حضرت مولانا نیازی سات دن اور آٹھ راتیں پھانسی کی کوٹھری میں رہے اور ۱۴ مئی کو آپ کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کر دی گئی اور پھر مئی ۱۹۵۵ء کو آپ کو باعزت طور پر بَری کر دیا گیا ۔
۱۹۷۴ء میں جب دوبارہ مسلمانانِ پاکستان نے تحفظ ختم نبوت کے لیے تحریک چلائی، تو آپ ایک بار پھر سر بکف ہوکر میدانِ عمل میں اترے۔ اپوزیشن کی تمام دینی و سیاسی جماعتوں پر مشتمل آل پاکستان مجلسِ عمل تحفظ ختم نبوت کی تشکیل ہوئی اور آپ کو مرکزی نائب صدر منتخب کیا گیا۔ آپ نے ملک گیر دورے فرماکر قادیانی مکر و فریب کے جال کو تار تار کیا اور مسلمانوں کے دلوں میں عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شمع روشن کی۔ اس سلسلہ میں آپ کو جن پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اخبارات کی فائلین ان کی شاہد ہیں۔ آپ نے اپنی بیماری ، بڑھاپے اور حکومت کی ستم رانیوں کی پرواہ نہ کی۔ یکم ستمبر ۱۹۷۴ء کو بادشاہی مسجد لاہور میں مجلسِ عمل کے زیرِ اہتمام تاریخی جلسے سے خطاب کیا اور بالآخر آپ کی کوششیں رنگ لائیں اور ۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کو قومی اسمبلی نے مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا۔[۱]
[۱۔ محمد صادق قصوری، اکابر تحریک پاکستان ص۱۳۸]
جمعیت علماء پاکستان سے وابستگی:
۱۹۷۰ء میں جب یحییٰ خان کی مار شل لاء نے انتخابات کرائے، تو جمعیت علماء پاکستان نے بے سرو سامانی کے عالم میں حضرت خواجہ محمد قمر الدین سیالوی مدظلہ کی زیر قیادت الیکشن میں حصہ لیا۔ مولانا نیازی بھی جمعیت کے ٹکٹ پر میانوالی سے قومی اسمبلی کے امیدوار کی حیثیت سے میدان میں آئے، لیکن سازشی عناصر کی سازشوں کی وجہ سے معمولی ووٹوں کی کمی سے کامیاب نہ ہوسکے۔
مارچ ۱۹۷۲ء میں آپ جمعیت علماء پاکستان پنجاب کے کنویز منتخب ہوئے۔ کنویز بننے کے بعد آپ نے پنجاب کا طوفانی دورہ کیا اور ہر قصبہ و شہر میں جاکر جمعیت کی شاخیں قائم کیں۔
ستمبر ۱۹۷۲ء میں ملتان میں جمعیت کا صوبائی کنونشن منعقد ہوا جس میں آپ کو متفقہ طور پر صوبہ پنجاب کا صدر بنادیا گیا۔
۲۶، ۲۷مئی ۱۹۷۳ء کو خانیوال میں جمعیت کا کل پاکستان کنونشن منعقد ہوا جس میں صوبائی مجالسِ شوریٰ، صوبائی مجلسِ منتظمہ، مرکزی مجلسِ شوریٰ اور مرکزی مجلسِ عاملہ کے علاوہ خصوصی دعوت پر مندوبین بھی شامل ہوئے جن کی تعداد ڈیڑھ ہزار سے متجاوز تھی۔ اس کنونشن میں مولانا شاہ احمد نورانی کو صدر اور مولانا عبدالستار خان نیازی کو ناظمِ اعلیٰ (جنرل سیکرٹری) منتخب کیا۔
۲۴، ۲۵؍مئی ۱۹۷۵ء کو ملتان میں جمعیت کا ملک گیر کنونشن منعقد ہوا جس میں حضرت قائدِ اہل سنّت علامہ شاہ احمد نورانی کو دوبارہ بلامقابلہ صدر منتخب کیا گیا اور آپ کو جنرل سیکرٹری چنا گیا۔ حضرت مولانا نیازی جمعیت کے اسٹیج سے قائدِ اہلِ سنّت علامہ شاہ احمد نورانی کی رفاقت میں نظامِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے نفاذ اور مقامِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے تحفظ کی خاطر باوجود پیرانہ سالی کے شب و روز مصروفِ عمل ہیں۔
حضرت قائدِ اہلِ سنّت اور مجاہدِ ملت علامہ نیازی کی بے داغ اور بے لوث قیادت ملت اسلامیہ کے لیے بالعموم اور اہل سنت و جماعت کے لیے بالخصوص سرمایۂ افتخار و امتنان ہے۔
تبلیغی دورہ:
۲۰؍دسمبر کو ورلڈ اسلامک مشن کی دعوت پر جمعیتِ علماء پاکستان کا ایک وفد حضرت مولانا شاہ احمد نورانی کی قیادت میں عالمی دورہ پر روانہ ہوا جس میں حضرت مولانا عبدالستار خان نیازی اور قائدِ حزب اختلاف سابق سندھ اسمبلی پروفیسر شاہ فریدالحق شامل تھے۔ حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کرنے کے بعد اس وفد نے کینیا، مشرقی افریقہ، ماریشس، آئرلینڈ، انگلستان، جنوبی امریکہ کی ریاستیں، ریاست ہائے متحدہ امریکہ، ہالینڈ اور دیگر بہت سے ممالک کا دورہ کیا اور قادیانیوں کے بے شمار مراکز بند ہوگئے۔ اس دورے کا کل سفر تقریباً ایک لاکھ میل بنتا ہے اور اس دورے میں چھ سو سے زائد اجتماعات سے خطاب کیا گیا۔ کئی ممالک کے ریڈیو اور ٹی وی سے بھی خطاب کا موقع فراہم ہوا۔ اس کے بعد عمرہ کرکے ۱۳؍اپریل ۱۹۷۵ء کو یہ وفد واپس پاکستان پہنچ گیا۔[۱]
[۱۔ محمد صادق قصوری، اکابر تحریک پاکستان، ص۱۳۴، ۱۳۵، ۱۳۸، ۱۳۹]
قید و بند اور مقدمات:
مجاہدِ ملت مولانا عبدالستار خان نیازی کی ساری زندگی مقامِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے تحفظ اور نظامِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے نفاذ کی خاطر جدوجہد میں گزری اور اس عظیم مشن کے حصول کی خاطر آپ نے ہر طرح کی تکالیف و مصائب کو خندہ پیشانی سے قبول کیا۔
ایوبی آمریت کے دور میں جب بڑے بڑے جفادری سیاست دان اور جمہوریت کے نام پر بلند بانگ دعوے کرنے والے قائدین خاموشی اختیار کرچکے تھے، تو مولانا نیازی نے مردانہ وار مقابلہ کیا ۔
۱۹۷۴ء میں جب دوبارہ مسلمانانِ پاکستان نے تحفظ ختم نبوت کے لیے تحریک چلائی، تو آپ ایک بار پھر سر بکف ہوکر میدانِ عمل میں اترے۔ اپوزیشن کی تمام دینی و سیاسی جماعتوں پر مشتمل آل پاکستان مجلسِ عمل تحفظ ختم نبوت کی تشکیل ہوئی اور آپ کو مرکزی نائب صدر منتخب کیا گیا۔ آپ نے ملک گیر دورے فرماکر قادیانی مکر و فریب کے جال کو تار تار کیا اور مسلمانوں کے دلوں میں عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شمع روشن کی۔ اس سلسلہ میں آپ کو جن پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اخبارات کی فائلین ان کی شاہد ہیں۔ آپ نے اپنی بیماری ، بڑھاپے اور حکومت کی ستم رانیوں کی پرواہ نہ کی۔ یکم ستمبر ۱۹۷۴ء کو بادشاہی مسجد لاہور میں مجلسِ عمل کے زیرِ اہتمام تاریخی جلسے سے خطاب کیا اور بالآخر آپ کی کوششیں رنگ لائیں اور ۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کو قومی اسمبلی نے مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا۔[۱]
[۱۔ محمد صادق قصوری، اکابر تحریک پاکستان ص۱۳۸]
جمعیت علماء پاکستان سے وابستگی:
۱۹۷۰ء میں جب یحییٰ خان کی مار شل لاء نے انتخابات کرائے، تو جمعیت علماء پاکستان نے بے سرو سامانی کے عالم میں حضرت خواجہ محمد قمر الدین سیالوی مدظلہ کی زیر قیادت الیکشن میں حصہ لیا۔ مولانا نیازی بھی جمعیت کے ٹکٹ پر میانوالی سے قومی اسمبلی کے امیدوار کی حیثیت سے میدان میں آئے، لیکن سازشی عناصر کی سازشوں کی وجہ سے معمولی ووٹوں کی کمی سے کامیاب نہ ہوسکے۔
مارچ ۱۹۷۲ء میں آپ جمعیت علماء پاکستان پنجاب کے کنویز منتخب ہوئے۔ کنویز بننے کے بعد آپ نے پنجاب کا طوفانی دورہ کیا اور ہر قصبہ و شہر میں جاکر جمعیت کی شاخیں قائم کیں۔
ستمبر ۱۹۷۲ء میں ملتان میں جمعیت کا صوبائی کنونشن منعقد ہوا جس میں آپ کو متفقہ طور پر صوبہ پنجاب کا صدر بنادیا گیا۔
۲۶، ۲۷مئی ۱۹۷۳ء کو خانیوال میں جمعیت کا کل پاکستان کنونشن منعقد ہوا جس میں صوبائی مجالسِ شوریٰ، صوبائی مجلسِ منتظمہ، مرکزی مجلسِ شوریٰ اور مرکزی مجلسِ عاملہ کے علاوہ خصوصی دعوت پر مندوبین بھی شامل ہوئے جن کی تعداد ڈیڑھ ہزار سے متجاوز تھی۔ اس کنونشن میں مولانا شاہ احمد نورانی کو صدر اور مولانا عبدالستار خان نیازی کو ناظمِ اعلیٰ (جنرل سیکرٹری) منتخب کیا۔
۲۴، ۲۵؍مئی ۱۹۷۵ء کو ملتان میں جمعیت کا ملک گیر کنونشن منعقد ہوا جس میں حضرت قائدِ اہل سنّت علامہ شاہ احمد نورانی کو دوبارہ بلامقابلہ صدر منتخب کیا گیا اور آپ کو جنرل سیکرٹری چنا گیا۔ حضرت مولانا نیازی جمعیت کے اسٹیج سے قائدِ اہلِ سنّت علامہ شاہ احمد نورانی کی رفاقت میں نظامِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے نفاذ اور مقامِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے تحفظ کی خاطر باوجود پیرانہ سالی کے شب و روز مصروفِ عمل ہیں۔
حضرت قائدِ اہلِ سنّت اور مجاہدِ ملت علامہ نیازی کی بے داغ اور بے لوث قیادت ملت اسلامیہ کے لیے بالعموم اور اہل سنت و جماعت کے لیے بالخصوص سرمایۂ افتخار و امتنان ہے۔
تبلیغی دورہ:
۲۰؍دسمبر کو ورلڈ اسلامک مشن کی دعوت پر جمعیتِ علماء پاکستان کا ایک وفد حضرت مولانا شاہ احمد نورانی کی قیادت میں عالمی دورہ پر روانہ ہوا جس میں حضرت مولانا عبدالستار خان نیازی اور قائدِ حزب اختلاف سابق سندھ اسمبلی پروفیسر شاہ فریدالحق شامل تھے۔ حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کرنے کے بعد اس وفد نے کینیا، مشرقی افریقہ، ماریشس، آئرلینڈ، انگلستان، جنوبی امریکہ کی ریاستیں، ریاست ہائے متحدہ امریکہ، ہالینڈ اور دیگر بہت سے ممالک کا دورہ کیا اور قادیانیوں کے بے شمار مراکز بند ہوگئے۔ اس دورے کا کل سفر تقریباً ایک لاکھ میل بنتا ہے اور اس دورے میں چھ سو سے زائد اجتماعات سے خطاب کیا گیا۔ کئی ممالک کے ریڈیو اور ٹی وی سے بھی خطاب کا موقع فراہم ہوا۔ اس کے بعد عمرہ کرکے ۱۳؍اپریل ۱۹۷۵ء کو یہ وفد واپس پاکستان پہنچ گیا۔[۱]
[۱۔ محمد صادق قصوری، اکابر تحریک پاکستان، ص۱۳۴، ۱۳۵، ۱۳۸، ۱۳۹]
قید و بند اور مقدمات:
مجاہدِ ملت مولانا عبدالستار خان نیازی کی ساری زندگی مقامِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے تحفظ اور نظامِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے نفاذ کی خاطر جدوجہد میں گزری اور اس عظیم مشن کے حصول کی خاطر آپ نے ہر طرح کی تکالیف و مصائب کو خندہ پیشانی سے قبول کیا۔
ایوبی آمریت کے دور میں جب بڑے بڑے جفادری سیاست دان اور جمہوریت کے نام پر بلند بانگ دعوے کرنے والے قائدین خاموشی اختیار کرچکے تھے، تو مولانا نیازی نے مردانہ وار مقابلہ کیا ۔
❤1
۱۹۶۲ء کے مایوس کن حالات ہوں یا ۱۹۶۴ء کے انتخابات کے موقع پر ظلم و ستم کے بل بوتے پر جمہوریت کی مٹی پلید کی گئی ہو، آپ نے ہر سال میں حق و صداقت اور جمہوریت کی شمع روشن کی۔ اعلانِ تاشقند کے بعد مولانا نے ایوبی آمریت کے خلاف بڑے پیمانے پر تحریک چلائی اور آمریت کے بت کو پاش پاش کیا۔ آپ نے ہمیشہ جرأت و ہمت کا ثبوت دیا اور کبھی جابر سلطان کے سامنے کلمۂ حق کہنے سے گریز نہیں کیا۔[۱]
[۱۔ محمد صادق قصوری، اکابرِ تحریک پاکستان ، ص۱۳۹]
چنانچہ اس جرأت اور پامردی کی پاداش میں آپ کی زندگی کا اکثر حصہ یا تو جیلوں میں گزرا، یا عدالتوں کے چکر کاٹنے میں صرف ہوا۔ آپ کی گرفتاریوں اور مقدمات کی تفصیل یہ ہے:
۱۹۴۵ء میں جب مولانا نیازی مسلم لیگ ضلع میانوالی کے صدر، صوبائی مسلم لیگ کے سیکرٹری، انجمن نعمانیہ کے سیکرٹری، سیکرٹری انجمن اسلامیہ پنجاب اور شعبۂ علومِ اسلامیہ اسلامیہ کالج لاہور کے صدر تھے۔ میانوالی میں مولانا کے سیاسی حریفوں نے آپ کی دن بدن مقبولیت سے خائف ہوکر ایک سازش کے تحت آپ کو گرفتار کرادیا۔ وہ آپ کو سیاسی طور پر بلیک میل کرنا چاہتے تھے۔ اس گرفتاری کا پس منظر یہ تھا کہ آپ چچا زاد اور پھوپھی زاد بھائیوں کے درمیان متنازعہ اراضی کے جھگڑے میں ثالث مقرر ہوئے۔جب آپ ان دونوں کو لے کر مصالحت کی بابت مشترکہ بیان لکھوانے عیسیٰ خیل تھانے میں آئے، تو وہاں کے نوابوں اور امراء کے پالتو تھانیدار نے فریقین کے ساتھ آپ کو بھی گرفتار کرلیا۔ اتفاقاً دوسرے دن مجسٹریٹ کے عیسیٰ خیل آنے پر آپ کو ضمانت پر رہا کردیا گیا اور فریقین میں صلح ہوگئی۔
۲۵؍جنوری ۱۹۴۷ء کو خضرِ وزارت کے خلاف سول نافرمانی کی تحریک شروع ہوئی تو آپ نے اپنے شاگردوں کو ہدایت دے کر پورے صوبے میں پھیلا دیا اور تحریک میں پانچ پانچ آدمیوں کے ذریعے دفعہ ۱۴۴ کو توڑا جاتا تھا، لیکن آپ نے جلوسوں کا پروگرام بنایا، چنانچہ ۲۷؍جنوری ۱۹۷۴ء کو آپ بحیثیت صوبائی صدر پنجاب مسلم لیگ و ڈکٹیٹر سول نافرمانی گرفتار کرلیا گیا، جبکہ نواب ممدوٹ شیخ صادق حسین اور میاں عبد الباری اس سے پہلے گرفتار ہوچکے تھے۔ فروری کے آخر میں تمام مطالبات منظور کیے گئے اور آپ کو رہا کردیا گیا۔
۱۹۵۲ء میں چک نمبر ۲۳۲ تھانہ موچی والا ضلع جھنگ میں پولیس نے بے گناہ مسلمانوں پر تشدد کیا اور عورتوں کی بے حرمتی کی تو مولانا نیازی نے اس پر احتجاج کیا۔ نیلا گنبد کی جامع مسجد میں منعقدہ احتجاجی جلسہ میں آپ کی تقریر پر دولتانہ وزارت نے توہینِ عدالت کا کیس بنایا، لیکن جسٹس شبیر احمد نے یہ ریمارکس دے کر کیس خارج کردیا کہ وزیرِ اعلیٰ ممتاز محمد خان دولتانہ اور آئی جی پولیس قربان علی خان پر تنقید، توہین عدالت نہیں۔ا گر ان کی توہین ہوئی ہے تو وہ علیحدہ ہتک عزت کا دعویٰ کرسکتے ہیں، توہینِ عدالت کی آڑ نہیں لے سکتے۔
۲۳؍مارچ ۱۹۵۳ء کو تحریک ختم نبوت کے موقع پر بغاوت کے الزام میں آپ کو گرفتار کیا گیا۔ مقدمہ چلا سزائے موت ہوئی اور پھانسی کی کوٹھری میں لےجائے گئے، لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلہ جلیلہ سے فیصلہ عمر قید میں بدلا اور پھر مئی ۱۹۵۵ء کو آپ باعزت طور پر بری کردیے گئے۔
۸؍جولائی ۱۹۵۵ء کو مسلح بغاوت، نظم و نسق میں خلل ڈالنے اور داخلی طور پر اضطراب پیدا کرنے کے الزام میں بنگال ریگولیشن کے تحت آپ کو پیپلز ہاؤس لاہور سے گرفتار کرکے سنٹرل جیل ساہیوال میں شاہی قیدی کی حیثیت سے رکھا گیا اور اے کلاس دی گئی۔ جسٹس ذکی الدین پال اور میاں محمود علی قصوری نے آپ کے مقدمہ کی پیروی کی اور ۲۶؍جولائی ۱۹۵۵ء کو جسٹس ایم آر کیانی نے آپ کی گرفتاری کو خلافِ قانون قرار دیا اور آپ رہا کردیے گئے۔
اسی دوران ساہیوال سنٹرل جیل میں آپ کو ایئر کنڈیشن کی پیشکش کی گئ، لیکن آپ نے فرمایا: اگر سکندر مرزا اپنی جیب خاص سے کرتا ہے تو ٹھیک ہے، ورنہ میں قومی خزانے پر بوجھ نہیں ڈالنا چاہتا۔
۱۹۵۶ء میں شیعہ سنی کھچاؤ پیدا ہوا۔ اس وقت ڈاکٹر خان وزیرِ اعلیٰ تھے۔ آپ کی تقریر پر پابندی لگائی گئی اور ملتان میں کیس بنایا گیا، لیکن آپ نے ضمانت کروالی اور بعد میں کیس واپس ہوگیا۔
۱۹۵۹ء میں جب مارشل لاء کا دور تھا، آپ نے لاہور میں میلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیس جلسوں سے خطاب کیا اور جلوسوں کی قیادت کی، بلکہ چھاؤنی لاہور میں میلاد شریف کے جلوس میں فوج بھی شریک ہوتی۔
اس موقع پر سی آئی ڈی کی غلط رپورٹ پر آپ کے خلاف مقدمۂ بغاوت قائم کیا گیا۔ آپ کو گرفتار کرکے بوسٹل جیل میں رکھا گیا، جہاں پہلے سی کلاس اور پھر اے کلاس دی گئی۔ اسی دوران آپ علیل ہوگئے اور میوہسپتال کے البرٹ وکٹر میں منتقل کردیے گئے۔ میوہسپتال اور جی پی او کے درمیان عدالت لگائی گئی۔ آپ نے سو صفحات پر مشتمل بیان انکوائری کمیشن کو لکھوایا اور ۱۴؍جنوری ۱۹۶۰ء کو ملٹری کورٹ نے آپ کو بری کر دیا ۔
[۱۔ محمد صادق قصوری، اکابرِ تحریک پاکستان ، ص۱۳۹]
چنانچہ اس جرأت اور پامردی کی پاداش میں آپ کی زندگی کا اکثر حصہ یا تو جیلوں میں گزرا، یا عدالتوں کے چکر کاٹنے میں صرف ہوا۔ آپ کی گرفتاریوں اور مقدمات کی تفصیل یہ ہے:
۱۹۴۵ء میں جب مولانا نیازی مسلم لیگ ضلع میانوالی کے صدر، صوبائی مسلم لیگ کے سیکرٹری، انجمن نعمانیہ کے سیکرٹری، سیکرٹری انجمن اسلامیہ پنجاب اور شعبۂ علومِ اسلامیہ اسلامیہ کالج لاہور کے صدر تھے۔ میانوالی میں مولانا کے سیاسی حریفوں نے آپ کی دن بدن مقبولیت سے خائف ہوکر ایک سازش کے تحت آپ کو گرفتار کرادیا۔ وہ آپ کو سیاسی طور پر بلیک میل کرنا چاہتے تھے۔ اس گرفتاری کا پس منظر یہ تھا کہ آپ چچا زاد اور پھوپھی زاد بھائیوں کے درمیان متنازعہ اراضی کے جھگڑے میں ثالث مقرر ہوئے۔جب آپ ان دونوں کو لے کر مصالحت کی بابت مشترکہ بیان لکھوانے عیسیٰ خیل تھانے میں آئے، تو وہاں کے نوابوں اور امراء کے پالتو تھانیدار نے فریقین کے ساتھ آپ کو بھی گرفتار کرلیا۔ اتفاقاً دوسرے دن مجسٹریٹ کے عیسیٰ خیل آنے پر آپ کو ضمانت پر رہا کردیا گیا اور فریقین میں صلح ہوگئی۔
۲۵؍جنوری ۱۹۴۷ء کو خضرِ وزارت کے خلاف سول نافرمانی کی تحریک شروع ہوئی تو آپ نے اپنے شاگردوں کو ہدایت دے کر پورے صوبے میں پھیلا دیا اور تحریک میں پانچ پانچ آدمیوں کے ذریعے دفعہ ۱۴۴ کو توڑا جاتا تھا، لیکن آپ نے جلوسوں کا پروگرام بنایا، چنانچہ ۲۷؍جنوری ۱۹۷۴ء کو آپ بحیثیت صوبائی صدر پنجاب مسلم لیگ و ڈکٹیٹر سول نافرمانی گرفتار کرلیا گیا، جبکہ نواب ممدوٹ شیخ صادق حسین اور میاں عبد الباری اس سے پہلے گرفتار ہوچکے تھے۔ فروری کے آخر میں تمام مطالبات منظور کیے گئے اور آپ کو رہا کردیا گیا۔
۱۹۵۲ء میں چک نمبر ۲۳۲ تھانہ موچی والا ضلع جھنگ میں پولیس نے بے گناہ مسلمانوں پر تشدد کیا اور عورتوں کی بے حرمتی کی تو مولانا نیازی نے اس پر احتجاج کیا۔ نیلا گنبد کی جامع مسجد میں منعقدہ احتجاجی جلسہ میں آپ کی تقریر پر دولتانہ وزارت نے توہینِ عدالت کا کیس بنایا، لیکن جسٹس شبیر احمد نے یہ ریمارکس دے کر کیس خارج کردیا کہ وزیرِ اعلیٰ ممتاز محمد خان دولتانہ اور آئی جی پولیس قربان علی خان پر تنقید، توہین عدالت نہیں۔ا گر ان کی توہین ہوئی ہے تو وہ علیحدہ ہتک عزت کا دعویٰ کرسکتے ہیں، توہینِ عدالت کی آڑ نہیں لے سکتے۔
۲۳؍مارچ ۱۹۵۳ء کو تحریک ختم نبوت کے موقع پر بغاوت کے الزام میں آپ کو گرفتار کیا گیا۔ مقدمہ چلا سزائے موت ہوئی اور پھانسی کی کوٹھری میں لےجائے گئے، لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلہ جلیلہ سے فیصلہ عمر قید میں بدلا اور پھر مئی ۱۹۵۵ء کو آپ باعزت طور پر بری کردیے گئے۔
۸؍جولائی ۱۹۵۵ء کو مسلح بغاوت، نظم و نسق میں خلل ڈالنے اور داخلی طور پر اضطراب پیدا کرنے کے الزام میں بنگال ریگولیشن کے تحت آپ کو پیپلز ہاؤس لاہور سے گرفتار کرکے سنٹرل جیل ساہیوال میں شاہی قیدی کی حیثیت سے رکھا گیا اور اے کلاس دی گئی۔ جسٹس ذکی الدین پال اور میاں محمود علی قصوری نے آپ کے مقدمہ کی پیروی کی اور ۲۶؍جولائی ۱۹۵۵ء کو جسٹس ایم آر کیانی نے آپ کی گرفتاری کو خلافِ قانون قرار دیا اور آپ رہا کردیے گئے۔
اسی دوران ساہیوال سنٹرل جیل میں آپ کو ایئر کنڈیشن کی پیشکش کی گئ، لیکن آپ نے فرمایا: اگر سکندر مرزا اپنی جیب خاص سے کرتا ہے تو ٹھیک ہے، ورنہ میں قومی خزانے پر بوجھ نہیں ڈالنا چاہتا۔
۱۹۵۶ء میں شیعہ سنی کھچاؤ پیدا ہوا۔ اس وقت ڈاکٹر خان وزیرِ اعلیٰ تھے۔ آپ کی تقریر پر پابندی لگائی گئی اور ملتان میں کیس بنایا گیا، لیکن آپ نے ضمانت کروالی اور بعد میں کیس واپس ہوگیا۔
۱۹۵۹ء میں جب مارشل لاء کا دور تھا، آپ نے لاہور میں میلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیس جلسوں سے خطاب کیا اور جلوسوں کی قیادت کی، بلکہ چھاؤنی لاہور میں میلاد شریف کے جلوس میں فوج بھی شریک ہوتی۔
اس موقع پر سی آئی ڈی کی غلط رپورٹ پر آپ کے خلاف مقدمۂ بغاوت قائم کیا گیا۔ آپ کو گرفتار کرکے بوسٹل جیل میں رکھا گیا، جہاں پہلے سی کلاس اور پھر اے کلاس دی گئی۔ اسی دوران آپ علیل ہوگئے اور میوہسپتال کے البرٹ وکٹر میں منتقل کردیے گئے۔ میوہسپتال اور جی پی او کے درمیان عدالت لگائی گئی۔ آپ نے سو صفحات پر مشتمل بیان انکوائری کمیشن کو لکھوایا اور ۱۴؍جنوری ۱۹۶۰ء کو ملٹری کورٹ نے آپ کو بری کر دیا ۔
❤1
۱۹۶۳ء میں نیشنل ڈیموکرٹیک فرنٹ (قومی جمہوری محاذ) کے نام سے ایک جماعت کی تشکیل کی خاطر چند سیاسی راہنما کراچی میں جمع ہوئے۔ حکومت نے ان پر بغاوت کا مقدمہ قائم کرکے گرفتار کرلیا، ان راہنماؤں میں مولانا نیازی کے علاوہ میاں محمود علی قصوری، میاں طفیل محمد، نوابزادہ نصراللہ خان، خواجہ محمد رفیق شہید، عطاء اللہ مینگل وغیرہم شامل تھے۔ آپ کو ملتان ڈسٹرکٹ جیل، سنٹرل جیل ملتان اور بوسٹل جیل میں رکھا گیا اور پھر ضمانت پر رہائی ہوئی۔ تین سال تک مقدمہ چلتا رہا۔ یہاں تک کہ سپیشل مجسٹریٹ مقرر کیا گیا اور ہائی کورٹ تک مقدمہ پہنچا۔
۱۶؍نومبر ۱۹۶۳ء کو یونیورسٹی آر ڈی ننس کے تحت آپ کو ساہیوال سٹیشن سے گرفتار کیا گیا اور مسلسل پچپن (۵۵) گھنٹے آپ کو جگایا گیا اور تشدد کیا گیا۔ تین چار دن بعد رہائی عمل میں آئی اور ۱۹۶۵ء کی پاک بھارت جنگ کے بعد مقدمہ واپس لے لیا گیا۔
۱۹۶۸ء میں مجاہدِ ملت مولانا عبدالستار خان نیازی گرمیاں گزارنے ایبٹ آباد گئے جہاں آپ نے ایک جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے حق گوئی کا مظاہرہ کیا، جس پر ڈپٹی کشمنر ضلع ہزارہ (اب ڈویژن) کے حکم سے ۹؍جولائی ۱۹۶۸ء کو گرفتار کرکے ڈسٹرکٹ جیل ایبٹ آباد میں نظر بند کردیا گیا، پھر ایک مہینہ پشاور میں نظر بند رہے۔ جناب ذکی الدین پال، میاں محمود علی قصوری اور ارباب سکندر خان خلیل نے آپ کی وکالت کے فرائض سر انجام دیے۔
بنگلہ دیش نامنظور تحریک کی پہلی گرفتاری کا شرف مولانا نیازی کو حاصل ہوا، رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں ۵؍نومبر ۱۹۷۲ء کو سحری کے وقت آپ کو گرفتار کیا گیا۔ ملتان سول لائن، تھانہ خانیوال اور وہاڑی میں رکھا گیا۔ عیدالفطر کی نماز آپ نے وہاڑی جیل میں پڑھائی اور آپ پر تقریباً ساٹھ کیس بنائے گئے، لیکن جسٹس مولوی مشتاق حسین نے تمام مقدمات کی ضمانت منظور کرلی، بلکہ یہ لکھا کہ مولانا کی گرفتاری سے پہلے عدالت کو بتایا جائے۔[۱]
[۱۔ حضرت مجاہد ملت مدظلہ سے راقم کی ملاقات، مورخہ ۳۱؍مارچ ۱۹۷۸ء]
آپ کی اس گرفتاری پر روزنامہ ’’جسارت‘‘ کراچی ۱۲؍نومبر ۱۹۷۲ء کی اشاعت میں رقمطراز ہے:
’’مولانا عبدالستار خان نیازی بنگلہ دیش تسلیم کرنے کے مخالف تھے۔ جمعیت کے پارلیمانی رہنما مولانا شاہ احمد نورانی نے جیسے ہی یہ اعلان کیا کہ جمعیت بنگلہ دیش کی منظوری کے خلاف مہم چلائے گی۔ حکومت نے مولانا عبدالستار خان نیازی کو گرفتار کرلیا تاکہ مہم نہ چل سکے۔
’’ہم مولانا عبدالستار خان نیازی کی رہائی کا مطالبہ نہیں کرتے، بلکہ ہم مولانا نیازی اور جمعیت کو مبارک بار دیتے ہیں کہ ’’بنگلہ دیش نامنظور تحریک‘‘ کی پہلی گرفتاری کا شرف انہیں حاصل ہوا۔
اہلِ وطن یاد رکھیے، مولانا عبدالستار خان پاکستان کے دیوانے اور جانثار ہیں۔‘‘[۱]
[۱۔ محمد صادق قصوری، اکابر تحریک پاکستان، ص۱۳۴]
’’مولانا عبدالستار خان نیازی نے اس صدی کی چوتھی دھائی میں سیاست میں قدم رکھنا۔الحمدللہ! کہ ربع صدی گزرنے کے بعد بھی ان کے پائے ثبات میں کبھی لغزش نہیں آئی۔ اگر وہ دنیادار انسان ہوتے، اگر ان کا ایمان بکاؤ مال ہوتا، تو وہ جب چاہتے وزارت کی گدی پر متمکن ہوسکتے تھے۔ انہوں نے اپنے لیے سنگلاخ راستہ اختیار کیا۔ وہ ایک ایسے مردِ مجاہد ہیں جن کی راتوں کا بیشتر حصہ نوافل گزاری میں گزرتا ہے۔ گزشتہ ہفتے کی رات کو جب پولیس ایک بجے ان کے مکان پر اُنہیں گرفتار کرنے آئی، تو وہ نوافل ادا کرنے میں مصروف تھے۔ میں حکومت سے کہتا ہوں کہ ایک عاشقِ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کو پابجولاں کرکے اس کی نیک نامی میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اب جبکہ حکومت نے مولانا کو گرفتار کرلیا ہے، تو میں حکومت سے ان کی رہائی کی اپیل نہیں کروں گا، کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ یہ بات واقعی مولانا کو ناگوار گزرتی ہے۔[۱]
[۱۔ محمد صادق قصوری، اکابر تحریک پاکستان، ص۱۳۵، ۱۳۶]
۱۹۷۴ء میں آپ پر کیس بنائے گئے، لیکن گرفتاری کی نوت نہیں آئی، کیونکہ ضمانت قبل از گرفتاری منظور ہوگئی۔
۱۳؍جون ۱۹۷۵ء میں آپ پر دو کیس بنائے گئے اور دو ماہ ساہیوال جیل اور کوٹ لکھت جیل میں نظر بند کردیا گیا، ۷؍اگست۱۹۷۵ء کو رہائی ہوئی۔
۲۷؍نومبر ۱۹۷۵ء کو میانوالی میں آپ کی تقاریر پر دس مقدمات قائم کیے گئے اور تین ماہ میانوالی جیل میں نظر بند رکھا گیا۔ قائدِ اہل سنت علامہ شاہ احمد نورانی نے ہائی کورٹ میں رِٹ دائر کی؛ چنانچہ جسٹس شفیع الرحمٰن کی عدالت میں مقدمہ چلتا رہا اور آپ کی تقاریر کی ٹیپ عدالت میں سنی جاتی رہیں جس سے سی آئی ڈی کی غلط رپورٹ بھی واضح ہوئی۔ ۸؍فروری ۱۹۷۶ء کو آپ باعزت طور پر بری کردیے گئے۔ روزنامہ نوائے وقت لاہور میں آپ کی رہائی پر یہ شعر شائع ہوئے ؎
تعلق دار سے دیرینہ ہے آوازۂ حق ہے
یہی بنیاد ہنگامہ یہی باعث ہے رونق کا
زمانہ لے چلا تھا دار کی جانب نیازی کو
عدالت نے بھرم رکھ ہی لیا انصاف مطلق کا
۱۶؍نومبر ۱۹۶۳ء کو یونیورسٹی آر ڈی ننس کے تحت آپ کو ساہیوال سٹیشن سے گرفتار کیا گیا اور مسلسل پچپن (۵۵) گھنٹے آپ کو جگایا گیا اور تشدد کیا گیا۔ تین چار دن بعد رہائی عمل میں آئی اور ۱۹۶۵ء کی پاک بھارت جنگ کے بعد مقدمہ واپس لے لیا گیا۔
۱۹۶۸ء میں مجاہدِ ملت مولانا عبدالستار خان نیازی گرمیاں گزارنے ایبٹ آباد گئے جہاں آپ نے ایک جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے حق گوئی کا مظاہرہ کیا، جس پر ڈپٹی کشمنر ضلع ہزارہ (اب ڈویژن) کے حکم سے ۹؍جولائی ۱۹۶۸ء کو گرفتار کرکے ڈسٹرکٹ جیل ایبٹ آباد میں نظر بند کردیا گیا، پھر ایک مہینہ پشاور میں نظر بند رہے۔ جناب ذکی الدین پال، میاں محمود علی قصوری اور ارباب سکندر خان خلیل نے آپ کی وکالت کے فرائض سر انجام دیے۔
بنگلہ دیش نامنظور تحریک کی پہلی گرفتاری کا شرف مولانا نیازی کو حاصل ہوا، رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں ۵؍نومبر ۱۹۷۲ء کو سحری کے وقت آپ کو گرفتار کیا گیا۔ ملتان سول لائن، تھانہ خانیوال اور وہاڑی میں رکھا گیا۔ عیدالفطر کی نماز آپ نے وہاڑی جیل میں پڑھائی اور آپ پر تقریباً ساٹھ کیس بنائے گئے، لیکن جسٹس مولوی مشتاق حسین نے تمام مقدمات کی ضمانت منظور کرلی، بلکہ یہ لکھا کہ مولانا کی گرفتاری سے پہلے عدالت کو بتایا جائے۔[۱]
[۱۔ حضرت مجاہد ملت مدظلہ سے راقم کی ملاقات، مورخہ ۳۱؍مارچ ۱۹۷۸ء]
آپ کی اس گرفتاری پر روزنامہ ’’جسارت‘‘ کراچی ۱۲؍نومبر ۱۹۷۲ء کی اشاعت میں رقمطراز ہے:
’’مولانا عبدالستار خان نیازی بنگلہ دیش تسلیم کرنے کے مخالف تھے۔ جمعیت کے پارلیمانی رہنما مولانا شاہ احمد نورانی نے جیسے ہی یہ اعلان کیا کہ جمعیت بنگلہ دیش کی منظوری کے خلاف مہم چلائے گی۔ حکومت نے مولانا عبدالستار خان نیازی کو گرفتار کرلیا تاکہ مہم نہ چل سکے۔
’’ہم مولانا عبدالستار خان نیازی کی رہائی کا مطالبہ نہیں کرتے، بلکہ ہم مولانا نیازی اور جمعیت کو مبارک بار دیتے ہیں کہ ’’بنگلہ دیش نامنظور تحریک‘‘ کی پہلی گرفتاری کا شرف انہیں حاصل ہوا۔
اہلِ وطن یاد رکھیے، مولانا عبدالستار خان پاکستان کے دیوانے اور جانثار ہیں۔‘‘[۱]
[۱۔ محمد صادق قصوری، اکابر تحریک پاکستان، ص۱۳۴]
’’مولانا عبدالستار خان نیازی نے اس صدی کی چوتھی دھائی میں سیاست میں قدم رکھنا۔الحمدللہ! کہ ربع صدی گزرنے کے بعد بھی ان کے پائے ثبات میں کبھی لغزش نہیں آئی۔ اگر وہ دنیادار انسان ہوتے، اگر ان کا ایمان بکاؤ مال ہوتا، تو وہ جب چاہتے وزارت کی گدی پر متمکن ہوسکتے تھے۔ انہوں نے اپنے لیے سنگلاخ راستہ اختیار کیا۔ وہ ایک ایسے مردِ مجاہد ہیں جن کی راتوں کا بیشتر حصہ نوافل گزاری میں گزرتا ہے۔ گزشتہ ہفتے کی رات کو جب پولیس ایک بجے ان کے مکان پر اُنہیں گرفتار کرنے آئی، تو وہ نوافل ادا کرنے میں مصروف تھے۔ میں حکومت سے کہتا ہوں کہ ایک عاشقِ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کو پابجولاں کرکے اس کی نیک نامی میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اب جبکہ حکومت نے مولانا کو گرفتار کرلیا ہے، تو میں حکومت سے ان کی رہائی کی اپیل نہیں کروں گا، کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ یہ بات واقعی مولانا کو ناگوار گزرتی ہے۔[۱]
[۱۔ محمد صادق قصوری، اکابر تحریک پاکستان، ص۱۳۵، ۱۳۶]
۱۹۷۴ء میں آپ پر کیس بنائے گئے، لیکن گرفتاری کی نوت نہیں آئی، کیونکہ ضمانت قبل از گرفتاری منظور ہوگئی۔
۱۳؍جون ۱۹۷۵ء میں آپ پر دو کیس بنائے گئے اور دو ماہ ساہیوال جیل اور کوٹ لکھت جیل میں نظر بند کردیا گیا، ۷؍اگست۱۹۷۵ء کو رہائی ہوئی۔
۲۷؍نومبر ۱۹۷۵ء کو میانوالی میں آپ کی تقاریر پر دس مقدمات قائم کیے گئے اور تین ماہ میانوالی جیل میں نظر بند رکھا گیا۔ قائدِ اہل سنت علامہ شاہ احمد نورانی نے ہائی کورٹ میں رِٹ دائر کی؛ چنانچہ جسٹس شفیع الرحمٰن کی عدالت میں مقدمہ چلتا رہا اور آپ کی تقاریر کی ٹیپ عدالت میں سنی جاتی رہیں جس سے سی آئی ڈی کی غلط رپورٹ بھی واضح ہوئی۔ ۸؍فروری ۱۹۷۶ء کو آپ باعزت طور پر بری کردیے گئے۔ روزنامہ نوائے وقت لاہور میں آپ کی رہائی پر یہ شعر شائع ہوئے ؎
تعلق دار سے دیرینہ ہے آوازۂ حق ہے
یہی بنیاد ہنگامہ یہی باعث ہے رونق کا
زمانہ لے چلا تھا دار کی جانب نیازی کو
عدالت نے بھرم رکھ ہی لیا انصاف مطلق کا
❤1
علاوہ ازیں ڈیرہ غازی خان، مظفر گڑھ، بورے والا اور وہاڑی میں آپ کی تقاریر پر کئی مقدمات قائم کیے گئے، لیکن ضمانت ہوگئی اور گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔
قائدِ اعظم اور علامہ نیازی:
قائدِ اعظم محمد علی جناح مرحوم، نوجوان نیازی کو کس قدر عزیز رکھتے تھے، اس کا اندازہ اس سے ہوجاتا ہے کہ ۱۹۴۲ء میں مٹر خالد لطیف گابا کے دیوالیہ ہوجانے سے لاہور کے شہری حلقے میں انتخاب ہونا قرار پایا۔ قائد اعظم نے مولانا عبدالستار خان نیازی کو جو اس وقت ایم اے کے طالب علم تھے، امیدوار نامزد کیا اور ملک برکت علی مرحوم کو ٹیلی فون پر ہدایت کی کہ نیازی کے لیے ضمانت فراہم کی جائے اور کاغذات نامزدگی داخل کیے جائیں۔ صوبائیں مسلم لیگ نے میاں امیرالدین کو ٹکٹ دیا، لیکن قائدِ اعظم نے نیشنل ڈیفنس کونسل کی رکنیت کے سلسلے میں سر سکندر حیات سے اختلاف کی بنیاد پر نیازی صاحب کو مقابلے میں آجانے کا حکم دیا۔
علامہ نیازی کو بیس ہزار روپے کی پیشکش کی گئی کہ وہ مقابلے سے دستبردار ہوجائیں، لیکن ان کا جواب تھا کہ بکنے اور جھکنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ قائداعظم کے حکم سے میدان میں اُترا ہوں، وہ حکم دیں گے تو دستبردار ہوجاؤں گا، ورنہ ہرگز ہرگز نہیں۔
قاتلانہ حملے:
مجاہد ملت مولانا عبد الستار خان نیازی کی مقبولیت سے کالا باغ کے نواب ہمیشہ خائف رہے۔ آپ نے ہمیشہ ان کا مقابلہ کیا اور ملک امیر محمد خان کے لڑکے ملک مظفر کے مقابلے میں قومی اسمبلی کے انتخاب میں حصہ لیتے رہے۔ انہوں نے آپ پر قاتلانہ حملے کرائے۔ آپ کے کارکنوں کو تنگ کیا گیا۔ان پر ہر قسم کا ظلم روا رکھا گیا، لیکن اس کے باوجود آپ کے پائے ثبات میں لغزش نہ آئی۔
پہلا حملہ اپریل ۱۹۶۸ء میں بمقام داؤد خیل اس وقت ہوا، جب آپ بطورِ امیدوار نیشنل اسمبلی بی ڈی ممبران کو خطاب کرنے کے لیے جلسۂ عام میں جا رہے تھے۔ نواب کالا باغ کے ملازمِ خاص بمعہ دوسرے مسلح غنڈوں کے حملہ اور ہوئے، مگر مولانا صاحب کے جلوس میں دائیں بائیں اور آگے پیچھے سینکڑوں کارکن موجود تھے۔ نیز مکان کے چھت پر اُن کے حامی مسلح مجاہدین موجود تھے، اس لیے یہ حملہ ناکام رہا۔
دوسرا حملہ مورخہ ۱۷؍ستمبر ۱۹۶۴ء کو میکلوڈ روڈ لاہور پر دفتر روزنامہ ’’کوہستان‘‘ کیا گیا۔ مقابلہ میں مولانا زخمی ہوگئے۔ سڑک پر لوگوں کے اجتماع کی وجہ سے حملہ آور بھاگ گئے۔ مولانا نے حملہ آوروں کو پہچان لیا اور رپورٹ درج کرائی، مگر پولیس نے کچھ نہ کیا۔
تیسرا حملہ اکتوبر ۱۹۶۴ء میں بمقام موسیٰ خیل اس وقت کیا گیا جب مولانا نیازی جامع مسجد میں ایک جلسۂ عام سے خطاب کر رہے تھے۔ نواب کالا باغ کے غنڈوں نے مسجد پر فائرنگ کی۔ اللہ تعالیٰ نے محفوظ رکھا۔ جب اس کے جواب میں سر فروشانِ نیازی نے فائرنگ کی تو غنڈے رفوچکر ہوگئے۔
اور چوتھا حملہ ۳۱؍دسمبر ۱۹۶۴ء کو اس وقت ہوا، جب مولانا نیازی ایک عزیز کی تعزیت کے لیے کالا باغ سے گزر کر عیسیٰ خیل جا رہے تھے، اڈرہ لاریاں پر غنڈوں سے مقابلہ ہوگیا۔ مولانا نے کالا باغ کے غنڈوں کو پسپا کردیا۔ مگر چلتی گاڑی میں ان ظالموں نے فائرنگ کی اور بھاری پتھر مولانا کے سینے پر مارے جس سے وہ زخمی ہوگئے۔ اس حملہ کی رپورٹ عیسیٰ خیل تھانہ میں درج کرائی، مگر کوئی کارروائی نہ ہوئی۔
مولانا نے ان حملوں کے دوران موچی دروازہ کے جلسۂ عام میں (حاضری چار لاکھ سے زیادہ تھی) مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کی تقریر کے بعد خطاب کرتے ہوئے نواب کالا باغ کو للکارا تھا کہ لمبی لمبی مونچھوں اور موٹے موٹے بازوؤں سے کام نہیں چلے گا۔ تیری مونچھوں سے بغاوت ہوسکتی ہے، مگر کالی کملی والے محبوب رب العالمین کی زلفوں سے بغاوت نہیں ہوسکتی۔ زمانہ نئی تاریخ مرتب کر رہا ہے اس میں تمہارا نام یزیدوں، ابن زیادوں اور شمروں کی فہرست میں شامل ہوگا اور میرا نام شہیدِ کربلا کے غلاموں میں شامل ہوگا۔ میں حسین منصور حلاج کا ہمنوا ہوکر کہوں گا ؎
من حسینِ وقت و نااہلاں یزید و شمر من
روزگارم جملہ عاشورہ و منزل کربلا
کوہِ ارادتم متزلزل نمی شود
لَو بُسَّتِ الجِبَالُ وَلَو دُکَّتِ السّماء
قومی اتحاد اور علامہ نیازی:
۱۹۷۷ء کے انتخابات کا اعلان ہوتے ہی حزبِ اختلاف کی نو جماعتوں پر مشتمل ’’قومی اتحاد‘‘ وجود میں آیا جس نے ملک میں ایک تاریخ ساز تحریک کے ذریعے ملک کو ظلم و استبداد کے مکروہ پنجوں سے آزاد کیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ’’قومی اتحاد‘‘ کا قیام تمام سیاسی راہنماؤں کے تدبر اور باہمی تعاون کا نتیجہ تھا، لیکن اتحاد کی تشکیل میں جمعیت علماء پاکستان نے مرکزی کردار ادا کیا۔ عہدوں اور سیٹوں کی قربانی دے کر اتحاد کو برقرار رکھنا اور نظامِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے نفاذ کی خاطر تمام اختلافات کو پسِ پشت ڈال دیا اور اس ضمن میں مولانا نیازی سیکرٹری جنرل جمعیت علماء پاکستان نے جو خصوصی اور نمایاں کردار ادا کیا، اسے نوائے وقت کے نمائندہ خصوصی جناب ریاض پرویز ان الفاظ میں تحریر فرماتے ہیں:
قائدِ اعظم اور علامہ نیازی:
قائدِ اعظم محمد علی جناح مرحوم، نوجوان نیازی کو کس قدر عزیز رکھتے تھے، اس کا اندازہ اس سے ہوجاتا ہے کہ ۱۹۴۲ء میں مٹر خالد لطیف گابا کے دیوالیہ ہوجانے سے لاہور کے شہری حلقے میں انتخاب ہونا قرار پایا۔ قائد اعظم نے مولانا عبدالستار خان نیازی کو جو اس وقت ایم اے کے طالب علم تھے، امیدوار نامزد کیا اور ملک برکت علی مرحوم کو ٹیلی فون پر ہدایت کی کہ نیازی کے لیے ضمانت فراہم کی جائے اور کاغذات نامزدگی داخل کیے جائیں۔ صوبائیں مسلم لیگ نے میاں امیرالدین کو ٹکٹ دیا، لیکن قائدِ اعظم نے نیشنل ڈیفنس کونسل کی رکنیت کے سلسلے میں سر سکندر حیات سے اختلاف کی بنیاد پر نیازی صاحب کو مقابلے میں آجانے کا حکم دیا۔
علامہ نیازی کو بیس ہزار روپے کی پیشکش کی گئی کہ وہ مقابلے سے دستبردار ہوجائیں، لیکن ان کا جواب تھا کہ بکنے اور جھکنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ قائداعظم کے حکم سے میدان میں اُترا ہوں، وہ حکم دیں گے تو دستبردار ہوجاؤں گا، ورنہ ہرگز ہرگز نہیں۔
قاتلانہ حملے:
مجاہد ملت مولانا عبد الستار خان نیازی کی مقبولیت سے کالا باغ کے نواب ہمیشہ خائف رہے۔ آپ نے ہمیشہ ان کا مقابلہ کیا اور ملک امیر محمد خان کے لڑکے ملک مظفر کے مقابلے میں قومی اسمبلی کے انتخاب میں حصہ لیتے رہے۔ انہوں نے آپ پر قاتلانہ حملے کرائے۔ آپ کے کارکنوں کو تنگ کیا گیا۔ان پر ہر قسم کا ظلم روا رکھا گیا، لیکن اس کے باوجود آپ کے پائے ثبات میں لغزش نہ آئی۔
پہلا حملہ اپریل ۱۹۶۸ء میں بمقام داؤد خیل اس وقت ہوا، جب آپ بطورِ امیدوار نیشنل اسمبلی بی ڈی ممبران کو خطاب کرنے کے لیے جلسۂ عام میں جا رہے تھے۔ نواب کالا باغ کے ملازمِ خاص بمعہ دوسرے مسلح غنڈوں کے حملہ اور ہوئے، مگر مولانا صاحب کے جلوس میں دائیں بائیں اور آگے پیچھے سینکڑوں کارکن موجود تھے۔ نیز مکان کے چھت پر اُن کے حامی مسلح مجاہدین موجود تھے، اس لیے یہ حملہ ناکام رہا۔
دوسرا حملہ مورخہ ۱۷؍ستمبر ۱۹۶۴ء کو میکلوڈ روڈ لاہور پر دفتر روزنامہ ’’کوہستان‘‘ کیا گیا۔ مقابلہ میں مولانا زخمی ہوگئے۔ سڑک پر لوگوں کے اجتماع کی وجہ سے حملہ آور بھاگ گئے۔ مولانا نے حملہ آوروں کو پہچان لیا اور رپورٹ درج کرائی، مگر پولیس نے کچھ نہ کیا۔
تیسرا حملہ اکتوبر ۱۹۶۴ء میں بمقام موسیٰ خیل اس وقت کیا گیا جب مولانا نیازی جامع مسجد میں ایک جلسۂ عام سے خطاب کر رہے تھے۔ نواب کالا باغ کے غنڈوں نے مسجد پر فائرنگ کی۔ اللہ تعالیٰ نے محفوظ رکھا۔ جب اس کے جواب میں سر فروشانِ نیازی نے فائرنگ کی تو غنڈے رفوچکر ہوگئے۔
اور چوتھا حملہ ۳۱؍دسمبر ۱۹۶۴ء کو اس وقت ہوا، جب مولانا نیازی ایک عزیز کی تعزیت کے لیے کالا باغ سے گزر کر عیسیٰ خیل جا رہے تھے، اڈرہ لاریاں پر غنڈوں سے مقابلہ ہوگیا۔ مولانا نے کالا باغ کے غنڈوں کو پسپا کردیا۔ مگر چلتی گاڑی میں ان ظالموں نے فائرنگ کی اور بھاری پتھر مولانا کے سینے پر مارے جس سے وہ زخمی ہوگئے۔ اس حملہ کی رپورٹ عیسیٰ خیل تھانہ میں درج کرائی، مگر کوئی کارروائی نہ ہوئی۔
مولانا نے ان حملوں کے دوران موچی دروازہ کے جلسۂ عام میں (حاضری چار لاکھ سے زیادہ تھی) مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کی تقریر کے بعد خطاب کرتے ہوئے نواب کالا باغ کو للکارا تھا کہ لمبی لمبی مونچھوں اور موٹے موٹے بازوؤں سے کام نہیں چلے گا۔ تیری مونچھوں سے بغاوت ہوسکتی ہے، مگر کالی کملی والے محبوب رب العالمین کی زلفوں سے بغاوت نہیں ہوسکتی۔ زمانہ نئی تاریخ مرتب کر رہا ہے اس میں تمہارا نام یزیدوں، ابن زیادوں اور شمروں کی فہرست میں شامل ہوگا اور میرا نام شہیدِ کربلا کے غلاموں میں شامل ہوگا۔ میں حسین منصور حلاج کا ہمنوا ہوکر کہوں گا ؎
من حسینِ وقت و نااہلاں یزید و شمر من
روزگارم جملہ عاشورہ و منزل کربلا
کوہِ ارادتم متزلزل نمی شود
لَو بُسَّتِ الجِبَالُ وَلَو دُکَّتِ السّماء
قومی اتحاد اور علامہ نیازی:
۱۹۷۷ء کے انتخابات کا اعلان ہوتے ہی حزبِ اختلاف کی نو جماعتوں پر مشتمل ’’قومی اتحاد‘‘ وجود میں آیا جس نے ملک میں ایک تاریخ ساز تحریک کے ذریعے ملک کو ظلم و استبداد کے مکروہ پنجوں سے آزاد کیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ’’قومی اتحاد‘‘ کا قیام تمام سیاسی راہنماؤں کے تدبر اور باہمی تعاون کا نتیجہ تھا، لیکن اتحاد کی تشکیل میں جمعیت علماء پاکستان نے مرکزی کردار ادا کیا۔ عہدوں اور سیٹوں کی قربانی دے کر اتحاد کو برقرار رکھنا اور نظامِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے نفاذ کی خاطر تمام اختلافات کو پسِ پشت ڈال دیا اور اس ضمن میں مولانا نیازی سیکرٹری جنرل جمعیت علماء پاکستان نے جو خصوصی اور نمایاں کردار ادا کیا، اسے نوائے وقت کے نمائندہ خصوصی جناب ریاض پرویز ان الفاظ میں تحریر فرماتے ہیں:
❤1
’’گزشتہ سال ۹؍اکتوبر (۱۹۷۶ء) کو مسٹر رفیق احمد باجوہ کے مکان پر اجتماع ہوا، اس میں سابق متحدہ جمہوری محاذ (یو۔ڈی۔ایف) میں شامل مسلم لیگ، جماعت اسلامی، پاکستان جمہوری پارٹی، کالعدم نیپ (موجودہ این ڈی پی) اور جمعیت علماء اسلام کی طرف سے تحریکِ استقلال اور جمعیت علماء پاکستان کو اشتراکِ عمل کی دعوت دی گئی اور اصول طور پر متحد ہونے پر اتفاق رائے کرلیا گی۔ متحدہ جمہوری محاذ سے مطالبہ کیا گیا کہ تحریک اور جمعیت علماء پاکستان کو پنجاب میں چالیس فیصد نشستیں دی جائیں۔ نوابزادہ نصراللہ خان نے کہا کہ وہ اتحاد چاہتے ہیں۔ اپنے انتخابی کوٹہ کو سنجیدہ مسئلہ بنانے کو تیار نہیں۔ مولانا مفتی محمود نے کہا وہ تیس فیصد سے زیادہ نشستیں دینے کو تیار نہیں۔ بات سرے نہ چڑھ سکی، اجلاس ملتوی ہوگیا، مولانا عبدالستار خان نیازی کو معلوم ہوا تو وہ اتحاد قائم کرنے کی مہم میں سرگرم ہوگئے، ان کی کوششوں سے مولانا مفتی محمود اور پیر صاحب پگارا اس بات پر راضی ہوگئے کہ تحریکِ استقلال اور جمعیت علماء پاکستان کو چھتیس فیصد کوٹہ ملے گا۔ مولانا عبدالستار خان نیازی نے جب ایر مارشل اصغر خان سے بات کی تو انہوں نے چالیس فیصد سے کم پر راضی ہونے سے انکار کردیا، اس پر مولانا عبدالستار خان نیازی نے کہا کہ چالیس فیصد کوٹہ سے پنجاب میں ۴۶ نشستیں بنتی ہیں۔ ان میں سے ۲۳ تحریکِ استقلال اور ۲۳ جمعیت علماء پاکستان کی ہیں، جبکہ ۳۶ فیصد کے حساب سے ۴۲ نشستیں بنتی ہیں، مولانا نیازی نے پیشکش کی کہ تحریکِ استقلال ۲۳ نشستیں حاصل کرے جمعیت اپنی چار نشستیں اتحاد پر قربان کرتے ہوئے ۱۹ نشستوں پر قناعت کرے گی۔[۱]
[۱۔ ہفت روزہ طاہر جلد۵، شمارہ ۳۹ (۲۶؍اپریل تا ۲؍مئی ۱۹۷۶ء) ص۱۶]
چنانچہ علامہ عبدالستار خان نیازی کی کوششوں سے قومی اتحاد قائم ہوگیا اور جمعیت علماء پاکستان نے اپنی سات نشستوں کی قربانی دے کر ثابت کردیا کہ جمعیت کو عہدوں یا نشستوں کی لالچ نہیں، بلکہ اس کا واحد مقصد ملک میں نظام مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا نفاذ ہے۔
قومی اتحاد کے عہدیداروں کے انتخاب کے موقع پر پھر وہی اختلافی کیفیت پیدا ہوئی لیکن مولانا عبدالستار خان نیازی کا خلوص یہاں بھی کام آیا اور اختلافات دور کردیے گئے۔
ریاض پرویز لکھتےہیں:
پیر صاحب پگارا کی صدارت میں اجلاس ہوا جس میں قومی اتحاد کے عہدیداروں کا انتخاب ہونا تھا۔ نوابزادہ نصراللہ خان نے صدارت کے لیے مفتی محمود کا نام پیش کیا۔ جمعیت علماء پاکستان نے مولانا مفتی محمود کی مخالفت کی۔ پیر صاحب کو کچھ دیر کے لیے اپنے دوستوں سے صلاح و مشورہ کرنے کے لیے باہر جانا پڑا، وہ واپس آئے تو انہوں نے اعلان کیا کہ ان کی جماعت مفتی صاحب کو صدر تسلیم نہیں کرتی۔ معاملہ یہیں ختم ہوتا نظر آیا تو جمعیت علماء پاکستان کے مولانا عبدالستار خان نیازی ایک بار پھر آگے بڑھے۔ انہوں نے جمعیت علماء پاکستان کی طرف سے نہ صرف مولانا مفتی محمود کی مخالفت ترک کرنے کا اعلان کیا، بلکہ ان کی صدارت کی حمایت کی۔[۱]
[۱۔ روزنامہ نوائے وقت لاہور، ۲۱ ذیقعدہ ۱۳۹۷ھ/ ۴نومبر ۱۹۷۷ء (ملتان کی ڈائری ملحضاً)]
پیر کرم شاہ بھیروی لکھتے ہیں:
’’پاکستان کی سیاسی جماعتیں اپنے اختلافات کو بھلا کر متحد ہونے کے لیے مشورہ کرنے لگیں تاکہ اجتماعی قوت سے اس عفریت کو بچھاڑ سکیں۔ مقصد بڑا بلند تھا، جذبات بڑے قیمتی تھے، لیکن پہلی چٹان جس سے ٹکرا کر سفینۂ اتحاد کے پاش پاش ہونے کا خطرہ پیدا ہوا، وہ سیٹوں کی تقسیم کی، کوئی جماعت ایسی نہ تھی جو اتحاد کو مستحکم کرنے کے لیے نہیں، بلکہ اس کو بچانے کے لیے ایک سیٹ کی قربانی بھی دینے پر آمادہ ہو، ہر پارٹی نے تعصب اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرنے کی قسم کھالی۔ اب صرف اتنی دیر تھی کہ یہ اجلاس ختم ہواور اس میں شامل ہونے والے راہنما ملکی اور عالمی پریش کو یہ بتادیں کہ اتحاد کی تجویز ناکام ہوگئی ہے۔ اب وہ پھر ۱۹۷۰ء کے الیکشن کی طرح اکیلے اکیلے میدان انتخاب میں کودیں گے تاکہ پیپلز پارٹی بڑی آسانی سے انہیں ایک اور عبرتناک شکست دے دے۔ اس وقت وہ شخص اٹھا جس کے دل میں اسلام کا درد تھا جو ملت مسلمہ کو اشتراکیت کو زنجیروں میں جکڑا ہوا دیکھنا گوانا نہیں کرسکتا تھا جو اپنا تن من دھن پہلے ہی نظامِ مصطفےٰ کے نفاذ کے لیے قربان کرچکا تھا۔ اس نے اپنی جماعت کے کوٹے سے چار سیٹوں کو ایثار کرکے قومی اتحاد کو اپنی زندگی کے پہلے دن ہی زندہ درگور ہونے سے بچا لیا۔
[۱۔ ہفت روزہ طاہر جلد۵، شمارہ ۳۹ (۲۶؍اپریل تا ۲؍مئی ۱۹۷۶ء) ص۱۶]
چنانچہ علامہ عبدالستار خان نیازی کی کوششوں سے قومی اتحاد قائم ہوگیا اور جمعیت علماء پاکستان نے اپنی سات نشستوں کی قربانی دے کر ثابت کردیا کہ جمعیت کو عہدوں یا نشستوں کی لالچ نہیں، بلکہ اس کا واحد مقصد ملک میں نظام مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا نفاذ ہے۔
قومی اتحاد کے عہدیداروں کے انتخاب کے موقع پر پھر وہی اختلافی کیفیت پیدا ہوئی لیکن مولانا عبدالستار خان نیازی کا خلوص یہاں بھی کام آیا اور اختلافات دور کردیے گئے۔
ریاض پرویز لکھتےہیں:
پیر صاحب پگارا کی صدارت میں اجلاس ہوا جس میں قومی اتحاد کے عہدیداروں کا انتخاب ہونا تھا۔ نوابزادہ نصراللہ خان نے صدارت کے لیے مفتی محمود کا نام پیش کیا۔ جمعیت علماء پاکستان نے مولانا مفتی محمود کی مخالفت کی۔ پیر صاحب کو کچھ دیر کے لیے اپنے دوستوں سے صلاح و مشورہ کرنے کے لیے باہر جانا پڑا، وہ واپس آئے تو انہوں نے اعلان کیا کہ ان کی جماعت مفتی صاحب کو صدر تسلیم نہیں کرتی۔ معاملہ یہیں ختم ہوتا نظر آیا تو جمعیت علماء پاکستان کے مولانا عبدالستار خان نیازی ایک بار پھر آگے بڑھے۔ انہوں نے جمعیت علماء پاکستان کی طرف سے نہ صرف مولانا مفتی محمود کی مخالفت ترک کرنے کا اعلان کیا، بلکہ ان کی صدارت کی حمایت کی۔[۱]
[۱۔ روزنامہ نوائے وقت لاہور، ۲۱ ذیقعدہ ۱۳۹۷ھ/ ۴نومبر ۱۹۷۷ء (ملتان کی ڈائری ملحضاً)]
پیر کرم شاہ بھیروی لکھتے ہیں:
’’پاکستان کی سیاسی جماعتیں اپنے اختلافات کو بھلا کر متحد ہونے کے لیے مشورہ کرنے لگیں تاکہ اجتماعی قوت سے اس عفریت کو بچھاڑ سکیں۔ مقصد بڑا بلند تھا، جذبات بڑے قیمتی تھے، لیکن پہلی چٹان جس سے ٹکرا کر سفینۂ اتحاد کے پاش پاش ہونے کا خطرہ پیدا ہوا، وہ سیٹوں کی تقسیم کی، کوئی جماعت ایسی نہ تھی جو اتحاد کو مستحکم کرنے کے لیے نہیں، بلکہ اس کو بچانے کے لیے ایک سیٹ کی قربانی بھی دینے پر آمادہ ہو، ہر پارٹی نے تعصب اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرنے کی قسم کھالی۔ اب صرف اتنی دیر تھی کہ یہ اجلاس ختم ہواور اس میں شامل ہونے والے راہنما ملکی اور عالمی پریش کو یہ بتادیں کہ اتحاد کی تجویز ناکام ہوگئی ہے۔ اب وہ پھر ۱۹۷۰ء کے الیکشن کی طرح اکیلے اکیلے میدان انتخاب میں کودیں گے تاکہ پیپلز پارٹی بڑی آسانی سے انہیں ایک اور عبرتناک شکست دے دے۔ اس وقت وہ شخص اٹھا جس کے دل میں اسلام کا درد تھا جو ملت مسلمہ کو اشتراکیت کو زنجیروں میں جکڑا ہوا دیکھنا گوانا نہیں کرسکتا تھا جو اپنا تن من دھن پہلے ہی نظامِ مصطفےٰ کے نفاذ کے لیے قربان کرچکا تھا۔ اس نے اپنی جماعت کے کوٹے سے چار سیٹوں کو ایثار کرکے قومی اتحاد کو اپنی زندگی کے پہلے دن ہی زندہ درگور ہونے سے بچا لیا۔
❤1
آپ جانتے ہیں وہ کون شخص تھا جس کے حسنِ تدبر اور جرأت مندانہ ایثار نے قوم کو ایک اندھے غار میں گرنے نہ دیا۔ آپ تجاہلِ عارفانہ سے کام لیتے ہیں، تو میں عرض کیے دیتا ہوں، وہ مرد غازی مولانا عبدالستار خان نیازی تھے اور آپ کو شاید یاد ہو کہ وہ کس جماعت کا نمائندہ تھا؟ جمعیت علماء پاکستان کا وہ جماعت جو ملک کے سوادِ اعظم کی نمائندہ جماعت ہے۔ وہ جماعت جس نے پاکستان کا جھنڈا اس وقت ہاتھ میں پکڑا اور فضا میں لہرایا جبکہ بڑے بڑے تقدس مآب پاکستان کو پلیدستان[۱] کہتے تھے۔
[۱۔ ماہنامہ ضیائے حرم، لاہور، جولائی ۱۹۷۸ء]
تحریک نظامِ مصطفےٰ (صلی اللہ علیہ وسلم):
۱۴؍مارچ ۱۹۷۷ء کو ملک بھر میں نظامِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے نفاذ کے لیے تحریک چلائی گئی تو ملک کے ہر طبقے سے متعلق افراد حتی کہ خواتین نے بھی بھرپور حصہ لیا۔ حکومت کی طرف سے گرفتاریاں، مقدمات گولیوں اور آنسو گیس کی بھرمار، خانہ جنگی، مارشل لاء غرضیکہ ہر حربہ تحریک کو دبانے کے لیے استعمال کیا گیا، لیکن بفضلہٖ تعالیٰ ہر حربہ ناکام ہوا اور تحریک کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔
سوادِ اعظم اہل سنت و جماعت کو اس تحریک میں یہ خصوصیت حاصل رہی کہ نظامِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم ان کا مقصدِ حیات اور انہی کی نمائندہ جماعت جمعیت علماء پاکستان کے منشور کا ایک حصہ ہے، جبکہ دیگر جماعتوں نے اسے بعد میں اپنایا، اس لیے اہل سنت و جماعت اس تحریک میں پیش پیش تھے، یہاں تک کہ تحریک کا پہلا شہید انجمن طلباء اسلام کا جیالا کارکن محمد افتخار احمد (بورے والا) تھا جس نے اس نیک مقصد کے حصول کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔
مجاہدِ ملت مولانا عبدالستار خان نیازی کو ۱۸؍مارچ ۱۹۷۷ء کو میانوالی سے گرفتار کرکے کیمبلپور جیل بھیج دیا گیا۔ تین ماہ بعد ۱۰؍جون کو کوٹ لکھپت جیل لاہور منتقل کردیا گیا اور ۱۹؍جون کو مولانا نیازی دردِ گردہ کی شکایت کی وجہ سے میو ہسپتال کی البرٹ وکٹر ہسپتال داخل کردیے گئے۔ ۵؍جولائی کو مسلح افواج نے ملک کا نظم و نسق سنبھالا اور ۱۴؍جولائی ۱۹۷۷ء کو آپ میوہسپتال[۱] سے رہا کردیے گئے۔
[۱۔ راقم ۳۱؍مارچ ۱۹۷۸ء بروز جمعہ رات نو بجے حضرت مجاہد ملت کی خدمت میں حاضر ہوا۔ مولانا غلام فرید ہزاروی بھی ہمراہ تھے۔ علامہ نیازی نے بکمالِ شفقت اپنی گرفتاریوں اور مقدمات کی مکمل تفصیل مہیا فرمائی، جس کے لیے راقم آپ کا ممنون ہے۔]
حج و زیارت:
مولانا نیازی مدظلہ نے پہلا حج بس کے ذریعے کیا۔ ۲۲؍دسمبر کو آپ روانہ ہوئے اور حج بیت اللہ شریف اور روضۂ پاک کی زیارت سے مشرف ہوکر ۲۰؍جنوری ۱۹۷۳ء میں واپسی ہوئی۔
دوسری مرتبہ ۲۰؍دسمبر ۱۹۷۴ء کو حضرت قائدِ اہلِ سنّت علامہ شاہ احمد نورانی کی رفاقت میں حج و زیارت کا شرف حاصل کیا اور پھر عالمی تبلیغی دورہ کرکے ۱۴؍اپریل ۱۹۷۵ء کو واپس تشریف لائے۔
بیعت:
آپ کے خاندان کا روحانی تعلق سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ میں پیرِ طریقت حضرت مولانا جان محمد رحمۃ اللہ علیہ میبل شریف سے ہے۔ حضرت پیر صاحب سومرو خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور حضرت محمد رضا صاحب (زکوڑی شریف) کے خلیفہ تھے۔ علامہ نیازی کی بیعت حضرت مولانا جان محمد رحمہ اللہ کے پوتے فقیر قادری بخش نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ سے ہے۔
( تعارف علماءِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/mujahid-e-millat-hazrat-allama-abdul-sattar-khan-niazi
[۱۔ ماہنامہ ضیائے حرم، لاہور، جولائی ۱۹۷۸ء]
تحریک نظامِ مصطفےٰ (صلی اللہ علیہ وسلم):
۱۴؍مارچ ۱۹۷۷ء کو ملک بھر میں نظامِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے نفاذ کے لیے تحریک چلائی گئی تو ملک کے ہر طبقے سے متعلق افراد حتی کہ خواتین نے بھی بھرپور حصہ لیا۔ حکومت کی طرف سے گرفتاریاں، مقدمات گولیوں اور آنسو گیس کی بھرمار، خانہ جنگی، مارشل لاء غرضیکہ ہر حربہ تحریک کو دبانے کے لیے استعمال کیا گیا، لیکن بفضلہٖ تعالیٰ ہر حربہ ناکام ہوا اور تحریک کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔
سوادِ اعظم اہل سنت و جماعت کو اس تحریک میں یہ خصوصیت حاصل رہی کہ نظامِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم ان کا مقصدِ حیات اور انہی کی نمائندہ جماعت جمعیت علماء پاکستان کے منشور کا ایک حصہ ہے، جبکہ دیگر جماعتوں نے اسے بعد میں اپنایا، اس لیے اہل سنت و جماعت اس تحریک میں پیش پیش تھے، یہاں تک کہ تحریک کا پہلا شہید انجمن طلباء اسلام کا جیالا کارکن محمد افتخار احمد (بورے والا) تھا جس نے اس نیک مقصد کے حصول کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔
مجاہدِ ملت مولانا عبدالستار خان نیازی کو ۱۸؍مارچ ۱۹۷۷ء کو میانوالی سے گرفتار کرکے کیمبلپور جیل بھیج دیا گیا۔ تین ماہ بعد ۱۰؍جون کو کوٹ لکھپت جیل لاہور منتقل کردیا گیا اور ۱۹؍جون کو مولانا نیازی دردِ گردہ کی شکایت کی وجہ سے میو ہسپتال کی البرٹ وکٹر ہسپتال داخل کردیے گئے۔ ۵؍جولائی کو مسلح افواج نے ملک کا نظم و نسق سنبھالا اور ۱۴؍جولائی ۱۹۷۷ء کو آپ میوہسپتال[۱] سے رہا کردیے گئے۔
[۱۔ راقم ۳۱؍مارچ ۱۹۷۸ء بروز جمعہ رات نو بجے حضرت مجاہد ملت کی خدمت میں حاضر ہوا۔ مولانا غلام فرید ہزاروی بھی ہمراہ تھے۔ علامہ نیازی نے بکمالِ شفقت اپنی گرفتاریوں اور مقدمات کی مکمل تفصیل مہیا فرمائی، جس کے لیے راقم آپ کا ممنون ہے۔]
حج و زیارت:
مولانا نیازی مدظلہ نے پہلا حج بس کے ذریعے کیا۔ ۲۲؍دسمبر کو آپ روانہ ہوئے اور حج بیت اللہ شریف اور روضۂ پاک کی زیارت سے مشرف ہوکر ۲۰؍جنوری ۱۹۷۳ء میں واپسی ہوئی۔
دوسری مرتبہ ۲۰؍دسمبر ۱۹۷۴ء کو حضرت قائدِ اہلِ سنّت علامہ شاہ احمد نورانی کی رفاقت میں حج و زیارت کا شرف حاصل کیا اور پھر عالمی تبلیغی دورہ کرکے ۱۴؍اپریل ۱۹۷۵ء کو واپس تشریف لائے۔
بیعت:
آپ کے خاندان کا روحانی تعلق سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ میں پیرِ طریقت حضرت مولانا جان محمد رحمۃ اللہ علیہ میبل شریف سے ہے۔ حضرت پیر صاحب سومرو خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور حضرت محمد رضا صاحب (زکوڑی شریف) کے خلیفہ تھے۔ علامہ نیازی کی بیعت حضرت مولانا جان محمد رحمہ اللہ کے پوتے فقیر قادری بخش نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ سے ہے۔
( تعارف علماءِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/mujahid-e-millat-hazrat-allama-abdul-sattar-khan-niazi
scholars.pk
Mujahid e Millat Hazrat Allama Abdul Sattar Khan Niazi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت خواجہ سلیمان تونسوی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: خواجہ شاہ محمد سلیمان ۔ القاب: غوثِ زمان ، پیر پٹھان، شہبازِ چشت اہلِ بہشت ۔
سلسلہ نسب اس طرح ہے:
حضرت خواجہ محمد سلیمان تونسوی بن محمد زکریا بن عبد الوہاب بن عمر خاں۔ (علیہم الرحمہ)۔
خاندانی طور پر آپ کا تعلق پٹھانوں کے قبیلہ " جعفر " سے تھا ، جو علم و عبادت اور حیاء و شرافت میں نہایت ممتاز تھا ۔ بچپن ہی میں والد ماجد کا انتقال ہو گیا، والدہ ماجدہ نے آپ کی تعلیم و تربیت کا خاص اہتمام کیا کیونکہ انہوں نے آپ کی ولادت سےقبل خواب میں دیکھا تھا کہ آفتاب آسمان سے اتر کر ان کی آغوش میں آگیا ہے اور سینکڑوں لوگ مبارک باد دے رہے ہیں۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1184ھ، مطابق 1770ء ،میں کوہِ سلیمان، بمقام "گڑگوجی" جوتونسہ شریف سے جانبِ مغرب میں واقع ہے ،میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
چار سال کی عمرمیں مولانا یوسف جعفر کے پاس قرآن کریم پڑھنے کے لئے بٹھائے گئے،ان سے پندرہ پارے حفظ کئے بعد ازاں بگی مسجد (یہ مسجد 1274ھ، میں سنگھڑ رودکوہی کے سیلابی پانی سے منہدم ہو گئی) تونسہ شریف میں میاں حسن علی کے پاس جاکر قرآن کریم کی تکمیل کی اور فارسی کی ابتدائی کتابیں پڑھیں۔
مزید تعلیم حاصل کرنے کے لئے دشوار گزرا راستوں کو طے کرتے ہوئے کوٹ مٹھن پہنچے جہاں حضرت مولاناقاضی محمد عاقل قدس سرہ کے مدرسہ میں علو م دینیہ کی تحصیل و تکمیل تصوف اخلاق کی تعلیم قبلۂ عالم حضرت خواجہ نورمحمد مہاروی قدس سرہ سے حاصل فرمائی۔
آپ علیہ الرحمہ شیخِ کامل کے ساتھ اپنے وقت کے جید عالمِ دین بھی تھے۔قرآن وحدیث اورفقہ پر مکمل عبور حاصل تھا۔ صحیح مسلم، عوارف المعارف ، فتوحاتِ مکیہ اور فصوص الحکم کا درس مشہور تھا۔
بیعت و خلافت:
حضرت مولانا فخر الدین فخرجہاں دہلوی علیہ الرحمہ نے حضرت خواجہ نور محمد مہاروی کو حکم دیا تھا "کہ "کوہ سلیمان " کی چوٹیوں پر ایک بلند پرواز شہباز رہتا ہے، اسے تلاش کر کے اپنے حلقہ میں داخل کرنا کہ اس سے سلسلۂ عالیہ چشتیہ نظامیہ کو تبلیغ و اشاعت کے چار چاند لگ جائیں گے"۔
چنانچہ حضرت خواجۂ مہاروی اس بلند آشیاں شہباز کی تلاش میں ان علاقوں کا سفرکیا کرتے تھے، آخر ایک دن اوچ شریف میں وہ شہباز حضرت خواجہ محمد سلیمان تونسوی کی صورت میں مل گیا جسے دیکھتے ہی آپ نے فرمایا: "جو ہمارا مقصود تھا وہ ہمیں مل گیا ہے" ۔ اس کے بعد قبلۂ عالم کبھی ان علاقوں میں تشریف نہیں لے گئے۔
حضرت جلال الدین سرخ بخاری علیہ الرحمہ کے مزار شریف پر آپ کو بیعت فرمایا۔ چھ سال قبلۂ عالم کی تربیت میں رہے، 22 سال کی عمر میں خلافت سے مشرف ہوئے۔ شیخ نے " تونسہ " میں قیام کی ہدایت فرمائی ۔پھر آخرعمر تک اسی علاقے میں مصروفِ عمل رہے۔
سیرت و خصائص:
امام الواصلین، حجۃ الکاملین، رئیس المتوکلین، نائبِ حضرت خواجہ معین الدین، شہبازِ لامکانی، محبوبِ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی، شاہ شاہاں، فخر ِدوراں، غوثِ زماں، پیر پٹھان حضرت خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی رحمۃ االلہ علیہ۔
آپ رحمۃ اللہ علیہ کاشمار ان اولیاء کاملین میں سے ہوتا ہے جنہوں نے دینِ متین کی بہت خدمات سر انجام دی ہیں،اور مشکل وقت میں امت کی رہبری کا فریضہ ادا کیا ہے۔ آپ اپنے وقت کے ایک عظیم مصلح اور رسول اللہ ﷺ کے سچے نائب تھے۔آپ کی تبلیغ اور دینی حمیت و غیرت کا اثر وقت کے جابروں تک تھا۔خلافِ شرع کاموں پر حکمرانوں کی خوب خبرلیتے تھے۔ آپ کی برکت سے پنجاب کے اس گمنام اور بنجر علاقے کا شہرہ پوری دنیا میں ہونے لگا۔
رفتہ رفتہ جب رشد و ہدایت کا چرچا ہوا تو دور دور سےلوگ شرف ِبیعت حاصل کرنے کیلئے حاضر ِدربار ہونے لگے،نواب بہاول خان والی ِ ریاست بہاول پور ،اور افغانستان سے شاہ شجاع بھی حلقۂ خدام میں داخل ہو گئے۔آپ نے تونسہ شریف میں قیام کے بعد پہلا کام یہ کیا کہ وہاں دینی تعلیم عام کرنے کے لئے مدرسہ جاری کیا اور پھر اس کام نے اس قدر ترقی کی کہ ہر طرف قال اللہ وقال الرسول ﷺ کی صدائیں فضا ءمیں بلند ہونے لگیں اور تونسہ شریف دبستان علم و عرفان بن گیا، اس دور میں تونسہ شریف علوم دینیہ کی وہ عظیم الشان "یو نیورسٹی "تھی جس میں تقریباً دو ہزار طلباء تعلیم حاصل کرتے تھے اور 50 مدرسین تعلیم دین کا فریضہ انجام دیتے تھے۔
تمام علماء طلباء اورخدام کے لئے قیام و طعام اور لباس کا انتظام مدرسہ کی طرف سے تھا۔ شاہ ِشاہاں حضرت خواجہ محمد سلیمان تونسوی قدس سرہ نے تبلیغ دین اور رشد و ہدایت کو ہمہ گیر طریقے سے عوام الناس تک پہنچایا۔آپ کے روحانی فیض سے نہ صرف بر صغیر پاک و ہند بلکہ افغانستان، ایران، سری لنکا،عدن اور ترکمانستان کےعوام و خواص مستفید ہوئے۔
نام و نسب:
اسمِ گرامی: خواجہ شاہ محمد سلیمان ۔ القاب: غوثِ زمان ، پیر پٹھان، شہبازِ چشت اہلِ بہشت ۔
سلسلہ نسب اس طرح ہے:
حضرت خواجہ محمد سلیمان تونسوی بن محمد زکریا بن عبد الوہاب بن عمر خاں۔ (علیہم الرحمہ)۔
خاندانی طور پر آپ کا تعلق پٹھانوں کے قبیلہ " جعفر " سے تھا ، جو علم و عبادت اور حیاء و شرافت میں نہایت ممتاز تھا ۔ بچپن ہی میں والد ماجد کا انتقال ہو گیا، والدہ ماجدہ نے آپ کی تعلیم و تربیت کا خاص اہتمام کیا کیونکہ انہوں نے آپ کی ولادت سےقبل خواب میں دیکھا تھا کہ آفتاب آسمان سے اتر کر ان کی آغوش میں آگیا ہے اور سینکڑوں لوگ مبارک باد دے رہے ہیں۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1184ھ، مطابق 1770ء ،میں کوہِ سلیمان، بمقام "گڑگوجی" جوتونسہ شریف سے جانبِ مغرب میں واقع ہے ،میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
چار سال کی عمرمیں مولانا یوسف جعفر کے پاس قرآن کریم پڑھنے کے لئے بٹھائے گئے،ان سے پندرہ پارے حفظ کئے بعد ازاں بگی مسجد (یہ مسجد 1274ھ، میں سنگھڑ رودکوہی کے سیلابی پانی سے منہدم ہو گئی) تونسہ شریف میں میاں حسن علی کے پاس جاکر قرآن کریم کی تکمیل کی اور فارسی کی ابتدائی کتابیں پڑھیں۔
مزید تعلیم حاصل کرنے کے لئے دشوار گزرا راستوں کو طے کرتے ہوئے کوٹ مٹھن پہنچے جہاں حضرت مولاناقاضی محمد عاقل قدس سرہ کے مدرسہ میں علو م دینیہ کی تحصیل و تکمیل تصوف اخلاق کی تعلیم قبلۂ عالم حضرت خواجہ نورمحمد مہاروی قدس سرہ سے حاصل فرمائی۔
آپ علیہ الرحمہ شیخِ کامل کے ساتھ اپنے وقت کے جید عالمِ دین بھی تھے۔قرآن وحدیث اورفقہ پر مکمل عبور حاصل تھا۔ صحیح مسلم، عوارف المعارف ، فتوحاتِ مکیہ اور فصوص الحکم کا درس مشہور تھا۔
بیعت و خلافت:
حضرت مولانا فخر الدین فخرجہاں دہلوی علیہ الرحمہ نے حضرت خواجہ نور محمد مہاروی کو حکم دیا تھا "کہ "کوہ سلیمان " کی چوٹیوں پر ایک بلند پرواز شہباز رہتا ہے، اسے تلاش کر کے اپنے حلقہ میں داخل کرنا کہ اس سے سلسلۂ عالیہ چشتیہ نظامیہ کو تبلیغ و اشاعت کے چار چاند لگ جائیں گے"۔
چنانچہ حضرت خواجۂ مہاروی اس بلند آشیاں شہباز کی تلاش میں ان علاقوں کا سفرکیا کرتے تھے، آخر ایک دن اوچ شریف میں وہ شہباز حضرت خواجہ محمد سلیمان تونسوی کی صورت میں مل گیا جسے دیکھتے ہی آپ نے فرمایا: "جو ہمارا مقصود تھا وہ ہمیں مل گیا ہے" ۔ اس کے بعد قبلۂ عالم کبھی ان علاقوں میں تشریف نہیں لے گئے۔
حضرت جلال الدین سرخ بخاری علیہ الرحمہ کے مزار شریف پر آپ کو بیعت فرمایا۔ چھ سال قبلۂ عالم کی تربیت میں رہے، 22 سال کی عمر میں خلافت سے مشرف ہوئے۔ شیخ نے " تونسہ " میں قیام کی ہدایت فرمائی ۔پھر آخرعمر تک اسی علاقے میں مصروفِ عمل رہے۔
سیرت و خصائص:
امام الواصلین، حجۃ الکاملین، رئیس المتوکلین، نائبِ حضرت خواجہ معین الدین، شہبازِ لامکانی، محبوبِ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی، شاہ شاہاں، فخر ِدوراں، غوثِ زماں، پیر پٹھان حضرت خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی رحمۃ االلہ علیہ۔
آپ رحمۃ اللہ علیہ کاشمار ان اولیاء کاملین میں سے ہوتا ہے جنہوں نے دینِ متین کی بہت خدمات سر انجام دی ہیں،اور مشکل وقت میں امت کی رہبری کا فریضہ ادا کیا ہے۔ آپ اپنے وقت کے ایک عظیم مصلح اور رسول اللہ ﷺ کے سچے نائب تھے۔آپ کی تبلیغ اور دینی حمیت و غیرت کا اثر وقت کے جابروں تک تھا۔خلافِ شرع کاموں پر حکمرانوں کی خوب خبرلیتے تھے۔ آپ کی برکت سے پنجاب کے اس گمنام اور بنجر علاقے کا شہرہ پوری دنیا میں ہونے لگا۔
رفتہ رفتہ جب رشد و ہدایت کا چرچا ہوا تو دور دور سےلوگ شرف ِبیعت حاصل کرنے کیلئے حاضر ِدربار ہونے لگے،نواب بہاول خان والی ِ ریاست بہاول پور ،اور افغانستان سے شاہ شجاع بھی حلقۂ خدام میں داخل ہو گئے۔آپ نے تونسہ شریف میں قیام کے بعد پہلا کام یہ کیا کہ وہاں دینی تعلیم عام کرنے کے لئے مدرسہ جاری کیا اور پھر اس کام نے اس قدر ترقی کی کہ ہر طرف قال اللہ وقال الرسول ﷺ کی صدائیں فضا ءمیں بلند ہونے لگیں اور تونسہ شریف دبستان علم و عرفان بن گیا، اس دور میں تونسہ شریف علوم دینیہ کی وہ عظیم الشان "یو نیورسٹی "تھی جس میں تقریباً دو ہزار طلباء تعلیم حاصل کرتے تھے اور 50 مدرسین تعلیم دین کا فریضہ انجام دیتے تھے۔
تمام علماء طلباء اورخدام کے لئے قیام و طعام اور لباس کا انتظام مدرسہ کی طرف سے تھا۔ شاہ ِشاہاں حضرت خواجہ محمد سلیمان تونسوی قدس سرہ نے تبلیغ دین اور رشد و ہدایت کو ہمہ گیر طریقے سے عوام الناس تک پہنچایا۔آپ کے روحانی فیض سے نہ صرف بر صغیر پاک و ہند بلکہ افغانستان، ایران، سری لنکا،عدن اور ترکمانستان کےعوام و خواص مستفید ہوئے۔
❤1👍1
حضرت خواجہ شمس العارفین سیالوی قدس سرہ فرماتے ہیں۔"ولایت اور بیعت میں حضرت خواجہ مہاروی کی اتنی شہرت نہیں ہوئی جتنی شہرت حضرت خواجہ تونسوی کی ہے چنانچہ بلخ،بخارا، ایران،ہرات، ہند،سندھ اور حرمین شریفین کے لوگ اپنی استعداد کے مطابق ان سے مستفیض ہوئے"۔
سرسید احمد خان (آپ کا ہم عصر تھا)ل کھتا ہے:
" کہ شاہ صاحب کی شہرت قاف سے قاف تک ہے، دہلی جو انحطاط کے زمانے میں بھی علم و فضل کا مرکز تھا،لوگ یہاں سے علم حاصل کرنے کے لئےان کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے۔(آثار الصنادید۔بحوالہ تذکرہ اولیائے پاکستان:331)
تعلیم الاخلاق:
جب کسی قوم کا سیاسی زوال شروع ہوتا ہے تو اس کے افکار واعمال، عادات واطوار،بھی انحطاط پذیر ہونے لگتے ہیں۔ اخلاقی زوال کے اثراتِ بد سیاسی زوال سے کہیں زیادہ مہلک ہوتے ہیں۔کیونکہ اس کے بعد تجدید و احیاء کی سب راہیں مسدود ہوجاتی ہیں۔ وعظ و نصیحت بے اثر ہو جاتا ہے۔ شاہ صاحب کے زمانے میں سیاسی زوال شروع ہو چکا تھا، سیاسی زوال کے پسِ پشت اخلاقی زوال کا اثر تھا، تو آپ نے اسلامی تعلیمات اور اخلاقی اقدار پر پہرہ دیا، جس کی وجہ سے یہاں دینِ اسلام کی ہر طرف بہاریں نظر آنے لگیں۔چنانچہ ایک شخص جس نے بڑی سیاحت کی تھی آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: "میں نے ہندوستان، خراسان، وغیرہ کی سیاحت کی ہے، جیسے نخارا، اورتونسہ میں دین داری دیکھی ہے ایسی دین داری کہیں نہیں دیکھی"۔ یہ وہ دور تھا جب پنجاب پرسکھوں کا تسلط تھا اور انگریزی اقتدار بڑی سرعت سے پھیل رہا تھا،آپ نے واشگاف الفاظ میں مسلمانوں کو احساس دلایا کہ تمہاری کامیابی کا راز کتاب و سنت کی پیروی اور اخلاق و کردارکو سنت مبارکہ کے سانچے میں ڈھالنے سے ہے،آپ نے واضح طور پر فرمایا:"چونکہ مسلمانوں نےحضور ﷺکی پیروی ترک کردی ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے کافروں کو ان پر مسلط کردیا ہے"۔(تذکرہ اکابرِ اہلسنت:472)
صوفیاء کی اصلاح:
جب کسی قوم پر زوال آتاہے توتمام شعبہ جات میں زوال کے اثرات ہوتے ہیں۔ آپ کے زمانہ میں بھی صوفیاء مختلف اعتقادی اور عملی بیماریوں کا شکار تھے۔ اعمال و وظائف میں حد سے زیادہ اعتقاد تھا اور سارا وقت اسی میں صرف کرتےتھے۔امت فسق وفجور میں مبتلا ہے،اور حکمران عیاشیوں میں مصروف میں ہیں، اور یہ حضرات تسبیح لے کر جنگلوں اور غاروں میں بیٹھے ہیں، ایسی عبادت کا کیا فائدہ؟۔ آپ یہ چاہتے تھے کہ "سالک را باید کہ غمِ دین خورد کہ مقصودِ دارین است" کہ صوفیا ءکو چاہئے کہ دین کا غم پیداکریں کیونکہ مقصودِ دارین یہی ہے۔(نافع السالکین:74)
علماء کو تنبیہ:
حضرت نائبِ غوث الاعظم نے جس طبقے میں بے راہ روی دیکھی اس کی طرف فوراً توجہ کی۔ "علماء" کی بے راہ روی دیکھی توکانپ اٹھے اور فرمایا "اصلاح العالِم اصلاح العالم، فساد العالمِ فسادالعالم" اور فرمایا! "علماء نہ توجنت میں تنہا جاتے ہیں اور نہ ہی دوزخ میں،دونوں جگہ کثیر جماعت ان کے ساتھ ہوتی ہے"۔
آپ فرماتے ہیں:
"علم بغیر عمل اورعمل بغیرعقیدۂ اہل سنت و جماعت کوئی فائدہ نہیں پہنچاتا۔ شریعت کی ظاہری اور باطنی طور پر اتباع کے بغیر کمال انسانی کا حصول نا ممکن ہے "۔آپ نے تمام عمر ملت اسلامی میں نئی روح پھونکنے میں صرف کی اور سینکڑوں ایسے افراد تیار کئے جو عظمت اسلام کے علمبردار اور صحیح معنوں میں ملت اسلامیہ کے نقیب تھے۔لاکھوں افراد آپ کی ہدایت سے حیات جاودانی کے راز سے آشنا ہوئے اور بیسیوں اجازت و خلافت سے مشرف ہو کر رہبر خلائق بنے۔
وصال:
آپ کا وصال 7 / صفر المظفر 1267ھ، مطابق 13/دسمبر 1850ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار پر انوار "تونسہ شریف" ضلع ڈیرہ خان (پنجاب،پاکستان) میں مرجعِ خلائق ہے۔
Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-shah-muhammad-suleman-taunsvi
Copyright © Zia-e-Taiba
سرسید احمد خان (آپ کا ہم عصر تھا)ل کھتا ہے:
" کہ شاہ صاحب کی شہرت قاف سے قاف تک ہے، دہلی جو انحطاط کے زمانے میں بھی علم و فضل کا مرکز تھا،لوگ یہاں سے علم حاصل کرنے کے لئےان کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے۔(آثار الصنادید۔بحوالہ تذکرہ اولیائے پاکستان:331)
تعلیم الاخلاق:
جب کسی قوم کا سیاسی زوال شروع ہوتا ہے تو اس کے افکار واعمال، عادات واطوار،بھی انحطاط پذیر ہونے لگتے ہیں۔ اخلاقی زوال کے اثراتِ بد سیاسی زوال سے کہیں زیادہ مہلک ہوتے ہیں۔کیونکہ اس کے بعد تجدید و احیاء کی سب راہیں مسدود ہوجاتی ہیں۔ وعظ و نصیحت بے اثر ہو جاتا ہے۔ شاہ صاحب کے زمانے میں سیاسی زوال شروع ہو چکا تھا، سیاسی زوال کے پسِ پشت اخلاقی زوال کا اثر تھا، تو آپ نے اسلامی تعلیمات اور اخلاقی اقدار پر پہرہ دیا، جس کی وجہ سے یہاں دینِ اسلام کی ہر طرف بہاریں نظر آنے لگیں۔چنانچہ ایک شخص جس نے بڑی سیاحت کی تھی آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: "میں نے ہندوستان، خراسان، وغیرہ کی سیاحت کی ہے، جیسے نخارا، اورتونسہ میں دین داری دیکھی ہے ایسی دین داری کہیں نہیں دیکھی"۔ یہ وہ دور تھا جب پنجاب پرسکھوں کا تسلط تھا اور انگریزی اقتدار بڑی سرعت سے پھیل رہا تھا،آپ نے واشگاف الفاظ میں مسلمانوں کو احساس دلایا کہ تمہاری کامیابی کا راز کتاب و سنت کی پیروی اور اخلاق و کردارکو سنت مبارکہ کے سانچے میں ڈھالنے سے ہے،آپ نے واضح طور پر فرمایا:"چونکہ مسلمانوں نےحضور ﷺکی پیروی ترک کردی ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے کافروں کو ان پر مسلط کردیا ہے"۔(تذکرہ اکابرِ اہلسنت:472)
صوفیاء کی اصلاح:
جب کسی قوم پر زوال آتاہے توتمام شعبہ جات میں زوال کے اثرات ہوتے ہیں۔ آپ کے زمانہ میں بھی صوفیاء مختلف اعتقادی اور عملی بیماریوں کا شکار تھے۔ اعمال و وظائف میں حد سے زیادہ اعتقاد تھا اور سارا وقت اسی میں صرف کرتےتھے۔امت فسق وفجور میں مبتلا ہے،اور حکمران عیاشیوں میں مصروف میں ہیں، اور یہ حضرات تسبیح لے کر جنگلوں اور غاروں میں بیٹھے ہیں، ایسی عبادت کا کیا فائدہ؟۔ آپ یہ چاہتے تھے کہ "سالک را باید کہ غمِ دین خورد کہ مقصودِ دارین است" کہ صوفیا ءکو چاہئے کہ دین کا غم پیداکریں کیونکہ مقصودِ دارین یہی ہے۔(نافع السالکین:74)
علماء کو تنبیہ:
حضرت نائبِ غوث الاعظم نے جس طبقے میں بے راہ روی دیکھی اس کی طرف فوراً توجہ کی۔ "علماء" کی بے راہ روی دیکھی توکانپ اٹھے اور فرمایا "اصلاح العالِم اصلاح العالم، فساد العالمِ فسادالعالم" اور فرمایا! "علماء نہ توجنت میں تنہا جاتے ہیں اور نہ ہی دوزخ میں،دونوں جگہ کثیر جماعت ان کے ساتھ ہوتی ہے"۔
آپ فرماتے ہیں:
"علم بغیر عمل اورعمل بغیرعقیدۂ اہل سنت و جماعت کوئی فائدہ نہیں پہنچاتا۔ شریعت کی ظاہری اور باطنی طور پر اتباع کے بغیر کمال انسانی کا حصول نا ممکن ہے "۔آپ نے تمام عمر ملت اسلامی میں نئی روح پھونکنے میں صرف کی اور سینکڑوں ایسے افراد تیار کئے جو عظمت اسلام کے علمبردار اور صحیح معنوں میں ملت اسلامیہ کے نقیب تھے۔لاکھوں افراد آپ کی ہدایت سے حیات جاودانی کے راز سے آشنا ہوئے اور بیسیوں اجازت و خلافت سے مشرف ہو کر رہبر خلائق بنے۔
وصال:
آپ کا وصال 7 / صفر المظفر 1267ھ، مطابق 13/دسمبر 1850ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار پر انوار "تونسہ شریف" ضلع ڈیرہ خان (پنجاب،پاکستان) میں مرجعِ خلائق ہے۔
Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-shah-muhammad-suleman-taunsvi
Copyright © Zia-e-Taiba
❤1
شیخُ الاسلام حضرت خواجہ بہاؤ الدین زکریا ملتانی رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب:
اسمِ گرامی: بہاؤالدین زکریا ۔ کنیت: ابو محمد، ابو البرکات ۔ القاب: شیخ الاسلام، الشیخ الکبیر، غوث العالمین، بھاؤالحق والدّین، اسدی ہاشمی، قرشی، ملتانی ۔
آپ کا پُورا نام اس طرح ہے:
شیخ الاسلام غوث العالمین حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی رحمۃ اللہ علیہ۔
سلسلہ نسب اس طرح ہے:
حضرت شیخ الاسلام بہاؤالدین زکریا ملتانی بن شیخ وجیہ الدین بن کمال الدین، بن جلال الدین، بن علی قاضی، بن شمس الدین، بن شیخ حسین خوارزمی ، بن مطوف، بن حزیمہ، بن تاج الدین المطوف، بن عبد الرحیم، بن عبد الرحمن، بن ھباء ، بن اسد، بن ہاشم، بن عبدِ مناف ۔ الیٰ آخرہِ ۔ علیہم الرحمۃ والرضوان۔
آپ قریشی ہاشمی ہیں ۔
والدہ کی طرف سے سلسلۂ نسب مولا علی تک منتہی ہوتا ہے۔
آپ کے اجداد مکۃ المکرمہ سے ہند تشریف لائے تھے۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت شبِ قدر، شبِ جمعہ،/27 رمضان المبارک 566ھ، مطابق جون /1171ء ، کو "کوٹ کروڑ" موجودہ "کروڑ لعل عیسن" (ضلع لیہ، پنجاب، پاکستان) میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
سات سال کی کم عمر میں قرآنِ مجید قرأتِ سبعہ عشرہ سے حفظ کر لیا ۔ اس کے بعد درسی کتب کی طرف متوجہ ہوئے۔ 12 سال کی عمر میں والدِ ماجد کا انتقال ہو گیا۔ لیکن آپ نے تعلیم کا سلسلہ نہ روکا ۔ مزید حصولِ علم کے لئے آپ خراسان ، نجف اشرف، بغداد، مکہ المکرمہ تشریف لے گئے ۔ وہاں سات سال درس و تدریس میں مشغول رہے،
بعد ازاں بخارا آ گئے اور وہاں علم کی تکمیل کی، وہاں آپ "بہاء الدین فرشتہ" کے نام سے مشہور ہوئے۔ مدینہ منورہ پہنچ کر آپ نے شیخ کمال الدین محمد یمنی سے جن کا شمار محدثین کبارمیں تھا، درس حدیث لیا اور اجازت نامہ بھی حاصل کیا ۔ آپ نے مدینہ منورہ میں پانچ سال عبادت و ریاضت میں گزارے۔ آپ کا شمار اپنے وقت کے اکابر علماء و فقہاء و محدثین و مفسرین میں ہوتا تھا ۔ مولانا جامی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: "تکمیلِ علوم کے بعد پندرہ سال تک تدریس کرتے رہے۔روزانہ ستر عالم و فاضل (مختلف علوم وفنون میں) آپ سے علمی پیاس بجھاتے تھے ۔ (نفحات الانس: 436)
بیعت و خلافت:
آپ شیخ المشائخ شیخ شہاب الدین سہروردی علیہ الرحمہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے ۔ سترہ روز کے مجاہدہ کے بعد رسول اللہ ﷺ کےحکم سے خرقۂ خلافت سے نوازے گئے ۔
سیرت و خصائص:
شیخ الاسلام والمسلمین، غوث العالمین، بہاؤالحق والدین ، قطب الاولیاء، قدوۃ الصلحاء، تاجدارِ ملتان، حضرت غوث بہاؤالدین زکریا ملتانی رحمۃ اللہ علیہ۔
آپ مادر زاد ولی تھے۔ آپ کے والدِ ماجد جب قرآن شریف پڑھتے اور آپ آواز سنتے تو آپ فوراً دودھ پینا چھوڑ دیتے تھے اور قرآن شریف سننے میں محو ہو جاتے تھے ۔ آپ نے اسلام کی اشاعت کے لئے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں ۔ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ بر صغیر پاک و ہند میں اشاعتِ اسلام کا سہرا صوفیاء کرام کے سر ہے جن کی مساعیِ جمیلہ سے کفر و شرک کے مستحکم قلعے نیست و نابود ہو گئے ۔
ہند کے بُت کدوں کی رونق ماند پڑنے لگی ۔ شمعِ توحید فروزاں ہونے سے کفر کی تاریکی چھٹ گئی اور دیارِ ہند میں ہر سو صدائے لا الٰہ الا اللہ گونجنے لگی ۔ اس خطۂ ارض میں قدم رنجہ فرمانے والے صوفیاء عظام نے اپنے اعلیٰ کردار کے ذریعے یہاں کے باسیوں کے دل موہ لیے اور وہ جوق در جوق دولتِ اسلام سے بہرہ ور ہونے لگے ۔ یہ انہیں بزرگانِ دین کے قُدوم میمنت لزوم کا اثر ہے کہ آج یہاں کروڑوں مسلمان موجود ہیں ۔
حضرت شیخ الاسلام نے اپنی زندگی تبلیغِ اسلام کے لئے وقف کر دی تھی ۔ آپ جب ملتان تشریف لائے تو سب سے پہلے آپ نے ایسی جگہ کا انتخاب کیا ۔ جو صدیوں سے ہنود کا مرکز تھی ۔ وہ قلعہ کہنہ قاسم باغ پر واقع بر صغیر کے تاریخی مندر "پر ہلاد جی " کے سامنے تھی۔ جو ہندو بھی پوجا پاٹ کر کے مندر سے نکلتا اور آپ کے نورانی چہرے کو دیکھتا تو ضرور متأثر ہوتا اور آپ کی پر کشش شخصیت، آپ کے اعلیٰ اخلاق اور آپ کی دل موہ لینے والی گفتار کے باعث حلقہ بگوشِ اسلام ہو جاتا۔
آہستہ آہستہ مندر کی رونقیں ماندپڑگئیں۔بالآخر ویران ہی ہوگیا،اور آج کل اس کے چند آثار کے علاوہ کچھ بھی نظر نہیں آتا۔قریب ہی حضرت کا مزار اور مسجد ہے،اور مسجد کی دیوار تو مندر کی دیوار سے بالکل متصل ہے ،جہاں ہر وقت قال اللہ اور قال رسول ﷺکی صدائیں بلند ہوتی ہیں۔اس سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ بر صغیر میں اسلام کی نشر و اشاعت کرنے والی اولیاء اللہ کی پاکیزہ جماعت ہے۔ آپ نے اس جگہ "مدرسہ بہائیہ" کی بنیاد رکھی ۔ جس میں اس وقت تمام مروجہ علوم کی تعلیم دی جاتی تھی ۔ ساتھ دنیا کی اہم زبانیں بھی سکھائی جاتی تھیں ۔ جس علاقے میں مبلغین کو بھیجنا مقصود ہوتا تھا پہلے اس کو اس علاقے کی زبان و ثقافت کی مکمل تعلیم دی جاتی تھی، پھر اس علاقے کی طرف تاجر کی صورت میں روانہ کر دیا جاتا تھا ۔ سامانِ تجارت ،اور مکمل سفری اخراجات، اور ان کی
نام ونسب:
اسمِ گرامی: بہاؤالدین زکریا ۔ کنیت: ابو محمد، ابو البرکات ۔ القاب: شیخ الاسلام، الشیخ الکبیر، غوث العالمین، بھاؤالحق والدّین، اسدی ہاشمی، قرشی، ملتانی ۔
آپ کا پُورا نام اس طرح ہے:
شیخ الاسلام غوث العالمین حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی رحمۃ اللہ علیہ۔
سلسلہ نسب اس طرح ہے:
حضرت شیخ الاسلام بہاؤالدین زکریا ملتانی بن شیخ وجیہ الدین بن کمال الدین، بن جلال الدین، بن علی قاضی، بن شمس الدین، بن شیخ حسین خوارزمی ، بن مطوف، بن حزیمہ، بن تاج الدین المطوف، بن عبد الرحیم، بن عبد الرحمن، بن ھباء ، بن اسد، بن ہاشم، بن عبدِ مناف ۔ الیٰ آخرہِ ۔ علیہم الرحمۃ والرضوان۔
آپ قریشی ہاشمی ہیں ۔
والدہ کی طرف سے سلسلۂ نسب مولا علی تک منتہی ہوتا ہے۔
آپ کے اجداد مکۃ المکرمہ سے ہند تشریف لائے تھے۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت شبِ قدر، شبِ جمعہ،/27 رمضان المبارک 566ھ، مطابق جون /1171ء ، کو "کوٹ کروڑ" موجودہ "کروڑ لعل عیسن" (ضلع لیہ، پنجاب، پاکستان) میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
سات سال کی کم عمر میں قرآنِ مجید قرأتِ سبعہ عشرہ سے حفظ کر لیا ۔ اس کے بعد درسی کتب کی طرف متوجہ ہوئے۔ 12 سال کی عمر میں والدِ ماجد کا انتقال ہو گیا۔ لیکن آپ نے تعلیم کا سلسلہ نہ روکا ۔ مزید حصولِ علم کے لئے آپ خراسان ، نجف اشرف، بغداد، مکہ المکرمہ تشریف لے گئے ۔ وہاں سات سال درس و تدریس میں مشغول رہے،
بعد ازاں بخارا آ گئے اور وہاں علم کی تکمیل کی، وہاں آپ "بہاء الدین فرشتہ" کے نام سے مشہور ہوئے۔ مدینہ منورہ پہنچ کر آپ نے شیخ کمال الدین محمد یمنی سے جن کا شمار محدثین کبارمیں تھا، درس حدیث لیا اور اجازت نامہ بھی حاصل کیا ۔ آپ نے مدینہ منورہ میں پانچ سال عبادت و ریاضت میں گزارے۔ آپ کا شمار اپنے وقت کے اکابر علماء و فقہاء و محدثین و مفسرین میں ہوتا تھا ۔ مولانا جامی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: "تکمیلِ علوم کے بعد پندرہ سال تک تدریس کرتے رہے۔روزانہ ستر عالم و فاضل (مختلف علوم وفنون میں) آپ سے علمی پیاس بجھاتے تھے ۔ (نفحات الانس: 436)
بیعت و خلافت:
آپ شیخ المشائخ شیخ شہاب الدین سہروردی علیہ الرحمہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے ۔ سترہ روز کے مجاہدہ کے بعد رسول اللہ ﷺ کےحکم سے خرقۂ خلافت سے نوازے گئے ۔
سیرت و خصائص:
شیخ الاسلام والمسلمین، غوث العالمین، بہاؤالحق والدین ، قطب الاولیاء، قدوۃ الصلحاء، تاجدارِ ملتان، حضرت غوث بہاؤالدین زکریا ملتانی رحمۃ اللہ علیہ۔
آپ مادر زاد ولی تھے۔ آپ کے والدِ ماجد جب قرآن شریف پڑھتے اور آپ آواز سنتے تو آپ فوراً دودھ پینا چھوڑ دیتے تھے اور قرآن شریف سننے میں محو ہو جاتے تھے ۔ آپ نے اسلام کی اشاعت کے لئے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں ۔ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ بر صغیر پاک و ہند میں اشاعتِ اسلام کا سہرا صوفیاء کرام کے سر ہے جن کی مساعیِ جمیلہ سے کفر و شرک کے مستحکم قلعے نیست و نابود ہو گئے ۔
ہند کے بُت کدوں کی رونق ماند پڑنے لگی ۔ شمعِ توحید فروزاں ہونے سے کفر کی تاریکی چھٹ گئی اور دیارِ ہند میں ہر سو صدائے لا الٰہ الا اللہ گونجنے لگی ۔ اس خطۂ ارض میں قدم رنجہ فرمانے والے صوفیاء عظام نے اپنے اعلیٰ کردار کے ذریعے یہاں کے باسیوں کے دل موہ لیے اور وہ جوق در جوق دولتِ اسلام سے بہرہ ور ہونے لگے ۔ یہ انہیں بزرگانِ دین کے قُدوم میمنت لزوم کا اثر ہے کہ آج یہاں کروڑوں مسلمان موجود ہیں ۔
حضرت شیخ الاسلام نے اپنی زندگی تبلیغِ اسلام کے لئے وقف کر دی تھی ۔ آپ جب ملتان تشریف لائے تو سب سے پہلے آپ نے ایسی جگہ کا انتخاب کیا ۔ جو صدیوں سے ہنود کا مرکز تھی ۔ وہ قلعہ کہنہ قاسم باغ پر واقع بر صغیر کے تاریخی مندر "پر ہلاد جی " کے سامنے تھی۔ جو ہندو بھی پوجا پاٹ کر کے مندر سے نکلتا اور آپ کے نورانی چہرے کو دیکھتا تو ضرور متأثر ہوتا اور آپ کی پر کشش شخصیت، آپ کے اعلیٰ اخلاق اور آپ کی دل موہ لینے والی گفتار کے باعث حلقہ بگوشِ اسلام ہو جاتا۔
آہستہ آہستہ مندر کی رونقیں ماندپڑگئیں۔بالآخر ویران ہی ہوگیا،اور آج کل اس کے چند آثار کے علاوہ کچھ بھی نظر نہیں آتا۔قریب ہی حضرت کا مزار اور مسجد ہے،اور مسجد کی دیوار تو مندر کی دیوار سے بالکل متصل ہے ،جہاں ہر وقت قال اللہ اور قال رسول ﷺکی صدائیں بلند ہوتی ہیں۔اس سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ بر صغیر میں اسلام کی نشر و اشاعت کرنے والی اولیاء اللہ کی پاکیزہ جماعت ہے۔ آپ نے اس جگہ "مدرسہ بہائیہ" کی بنیاد رکھی ۔ جس میں اس وقت تمام مروجہ علوم کی تعلیم دی جاتی تھی ۔ ساتھ دنیا کی اہم زبانیں بھی سکھائی جاتی تھیں ۔ جس علاقے میں مبلغین کو بھیجنا مقصود ہوتا تھا پہلے اس کو اس علاقے کی زبان و ثقافت کی مکمل تعلیم دی جاتی تھی، پھر اس علاقے کی طرف تاجر کی صورت میں روانہ کر دیا جاتا تھا ۔ سامانِ تجارت ،اور مکمل سفری اخراجات، اور ان کی
👍2❤1
حفاظت کا مکمل بند و بست حضرت شیخ الاسلام خود کرتے تھے ۔
اور آپ ان کو روانہ کرتے وقت یہ نصیحتیں کرتے تھے۔ "سامان کم منافع پر فروخت کرنا۔ لین دین میں اسلامی تعلیمات کو سامنے رکھنا ۔ ناقص چیزوں کو فروخت نہ کرنا ، بلکہ فقراء اور مساکین کو مفت دے دینا ۔ خریداروں سے خندہ پیشانی سے پیش آنا۔ جب تک لوگوں کا اعتماد حاصل نہ ہو، ان پر اسلام پیش نہ کرنا۔ "اس طرح علمائے ربانیین سوداگروں کے لباس میں سامانِ تجارت لے کر روانہ ہوتے اور انڈونیشیا، ملائیشیا، جاوا، سماٹرا، فلپائن، برما، سندھ، افغانستان دکن، بنگال، بلوچستان، کشمیر، اور چین وغیرہ تک پہنچ کر دوکانیں کھولتے اور دیانتداری سے لین دین کرتے اور ساتھ ہی لوگوں پر اسلام پیش کرتے جس کا خاطر خواہ نتیجہ نکلتا اور لوگ ان کے حسنِ اخلاق ، ان کی خدا ترسی، دینداری، دیانت داری اور معاملات میں صفائی ستھرائی دیکھ کر گرویدہ ہو جاتے اوربالآخر اسلام قبول کر لیتے ۔
آج مشرقِ بعیدکے چھوٹے چھوٹے جزیروں میں جو کروڑوں مسلمان نظر آتے ہیں، یہ انہی تاجر مبلغین کی سعیِ مشکور کا نتیجہ ہیں۔ اسی طرح سیاست سے گہری دلچسپی تھی۔تمام معاملات پر نظر رکھتے تھے۔آپ کے زمانے میں ملتان پر اسماعیلیوں اور قرامطہ کی حکومت تھی۔لوگوں کو اپنے مذہب کی طرف راغب کرتے تھے۔مسلمانوں سے زیادہ ہندوؤں کے خیرخواہ تھے۔حضرت شیخ الاسلام نے ان کا بھرپور طریقے سے مقابلہ کیا۔بالآخر نتیجہ ان کے اقتدار ختم ہونے کی صورت میں ظاہر ہوا،اور اسلامی حکومت کی راہ ہموار ہوئی۔
الغرض حضرت شیخ الاسلام کےتبلیغی کام کا احاطہ کرنا مشکل ہے۔ آپ کا معمول تھا عصر کی اذان سنتے ہی مسجد میں تشریف لا کر عصر باجماعت ادا فرماتے تھے۔ اس کے بعد منبر پر تشریف لے جاتے۔ قرآن وحدیث کا وعظ فرماتے ۔ اس موقعہ پر دور ونزدیک کے لوگ کام چھوڑ کر جوق در جوق آتے اور وعظ سنتے ۔ تاثیر اس قدر تھی کہ اگر غیر مسلم شریکِ درس ہوتا توبغیر اسلام قبول کیے نہ رہتا۔اور مسلمان سنتا ، ضرور متأثر ہوتا تھا اور برے کاموں کو چھوڑ کر زہد و تقویٰ اور نیک اعمال اختیار کرتا تھا۔
حضرت شیخ الاسلام ہمیشہ لوگوں کو یہ وصیت فرماتے تھے: "ہرآدمی پر لازم ہے کہ وہ مکمل سچائی اورخلوص کے ساتھ صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے ،ہرماسواکاخیال دل سے نکال دے۔اللہ تعالیٰ سے رسائی کا ایک ہی طریقہ ہے کہ کہ اپنے حال کو درست کر لو ۔ اپنے اقوال وافعال کو سنتِ مصطفیٰ ﷺ سے مزین کرلو۔تمام معاملات میں بارگاہِ صمد جل جلالہ سے استعانت حاصل کرو ۔ اپنے نفس کا محاسبہ کرتے رہو۔تاکہ تمہیں نیک اعمال کرنے کی توفیق حاصل ہو"۔
وصال:
بروز منگل 7 / صفر المظفر 661ھ، مطابق دسمبر /1262ء، کو سجدے کی حالت میں ہوا۔
مزار شریف:
آپ کا مزار مدینۃ الاولیاء ملتان میں منبعِ انوار و برکات ہے۔
ماخذ و مراجع:
صوفیائے پنجاب ۔ الاوراد ۔ نفحات الانس ۔ تذکرہ علمائے ہند ۔ تذکرہ اولیائے پاک و ہند ۔
Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-bahauddin-zakariya-multani-soharwardi
Copyright © Zia-e-Taiba
اور آپ ان کو روانہ کرتے وقت یہ نصیحتیں کرتے تھے۔ "سامان کم منافع پر فروخت کرنا۔ لین دین میں اسلامی تعلیمات کو سامنے رکھنا ۔ ناقص چیزوں کو فروخت نہ کرنا ، بلکہ فقراء اور مساکین کو مفت دے دینا ۔ خریداروں سے خندہ پیشانی سے پیش آنا۔ جب تک لوگوں کا اعتماد حاصل نہ ہو، ان پر اسلام پیش نہ کرنا۔ "اس طرح علمائے ربانیین سوداگروں کے لباس میں سامانِ تجارت لے کر روانہ ہوتے اور انڈونیشیا، ملائیشیا، جاوا، سماٹرا، فلپائن، برما، سندھ، افغانستان دکن، بنگال، بلوچستان، کشمیر، اور چین وغیرہ تک پہنچ کر دوکانیں کھولتے اور دیانتداری سے لین دین کرتے اور ساتھ ہی لوگوں پر اسلام پیش کرتے جس کا خاطر خواہ نتیجہ نکلتا اور لوگ ان کے حسنِ اخلاق ، ان کی خدا ترسی، دینداری، دیانت داری اور معاملات میں صفائی ستھرائی دیکھ کر گرویدہ ہو جاتے اوربالآخر اسلام قبول کر لیتے ۔
آج مشرقِ بعیدکے چھوٹے چھوٹے جزیروں میں جو کروڑوں مسلمان نظر آتے ہیں، یہ انہی تاجر مبلغین کی سعیِ مشکور کا نتیجہ ہیں۔ اسی طرح سیاست سے گہری دلچسپی تھی۔تمام معاملات پر نظر رکھتے تھے۔آپ کے زمانے میں ملتان پر اسماعیلیوں اور قرامطہ کی حکومت تھی۔لوگوں کو اپنے مذہب کی طرف راغب کرتے تھے۔مسلمانوں سے زیادہ ہندوؤں کے خیرخواہ تھے۔حضرت شیخ الاسلام نے ان کا بھرپور طریقے سے مقابلہ کیا۔بالآخر نتیجہ ان کے اقتدار ختم ہونے کی صورت میں ظاہر ہوا،اور اسلامی حکومت کی راہ ہموار ہوئی۔
الغرض حضرت شیخ الاسلام کےتبلیغی کام کا احاطہ کرنا مشکل ہے۔ آپ کا معمول تھا عصر کی اذان سنتے ہی مسجد میں تشریف لا کر عصر باجماعت ادا فرماتے تھے۔ اس کے بعد منبر پر تشریف لے جاتے۔ قرآن وحدیث کا وعظ فرماتے ۔ اس موقعہ پر دور ونزدیک کے لوگ کام چھوڑ کر جوق در جوق آتے اور وعظ سنتے ۔ تاثیر اس قدر تھی کہ اگر غیر مسلم شریکِ درس ہوتا توبغیر اسلام قبول کیے نہ رہتا۔اور مسلمان سنتا ، ضرور متأثر ہوتا تھا اور برے کاموں کو چھوڑ کر زہد و تقویٰ اور نیک اعمال اختیار کرتا تھا۔
حضرت شیخ الاسلام ہمیشہ لوگوں کو یہ وصیت فرماتے تھے: "ہرآدمی پر لازم ہے کہ وہ مکمل سچائی اورخلوص کے ساتھ صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے ،ہرماسواکاخیال دل سے نکال دے۔اللہ تعالیٰ سے رسائی کا ایک ہی طریقہ ہے کہ کہ اپنے حال کو درست کر لو ۔ اپنے اقوال وافعال کو سنتِ مصطفیٰ ﷺ سے مزین کرلو۔تمام معاملات میں بارگاہِ صمد جل جلالہ سے استعانت حاصل کرو ۔ اپنے نفس کا محاسبہ کرتے رہو۔تاکہ تمہیں نیک اعمال کرنے کی توفیق حاصل ہو"۔
وصال:
بروز منگل 7 / صفر المظفر 661ھ، مطابق دسمبر /1262ء، کو سجدے کی حالت میں ہوا۔
مزار شریف:
آپ کا مزار مدینۃ الاولیاء ملتان میں منبعِ انوار و برکات ہے۔
ماخذ و مراجع:
صوفیائے پنجاب ۔ الاوراد ۔ نفحات الانس ۔ تذکرہ علمائے ہند ۔ تذکرہ اولیائے پاک و ہند ۔
Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-bahauddin-zakariya-multani-soharwardi
Copyright © Zia-e-Taiba
❤1
پیر پٹھان، غوث زمان، حضرت خواجہ محمد سلیمان تونسوی چشتی نظامی رضی اللہ عنہ کی ولادت 1174ھ گڑگوجی ضلع لورالائی، بلوچستان، پاکستان میں ہوئی۔ آپ ہم شبیہ غوث اعظم، مرید و خلیفہ خواجہ نور محمد مہاروی، عالم باعمل، متبع سنت، خیر خواہ امت، منکسر المزاج، سخی، فیاض، مہمان نواز، اور مقبول انام تھے۔ زندگی بھر علوم و معارِف کی تروِیج و ترقی کے لیے مصروف عمل رہے۔ دینِ اسلام کی اشاعت کے لیے جس کو اہل پایا اسے خلافت عطا فرما کر فیضانِ اسلام عام کرنے لیے مختلف مقامات پر روانہ فرمایا۔ 7 صفر 1267ھ کو وصال فرمایا۔ عالیشان مزار مبارک تونسہ شریف، ضلع ڈیرہ غازی خان، پاکستان میں دعاؤں کی قبولیت کا مقام ہے۔ (مناقب المحبوبین، نافع السالکین)
Peer Pathan, Ghaus of Era, Khwajah Muhammad Sulayman Taunsawi Chishti Nizami (RadiyAllahu Anhu) was born in 1174 AH in Garrgoji, Loralai district, Balochistan, Pakistan. He was a manifestation of Ghous al-Azam, murid and khalifah of Khwajah Noor Muhammad Maharavi, pious practicing scholar, follower of Sunnah, benefactor of Ummah, very generous and hospitable, and a beloved personality. He remained engaged in the promotion of sacred knowledge throughout his life. Whoever he found qualified, he honored them with his caliphate and sent them to various places to spread the message of Islam. He passed away on 7 Safar 1267 AH. His glorious mausoleum in Taunsa Sharif, District, Dera Ghazi Khan, Pakistan is a place of the acceptance of prayers. [Manaqib al-Mahbubain, Nafi’ as-Salikeen]
https://www.facebook.com/100050689590519/posts/pfbid02D8Kc3rQC514DxukWfUz9iAfRaQAFDGKJ6fEXd87cdLoYnJHjBMEcgVVDw2JNTGoXl/
Peer Pathan, Ghaus of Era, Khwajah Muhammad Sulayman Taunsawi Chishti Nizami (RadiyAllahu Anhu) was born in 1174 AH in Garrgoji, Loralai district, Balochistan, Pakistan. He was a manifestation of Ghous al-Azam, murid and khalifah of Khwajah Noor Muhammad Maharavi, pious practicing scholar, follower of Sunnah, benefactor of Ummah, very generous and hospitable, and a beloved personality. He remained engaged in the promotion of sacred knowledge throughout his life. Whoever he found qualified, he honored them with his caliphate and sent them to various places to spread the message of Islam. He passed away on 7 Safar 1267 AH. His glorious mausoleum in Taunsa Sharif, District, Dera Ghazi Khan, Pakistan is a place of the acceptance of prayers. [Manaqib al-Mahbubain, Nafi’ as-Salikeen]
https://www.facebook.com/100050689590519/posts/pfbid02D8Kc3rQC514DxukWfUz9iAfRaQAFDGKJ6fEXd87cdLoYnJHjBMEcgVVDw2JNTGoXl/
❤1
مرید و خلیفہ سرکار سہرورد، ولی کامل، شیخ الاسلام، حضرت سیدنا شیخ بہاؤ الدین زکریا ملتانی قریشی سہروردی رضی اللہ عنہ 27 رمضان 566ھ بروز جمعہ کوٹ کروڑ، ضلع لیہ، جنوبی پنجاب، پاکستان میں پیدا ہوئے۔ آپ مادرزاد ولی، حافظ قرآن، عالم دین، شیخ طریقت اور امام سلسلۂ سہروردیہ فی الہند ہیں۔ آپ نے اسلام کی ترویج و اشاعت کے لیے ایک ادارہ قائم فرمایا جہاں صرف روایتی عالم نہیں بلکہ مالی طور پر مستحکم اور مختلف زبانوں میں ماہر اعلی تربتی یافتہ بہترین علماء، مبلغین اور تاجر تیار کیے جاتے تھے۔ 7 صفر 661ھ کو ملتان شریف، پنجاب، پاکستان میں بحالت سجدہ وصال فرمایا جہاں آپ کا مزار فائز الانوار مرجع خاص و عام ہے۔ (خزینۃ الاصفیاء، تذکرہ صوفیائے پنجاب، تذکرہ اولیائے پاک و ہند)
Murid and Khalifah of Sarkar Suhraward, Perfect Wali, Shaykh al-Islam, Sayyiduna Shaykh Bahauddin Zakariyya Multani Qurayshi Suhrawardi (RadiyAllahu Anhu) was born on Friday, 27th Ramadan 566 AH in Kot Karor, Layyah District, Southern Punjab, Pakistan. He was a born wali, hafiz of the Holy Quran, pious practicing scholar, spiritual guide, and the leader of the Suhrawardiyah Sufi order in the Indian Sub-continent. He established an institution for the propagation of Islam where not only traditional scholars but financially stable, experts in various languages, and highly trained excellent scholars, preachers, and traders were produced. He left this mundane world on 7 Safar 661 AH whilst in prostration in Multan, Punjab, Pakistan where his magnificent mausoleum is frequently visited by people from all walks of life. [Khazinat al-Asfiya, Tazkirah Sufiya-e-Punjab, Tazkirah Awliya-e Pak wa Hind]
https://www.facebook.com/100050689590519/posts/pfbid0WLB8CrK81cdrfhCCaUtTRqZAcoeHybmHZdnvNSYrHzz9SJaF1kaqVsNXeyfNUcEfl/
Murid and Khalifah of Sarkar Suhraward, Perfect Wali, Shaykh al-Islam, Sayyiduna Shaykh Bahauddin Zakariyya Multani Qurayshi Suhrawardi (RadiyAllahu Anhu) was born on Friday, 27th Ramadan 566 AH in Kot Karor, Layyah District, Southern Punjab, Pakistan. He was a born wali, hafiz of the Holy Quran, pious practicing scholar, spiritual guide, and the leader of the Suhrawardiyah Sufi order in the Indian Sub-continent. He established an institution for the propagation of Islam where not only traditional scholars but financially stable, experts in various languages, and highly trained excellent scholars, preachers, and traders were produced. He left this mundane world on 7 Safar 661 AH whilst in prostration in Multan, Punjab, Pakistan where his magnificent mausoleum is frequently visited by people from all walks of life. [Khazinat al-Asfiya, Tazkirah Sufiya-e-Punjab, Tazkirah Awliya-e Pak wa Hind]
https://www.facebook.com/100050689590519/posts/pfbid0WLB8CrK81cdrfhCCaUtTRqZAcoeHybmHZdnvNSYrHzz9SJaF1kaqVsNXeyfNUcEfl/
❤1