Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
10-02-1445 ᴴ | 28-08-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ #فیضان_اعلی_حضرت قسط 81
10-02-1445 ᴴ | 28-08-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#فیضان_اعلی_حضرت قسط 82
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
اِس سلسلے کی پہلی قِسط یہاں ہے↯
https://t.me/islaamic_Knowledge/7170
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#فیضان_اعلی_حضرت قسط 82
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
اِس سلسلے کی پہلی قِسط یہاں ہے↯
https://t.me/islaamic_Knowledge/7170
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
شیخ ابو عبد اللہ احمد بن یحییٰ بغدادی رحمۃ اللہ علیہ
آپ مشائخ صوفیاء کے امام اور سردار ہیں ۔ بغداد سے شام منتقل ہو گئے تھے اور پھر وہیں رہائش پذیر ہو گئے ۔
حافظ ابو نعیم فرماتے ہیں! ابو عبد اللہ احمد بن یحیٰی بغدادی رملہ میں رہائش رکھتے تھے حضرت ذوالنون اور ابو تراب علیہما الرحمہ کے مصاحبین میں سے تھے اور آپ کے والد شیخ یحییٰ رحمہ اللہ علیہ آئمہ کبار میں سے تھے۔ اور آپ بہت ہی لطیف نکات بیان کرتے تھے ۔
عبد العزیز بن علی الوراق فرماتے ہیں! میں نے سنا علی بن عبد اللہ بن حسن ھمدانی سےوہ فرماتے ہیں میں نے محمد بن داؤد سے سناآپ فرماتے تھے ! میری آنکھوں نے آپ جیسا عراق ،حجاز ، کوہستان اور شام میں نہیں دیکھا ۔
محمد بن حسین نیشاپوری نے فرمایا!دنیا میں صوفیا کے صرف تین آئمہ ہوئے ہیں ۔
۱۔ابو عثمان رحمۃ اللہ علیہ نیشاپور میں ۔
۲ ۔ اور جنید رحمۃ اللہ علیہ بغداد میں ۔
۳ ۔ اور ابوعبد اللہ رحمۃ اللہ علیہ شام میں ۔
اقوال:
(۱) جس شخص کی نظر میں تعریف اور برائی (یعنی وہ کسی کے تعریف کرنے سے خوش نہ ہوتا ہو اور برائی کرنے سے ناراض نہ ہوتا ہو) برابر ہو وہ زاہد ہے ۔ اور جو شخص اول وقت میں فرائض ادا کرے اور پابندی کرے تو وہ شخص عابد ہے ۔ اور جو شخص اپنے تمام افعال میں فاعلِ حقیقی صرف اللہ تعالیٰ کو جانے وہ موحّد ہے ۔
(۲) تیرا (ہر وقت) روزی کے چکرمیں پڑے رہنا تجھے حق (اللہ تعالیٰ) سے دور اورخَلق (مخلوق) کا محتاج کر دےگا ۔
(۳) محمد بن حصن بن علی یقطینی کا قول ہے: میرے سامنے ابو عبد اللہ سے سوال کیا گیا کہ کچھ لوگ توکل اختیار کر کے بلازادِ راہ صحراء کی طرف نکل جاتے ہیں لیکن ان کا انجام موت ہوتا ہے۔ انہوں نے فرمایا یہ اہل حق کا فعل ہے ۔
