🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
اس کے علاوہ بھي کئي محدثين نے امام حاکم پر جرح کي ہے۔ امام حاکم کے علاوہ بعض احباب مؤرخ مسعودي المتوفي 346ھ کا قول کہ ’’وکان مولدہ في الکعبۃ‘‘ کہ حضرت علي رضي اللہ عنہ کعبہ ميں پيدا ہوئے نقل کرتے ہيں۔
(مروج الذھب و معاون الجوھر، ج2ص351 دارلقلم بيروت)
مسعودي کے متعلق مجدد دين و ملت امام اہل سنت الشاہ احمد رضا خان عليہ الرحمۃ الرحمن فرماتے ہيں کہ ’’مسعودي علي بن حسين صاحب مروج تو خود رافضي ہے اس کي کتاب مروج الذھب خلفائے کرام و صحابہ عظام، عشرہ مبشرہ وغيرہم رضي اللہ عنہم پر صريح تبرا سے جا بجا آلود و ملوث ہے لوط بن يحيي بو مخنف رافضي خبيث ہالک کے اقوال و نقول بکثرت لاتا ہے جس کے مردود و تالف ہونے پر آئمہ جرح و تعدل کا اجماع ہے اسي طرح اور رفاض و فساق و ہالکين کے اخبار پر اسکي کتاب کا مدار ہے جيسا کہ اس کے مطالعہ سے واضح و آشکار ہے۔
(الفتاويٰ الرضويہ ج29 ص700 رضا فاؤنڈيشن لاہور)
بعض نے حضرت علي رضي اللہ عنہ کے مولود کعبہ ہونے کا ماخذ فصول المھمہ نقل کيا ہے۔
شارح بخاري علامہ شمس الدين محمد بن عمر بن احمد السفيري الشافعي المتوفي 956ھ فصول المھمہ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہيں کہ
’’وما نقله في الفصول المهمة لبعض المالكية من أن سيدنا علي بن أبي طالب ولدته أمة في جوف الكعبة، فهو ضعيف عند العلماء ‘‘
اور فصول المھمہ مٰں ہے کہ بعض مالکيہ نے نقل کيا کہ سدنا علي بن ابي طالب کعبہ شريف ميں پيدا ہوئے، پس علماء کے نزديک يہ ضعيف ہے۔
(المجالس الوعظيۃ في شرح احاديث خير البريۃﷺ من صحيح الامام البخاري، ج2ص161 مکتبۃ الشاملہ)
مصطفى بن عبد الله كاتب جلبي القسطنطيني المشهور باسم حاجي خليفة أو الحاج خليفة کشف الظنون ميں لکھتے ہيں کہ
’’ وقد نسب بعضهم المصنف في ذلك إلى الترفض.كما ذكره في خطبته.‘‘
يعني کتاب کے مصنف کو رافضيت کي طرف منسوب کيا گيا ہے، جيسا کہ کتاب کے خطبہ سے پتہ علم ہوتا ہے۔
(كشف الظنون عن أسامي الكتب والفنون ج 2 ص 1271 مکتبۃ الشاملہ)
اگر ان تينوں کتب کے مصنف رافضي نہ بھي ہو تو پھر بھي ان کي قول کو تسليم نہيں کيا جاسکتا ہے۔ روايات سے يہ واضح ہوا کہ حضرت حکيم بن حزام رضي اللہ عنہ کعبہ ميں پيدا ہوئے ان کے علاوہ يہ سعادت کسي کو حاصل نہيں تو سوال يہ ہے کہ حضرت علي رضي اللہ عنہ کي ولادت کہاں ہوئي۔
محدثين عظام و فقہاء کرام بيان کرتے ہيں کہ
’’ولد علي بمکۃ في شعب بني ھاشم‘‘
يعني حضرت علي رضي اللہ عنہ کي ولادت مکہ ميں شعب بني ھاشم ميں ہوئي۔
(تاريخ خليفہ بن خياط ص 120 مکتبۃ الشاملہ۔۔۔۔ تاريخ دمشق الکبير ج42ص 575مکتبۃ الشاملہ۔۔۔۔ مختصر تاريخ دمشق ج18ص97 مکتبۃ الشاملہ۔۔۔۔ کتاب العقد الفريد ج5ص61 مکتبۃ الشاملہ)
ديگر مورخين نے بھي حضرت علي رضي اللہ عنہ کي جائے ولادت شعب بني ھاشم ذکر کي ہے۔ خليفہ اعلي حضرت صدرالشريعہ بدرالطريقہ مفتي امجد علي اعظمي المتوفي 1367ھ فرماتے ہيں کہ ’’مکان ولادت اقدس حضور انور ﷺ و مکان حضرت خديجۃ الکبري رضي اللہ عنہا و مکان ولادت حضرت علي رضي اللہ عنہ و جبل ثور و غارِ حرا و مسجد الجن و مسجد جبل ابي قيس وغيرہا مکانات متبرکہ کي بھي زيارت سے مشرف ہو۔‘‘
(بہار شريعت، حصہ6 ج1 ص 1150 مکتبۃ المدينہ کراچي)
روايات و آثار سے يہ بات واضح ہو گئي کہ مولودِ کعبہ حضرت حکيم بن حزام رضي اللہ عنہ ہيں، آپ کے علاوہ کعبہ ميں کسي کي ولادت نہيں ہوئي۔ حضرت علي رضي اللہ عنہ کا مولودِ کعبہ نہ ہونے سے آپ کے حضرت حکيم بن حزام رضي اللہ عنہ پر افضليت ثابت نہيں ہوتي۔ اگر حضرت علي رضي اللہ عنہ کے فضائل و اوصاف پرھنے ہو تو مجدد دين و ملت امام اہل سنت الشاہ احمد رضا خان عليہ الرحمۃ الرحمن کي کتاب ’’مطلع القمرين في ابانۃ سبقۃ العمرين‘‘ کامطالعہ کريں۔ اس تحرير کا مقصد صرف اہل سنت کو رافضيت سے بچانا ہے۔
آمين يا رب العالمين بجاہ نبي الکريم ﷺ

