Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
07-02-1445 ᴴ | 25-08-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ #فیضان_اعلی_حضرت قسط 77
08-02-1445 ᴴ | 26-08-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#فیضان_اعلی_حضرت قسط 78
اِس سلسلے کی پہلی قسط یہاں ہے↯
https://t.me/islaamic_Knowledge/7170
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#فیضان_اعلی_حضرت قسط 78
اِس سلسلے کی پہلی قسط یہاں ہے↯
https://t.me/islaamic_Knowledge/7170
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
حضرت سیدنا شاہ میر ابو العلاء اکبر آبادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
خاندانی حالات:
آپ کے دادا حضرت خواجہ امیر عبد السلام مع اہل و عیال کے سمرقند سے ہجرت کرکے ہندوستان آئے اور نریلہ میں جو دہلی سے کچھ دور واقع ہے۔ قیام فرمایا، حرمین شریف کی زیارت کے قصد سے وہ نریلہ سے مع متعلقین فتح پور سیکری آئے، یہاں سے آگے جانا چاہتے تھےکہ شہنشاہ اکبر نے ان سے فتح پورسیکری میں رہنےکی درخواست کی، وہ راضی ہو گئے اور فتح پورسیکری میں رہنے لگے۔ کچھ عرصے فتح پورسیکری میں قیام فرما کر وہ حج کے لئے روانہ ہو گئے، وہیں ان کا وصال ہوا۔
والد ماجد:
آپ کے پدر بزرگوار کا نام امیر ابو الوفا ہے، بعارضہ درد قولنج ان کا وصال فتح پور سیکری میں ہوا اور دہلی میں ان کو سپرد خاک کیا گیا ۔ ۱؎
والدہ ماجدہ:
آپ کی والدہ ماجدہ حضرت خواجہ محمد فیض المعروف بہ خواجہ فیض کی دختر نیک اختر تھیں۔حضرت خواجہ محمد فیض بردوان میں ناظم کے عہدے پر فائز تھے۔
حسب و نسب:
آپ والد ماجد کی طرف سے حسینی اور والدہ ماجدہ کی طرف سے احراری ہیں۔
پیدائش:
آپ کی ولادت باسعادت نریلہ میں ۹۹۰ھ میں ہوئی۔۲؎
آپ کا نام:
آپ کا نام نامی اسم گرامی امیر ابو العلیٰ ہے ۔
بچپن کے صدمات:
ابھی کم سن ہی تھےکہ آپ کے والد ماجد کا سایہ آپ کے سر سے اٹھ گیا ۔ آپ اپنے شفیق دادا حضرت امیر عبدالسلام کی شفقت سے بھی محروم ہوئے۔ آپ کے دادا حرمین شریف کی زیارت کے لئے گئے تھے، وہیں ان کا وصال ہوا۔
تعلیم و تربیت:
آپ کے دادا نے بیت اللہ شریف جاتے وقت آپ کو حضرت خواجہ محمد فیض کے سپرد فرمایا تھا۔ حضرت فیض بردوان میں ناظم تھے ۔ وہ آپ کواپنےہمراہ بردوان لےگئے،انہیں کی نگرانی میں آپ کی تعلیم وتربیت ہوئی۔ آپ بہت جلد تحصیل علوم و فنون سےفارغ ہوئے۔جملہ علوم ظاہری و کمالات باطنی میں ماہرہوئے۔ فن سپہ گری میں بےمثل ثابت ہوئے۔
نانا کا وصال:
ابھی آپ جملہ علوم و فنون متداولہ سے فارغ ہی ہوئےتھےکہ آپ کےناناحضرت محمدفیض المعروف بہ خواجہ فیضی نےایک مہم میں جام شہادت نوش فرمایا۔ عہدہ نظامت: آپ کےناناحضرت خواجہ فیضی کےکوئی لڑکانہیں تھا۔راجہ مان سنگھ نےآپ کی یگانگت، مناسبت، لیاقت دیکھ کرآپ کےناناکےعہدےپرآپ کاتقرر کرکےبادشاہ سےپروانہ تقرری حاصل کرلیا۔ اب آپ اپنےناناکےبجائےعہدہ نظامت پرمتمکن ہوئے۔منصب سہ ہزاری ذات و سوارسے ممتاز ہوئے۔
اشارت پر بشارت:
ایک شب آپ نےتین بزرگوں کوخواب میں دیکھاکہ فرماتےہیں۔۳؎ "اےسیدابوالعلی!یہ کیاوضع اختیارکی ہے،اس کو قطع کرچھوڑو۔ہماری طرح اختیارکرو،اگرفکر معیشت ہے تو اَللّٰہُ نُورُالسَّمٰوَاتِ وَالاَرضَ (اللہ روشن کرنےوالاہے،آسمان اورزمین کو) کوسمجھو،کوئی خطرہ یا اندیشہ دل میں نہ لاؤ" اس کےبعدان بزرگوں میں سےایک نےاسترہ لیااورآپ کےسرکےبال تراشے۔ دوسرے بزرگ نےآپ کوکفنی پہنائی اورتیسرے بزرگ نےآپ کےسرپرعمامہ رکھا۔
کایا پلٹ:
دوسرے دن صبح کوآپ نےحجام کوبلاکرسرکےبال ترشوائے۔پیرہن پہنا،دنیاسےاپنےآپ کوبیزار پایا،کسی کام میں آپ کاجی نہیں لگتاتھا۔اب آپ نےعہدہ نظامت سےسبکدوش ہوناچاہا۔ راجہ مان سنگھ نےآپ کا استعفیٰ منظورنہیں کیا۔راجہ مان سنگھ نےآپ سےکہاکہ چونکہ ایک مہم در پیش ہے،اس لئےان کا استعفاءاس کاحفظ ماتقدم وپس وپیش ہے۔راجہ مان سنگھ نےآپ کویہ بھی یقین دلایاکہ اگروہ ترقی چاہتےہیں توترقی بھی ممکن ہے اوراگراضافہ منصب چاہتےہیں تووہ بھی کچھ دشوارنہیں۔
مہم میں شرکت:
آپ راجہ مان سنگھ کا بہت خیال فرماتےتھے،چونکہ وہ آپ ناناکےپرانےرفقاءدوستوں میں سے تھے، آپ امیرلشکر ہوکرجنگ میں شریک ہوئے۔میناپورکےمیدان میں گھمسان کی لڑائی ہوئی، آپ کی فتح ہوئی۔۴؎ دوسراخواب: کامیاب وکامران آپ بردوان پہنچے۔بردوان پہنچ کرآپ نےایک بارپھرخواب میں آپ چار بزرگوں کی زیارت سےمشرف ہوئے۔ان چاربزرگوں میں تین بزرگ تووہی تھے،جن کو آپ نے پہلےخواب میں دیکھاتھا، چوتھےبزرگ جن کواس مرتبہ آپ نےدیکھا،پیکرنورتھے۔ان کاچہرہ مبارک آفتاب سےزیادہ روشن اورماہتاب سےزیادہ منورتھا۔ان بزرگوں نےآپ سے فرمایاکہ۔ ۵؎ "اےفرزنددل بند،نوربصربلنداختر،اپناطریقہ آبائی اختیارکرو"۔ آپ ان بزرگوں کےنام جن کو آپ نےپہلےاوردوسرےخواب میں دیکھا۔خاص خاص لوگوں کے علاوہ اورکسی سےظاہرنہیں کرتےتھے،آپ فرماتےتھےکہ۔ "جن کی زیارت بیشترخواب میں حاصل ہوئی۔میں ان سےبےعلم تھا،ہاں دوبارہ جب زیارت سے فیض یاب ومشرف ہواتوآگاہ ہواکہ جن بزرگ کاچہرہ مبارک نورانی،آفتاب سےزیادہ مجلیٰ اور ماہتاب سےزیادہ منورتھا،وہ لاریب جناب رسالت مآب سرورعالم صلی اللہ علیہ وسلم تھےاوروہ تین بزرگ جوخواب اول و دوئم میں تشریف لائے،ان میں سےجن بزرگ نےمیرے سرکےبال تراشےوہ امام الاولیاءحضرت علی کرم اللہ وجہہ تھےاوردوصاحب زادگان حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہماشہیدکربلاتھے۔ تبدیلی: اس خواب کےبعدآپ دنیاسےبہت دل برداشتہ ہوگئے،آپ عہدہ نظامت سےسبک دوش ہونا چاہتے
خاندانی حالات:
آپ کے دادا حضرت خواجہ امیر عبد السلام مع اہل و عیال کے سمرقند سے ہجرت کرکے ہندوستان آئے اور نریلہ میں جو دہلی سے کچھ دور واقع ہے۔ قیام فرمایا، حرمین شریف کی زیارت کے قصد سے وہ نریلہ سے مع متعلقین فتح پور سیکری آئے، یہاں سے آگے جانا چاہتے تھےکہ شہنشاہ اکبر نے ان سے فتح پورسیکری میں رہنےکی درخواست کی، وہ راضی ہو گئے اور فتح پورسیکری میں رہنے لگے۔ کچھ عرصے فتح پورسیکری میں قیام فرما کر وہ حج کے لئے روانہ ہو گئے، وہیں ان کا وصال ہوا۔
والد ماجد:
آپ کے پدر بزرگوار کا نام امیر ابو الوفا ہے، بعارضہ درد قولنج ان کا وصال فتح پور سیکری میں ہوا اور دہلی میں ان کو سپرد خاک کیا گیا ۔ ۱؎
والدہ ماجدہ:
آپ کی والدہ ماجدہ حضرت خواجہ محمد فیض المعروف بہ خواجہ فیض کی دختر نیک اختر تھیں۔حضرت خواجہ محمد فیض بردوان میں ناظم کے عہدے پر فائز تھے۔
حسب و نسب:
آپ والد ماجد کی طرف سے حسینی اور والدہ ماجدہ کی طرف سے احراری ہیں۔
پیدائش:
آپ کی ولادت باسعادت نریلہ میں ۹۹۰ھ میں ہوئی۔۲؎
آپ کا نام:
آپ کا نام نامی اسم گرامی امیر ابو العلیٰ ہے ۔
بچپن کے صدمات:
ابھی کم سن ہی تھےکہ آپ کے والد ماجد کا سایہ آپ کے سر سے اٹھ گیا ۔ آپ اپنے شفیق دادا حضرت امیر عبدالسلام کی شفقت سے بھی محروم ہوئے۔ آپ کے دادا حرمین شریف کی زیارت کے لئے گئے تھے، وہیں ان کا وصال ہوا۔
تعلیم و تربیت:
آپ کے دادا نے بیت اللہ شریف جاتے وقت آپ کو حضرت خواجہ محمد فیض کے سپرد فرمایا تھا۔ حضرت فیض بردوان میں ناظم تھے ۔ وہ آپ کواپنےہمراہ بردوان لےگئے،انہیں کی نگرانی میں آپ کی تعلیم وتربیت ہوئی۔ آپ بہت جلد تحصیل علوم و فنون سےفارغ ہوئے۔جملہ علوم ظاہری و کمالات باطنی میں ماہرہوئے۔ فن سپہ گری میں بےمثل ثابت ہوئے۔
نانا کا وصال:
ابھی آپ جملہ علوم و فنون متداولہ سے فارغ ہی ہوئےتھےکہ آپ کےناناحضرت محمدفیض المعروف بہ خواجہ فیضی نےایک مہم میں جام شہادت نوش فرمایا۔ عہدہ نظامت: آپ کےناناحضرت خواجہ فیضی کےکوئی لڑکانہیں تھا۔راجہ مان سنگھ نےآپ کی یگانگت، مناسبت، لیاقت دیکھ کرآپ کےناناکےعہدےپرآپ کاتقرر کرکےبادشاہ سےپروانہ تقرری حاصل کرلیا۔ اب آپ اپنےناناکےبجائےعہدہ نظامت پرمتمکن ہوئے۔منصب سہ ہزاری ذات و سوارسے ممتاز ہوئے۔
اشارت پر بشارت:
ایک شب آپ نےتین بزرگوں کوخواب میں دیکھاکہ فرماتےہیں۔۳؎ "اےسیدابوالعلی!یہ کیاوضع اختیارکی ہے،اس کو قطع کرچھوڑو۔ہماری طرح اختیارکرو،اگرفکر معیشت ہے تو اَللّٰہُ نُورُالسَّمٰوَاتِ وَالاَرضَ (اللہ روشن کرنےوالاہے،آسمان اورزمین کو) کوسمجھو،کوئی خطرہ یا اندیشہ دل میں نہ لاؤ" اس کےبعدان بزرگوں میں سےایک نےاسترہ لیااورآپ کےسرکےبال تراشے۔ دوسرے بزرگ نےآپ کوکفنی پہنائی اورتیسرے بزرگ نےآپ کےسرپرعمامہ رکھا۔