(۴) محمد بن حسن بن موسیٰ، ابو حسین فارسی۔ کے سلسلۂ سند سے احمد بن علی کا قول مروی ہے:میرے سامنے ابو عبد اللہ جلاء سے حق کے بارے یں سوال کیا گیا؟فرمایا جب حق ایک ہے ایک ہی ذات سے اسے طلب کرنا ضروری ہے۔نیز فرمایا:مریدین کے ارادوں کا رخ بارے میں سوال کیا گیا ؟فرمایا جب حق ایک ہے تو ایک ہی ذات سے اسے طلب کرنا ضروری ہے ۔ نیز فرمایا :فرمایا :مریدین کے ارادوں کا رخ طلب طریق کی طرف ہوگیا جسکی وجہ سے انہوں نے اپنے نفسوں کو طلب میں فناء کردیا۔ اور عارفین نے اپنے ارادوں کا رخ اللہ کی طرف کیا جسکی وجہ سے وہ ہمہ تن اللہ کی طرف متوجہ ہوگئے۔
(۵) محمد بن حسین محمد بن عبد اللہ رازی ۔ ابو عمر دمشقی کے سلسلۂ سند سے ابو عبد اللہ جلاء کا قول مروی ہے:خواہش کے ذریعہ منصب حاصل کرنے والے انسان سے منصب سلب کر لیا جاتا ہے۔
(۶) ابو عبد اللہ جلا سے سوال کیا گیا محبین کی راتیں کیسے گزرتی ہیں؟
انہوں نے جواب میں درج ذیل شعر کہا :محبت الہٰی سے صاحب قلب انسان کو کیا معلوم کہ محبین کے قلوب شب کو محبت الٰہی کی وجہ سے کیسے جوش مارتے ہیں۔
(۷) محمد بن حسین، محمد بن عبد العزیز طبری ، ابو عمر و دمشقی کے سلسلۂ سند سے ابن جلاء کا قول مروی ہے:ایک بار میں نے اپنے والدین سے اللہ کے نام پر مجھے ہبہ کرنے کی درخواست کی انہوں نے اسی وقت مجھے اللہ کے نام پر ہبہ کردیا ، اس کے بعد میں ایک طویل زمانہ تک ان سے غائب رہاپھر ایک بارش والی شب میں نے ان کے دروازہ پر دستک دی۔ انہوں نے پوچھا کون؟میں نےکہا میں تمہارا لڑکا ہوں۔ انہوں نے جواب دیا ہم نے اپنا بچہ اللہ کے نام پر ہبہ کردیا ، اور ہم عرب لوگ ہبہ کےنے کے بعد اس سے رجوع نہیں کرتے چنانچہ انہوں نے میرے لئے دروازہ نہیں کھولا۔
(۹) ابو عمر دمشقی فرماتے ہیں! میں نے حضرت ابو عبد اللہ کو وعظ فرماتے ہوۓ سنا آپ نے فرمایا!
اپنے بھائی کا حق مت ضائع کر اور اس سے محبت ومودّدت سے پیش آ، بیشک اللہ تعالیٰ نے ہر مسلمان پر (دوسرے مسلمان کے) حقوق فرض کیے ہیں ۔ اُن حقوق کو نہیں ضائع کرتا مگر وہ شخص جو اللہ تعالی ٰکے حقوق کی رعایت نہیں کرتا ۔
وصال:
اور جب آپکا انتقال ہوا تو (عوام) نے آپ کی طرف دیکھا تو آپ مسکرا رہے تھے ابو عبد اللہ الطبیب نے کہا کہ بیشک آپ زندہ ہیں پھر آپ کے جسم کو (check) کیا توکہا کہ آپکا انتقال ہو چکا ہے ۔ پھر جب آپ کے چہرے سے کپڑا ہٹایا تو کہا: میں نہیں جانتا کہ آپ زندہ ہیں یا انتقال فرما چکے ہیں ۔
قَالَ أَبُو يَعْقُوب الأدرعي:
توفِي أَبُو عَبْد اللَّهِ بْن الجلاء يوم السبت لاثنتي عشرة خلت من رجب سنة ست وثلاث مائة .