مزید تفصیل کے لیے قاری محمد لقمان کی کتاب مولود کعبہ کون کا مطالعہ کیجیے. یہ تحریر اس کتاب کی تلخیص یے اور تحریر کا مقصد اہل سنت کو رافضی عقائد سے آگاہ کرنا اور بچانا ہے.

طالب دعا :
ابو برھان محمد قیصر مصطفی قادری
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کچھ دنوں سے دیکھا جا رہا ہے کہ پاکستان کے کوفہ (قائدِ ملتِ اسلامیہ مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی رحمۃ اللہ علیہ راولپنڈی کو کوفہ کہا کرتے تھے) کے نیم رافضی ملاں اور ان کے دم چھلے رافضیوں کی ہمنوائی کرتے ہوئے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو مولود کعبہ ثابت کرنے کے لیے تحریف کر رہے ہیں اور ایک کتاب "سیرت مصطفےٰ جانِ رحمت" کا حوالہ دے کر "مولود کعبہ" کا عقیدہ اعلیٰ حضرت کے سر تھوپ رہے ہیں حالانکہ یہ سراسر غلط ہے ۔ نہ تو یہ کتاب اعلیٰ حضرت کی ہے اور نہ ہی اعلیٰ حضرت کی کسی کتاب میں ایسا عقیدہ موجود ہے ۔
(1) اس کتاب کے مرتب محمد عیسیٰ رضوی نامی عالم ہیں ۔ انھوں نے لکھا ہے اور کوئی حوالہ نقل نہیں کیا اور نہ ہی اعلیٰ حضرت کی کسی تصنیف میں ایسی عبارت موجود ہے ۔ لہٰذا اس کی ذمہ داری صرف اور صرف کتاب کے مرتب کرنے والے پر ہے ۔
(2) پاکستان میں اس کتاب کو ملک شبیر حسین (شبیر برادرز) نے چھاپا ہے اور پورا اردو بازار لاہور جانتا ہے کہ یہ شخص رافضی ہے ۔ کسی کو یقین نہ ہو تو نعیمی کتب خانہ پر جا کر راشد نعیمی سے اس کی تصدیق کر سکتا ہے ۔ یہ وہ شخص ہے جس نے حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ کی شہرۂ آفاق وہابیت کش کتاب "جاء الحق" میں جا بجا تحریف کی ہے جس کا ثبوت نعیمی کتب خانہ پر جا کر دیکھا جا سکتا ہے ۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو ولادت کہاں ہوئی دو حوالے ملاحظہ کیجیے ۔ محمد بن أحمد بن علي، تقي الدين، أبو الطيب المكي الحسني الفاسي (المتوفى: 832ھ) لکھتے ہیں:
مولد علي بن أبي طالب رضي الله عنه قريبا من مولد النبي صلى الله عليه وسلم من أعلاه مما يلي الجبل، وهو مشهور عند أهل مكة بذلك لا اختلاف بينهم فيه………وعلى بابه مكتوب: هذا مولد أمير المؤمنين علي بن أبي طالب رضوان الله عليه . (شفاء الغرام بأخبار البلد الحرام 358:1 دار الكتب العلمية بيروت)
ترجمہ:حضرت علی کی ولادت گاہ نبی کریم ﷺ کی ولادت گاہ کے قریب ہے اور یہ اہلِ مکہ کے نزدیک بلا اختلاف مشہور ہے ۔ نیز اس کے دروازے پر لکھا ہے کہ یہ حضرت علی کی جائے ولادت ہے ۔
محمد بن أحمد بن الضياء محمد القرشي العمري المكي الحنفي، بهاء الدين أبو البقاء، المعروف بابن الضياء (المتوفى: 854ھ) لکھتے ہیں:
مولد علي بن أبي طالب رضي الله عنه وهذا الموضع مشهور عند الناس بقرب مولد النبي صلى الله عليه وسلم بأعلى الشعب الذي فيه المولد………وعلى بابه حجر مكتوب فيه هذا مولد أمير المؤمنين علي بن أبي طالب ۔ (تاريخ مكة المشرفة والمسجد الحرام والمدينة الشريفة والقبر الشريف، صفحہ 185 دار الكتب العلمية بيروت)
اعلیٰ حضرت کے خلیفہ صدر الشریعۃ علامہ امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
"مکان ولادت اقدس حضورِ انور ﷺ و مکان حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا و مکان ولادتِ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ و جبل ثور و غارِ حِرا و مسجدالجن و مسجد جبل ابی قبیس وغیرہا مکانات متبرکہ کی بھی زیارت سے مشرف ہو ۔" (بہارِ شریعت، حصہ 6 صفحہ 1150 مکتبۃ المدینہ کراچی)
اعلیٰ حضرت عظیم البرکت مجدد دین وملت "تحفہ اثناء عشری" کے حوالے سے لکھتے ہیں:
"جو کہا جاتاہے کہ فاطمہ بنت اسد کو وحی آئی کہ تو خانہ کعبہ میں جا اور وہاں بچے کی پیدائش کر، یہ سب جھوٹ اور بے پر بات ہے ۔" (فتاویٰ رضویہ 193:15 اور 248:15 رضا فاؤنڈیشن لاہور)
اگر کسی کے پاس اس سلسلے میں اعلیٰ حضرت کی کسی کتاب کا حوالہ موجود ہے تو وہ پیش کرے ورنہ اپنی خباثتوں کو اپنے گھر تک ہی محدود رکھیں ۔......

