حضرت مولانا عبدالرشید جون پوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
مولانا عبدالرشید جون پوری ، ابن شیخ مصطفیٰ ابن عبدالحمید، ان کا لقب شمس الحق تھا شمسی ، تخلص کرتے تھے۔ شیخ فضل اللہ جون پوری کے شاگرد اور اپنے والد شیخ مصطفےٰ (مرید شیخ محمد مرید(۱)نظام الدین امیٹھوی قدس اللہ اسرار ہم) کے مرید تھے جو اولیا ء کبار اور علمائے کرام سےتھے، شروع میں درس وتدریس میں مشغول رہے پھر اس کو چھوڑ کر کتب حقائق کے مطالعہ میں مصروف ہوگئے، امراءواغنیاء کی صحبت سے پرہیز کرتے تھے۔ شاہ جہاں بادشاہ ان کے اوصاف سن کر ان کی ملاقات کا مشتاق ہوا، وکیل کی معرفت ایک فرمان بلانے کے لیے بھیجا گیا مولانا نے قبول نہ کیا اور گوشہ عزلت سے اپنا پاؤں باہر نہ نکالا۔ مفید تصانیف رکھتے تھے ان میں سے رشیدیہ (مناظرہ)، زادالسالکین، شرح اسرارالخلوۃ رسالہ محکوم مربوط وحاشیہ شرح مختصر عضدی و حاشیہ فارسی بر کافیہ ابن حاجب ومقصود الطالبین دراوراد اور دیوان شعر فارسی مشہور ہیں ان کے انتقال کا واقعہ اس طرح شہرت پذیر ہے کہ جب فجر کی سنّتیں ادا کرکے فرض شروع کیے تو تحریمہ کہنے کے وقت ان کا طائر روح جنت اعلیٰ کو پرواز کر گیا، یہ واقعہ ۱۰۸۳ھ/ ۷۳-۱۶۷۲ کا ہے۔
------------------------
شیخ[1]عبد الرشید: ۱۰۸۳ھ میں پیدا ہوئے،شمس الحق لقب تھا،عالمِ متجر، فاضل ماہر،حاوی فروع واصول تھے،علوم شیخ فضل اللہ سے حاصل کر کے تدریس میں مشغول ہوئے۔آپ کا اختلاط امراء واغنیاء سے بڑی نفرت تھی یہاں تک کہ شاہجہان نے قاصد بھیج کر آپ کو طلب کیا مگر آپ نے جانے سے انکار کردیا اور اپنے گوشہ عزلت سے بالکل باہر نہ نکلے یہاں تک کہ تحریمہ نماز فجر میں وفات پائی۔ آپ نے تصانیف عمدہ کیں جن میں سے رشید یہ مناظرہ میں اور زادا السالکین اور شرھ اسرار الخلوۃ مصنفیہ ابن عربی اور حواشی مختصر عضدی اور کافیہ اور کتاب مقصود الطالبین اور ادمیں اور دیوان اشعار فارسی مشہور و معروف ہیں۔
1۔ شیخ عبدالرشید بن شیخ مصطفیٰ بن عبد الحمید: لقب شمس الحق،شمسی تخلص متوفی ۱۰۸۳ھ، گیارہویں صدی کے فاضل ہیں،شاہجہان کے دورِ حکومت (۱۰۳۶۔۱۰۶۷)میں آپ کا بڑا شہرہ تھا (تذکرہ علمائے ہند)،نزہۃ الخوطر(ج۶،ص،۱۵) میں بارہویں صدی کے ایک بزرگ مولانا عبد الرشید جونپوری کا ذکر آیا ہے جو ملا نظام الدین سہالوی کے شاگرد تھے،انہوں نے ’’العروۃ الوثقٰی‘‘ کا حاشیہ لکھا۔(مرتب)
(حدائق الحنفیہ)
----------------------------
آپ کا پہلا نام نام محمد رشید تھا اپنے مراسلات اور مکتوبات میں یہی نام لکھا کرتے تھے لقب شمس الدین فیاض اور دیوان تھا اپنے والد شیخ مصطفیٰ عبدالحمید خان کے مرید تھے آپ کے والد شیخ محمد بن شیخ نظام الدین انبھیٹوی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید تھے جو شیخ حضروت جونپوری رحمۃ اللہ علیہ کے مرید تھے وہ شیخ اللہ داد شارح کافیہ کے مرید تھے اور وہ راجی حامد شاہ اور شیخ حسام الدین قدس سرہم کے مرید تھے آپ کو شیخ طبیب سے خلافت ملی تھی اسی طرح آپ کو دوسرے لوگوں سے بھی فیض ملا تھا آپ وقت کے کاملیں اور بلند مرتبت مشائخ میں سے تھے ابتدائی زندگی میں درس و تدریس میں مصروف رہے مگر آخری عمر میں تمام کو ترک کرکے بڑی بڑی بلند پایہ کتابوں کے مطالعہ میں مشغول رہا کرتے تھے عربی کتابیں خاص طور پر پڑھتے تھے حضرت شیخ محی الدین کی کتاب اسرار المخلوفات پر زبردست شرح لکھی ذکر با الجہر کرکے سماع کی مجالس میں غلو کی حد تک شرکت کرتے تھے علم مناظرہ کی مشہور کتاب رشیدیہ، زادالسالکین، مقصود الطالبین اور ایک دیوان آپ کی یادگاریں ہیں اشعار میں شمسی تخلص تھا شیخ عبد الرشید قدس سرہ ۱۰۵۵ ہجری میں فوت ہوئے۔
چوں رشید آں مرشد اہلِ رشاد
باہزاراں رشد درحقیقت رسید
افضل الاقطاب گو تاریخ او
نیز قطب الاولیا عارف رشید