وصال:
بروز ہفتہ۔ ۱۲ رجب المرجب ۔ ۳۰۶ ۔ ہجری میں انتقال ہوا ۔ (تاریخِ بغداد) ـ
نوٹ:
بہت سے تقویمی کیلنڈرز، کتب، اور ویب سایٔٹس میں آپ کا وصال ۱۱ صفر المظفر لکھا ہوا ہے ۔ ہماری تحقیق کے مطابق آپ کا وصال ۱۲، رجب المرجب ہے ۔ (اللہ و رسولہ اعلم بالصّواب) ـ
مأخذ و مراجع:
طبقات الصوفیہ ۔ حلیۃالاولیاء ۔ تاریخ بغداد ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abu-abdullah-ahmad-bin-yahya-baghdadi
آپ مشائخ صوفیاء کے امام اور سردار ہیں ۔ بغداد سے شام منتقل ہو گئے تھے اور پھر وہیں رہائش پذیر ہو گئے ۔
حافظ ابو نعیم فرماتے ہیں! ابو عبد اللہ احمد بن یحیٰی بغدادی رملہ میں رہائش رکھتے تھے حضرت ذوالنون اور ابو تراب علیہما الرحمہ کے مصاحبین میں سے تھے اور آپ کے والد شیخ یحییٰ رحمہ اللہ علیہ آئمہ کبار میں سے تھے۔ اور آپ بہت ہی لطیف نکات بیان کرتے تھے ۔
عبد العزیز بن علی الوراق فرماتے ہیں! میں نے سنا علی بن عبد اللہ بن حسن ھمدانی سےوہ فرماتے ہیں میں نے محمد بن داؤد سے سناآپ فرماتے تھے ! میری آنکھوں نے آپ جیسا عراق ،حجاز ، کوہستان اور شام میں نہیں دیکھا ۔
محمد بن حسین نیشاپوری نے فرمایا!دنیا میں صوفیا کے صرف تین آئمہ ہوئے ہیں ۔
۱۔ابو عثمان رحمۃ اللہ علیہ نیشاپور میں ۔
۲ ۔ اور جنید رحمۃ اللہ علیہ بغداد میں ۔
۳ ۔ اور ابوعبد اللہ رحمۃ اللہ علیہ شام میں ۔
اقوال:
(۱) جس شخص کی نظر میں تعریف اور برائی (یعنی وہ کسی کے تعریف کرنے سے خوش نہ ہوتا ہو اور برائی کرنے سے ناراض نہ ہوتا ہو) برابر ہو وہ زاہد ہے ۔ اور جو شخص اول وقت میں فرائض ادا کرے اور پابندی کرے تو وہ شخص عابد ہے ۔ اور جو شخص اپنے تمام افعال میں فاعلِ حقیقی صرف اللہ تعالیٰ کو جانے وہ موحّد ہے ۔
(۲) تیرا (ہر وقت) روزی کے چکرمیں پڑے رہنا تجھے حق (اللہ تعالیٰ) سے دور اورخَلق (مخلوق) کا محتاج کر دےگا ۔
(۳) محمد بن حصن بن علی یقطینی کا قول ہے: میرے سامنے ابو عبد اللہ سے سوال کیا گیا کہ کچھ لوگ توکل اختیار کر کے بلازادِ راہ صحراء کی طرف نکل جاتے ہیں لیکن ان کا انجام موت ہوتا ہے۔ انہوں نے فرمایا یہ اہل حق کا فعل ہے ۔
(۴) محمد بن حسن بن موسیٰ، ابو حسین فارسی۔ کے سلسلۂ سند سے احمد بن علی کا قول مروی ہے:میرے سامنے ابو عبد اللہ جلاء سے حق کے بارے یں سوال کیا گیا؟فرمایا جب حق ایک ہے ایک ہی ذات سے اسے طلب کرنا ضروری ہے۔نیز فرمایا:مریدین کے ارادوں کا رخ بارے میں سوال کیا گیا ؟فرمایا جب حق ایک ہے تو ایک ہی ذات سے اسے طلب کرنا ضروری ہے ۔ نیز فرمایا :فرمایا :مریدین کے ارادوں کا رخ طلب طریق کی طرف ہوگیا جسکی وجہ سے انہوں نے اپنے نفسوں کو طلب میں فناء کردیا۔ اور عارفین نے اپنے ارادوں کا رخ اللہ کی طرف کیا جسکی وجہ سے وہ ہمہ تن اللہ کی طرف متوجہ ہوگئے۔
(۵) محمد بن حسین محمد بن عبد اللہ رازی ۔ ابو عمر دمشقی کے سلسلۂ سند سے ابو عبد اللہ جلاء کا قول مروی ہے:خواہش کے ذریعہ منصب حاصل کرنے والے انسان سے منصب سلب کر لیا جاتا ہے۔
(۶) ابو عبد اللہ جلا سے سوال کیا گیا محبین کی راتیں کیسے گزرتی ہیں؟
انہوں نے جواب میں درج ذیل شعر کہا :محبت الہٰی سے صاحب قلب انسان کو کیا معلوم کہ محبین کے قلوب شب کو محبت الٰہی کی وجہ سے کیسے جوش مارتے ہیں۔
(۷) محمد بن حسین، محمد بن عبد العزیز طبری ، ابو عمر و دمشقی کے سلسلۂ سند سے ابن جلاء کا قول مروی ہے:ایک بار میں نے اپنے والدین سے اللہ کے نام پر مجھے ہبہ کرنے کی درخواست کی انہوں نے اسی وقت مجھے اللہ کے نام پر ہبہ کردیا ، اس کے بعد میں ایک طویل زمانہ تک ان سے غائب رہاپھر ایک بارش والی شب میں نے ان کے دروازہ پر دستک دی۔ انہوں نے پوچھا کون؟میں نےکہا میں تمہارا لڑکا ہوں۔ انہوں نے جواب دیا ہم نے اپنا بچہ اللہ کے نام پر ہبہ کردیا ، اور ہم عرب لوگ ہبہ کےنے کے بعد اس سے رجوع نہیں کرتے چنانچہ انہوں نے میرے لئے دروازہ نہیں کھولا۔
(۹) ابو عمر دمشقی فرماتے ہیں! میں نے حضرت ابو عبد اللہ کو وعظ فرماتے ہوۓ سنا آپ نے فرمایا!