: علامہ یس اختر مصباحی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
✰ابواسید عبیدرضامدنی✰:
*سوال نمبر 118:*
کیا حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کی پیدایش خانہ کعبہ شریف کے اندر ہوئی ہے ؟
*جواب :*
جی نہیں ! حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی ولادت خانہ کعبہ کے اندر نہیں ہوئی, حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو مولودِ کعبہ سمجھنا ایسا کمزور گمان ہے جس کے ثبوت پر کوئی صحیح دلیل نہیں کیونکہ آپ کرم اللہ وجہہ الکریم اپنے والد ابوطالب کے مکان شعبِ بنی ہاشم کے اندر پیدا ہوئے, جس مکان کو لوگ مولدِ علی کے نام سے یاد کیا کرتے تھے اور اس مکان کے دروازے پر یہ عبارت لکھی ہوئی تھی :
*"ھذا مولد امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب "*
یعنی یہ حضرت امیر المومنین علی بن ابوطالب کرم اللہ وجہہ الکریم کی ولادت گاہ ہے.
اور اہل مکہ بھی اس پر بغیر اختلاف کے متفق تھے, نیز آپ کرم اللہ وجہہ الکریم کی ولادت گاہ پر ایک قبہ بنا ہوا تھا جس کو نجدیوں نے دیگر مقامات مقدسہ کے ساتھ گرادیا.
چنانچہ 1- امام مسلم بن حجاج قشیری رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں:
*"ولد حکیم ابن حزام فی جوف الکعبہ"*
یعنی حضرت حکیم بن حزام رضی اللہُ عنہ خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے.
*(صحیح مسلم کتاب البیوع باب الصدق فی البیع والبیان)*
2- امام بدر الدین عینی حنفی رحمۃ اللہ تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں :
*" (حکیم بن حزام) ولد فی بطن الکعبۃ"*
یعنی حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ تعالی عنہ خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے.
*(عمدۃالقاری شرح صحیح بخاری جلد 13 صفحہ 142 دارالکتب العلمیہ بیروت)*
3- امام ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ تعالی تحریر فرماتے ہیں :
*"وحکی الزبیر بن بکار ان حکیما ولد فی جوف الکعبہ"*
یعنی حضرت زبیر بن بکار رضی اللہ عنہ نے حکایۃً بیان کیا کہ حضرت حکیم بن حزام رضی اللہُ عنہ کی ولادت خانہ کعبہ کے اندر ہوئی.
*(الاصابہ فی تمییز الصحابہ جلد 2 صفحہ 98 دار الکتب العلمیہ بیروت)*
4- امام جلال الدین سیوطی شافعی رحمۃاللہ تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں :
*"حکیم بن حزام بن خویلد بن اسد وکان مولدہ فی جوف الکعبہ"*
یعنی حضرت حکیم بن حزام رضی اللہُ عنہ بن خویلد بن اسد. اور آپ کی ولادت گاہ خانہ کعبہ کے اندر تھی.
*(تدریب الراوی فی شرح تقریب النواوی صفحہ 355 دارالکتاب العربی بیروت)*
5- امام جلال الدین سیوطی شافعی رحمۃاللہ تعالی علیہ مزید اسی کتاب کے اگلے صفحہ پر تحریر فرماتے ہیں :
*"قال الزبیر بن بکار کان مولد حکیم بن حزام فی جوف الکعبہ قال شیخ الاسلام ولایعرف ذلک لغیرہ"*
