🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
11-02-1445 ᴴ | 29-08-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ #عید_غوثیہ  51  #غوث_الاعظم ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ اِس سلسلے کی پہلی قِسط یہاں ہے↯ https://t.me/islaamic_Knowledge/10175 https://t.me/SirfUrduTahrir/6731
11-02-1445 ᴴ | 29-08-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
نظم ... داڑھی منڈانا چھوڑ دے
یزید پلید فتاوی رضویہ جلد¹⁴
یزید پلید خطبات محرم ص³⁴²
2
Forwarded from Urdu Tahrir (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت شاہ عبد اللطیف بھٹائی

تاریخِ پیدائش:
آپ کی ولادت باسعادت 1102ھ، مطابق 1689ء کو قصبہ " قندر " قریب ہالہ ،سندھ میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے والدِ گرامی سے حاصل کی، دیگر اساتذہ کے ساتھ خصوصاً مولانا میاں نور محمد بھٹو کا نام آتا ہے آپ اپنے استاد کی بڑی قدر کرتے تھے بھٹ شاہ میں اپنے استادِ محترم کو ایک گھر بنواکر دیا تھا ـ

بیعت و خلافت:
شاہ صاحب اپنے والدِ گرامی حضرت سید حبیب شاہ کے دست حق پرست پرسلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت ہوئے ـ

سیرت و خصائص:
آپ کے پاکیزہ نغموں سے سندھ کے گاؤں گاؤں اور گلی کوچے آج بھی گونج رہے ہیں۔ آپ کے کلام کی سب سے بڑی خصوصیّت یہ ہے کہ اُس سے تعلیم یافتہ طبقہ بھی لطف اندوز ہوتا ہے اور ناخواندہ طبقہ بھی ان کے اشعار میں ایک لذّت محسوس کر رہے ہیں۔ آج بھی عورتیں گھروں میں، کسان کھیتوں میں، اور بچے گلیوں میں، صوفیا خانقاہوں میں اور واعظ محافلِ و عظ میں شاہ صاحب کے کلام کو پڑھتے ہیں ۔

تبلیغ کے سلسلے میں آپ روزانہ کئی کئی میل پیدل سفر کرتے اور راستے میں جتنے گاؤں آتے، قافلے ملتے یا کوئی بھی شخص ملتا اُس کو دین کی دعوت دیتے تھے ۔

آپ نے سندھ کا سارا علاقہ پیدل گھوما اور لوگوں میں ایمان کے زر و جواہر لٹائے ۔ آپ کا سفر " سفرِ و سیلۂ ظفر " تھا ۔ عمر بھر آپ کے توسّل سے نیکی اعتماد اور پاکیزگی کی دولت لوگوں میں تقسیم ہوتی رہی ۔ شاہ صاحب نے قرآنی تعلیمات کے فروغ کے لیے جو خدمات انجام دیں وہ سنہری حروف میں لکھنے کے قابل ہیں ۔ سندھی زبان سے آپ نے اسلام کی تبلیغ اور قرآنی تعلیمات کے فروغ و اشاعت کا کام لے کر اس زبان کو غیر معمولی بنا دیا ۔

زبدۃ العارفین قدوۃ السالکین حضرت شاہ عبد اللطیف بھٹائی علیہ الرحمہ مذہباً سنی، مسلکاً حنفی اور مشرباً قادری تھے۔ انسانوں کی ہدایت پر ساری عمر صرف کردی تھی۔ سرکشوں کو اللہ کے قریب کیا، گمراہوں کو راہِ رست پر لگایا بے دینوں کو دین کا فلسفہ سمجھایا، دنیا کی محبت، حرص، لالچ، حسد، کینہ، بغض، وغیرہ جیسی گندی خصلتوں سے مسلمانوں کے من کو صاف کیا۔ بحیثیت انسان شاہ صاحب ایک سادہ طبیعت کے مالک تھے ۔ آپ کی طینت میں حلم، صبر، شکر، قناعت اور منکسرالمزاجی قدرت کی طرف سے ودیعت کردی گئی تھی۔ ہمدردی وایثار، بے لوث روادرای، مشفقانہ رحمدلی اور متعدد اوصافِ حسنہ کے مالک تھے ۔

قرآن وسنت پر خود سختی سے عمل پیرا رہتے تھے اور مسلمانوں کو اس پرعمل کی تلقین کرتے تھے ۔ شاہ صاحب ظاہری عبادت کو لازمی سمجھتے تھے اور اسے ہی قربِ خداوندی کاذریعہ سمجھتے تھے ۔ اپنے مریدین و متوسلین کو کم کھانا ،کم سونا، خود غرضی سے بچنے اور دوسروں ہمدردی، راضی برضا رہنے اور ذکروفکر میں مشغول رہنے کی تلقین کرتے تھے۔ ہر قسم کی نشہ آور اور حرام چیزوں سے سختی سے منع کرتے تھے ۔ مسلمانوں کی بقاء رسول اللہ ﷺ کی اطاعت میں ہے۔ سرورِ عالم ﷺ کی محبت مسلمانوں کا سرمایۂ حیات ہے۔ آپ نے اپنی شاعری کے ذریعے اللہ جل شانہ کی محبت کا درس دیا ہے۔آپ کے دیوان کا نام " شاہ جو رسالو " ہے ۔ جو مقبولِ عام و خاص ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-abdul-latif-bhitai