اپنے بھائی کا حق مت ضائع کر اور اس سے محبت ومودّدت سے پیش آ، بیشک اللہ تعالیٰ نے ہر مسلمان پر (دوسرے مسلمان کے) حقوق فرض کیے ہیں ۔ اُن حقوق کو نہیں ضائع کرتا مگر وہ شخص جو اللہ تعالی ٰکے حقوق کی رعایت نہیں کرتا ۔
وصال:
اور جب آپکا انتقال ہوا تو (عوام) نے آپ کی طرف دیکھا تو آپ مسکرا رہے تھے ابو عبد اللہ الطبیب نے کہا کہ بیشک آپ زندہ ہیں پھر آپ کے جسم کو (check) کیا توکہا کہ آپکا انتقال ہو چکا ہے ۔ پھر جب آپ کے چہرے سے کپڑا ہٹایا تو کہا: میں نہیں جانتا کہ آپ زندہ ہیں یا انتقال فرما چکے ہیں ۔
قَالَ أَبُو يَعْقُوب الأدرعي:
توفِي أَبُو عَبْد اللَّهِ بْن الجلاء يوم السبت لاثنتي عشرة خلت من رجب سنة ست وثلاث مائة .
وصال:
بروز ہفتہ۔ ۱۲ رجب المرجب ۔ ۳۰۶ ۔ ہجری میں انتقال ہوا ۔ (تاریخِ بغداد) ـ
نوٹ:
بہت سے تقویمی کیلنڈرز، کتب، اور ویب سایٔٹس میں آپ کا وصال ۱۱ صفر المظفر لکھا ہوا ہے ۔ ہماری تحقیق کے مطابق آپ کا وصال ۱۲، رجب المرجب ہے ۔ (اللہ و رسولہ اعلم بالصّواب) ـ
مأخذ و مراجع:
طبقات الصوفیہ ۔ حلیۃالاولیاء ۔ تاریخ بغداد ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abu-abdullah-ahmad-bin-yahya-baghdadi
scholars.pk
Hazrat Abu Abdullah Ahmad Bin Yahya Baghdadi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت قاسم انوار رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
وطن:
آپ آذر بایٔجان کے رہنے والے تھے ۔
مولَد تبریز تھا ابتدائی عمر میں شیخ صدر الدین اُرد بیلی قدس سرہٗ سے بیعت ہوئے پھر شیخ اوحدالدین کرمانی کے خلیفہ شیخ صدر الدین یمینی کے مرید ہوئے ۔
حضرت خواجہ بہاء الدین نقشبند سے فیض حاصل کیا ۔ آپ کا دیوان حقائق و معرفت کے اشعار سے مالا مال ہے آپ نے ۸۳۷ھ میں وصال پایا مزار پُر انوار خر خر جام میں ہے ۔
جناب شیخ قاسم نیرّ نور
خرد از بہر سال انتقالش
چو شد در خلد آں مرحوم مغفور
بگفتا شاہ سیّد قاسمِ نور
( خزینۃ الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-qasim-anwar
وطن:
آپ آذر بایٔجان کے رہنے والے تھے ۔
مولَد تبریز تھا ابتدائی عمر میں شیخ صدر الدین اُرد بیلی قدس سرہٗ سے بیعت ہوئے پھر شیخ اوحدالدین کرمانی کے خلیفہ شیخ صدر الدین یمینی کے مرید ہوئے ۔
حضرت خواجہ بہاء الدین نقشبند سے فیض حاصل کیا ۔ آپ کا دیوان حقائق و معرفت کے اشعار سے مالا مال ہے آپ نے ۸۳۷ھ میں وصال پایا مزار پُر انوار خر خر جام میں ہے ۔
جناب شیخ قاسم نیرّ نور
خرد از بہر سال انتقالش
چو شد در خلد آں مرحوم مغفور
بگفتا شاہ سیّد قاسمِ نور
( خزینۃ الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-qasim-anwar
scholars.pk
Hazrat Qasim Anwar
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
