🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
04-02-1445 ᴴ | 22-08-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ #فیضان_اعلی_حضرت قسط 74 ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
05-02-1445 ᴴ | 23-08-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#فیضان_اعلی_حضرت قسط 75
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
تمام سُنِّیُوں کو عرسِ رَضَا مُبارک ہُو!
اِس سلسلے کی پہلی قسط یہاں ہے↯
https://t.me/islaamic_Knowledge/7170
سرکارِ اعلیٰ حضرت عظیم البرکت
مجدِّدِ دین و ملّت , اِمامِ اہلِ سُـنَّت
امامِ عشق و محبّت , الـشاہ الـحَاج
اِمام احمد رَضَا خان قادِری محدِّثِ
بریلوی رَضِیَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالیٰ عَنۡہۡ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یومِ ولادت ¹⁰ شوَّال المکرَّم ۱۲۷۲ھ
یومِ وصال ²⁵ صفر المظفر ۱۳۴۰ھ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#فیضان_اعلی_حضرت قسط 75
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
تمام سُنِّیُوں کو عرسِ رَضَا مُبارک ہُو!
اِس سلسلے کی پہلی قسط یہاں ہے↯
https://t.me/islaamic_Knowledge/7170
سرکارِ اعلیٰ حضرت عظیم البرکت
مجدِّدِ دین و ملّت , اِمامِ اہلِ سُـنَّت
امامِ عشق و محبّت , الـشاہ الـحَاج
اِمام احمد رَضَا خان قادِری محدِّثِ
بریلوی رَضِیَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالیٰ عَنۡہۡ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یومِ ولادت ¹⁰ شوَّال المکرَّم ۱۲۷۲ھ
یومِ وصال ²⁵ صفر المظفر ۱۳۴۰ھ
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت سیّد شمس الدین عارف رحمۃ اللہ تعالیٰ عنہ
مولف کتاب آئینہ تصوف کے مطابق حضرت سیّد شمس الدین عارف رحمتہ اللہ علیہ کی ولادت با سعادت ۱۶ جمادی الثانی ۸۲۴ ہجری بروز چار شنبہ بوقت دوپہر پشاور میں ہوئی ۔
حضرت سیّد شمس الدین رحمتہ اللہ علیہ ۱۷ رجب المرجب ۸۴۹ ہجری کو بروز چار شنبہ مغرب کے وقت حضرت سیّد شاہ گدا رحمٰن بن ابی الحسن رحمۃ اللہ علیہ سے کوہ جموں میں خلافت حاصل کی ۔
حضرت سیّد شمس الدین رحمۃ اللہ علیہ ۶ صفر المظفّر ۹۹۴ ہجری کو اس دار فانی سے رخصت ہوئے ۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کا مزارِ اقدس طبرستان میں ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-shamsuddin-arif
مولف کتاب آئینہ تصوف کے مطابق حضرت سیّد شمس الدین عارف رحمتہ اللہ علیہ کی ولادت با سعادت ۱۶ جمادی الثانی ۸۲۴ ہجری بروز چار شنبہ بوقت دوپہر پشاور میں ہوئی ۔
حضرت سیّد شمس الدین رحمتہ اللہ علیہ ۱۷ رجب المرجب ۸۴۹ ہجری کو بروز چار شنبہ مغرب کے وقت حضرت سیّد شاہ گدا رحمٰن بن ابی الحسن رحمۃ اللہ علیہ سے کوہ جموں میں خلافت حاصل کی ۔
