🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت علامہ مولانا خد ابخش اظہر شجاع آبادی علیہ الرحمہ

مقر رِ خوش الحان حضرت علامہ مولانا خدا بخش اظہر بن رحیم بخش خان ۱۳۴۹ھ۱۹۳۰ء میں بمقام کو ٹلہ نواب تحصیل لیا قت پور ریاست بہا ول پور میں پیدا ہو ئے،آپ نے مڈل تک اردو تعلیم حاصل کی اور پھر علومِ عربیہ کی تمام کتب متد اولہ اور دورۂ حدیث مد رسہ عربیہ انوار العلوم ملتان میں پڑھ کر سندِ فر اغت حاصل کی ۔

آپ نے جن اکا بر علماء کے سامنے زانوئے تلمذ طے کیا، ان کے اسماء یہ ہیں ۔

(۱) حضرت علامہ سید خلیل احمد شاہ کا ظمی محد ث امروہی رحمۂ اللہ ۔
(۲) حضرت علامہ سید احمد سعید شاہ کا ظمی مد ظلہ العالی۔
(۳) حضرت مولانا محمد عبد الکریم فیضی، اعوان، بہا ول پور۔
(۴) حضرت مولانا شیر محمد،بہا ول پور۔
(۵) حضرت مولانا الہیٰ بخش ، بہاول پور۔

حضرت علامہ اظہر نے دورانِ تعلیم ہی شجاع آباد میں ایک دینی ادارہ، مدرسہ اسلامیہ عربیہ اظہر العلوم کے نام سے قائم کیا جہاں آپ مختلف فنون کی تدریس بھی فرماتے رہے، اس کے ساتھ ساتھ آپ نوری جامع مسجد شجاع آباد میں فرائض خطابت بھی سر انجام دیتے ہیں، تبلیغ ِدین کی خاطر آپ نہ صرف ملک کے اطراف و اکناف میں دورے فرماتے ہیں، بلکہ دو مرتبہ افغاسنتان ، ایران، عراق، اردن ، سعودی عرب، شامِ اور بیت المقدس بھی جا چکے ہیں ۔

آپ اہل سنت و جماعت کی مختلف تنظیموں سے وابستگی رکھتے ہوئے مسلکِ اہل سنت کوشاں رہتے ہیں، آپ جماعتِ اہل سنت پا کستان کے ناظم نشر و اشاعت ہیں، اس سے قبل آپ سنی تنظیم کے نا ظم، ادارہ اصلا ح المسلمین پاکستان کے صدر اور جمعیت علماء پاکستان کے نائب ناظم رہ چکے ہیں ۔

آپ نے ملک میں چلنے والی ہر مذہبی تحریک میں حصہ لیا اور قید و بند کی صعوبتوں کو خند ہ پیشانی سے قبول کیا، تحریک ختم نبوت اور تحریک نظامِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے موقعہ پر آپ تقر یباً ڈیڑہ ماہ ملتان جیل میں پابندِ سلاسل رہے ۔

آپ نے سیکٹر وں مذہبی ،تبلیغی پمفلٹ اور کئی کتابیں تحریر فرما ئیں، آپ کی تالیفات یہ ہیں ۔

(۱) پنجاب کے پانچ قطب اور ایک خضرِ وقت کی سوانح حیات ۔
(۲) تحفہ الاحباب فی مدح الآل والاصحاب (دو جلد)
(۳) مظہر ذاتِ حق ۔
(۴) وند ان شکن جو اب ۔
(۵) دیو بندی اور بریلوی میں فرق ۔
(۶) سماع موتیٰ کی شرعی حثییت ۔
(۷) دعا بعد جنازہ کا شرعی فیصلہ ۔
(۸) گلدستہ نور من دیار حبیب الی وطن عزیز (زیر طبع)

مولانا خدا بخش اظہر نے ۱۹۶۶ء میں عمرہ شریف اور ۱۹۶۸ء میں حج بیت اللہ شریف کی سعادت حاصل کی ۔

بیعت:
آپ کو حضرت خواجہ فیض محمد شاہ جمال چشتی نظامی سے بیعت کا شرف حاصل ہے ۔

آپ کو اللہ تعالیٰ نے پانچ صاحبزادے عطا فرمائے ۔

سب سے بڑے صاحبزادے مولانا محمد اقبال اظہری ایم اے، انجمن طلباء اسلام کے صدر رہ چکے ہیں ۔

مارچ ۱۹۷۷ء کے الیکشن میں آپ نے قومی اتحاد کے ٹکٹ پر حلقۂ شجاع آباد سے صوبائی اسمبلی کے انتخاب میں حصہ لیا ۔

نہایت بے باک مقرر، فاضل نوجوان اور با اخلاق عالم ہیں، دینی و دنیاوی تعلیم سے بہرہ ور ہیں اور اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے ہیں ۔

مولانا حافظ محمد ارشاد اظہر ی، مدرسہ اظہر العلوم میں مدرس ہیں، مولانا محمد مشتاق اظہری، انجمن طلباء اسلام کے نہایت فعال رکن ہیں ۔

دوسرے دو صاحبزادوں کے نام صاحبزادہ محمد فیاض اور صاحبزادہ محمد بلال ہے ۔

علامہ خدا بخش اظہر سے اکتسابِ فیض کرنے والے طلباء میں چند تلامذہ کے اسماء یہ ہیں ۔