شیخ القرآن علامہ غلام علی اشرفی اوکاڑوی
تاریخ و مقامِ ولادت:
1229ھ / 1920ء میں موضع ببانیاں، نزد دلالہ موسیٰ ضلع گجرات میں علم دوست، دینی شعور رکھنے والے گوجر گھرانے میں ہوئی ـ
تحصیلِ علم:
دینی تعلیم کے لیے قریبی گاؤں عمر چک کے یگانہ روزگار فاضل مولانا سلام اللہ کے درس میں شامل ہوئے۔ فارسی، ادب اسی درس سے حاصل کیا اور عربی تعلیم کے لیے جالندھر کے دارلعلوم عربیہ کریمیہ حنفیہ میں داخل ہوئے جہاں استاذ العلماء مولانا عبد الجلیل ہزاروی کے علاوہ مولانا عبد القادر کشمیری اور حافظ عبد المجید گور داسپوری بھی پڑھاتے تھے۔ اس دار العلوم میں علوم کی تکمیل کر کے 1939ء میں فراغت حاصل کی۔
سیرت وخصائص:
حضرت شیخ الاسلام شیخ القرآن علامہ غلام علی اشرفی اوکاڑوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک جلیل قدر عالم، عالمِ طریقت، مرجع خلائق اور وسیع الظرف شخصیت کے حامل تھے۔
》آپ ایک بہترین مدرس، شفیق استاد اور طالب علم کی ذہنی سطح پر اتر کر سمجھانے والے اساتذہ میں سے تھے۔
》آپ نے اپنے حلقۂ درس سے کئی علماء پیدا فرمائے، جنہوں دنیاکے کونے کونے میں جاکر لوگوں کی شرعی، روحانی اور اخلاقی رہنمائی کیں۔
》جالندھر اور ہوشیار پور کے وہ عقیدت مند جو آپ کی زمانہ طالبِ علمی کی تقاریر سُن چکے تھے تقسیم ملک کے بعد اوکاڑہ میں آباد ہوئے اور آپ گجرات سے اوکاڑہ آ گئے۔
》آپ 1951ء میں اوکاڑہ پہنچے جامع مسجد کے خطیب اور برلاہائی ا سکول کے شعبۂ اسلامیات کے مدرس مقرر ہوئے۔
》تھوڑے ہی عرصہ میں آپ نے اہل سنت و جماعت کے عظیم الشان دار العلوم اشرف المدارس کی بنیاد رکھی اس دار العلوم کی ترقی و توسیع کے لیے آپ نے شب و روز محنت کی اور سینکڑوں طلباء کو تیار کر کے ملک کے اطراف و اکناف میں تبلیغِ دین کے لیے بھیجا۔
》آپ رمضان المبارک میں قرآن پاک کی تفسیر بھی پڑھاتے ہیں جس میں کثیر تعداد میں ذوقِ قرآن رکھنے والے حضرات شریک ہوتے ہیں۔
》علاوہ ازیں آپ ملک کے مختلف حصوں میں تبلیغی دورے بھی فرماتے ہیں آپ کی تقریر علمی اور تحقیقی ہوتی ہے۔
》مسلکِ اہل سنت کی ترقی اور بدعات و بد عقیدگی کے خاتمہ کے لیے ہمہ تن مصروف رہتے ہیں۔
》جب آپ حج پر تشریف لے گئے تو *شیخ المشائخ علامہ ضیاء الدین احمد مدنی قادری* خلیفہ اعلیٰ حضرت مولانا الشاہ احمد رضا خان بریلوی (مدینہ منورہ) سے سندِ اجازتِ حدیث و طریقت حاصل کی۔
》آپ نے جماعتِ اہل سنت قائم کی اور خالص اعتقادی و نظریاتی بنیادوں پر کام کرتے رہے آزاد کشمیر کے صدر (سابق) مجاہدِ آزادی کشمیر سردار عبدالقیوم سے مل کر قادیانیوں کے خلاف بِل پاس کروایا اور پھر اسلامی قوانین کی دفعات کی تدوین میں مدد کی۔
》1953ء اور 1974ء ہردو تحاریکِ ختمِ نبوّت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور ملک کے گوشے گوشے میں تحفظ ختمِ نبوّت کے مفہوم اور قادیانیوں کی سازش سے عوام کو آگاہ کیا۔