حضرت سیّد شمس الدین رحمۃ اللہ علیہ ۶ صفر المظفّر ۹۹۴ ہجری کو اس دار فانی سے رخصت ہوئے ۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کا مزارِ اقدس طبرستان میں ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-shamsuddin-arif
scholars.pk
Hazrat Syed Shamsuddin Arif
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
-
❤1
حضرت شیخ ابراہیم بن سلیمان جانبی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
ابراہیم بن سلیمان بن محمد بن عبد العزیزی جینینی نزیل دمشق: فقیہ نحریر، فاضل بے نظیر، مفنن، مؤرخ، حافظ، وقائع، واقف عوامض نقول، جامع فروع، حاوئ اصول تھے، حدود ۱۰۴۰ھ میں شہر جنین میں جو شام کے ملک میں واقع ہے پیدا ہوئے اور رملہ کو تشریف لے گئے جہاں خیر الدین مفتی حنفی سے تفقہ کیا اور مدت تک ان کی ملازمت میں رہ کر مسائل فقہیہ کے کاتب رہے ـ
چنانچہ جب وہ فوت ہوئے تو ان کا فتاویٰ مشہورہ مرتب کیا غرض بعد وفات شیخ مذکور کے دمشو میں آئے اور وہاں وطن اختیار کیا اور کئی کتابیں اپنے ہاتھ سے لکھیں ۔ مصر میں بھی جاکر وہاں کے مشائخ اجلہ سے اخذ کیا ۔ آپ کو اسماء کتب اور ان کے مؤلفین اور اسماء والقاب اور تاریخ وفات وانساب واستحضار فروع فقہیر اور علل حدیثیہ میں معرفت تامہ حاصل تھی، تاریخ [1] ابن حزم کو کامل کیا اور بعض رسائل تاریخیہ تالیف کیے یہاں تک کہ دمشق میں منگل کے روز ۶ ماہ صفر ۱۱۰۸ھ میں وفات پائی اور ترتب باب الصغیر میں کیے گئے ’’شہنشاہِ ولایت‘‘ تاریخ وفات ہے ۔ [2]
1۔ ابن عزم کی کتاب دستور الاعلام میں اضافے کیے، اس کتاب کا واحد معلوم قلمی نسخہ کتب خانہ بانکی پور میں ہے جس سے راقم الھروف نے استفادہ کیا ہے، صحیح لفظ جینینی (ج۔م۔ن۔ی۔ ن۔ی) ہے ۔ (مرتب) ـ
2 ۔ معجم المصنیفن میں ان کے بیٹے صالح بن ابراہیم متوفی ۱۱۷۰ھ کا بھی ذکر کیا ہے ۔ (مرتب)
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-ibrahim-bin-suleman-janibi
ابراہیم بن سلیمان بن محمد بن عبد العزیزی جینینی نزیل دمشق: فقیہ نحریر، فاضل بے نظیر، مفنن، مؤرخ، حافظ، وقائع، واقف عوامض نقول، جامع فروع، حاوئ اصول تھے، حدود ۱۰۴۰ھ میں شہر جنین میں جو شام کے ملک میں واقع ہے پیدا ہوئے اور رملہ کو تشریف لے گئے جہاں خیر الدین مفتی حنفی سے تفقہ کیا اور مدت تک ان کی ملازمت میں رہ کر مسائل فقہیہ کے کاتب رہے ـ
چنانچہ جب وہ فوت ہوئے تو ان کا فتاویٰ مشہورہ مرتب کیا غرض بعد وفات شیخ مذکور کے دمشو میں آئے اور وہاں وطن اختیار کیا اور کئی کتابیں اپنے ہاتھ سے لکھیں ۔ مصر میں بھی جاکر وہاں کے مشائخ اجلہ سے اخذ کیا ۔ آپ کو اسماء کتب اور ان کے مؤلفین اور اسماء والقاب اور تاریخ وفات وانساب واستحضار فروع فقہیر اور علل حدیثیہ میں معرفت تامہ حاصل تھی، تاریخ [1] ابن حزم کو کامل کیا اور بعض رسائل تاریخیہ تالیف کیے یہاں تک کہ دمشق میں منگل کے روز ۶ ماہ صفر ۱۱۰۸ھ میں وفات پائی اور ترتب باب الصغیر میں کیے گئے ’’شہنشاہِ ولایت‘‘ تاریخ وفات ہے ۔ [2]