کایا پلٹ:
دوسرے دن صبح کوآپ نےحجام کوبلاکرسرکےبال ترشوائے۔پیرہن پہنا،دنیاسےاپنےآپ کوبیزار پایا،کسی کام میں آپ کاجی نہیں لگتاتھا۔اب آپ نےعہدہ نظامت سےسبکدوش ہوناچاہا۔ راجہ مان سنگھ نےآپ کا استعفیٰ منظورنہیں کیا۔راجہ مان سنگھ نےآپ سےکہاکہ چونکہ ایک مہم در پیش ہے،اس لئےان کا استعفاءاس کاحفظ ماتقدم وپس وپیش ہے۔راجہ مان سنگھ نےآپ کویہ بھی یقین دلایاکہ اگروہ ترقی چاہتےہیں توترقی بھی ممکن ہے اوراگراضافہ منصب چاہتےہیں تووہ بھی کچھ دشوارنہیں۔
مہم میں شرکت:
آپ راجہ مان سنگھ کا بہت خیال فرماتےتھے،چونکہ وہ آپ ناناکےپرانےرفقاءدوستوں میں سے تھے، آپ امیرلشکر ہوکرجنگ میں شریک ہوئے۔میناپورکےمیدان میں گھمسان کی لڑائی ہوئی، آپ کی فتح ہوئی۔۴؎ دوسراخواب: کامیاب وکامران آپ بردوان پہنچے۔بردوان پہنچ کرآپ نےایک بارپھرخواب میں آپ چار بزرگوں کی زیارت سےمشرف ہوئے۔ان چاربزرگوں میں تین بزرگ تووہی تھے،جن کو آپ نے پہلےخواب میں دیکھاتھا، چوتھےبزرگ جن کواس مرتبہ آپ نےدیکھا،پیکرنورتھے۔ان کاچہرہ مبارک آفتاب سےزیادہ روشن اورماہتاب سےزیادہ منورتھا۔ان بزرگوں نےآپ سے فرمایاکہ۔ ۵؎ "اےفرزنددل بند،نوربصربلنداختر،اپناطریقہ آبائی اختیارکرو"۔ آپ ان بزرگوں کےنام جن کو آپ نےپہلےاوردوسرےخواب میں دیکھا۔خاص خاص لوگوں کے علاوہ اورکسی سےظاہرنہیں کرتےتھے،آپ فرماتےتھےکہ۔ "جن کی زیارت بیشترخواب میں حاصل ہوئی۔میں ان سےبےعلم تھا،ہاں دوبارہ جب زیارت سے فیض یاب ومشرف ہواتوآگاہ ہواکہ جن بزرگ کاچہرہ مبارک نورانی،آفتاب سےزیادہ مجلیٰ اور ماہتاب سےزیادہ منورتھا،وہ لاریب جناب رسالت مآب سرورعالم صلی اللہ علیہ وسلم تھےاوروہ تین بزرگ جوخواب اول و دوئم میں تشریف لائے،ان میں سےجن بزرگ نےمیرے سرکےبال تراشےوہ امام الاولیاءحضرت علی کرم اللہ وجہہ تھےاوردوصاحب زادگان حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہماشہیدکربلاتھے۔ تبدیلی: اس خواب کےبعدآپ دنیاسےبہت دل برداشتہ ہوگئے،آپ عہدہ نظامت سےسبک دوش ہونا چاہتے
تھےاوردنیاسے کنارہ کش۔
آگرہ کوروانگی:
ابھی آپ بردوان ہی میں تھےکہ شہنشاہ اکبرکےانتقال کی خبرپہنچی۔جہانگیرنےتخت پربیٹھتےہی یہ فرمان جاری کیاکہ سب امراءوناظم دربارمیں حاضر ہوں،تاکہ ان کی قابلیت،لیاقت ووجاہت کااندازہ ہوسکے۔آپ تو خودہی بردوان سےجاناچاہتےتھے،اس شاہی فرمان کوتائیدغیبی سمجھااورآگرہ روانہ ہوگئے۔ راستےمیں میسری پڑتاتھا،آپ نےمیسری میں کچھ دن قیام کیا،وہاں ایک بزرگ رہتےتھے،جو حضرت یحییٰ میسری رحمتہ اللہ علیہ کی اولادسےتھےان بزرگ نےآپ کودیکھتےہی فرمایا۔۶؎ "آؤ شاہ اعلیٰ آؤ،جزاک اللہ،یہ تم نےخوب کیاکہ دنیاکوچھوڑدیا۔ الدنیاجیفۃ وطالبھاکلاب (دنیامردارہےاوراس کےطالب کتے) پہلےتوجیفہ پرگوشت بھی تھااوراب سوکھی ہڈی باقی ہے"۔ میسری سےروانہ ہوکرآگرہ پہنچے۔شہنشاہ جہانگیرسےملاقات ہوئی۔جہانگیرآپ کےجمال وکمال سے بہت متاثر ہوا۔
آپ بلاروک ٹوک شاہی دربارمیں آنےجانےلگے۔ ایک واقعہ: ایک دن کاواقعہ ہےکہ ساقی نےشہنشاہ جہانگیرکوجام پیش کیا۔جہانگیرنےاپنےہاتھ سےوہ جام آپ کو دیا،آپ نےبہ پاس ادب جام لےتولیا،لیکن وہیں پھینک دیا۔جہانگیرنےدوسراجام آپ کودیا، آپ نےلےکرپھرپہلےکی طرح پھینک یدا۔جہانگیرتاب نہ لاسکا،نشہ کی حالت میں آپ سے مخاطب ہوکرکہنےلگا: "یہ خودنمائی،یہ بےاعتنائی،اوہ،کیاتم غضب سلطانی سےنہیں ڈرتے"۔ آپ نےشہنشاہ جہانگیرکوجواب دیا۔ "غضب سلطانی سےنہیں ڈرتا،قہرربانی سےڈرتاہوں"۔ ترک دنیا: آپ اپنےمکان پرتشریف لائے،اپنامال ومتاع تقسیم کردیا،نقدوجنس میں سے اپنےپاس کچھ نہیں رکھا۔جہانگیرنےہرچندآپ کوبلایا،لیکن آپ نہیں گئے۔ شرف زیارت: اسی دن جب آپ مراقبہ میں تھے،آپ نےدیکھاکہ امام الاولیاءحضرت علی کرم اللہ وجہہ بصورت مثالی تشریف لائے ہیں اورآپ سےفرماتےہیں۔۷؎ "اےفرزندارجمند!کشودکارتمہاراحضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری سے مقدرہے،یہ تساہل اس قدرکیوں ہے،اٹھو،اجمیرجاؤ،دیرنہ لگاؤ،حصہ اپناپاؤ"۔ دربارغریب نوازمیں: اس فرمان کےپاتےہی آپ نےجوکچھ باقی مال ومتاع آپ کےپاس تھا،اس کو بھی راہ خدامیں لٹادیا، چادراوڑھ کراورسفیدتہہ بندباندھ کراجمیرروانہ ہوئے،دہلی پہنچ کرقطب الاقطاب حضرت خواجہ قطب الدین بختیارکاکی رحمتہ اللہ علیہ کی اورحضرت نظام الدین اولیاءرحمتہ اللہ علیہ کےمزارات پر حاضرہوئےاوران بزرگان کےروحانی فیوض سےمستفیدہوئے،دہلی سےاجمیرپہنچے۔خواجہ غریب نواز کےمزارمبارک پرحاضرہوئے،حضرت خواجہ غریب نوازبصورت مثالی آپ سے مخاطب ہوئے۔آپ کوسامنےبٹھاکرآپ کوتوجہ عینی فرمائی۔ ایک دن کا واقعہ ہےکہ آپ مزارپرانوارکاطواف کررہےتھےکہ حضرت خواجہ غریب نواز بصورت مثالی جلوہ گرہوئےاورآپ کوایک سرخ رنگ کی گولی جو تسبیح کےدانےکےبرابرتھی،عطا فرمائی۔وہ گولی کھاتےہی آپ کاقلب روشن ہوا۔آپ کاکام پوراہوا۔خواجہ غریب نوازنےآپ کو آگرہ واپس جانے کی تاکیدفرمائی۔آپ نےبیعت کی درخواست کی،خواجہ غریب نواز نے فرمایا۔ "تمہارےچچاامیرعبداللہ ماشاءاللہ عبادت گزارموجود ہیں،انہیں سےبیعت مناسب اوران ہی کی صاحب زادی سے مناکحت واجب ہے"۔
بیعت و خلافت:
حسب فرمان خواجہ غریب نوازآپ حضرت امیرعبداللہ سےبیعت ہوئے،آپ کے پیر و مرشد حضرت امیرعبداللہ نےاپنےہاتھ سے انگوٹھی اتارکرآپ کوپہنادی،بعدازاں آپ کےپیرومرشد نےآپ کوخرقہ خلافت سے سرفرازفرمایا۔
ازواج واولاد:
خواجہ غریب نوازکےحکم کےمطابق آپ نےاپنےچچااورپیرومرشدحضرت امیرعبداللہ کی صاحب زادی سے شادی کی،آپ کے دونوں لڑکے،حضرت امیرفیض اللہ اورحضرت امیرنورالعلیٰ زہد، متقی و پرہیزگاراورصاحب مقامات عالیہ تھے۔
وفات:
آپ ۹ صفر ۱۰۶۱ھ کو جوار رحمت میں داخل ہوئے۔
مزار فیض آثار آگرہ میں مرجع خاص و عام ہے،
عمر:
بوقت وفات آپ کی عمر ۷۱ سال کی تھی۔۸؎
خلفاء:
آپ کی وفات کےبعدآپ کےچھوٹےصاحب زادےحضرت امیرنورالعلیٰ آپ کےسجادہ نشین ہوئے۔ آپ کےمقتدرخلفاء حسب ذیل ہیں۔ آپ کےبڑے صاحب زادےحضرت امیرفیض اللہ اورآپ کےچھوٹے صاحب زادے حضرت امیر نورالعلیٰ۔ حضرت خواجہ محمدی عرف خواجہ فولاد،حضرت ملاولی محمد،حضرت لاڈ خاں،حضرت میر سید کالپوری، حضرت سیددوست محمدبرہان پوری۔ سیرت مقدس: آپ صاحب نسبت اورصاحب کرامت بزرگ تھے۔ عبادت، ریاضات، مجاہدات، ترک و تجرید، صبروتحمل،فقروفاقہ،عفودرگزر،قناعت و توکل میں یگانہ روزگارتھے۔سخاوت،عطاوبخشش کےلئے مشہورتھے۔کمالات صوی سےآراستہ تھے۔علم ظاہروباطن میں دستگاہ حاصل تھی۔"رسالہ فناوبقا" آپ کی علمی یادگارہے۔ تعلیمات: آپ کی تعلیمات تصوف کابیش بہاخزانہ ہیں۔ فنافی الافعال: "سالک کااپنےاختیارسے،تمام عالم کےاختیارسے باہرآناہےاوراس سےغرض یہ ہے کہ ایسےتمام حرکات وسکنات وافعال کہ جن کووہ اس سےپہلےاپنےاوردوسروں کی طرف نسبت کرتاتھااوران کو اپنی طرف سےاورنیزدوسروں کی طرف سےجانتاتھا،ان سب کو وہ حق کی طرف نسبت کرےاور سب کوحق تعالیٰ کی طرف سےجانےاوراپنےتمام افعال کوحق کی طرف ایسےخیال کرے،جس طرح کنجی کی حرکت کوہاتھ کےساتھ نسبت
آگرہ کوروانگی:
ابھی آپ بردوان ہی میں تھےکہ شہنشاہ اکبرکےانتقال کی خبرپہنچی۔جہانگیرنےتخت پربیٹھتےہی یہ فرمان جاری کیاکہ سب امراءوناظم دربارمیں حاضر ہوں،تاکہ ان کی قابلیت،لیاقت ووجاہت کااندازہ ہوسکے۔آپ تو خودہی بردوان سےجاناچاہتےتھے،اس شاہی فرمان کوتائیدغیبی سمجھااورآگرہ روانہ ہوگئے۔ راستےمیں میسری پڑتاتھا،آپ نےمیسری میں کچھ دن قیام کیا،وہاں ایک بزرگ رہتےتھے،جو حضرت یحییٰ میسری رحمتہ اللہ علیہ کی اولادسےتھےان بزرگ نےآپ کودیکھتےہی فرمایا۔۶؎ "آؤ شاہ اعلیٰ آؤ،جزاک اللہ،یہ تم نےخوب کیاکہ دنیاکوچھوڑدیا۔ الدنیاجیفۃ وطالبھاکلاب (دنیامردارہےاوراس کےطالب کتے) پہلےتوجیفہ پرگوشت بھی تھااوراب سوکھی ہڈی باقی ہے"۔ میسری سےروانہ ہوکرآگرہ پہنچے۔شہنشاہ جہانگیرسےملاقات ہوئی۔جہانگیرآپ کےجمال وکمال سے بہت متاثر ہوا۔
