🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
06-02-1445 ᴴ | 24-08-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
06-02-1445 ᴴ | 24-08-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت علی بن موفق بغدادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
اسمِ گرامی:
آپ کا اسمِ گرامی علی بن موفق ۔ کنیت: ابو الحسن تھی ۔
تحصیلِ علم:
علی بن موفق رحمۃ اللہ علیہ نے منصور بن عمار ، احمد بن ابی الحواری اور دیگر سے اساتذہ سے اکتسابِ علم کیا ۔
سیرت و خصائص:
حضرت علی بن موفق بغدادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک ولیٔ کامل عابد ،زاہد اور ایک نیک سیرت شخص تھے ۔ آپ عراق اور بغداد کے معروف بزرگان دین میں سے تھے۔ حضرت شیخ ذوالنون مصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے محبت رکھتے تھے۔ بہت سے سفر کیے اپنی عمرمیں ستر بار حج بیت اللہ کیا۔ ایک دن حج کے موقعہ پر آپ کو خیال آیا کہ میں ہر سال حج پر آتا ہوں اور واپس چلا جاتا ہوں۔ مجھے یہ معلوم نہیں ہوا کہ میں کیا ہوں اور کس شمار میں ہوں۔ رات کو اللہ تعالیٰ نے خواب میں ارشاد فرمایا: یاد رکھو !جسے گھر بلاتے ہو وہی تمہارے گھر آتا ہے۔ اگر تم کسی کو گھر نہ بلاؤ تو کون تمہارے گھر آئے گا ؟تم ہر سال ہمارے گھر آتے ہو، تمہاری کیا مجال ہے کہ بن بلائے ہمارے گھر آسکو اور ہمارے گھر میں قدم بھی رکھ سکو۔ ایک دن شیخ کو اپنی تنگدستی اور افلاس پر بڑا خیال آیا۔ راہ میں ایک کاغذ دیکھا اٹھایا اور اپنی آستین میں محفوظ رکھ لیا۔ گھر پہنچے تو کاغذ کو آستین سے گرتا دیکھا اٹھاکر پڑھا تو لکھا تھا: ابن موفق! فقر سے ڈرتے ہو حالانکہ میں تمہارا پروردگار ہوں۔ آپ اپنی دعاؤں میں کہا کرتے ’’اے اللہ! اگر میں دوزخ کے ڈر سے تیری عبادت کرتا ہوں تو مجھے دوزخ میں ڈال دو۔ اگر بہشت کی امید سے عبادت کرتا ہوں تو مجھے بہشت میں رکھ اگر اخلاص و محبت سے کرتا ہوں تو ایک بار اپنے دیدار سے نوازش کر پھر جو چاہے کر“۔
تاریخِ وصال:
آپ کی وفات 7 صفر المظفر 265ھ میں ہوئی تھی ۔ بعض تذکرہ نگاروں نے 260ھ بھی لکھی ہے ۔
ماخذ و مراجع:
طبقات الحنابلہ ۔ خزینۃ الاصفیاء ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-ali-bin-muwaffaq-baghdadi
اسمِ گرامی:
آپ کا اسمِ گرامی علی بن موفق ۔ کنیت: ابو الحسن تھی ۔
تحصیلِ علم:
علی بن موفق رحمۃ اللہ علیہ نے منصور بن عمار ، احمد بن ابی الحواری اور دیگر سے اساتذہ سے اکتسابِ علم کیا ۔
سیرت و خصائص:
حضرت علی بن موفق بغدادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک ولیٔ کامل عابد ،زاہد اور ایک نیک سیرت شخص تھے ۔ آپ عراق اور بغداد کے معروف بزرگان دین میں سے تھے۔ حضرت شیخ ذوالنون مصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے محبت رکھتے تھے۔ بہت سے سفر کیے اپنی عمرمیں ستر بار حج بیت اللہ کیا۔ ایک دن حج کے موقعہ پر آپ کو خیال آیا کہ میں ہر سال حج پر آتا ہوں اور واپس چلا جاتا ہوں۔ مجھے یہ معلوم نہیں ہوا کہ میں کیا ہوں اور کس شمار میں ہوں۔ رات کو اللہ تعالیٰ نے خواب میں ارشاد فرمایا: یاد رکھو !جسے گھر بلاتے ہو وہی تمہارے گھر آتا ہے۔ اگر تم کسی کو گھر نہ بلاؤ تو کون تمہارے گھر آئے گا ؟تم ہر سال ہمارے گھر آتے ہو، تمہاری کیا مجال ہے کہ بن بلائے ہمارے گھر آسکو اور ہمارے گھر میں قدم بھی رکھ سکو۔ ایک دن شیخ کو اپنی تنگدستی اور افلاس پر بڑا خیال آیا۔ راہ میں ایک کاغذ دیکھا اٹھایا اور اپنی آستین میں محفوظ رکھ لیا۔ گھر پہنچے تو کاغذ کو آستین سے گرتا دیکھا اٹھاکر پڑھا تو لکھا تھا: ابن موفق! فقر سے ڈرتے ہو حالانکہ میں تمہارا پروردگار ہوں۔ آپ اپنی دعاؤں میں کہا کرتے ’’اے اللہ! اگر میں دوزخ کے ڈر سے تیری عبادت کرتا ہوں تو مجھے دوزخ میں ڈال دو۔ اگر بہشت کی امید سے عبادت کرتا ہوں تو مجھے بہشت میں رکھ اگر اخلاص و محبت سے کرتا ہوں تو ایک بار اپنے دیدار سے نوازش کر پھر جو چاہے کر“۔
تاریخِ وصال:
آپ کی وفات 7 صفر المظفر 265ھ میں ہوئی تھی ۔ بعض تذکرہ نگاروں نے 260ھ بھی لکھی ہے ۔
ماخذ و مراجع:
طبقات الحنابلہ ۔ خزینۃ الاصفیاء ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-ali-bin-muwaffaq-baghdadi
scholars.pk
Hazrat Ali Bin Muwaffaq Baghdadi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
This Web Page have good information about Islam and contains brief introduction of a great Islamic Celebrity / Personality (Religious Scholar).
❤1
شیخ ابو سہل محمد بن سلیمان صعلوکی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
اسمِ گرامی:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کا اسمِ گرامی: محمد بن سلیمان بن محمد بن ہارون صعلوکی رحمۃ اللہ علیہم تھا ۔ کنیت: ابو سہل تھی ۔
تاریخ و مقامِ ولادت:
ابو سہل صعلوکی رحمۃ اللہ علیہ 296 ھ میں ایران کے شہر اصفہان میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
آپ رحمۃ اللہ علیہ نے علمِ فقہ ابو علی ثقفی سے حاصل کیا، علمِ حدیث ابو بکر محمد بن اسحاق اور ابو العباس محمد بن اسحاق وغیرہ سے حاصل کیا اور ان کے علاوہ مختلف علوم و فنون دیگر اجلہ علماء سے حاصل کیا ۔
سیرت و خصائص:
شیخ ابو سہل صعلوکی رحمۃ اللہ علیہ نیشا پور کے رہنے والے تھے شریعت و طریقت کے امام اور یگانۂ روزگار تھے وقت کے تمام مشائخ آپ کی ولایت پر متفق اللفظ تھے، حضرت ابو بکر شبلی مرتعش، علی سقفی، رافق، ابو الحسن قوشنجی اور ابا نصر نیشاپوری رحمۃ اللہ علیہم اجمعین کی مجالس میں رہ کر فیضان صحبت حاصل کیا، سماع کے بڑے رسیا تھے دوران سماع وجد اور حال کی کیفیت میں مستغرق رہتے تھے۔ ایک بار آپ سے حکم سماع کے بارے میں دریافت کیا گیا آپ نے فرمایا: اہل حقائق کے لیے مستحب ہے، اہل علم کے لیے مباح ہے، اہل نفس کے لیے مکروہ ہے اور فسق و فجور کے خوگر حضرات کے لیے حرام ہے۔ آپ فرمایا کرتے تھے میں نے ساری عمر اپنی جیب سے روپیہ جمع کرنے کے لیے نہیں ڈالا اور کبھی روپے پیسے کو کسی گانٹھ میں نہیں باندھا اور کبھی کسی چیز پر تالا نہیں لگایا۔
تاریخِ وصال:
آپ کی وفات 7 صفر المظفر 369ھ میں ہوئی ۔ آپ کا مزار نیشاپور میں ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تہذیب الاسماء واللغات ۔ خزینۃ الاصفیاء
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abu-ishaq-abu-sahl
اسمِ گرامی:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کا اسمِ گرامی: محمد بن سلیمان بن محمد بن ہارون صعلوکی رحمۃ اللہ علیہم تھا ۔ کنیت: ابو سہل تھی ۔
تاریخ و مقامِ ولادت:
ابو سہل صعلوکی رحمۃ اللہ علیہ 296 ھ میں ایران کے شہر اصفہان میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
آپ رحمۃ اللہ علیہ نے علمِ فقہ ابو علی ثقفی سے حاصل کیا، علمِ حدیث ابو بکر محمد بن اسحاق اور ابو العباس محمد بن اسحاق وغیرہ سے حاصل کیا اور ان کے علاوہ مختلف علوم و فنون دیگر اجلہ علماء سے حاصل کیا ۔
سیرت و خصائص:
شیخ ابو سہل صعلوکی رحمۃ اللہ علیہ نیشا پور کے رہنے والے تھے شریعت و طریقت کے امام اور یگانۂ روزگار تھے وقت کے تمام مشائخ آپ کی ولایت پر متفق اللفظ تھے، حضرت ابو بکر شبلی مرتعش، علی سقفی، رافق، ابو الحسن قوشنجی اور ابا نصر نیشاپوری رحمۃ اللہ علیہم اجمعین کی مجالس میں رہ کر فیضان صحبت حاصل کیا، سماع کے بڑے رسیا تھے دوران سماع وجد اور حال کی کیفیت میں مستغرق رہتے تھے۔ ایک بار آپ سے حکم سماع کے بارے میں دریافت کیا گیا آپ نے فرمایا: اہل حقائق کے لیے مستحب ہے، اہل علم کے لیے مباح ہے، اہل نفس کے لیے مکروہ ہے اور فسق و فجور کے خوگر حضرات کے لیے حرام ہے۔ آپ فرمایا کرتے تھے میں نے ساری عمر اپنی جیب سے روپیہ جمع کرنے کے لیے نہیں ڈالا اور کبھی روپے پیسے کو کسی گانٹھ میں نہیں باندھا اور کبھی کسی چیز پر تالا نہیں لگایا۔
تاریخِ وصال:
آپ کی وفات 7 صفر المظفر 369ھ میں ہوئی ۔ آپ کا مزار نیشاپور میں ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تہذیب الاسماء واللغات ۔ خزینۃ الاصفیاء
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abu-ishaq-abu-sahl
scholars.pk
Hazrat Sheikh Abu Ishaq Abu Sahl
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
This Web Page have good information about Islam and contains brief introduction of a great Islamic Celebrity / Personality (Religious Scholar).
❤1