1۔ ابن عزم کی کتاب دستور الاعلام میں اضافے کیے، اس کتاب کا واحد معلوم قلمی نسخہ کتب خانہ بانکی پور میں ہے جس سے راقم الھروف نے استفادہ کیا ہے، صحیح لفظ جینینی (ج۔م۔ن۔ی۔ ن۔ی) ہے ۔ (مرتب) ـ
2 ۔ معجم المصنیفن میں ان کے بیٹے صالح بن ابراہیم متوفی ۱۱۷۰ھ کا بھی ذکر کیا ہے ۔ (مرتب)
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-ibrahim-bin-suleman-janibi
scholars.pk
Hazrat Sheikh Ibrahim Bin Suleman Janibi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت بابا بھلے شاہ رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید عبد اللہ شاہ ۔ لقب: بلھے شاہ ۔ اسی سے شہرت دوام حاصل ہوئی ، اصل نام بہت کم افراد کو معلوم ہے ۔
والد کا اسمِ گرامی:
سید سخی درویش محمد رحمۃ اللہ علیہ ۔ سید صاحب متقی عالمِ دین اور امام مسجد تھے ۔ آپ کا تعلق "اوچ شریف " کے ساداتِ گیلانیہ سے ہے ۔ چند واسطوں سے سلسلہ نسب امام الاولیاء حضرت غوث الاعظم سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی بغدادی رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی تاریخِ پیدائش میں اختلاف ہے، لیکن جو قریبِ قیاس ہے وہ 1680ء/1091ھ ہے ۔
تحصیلِ علم:
آپ کے والد ماجد اپنے زمانے کے ایک بہترین عالم تھے ۔ عربی فارسی میں ان کو دستگاہ حاصل تھی ۔ چنانچہ آپ کی ابتدائی تعلیم و تربیت آپ کے والد کی نگرانی میں ہوئی ۔ قرآنِ مجید انہیں سے پڑھا ۔ پھر قصور پہنچ کر حافظ غلام مرتضٰی صدیقی علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ ان سے مزید تعلیم حاصل کی۔ منقول ہے کہ حضرت وارث شاہ رحمۃ اللہ علیہ بھی آپ کے شاگرد تھے، اور دونوں شاگرد عظیم شاعر بنے ۔ آپ ان دونوں پر فخر کیا کرتے تھے ۔ حضرت بلھے شاہ علیہ الرحمہ نے اس وقت کے تمام مروجہ علوم میں مہارت حاصل کی، آپ کاشمار اپنے وقت کے جید علماء کرام میں ہوتا تھا ۔
بیعت و خلافت:
آپ امام الموحدین حضرت شاہ عنایت اللہ قادری رحمۃ اللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے ، اور منازلِ سلوک طے کرنے کے بعد خلافت سے نوازے گئے ۔
سیرت و خصائص:
سید العاشقین، زبدۃ العارفین، امام الکاملین، سند الواصلین حضرت سید عبد اللہ شاہ المعروف حضرت بابا بلھے شاہ رحمۃ اللہ علیہ ۔ اللہ جل شانہ نے آپ کو شہرتِ دوام عطاء فرمائی ہے ۔ آپ علم و عمل ، زہد و تقویٰ صدق و اخلاص ، کے پیکر تھے ۔
آپ کے نزدیک علم بغیر عمل اور تقویٰ بغیر خلوص کے بےسود ہے ۔ آپ نے اپنی شاعری میں اسی چیز کو اجاگر کیا ہے ۔
آپ فرماتے ہیں: ؏:
پڑھ پڑھ کتاباں علم دیاں توں نام رکھ لیا قاضی
ہتھ وچ پھڑ کے تلوار نام رکھ لیا غازی
مکے مدینے گھوم آیا تے نام رکھ لیا حاجی
