🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Muhammad IBRAHEEM
عبقری میگزین سے بچیں

ہمارے پاس اکثر روایات کی تحقیق کے لئے سوالات آتے ہیں ۔تجربہ سے معلوم ہوا کہ ان *منگھڑت روایات* میں سے ایک بہت بڑی تعداد *عبقری میگزین* کے ذریعے سے وجود میں آتی ہے ۔

میں نے دو تین سال پہلے بھی اس پر کچھ تحریریں مرتب کیں تھیں اب ضرورت محسوس ہوئی کہ اپنے احباب و رفقاء کو مزید متوجہ کر دیا جائے تاکہ وہ خود بھی *دجالیت* کے اس مظہر اور جھوٹ کے منبع سے بچ سکیں اور اپنے اہل خانہ کو بھی بچائیں کہ *خواتین میں یہ رسالہ زیادہ مقبول ہو رہا ہے کہ خواتین کو جادو ٹونے کے قصوں، دیسی ٹوٹکوں اوروظائف و عملیات میں زیادہ دلچسپی ہوتی ہے ۔*

اب ان کا رسالہ چونکہ ہر ماہ شائع ہوتا ہے لہذا ہر ماہ ان کو نئی نئی چیزیں چاہیئں تو ان کا طریقہ کار یہ ہے کہ وہ عوام کے خطوط میں جو بھی چیز ان کو ملتی ہے وہ من و عن چھاپ دیتے ہیں ۔
*اب یہ جو کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں ہر بندہ طبیب اور ہر آدمی مفتی ہے اس کی سب سے بڑی مثال یہ رسالہ ہے ۔*
علاج معالجہ ہماری لائن نہیں لہذا ہم اس سے بحث نہیں کرتے لیکن کسی بھی مستند ڈاکٹر یا حکیم سے معلوم کیا جاسکتا ہے کہ ایسے عوامی نسخوں سے علاج کس قدر نقصان دہ ہوسکتا ہے ۔
*اب رہی بات روایات کی* تو
اطلاعات کے مطابق انہوں نے ایک ٹیم بٹھائی ہوئی ہے جو یہ وظائف گھڑنے اور مختلف *کتب شیعہ* وغیرہ کی وہاں سے تلاش کا کام کرتی ہے ۔
نیز ان کے پاس عوام کے خطوط میں جو کچھ بھی لکھا آتا ہے اسے بھی من وعن چھاپ دیتے ہیں ۔
اور اس بنیاد پر کہ ان کے رسالہ میں انوکھی انوکھی چیزیں ہوتی ہیں اور انسان کی فطرت ہے کہ کل جدید لذیذ تو ان کا رسالہ خوب بکتا ہے ایک دفعہ بتایا کہ لاکھوں میں اشاعت چلی جاتی ہے اور پوری دنیا میں جاتا ہے ۔
*تو بھائی جب لاکھوں میں چھپتا ہے تو پرافٹ کتنا ہوتا ہوگا؟*
تو یہ ایک بہت بڑا کاروبار ہے جس کی بنیاد اس طرح کی روایات پر ہے ۔ *ورنہ صحیح احادیث جو معروف ہیں ان کے لکھنے سے کیسے یہ کاروبار چلے گا؟*
اب آپ سب پوری صورتحال پر غور کرو اور پھر سمجھو کہ *ان لوگوں کو روایت کے درست ہونے نا ہونے سے مطلب نہیں ہے ۔*
ایک دفعہ مسجد نبوی میں ہمارے دوست مفتی عبدالباقی صاحب نے ان سے اس موضوع پر بات کی تو کہنے لگے *میں کوئی عالم دین نہیں* اس لئے مجھے پتا نہیں چلتا پھر جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آپ اپنی اس ٹیم میں جو رسالہ تیار کرتی ہے *کسی عالم کو شامل کرلیں تو وہ اس پر راضی نہیں ہوتے*
اور دیگر علماء سے معلوم ہواکہ یہ بات تو بہت سے لوگ ان کو کہہ چکے ہیں ۔
لیکن وہ لوگوں کو یہ کہہ کر مطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ میرے پاس اتنے علماء دوائی لینے آتے ہیں اور اتنے علماء مجلس میں بیٹھتے ہیں وغیرہ ۔
*تو غور کرنے سے سمجھ آیا کہ رسالہ کی تیاری میں علماء کو شامل کرنے والی تجویز وہ کبھی قبول نہ کریں گے کہ کوئی عالم ہوگا تو وہ ہر انوکھی اور نئی چیز کو نکال دے گا تو رسالہ کیسے چلے گا؟*
جس کا مدار ہی ان انوکھی انوکھی باتوں پر ہے ۔
نیز جو جادو و جنات کے قصے ان کے رسالہ میں ہیں ان کی تصدیق کا بھی کوئی ذریعہ نہیں ہے بقول بعض رفقاء کے علامہ لاہوتی پراسراری صاحب کا جو قصہ چلتا ہے اس سے عبقری صاحب اپنی ذات مراد لیتے ہیں اور اب شیخ الوظائف لقب اختیار کیا ہے ۔
ان گنہگار آنکھوں نے ان صاحب کو ایک معمولی حکیم سے پی ایچ ڈی امریکہ تک اور پھر شیخ الوظائف کی مسند تک منتقل ہوتے دیکھا ہے ۔
پھر ان فرضی قصوں کہانیوں سے کسی عملی فائدے کا ہونا بھی مشکل ہے کہ *جس بات کی بنیاد جھوٹ پر ہو اس سے کسی دینی فائدے کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے ۔*
اس کے بجائے صحابہ کی زندگی اور اکابر کے حالات کے مطالعہ کی طرف متوجہ کرنا چاہئے تاکہ زندگی میں تبدیلی آئے۔

*عبداللہ اسلم لاہور*

*نوٹ :*

*یاد رہے کہ*

*📌 عبقری والے مکتبہ فکر نجدی وہابی دیوبندی فرقوں سے تعلق رکھتے ہیں*
اور
*وہابی دیوبندی یا رسول اللہ کہنے والے سنی مسلمانوں کو مشرک کہتے ہیں اور مسلمانوں کو مشرک کہنے والے خوارج ہیں*
*اس لئے سنی مسلمانوں کو ان کے مکر و فریب سے بچنا چاہئے*

*طریقہ واردات*

*یہ بدمذہب بدعقیدہ گستاخان_رسول نجدی قبضہ گروپ سعودی وہابی غیر مقلد سلفی دیوبندی منافق فرقے اہلسنت کا لباس اوڑھ کر یعنی چند معمولاتِ اہلسنت کا سہارا لے کر چند عقائد اہلسنت کا سہارا لے کر سنی مسلمانوں کو اپنے قریب کرکے انہیں اپنے خارجی نجدی وہابی دیوبندی بدمذہب بدعقیدہ مسلک میں کنورٹ کرنے کی واردات کر رہے ہیں*

*یہ بھی یاد رکھیں کہ*
*وہابی دیوبندی خوارج کے روپ میں منافق فرقوں کا اہلسنت جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے *

*اللہ تعالیٰ ہمیں اور ہماری_نسلوں کو ان خارجی نجدی قبضہ گروپ سعودی وہابی غیر مقلد سلفی دیوبندی گستاخان_رسول منافق فرقوں سے محفوظ رکھے آمین 🤲*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کیا حضرت علی المرتضی
رضی اللہ عنہ کعبہ میں پیدا ہوئے ؟

آج ۱۳ رجب المرجب دافعِ رفض و خروج ، اسداللہ الغالب ، امام المشارقِ والمغارب ، حل المشکلات والنوائب سیدنا امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کا یومِ ولادت منایا گیا ـ آپ کی ولادت کے حوالے سے ایک بات مشہور ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کی ولادت " کعبہ شریف میں ہوئی " اسی وجہ سے رجب المرجب کا چاند نظر آتے ہی روافض شیعہ اشتہارات چھاپنا شروع کردیتے ہیں جس کا عُنوان کچھ اس طرح ہوتا ہے ” جشنِ مولودِ کعبہ “ ـ ان رافضیوں کی دیکھا دیکھی بعض جگہ سنیوں نے بھی اس طرح کا سلسلہ شروع کردیا ہے ، اور حضرت علی شیرِ خدا کو مولودِ کعبہ کہنا شروع کردیا ہے جب کہ درست بات یہ ہے کہ سیدنا علی پاک رضی اللہ عنہ کی ولادت کعبے میں نہیں بلکہ اپنے والد کے گھر " شعب بنی ہاشم " میں ہوئی ـ اس پر نہایت اختصار کے ساتھ چندحوالہ جات پیش کررہا ہوں پڑھیے اور ملاحظہ کیجیے کہ حق کیا ہے ـ

" مقامِ ولادت سیدنا علی المرتضیٰ "

امام حافظ ابوعمرو خلیفہ بن خیاط ( جن کا وصال 240 ہجری میں ہوا ) فرماتے ہیں : « ولدعلی بمکۃ فی شعب بنی ھاشم » حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادت مکہ میں شعب بنی ہاشم میں ہوئی ـ
( تاریخ خلیفہ بن خیاط ، ص 120 دارالکتب العلمیہ بیروت )

امام ابوالقاسم علی بن حسن ابن عساکر شافعی ( جن کی وفات 571 ہجری میں ہوئی ) فرماتے ہیں : « ولد علی بمکۃ فی شعب بنی ھاشم » سیدنا علی المرتضی کرم اللہ وجہہ مکہ میں شعب بنی ہاشم میں پیدا ہوئے ـ
( تاریخ دمشق ، ج 45 ، ص 448 ، داراحیاء التراث العربی بیروت )

علامہ ابوالحسن محمدبن احمد بن جبیر الکنانی الاندلسی ( جن کی وفات 614 ہجری میں ہوئی ) لکھتے ہیں : حضرت علی کی ولادت گاہ ابوطالب کا گھر ہے ـ ( اور یہ شعب بنی ہاشم میں ہی تھا ) ( رحلۃ ابن جبیر ، ص 129 دارالکتب العلمیہ بیروت ) یہی عبارت ، علامہ ابوالبقاء خالد بن عیسیٰ بن احمد ( جن کی وفات 767 ہجری میں ہوئی ) نے اپنی کتاب " تاج المفرق فی تحلیۃ علماء المشرق صفحہ 78 " پر نقل کی ہے ـ
اور یہ مقام ( مولدعلی ) اتنا مشہور تھا کہ عوام و خواص سب اسی سے جانتے تھے اور کئی علما نے اس کا تذکرہ مولدِ علی " یعنی حضرت علی کی جائے پیدائش " کے نام سے اپنی کتابوں میں بھی کیا ہے ـ مثلاً : علامہ تقی الدین ابوالعباس احمد بن علی بن عبدالقادر المقریزی ( وفات 845 ہجری ) نے کتاب المواعظ والاعتبار میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مولد کا ذکرکیا ہے ـ

بہارِ شریعت میں سیدنا علی المرتضیٰ کی جائے ولادت کا ذکر ہے ـ
( بہارِ شریعت ، ج 1 ، ص 1150 مکتبۃالمدینہ کراچی )
اس کے علاوہ متعدد دلائل و شواہد سے یہ بات ظاہر ہے کہ سیدنا علی مرتضیٰ کی ولادت کعبے میں نہیں بلکہ شعب بنی ہاشم میں ہوئی ـ اللہ تعالیٰ مسلکِ حقہ پر ثابت قدم رکھے ـ
اس کے علاوہ بھي کئي محدثين نے امام حاکم پر جرح کي ہے۔ امام حاکم کے علاوہ بعض احباب مؤرخ مسعودي المتوفي 346ھ کا قول کہ ’’وکان مولدہ في الکعبۃ‘‘ کہ حضرت علي رضي اللہ عنہ کعبہ ميں پيدا ہوئے نقل کرتے ہيں۔
(مروج الذھب و معاون الجوھر، ج2ص351 دارلقلم بيروت)
مسعودي کے متعلق مجدد دين و ملت امام اہل سنت الشاہ احمد رضا خان عليہ الرحمۃ الرحمن فرماتے ہيں کہ ’’مسعودي علي بن حسين صاحب مروج تو خود رافضي ہے اس کي کتاب مروج الذھب خلفائے کرام و صحابہ عظام، عشرہ مبشرہ وغيرہم رضي اللہ عنہم پر صريح تبرا سے جا بجا آلود و ملوث ہے لوط بن يحيي بو مخنف رافضي خبيث ہالک کے اقوال و نقول بکثرت لاتا ہے جس کے مردود و تالف ہونے پر آئمہ جرح و تعدل کا اجماع ہے اسي طرح اور رفاض و فساق و ہالکين کے اخبار پر اسکي کتاب کا مدار ہے جيسا کہ اس کے مطالعہ سے واضح و آشکار ہے۔
(الفتاويٰ الرضويہ ج29 ص700 رضا فاؤنڈيشن لاہور)
بعض نے حضرت علي رضي اللہ عنہ کے مولود کعبہ ہونے کا ماخذ فصول المھمہ نقل کيا ہے۔
شارح بخاري علامہ شمس الدين محمد بن عمر بن احمد السفيري الشافعي المتوفي 956ھ فصول المھمہ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہيں کہ
’’وما نقله في الفصول المهمة لبعض المالكية من أن سيدنا علي بن أبي طالب ولدته أمة في جوف الكعبة، فهو ضعيف عند العلماء ‘‘
اور فصول المھمہ مٰں ہے کہ بعض مالکيہ نے نقل کيا کہ سدنا علي بن ابي طالب کعبہ شريف ميں پيدا ہوئے، پس علماء کے نزديک يہ ضعيف ہے۔
(المجالس الوعظيۃ في شرح احاديث خير البريۃﷺ من صحيح الامام البخاري، ج2ص161 مکتبۃ الشاملہ)
مصطفى بن عبد الله كاتب جلبي القسطنطيني المشهور باسم حاجي خليفة أو الحاج خليفة کشف الظنون ميں لکھتے ہيں کہ
’’ وقد نسب بعضهم المصنف في ذلك إلى الترفض.كما ذكره في خطبته.‘‘
يعني کتاب کے مصنف کو رافضيت کي طرف منسوب کيا گيا ہے، جيسا کہ کتاب کے خطبہ سے پتہ علم ہوتا ہے۔
(كشف الظنون عن أسامي الكتب والفنون ج 2 ص 1271 مکتبۃ الشاملہ)
اگر ان تينوں کتب کے مصنف رافضي نہ بھي ہو تو پھر بھي ان کي قول کو تسليم نہيں کيا جاسکتا ہے۔ روايات سے يہ واضح ہوا کہ حضرت حکيم بن حزام رضي اللہ عنہ کعبہ ميں پيدا ہوئے ان کے علاوہ يہ سعادت کسي کو حاصل نہيں تو سوال يہ ہے کہ حضرت علي رضي اللہ عنہ کي ولادت کہاں ہوئي۔
محدثين عظام و فقہاء کرام بيان کرتے ہيں کہ
’’ولد علي بمکۃ في شعب بني ھاشم‘‘
يعني حضرت علي رضي اللہ عنہ کي ولادت مکہ ميں شعب بني ھاشم ميں ہوئي۔
(تاريخ خليفہ بن خياط ص 120 مکتبۃ الشاملہ۔۔۔۔ تاريخ دمشق الکبير ج42ص 575مکتبۃ الشاملہ۔۔۔۔ مختصر تاريخ دمشق ج18ص97 مکتبۃ الشاملہ۔۔۔۔ کتاب العقد الفريد ج5ص61 مکتبۃ الشاملہ)
ديگر مورخين نے بھي حضرت علي رضي اللہ عنہ کي جائے ولادت شعب بني ھاشم ذکر کي ہے۔ خليفہ اعلي حضرت صدرالشريعہ بدرالطريقہ مفتي امجد علي اعظمي المتوفي 1367ھ فرماتے ہيں کہ ’’مکان ولادت اقدس حضور انور ﷺ و مکان حضرت خديجۃ الکبري رضي اللہ عنہا و مکان ولادت حضرت علي رضي اللہ عنہ و جبل ثور و غارِ حرا و مسجد الجن و مسجد جبل ابي قيس وغيرہا مکانات متبرکہ کي بھي زيارت سے مشرف ہو۔‘‘
(بہار شريعت، حصہ6 ج1 ص 1150 مکتبۃ المدينہ کراچي)
روايات و آثار سے يہ بات واضح ہو گئي کہ مولودِ کعبہ حضرت حکيم بن حزام رضي اللہ عنہ ہيں، آپ کے علاوہ کعبہ ميں کسي کي ولادت نہيں ہوئي۔ حضرت علي رضي اللہ عنہ کا مولودِ کعبہ نہ ہونے سے آپ کے حضرت حکيم بن حزام رضي اللہ عنہ پر افضليت ثابت نہيں ہوتي۔ اگر حضرت علي رضي اللہ عنہ کے فضائل و اوصاف پرھنے ہو تو مجدد دين و ملت امام اہل سنت الشاہ احمد رضا خان عليہ الرحمۃ الرحمن کي کتاب ’’مطلع القمرين في ابانۃ سبقۃ العمرين‘‘ کامطالعہ کريں۔ اس تحرير کا مقصد صرف اہل سنت کو رافضيت سے بچانا ہے۔
آمين يا رب العالمين بجاہ نبي الکريم ﷺ

مزید تفصیل کے لیے قاری محمد لقمان کی کتاب مولود کعبہ کون کا مطالعہ کیجیے. یہ تحریر اس کتاب کی تلخیص یے اور تحریر کا مقصد اہل سنت کو رافضی عقائد سے آگاہ کرنا اور بچانا ہے.

طالب دعا :
ابو برھان محمد قیصر مصطفی قادری
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کچھ دنوں سے دیکھا جا رہا ہے کہ پاکستان کے کوفہ (قائدِ ملتِ اسلامیہ مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی رحمۃ اللہ علیہ راولپنڈی کو کوفہ کہا کرتے تھے) کے نیم رافضی ملاں اور ان کے دم چھلے رافضیوں کی ہمنوائی کرتے ہوئے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو مولود کعبہ ثابت کرنے کے لیے تحریف کر رہے ہیں اور ایک کتاب "سیرت مصطفےٰ جانِ رحمت" کا حوالہ دے کر "مولود کعبہ" کا عقیدہ اعلیٰ حضرت کے سر تھوپ رہے ہیں حالانکہ یہ سراسر غلط ہے ۔ نہ تو یہ کتاب اعلیٰ حضرت کی ہے اور نہ ہی اعلیٰ حضرت کی کسی کتاب میں ایسا عقیدہ موجود ہے ۔
(1) اس کتاب کے مرتب محمد عیسیٰ رضوی نامی عالم ہیں ۔ انھوں نے لکھا ہے اور کوئی حوالہ نقل نہیں کیا اور نہ ہی اعلیٰ حضرت کی کسی تصنیف میں ایسی عبارت موجود ہے ۔ لہٰذا اس کی ذمہ داری صرف اور صرف کتاب کے مرتب کرنے والے پر ہے ۔
(2) پاکستان میں اس کتاب کو ملک شبیر حسین (شبیر برادرز) نے چھاپا ہے اور پورا اردو بازار لاہور جانتا ہے کہ یہ شخص رافضی ہے ۔ کسی کو یقین نہ ہو تو نعیمی کتب خانہ پر جا کر راشد نعیمی سے اس کی تصدیق کر سکتا ہے ۔ یہ وہ شخص ہے جس نے حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ کی شہرۂ آفاق وہابیت کش کتاب "جاء الحق" میں جا بجا تحریف کی ہے جس کا ثبوت نعیمی کتب خانہ پر جا کر دیکھا جا سکتا ہے ۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو ولادت کہاں ہوئی دو حوالے ملاحظہ کیجیے ۔ محمد بن أحمد بن علي، تقي الدين، أبو الطيب المكي الحسني الفاسي (المتوفى: 832ھ) لکھتے ہیں:
مولد علي بن أبي طالب رضي الله عنه قريبا من مولد النبي صلى الله عليه وسلم من أعلاه مما يلي الجبل، وهو مشهور عند أهل مكة بذلك لا اختلاف بينهم فيه………وعلى بابه مكتوب: هذا مولد أمير المؤمنين علي بن أبي طالب رضوان الله عليه . (شفاء الغرام بأخبار البلد الحرام 358:1 دار الكتب العلمية بيروت)
ترجمہ:حضرت علی کی ولادت گاہ نبی کریم ﷺ کی ولادت گاہ کے قریب ہے اور یہ اہلِ مکہ کے نزدیک بلا اختلاف مشہور ہے ۔ نیز اس کے دروازے پر لکھا ہے کہ یہ حضرت علی کی جائے ولادت ہے ۔
محمد بن أحمد بن الضياء محمد القرشي العمري المكي الحنفي، بهاء الدين أبو البقاء، المعروف بابن الضياء (المتوفى: 854ھ) لکھتے ہیں:
مولد علي بن أبي طالب رضي الله عنه وهذا الموضع مشهور عند الناس بقرب مولد النبي صلى الله عليه وسلم بأعلى الشعب الذي فيه المولد………وعلى بابه حجر مكتوب فيه هذا مولد أمير المؤمنين علي بن أبي طالب ۔ (تاريخ مكة المشرفة والمسجد الحرام والمدينة الشريفة والقبر الشريف، صفحہ 185 دار الكتب العلمية بيروت)
اعلیٰ حضرت کے خلیفہ صدر الشریعۃ علامہ امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
"مکان ولادت اقدس حضورِ انور ﷺ و مکان حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا و مکان ولادتِ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ و جبل ثور و غارِ حِرا و مسجدالجن و مسجد جبل ابی قبیس وغیرہا مکانات متبرکہ کی بھی زیارت سے مشرف ہو ۔" (بہارِ شریعت، حصہ 6 صفحہ 1150 مکتبۃ المدینہ کراچی)
اعلیٰ حضرت عظیم البرکت مجدد دین وملت "تحفہ اثناء عشری" کے حوالے سے لکھتے ہیں:
"جو کہا جاتاہے کہ فاطمہ بنت اسد کو وحی آئی کہ تو خانہ کعبہ میں جا اور وہاں بچے کی پیدائش کر، یہ سب جھوٹ اور بے پر بات ہے ۔" (فتاویٰ رضویہ 193:15 اور 248:15 رضا فاؤنڈیشن لاہور)
اگر کسی کے پاس اس سلسلے میں اعلیٰ حضرت کی کسی کتاب کا حوالہ موجود ہے تو وہ پیش کرے ورنہ اپنی خباثتوں کو اپنے گھر تک ہی محدود رکھیں ۔......

: علامہ یس اختر مصباحی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
✰ابواسید عبیدرضامدنی✰:
*سوال نمبر 118:*
کیا حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کی پیدایش خانہ کعبہ شریف کے اندر ہوئی ہے ؟
*جواب :*
جی نہیں ! حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی ولادت خانہ کعبہ کے اندر نہیں ہوئی, حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو مولودِ کعبہ سمجھنا ایسا کمزور گمان ہے جس کے ثبوت پر کوئی صحیح دلیل نہیں کیونکہ آپ کرم اللہ وجہہ الکریم اپنے والد ابوطالب کے مکان شعبِ بنی ہاشم کے اندر پیدا ہوئے, جس مکان کو لوگ مولدِ علی کے نام سے یاد کیا کرتے تھے اور اس مکان کے دروازے پر یہ عبارت لکھی ہوئی تھی :
*"ھذا مولد امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب "*
یعنی یہ حضرت امیر المومنین علی بن ابوطالب کرم اللہ وجہہ الکریم کی ولادت گاہ ہے.
اور اہل مکہ بھی اس پر بغیر اختلاف کے متفق تھے, نیز آپ کرم اللہ وجہہ الکریم کی ولادت گاہ پر ایک قبہ بنا ہوا تھا جس کو نجدیوں نے دیگر مقامات مقدسہ کے ساتھ گرادیا.
چنانچہ 1- امام مسلم بن حجاج قشیری رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں:
*"ولد حکیم ابن حزام فی جوف الکعبہ"*
یعنی حضرت حکیم بن حزام رضی اللہُ عنہ خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے.
*(صحیح مسلم کتاب البیوع باب الصدق فی البیع والبیان)*
2- امام بدر الدین عینی حنفی رحمۃ اللہ تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں :
*" (حکیم بن حزام) ولد فی بطن الکعبۃ"*
یعنی حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ تعالی عنہ خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے.
*(عمدۃالقاری شرح صحیح بخاری جلد 13 صفحہ 142 دارالکتب العلمیہ بیروت)*
3- امام ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ تعالی تحریر فرماتے ہیں :
*"وحکی الزبیر بن بکار ان حکیما ولد فی جوف الکعبہ"*
یعنی حضرت زبیر بن بکار رضی اللہ عنہ نے حکایۃً بیان کیا کہ حضرت حکیم بن حزام رضی اللہُ عنہ کی ولادت خانہ کعبہ کے اندر ہوئی.
*(الاصابہ فی تمییز الصحابہ جلد 2 صفحہ 98 دار الکتب العلمیہ بیروت)*
4- امام جلال الدین سیوطی شافعی رحمۃاللہ تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں :
*"حکیم بن حزام بن خویلد بن اسد وکان مولدہ فی جوف الکعبہ"*
یعنی حضرت حکیم بن حزام رضی اللہُ عنہ بن خویلد بن اسد. اور آپ کی ولادت گاہ خانہ کعبہ کے اندر تھی.
*(تدریب الراوی فی شرح تقریب النواوی صفحہ 355 دارالکتاب العربی بیروت)*
5- امام جلال الدین سیوطی شافعی رحمۃاللہ تعالی علیہ مزید اسی کتاب کے اگلے صفحہ پر تحریر فرماتے ہیں :
*"قال الزبیر بن بکار کان مولد حکیم بن حزام فی جوف الکعبہ قال شیخ الاسلام ولایعرف ذلک لغیرہ"*
یعنی حضرت زبیر بن بکار رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضرت حکیم بن حزام رضی اللہُ عنہ کی ولادت خانہ کعبہ کے اندر ہوئی,شیخ الاسلام فرماتے ہیں کہ وہ اس بات کو (خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہونے کو) حضرت حکیم بن حزام رضی اللہُ عنہ کے علاوہ کیلیے نہیں جانتے.
*(تدریب الراوی فی شرح تقریب النواوی صفحہ 356 دارالکتاب العربی بیروت)*
6- امام ابو ذکریا محی الدین یحی بن شرف نووی رحمۃ اللہ تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں :
*"ولد حکیم بن حزام فی جوف الکعبۃ ولایعرف احد ولد فیھا غیرہ"*
یعنی حضرت حکیم بن حزام رضی اللہُ عنہ کی ولادت خانہ کعبہ کے اندر ہوئی اور ان کے علاوہ کوئی ایسا شخص معلوم نہیں ہے جس کی ولادت خانہ کعبہ کے اندر ہوئی ہو.
*(تہذیب الاسماءواللغات حرف الحاء جلد اول صفحہ 409 دار فیحاءالبیروت)*
7- ایک شیعی عالم نے بھی لکھا ہے کہ :
"محدثین صرف حکیم بن حزام (رضی اللہ عنہ) کو ہی مولودِ کعبہ سمجھتے ہیں.
*(شرح نہج البلاغہ جلد اول صفحہ 14 دارالجبل بیروت)*
البتہ خانہ کعبہ کے اندر صرف حضرت حکیم بن حزام رضی اللہُ عنہ کی ولادت ہوئی ہے , آپ رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی کی بھی ولادت خانہ کعبہ کے اندر نہیں ہوئی.
1- چنانچہ امام حافظ ابوعمر خلیفہ بن خیاط رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
*"ولد علی بمکۃ فی شعب بنی ھاشم"*
یعنی حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی ولادت مکہ میں شعب بنی ہاشم میں ہوئی.
*(تاریخ خلیفہ بن خیاط صفحہ 199 دار حلبیۃ الریاض)*
2- امام حافظ ابوالقاسم علی بن حسن رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
*"ولد علی بمکۃ فی شعب بنی ھاشم"*
یعنی حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی ولادت مکہ میں شعب بنی ہاشم میں ہوئی.
*(تاریخ دمشق الکبیر جلد 45 صفحہ 448 دار احیاء التراث العربی بیروت)*
3- صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"مکانِ ولادت اقدس حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم و مکان حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہُ عنہا و مکان ولادتِ علی رضی اللہ عنہ و جبلِ ثور و غارِ حرا و مسجد الجن و مسجد جبل ابی قبیس وغیرہا مکانِ متبرکہ کی زیارت سے بھی مشرف ہو.
*(بہار شریعت جلد اول حصہ 6 صفحہ 1150مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*نوٹ :*
بعض اہلِ سنت کی کتابوں میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے خانہ کعبہ میں پیدا ہونے کا تذکرہ ملتا ہے اس حوالے سے چند باتیں ذہن نشین کرلیجیے:
1- پہلی بات یہ ہے کہ جن کتابوں میں اس کو ذکر کیا گیا تو وہا
ں صیغہ تمریض جیسے قِیْل

َ رُوِیَ وغیرہ کے ساتھ ذکر کیا گیا لہذا یہ بات معتبر نہیں.
2- دوسری بات یہ ہے کہ صرف شہرت کی وجہ سے سند اور معتبر مآخذ کے ذکر کے بغیر لکھ دیا گیا لہٰذا جب تک معتبر ماخذ نہیں مل جاتا تب تک یہ بات قابلِ قبول نہیں ہے.
3- تیسری بات یہ ہے کہ جنہوں نے ماخذ بیان کیا ہے,وہ یا تو شیعوں کی کتب ہیں یا ایسے شیعوں کی طرف مائل حضرات کی کتب ہیں جنہوں نے بہت ساری شیعی روایات کو بغیر تحقیق و تنقیح کے نقل کر دیا جیسے امام ذہبی , ملا علی قاری اور شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علیھم الرحمہ نے مستدرک للحاکم کے حوالے سے اور بعض نے مروج الذہب اور فضول المھمہ کے حوالے سے نقل کیا ہے.
*فائدہ :*
مزید تفصیل کے لیے *"مولودِ کعبہ کون ؟"* نامی کتاب کا مطالعہ فرمایے.
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
20/08/2019
03068209672
*تصدیق و تصحیح:*
1- الجواب صحيح والمجيب نجيح
*فقط محمد عطاء اللہ النعیمی خادم الحدیث والافتاء بجامعۃالنور جمعیت اشاعت اہلسنت (پاکستان) کراچی حال عزیزیہ ؛مکہ مکرمہ*
2- حضرت امیر المؤمنین مولی المسلمین سیدنا و مولانا علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کی ولادت درکعبہ کی روایت کے غیر معتبر ہونے کے حوالے سے جو آپ کا فتویٰ ہے یہ بالکل صحیح اور درست ہے میں اس کی تائید اور توثیق کرتا ہوں.
*ابوالحسنین مفتی محمد عارف محمود خان معطر القادری*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سوال :
حضرت علی کی ولادت کہاں ہوئی ؟
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ حضرت‌علی کی
پیدائش کعبہ میں ہوئی‌کیا‌یہ‌صحیح‌ہے؟

جواب :
کچھ کتابوں میں آیا ہے کی حضرت علی مرتضیٰ شیر خدا حیدر کرار رَضِیَ اللهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَنۡہ خانۂ کعبہ میں پیدا ہوئے، جبکہ زیادہ صحیح یہی ہے کہ آپ رضی الله تبارڪ و تعالیٰ عنہ کی ولادت خانۂ کعبہ میں نہیں ہوئی، مستند کتب میں اس کی صراحت ہے کہ خانہ کعبہ میں سوائے حضرت حكيم بن حزام رضی الله تبارڪ و تعالیٰ عنہ کے کسی کی پیدائش نہیں ہوئی ...
دار الافتاء اہلسنت دعوت اسلامی
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
زیادہ تفصيل کے لئے ↯ ↯ ↯

📖 مولود کعبہ کون 📖 Click
قاری محمد لقمان صاحب

مولود کعبہ کون ؟ نامی کتاب
پر سفلی اعتراضات کا محاسبہ
قاری لقمان صاحب Click

حضرت علی کی پیدائش کہاں ہوئی
علامہ یاسین اختر مصباحی

حضرت علی کی ولادت کہاں ہوئی؟
ٹلیگرام چینل شرعی عدالت Click
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