یعنی حضرت زبیر بن بکار رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضرت حکیم بن حزام رضی اللہُ عنہ کی ولادت خانہ کعبہ کے اندر ہوئی,شیخ الاسلام فرماتے ہیں کہ وہ اس بات کو (خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہونے کو) حضرت حکیم بن حزام رضی اللہُ عنہ کے علاوہ کیلیے نہیں جانتے.
*(تدریب الراوی فی شرح تقریب النواوی صفحہ 356 دارالکتاب العربی بیروت)*
6- امام ابو ذکریا محی الدین یحی بن شرف نووی رحمۃ اللہ تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں :
*"ولد حکیم بن حزام فی جوف الکعبۃ ولایعرف احد ولد فیھا غیرہ"*
یعنی حضرت حکیم بن حزام رضی اللہُ عنہ کی ولادت خانہ کعبہ کے اندر ہوئی اور ان کے علاوہ کوئی ایسا شخص معلوم نہیں ہے جس کی ولادت خانہ کعبہ کے اندر ہوئی ہو.
*(تہذیب الاسماءواللغات حرف الحاء جلد اول صفحہ 409 دار فیحاءالبیروت)*
7- ایک شیعی عالم نے بھی لکھا ہے کہ :
"محدثین صرف حکیم بن حزام (رضی اللہ عنہ) کو ہی مولودِ کعبہ سمجھتے ہیں.
*(شرح نہج البلاغہ جلد اول صفحہ 14 دارالجبل بیروت)*
البتہ خانہ کعبہ کے اندر صرف حضرت حکیم بن حزام رضی اللہُ عنہ کی ولادت ہوئی ہے , آپ رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی کی بھی ولادت خانہ کعبہ کے اندر نہیں ہوئی.
1- چنانچہ امام حافظ ابوعمر خلیفہ بن خیاط رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
*"ولد علی بمکۃ فی شعب بنی ھاشم"*
یعنی حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی ولادت مکہ میں شعب بنی ہاشم میں ہوئی.
*(تاریخ خلیفہ بن خیاط صفحہ 199 دار حلبیۃ الریاض)*
2- امام حافظ ابوالقاسم علی بن حسن رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
*"ولد علی بمکۃ فی شعب بنی ھاشم"*
یعنی حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی ولادت مکہ میں شعب بنی ہاشم میں ہوئی.
*(تاریخ دمشق الکبیر جلد 45 صفحہ 448 دار احیاء التراث العربی بیروت)*
3- صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"مکانِ ولادت اقدس حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم و مکان حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہُ عنہا و مکان ولادتِ علی رضی اللہ عنہ و جبلِ ثور و غارِ حرا و مسجد الجن و مسجد جبل ابی قبیس وغیرہا مکانِ متبرکہ کی زیارت سے بھی مشرف ہو.
*(بہار شریعت جلد اول حصہ 6 صفحہ 1150مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*نوٹ :*
بعض اہلِ سنت کی کتابوں میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے خانہ کعبہ میں پیدا ہونے کا تذکرہ ملتا ہے اس حوالے سے چند باتیں ذہن نشین کرلیجیے:
1- پہلی بات یہ ہے کہ جن کتابوں میں اس کو ذکر کیا گیا تو وہا
ں صیغہ تمریض جیسے قِیْل