آپ بلاروک ٹوک شاہی دربارمیں آنےجانےلگے۔ ایک واقعہ: ایک دن کاواقعہ ہےکہ ساقی نےشہنشاہ جہانگیرکوجام پیش کیا۔جہانگیرنےاپنےہاتھ سےوہ جام آپ کو دیا،آپ نےبہ پاس ادب جام لےتولیا،لیکن وہیں پھینک دیا۔جہانگیرنےدوسراجام آپ کودیا، آپ نےلےکرپھرپہلےکی طرح پھینک یدا۔جہانگیرتاب نہ لاسکا،نشہ کی حالت میں آپ سے مخاطب ہوکرکہنےلگا: "یہ خودنمائی،یہ بےاعتنائی،اوہ،کیاتم غضب سلطانی سےنہیں ڈرتے"۔ آپ نےشہنشاہ جہانگیرکوجواب دیا۔ "غضب سلطانی سےنہیں ڈرتا،قہرربانی سےڈرتاہوں"۔ ترک دنیا: آپ اپنےمکان پرتشریف لائے،اپنامال ومتاع تقسیم کردیا،نقدوجنس میں سے اپنےپاس کچھ نہیں رکھا۔جہانگیرنےہرچندآپ کوبلایا،لیکن آپ نہیں گئے۔ شرف زیارت: اسی دن جب آپ مراقبہ میں تھے،آپ نےدیکھاکہ امام الاولیاءحضرت علی کرم اللہ وجہہ بصورت مثالی تشریف لائے ہیں اورآپ سےفرماتےہیں۔۷؎ "اےفرزندارجمند!کشودکارتمہاراحضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری سے مقدرہے،یہ تساہل اس قدرکیوں ہے،اٹھو،اجمیرجاؤ،دیرنہ لگاؤ،حصہ اپناپاؤ"۔ دربارغریب نوازمیں: اس فرمان کےپاتےہی آپ نےجوکچھ باقی مال ومتاع آپ کےپاس تھا،اس کو بھی راہ خدامیں لٹادیا، چادراوڑھ کراورسفیدتہہ بندباندھ کراجمیرروانہ ہوئے،دہلی پہنچ کرقطب الاقطاب حضرت خواجہ قطب الدین بختیارکاکی رحمتہ اللہ علیہ کی اورحضرت نظام الدین اولیاءرحمتہ اللہ علیہ کےمزارات پر حاضرہوئےاوران بزرگان کےروحانی فیوض سےمستفیدہوئے،دہلی سےاجمیرپہنچے۔خواجہ غریب نواز کےمزارمبارک پرحاضرہوئے،حضرت خواجہ غریب نوازبصورت مثالی آپ سے مخاطب ہوئے۔آپ کوسامنےبٹھاکرآپ کوتوجہ عینی فرمائی۔ ایک دن کا واقعہ ہےکہ آپ مزارپرانوارکاطواف کررہےتھےکہ حضرت خواجہ غریب نواز بصورت مثالی جلوہ گرہوئےاورآپ کوایک سرخ رنگ کی گولی جو تسبیح کےدانےکےبرابرتھی،عطا فرمائی۔وہ گولی کھاتےہی آپ کاقلب روشن ہوا۔آپ کاکام پوراہوا۔خواجہ غریب نوازنےآپ کو آگرہ واپس جانے کی تاکیدفرمائی۔آپ نےبیعت کی درخواست کی،خواجہ غریب نواز نے فرمایا۔ "تمہارےچچاامیرعبداللہ ماشاءاللہ عبادت گزارموجود ہیں،انہیں سےبیعت مناسب اوران ہی کی صاحب زادی سے مناکحت واجب ہے"۔
بیعت و خلافت:
حسب فرمان خواجہ غریب نوازآپ حضرت امیرعبداللہ سےبیعت ہوئے،آپ کے پیر و مرشد حضرت امیرعبداللہ نےاپنےہاتھ سے انگوٹھی اتارکرآپ کوپہنادی،بعدازاں آپ کےپیرومرشد نےآپ کوخرقہ خلافت سے سرفرازفرمایا۔
ازواج واولاد:
خواجہ غریب نوازکےحکم کےمطابق آپ نےاپنےچچااورپیرومرشدحضرت امیرعبداللہ کی صاحب زادی سے شادی کی،آپ کے دونوں لڑکے،حضرت امیرفیض اللہ اورحضرت امیرنورالعلیٰ زہد، متقی و پرہیزگاراورصاحب مقامات عالیہ تھے۔
وفات:
آپ ۹ صفر ۱۰۶۱ھ کو جوار رحمت میں داخل ہوئے۔
مزار فیض آثار آگرہ میں مرجع خاص و عام ہے،
عمر:
بوقت وفات آپ کی عمر ۷۱ سال کی تھی۔۸؎
خلفاء:
آپ کی وفات کےبعدآپ کےچھوٹےصاحب زادےحضرت امیرنورالعلیٰ آپ کےسجادہ نشین ہوئے۔ آپ کےمقتدرخلفاء حسب ذیل ہیں۔ آپ کےبڑے صاحب زادےحضرت امیرفیض اللہ اورآپ کےچھوٹے صاحب زادے حضرت امیر نورالعلیٰ۔ حضرت خواجہ محمدی عرف خواجہ فولاد،حضرت ملاولی محمد،حضرت لاڈ خاں،حضرت میر سید کالپوری، حضرت سیددوست محمدبرہان پوری۔ سیرت مقدس: آپ صاحب نسبت اورصاحب کرامت بزرگ تھے۔ عبادت، ریاضات، مجاہدات، ترک و تجرید، صبروتحمل،فقروفاقہ،عفودرگزر،قناعت و توکل میں یگانہ روزگارتھے۔سخاوت،عطاوبخشش کےلئے مشہورتھے۔کمالات صوی سےآراستہ تھے۔علم ظاہروباطن میں دستگاہ حاصل تھی۔"رسالہ فناوبقا" آپ کی علمی یادگارہے۔ تعلیمات: آپ کی تعلیمات تصوف کابیش بہاخزانہ ہیں۔ فنافی الافعال: "سالک کااپنےاختیارسے،تمام عالم کےاختیارسے باہرآناہےاوراس سےغرض یہ ہے کہ ایسےتمام حرکات وسکنات وافعال کہ جن کووہ اس سےپہلےاپنےاوردوسروں کی طرف نسبت کرتاتھااوران کو اپنی طرف سےاورنیزدوسروں کی طرف سےجانتاتھا،ان سب کو وہ حق کی طرف نسبت کرےاور سب کوحق تعالیٰ کی طرف سےجانےاوراپنےتمام افعال کوحق کی طرف ایسےخیال کرے،جس طرح کنجی کی حرکت کوہاتھ کےساتھ نسبت
