حضرت قاسم انوار رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
وطن:
آپ آذر بایٔجان کے رہنے والے تھے ۔
مولَد تبریز تھا ابتدائی عمر میں شیخ صدر الدین اُرد بیلی قدس سرہٗ سے بیعت ہوئے پھر شیخ اوحدالدین کرمانی کے خلیفہ شیخ صدر الدین یمینی کے مرید ہوئے ۔
حضرت خواجہ بہاء الدین نقشبند سے فیض حاصل کیا ۔ آپ کا دیوان حقائق و معرفت کے اشعار سے مالا مال ہے آپ نے ۸۳۷ھ میں وصال پایا مزار پُر انوار خر خر جام میں ہے ۔
جناب شیخ قاسم نیرّ نور
خرد از بہر سال انتقالش
چو شد در خلد آں مرحوم مغفور
بگفتا شاہ سیّد قاسمِ نور
( خزینۃ الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-qasim-anwar
وطن:
آپ آذر بایٔجان کے رہنے والے تھے ۔
مولَد تبریز تھا ابتدائی عمر میں شیخ صدر الدین اُرد بیلی قدس سرہٗ سے بیعت ہوئے پھر شیخ اوحدالدین کرمانی کے خلیفہ شیخ صدر الدین یمینی کے مرید ہوئے ۔
حضرت خواجہ بہاء الدین نقشبند سے فیض حاصل کیا ۔ آپ کا دیوان حقائق و معرفت کے اشعار سے مالا مال ہے آپ نے ۸۳۷ھ میں وصال پایا مزار پُر انوار خر خر جام میں ہے ۔
جناب شیخ قاسم نیرّ نور
خرد از بہر سال انتقالش
چو شد در خلد آں مرحوم مغفور
بگفتا شاہ سیّد قاسمِ نور
( خزینۃ الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-qasim-anwar
scholars.pk
Hazrat Qasim Anwar
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
شیخ القرآن علامہ غلام علی اشرفی اوکاڑوی
تاریخ و مقامِ ولادت:
1229ھ / 1920ء میں موضع ببانیاں، نزد دلالہ موسیٰ ضلع گجرات میں علم دوست، دینی شعور رکھنے والے گوجر گھرانے میں ہوئی ـ
تحصیلِ علم:
دینی تعلیم کے لیے قریبی گاؤں عمر چک کے یگانہ روزگار فاضل مولانا سلام اللہ کے درس میں شامل ہوئے۔ فارسی، ادب اسی درس سے حاصل کیا اور عربی تعلیم کے لیے جالندھر کے دارلعلوم عربیہ کریمیہ حنفیہ میں داخل ہوئے جہاں استاذ العلماء مولانا عبد الجلیل ہزاروی کے علاوہ مولانا عبد القادر کشمیری اور حافظ عبد المجید گور داسپوری بھی پڑھاتے تھے۔ اس دار العلوم میں علوم کی تکمیل کر کے 1939ء میں فراغت حاصل کی۔
سیرت وخصائص:
حضرت شیخ الاسلام شیخ القرآن علامہ غلام علی اشرفی اوکاڑوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک جلیل قدر عالم، عالمِ طریقت، مرجع خلائق اور وسیع الظرف شخصیت کے حامل تھے۔
》آپ ایک بہترین مدرس، شفیق استاد اور طالب علم کی ذہنی سطح پر اتر کر سمجھانے والے اساتذہ میں سے تھے۔
》آپ نے اپنے حلقۂ درس سے کئی علماء پیدا فرمائے، جنہوں دنیاکے کونے کونے میں جاکر لوگوں کی شرعی، روحانی اور اخلاقی رہنمائی کیں۔
》جالندھر اور ہوشیار پور کے وہ عقیدت مند جو آپ کی زمانہ طالبِ علمی کی تقاریر سُن چکے تھے تقسیم ملک کے بعد اوکاڑہ میں آباد ہوئے اور آپ گجرات سے اوکاڑہ آ گئے۔
》آپ 1951ء میں اوکاڑہ پہنچے جامع مسجد کے خطیب اور برلاہائی ا سکول کے شعبۂ اسلامیات کے مدرس مقرر ہوئے۔