َ رُوِیَ وغیرہ کے ساتھ ذکر کیا گیا لہذا یہ بات معتبر نہیں.
2- دوسری بات یہ ہے کہ صرف شہرت کی وجہ سے سند اور معتبر مآخذ کے ذکر کے بغیر لکھ دیا گیا لہٰذا جب تک معتبر ماخذ نہیں مل جاتا تب تک یہ بات قابلِ قبول نہیں ہے.
3- تیسری بات یہ ہے کہ جنہوں نے ماخذ بیان کیا ہے,وہ یا تو شیعوں کی کتب ہیں یا ایسے شیعوں کی طرف مائل حضرات کی کتب ہیں جنہوں نے بہت ساری شیعی روایات کو بغیر تحقیق و تنقیح کے نقل کر دیا جیسے امام ذہبی , ملا علی قاری اور شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علیھم الرحمہ نے مستدرک للحاکم کے حوالے سے اور بعض نے مروج الذہب اور فضول المھمہ کے حوالے سے نقل کیا ہے.
*فائدہ :*
مزید تفصیل کے لیے *"مولودِ کعبہ کون ؟"* نامی کتاب کا مطالعہ فرمایے.
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
20/08/2019
03068209672
*تصدیق و تصحیح:*
1- الجواب صحيح والمجيب نجيح
*فقط محمد عطاء اللہ النعیمی خادم الحدیث والافتاء بجامعۃالنور جمعیت اشاعت اہلسنت (پاکستان) کراچی حال عزیزیہ ؛مکہ مکرمہ*
2- حضرت امیر المؤمنین مولی المسلمین سیدنا و مولانا علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کی ولادت درکعبہ کی روایت کے غیر معتبر ہونے کے حوالے سے جو آپ کا فتویٰ ہے یہ بالکل صحیح اور درست ہے میں اس کی تائید اور توثیق کرتا ہوں.
*ابوالحسنین مفتی محمد عارف محمود خان معطر القادری*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سوال :
حضرت علی کی ولادت کہاں ہوئی ؟
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ حضرت‌علی کی
پیدائش کعبہ میں ہوئی‌کیا‌یہ‌صحیح‌ہے؟