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-ghulam-rasheed-jonpuri
مولانا عبدالرشید جون پوری ، ابن شیخ مصطفیٰ ابن عبدالحمید، ان کا لقب شمس الحق تھا شمسی ، تخلص کرتے تھے۔ شیخ فضل اللہ جون پوری کے شاگرد اور اپنے والد شیخ مصطفےٰ (مرید شیخ محمد مرید(۱)نظام الدین امیٹھوی قدس اللہ اسرار ہم) کے مرید تھے جو اولیا ء کبار اور علمائے کرام سےتھے، شروع میں درس وتدریس میں مشغول رہے پھر اس کو چھوڑ کر کتب حقائق کے مطالعہ میں مصروف ہوگئے، امراءواغنیاء کی صحبت سے پرہیز کرتے تھے۔ شاہ جہاں بادشاہ ان کے اوصاف سن کر ان کی ملاقات کا مشتاق ہوا، وکیل کی معرفت ایک فرمان بلانے کے لیے بھیجا گیا مولانا نے قبول نہ کیا اور گوشہ عزلت سے اپنا پاؤں باہر نہ نکالا۔ مفید تصانیف رکھتے تھے ان میں سے رشیدیہ (مناظرہ)، زادالسالکین، شرح اسرارالخلوۃ رسالہ محکوم مربوط وحاشیہ شرح مختصر عضدی و حاشیہ فارسی بر کافیہ ابن حاجب ومقصود الطالبین دراوراد اور دیوان شعر فارسی مشہور ہیں ان کے انتقال کا واقعہ اس طرح شہرت پذیر ہے کہ جب فجر کی سنّتیں ادا کرکے فرض شروع کیے تو تحریمہ کہنے کے وقت ان کا طائر روح جنت اعلیٰ کو پرواز کر گیا، یہ واقعہ ۱۰۸۳ھ/ ۷۳-۱۶۷۲ کا ہے۔
------------------------
شیخ[1]عبد الرشید: ۱۰۸۳ھ میں پیدا ہوئے،شمس الحق لقب تھا،عالمِ متجر، فاضل ماہر،حاوی فروع واصول تھے،علوم شیخ فضل اللہ سے حاصل کر کے تدریس میں مشغول ہوئے۔آپ کا اختلاط امراء واغنیاء سے بڑی نفرت تھی یہاں تک کہ شاہجہان نے قاصد بھیج کر آپ کو طلب کیا مگر آپ نے جانے سے انکار کردیا اور اپنے گوشہ عزلت سے بالکل باہر نہ نکلے یہاں تک کہ تحریمہ نماز فجر میں وفات پائی۔ آپ نے تصانیف عمدہ کیں جن میں سے رشید یہ مناظرہ میں اور زادا السالکین اور شرھ اسرار الخلوۃ مصنفیہ ابن عربی اور حواشی مختصر عضدی اور کافیہ اور کتاب مقصود الطالبین اور ادمیں اور دیوان اشعار فارسی مشہور و معروف ہیں۔
1۔ شیخ عبدالرشید بن شیخ مصطفیٰ بن عبد الحمید: لقب شمس الحق،شمسی تخلص متوفی ۱۰۸۳ھ، گیارہویں صدی کے فاضل ہیں،شاہجہان کے دورِ حکومت (۱۰۳۶۔۱۰۶۷)میں آپ کا بڑا شہرہ تھا (تذکرہ علمائے ہند)،نزہۃ الخوطر(ج۶،ص،۱۵) میں بارہویں صدی کے ایک بزرگ مولانا عبد الرشید جونپوری کا ذکر آیا ہے جو ملا نظام الدین سہالوی کے شاگرد تھے،انہوں نے ’’العروۃ الوثقٰی‘‘ کا حاشیہ لکھا۔(مرتب)
(حدائق الحنفیہ)
----------------------------
آپ کا پہلا نام نام محمد رشید تھا اپنے مراسلات اور مکتوبات میں یہی نام لکھا کرتے تھے لقب شمس الدین فیاض اور دیوان تھا اپنے والد شیخ مصطفیٰ عبدالحمید خان کے مرید تھے آپ کے والد شیخ محمد بن شیخ نظام الدین انبھیٹوی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید تھے جو شیخ حضروت جونپوری رحمۃ اللہ علیہ کے مرید تھے وہ شیخ اللہ داد شارح کافیہ کے مرید تھے اور وہ راجی حامد شاہ اور شیخ حسام الدین قدس سرہم کے مرید تھے آپ کو شیخ طبیب سے خلافت ملی تھی اسی طرح آپ کو دوسرے لوگوں سے بھی فیض ملا تھا آپ وقت کے کاملیں اور بلند مرتبت مشائخ میں سے تھے ابتدائی زندگی میں درس و تدریس میں مصروف رہے مگر آخری عمر میں تمام کو ترک کرکے بڑی بڑی بلند پایہ کتابوں کے مطالعہ میں مشغول رہا کرتے تھے عربی کتابیں خاص طور پر پڑھتے تھے حضرت شیخ محی الدین کی کتاب اسرار المخلوفات پر زبردست شرح لکھی ذکر با الجہر کرکے سماع کی مجالس میں غلو کی حد تک شرکت کرتے تھے علم مناظرہ کی مشہور کتاب رشیدیہ، زادالسالکین، مقصود الطالبین اور ایک دیوان آپ کی یادگاریں ہیں اشعار میں شمسی تخلص تھا شیخ عبد الرشید قدس سرہ ۱۰۵۵ ہجری میں فوت ہوئے۔
چوں رشید آں مرشد اہلِ رشاد
باہزاراں رشد درحقیقت رسید
افضل الاقطاب گو تاریخ او
نیز قطب الاولیا عارف رشید
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-ghulam-rasheed-jonpuri