》آپ جمعیت علماء پاکستان صوبۂ پنجاب کے صدر, متحدہ جمہوری محاذ یو۔ڈی۔ ایف پنجاب کے صدر رہ چکے ہیں۔
》1971ء کے انتخاب میں اکاڑہ اور لاہور شہر سے صوبائی اسمبلی کے لیے قومی اتحاد کے ٹکٹ پر انتخابات میں شریک ہوئے۔
》14 مارچ 1977ء کو ملک بھر میں شروع ہونے والی تحریک نظامِ مصطفےٰ میں علامہ شاہ احمد نورانی کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے آپ نے حضرت داتا گنج بخش رحمہ اللہ کے دربار سے گرفتاری پیش کی۔
》رہا ہونے کے بعد ضلع کچہری میں وکلا سے خطاب کیا اور دربار حضرت داتا گنج بخش رحمہ اللہ پر حاضری دی۔
》چند دن بعد دوبارہ آپ کو قومی اتحاد کے مرکزی دفتر سے دوسرے راہنماؤں کے ہمراہ گرفتار کرلیا گیا اور بعد میں ہائی کورٹ کے فیصلے پر رہا کیا گیا۔
》اکتوبر 1977ء کے انتخاب جو بعد میں ملتوی ہو گئے کے لیے آپ قومی اتحاد پاکستان کے ٹکٹ پر لاہور حلقہ نمبر ۳ کے امیدوار تھے ۔
》1397ھ میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو حج بیت اللہ اور مدینۃ الرسول کی زیارت سے مشرف فرمایا ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-ghulam-ali-ashrafi-okarvi
تاریخِ وصال:
11 صفر المظفر 1421 ھ
ماخذ و مراجع:
تعارف علماءِ اہلسنت ـ
تاریخ و مقامِ ولادت:
1229ھ / 1920ء میں موضع ببانیاں، نزد دلالہ موسیٰ ضلع گجرات میں علم دوست، دینی شعور رکھنے والے گوجر گھرانے میں ہوئی ـ
تحصیلِ علم:
دینی تعلیم کے لیے قریبی گاؤں عمر چک کے یگانہ روزگار فاضل مولانا سلام اللہ کے درس میں شامل ہوئے۔ فارسی، ادب اسی درس سے حاصل کیا اور عربی تعلیم کے لیے جالندھر کے دارلعلوم عربیہ کریمیہ حنفیہ میں داخل ہوئے جہاں استاذ العلماء مولانا عبد الجلیل ہزاروی کے علاوہ مولانا عبد القادر کشمیری اور حافظ عبد المجید گور داسپوری بھی پڑھاتے تھے۔ اس دار العلوم میں علوم کی تکمیل کر کے 1939ء میں فراغت حاصل کی۔
سیرت وخصائص:
حضرت شیخ الاسلام شیخ القرآن علامہ غلام علی اشرفی اوکاڑوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک جلیل قدر عالم، عالمِ طریقت، مرجع خلائق اور وسیع الظرف شخصیت کے حامل تھے۔
》آپ ایک بہترین مدرس، شفیق استاد اور طالب علم کی ذہنی سطح پر اتر کر سمجھانے والے اساتذہ میں سے تھے۔
》آپ نے اپنے حلقۂ درس سے کئی علماء پیدا فرمائے، جنہوں دنیاکے کونے کونے میں جاکر لوگوں کی شرعی، روحانی اور اخلاقی رہنمائی کیں۔
》جالندھر اور ہوشیار پور کے وہ عقیدت مند جو آپ کی زمانہ طالبِ علمی کی تقاریر سُن چکے تھے تقسیم ملک کے بعد اوکاڑہ میں آباد ہوئے اور آپ گجرات سے اوکاڑہ آ گئے۔
》آپ 1951ء میں اوکاڑہ پہنچے جامع مسجد کے خطیب اور برلاہائی ا سکول کے شعبۂ اسلامیات کے مدرس مقرر ہوئے۔