جواب :
کچھ کتابوں میں آیا ہے کی حضرت علی مرتضیٰ شیر خدا حیدر کرار رَضِیَ اللهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَنۡہ خانۂ کعبہ میں پیدا ہوئے، جبکہ زیادہ صحیح یہی ہے کہ آپ رضی الله تبارڪ و تعالیٰ عنہ کی ولادت خانۂ کعبہ میں نہیں ہوئی، مستند کتب میں اس کی صراحت ہے کہ خانہ کعبہ میں سوائے حضرت حكيم بن حزام رضی الله تبارڪ و تعالیٰ عنہ کے کسی کی پیدائش نہیں ہوئی ...
دار الافتاء اہلسنت دعوت اسلامی
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
زیادہ تفصيل کے لئے ↯ ↯ ↯

📖 مولود کعبہ کون 📖 Click
قاری محمد لقمان صاحب

مولود کعبہ کون ؟ نامی کتاب
پر سفلی اعتراضات کا محاسبہ
قاری لقمان صاحب Click

حضرت علی کی پیدائش کہاں ہوئی
علامہ یاسین اختر مصباحی

حضرت علی کی ولادت کہاں ہوئی؟
ٹلیگرام چینل شرعی عدالت Click
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
📖 مولود کعبہ کون ؟ 📖
@Maslake_Aalaa_Hazrat
[ ایک تاریخی مسئلہ پہ
لکھی گئی اپنی نوعیت کی
منفرد علمی و تحقیقی کتاب ]
@Al_Ashhar_Academy_Urdu
قاری محمد لقمان صاحب
مولودکعبہ کون؟.pdf
38.8 MB
ٰ Mauloode Kaba Kaun ?
@Maslake_Aalaa_Hazrat
Yeh File High ᴹᴮ Men Hai
مولود کعبہ کون؟.pdf
11.1 MB
Maulood E Kaaba Kaun ?
@Maslake_Aalaa_Hazrat
Yeh File Kam ᴹᴮ Men Hai
مولود کعبہ کون نامی کتاب پر
سفلی اعتراضات کا محاسبہ 📖
@Maslake_Aalaa_Hazrat
[ مولود کعبه کون ؟ جیسی
علمی و تحقیقی کتاب پر کیے
گئے سفلی اعتراضات کا محاسبہ]
@Al_Ashhar_Academy_Urdu
قاری محمد لقمان صاحب
sifli aterazat ka muhasiab by qari luqman.pdf
11.6 MB
مولود کعبہ کون ؟ نامی کتاب
پر سفلی اعتراضات کا محاسبہ
@Maslake_Aalaa_Hazrat
قاری محمد لقمان صاحب
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
خلیفۂ چہارم حضرت علی مشکل کشا
رَضِیَ الــلّٰــهُ تَـبَـارَڪَــ وَ تَـعَـالیٰ عَـــنۡــہ
پَیدائِش ¹³ رجب المرجب عُمر ⁶³ سَال
تاریخ شہادت 🌹 21 رمضان ۰۴؁ ھ
مدت خلافت ❹ برس ❽ ماہ ❾ دِن

حضرت علی کی ولادت
شعب بنی ہاشم میں ہوئی
❗️
[ ولد علی بمکة فی شعب بنی ہاشم
تاریخ خلیفه بن خیاط وغیرہ ]

اور یہ بھی یاد رہے کہ
سید الانبیا ﷺ کی ولادت بهی
شعب بنی ہاشم میں ہوئی !

جس جگہ حضرت علی شیر خدا حیدر کرار رَضِیَ اللهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَنۡہ پیدا ہوئے، اس مکان کو نجدیوں نے مسمار کردیا ورنہ وہ زیارت گاہ خاص وعام تھا
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
زیادہ تفصيل کے لئے ↯ ↯ ↯

دار الافتاء اہلسنت دعوت اسلامی

📖 مولود کعبہ کون 📖 Click
قاری محمد لقمان صاحب

مولود کعبہ کون ؟ نامی کتاب
پر سفلی اعتراضات کا محاسبہ
قاری لقمان صاحب Click

حضرت علی کی پیدائش کہاں ہوئی
علامہ یاسین اختر مصباحی


حضرت علی کی ولادت کہاں ہوئی؟
ٹلیگرام چینل شرعی عدالت Click
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM