کی حاضری سے شاد کام ہوئے آپ سلسلۂ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں دربار عالیہ گولڑہ شریف کے حلقۂ ارادت میں داخل تھے ۔
مفتی صاحب ہر دلعزیز اور مقبول عام شخصیت تھے، فن خطابت میں ید طولیٰ حاصل تھا اکثر و بیشتر تبلیغی دوروں پر رہا کرتے، دین متین کی تبلیغ اور نشر و اشاعت کے لئے بے پناہ درد رکھتے تھے، راولپنڈی میں جب تنظیم العلماء کے نام سے ایک جماعت قائم کی گئی تو مفتی صاحب نے پر جوش اور سر گرم رکن کی حیثیت سے کام کیا، تنظیم کے تحت ہفتہ وار گراموں میں باقاعد گی سے شریک ہوئے، چونکہ آپ کی قیام گاہ مورگاہ میں تھی اور رات کو اجلاس کے اختتام پر کوئی سواری بھی میسر نہ ہوتی تھی اس لئے پیدل ہی اپنی قیام گاہ پر تشریف لے جاتے ۔ یہ ان کے خلوص و ایثار کی بین دلیل تھی کہ وہ تبلیغ دین کے جذبے کے تحت اپنے آرام و سکون کو پس پشت ڈال دیتے تھے، جب بھی کوئی مجلس مشاورت منعقد ہوتی تو آپ کی یہی کوشش ہوتی کہ غیر متعلقہ باتوں کی بجائے پوری توجہ علماء کی تنظیم اور جماعت کی ترقی و استحکام کے مختلف پہلوئوں پر صرف کی جائے ۔
مفتی صاحب سحر بیان خطیب تھے، جب خطبہ شروع کرتے تو تمام مجمع پر سکوت طاری ہو جاتا اور ہر شخص ان کی تقریر سننے کے لئے ہمہ تن گوش ہو کر بیٹھ جاتا اور جب پر سوز آواز میں مثنوی شریف پڑھتے تو سامعین جھوم اٹھتے اور اکثر لوگوں کی آنکھیں بے اختیار اشکبار ہو جاتیں ۔
وصال:
۱۲؍صفر المظفر،۲۳ مئی (۱۳۸۷ھ؍۱۹۶۷ئ) بروز منگل شام ساڑھے چار بجے مورگاہ اٹک آئل کمپنی سے ایک ضروری دینی کام کے لئے سکوٹر پر سٹلائٹ ٹائون جا رہے تھے کہ راستے میں مری روڈ پر پولیس کی گاڑی سے حادثہ ہو گیا جس میں آپ شدید طور پر زخمی ہو گئے اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے تین بجے شب محبوبِ حقیقی کے دربار میں حاضر ہو گئے، دوسرے دن بوندا باندی کے باوجود شہر بھر کے علماء اور بیس ہزار سے زائد افراد نے نماز جنازہ میں شرکت کی اور مورگاہ کی مسجد میں باچشم نم سپرد خاک کیا ۔ مفتی صاحب نے پسماند میں ایک بیوہ اور چھ بچے چھوڑے [1]
[1] ہفت روزہ (اب ماہنامہ) رضائے مصطفیٰ
( تذکرہ اکابرِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-mufti-muhammad-sadiq
scholars.pk
Hazrat Molana Mufti Muhammad Sadiq
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1