او بلھیا! حاصل کی کیتا؟ جے توں رب نا کیتا راضی
اس وقت "قصور" میں ایک پٹھان حکمران تھا، جو ہر وقت عیاشی میں لگا رہتا تھا ۔ مرشد نے حضرت بلھے شاہ علیہ الرحمہ کو " قصور"جا نے کی ہدایت فرمائی ۔ آپ کو قصور بھیجنے میں بہت سی مصلحتیں مد نظر تھیں ۔ قصور کے لوگ بے دین و عیاش اور سر کش قسم کے تھے ۔ دینداری و پرہیزگاری نام کی کوئی چیز ان کے ہاں نہ تھی ۔ قصور بے اعتدالی اور لا قانو نیت کا مر کز بن چکا تھا ۔ وہاں کے لوگ ظالم اور کسی سائل کو صد قہ و خیرات تک نہ دیتے تھے ۔ ان کی اصلا ح اشد ضروری تھی ۔ اس کے علاوہ شیخ آپ کو مقاماتِ سلوک طے کرانا چاہتے تھے ۔ لوگوں کو تبلیغ، وعظ و نصیحت، اور پھر ان کی طرف سے جور وغیرہ برداشت کرنا ۔
آپ جب قصور تشریف لائے تو ہر وقت تلاوت، ذکر و اذکار، میں مستغرق رہنے لگے ۔ لوگ آپ کے پاس دعا کے لئے حاضر ہوتے اور اپنی مرادیں حاصل کرتے ۔ رفتہ رفتہ آپ نے تبلیغ شروع کر دی، آپ کی تبلیغ سے قصور میں دینداری کی بہاریں نظر آنے لگیں ۔ لوگ فسق و فجور چھوڑ کر عملِ صالح کی طرف راغب ہونے لگے ۔
آپ نے سینکڑوں اشعار کہے ۔ آپ کے کلام کی سب سے بڑی خصو صیت یہ ہے کہ اس سے تعلیم یا فتہ طبقہ بھی لطف اندوز ہوتا ہے، اور نا خواندہ بھی، آپ کے اشعار میں حقیقت سچائی اور خوب صورتی جا بجا عیاں ہے، آج بھی لوگ حضرت بلھے شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے کلام کو پڑھتے اور سر دھنتے ہیں ۔
حضرت خواجہ سلیمان تونسو ی رحمۃ اللہ علیہ کے ارشادات اور ملفو ظات کے مجموعہ " نافع السالکین " میں ہے: "حافظ شیرازی رحمۃ اللہ علیہ نے " مسئلہ و حدت الو جود " کو صوفیاء کی اصطلاحات کے پردہ میں بیان کیا ہے ۔ اصلطلاحاتِ صوفیاء کے جانے بغیر حافظ کا کلام سمجھ میں نہیں آ سکتا ۔ نیز فرمایا کہ بلھے شاہ رحمۃ اللہ علیہ شمشیرِ برہنہ کی مانند ہیں کہ انہوں نے مسئلہ و حدت الوجود کو بے پردہ بیان کیا ہے، دوسرے عارفین نے مسئلہ مذکور کو عر بی یا فارسی زبان میں بیان کیا ہے لیکن بلھے شاہ رحمۃ اللہ علیہ نے ہندی میں بیان کیا ہے، ہندی سے آپ کی مراد پنجاب کے عوام کی زبان آپ کی شاعری میں پیار محبت امن روا داری اور اطاعت کا پیغام ملتا ہے، آپ کے کلام میں سوچ، رس سوز اور تڑپ، لطافت سادگی اور پاکیزگی پائی جاتی ہے ۔
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید عبد اللہ شاہ ۔ لقب: بلھے شاہ ۔ اسی سے شہرت دوام حاصل ہوئی ، اصل نام بہت کم افراد کو معلوم ہے ۔
والد کا اسمِ گرامی:
سید سخی درویش محمد رحمۃ اللہ علیہ ۔ سید صاحب متقی عالمِ دین اور امام مسجد تھے ۔ آپ کا تعلق "اوچ شریف " کے ساداتِ گیلانیہ سے ہے ۔ چند واسطوں سے سلسلہ نسب امام الاولیاء حضرت غوث الاعظم سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی بغدادی رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی تاریخِ پیدائش میں اختلاف ہے، لیکن جو قریبِ قیاس ہے وہ 1680ء/1091ھ ہے ۔