scholars.pk
Hazrat Shah Ghulam Rasheed Jonpuri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت خواجہ یعقوب بن عثمان چرخی قدس سرہ
نام ونسب : اسمِ گرامی: خواجہ یعقوب۔علاقہ "چرخ"کی نسبت سے چرخی کہلاتے ہیں۔سلسلہ نسب اسطرح ہے: خواجہ یعقوب بن عثمان بن محمود بن محمد بن محمود الغزنوی۔ آپ نے اپنی تفسیر میں چند جگہوں پر اپنے والد بزرگوار رحمۃ اللہ علیہ کا ذکر کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اربابِ علم و مطالعہ میں سے تھے اور پارسا اور صوفی تھے۔ اُن کی ریاضت کا یہ حال تھا کہ ایک روز پڑوسی کے گھر سے پانی لائے، چونکہ پانی یتیم کے پیالہ میں تھا، اس لیے نہ پیاتھا۔ (علیہم الرحمۃ والرضوان)
تاریخ ِ ولادت: آپ علیہ الرحمہ 762ھ،مطابق 1360ءکوموضع"چرخ"(غزنی،افغانستان )میں پیداہوئے۔
تحصیلِ علم: آپ نے جامع ہرات(افغانستان) اور دیارِ مصر میں تعلیم حاصل کی۔ حضرت شیخ زین الدین خوانی آپ کے ہم درس تھے۔ اور آپ نے حضرت مولانا شہاب الدین سیرامی رحمۃ اللہ علیہ (جو اپنے زمانے کے مشہور عالم تھے)سے تلمذ کیا اور فتویٰ کی اجازت علمائے بخارا سے پائی۔
بیعت وخلافت: آپ علیہ الرحمہ خواجہ ٔ بزرگوار خواجۂ خواجگان حضرت سید بہاءالدین نقشبندرحمۃ اللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے،اور سلوک کی منازل حضرت خواجہ علاؤالدین عطار رحمۃ اللہ علیہ کی صحبت میں طے فرمائیں۔اس لئے آپ خلیفہ حضرت خواجہ علاؤالدین عطار علیہ الرحمہ کے ہیں۔
سیرت وخصائص: امام الاولیاء ،قدوۃ الصوفیاء،عالمِ ربانی،عارفِ حقانی حضرت خواجہ یعقوب بن عثمان چرخی رحمۃ اللہ علیہ۔آپ علیہ الرحمہ کاشمار سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کے اکابر مشائخٰ میں ہوتا ہے۔آپ اپنے وقت کے جید عالمِ دین تھے۔ آپ نے شریعت وطریقت پر مفید کتب تصنیف فرمائی ہیں۔حضرت خواجہ بہاء الدین نقشبند رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہونے سے پہلے آپ کو اُن سے بڑی عقیدت اور محبت تھی، جب آپ اجازتِ فتویٰ حاصل کرکے بخارا سے واپس چرخ جانے لگے تو ایک دن حضرت خواجہ نقشبند رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور نہایت عاجزی و انکساری سے عرض کیا: "میری طرف توجہ فرمائیں"۔ خواجۂ نقشبند نے فرمایا: ہم مامور ہیں ہم خود کسی کو قبول نہیں کرتے۔ آج رات دیکھیں گے کہ کیا اشارہ ہوتا ہے، اُسی پر ہی عمل کیا جائے گا اور اگر انہوں نے تجھے قبول کیا تو ہم بھی قبول کرلیں گے۔یہ رات آپ پر بڑی بھاری تھی، آپ کو یہ غم کھائے جا رہا تھا کہ شاید حضرت خواجہ رحمۃ اللہ علیہ مجھے قبول نہ کریں۔ اگلے روز آپ نے فجر کی نماز حضرت خواجہ نقشبند رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ ادا کی، نماز کے بعد حضرت خواجہ قدس سرہ نے آپ کو مخاطب کرکے فرمایا:"مبارک ہو کہ اشارہ قبول کرنے کا آیا ہے۔ ہم کسی کو قبول نہیں کرتے اور اگر قبول کریں تو دیر سے کرتے ہیں تاکہ دیکھیں کہ کوئی کس نیت سے آتا ہے اور کس وقت آتا ہے"۔حضرت خواجہ نے مریدی کا شرف بخشا۔
حضرت خواجہ نقشبند رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا کہ حدیث شریف میں ہے:العلم علمان، علم القلب فذلک علم نافع علم الانبیاء والمرسلین والعلم اللسان فذلک حجۃ اللہ علیٰ ابن آدم۔"علم دو ہیں، ایک قلب کا علم جو نفع بکش ہے اور یہ نبیوں اور رسولوں کا علم ہے۔ دوسرا زبان کا علم اور یہ بنی آدم پر حجت ہے"۔اُمید ہے کہ علم باطن سے تمہیں کچھ نصیب ہوگا۔اور فرمایا کہ حدیث شریف میں آیا ہے:اذا جالستم اھل الصدق فاجلسوھم بالصدق فانھم جواسیس القلوب یدخلون فی قلوبکم وینظرون الیٰ ھممکن۔"جب تم اہلِ صدق کی صحبت میں بیٹھو تو اُن کے پاس صدق سے بیٹھو، کیونکہ وہ دلوں کے بھید جانتے ہیں، وہ تمہارے دلوں میں داخل ہوجاتے ہیں اور تمہارے ارادوں اور نیتوں کو دیکھ لیتے ہیں"۔