وصال:
آپ کا وصال 14 صفرالمظفر 1165ھ مطابق دسمبر 1752ء کو 63 سال کی عمر میں ہوا ۔ آپ کامزار "بھٹ شاہ" سندھ پاکستان میں مرجعِ خلائق ہے ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ اولیاءِ سندھ
حیات شاہ عبد اللطیف بھٹائی
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت مولانا شاہ عبد الرحیم
محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

مولوی عبد الرحیم دہلوی ، عمری (فاروقی) نسب، حنفی، نقشبندی مشرب، جامع علوم عقلی و نقلی، حاوی علوم اصلی و فرعی عظیم محدّث تھے ۔

صاحبزادے:
ان کے دو نامور بیٹے مولانا شاہ ولی اللہ دہلوی اور مولانا شاہ اہل اللہ دہلوی ہوئے۔

ایں خانہ تمام آفتاب است

وصال:
۱۲ صفر ۱۱۳۱ھ / ۱۷۱۸ء میں وقت چاشت انتقال ہوا ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-abdul-rahim-muhaddith-dehlvi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
سید میراں محمد شاہ ٹکھڑائی رحمۃ اللہ علیہ

اسمِ گرامی:
آپ کا اسمِ گرامی سید میراں محمد شاہ اور والدِ ماجد کا اسمِ گرامی حکیم سید محمد شاہ تھا ۔ آپ کا تعلق متعلوی سادات سے تھا ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادتِ باسعادت 12 صفر المظفر 1240ھ میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
اوائلِ عمر میں آپ نے گاؤں" ٹکھڑ " کے ہی علماء اور اساتذہ سے تحصیلِ علم کیا ۔ بِالخصوص علمِ طب میں آپ نے کافی مہارت حاصل کی ۔ آخری عمر میں آپ نے اپنی ذکاوت اور ذہانت کے باعث انگریزی زبان میں بھی اچھی خاصی مہارت حاصل کرلی تھی ۔ اور فارسی زبان میں تو بڑا عبور حاصل تھا ۔

بیعت و خلافت:
ظاہری کمالات کے ساتھ ساتھ باطنی کمالات سے بھی آپ آراستہ تھے، اور اس کی تکمیل کے لئےآپ نے سندھ کے مشہور روحانی سرہندی بزرگ حضرت خواجہ عبد القیوم مجددی رحمۃ اللہ علیہ کا دامن تھاما اور ان کے ہاتھ پر سلسلۂ نقشبندیہ میں بیعت کی ۔

سیرت و خصائص:
سید میراں محمد شاہ رحمۃ اللہ علیہ علمی اور روحانی، ظاہری اور باطنی کے بلند و بالا مقامات پر فائز تھے ۔ آپ اپنے دور کے با کمال حکیم، عالم، حافظِ قرآن اور ولی کامل تھے ۔

انگریزوں کے ابتدائی دور میں سندھ کے جن بڑے بڑے زبان داں علماء، مفکروں ادیبوں نے سندھی زبان کو باقاعدہ مرتب و مدون کیا ان میں سید میراں محمد شاہ کا نام بھی سرِ فہرست ہے ۔

چنانچہ اس زمانہ کے کمشنر کی درخواست پر آپ نے سندھی زبان میں ایک کہانی لکھی، جو آپ ہی کے نام سے اس وقت اشاعت پذیر ہوئی ۔ آپ کی سیرت کا ایک باب آپ کا اپنے مرشد سے والہانہ محبت بھی ہے کہ مرشد کی محبت آپ کے خون میں شامل تھا ۔ مرشد سے محبت کرنے کا ہی یہ ثمر تھا کہ مرشد کے وصال فرمانے کے بعد آپ نے ان کے صاحب زادے سے بھی اسی طرح محبت کی ۔

تاریخِ وصال:
دینی اور دنیوی دولت سے مالامال یہ فقیر پیر کے دن 5 جمادی الاول 1309ھ / بمطابق دسمبر 1891ء میں مغرب کے وقت نمونیہ کے عارضہ میں مبتلا ہو کر واصل باللہ ہوئے ۔

ماخذ و مراجع:
صوفیائے نقشبند ۔ تذکرۂ اولیاء سندھ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-hafiz-hakeem-syed-muhammad-meeran
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1