ہےاورمردہ کی جنبش کوغسل دینےوالےکی کےہاتھ کےساتھ نسبت ہے"۔ "کسی شےاورکسی چیزکوکسی غیرحق کی طرف نسبت نہ کرےکہ صوفیہ عالیہ کےگروہ کےنزدیک اس کانام بھی شرک ہے"۔ فنافی الصفات: آپ فرماتےہیں کہ:۹؎ "فنافی الصفات سےمرادیہ ہے کہ سالک اپنےتمام صفات کونیزدوسروں کی تمام صفات کو صفات حق جانےاوراپنی ہرصفت اوردوسروں کی ہرصفت کو کہ جس سےمرادعلم اورارادت اورمشیت اور قدرت اورسمع اورکلام وغیرہ ہے،جس طرح اسےپہلےاپنی طرف اوردوسروں کی طرف نسبت کرتا تھا،اپنی ملکیت اوردوسروں کی ملکیت جانتاتھا،سب کوحق کی طرف نسبت کرےاورحق کی صفات جانے۔پھرکبھی اپنی طرف ونیزدوسروں کی طرف نسبت نہ کرے،کیوں کہ یہ حالت بھی اس طائفہ کےنزدیک شرک عظیم ہے"۔ فنافی الذات: آپ فرماتےہیں کہ:۱۰؎ فنافی الذات سےمرادیہ ہے کہ سالک اپنی ذات اورتمام عالم کی ذات کوذات حق جانےاور دیکھے۔ اس سے پہلےجس طرح کہ وہ اپنی ذات اورعالم کو عالم جانتاتھا۔اس مرتبہ پر پہنچ کرتحقیقی طورپر جانے اورنظرکرےکہ وہ سب حق ہےاوریقین سمجھےاورخیال کرےکہ وہ حضرت حق تعالیٰ جل شانہ نےمرتبہ اطلاق سےنزول فرماکران مختلف صورتوں میں اور انواع انواع شکلوں میں ظہور فرمایاہے،وہی وہ ہےاوراس کاغیرموجودنہیں"۔ "اسی وجہ سےرسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نےفرمایاہے۔ حدیث:من عرف نفسہ فقد عرف ربہ۔ کہ جوشخص اپنی حقیقت کواس طرح پہچانےکہ میں،میں نہیں ہوں،بلکہ حق ہےجواس صورت سے ظاہرہواہے،پس ایسا شخص اپنےپروردگارکوپہچان لیتاہےاوردوسری جگہ فرمایاہے۔ عرفت ربی بربی اس سے غرض یہ ہے کہ جب تک میں اپنےآپ کونہیں جانتاتھا،میں نےحق کو نہیں پہچاناتھا اور جب میں نےاپنےآپ کوفناحق جانامیں اپنی ہستی سےالگ ہوگیا،اس وقت میں نے حق کو حق جانا۔ "اورجب توخودفانی ہوجائےگا،اس وقت خداکاجلوہ تجھےنظرآئے گالیکن اس مرتبہ عرفان اور اس درجہ فناکےلئے ایک خاص ترتیب ہے۔۔۔اور وہ ترتیب یہ ہے: اول:سالک کو چاہیےکہ وہ تمام عالم کو ایک آئینہ فرض کرےاورانوارجمال حق کو ہمیشہ آئینےمیں دیکھتارہےاوراس نسبت میں ایسامنہمک ومقیدہوجائے کہ یہ تصور کسی لحظہ و لمحہ دل سےدوراورآنکھ سےاوجھل نہ ہو۔۔۔ "بعدہ سالک کو چاہیےکہ اس مرتبےسےترقی کرکےمرتبہ اعلیٰ پرپہنچےاو رتمام عالم کوحق دیکھے۔۔۔ "سالک کو چاہیے کہ وہ اس کے بعد اورترقی کرےاوراس سےزیادہ اعلیٰ مرتبہ پر پہنچےاوراپنےآپ کو تمام باقی حجابات سےدوررکھ کراپنےوجود کی نفی کرےاوروجود حق کےاثبات میں خاص کوشش کرےاوراس سے غرض یہ ہے کہ چشم ظاہرکوپوشیدہ کرکےیہ خیال کرےکہ جس سے خود کومیں جانتاتھا،وہ میں،میں نہیں ہوں،وہ حق ہے،جواس صورت میں ظاہرہواہےاوراس صورت میں اس طرح کامل ہمیشگی و محویت پیداکرےکہ وہ اپنےآپ اورتمام عالم کو قطعی فراموش کرکےمحض ذات حق دیکھےاوراسی کو حق جانےاورمانے۔۔۔ "سالک کوجانناچاہیےکہ باخداہونےکےمعنی اپنی ہستی سےگزرجانےاورنیست ہونےکامطلب یہی ہےکہ اورجملہ طالبان خداکا مقصود ومطلوب یہی ہےونیزتمام فقراء کی انتہااوراس مقام کےکمال پر پہنچ جانافنافی اللہ کاحاصل ہوجانا۔۔۔یہی وجہ ہے کہ دراصل صوفی ایسےشخص کونہیں کہتےکہ وہ چلہ کشی کرے،خلوتوں میں ریاضتوں میں مشغول رہے،بلکہ صوفی وہ ہےکہ جواپنےآپ کوفنا کردےاورجب صوفی اس مقام پر پہنچتاہےتواس کوان ہرسہ مقولات کےاثرات منکشف ہوجاتے ہیں۔۔۔۔ اقوال: ۔ قدرولی کوئی نہیں جانتا،البتہ ولی اپنی قدرآپ ہی جانتاہے۔ ۔ اہل دنیاپست ہمت،بےعقل،نادان،انجان،زندگی،ان کی زرومال،تسبیح،ان کی دولت، ثروت،جاہ وجلال،دنیا،مقام عبرت و ذلت،دنیاشیطان لعین کی میراث وملکیت قابل نفرت،دنیا دار،مکار،روپےپیسےکی ذکروفکرمیں مستغرق و غلطاں وپچاں،فقرا،دیدارالٰہی میں متجسس وپریشان۔ ۔ انسان کوچاہیےکہ اپنی بہتری وبھلائی کو دوسرےکےمقابلےمیں ترجیح نہ دے۔ ۔ مشکلات کاحل تقویٰ ہے۔ ۔ زندگی کامقصد عبادت الٰہی ہے،یہی دنیاکی کمائی ہے۔ ۔ درویشی بادشاہی سےبدرجہابہترگرفتاری خلق مانع و مزاحم نہ ہو۔ ۔ صوفی وہ نہیں ہےجوچلہ کشی کرے،خلوت میں بیٹھ کرریاضت و مشقت اختیارکرے بلکہ صوفی وہ ہےکہ خود باقی نہ رہے۔ اورادو وظائف: آپ فرماتےہیں کہ قلب کی صفائی کےلئےذکر:"لاالٰہ الااللّٰہ"مفیدہے۔ آپ فرماتےہیں کہ آگاہی دوام بھی ضروری ہے۔۱۱؎ آپ فرماتےہیں کہ مراقبےکےفوائد بہت ہیں۔ کرامات: ایک دن آپ اپنی خانقاہ میں رونق افروزتھےکہ یکایک آپ نےحضرت امیرنورالعلاءسےفرمایاکہ "کچھ ایسامعلوم ہوتاہےکہ شاہجہاں بادشاہ کےدربارمیں اس وقت خون ریزی ہورہی ہے۔تھوڑی دیر کےبعدنواب صداقت خاں کےقتل کی خبرسارےشہرمیں پھیل گئی۔۱۲؎ حضرت ملاعمرکوسماع میں کیفیت ہوئی،انہوں نےاسی حالت میں اپنی جان شیریں جان آفریں کے سپردفرمائی۔جب ان کوآپ(حضرت سیدنا)کی خدمت میں لایاگیا،توآپ نےان پرایک نگاہ ڈالی، ملا عمراٹھ کربیٹھ گئےاورپھرحالت وجدمیں رقص کرنےلگے۔ ایک بدمست ہاتھی لوگوں کوپریشان کرتاتھا۔اس کےخوف سےلوگ چھپ جاتےتھے۔ایک دن آپ جامع