اس کے بعد حضرت خواجہ نقشبند رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے مشائخ کا سلسلۂ طریقت حضرت خواجہ عبدالخالق غجدوانی قدس سرہ العزیز تک بیان فرمایا اور پھر آپ کو وقوفِ عددی میں مشغول کیا او رفرمایا:"یہ علم لدنی کا پہلا سبق ہے جو حضرت خواجہ خضر علیہ السلام نے حضرت خواجہ بزرگ عبدالخالق غجدوانی رحمۃ اللہ علیہ کو پڑھایا تھا"۔شرفِ بیعت حاصل کرنے کے بعد آپ ایک عرصہ تک حضرت خواجہ نقشبند رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں رہے اور اس دوران حضرت خواجہ علاء الدین عطار رحمۃ اللہ علیہ سے تکمیل تعلیم و تربیت کرتے رہے، پھر حضرت خواجہ نقشبند رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کو بخارا سے جانے کی اجازت مرحمت فرمائی اور بوقتِ رخصت فرمایا:"ہم سے جو کچھ تمہیں ملا ہے اُس کو بندگانِ خدا تک پہنچاؤ تاکہ سعادت کا موجب بنے"۔پھر تین بار فرمایا:" ترا بخدا سپرد یم (ہم نے تجھے خدا کے سپرد کیا) اور ساتھ ہی اشارۃ حضرت خواجہ علاء الدین عطار رحمۃ اللہ علیہ کی پیروی کرنے کا حکم فرمایا۔
کچھ عرصہ موضع "کش" میں قیام کرنے کے بعد آپ بدخشاں چلے گئے۔ یہاں پہنچنے پر آپ کو" چغانیاں" سے حضرت خواجہ علاء الدین عطار قدس سرہ کا مکتوبِ گرامی ملا۔ جس میں انہوں نے آپ کو اپنی متابعت کا اشارہ کیا۔ آپ چغانیاں کو روانہ ہوگئے اور حضرت خواجہ عطار کی صحبت کا شرف حاصل کیا۔ آپ چند برس تک اُن کی صحبت میں رہے، حضرت خواجہ علاء الدین
نام ونسب : اسمِ گرامی: خواجہ یعقوب۔علاقہ "چرخ"کی نسبت سے چرخی کہلاتے ہیں۔سلسلہ نسب اسطرح ہے: خواجہ یعقوب بن عثمان بن محمود بن محمد بن محمود الغزنوی۔ آپ نے اپنی تفسیر میں چند جگہوں پر اپنے والد بزرگوار رحمۃ اللہ علیہ کا ذکر کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اربابِ علم و مطالعہ میں سے تھے اور پارسا اور صوفی تھے۔ اُن کی ریاضت کا یہ حال تھا کہ ایک روز پڑوسی کے گھر سے پانی لائے، چونکہ پانی یتیم کے پیالہ میں تھا، اس لیے نہ پیاتھا۔ (علیہم الرحمۃ والرضوان)
تاریخ ِ ولادت: آپ علیہ الرحمہ 762ھ،مطابق 1360ءکوموضع"چرخ"(غزنی،افغانستان )میں پیداہوئے۔
تحصیلِ علم: آپ نے جامع ہرات(افغانستان) اور دیارِ مصر میں تعلیم حاصل کی۔ حضرت شیخ زین الدین خوانی آپ کے ہم درس تھے۔ اور آپ نے حضرت مولانا شہاب الدین سیرامی رحمۃ اللہ علیہ (جو اپنے زمانے کے مشہور عالم تھے)سے تلمذ کیا اور فتویٰ کی اجازت علمائے بخارا سے پائی۔
بیعت وخلافت: آپ علیہ الرحمہ خواجہ ٔ بزرگوار خواجۂ خواجگان حضرت سید بہاءالدین نقشبندرحمۃ اللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے،اور سلوک کی منازل حضرت خواجہ علاؤالدین عطار رحمۃ اللہ علیہ کی صحبت میں طے فرمائیں۔اس لئے آپ خلیفہ حضرت خواجہ علاؤالدین عطار علیہ الرحمہ کے ہیں۔
سیرت وخصائص: امام الاولیاء ،قدوۃ الصوفیاء،عالمِ ربانی،عارفِ حقانی حضرت خواجہ یعقوب بن عثمان چرخی رحمۃ اللہ علیہ۔آپ علیہ الرحمہ کاشمار سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کے اکابر مشائخٰ میں ہوتا ہے۔آپ اپنے وقت کے جید عالمِ دین تھے۔ آپ نے شریعت وطریقت پر مفید کتب تصنیف فرمائی ہیں۔حضرت خواجہ بہاء الدین نقشبند رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہونے سے پہلے آپ کو اُن سے بڑی عقیدت اور محبت تھی، جب آپ اجازتِ فتویٰ حاصل کرکے بخارا سے واپس چرخ جانے لگے تو ایک دن حضرت خواجہ نقشبند رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور نہایت عاجزی و انکساری سے عرض کیا: "میری طرف توجہ فرمائیں"۔ خواجۂ نقشبند نے فرمایا: ہم مامور ہیں ہم خود کسی کو قبول نہیں کرتے۔ آج رات دیکھیں گے کہ کیا اشارہ ہوتا ہے، اُسی پر ہی عمل کیا جائے گا اور اگر انہوں نے تجھے قبول کیا تو ہم بھی قبول کرلیں گے۔یہ رات آپ پر بڑی بھاری تھی، آپ کو یہ غم کھائے جا رہا تھا کہ شاید حضرت خواجہ رحمۃ اللہ علیہ مجھے قبول نہ کریں۔ اگلے روز آپ نے فجر کی نماز حضرت خواجہ نقشبند رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ ادا کی، نماز کے بعد حضرت خواجہ قدس سرہ نے آپ کو مخاطب کرکے فرمایا:"مبارک ہو کہ اشارہ قبول کرنے کا آیا ہے۔ ہم کسی کو قبول نہیں کرتے اور اگر قبول کریں تو دیر سے کرتے ہیں تاکہ دیکھیں کہ کوئی کس نیت سے آتا ہے اور کس وقت آتا ہے"۔حضرت خواجہ نے مریدی کا شرف بخشا۔
حضرت خواجہ نقشبند رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا کہ حدیث شریف میں ہے:العلم علمان، علم القلب فذلک علم نافع علم الانبیاء والمرسلین والعلم اللسان فذلک حجۃ اللہ علیٰ ابن آدم۔"علم دو ہیں، ایک قلب کا علم جو نفع بکش ہے اور یہ نبیوں اور رسولوں کا علم ہے۔ دوسرا زبان کا علم اور یہ بنی آدم پر حجت ہے"۔اُمید ہے کہ علم باطن سے تمہیں کچھ نصیب ہوگا۔اور فرمایا کہ حدیث شریف میں آیا ہے:اذا جالستم اھل الصدق فاجلسوھم بالصدق فانھم جواسیس القلوب یدخلون فی قلوبکم وینظرون الیٰ ھممکن۔"جب تم اہلِ صدق کی صحبت میں بیٹھو تو اُن کے پاس صدق سے بیٹھو، کیونکہ وہ دلوں کے بھید جانتے ہیں، وہ تمہارے دلوں میں داخل ہوجاتے ہیں اور تمہارے ارادوں اور نیتوں کو دیکھ لیتے ہیں"۔اس کے بعد حضرت خواجہ نقشبند رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے مشائخ کا سلسلۂ طریقت حضرت خواجہ عبدالخالق غجدوانی قدس سرہ العزیز تک بیان فرمایا اور پھر آپ کو وقوفِ عددی میں مشغول کیا او رفرمایا:"یہ علم لدنی کا پہلا سبق ہے جو حضرت خواجہ خضر علیہ السلام نے حضرت خواجہ بزرگ عبدالخالق غجدوانی رحمۃ اللہ علیہ کو پڑھایا تھا"۔شرفِ بیعت حاصل کرنے کے بعد آپ ایک عرصہ تک حضرت خواجہ نقشبند رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں رہے اور اس دوران حضرت خواجہ علاء الدین عطار رحمۃ اللہ علیہ سے تکمیل تعلیم و تربیت کرتے رہے، پھر حضرت خواجہ نقشبند رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کو بخارا سے جانے کی اجازت مرحمت فرمائی اور بوقتِ رخصت فرمایا:"ہم سے جو کچھ تمہیں ملا ہے اُس کو بندگانِ خدا تک پہنچاؤ تاکہ سعادت کا موجب بنے"۔پھر تین بار فرمایا:" ترا بخدا سپرد یم (ہم نے تجھے خدا کے سپرد کیا) اور ساتھ ہی اشارۃ حضرت خواجہ علاء الدین عطار رحمۃ اللہ علیہ کی پیروی کرنے کا حکم فرمایا۔
کچھ عرصہ موضع "کش" میں قیام کرنے کے بعد آپ بدخشاں چلے گئے۔ یہاں پہنچنے پر آپ کو" چغانیاں" سے حضرت خواجہ علاء الدین عطار قدس سرہ کا مکتوبِ گرامی ملا۔ جس میں انہوں نے آپ کو اپنی متابعت کا اشارہ کیا۔ آپ چغانیاں کو روانہ ہوگئے اور حضرت خواجہ عطار کی صحبت کا شرف حاصل کیا۔ آپ چند برس تک اُن کی صحبت میں رہے، حضرت خواجہ علاء الدین
❤1
عطار رحمۃ اللہ علیہ آپ پر بے حد لطف فرماتے تھے۔جب حضرت خواجہ علاء الدین عطار رحمۃ اللہ علیہ نے 802ھ میں اس دارِ فانی سے عالمِ باقی کی طرف رحلت فرمائی تو اس کے بعد حضرت خواجہ محمد یعقوب چرخی رحمۃ اللہ علیہ چغانیاں سے واپس "حصار" آگئے اور حضرت خواجۂ خواجگان نقشبند رحمۃ اللہ علیہ کے اس ارشاد کی تعمیل کرنا چاہی کہ"جو کچھ ہم سے تمہیں پہنچا ہے اُسے بندگان خدا تک پہنچادینا اور مناسبِ حال حاضرین کو بطریقِ خطاب اور غائبین کو بذریعہ خط و کتابت تبلیغ کرنا"۔
آپ کی وفات حسرتِ آیات ۱۵؍ صفر ۸۵۱ھ/ ۱۴۴۷ء کو ہوئی۔ مزار مبارک ہلفتو نزد حصار میں ہے۔ آج کل روسی حکومت نے ہلفتو کا نام گلستان رکھ دیا ہے۔
آپ کی وفات حسرتِ آیات ۱۵؍ صفر ۸۵۱ھ/ ۱۴۴۷ء کو ہوئی۔ مزار مبارک ہلفتو نزد حصار میں ہے۔ آج کل روسی حکومت نے ہلفتو کا نام گلستان رکھ دیا ہے۔