》تھوڑے ہی عرصہ میں آپ نے اہل سنت و جماعت کے عظیم الشان دار العلوم اشرف المدارس کی بنیاد رکھی اس دار العلوم کی ترقی و توسیع کے لیے آپ نے شب و روز محنت کی اور سینکڑوں طلباء کو تیار کر کے ملک کے اطراف و اکناف میں تبلیغِ دین کے لیے بھیجا۔
》آپ رمضان المبارک میں قرآن پاک کی تفسیر بھی پڑھاتے ہیں جس میں کثیر تعداد میں ذوقِ قرآن رکھنے والے حضرات شریک ہوتے ہیں۔
》علاوہ ازیں آپ ملک کے مختلف حصوں میں تبلیغی دورے بھی فرماتے ہیں آپ کی تقریر علمی اور تحقیقی ہوتی ہے۔
》مسلکِ اہل سنت کی ترقی اور بدعات و بد عقیدگی کے خاتمہ کے لیے ہمہ تن مصروف رہتے ہیں۔
》جب آپ حج پر تشریف لے گئے تو *شیخ المشائخ علامہ ضیاء الدین احمد مدنی قادری* خلیفہ اعلیٰ حضرت مولانا الشاہ احمد رضا خان بریلوی (مدینہ منورہ) سے سندِ اجازتِ حدیث و طریقت حاصل کی۔
》آپ نے جماعتِ اہل سنت قائم کی اور خالص اعتقادی و نظریاتی بنیادوں پر کام کرتے رہے آزاد کشمیر کے صدر (سابق) مجاہدِ آزادی کشمیر سردار عبدالقیوم سے مل کر قادیانیوں کے خلاف بِل پاس کروایا اور پھر اسلامی قوانین کی دفعات کی تدوین میں مدد کی۔
》1953ء اور 1974ء ہردو تحاریکِ ختمِ نبوّت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور ملک کے گوشے گوشے میں تحفظ ختمِ نبوّت کے مفہوم اور قادیانیوں کی سازش سے عوام کو آگاہ کیا۔
》آپ جمعیت علماء پاکستان صوبۂ پنجاب کے صدر, متحدہ جمہوری محاذ یو۔ڈی۔ ایف پنجاب کے صدر رہ چکے ہیں۔
》1971ء کے انتخاب میں اکاڑہ اور لاہور شہر سے صوبائی اسمبلی کے لیے قومی اتحاد کے ٹکٹ پر انتخابات میں شریک ہوئے۔
》14 مارچ 1977ء کو ملک بھر میں شروع ہونے والی تحریک نظامِ مصطفےٰ میں علامہ شاہ احمد نورانی کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے آپ نے حضرت داتا گنج بخش رحمہ اللہ کے دربار سے گرفتاری پیش کی۔
》رہا ہونے کے بعد ضلع کچہری میں وکلا سے خطاب کیا اور دربار حضرت داتا گنج بخش رحمہ اللہ پر حاضری دی۔
》چند دن بعد دوبارہ آپ کو قومی اتحاد کے مرکزی دفتر سے دوسرے راہنماؤں کے ہمراہ گرفتار کرلیا گیا اور بعد میں ہائی کورٹ کے فیصلے پر رہا کیا گیا۔
》اکتوبر 1977ء کے انتخاب جو بعد میں ملتوی ہو گئے کے لیے آپ قومی اتحاد پاکستان کے ٹکٹ پر لاہور حلقہ نمبر ۳ کے امیدوار تھے ۔
》1397ھ میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو حج بیت اللہ اور مدینۃ الرسول کی زیارت سے مشرف فرمایا ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-ghulam-ali-ashrafi-okarvi
تاریخِ وصال:
11 صفر المظفر 1421 ھ
ماخذ و مراجع:
تعارف علماءِ اہلسنت ـ
scholars.pk
Hazrat Allama Ghulam Ali Ashrafi Okarvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
Sheikh-ul-Islam Sheik-ul-Quran Hazrat Allama Ghulam Ali Ashrafi Okarvi
❤1