》تھوڑے ہی عرصہ میں آپ نے اہل سنت و جماعت کے عظیم الشان دار العلوم اشرف المدارس کی بنیاد رکھی اس دار العلوم کی ترقی و توسیع کے لیے آپ نے شب و روز محنت کی اور سینکڑوں طلباء کو تیار کر کے ملک کے اطراف و اکناف میں تبلیغِ دین کے لیے بھیجا۔
》آپ رمضان المبارک میں قرآن پاک کی تفسیر بھی پڑھاتے ہیں جس میں کثیر تعداد میں ذوقِ قرآن رکھنے والے حضرات شریک ہوتے ہیں۔
》علاوہ ازیں آپ ملک کے مختلف حصوں میں تبلیغی دورے بھی فرماتے ہیں آپ کی تقریر علمی اور تحقیقی ہوتی ہے۔
》مسلکِ اہل سنت کی ترقی اور بدعات و بد عقیدگی کے خاتمہ کے لیے ہمہ تن مصروف رہتے ہیں۔
》جب آپ حج پر تشریف لے گئے تو *شیخ المشائخ علامہ ضیاء الدین احمد مدنی قادری* خلیفہ اعلیٰ حضرت مولانا الشاہ احمد رضا خان بریلوی (مدینہ منورہ) سے سندِ اجازتِ حدیث و طریقت حاصل کی۔
》آپ نے جماعتِ اہل سنت قائم کی اور خالص اعتقادی و نظریاتی بنیادوں پر کام کرتے رہے آزاد کشمیر کے صدر (سابق) مجاہدِ آزادی کشمیر سردار عبدالقیوم سے مل کر قادیانیوں کے خلاف بِل پاس کروایا اور پھر اسلامی قوانین کی دفعات کی تدوین میں مدد کی۔
》1953ء اور 1974ء ہردو تحاریکِ ختمِ نبوّت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور ملک کے گوشے گوشے میں تحفظ ختمِ نبوّت کے مفہوم اور قادیانیوں کی سازش سے عوام کو آگاہ کیا۔
》آپ جمعیت علماء پاکستان صوبۂ پنجاب کے صدر, متحدہ جمہوری محاذ یو۔ڈی۔ ایف پنجاب کے صدر رہ چکے ہیں۔
》1971ء کے انتخاب میں اکاڑہ اور لاہور شہر سے صوبائی اسمبلی کے لیے قومی اتحاد کے ٹکٹ پر انتخابات میں شریک ہوئے۔
》14 مارچ 1977ء کو ملک بھر میں شروع ہونے والی تحریک نظامِ مصطفےٰ میں علامہ شاہ احمد نورانی کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے آپ نے حضرت داتا گنج بخش رحمہ اللہ کے دربار سے گرفتاری پیش کی۔
》رہا ہونے کے بعد ضلع کچہری میں وکلا سے خطاب کیا اور دربار حضرت داتا گنج بخش رحمہ اللہ پر حاضری دی۔
》چند دن بعد دوبارہ آپ کو قومی اتحاد کے مرکزی دفتر سے دوسرے راہنماؤں کے ہمراہ گرفتار کرلیا گیا اور بعد میں ہائی کورٹ کے فیصلے پر رہا کیا گیا۔
》اکتوبر 1977ء کے انتخاب جو بعد میں ملتوی ہو گئے کے لیے آپ قومی اتحاد پاکستان کے ٹکٹ پر لاہور حلقہ نمبر ۳ کے امیدوار تھے ۔
》1397ھ میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو حج بیت اللہ اور مدینۃ الرسول کی زیارت سے مشرف فرمایا ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-ghulam-ali-ashrafi-okarvi
تاریخِ وصال:
11 صفر المظفر 1421 ھ
ماخذ و مراجع:
تعارف علماءِ اہلسنت ـ
تاریخ و مقامِ ولادت:
1229ھ / 1920ء میں موضع ببانیاں، نزد دلالہ موسیٰ ضلع گجرات میں علم دوست، دینی شعور رکھنے والے گوجر گھرانے میں ہوئی ـ
تحصیلِ علم:
دینی تعلیم کے لیے قریبی گاؤں عمر چک کے یگانہ روزگار فاضل مولانا سلام اللہ کے درس میں شامل ہوئے۔ فارسی، ادب اسی درس سے حاصل کیا اور عربی تعلیم کے لیے جالندھر کے دارلعلوم عربیہ کریمیہ حنفیہ میں داخل ہوئے جہاں استاذ العلماء مولانا عبد الجلیل ہزاروی کے علاوہ مولانا عبد القادر کشمیری اور حافظ عبد المجید گور داسپوری بھی پڑھاتے تھے۔ اس دار العلوم میں علوم کی تکمیل کر کے 1939ء میں فراغت حاصل کی۔