(۱) مولانا نذیر احمد ۔
(۲) مولانا شبیر احمد ۔
(۳) مولانا محمد رمضان ۔
(۴) مولانا غلام فرید ۔
(۵) مولانا حافظ نذر محمد ۔
(۶) مولانا محمد نواز ۔
(۷) مولا نا محمد رفیق ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-khuda-bakhsh-azhar
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
مقدام العارفین حضرت میر سید شاہ عبد الجلیل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ


ولادتِ با سعادت:
آپ 20 رجب المرجب 972ھ بروز جمعرات بوقت ظہر بلگرام شریف میں پیدا ہوئے ۔

والدِ ماجد کا نام:
حضرت میر سید عبد الواحد بلگرامی رحمۃ اللہ علیہ

مارہرہ شریف میں آمد:
1017ھ میں۔

آپ پر عالم جذب کب طاری ہوا اور کتنے دنوں تک رہا؟
عین عالم شباب میں آپ پر جذب کی کیفیت طاری ہوئی اور پورے بارہ برس تک آپ اسی حالت میں عالم کی سیر کرتے رہے ۔

اترنجی کھیڑا کا ایک واقعہ:
یہ مارہرہ شریف سے جانب مشرق 3 کوس کے فاصلے پر ہے یہاں رجال الغیب میں سے ایک نورانی بزرگ سے میر صاحب کی ملاقات ہوئی، انہوں نے آپ کو دودھ چاول کھلایا اور فرمایا: ’’یہاں سے قریب ایک شہر مارہرہ آباد ہے۔ بارگاہ الہٰی اور دربار رسالت مآب سے وہاں کی ولایت تم کو عطا ہوئی۔ جاؤ اور رشد و ہدایتِ خلق میں مشغول ہوجاؤ۔‘‘

دربارِ رسالت مآب ﷺ سے استقبال کا انتظام:
چودھری وزیر محمد عرف چودھری وزیر خاں رئیس مارہرہ ،ایک رات میں تین مرتبہ سر کار دو عالم ﷺ کے دیدار سے مشرف ہوئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’میری اولاد سے تیرا پیراور یہاں کا صاحب ولایت اترنجی کھیڑا پر ہے، جاؤ استقبال کر کے لے آؤ۔‘‘

اولادِ امجاد:
آپ کے چار صاحبزادے ہوئے : (۱) سید ابو الفتح (۲) سید اویس (جدِّ ساداتِ مارہرہ) (۳)سید محمد(۴) سید ابو الخیر

خلیفہ:
فرزند اصغر حضرت سید شاہ اویس قدس سرہٗ ۔

وصالِ پُر ملال:
حضرت میر سید شاہ عبد الجلیل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا وصال 8؍ صفر المظفر بروز دو شنبہ مبارکہ 1057ھ میں مارہرہ میں ہوا۔

کچھ اہم کار نامے:
(۱) آپ ہی کے دم قدم سے مارہرہ کو شرف و بلندی کا مقام حاصل ہوا۔ (۲) آپ نے برج کی دھرتی کو اپنی آمد سے روحانیت اور تصوف کی دولت سے مالا مال کیا اور پورے خطے میں پیار، محبت اورفقر وسلوک کے پیغام کو عام کیا ۔

بہ شکریہ:
البرکات اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ، انوپ شہر روڈ، علی گڑھ

دعاؤں کا طالب:
محمد حسین مُشاہد رضوی

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-meer-syed-shah-abdul-jaleel-bilgirami
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت جمال الدین محمود بن احمد حصیری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

( صاحبِ وقایہ )

محمود بن احمد بن عبد السید بن عثمان بن نصر بن عبد الملک بخاری حصیری: ابو المحامد کنیت اور جمال الدین لقب تھا، باپ آپ کا تاجر کے نام سے معروف تھا اور بوریا بافوں کے محلہ میں رہا کرتا تھا ۔

آپ نے اپنے زمانہ کے امام فاضل، فقیہ متجر، محدث کامل تھے، آپ کے وقت میں ریاست مذہب کی آپ پر منتہیٰ ہوئی ۔ فقہ آپ نے حسن بن منصور قاضی خاں سے حاصل کی یہاں تک کہ کمالیت کے رتبہ کو پہنچے ۔ اور صحیح مسلم وغیرہ کتب احادیث کو نیشاپور میں مؤید طوسی سے سماعت کیا اور نیز حلب میں شریف ابی ہاشم سے سُنا اور شام کے ملک میں آ کر مدرسہ نوریہ میں تدریس کی اور افتاء کا کام دیا اور بیت اللہ کا حج کیا ۔

ولادت:
ماہ جمادی الاولیٰ ۵۴۲ھ میں بخارا میں پیدا ہوئے ـ

وصال:
یکشنبہ کی رات ۸ ماہ صفر ۶۳۶ھ کو دمشق میں وفات پائی ـ

مزار مبارک:
اور دوسرے روز باب نصر کے باہر مقربۂ صوفیہ میں دفن کیے گئے ۔

تصانیف:
آپ کی تصنیفات سے شرح جامع کبیر اور شرح سیر کبیر وغیرہ مشہور و معروف ہیں ۔

حصیری کی وجہ تسمیہ:
تاریخ ابن خالکان میں لکھا ہے کہ آپ کو حصیری اس لیے کہا کرتے تھے کہ آپ بخارا میں اس محلہ میں رہا کرتے تھے جہاں بوریے بنائے جاتے ہیں ۔

( حدائق الحنفیہ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-jamaluddin-mehmood-bin-ahmad-haseeri
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1