تحصیلِ علم:
آپ کے والد ماجد اپنے زمانے کے ایک بہترین عالم تھے ۔ عربی فارسی میں ان کو دستگاہ حاصل تھی ۔ چنانچہ آپ کی ابتدائی تعلیم و تربیت آپ کے والد کی نگرانی میں ہوئی ۔ قرآنِ مجید انہیں سے پڑھا ۔ پھر قصور پہنچ کر حافظ غلام مرتضٰی صدیقی علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ ان سے مزید تعلیم حاصل کی۔ منقول ہے کہ حضرت وارث شاہ رحمۃ اللہ علیہ بھی آپ کے شاگرد تھے، اور دونوں شاگرد عظیم شاعر بنے ۔ آپ ان دونوں پر فخر کیا کرتے تھے ۔ حضرت بلھے شاہ علیہ الرحمہ نے اس وقت کے تمام مروجہ علوم میں مہارت حاصل کی، آپ کاشمار اپنے وقت کے جید علماء کرام میں ہوتا تھا ۔
بیعت و خلافت:
آپ امام الموحدین حضرت شاہ عنایت اللہ قادری رحمۃ اللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے ، اور منازلِ سلوک طے کرنے کے بعد خلافت سے نوازے گئے ۔
سیرت و خصائص:
سید العاشقین، زبدۃ العارفین، امام الکاملین، سند الواصلین حضرت سید عبد اللہ شاہ المعروف حضرت بابا بلھے شاہ رحمۃ اللہ علیہ ۔ اللہ جل شانہ نے آپ کو شہرتِ دوام عطاء فرمائی ہے ۔ آپ علم و عمل ، زہد و تقویٰ صدق و اخلاص ، کے پیکر تھے ۔
آپ کے نزدیک علم بغیر عمل اور تقویٰ بغیر خلوص کے بےسود ہے ۔ آپ نے اپنی شاعری میں اسی چیز کو اجاگر کیا ہے ۔
آپ فرماتے ہیں: ؏:
پڑھ پڑھ کتاباں علم دیاں توں نام رکھ لیا قاضی
ہتھ وچ پھڑ کے تلوار نام رکھ لیا غازی
مکے مدینے گھوم آیا تے نام رکھ لیا حاجی
او بلھیا! حاصل کی کیتا؟ جے توں رب نا کیتا راضی
اس وقت "قصور" میں ایک پٹھان حکمران تھا، جو ہر وقت عیاشی میں لگا رہتا تھا ۔ مرشد نے حضرت بلھے شاہ علیہ الرحمہ کو " قصور"جا نے کی ہدایت فرمائی ۔ آپ کو قصور بھیجنے میں بہت سی مصلحتیں مد نظر تھیں ۔ قصور کے لوگ بے دین و عیاش اور سر کش قسم کے تھے ۔ دینداری و پرہیزگاری نام کی کوئی چیز ان کے ہاں نہ تھی ۔ قصور بے اعتدالی اور لا قانو نیت کا مر کز بن چکا تھا ۔ وہاں کے لوگ ظالم اور کسی سائل کو صد قہ و خیرات تک نہ دیتے تھے ۔ ان کی اصلا ح اشد ضروری تھی ۔ اس کے علاوہ شیخ آپ کو مقاماتِ سلوک طے کرانا چاہتے تھے ۔ لوگوں کو تبلیغ، وعظ و نصیحت، اور پھر ان کی طرف سے جور وغیرہ برداشت کرنا ۔
آپ جب قصور تشریف لائے تو ہر وقت تلاوت، ذکر و اذکار، میں مستغرق رہنے لگے ۔ لوگ آپ کے پاس دعا کے لئے حاضر ہوتے اور اپنی مرادیں حاصل کرتے ۔ رفتہ رفتہ آپ نے تبلیغ شروع کر دی، آپ کی تبلیغ سے قصور میں دینداری کی بہاریں نظر آنے لگیں ۔ لوگ فسق و فجور چھوڑ کر عملِ صالح کی طرف راغب ہونے لگے ۔
آپ نے سینکڑوں اشعار کہے ۔ آپ کے کلام کی سب سے بڑی خصو صیت یہ ہے کہ اس سے تعلیم یا فتہ طبقہ بھی لطف اندوز ہوتا ہے، اور نا خواندہ بھی، آپ کے اشعار میں حقیقت سچائی اور خوب صورتی جا بجا عیاں ہے، آج بھی لوگ حضرت بلھے شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے کلام کو پڑھتے اور سر دھنتے ہیں ۔