سیرت وخصائص:
حضرت شیخ الاسلام شیخ القرآن علامہ غلام علی اشرفی اوکاڑوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک جلیل قدر عالم، عالمِ طریقت، مرجع خلائق اور وسیع الظرف شخصیت کے حامل تھے۔
》آپ ایک بہترین مدرس، شفیق استاد اور طالب علم کی ذہنی سطح پر اتر کر سمجھانے والے اساتذہ میں سے تھے۔
》آپ نے اپنے حلقۂ درس سے کئی علماء پیدا فرمائے، جنہوں دنیاکے کونے کونے میں جاکر لوگوں کی شرعی، روحانی اور اخلاقی رہنمائی کیں۔
》جالندھر اور ہوشیار پور کے وہ عقیدت مند جو آپ کی زمانہ طالبِ علمی کی تقاریر سُن چکے تھے تقسیم ملک کے بعد اوکاڑہ میں آباد ہوئے اور آپ گجرات سے اوکاڑہ آ گئے۔
》آپ 1951ء میں اوکاڑہ پہنچے جامع مسجد کے خطیب اور برلاہائی ا سکول کے شعبۂ اسلامیات کے مدرس مقرر ہوئے۔
》تھوڑے ہی عرصہ میں آپ نے اہل سنت و جماعت کے عظیم الشان دار العلوم اشرف المدارس کی بنیاد رکھی اس دار العلوم کی ترقی و توسیع کے لیے آپ نے شب و روز محنت کی اور سینکڑوں طلباء کو تیار کر کے ملک کے اطراف و اکناف میں تبلیغِ دین کے لیے بھیجا۔
》آپ رمضان المبارک میں قرآن پاک کی تفسیر بھی پڑھاتے ہیں جس میں کثیر تعداد میں ذوقِ قرآن رکھنے والے حضرات شریک ہوتے ہیں۔
》علاوہ ازیں آپ ملک کے مختلف حصوں میں تبلیغی دورے بھی فرماتے ہیں آپ کی تقریر علمی اور تحقیقی ہوتی ہے۔
》مسلکِ اہل سنت کی ترقی اور بدعات و بد عقیدگی کے خاتمہ کے لیے ہمہ تن مصروف رہتے ہیں۔
》جب آپ حج پر تشریف لے گئے تو *شیخ المشائخ علامہ ضیاء الدین احمد مدنی قادری* خلیفہ اعلیٰ حضرت مولانا الشاہ احمد رضا خان بریلوی (مدینہ منورہ) سے سندِ اجازتِ حدیث و طریقت حاصل کی۔
》آپ نے جماعتِ اہل سنت قائم کی اور خالص اعتقادی و نظریاتی بنیادوں پر کام کرتے رہے آزاد کشمیر کے صدر (سابق) مجاہدِ آزادی کشمیر سردار عبدالقیوم سے مل کر قادیانیوں کے خلاف بِل پاس کروایا اور پھر اسلامی قوانین کی دفعات کی تدوین میں مدد کی۔
》1953ء اور 1974ء ہردو تحاریکِ ختمِ نبوّت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور ملک کے گوشے گوشے میں تحفظ ختمِ نبوّت کے مفہوم اور قادیانیوں کی سازش سے عوام کو آگاہ کیا۔
》آپ جمعیت علماء پاکستان صوبۂ پنجاب کے صدر, متحدہ جمہوری محاذ یو۔ڈی۔ ایف پنجاب کے صدر رہ چکے ہیں۔
》1971ء کے انتخاب میں اکاڑہ اور لاہور شہر سے صوبائی اسمبلی کے لیے قومی اتحاد کے ٹکٹ پر انتخابات میں شریک ہوئے۔
》14 مارچ 1977ء کو ملک بھر میں شروع ہونے والی تحریک نظامِ مصطفےٰ میں علامہ شاہ احمد نورانی کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے آپ نے حضرت داتا گنج بخش رحمہ اللہ کے دربار سے گرفتاری پیش کی۔
》رہا ہونے کے بعد ضلع کچہری میں وکلا سے خطاب کیا اور دربار حضرت داتا گنج بخش رحمہ اللہ پر حاضری دی۔
》چند دن بعد دوبارہ آپ کو قومی اتحاد کے مرکزی دفتر سے دوسرے راہنماؤں کے ہمراہ گرفتار کرلیا گیا اور بعد میں ہائی کورٹ کے فیصلے پر رہا کیا گیا۔
》اکتوبر 1977ء کے انتخاب جو بعد میں ملتوی ہو گئے کے لیے آپ قومی اتحاد پاکستان کے ٹکٹ پر لاہور حلقہ نمبر ۳ کے امیدوار تھے ۔
》1397ھ میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو حج بیت اللہ اور مدینۃ الرسول کی زیارت سے مشرف فرمایا ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-ghulam-ali-ashrafi-okarvi
تاریخِ وصال:
11 صفر المظفر 1421 ھ
ماخذ و مراجع:
تعارف علماءِ اہلسنت ـ
scholars.pk
Hazrat Allama Ghulam Ali Ashrafi Okarvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
Sheikh-ul-Islam Sheik-ul-Quran Hazrat Allama Ghulam Ali Ashrafi Okarvi
❤1
مفسر اعظم ہند حضرت علامہ ابراہیم رضا خاں، جیلانی میاں بن حجۃ الاسلام علامہ حامد رضا خاں بن اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی علیہم الرحمہ ـ
نام و نسب:
محمد ابراہیم تھا اور جیلانی میاں کے نام سے معروف ہوئے ۔ آپ حجۃ الاسلام کے فرزندِ اکبر تھے۔اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا فاضل بریلوی کے پوتے تھے (رحمۃ اللہ علیہم اجمعین) ـ
سیرت و خصائص:
مفسرِ اعظم ہند حضرت علامہ محمد ابراہیم رضا خاں عرف جیلانی میاں رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ محسن اہلسنت، علم وعمل کے پیکر، عوام و خواص کے مرجع اور مظہرِ اعلیٰ حضرت اور حجۃ الاسلام تھے ۔
والد ماجد کی رحلت کے بعد تاحیات مدرسہ منظر اسلام کے مہتمم اور شیخ الحدیث رہے اوراس خوش اسلوبی کے ساتھ آپ نے مدرسہ کے انتظامات سنبھالے کہ علمائے کرام یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ"ایسا نرالا مہتمم میری نگاہوں نے نہیں دیکھا"
طلبہ پر بہت شفیق تھے، حُسن صورت کے ساتھ حُسن عمل سے بھی سرفراز تھے، علم کلام سے شغف تھا،اصلاح عقائد پر زور دیتے، درود پاک کا بکثرت وِرد فرماتے، قدرت نے زبان میں خاص اثر ودیعت فرمایا تھا۔
تقریر میں سوز و گداز تھا:
منظرِ اسلام ان کے آباؤ اجداد کا شجرِ سدا بہار تھا ۔ اس کی آبیاری اور گل و گنچہ و جڑ وبتی و شاخ کے سنوارنے میں زندگی بھر مصروف رہے ۔
اس راہ میں بڑے صبر آزما مصائب سے آپ کو گذرنا پڑا یہاں تک کہ مدرسین کی بروقت تنخواہ کے لئے گھر کے زیورات تک رہن رکھ دیتے ۔
درس وتدریس میں آپ کا انہماک ایسا تھا کہ آپ الفاظ کو چھوڑ کر معانی، قال کو چھوڑ کر حال کی طرف چلے جاتے ۔
آپ کی تقریر سے طلباء بہت لذت محسوس کرتے اورجھوم اٹھتے ۔
مسلکِ اہلسنت کی اشاعت میں مسلسل کوشش فرماتے ۔ خود ہندوستان گیر دورہ فرماتے، اپنے تلامذہ اور مریدین کو دور دراز مقامات میں روانہ کرتے ۔ صوبہ بہار (جو حامدی صوبہ ہے) کے شہروں اور گاؤں میں تشریف لے جاتے ۔
نیپال کے اتار چڑھاؤ میں بھی آپ کا سفر وسیلۂ ظفر جاری رہتا ۔
آپ جہاں بھی جاتے رضا کی زبان ہوتے، حق آپ کا ہمرکاب اور باطل سرنگوں اور خراب ہوتا ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-muhammad-ibrahim-raza-khan-jilani
تاریخِ وصال:
11 صفر المظفر 1385ھ / بمطابق مئی 1965ھ وصال ہوا ـ والد کے پہلو میں مدفن ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرۂ علماء اہلسنت ۔
تذکرۂ جمیل ـ
نام و نسب:
محمد ابراہیم تھا اور جیلانی میاں کے نام سے معروف ہوئے ۔ آپ حجۃ الاسلام کے فرزندِ اکبر تھے۔اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا فاضل بریلوی کے پوتے تھے (رحمۃ اللہ علیہم اجمعین) ـ
سیرت و خصائص:
مفسرِ اعظم ہند حضرت علامہ محمد ابراہیم رضا خاں عرف جیلانی میاں رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ محسن اہلسنت، علم وعمل کے پیکر، عوام و خواص کے مرجع اور مظہرِ اعلیٰ حضرت اور حجۃ الاسلام تھے ۔
والد ماجد کی رحلت کے بعد تاحیات مدرسہ منظر اسلام کے مہتمم اور شیخ الحدیث رہے اوراس خوش اسلوبی کے ساتھ آپ نے مدرسہ کے انتظامات سنبھالے کہ علمائے کرام یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ"ایسا نرالا مہتمم میری نگاہوں نے نہیں دیکھا"
طلبہ پر بہت شفیق تھے، حُسن صورت کے ساتھ حُسن عمل سے بھی سرفراز تھے، علم کلام سے شغف تھا،اصلاح عقائد پر زور دیتے، درود پاک کا بکثرت وِرد فرماتے، قدرت نے زبان میں خاص اثر ودیعت فرمایا تھا۔
تقریر میں سوز و گداز تھا:
منظرِ اسلام ان کے آباؤ اجداد کا شجرِ سدا بہار تھا ۔ اس کی آبیاری اور گل و گنچہ و جڑ وبتی و شاخ کے سنوارنے میں زندگی بھر مصروف رہے ۔
اس راہ میں بڑے صبر آزما مصائب سے آپ کو گذرنا پڑا یہاں تک کہ مدرسین کی بروقت تنخواہ کے لئے گھر کے زیورات تک رہن رکھ دیتے ۔
درس وتدریس میں آپ کا انہماک ایسا تھا کہ آپ الفاظ کو چھوڑ کر معانی، قال کو چھوڑ کر حال کی طرف چلے جاتے ۔
آپ کی تقریر سے طلباء بہت لذت محسوس کرتے اورجھوم اٹھتے ۔
مسلکِ اہلسنت کی اشاعت میں مسلسل کوشش فرماتے ۔ خود ہندوستان گیر دورہ فرماتے، اپنے تلامذہ اور مریدین کو دور دراز مقامات میں روانہ کرتے ۔ صوبہ بہار (جو حامدی صوبہ ہے) کے شہروں اور گاؤں میں تشریف لے جاتے ۔
نیپال کے اتار چڑھاؤ میں بھی آپ کا سفر وسیلۂ ظفر جاری رہتا ۔
آپ جہاں بھی جاتے رضا کی زبان ہوتے، حق آپ کا ہمرکاب اور باطل سرنگوں اور خراب ہوتا ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-muhammad-ibrahim-raza-khan-jilani
تاریخِ وصال:
11 صفر المظفر 1385ھ / بمطابق مئی 1965ھ وصال ہوا ـ والد کے پہلو میں مدفن ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرۂ علماء اہلسنت ۔
تذکرۂ جمیل ـ
scholars.pk
Hazrat Allama Muhammad Ibrahim Raza Khan Jilani
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
خلیفۂ قطب مدینہ، فخر العلماء، شیخ القرآن، حضرت علامہ مفتی ابو الفضل غلام علی اوکاڑوی قادری برکاتی رضوی اشرفی رضی اللہ عنہ کی ولادت 20 رمضان المبارک 1337ھ بروز جمعہ گجرات، پنجاب، پاکستان میں ہوئی۔ آپ تلمیذ و خلیفہ شاہ ابو البرکات، استاذ العلماء، بہترین مدرس، کئی رسائل کے مصنف، بانی جامعہ حنفیہ اشرف المدارس اور اکابرین اہل سنت سے ہیں۔ 11 صفر 1421ھ بروز منگل وصال فرمایا۔ مزار شریف آپ کے قائم کردہ جامعہ حنفیہ اشرف المدارس اوکاڑہ، پنجاب، پاکستان میں ہے۔ (اشرف الرسائل فی تحقیق المسائل، انوار قطب مدینہ)