❤1
حضرت مولانا حسنین رضا خان بریلوی
یوم وصال 05 صفر المظفر 1401
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مولانا حسنین رضا خان ۔
والد کا اسمِ گرامی:
استاذِ زمن ، شہنشاہِ سخن مولانا حسن رضا خان رحمۃ اللہ علیہ۔
سلسلہ نسب اسطرح ہے:
مولانا حسنین رضان بن مولانا حسن رضا خان بن مولانا نقی علی خان بن مولانا رضا علی خان،بن حافظ کاظم علی خان۔(علیہم الرحمۃ والرضوان)
تاریخِ ولادت:
حضرت مولانا حسنین رضا خان 1310ھ / 2189ء کو بریلی شریف میں پیدا ہوئے۔
تحصیلِ علم:
حضرت مولانا حسنین رضا خاں علیہ الرحمہ حضور مفتی اعظم ہند شاہ محمد مصطفے رضا خان علیہ الرحمہ سے صرف چھ ماہ بڑے تھے اور علوم دینیہ کی تحصیل میں دونوں عم زاد ہم سبق رہے ہیں۔ رسم بسم اللہ خوانی کے بعد گھر ہی میں حصولِ تعلیم میں مصروف و مشغول ہوئے۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی علیہ الرحمہ نے اپنے فرزند اصغر مفتی اعظم کو پڑھانے کے ساتھ مولانا حضرت حسنین رضا علیہ الرحمہ کو بھی پڑھانا شروع کیا، اور جب دونوں کی عمریں بارہ برس ہو گئیں، تو اعلیٰ حضرت کثیر البرکت نے 1322ھ / 1904ء میں دارالعلوم منظر اسلام قائم فرمایا، تو اس دارالعلوم میں ان دونوں کے ساتھ ساتھ اعلیٰ حضرت کے تین تلامذہ مزید، ملک العلماء حضرت علامہ ظفر الدین بہاری اور مولانا عبد الرشید عظیم آبادی اور مولانا نواب مرزا، پانچوں تلامذہ سے دارالعلوم منظر اسلام کا آغاز ہوا۔
جامعہ رضویہ منظر اسلام کی طلباء کی استعداد و قابلیت علیٰ وجہ البصیرت نہایت ارفع و اعلیٰ ہواکرتی تھیں۔ خانوادۂ اعلیٰ حضرت کے دو طالب علم حضرت مفتیِ اعظم ہند جبکہ دوسرے شہزادے مولانا حسنین رضا خان۔ ان دونوں کے امتحان کے حوالے سے ممتحن کی رائے بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ "طلباء نے امتحان بہت عمدہ و اعلیٰ درجہ کا دیا، کل نظم و نسق مدرسہ اور طرز تعلیم و طریقۂ درس و تدریس نہایت فائق و شائستہ ہے۔ اور مدرسین طلباء ہر طرح پر قابل آفرین و تحسین ہیں۔
فارسی کتب درسیہ اور ہدایۃ النحو، کافیہ، شرح جامی، ایسا غوجی، شرح تہذیب، قطبی، ملا حسن، حمدللہ، شرح وقایہ، ہدایہ، نور الانوار، شفاء شریف وغیرہا کتب زیر درس میں جو مقام طلباء کے سامنے امتحاناً پیش کیے گئے۔ عبارتیں صحیح پڑھ کر مقاصد کتاب و مطالب عبارات کو بعض طلباء نے معاً بعض نے تاملاً معقول طور پر اچھی طرح بیان کیا خصوصاً میاں مولوی مصطفیٰ رضا خاں اور میاں مولوی حسنین رضا خاں نے جس عمدگی اور خوبی اورخوش اسلوبی کے ساتھ نہایت بلند مرتبہ کا شاید وباید محققانہ امتحان دیا۔ حق تو یہ ہے کہ وہ انہیں کا حصہ تھا۔ بارک اللہ فی علمھما وفہمھما۔ اتنی قلیل مدت میں اس مدرسہ کا ایسا نمایاں عالی مفاد اور طلباء کاکافی استعداد آپ ہی اپنا نظیر اور روشن دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ خیروبرکت اور روز افزوں ترقی عطا فرمائے۔آمین۔ (ممتحن: حضرت عید الاسلام علامہ عبد السلام جبلپوری رحمۃ اللہ علیہ)
حضرت علامہ حسنین رضا خاں صاحب نے معقولات کی چند کتب، مناظر اہلسنت حضرت علامہ ہدایت رسول صاحب رامپوری سے بھی رامپور جاکر پڑھیں۔ نیز قطب الارشاد حضرت علامہ مفتی ارشاد حسین رامپوری کے درس میں بھی شریک ہوکر مستفاد ہوئے۔ بیعت وخلافت: اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت کے مرید وخلیفہ تھے۔
سیرت و خصائص:
استاذ العلماء، سند الفقہاء، رئیس الصوفیاء، شہزادۂ برادرِ اعلیٰ حضرت ،حضرت علامہ مولانا حسنین رضا خان علیہ الرحمۃ والرضوان۔
جن کی مادرِ علمی منظرِ اسلام ہو،اور تربیت گاہ مجددِ اسلام کی آغوش ہو،اس کے علم وفضل کاکیا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔آپ بے شمار صلاحیتوں کے مالک تھے۔یہی وجہ ہے کہ اس وقت کی عالمِ اسلام کی عظیم دینی درسگاہ،منظرِ اسلام میں بحیثیت مدرس خدمت سر انجام دیتے رہے، بحیثیت مدرس تقرر کے لیے سفارش اعلیٰ حضرت قدس سرہ نےفرمائی تھی اور تقرر حجۃ الاسلام حضرت علامہ حامد رضا خاں نے فرمایا ۔
جامعہ رضویہ منظر اسلام میں تدریسی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کے ساتھ ساتھ بریلی شریف سے ایک ماہنامہ "الرضا"جاری کیا۔ یہ ماہوار جریدہ بہت معروف ہوا، اعلیٰ حضرت کی حیات میں اس کے متعدد شمارے شائع ہوئے۔ حسنی پریس کی نگرانی اور اعلیٰ حضرت کی تصنیفات کی اشاعت کی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے پورا کرتے تھے، نیز حالت حاضرہ کے تحت مختلف فتنوں (تحریک ترک موالات، تحریک ہجرت، متحدہ قومیت، ندوہ تحریک، مرزائیت و قادیانیت، فتنہ وہابیت) کی بیخ کنی کے لیے اور اسلامیان ہند کے ایمان و عقائد کو بچانے کے لیے پمفلٹ، رسائل اور کتابچے شائع کرکے مفت تقسیم کرتے تھے
حضرت مولانا حسنین رضا خاں بریلوی کے فرزند ارجمند حضرت مولانا سبطین رضا اپنے والد کے کارناموں کو اختصار و اجمال سے یوں بیان کرتے ہیں:"جماعت رضائے مصطفےٰ بریلی کی شاندار خدمات میں آپ کا نمایاں حصہ تھا حلقہ احباب بہت وسیع تھا۔ جس میں علماء و مشائخ کے علاوہ شہر و بیرون شہر کے بہت سے روسأ و وکلاء اور بیرسٹران نیز سیاسی لیڈر حکام اور اعلیٰ افسران، امیر و غریب
یوم وصال 05 صفر المظفر 1401
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مولانا حسنین رضا خان ۔
والد کا اسمِ گرامی:
استاذِ زمن ، شہنشاہِ سخن مولانا حسن رضا خان رحمۃ اللہ علیہ۔
سلسلہ نسب اسطرح ہے:
مولانا حسنین رضان بن مولانا حسن رضا خان بن مولانا نقی علی خان بن مولانا رضا علی خان،بن حافظ کاظم علی خان۔(علیہم الرحمۃ والرضوان)
تاریخِ ولادت:
حضرت مولانا حسنین رضا خان 1310ھ / 2189ء کو بریلی شریف میں پیدا ہوئے۔
تحصیلِ علم:
حضرت مولانا حسنین رضا خاں علیہ الرحمہ حضور مفتی اعظم ہند شاہ محمد مصطفے رضا خان علیہ الرحمہ سے صرف چھ ماہ بڑے تھے اور علوم دینیہ کی تحصیل میں دونوں عم زاد ہم سبق رہے ہیں۔ رسم بسم اللہ خوانی کے بعد گھر ہی میں حصولِ تعلیم میں مصروف و مشغول ہوئے۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی علیہ الرحمہ نے اپنے فرزند اصغر مفتی اعظم کو پڑھانے کے ساتھ مولانا حضرت حسنین رضا علیہ الرحمہ کو بھی پڑھانا شروع کیا، اور جب دونوں کی عمریں بارہ برس ہو گئیں، تو اعلیٰ حضرت کثیر البرکت نے 1322ھ / 1904ء میں دارالعلوم منظر اسلام قائم فرمایا، تو اس دارالعلوم میں ان دونوں کے ساتھ ساتھ اعلیٰ حضرت کے تین تلامذہ مزید، ملک العلماء حضرت علامہ ظفر الدین بہاری اور مولانا عبد الرشید عظیم آبادی اور مولانا نواب مرزا، پانچوں تلامذہ سے دارالعلوم منظر اسلام کا آغاز ہوا۔
جامعہ رضویہ منظر اسلام کی طلباء کی استعداد و قابلیت علیٰ وجہ البصیرت نہایت ارفع و اعلیٰ ہواکرتی تھیں۔ خانوادۂ اعلیٰ حضرت کے دو طالب علم حضرت مفتیِ اعظم ہند جبکہ دوسرے شہزادے مولانا حسنین رضا خان۔ ان دونوں کے امتحان کے حوالے سے ممتحن کی رائے بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ "طلباء نے امتحان بہت عمدہ و اعلیٰ درجہ کا دیا، کل نظم و نسق مدرسہ اور طرز تعلیم و طریقۂ درس و تدریس نہایت فائق و شائستہ ہے۔ اور مدرسین طلباء ہر طرح پر قابل آفرین و تحسین ہیں۔