حضرت خواجہ سلیمان تونسو ی رحمۃ اللہ علیہ کے ارشادات اور ملفو ظات کے مجموعہ " نافع السالکین " میں ہے: "حافظ شیرازی رحمۃ اللہ علیہ نے " مسئلہ و حدت الو جود " کو صوفیاء کی اصطلاحات کے پردہ میں بیان کیا ہے ۔ اصلطلاحاتِ صوفیاء کے جانے بغیر حافظ کا کلام سمجھ میں نہیں آ سکتا ۔ نیز فرمایا کہ بلھے شاہ رحمۃ اللہ علیہ شمشیرِ برہنہ کی مانند ہیں کہ انہوں نے مسئلہ و حدت الوجود کو بے پردہ بیان کیا ہے، دوسرے عارفین نے مسئلہ مذکور کو عر بی یا فارسی زبان میں بیان کیا ہے لیکن بلھے شاہ رحمۃ اللہ علیہ نے ہندی میں بیان کیا ہے، ہندی سے آپ کی مراد پنجاب کے عوام کی زبان آپ کی شاعری میں پیار محبت امن روا داری اور اطاعت کا پیغام ملتا ہے، آپ کے کلام میں سوچ، رس سوز اور تڑپ، لطافت سادگی اور پاکیزگی پائی جاتی ہے ۔
❤1
آپ کا کلام معرفت حکمت دانائی اور عبرت سے خالی نہیں"۔ حضرت بلھے شاہ رحمۃ اللہ علیہ سچے عاشقِ رسول ﷺ، پابندِ شرع، اور سچے داعیِ اسلام تھے ۔ جیسا کہ پہلے ذکر کر چکے ہیں، کہ حضرت کی رشد و ہدایت سے "قصور" میں دینداری نظر آنے لگی ۔ لیکن اس وقت بہت سے جُہال و فساق، شعائرِ اسلام، اور دین سے وابستہ افراد کا "مذاق اور تحقیر" کے لئے حضرت کے اشعار کا سہارا لیتے ہیں ۔ مثلاً: نماز پڑھنا ہے کم زنانہ، روزہ سرفہ روٹی، اچیاں بانگاں او دیندے نیت جنھاں دی کھوٹی ۔ وغیرہ وغیرہ ۔
وہ کہتے ہیں کہ آپ جو چاہیں کرتے رہیں، بس آپ کا "اندر" صاف ہونا چاہیے؟ مسجد بھی صحیح ہے، مندر بھی صحیح ہے، کسی کو غلط نہیں کہنا چاہیے ۔ ان کے بقول اللہ کا گھر مسجد گرا دو ، لیکن کسی کا دل مت توڑو ۔ کیا یہ حضرت بلھے شاہ کا فلسفہ ہے؟
آئیے دیکھتے ہیں حقیقت کیا ہے؟:
ہر قسم کی ملاوٹ سے پاک اللہ جل شانہ کا کلام ہے ۔ یہ بات تو ہر کوئی جانتا ہے، کہ کثیر تعداد میں موضوع احادیث موجود ہیں، محدثین نے مستقل کتب اسماء الرجال اور موضوع احادیث پر تصنیف فرمائی ہیں ۔ جو اس چیز کا بین ثبوت ہیں کہ کچھ نا عاقبت اندیش افراد ایسے بھی ہوتے ہیں جو رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ بول سکتے ہیں ۔ جب "احادیث گھڑی" جا سکتی ہیں تو کیا جھوٹے اشعار نہیں منسوب کیے جا سکتے؟ در اصل بات یہ ہے کہ ان جاہلوں کو معلوم ہے کہ اگر ہم اسلام کے بارے میں ایسی بات اپنی طرف سے کریں گے تو جوتے پڑیں گے، اور لوگ مخالف ہو جائیں گے ۔ سو یہ کسی بڑے فوت شدہ بزرگ کاسہارا لیتے ہوئے جھوٹ گھڑتے ہیں، اور پھر ان کی طرف منسوب کر دیتے ہیں ۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ جب بھی کسی بزرگ کے بارے میں ایسے بات پڑھیں یا سنیں جس میں اسلام اور شعائرِ اسلام کامذاق اڑایا گیا ہو ۔ حق یہ ہے کہ اس کی طرف غلط منسوب کی گئی ہوگی ۔ یا مرادی معنیٰ اور ہوگا ۔ اگر معتبر ذرائع سے یہ معلوم ہوجائے کہ اسی بزرگ کاقول ہے "تو ہمارے لئے حجت اللہ کا کلام اور اللہ کے رسول ﷺ کا فرمان ہے۔