مسجدسےخانقاہ جارہےتھے۔آپ نےشورسنا،پوچھاکہ یہ شورکیساہے؟مریدوں نے عرض کیاکہ ایک بدمست ہاتھی آرہاہے،اس سے بچنےکی تدبیرضروری ہے۔کسی گلی میں جانامناسب ہے،آپ نےیہ سن کرفرمایا۔ "باباابوالعلاءاپنی راہ جاتاہے،وہ اپنی راہ جائے"۔ جب وہ مست ہاتھی سامنےآیا،آپ نےاس کی طرف بغوردیکھا،ہاتھی ایک دم رک کرکھڑاہوگیا، آپ اس بدمست ہاتھی کےبرابرسےنکلےاورچلےگئے۔ کچھ دن کےبعدآپ کواطلاع ہوئی کہ وہ بدمست ہاتھی خانقاہ کےدروازےپرکھڑاہے۔آپ اس کےپاس تشریف لےگئےاوراس سے فرمایاکہ مخلوق کوپریشان کرنااچھانہیں،بہتریہ ہے کہ راج گھاٹ جاکرلوگوں کودریاپارکراؤ،وہ ہاتھی راج گھاٹ گیااورلوگوں کو اپنی پیٹھ پربٹھاکردریاپار اتارنے لگا،کچھ ہی دنوں میں وہ ہاتھی میرصاحب کاہاتھی کہلایا۔ ایک دن کا واقعہ ہےکہ آپ کی ملاقت ایک جوگی سےجمناپرہوئی۔اس جوگی نے ایک ڈبیہ آپ کو پیش کی۔آپ نےجوگی سےدریافت کیاکہ ڈبیہ میں کیاہے۔جوگی نےجواب دیاکہ اکسیرہےاور اکسیرکی صفت یہ ہے کہ ایک رتی بھرتانبے پرملنےسےتانباسوناہوجاتاہے۔آپ نے وہ ڈبیہ جمنامیں پھینک دی اورجوگی سے فرمایا۔ سادھوجی انسان توخوداکسیرہے،ایسی صورت میں دوسری اکسیرکی تدبیرکرناانسان کی تحقیرہے"۔ جوگی کو رنج ہوا،آپ سےکہنےلگاکہ"افسوس میری ساری عمرکی کمائی آپ نے جمنامیں لٹائی"۔ آپ نےاس جوگی سے پوچھا۔"اچھایہ توبتاؤ،اکسیرکیسی ہوتی ہے"جوگی نےجواب دیا"خاک سی"۔ پھرآپ نےجوگی سےفرمایا۔ خاک کی یہ دہاک،یہ افسوس اورملال،ادھردیکھو،جمناکی یہ ریت سب خاک ہے،جتنی چاہے لووہ تو ایک چھوٹی سی ڈبیہ تھی،بڑےشوق سےڈبےبھرلواوربےتکلف اس سےسونابنالو"۔ سادھوکویقین نہ آیا،پھربھی اس نےتھوڑی سی ریت بطورآزمائش لےکرتانبےپرملی،تانبازرخالص ہوگیا،سادھو آپ کی یہ کرامت دیکھ کرآپ کامعتقدہوا۔
حواشی:
۱؎ اسرار ابو العلٰی ص۹
۲؎ اسرار ابو العلیٰ ص۳
۳؎ اسرار ابو العلی ص۱۲،۱۱
۴؎ اسرار ابوالعلی ص ۱۳ اذکار الاحرار
۵؎ اسرار ابو العلی ص۱۴
۶؎ اسرار ابو العلی ص۱۵
۷؎ اسرار ابو العلی ص۱۷
۸؎ اسرار ابو العلیٰ ص۸۷
۹؎رسالہ فناوبقاء(اسرارابوالعلی)ص۳۰
۱۰؎ رسالہ فنا و بقاء
۱۱؎ رسالہ فنا و بقاء
۱۲؎ اذکار الاحرار
۱۳؎ اسرار ابو العلی ص ۷۰
( تذکرہ اولیاءِ پاک و ہند )
Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/syedna-shah-ameer-abul-ali
Copyright © Zia-e-Taiba
حواشی:
۱؎ اسرار ابو العلٰی ص۹
۲؎ اسرار ابو العلیٰ ص۳
۳؎ اسرار ابو العلی ص۱۲،۱۱
۴؎ اسرار ابوالعلی ص ۱۳ اذکار الاحرار
۵؎ اسرار ابو العلی ص۱۴
۶؎ اسرار ابو العلی ص۱۵
۷؎ اسرار ابو العلی ص۱۷
۸؎ اسرار ابو العلیٰ ص۸۷
۹؎رسالہ فناوبقاء(اسرارابوالعلی)ص۳۰
۱۰؎ رسالہ فنا و بقاء
۱۱؎ رسالہ فنا و بقاء
۱۲؎ اذکار الاحرار
۱۳؎ اسرار ابو العلی ص ۷۰
( تذکرہ اولیاءِ پاک و ہند )
Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/syedna-shah-ameer-abul-ali
Copyright © Zia-e-Taiba
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
حضرت صوفی عنایت اللہ شاہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بن مخدوم فضل اللہ بغدادی شہید (متوفّٰی: ۱۱۳۰ھ) ـ
شجرۂِ نسب:
سر زمینِ سِندھ کے مشہور صوفی عنایت اللہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا شجرۂ نسب اس طرح ہے: عنایت اللہ بن مخدوم فضل اللہ بن ملا یو سف بن ملّا شہاب بن ملّا آجب بن مخدوم صدھو لا نگاہ قادری ۔
حالات:
مخدوم لانگاہ کے بزرگوں کا اصل وطن بغداد تھا، یہ لوگ اچ میں آ کر مقیم ہو گئے تھے ،صوفی عنایت شاہ کی ولادت ۱۰۶۵ھ/ ۱۶۵۶ء میں میراں پور میں ہوئی ۔
جب جوان ہوئے تو تلاشِ مرشد میں ملتان پہنچے، یہاں آپ کی ملاقات شمس شاہ سے ہوئی ۔ یہ صاحبِ دل بزرگ تھے، انہوں نے آپ کو مشورہ دیا کہ آپ دکن میں شاہ عبد الملک کی خدمت میں حاضر ہوں اور ان سے فیض حاصل کریں، چنانچہ آپ وہاں پہنچے اور کسبِ فیض کیا، پھر آپ دہلی تشریف لائے اور شاہ غلام محمد سے علومِ متداولہ کو حاصل کیا، شاہ غلام محمد اگرچہ آپ کے استاد تھے مگر وہ آپ کے زہد و تقویٰ سے اس درجہ متاثر تھے کہ آپ کے ہاتھ پر بیعت کر لی، ظاہری و باطنی علوم سے مالا مال ہو کر آپ اپنے استاد شاہ غلام محمد کو لے کر ٹھٹّہ وارد ہوئے، پہلے تو ٹھٹہ کو آپ نے مرکزِ رشد و ہدایت بنایا، مگر یہاں آپ کی مخالفت ہونے لگی، مِن جملہ اَسباب کے سجدۂ تعظیمی تھا ۔