Khalifah of Qutb-e-Madinah, Pride of Ulama, Shaykh al-Quran, Allamah Mufti Ghulam Ali Okarvi Qadiri Barakati Ridawi Ashrafi (RadiyAllahu Anhu) was born on Friday, 20 Ramadan 1337 AH in Gujrat, Punjab, Pakistan. He was a disciple and caliph of Shah Abu al-Barakaat, teacher of scholars, excellent educator, author of many booklets, founder of Jami’ah Hanafiyyah Ashraf al-Madaaris, and one of the great leaders of Ahl as-Sunnah. He passed away on Tuesday, 11th Safar 1421 AH. His blessed resting place is located in Jami’ah Hanafiyyah Ashraf al-Madaaris, which he established himself, in Okara, Punjab, Pakistan. [Ashraf al-Rasa’il fi Tahqeeq al-Masa’il, Anwaar-e-Qutb-e-Madinah]
https://www.facebook.com/100050689590519/posts/pfbid0FtY3GZhEcmjgqrUuQzwy7takCLfeRQCxfZkUazDr5zQsoet6Nm2cDe3ZLjZYHd5bl/
Khalifah of Qutb-e-Madinah, Pride of Ulama, Shaykh al-Quran, Allamah Mufti Ghulam Ali Okarvi Qadiri Barakati Ridawi Ashrafi (RadiyAllahu Anhu) was born on Friday, 20 Ramadan 1337 AH in Gujrat, Punjab, Pakistan. He was a disciple and caliph of Shah Abu al-Barakaat, teacher of scholars, excellent educator, author of many booklets, founder of Jami’ah Hanafiyyah Ashraf al-Madaaris, and one of the great leaders of Ahl as-Sunnah. He passed away on Tuesday, 11th Safar 1421 AH. His blessed resting place is located in Jami’ah Hanafiyyah Ashraf al-Madaaris, which he established himself, in Okara, Punjab, Pakistan. [Ashraf al-Rasa’il fi Tahqeeq al-Masa’il, Anwaar-e-Qutb-e-Madinah]
https://www.facebook.com/100050689590519/posts/pfbid0FtY3GZhEcmjgqrUuQzwy7takCLfeRQCxfZkUazDr5zQsoet6Nm2cDe3ZLjZYHd5bl/
❤1
والد تاج الشریعہ، نبیرہ و مرید و خلیفۂ اعلی حضرت، مفسر اعظم، حضرت علامہ مولانا محمد ابراہیم رضا خان جیلانی میاں قادری رضوی رحمة الله تعالی علیه کی ولادت 10 ربیع الآخر 1325ھ کو بریلی شریف، اترپردیش، ہندستان میں ہوئی۔ آپ محسن اہلسنت، ماہر علوم نقلیہ و عقلیہ، علم و عمل کے پیکر، مہتمم و شیخ الحدیث دار العلوم منظرم اسلام، عوام و خواص کے مرجع اور مظہر اعلی حضرت و حجۃ الاسلام تھے۔ مسلک اہلسنت کی اشاعت میں مسلسل کوشش فرماتے، جہاں بھی جاتے اعلی حضرت کی زبان ہوتے، حق آپ کا ہمرکاب اور باطل سرنگوں اور خراب ہوتا۔ 11 صفر المظفر 1385ھ بروز ہفتہ علی الصباح 7 بجے وصال فرمایا۔ بحر العلوم مفتی سید محمد افضل حسین رضوی نے نماز جنازہ پڑھائی اور بریلی شریف میں روضۂ اعلی حضرت کے دائیں جانب آرام فرما ہوئے۔ (تذکرہ علمائے اہلسنت، حیات مفسر اعظم، تجلیات خلفائے اعلی حضرت، مفتی اعظم اور ان کے خلفاء)