تاریخِ وصال:
تاریخِ وصال کے بارے میں مختلف اقوال ہیں ۔ بقول تذکرہ اولیائے پاکستان ،1181ھ ہے ۔
مزار شریف:
آپ کا مزار مبارک " قصور" ریلوے روڈ پر زیارت گاہِ خاص و عام ہے۔آپ کاعرس ہرسال شمسی ماہ بھا دوں میں جو چاند نظر آئے اس کی 11،12 تاریخ کو قصور میں منعقد ہوتا ہے۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اولیائے پاک و ہند ۔ تذکرہ اولیائے پاکستان ۔ اولیائے قصور ۔
؏: بلھے شاہ اساں مرنا،
ناہیں گورپیا کوئی ہور ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-baba-bulleh-shah
وہ کہتے ہیں کہ آپ جو چاہیں کرتے رہیں، بس آپ کا "اندر" صاف ہونا چاہیے؟ مسجد بھی صحیح ہے، مندر بھی صحیح ہے، کسی کو غلط نہیں کہنا چاہیے ۔ ان کے بقول اللہ کا گھر مسجد گرا دو ، لیکن کسی کا دل مت توڑو ۔ کیا یہ حضرت بلھے شاہ کا فلسفہ ہے؟
آئیے دیکھتے ہیں حقیقت کیا ہے؟:
ہر قسم کی ملاوٹ سے پاک اللہ جل شانہ کا کلام ہے ۔ یہ بات تو ہر کوئی جانتا ہے، کہ کثیر تعداد میں موضوع احادیث موجود ہیں، محدثین نے مستقل کتب اسماء الرجال اور موضوع احادیث پر تصنیف فرمائی ہیں ۔ جو اس چیز کا بین ثبوت ہیں کہ کچھ نا عاقبت اندیش افراد ایسے بھی ہوتے ہیں جو رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ بول سکتے ہیں ۔ جب "احادیث گھڑی" جا سکتی ہیں تو کیا جھوٹے اشعار نہیں منسوب کیے جا سکتے؟ در اصل بات یہ ہے کہ ان جاہلوں کو معلوم ہے کہ اگر ہم اسلام کے بارے میں ایسی بات اپنی طرف سے کریں گے تو جوتے پڑیں گے، اور لوگ مخالف ہو جائیں گے ۔ سو یہ کسی بڑے فوت شدہ بزرگ کاسہارا لیتے ہوئے جھوٹ گھڑتے ہیں، اور پھر ان کی طرف منسوب کر دیتے ہیں ۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ جب بھی کسی بزرگ کے بارے میں ایسے بات پڑھیں یا سنیں جس میں اسلام اور شعائرِ اسلام کامذاق اڑایا گیا ہو ۔ حق یہ ہے کہ اس کی طرف غلط منسوب کی گئی ہوگی ۔ یا مرادی معنیٰ اور ہوگا ۔ اگر معتبر ذرائع سے یہ معلوم ہوجائے کہ اسی بزرگ کاقول ہے "تو ہمارے لئے حجت اللہ کا کلام اور اللہ کے رسول ﷺ کا فرمان ہے۔
تاریخِ وصال:
تاریخِ وصال کے بارے میں مختلف اقوال ہیں ۔ بقول تذکرہ اولیائے پاکستان ،1181ھ ہے ۔
مزار شریف:
آپ کا مزار مبارک " قصور" ریلوے روڈ پر زیارت گاہِ خاص و عام ہے۔آپ کاعرس ہرسال شمسی ماہ بھا دوں میں جو چاند نظر آئے اس کی 11،12 تاریخ کو قصور میں منعقد ہوتا ہے۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اولیائے پاک و ہند ۔ تذکرہ اولیائے پاکستان ۔ اولیائے قصور ۔
؏: بلھے شاہ اساں مرنا،