آپ کے استاد اور مرید شاہ غلام محمد آپ کو سجدۂ تعظیمی کیا کرتے تھے، اُن کو اُس زمانے کی عدالت سے اِس کی سزا بھی دی گئی، اُس کے بعد تو شاہ غلام محمد تو اپنے مرشد کے حکم سے دہلی واپس آ گئے، شاہ عنایت اللہ ٹھٹہ سے میراں پور ، تشریف لائے جو پہلے جھوک کے نام سے مشہور تھا، یہاں آپ نے اصلاحِ نفس اور تز کیۂ باطن کے لیے ایک خانقاہ کی بنیاد ڈالی، جو بِالآخر زہد و عرفان کا مرکز بن گئی، دور دراز سے ہزاروں طالبانِ حق جوق در جوق یہاں آتے اور فیض پاتے ۔ آپ کی تعلیمات میں ایسی کشش تھی کہ اس دور کی دوسری خانقاہوں کی چمک دمک اس خانقاہ کے سامنے ماند پڑ گئی، یہاں تک کہ ساداتِ بلڑی کے مریدین بھی آپ کے حلقہ بگوش ہونے لگے ۔
شہادت / مزارِ مبارک:
کہا جاتا ہے کہ ساداتِ بلڑی کی مخالفت بالآخر آپ کی اندوہ ناک شہادت پر منتج ہوئی ، آپ کی شہادت ۹ صفر ۱۱۳۰ھ کو واقع ہوئی ۔ (مقالات الشعراء، باب الالف)
مزار مبارک:
آپ کا مزار شریف جھوک میں مرجعِ خلائق ہے ۔ یہ درگاہ سندھ کی بڑی درگاہوں میں سے ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sufi-inayatullah-shah
شجرۂِ نسب:
سر زمینِ سِندھ کے مشہور صوفی عنایت اللہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا شجرۂ نسب اس طرح ہے: عنایت اللہ بن مخدوم فضل اللہ بن ملا یو سف بن ملّا شہاب بن ملّا آجب بن مخدوم صدھو لا نگاہ قادری ۔
حالات:
مخدوم لانگاہ کے بزرگوں کا اصل وطن بغداد تھا، یہ لوگ اچ میں آ کر مقیم ہو گئے تھے ،صوفی عنایت شاہ کی ولادت ۱۰۶۵ھ/ ۱۶۵۶ء میں میراں پور میں ہوئی ۔
جب جوان ہوئے تو تلاشِ مرشد میں ملتان پہنچے، یہاں آپ کی ملاقات شمس شاہ سے ہوئی ۔ یہ صاحبِ دل بزرگ تھے، انہوں نے آپ کو مشورہ دیا کہ آپ دکن میں شاہ عبد الملک کی خدمت میں حاضر ہوں اور ان سے فیض حاصل کریں، چنانچہ آپ وہاں پہنچے اور کسبِ فیض کیا، پھر آپ دہلی تشریف لائے اور شاہ غلام محمد سے علومِ متداولہ کو حاصل کیا، شاہ غلام محمد اگرچہ آپ کے استاد تھے مگر وہ آپ کے زہد و تقویٰ سے اس درجہ متاثر تھے کہ آپ کے ہاتھ پر بیعت کر لی، ظاہری و باطنی علوم سے مالا مال ہو کر آپ اپنے استاد شاہ غلام محمد کو لے کر ٹھٹّہ وارد ہوئے، پہلے تو ٹھٹہ کو آپ نے مرکزِ رشد و ہدایت بنایا، مگر یہاں آپ کی مخالفت ہونے لگی، مِن جملہ اَسباب کے سجدۂ تعظیمی تھا ۔
آپ کے استاد اور مرید شاہ غلام محمد آپ کو سجدۂ تعظیمی کیا کرتے تھے، اُن کو اُس زمانے کی عدالت سے اِس کی سزا بھی دی گئی، اُس کے بعد تو شاہ غلام محمد تو اپنے مرشد کے حکم سے دہلی واپس آ گئے، شاہ عنایت اللہ ٹھٹہ سے میراں پور ، تشریف لائے جو پہلے جھوک کے نام سے مشہور تھا، یہاں آپ نے اصلاحِ نفس اور تز کیۂ باطن کے لیے ایک خانقاہ کی بنیاد ڈالی، جو بِالآخر زہد و عرفان کا مرکز بن گئی، دور دراز سے ہزاروں طالبانِ حق جوق در جوق یہاں آتے اور فیض پاتے ۔ آپ کی تعلیمات میں ایسی کشش تھی کہ اس دور کی دوسری خانقاہوں کی چمک دمک اس خانقاہ کے سامنے ماند پڑ گئی، یہاں تک کہ ساداتِ بلڑی کے مریدین بھی آپ کے حلقہ بگوش ہونے لگے ۔
شہادت / مزارِ مبارک:
کہا جاتا ہے کہ ساداتِ بلڑی کی مخالفت بالآخر آپ کی اندوہ ناک شہادت پر منتج ہوئی ، آپ کی شہادت ۹ صفر ۱۱۳۰ھ کو واقع ہوئی ۔ (مقالات الشعراء، باب الالف)
مزار مبارک:
آپ کا مزار شریف جھوک میں مرجعِ خلائق ہے ۔ یہ درگاہ سندھ کی بڑی درگاہوں میں سے ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sufi-inayatullah-shah
scholars.pk
Hazrat Sufi Inayatullah Shah
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
This Web Page have good information about Islam and contains brief introduction of a great Islamic Celebrity / Personality (Religious Scholar).
❤1