Father of Taajush Shari’ah; Grandson, Murid, and Khalifah of AlaHazrat; Mufassir-e-Azam, Allamah Muhammad Ibrahim Raza Khan Jilani Miyan Qadiri Ridawi (RadiyAllahu Anhu) was born on the 10th of Rabi’ al-Aakhir 1325 AH. He was a benefactor of Ahl as-Sunnah, an expert in traditional and rational sciences, an epitome of knowledge and piety, administrator, and Shaykh al-Hadith of Dar al-Uloom Manzar-e-Islam; the focal personality of scholars and laymen, and the manifestation of AlaHazrat and Hujjat al-Islam. He worked tirelessly for the propagation Ahl as-Sunnah. Wherever he went, he was the tongue and representative of AlaHazrat, the truth would always side with him, and falsehood would be undermined and defeated. He left this mundane world on Saturday, the 11th of Safar 1385 AH at 07:00 am. Mufti Sayyid Afzal Husayn Ridawi led his funeral prayers and was laid to rest on the right side of AlaHazrat’s blessed resting place in Bareilly Sharif. [Tazkirah Ulama-e-AhleSunnat, Hayat-e-Mufassir-e-Azam, Tajalliyaat-e-Khulafa-e-AlaHazrat, Mufti-e-Azam Aur Unke Khulafa]
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid036JDaKjGxdy8wGwm8YPBCyMM1VsxNRntodmf4MFtujUGArkbkpz6SzU3sFPvHg9Frl&id=100050689590519
Father of Taajush Shari’ah; Grandson, Murid, and Khalifah of AlaHazrat; Mufassir-e-Azam, Allamah Muhammad Ibrahim Raza Khan Jilani Miyan Qadiri Ridawi (RadiyAllahu Anhu) was born on the 10th of Rabi’ al-Aakhir 1325 AH. He was a benefactor of Ahl as-Sunnah, an expert in traditional and rational sciences, an epitome of knowledge and piety, administrator, and Shaykh al-Hadith of Dar al-Uloom Manzar-e-Islam; the focal personality of scholars and laymen, and the manifestation of AlaHazrat and Hujjat al-Islam. He worked tirelessly for the propagation Ahl as-Sunnah. Wherever he went, he was the tongue and representative of AlaHazrat, the truth would always side with him, and falsehood would be undermined and defeated. He left this mundane world on Saturday, the 11th of Safar 1385 AH at 07:00 am. Mufti Sayyid Afzal Husayn Ridawi led his funeral prayers and was laid to rest on the right side of AlaHazrat’s blessed resting place in Bareilly Sharif. [Tazkirah Ulama-e-AhleSunnat, Hayat-e-Mufassir-e-Azam, Tajalliyaat-e-Khulafa-e-AlaHazrat, Mufti-e-Azam Aur Unke Khulafa]
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid036JDaKjGxdy8wGwm8YPBCyMM1VsxNRntodmf4MFtujUGArkbkpz6SzU3sFPvHg9Frl&id=100050689590519
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
10-02-1445 ᴴ | 28-08-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
11-02-1445 ᴴ | 29-08-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1