ناہیں گورپیا کوئی ہور ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-baba-bulleh-shah
scholars.pk
Hazrat Baba Bulleh Shah
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
مرید و خلیفہ صدر الشریعہ، فقیہ اعظم ہند، شارح بخاری، حضرت علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی رضی الله عنہ کی ولادت 11 شعبان 1339ھ کو قصبہ گھوسی، ضلع مؤ، ہندستان میں ہوئی۔ آپ خلیفہ صدر الشریعہ و مفتی اعظم و احسن العلماء، مفتی اسلام، شیخ طریقت، استاذ العلماء، بہترین خطیب، مناظر، نزہۃ القاری شرح صحیح البخاری (9 جلدیں) سمیت 20 کتب کے مصنف اور اکابرین اہل سنت سے ہیں۔ تقریباً 35 سال مختلف مدارس میں تدریسی خدمات انجام دیں اور تقریباً ستر ہزار فتاوی تحریر کیے۔ 6 صفر 1421ھ بروز جمعرات بعد نماز فجر 5 بجکر 40 منٹ پر وصال فرمایا۔ مزار مبارک گھوسی شریف، ہندستان میں ہے۔ (فتاوی شارح بخاری)
Murid and Khalifah of Sadr al-Shariah, the Commentator of Bukhari, Great Jurist of India, Allamah Mufti Muhammad Sharif-ul-Haq Amjadi (RadiyAllahu Anhu) was born on 11 Sha’ban 1339 AH in the town of Ghosi, Mau, India. He was a khalifah of Sadr al-Shariah, Mufti-e-Azam, and Ahsan al-Ulama; Mufti of Islam, spiritual guide, teacher of scholars brilliant orator, debater, and from amongst the senior luminaries of Ahl as-Sunnah. He authored 20 works, including his commentary on Bukhari (9 Volumes). He taught for a period of 35 years in various Islamic seminaries and penned about 70,000 verdicts. He passed away on Thursday, 6th of Safar 1421 AH after Farj prayers at 5:40 am. His blessed mausoleum is in Ghosi Sharif, India. [Fatawa Sharih Bukhari]
https://www.facebook.com/100050689590519/posts/623244302708551/
Murid and Khalifah of Sadr al-Shariah, the Commentator of Bukhari, Great Jurist of India, Allamah Mufti Muhammad Sharif-ul-Haq Amjadi (RadiyAllahu Anhu) was born on 11 Sha’ban 1339 AH in the town of Ghosi, Mau, India. He was a khalifah of Sadr al-Shariah, Mufti-e-Azam, and Ahsan al-Ulama; Mufti of Islam, spiritual guide, teacher of scholars brilliant orator, debater, and from amongst the senior luminaries of Ahl as-Sunnah. He authored 20 works, including his commentary on Bukhari (9 Volumes). He taught for a period of 35 years in various Islamic seminaries and penned about 70,000 verdicts. He passed away on Thursday, 6th of Safar 1421 AH after Farj prayers at 5:40 am. His blessed mausoleum is in Ghosi Sharif, India. [Fatawa Sharih Bukhari]
https://www.facebook.com/100050689590519/posts/623244302708551/