فارسی کتب درسیہ اور ہدایۃ النحو، کافیہ، شرح جامی، ایسا غوجی، شرح تہذیب، قطبی، ملا حسن، حمدللہ، شرح وقایہ، ہدایہ، نور الانوار، شفاء شریف وغیرہا کتب زیر درس میں جو مقام طلباء کے سامنے امتحاناً پیش کیے گئے۔ عبارتیں صحیح پڑھ کر مقاصد کتاب و مطالب عبارات کو بعض طلباء نے معاً بعض نے تاملاً معقول طور پر اچھی طرح بیان کیا خصوصاً میاں مولوی مصطفیٰ رضا خاں اور میاں مولوی حسنین رضا خاں نے جس عمدگی اور خوبی اورخوش اسلوبی کے ساتھ نہایت بلند مرتبہ کا شاید وباید محققانہ امتحان دیا۔ حق تو یہ ہے کہ وہ انہیں کا حصہ تھا۔ بارک اللہ فی علمھما وفہمھما۔ اتنی قلیل مدت میں اس مدرسہ کا ایسا نمایاں عالی مفاد اور طلباء کاکافی استعداد آپ ہی اپنا نظیر اور روشن دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ خیروبرکت اور روز افزوں ترقی عطا فرمائے۔آمین۔ (ممتحن: حضرت عید الاسلام علامہ عبد السلام جبلپوری رحمۃ اللہ علیہ)
حضرت علامہ حسنین رضا خاں صاحب نے معقولات کی چند کتب، مناظر اہلسنت حضرت علامہ ہدایت رسول صاحب رامپوری سے بھی رامپور جاکر پڑھیں۔ نیز قطب الارشاد حضرت علامہ مفتی ارشاد حسین رامپوری کے درس میں بھی شریک ہوکر مستفاد ہوئے۔ بیعت وخلافت: اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت کے مرید وخلیفہ تھے۔
سیرت و خصائص:
استاذ العلماء، سند الفقہاء، رئیس الصوفیاء، شہزادۂ برادرِ اعلیٰ حضرت ،حضرت علامہ مولانا حسنین رضا خان علیہ الرحمۃ والرضوان۔
جن کی مادرِ علمی منظرِ اسلام ہو،اور تربیت گاہ مجددِ اسلام کی آغوش ہو،اس کے علم وفضل کاکیا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔آپ بے شمار صلاحیتوں کے مالک تھے۔یہی وجہ ہے کہ اس وقت کی عالمِ اسلام کی عظیم دینی درسگاہ،منظرِ اسلام میں بحیثیت مدرس خدمت سر انجام دیتے رہے، بحیثیت مدرس تقرر کے لیے سفارش اعلیٰ حضرت قدس سرہ نےفرمائی تھی اور تقرر حجۃ الاسلام حضرت علامہ حامد رضا خاں نے فرمایا ۔
جامعہ رضویہ منظر اسلام میں تدریسی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کے ساتھ ساتھ بریلی شریف سے ایک ماہنامہ "الرضا"جاری کیا۔ یہ ماہوار جریدہ بہت معروف ہوا، اعلیٰ حضرت کی حیات میں اس کے متعدد شمارے شائع ہوئے۔ حسنی پریس کی نگرانی اور اعلیٰ حضرت کی تصنیفات کی اشاعت کی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے پورا کرتے تھے، نیز حالت حاضرہ کے تحت مختلف فتنوں (تحریک ترک موالات، تحریک ہجرت، متحدہ قومیت، ندوہ تحریک، مرزائیت و قادیانیت، فتنہ وہابیت) کی بیخ کنی کے لیے اور اسلامیان ہند کے ایمان و عقائد کو بچانے کے لیے پمفلٹ، رسائل اور کتابچے شائع کرکے مفت تقسیم کرتے تھے
حضرت مولانا حسنین رضا خاں بریلوی کے فرزند ارجمند حضرت مولانا سبطین رضا اپنے والد کے کارناموں کو اختصار و اجمال سے یوں بیان کرتے ہیں:"جماعت رضائے مصطفےٰ بریلی کی شاندار خدمات میں آپ کا نمایاں حصہ تھا حلقہ احباب بہت وسیع تھا۔ جس میں علماء و مشائخ کے علاوہ شہر و بیرون شہر کے بہت سے روسأ و وکلاء اور بیرسٹران نیز سیاسی لیڈر حکام اور اعلیٰ افسران، امیر و غریب
❤2
غرض یہ کہ ہر طبقے کے لوگ شامل تھے جو آپ کے علم و فضل کے دل سے معترف تھے اور آپ کا ادب و احترام پوری طرح ملحوظ رکھتے تھے، ان کی نشست گاہ پر صبح سے لے کر شام تک مقامی و بیرونی لوگوں کی آمدو رفت کا تانتا بندھا رہتا تھا"۔
آپ کی مجالس :
آپ سے ملنے والوں میں ذاتی احباب کے علاوہ ضرورت مند بھی کثیر تعداد میں ہوتے تھے۔ ہمہ وقت مجلس گرم رہتی مختلف موضوعات پرگفتگو ہوتی ۔مہذب و شائستہ گفتگو فرماتے انداز گفتگو پیارا اور دلپذیر ہوتا اور بات اتنی ٹھوس فرماتے کہ مخاطب کے دل میں اتر جاتی اور وہ مطمئن ہوجاتا، طبیعت اتنی مرنجان مرنج اور شگفتہ پائی تھی کہ کیسا ہی مغموم و متفکر انسان آپ کے پاس آتا لیکن تھوڑی ہی دیر میں سارا رنج و غم بھول جاتا۔ ہر ماحول میں اپنے لیے گنجائش پیدا کرلینا اور بر وقت و برجستہ دماغ سے ایسی بات نکالنا کہ جو پورے ماحول پر اثر انداز ہو اس میں کمال حاصل تھا۔ غرض یہ کہ برمحل گفتگو حاضر دماغی اور ذہانت بلا کی پائی تھی۔
سماجی خدمات:
مسلمانوں اور بالخصوص غریب مسلمانوں سے آپ کو ہمیشہ قلبی تعلق اور گہرا لگاؤ رہا۔ جہاں امرأ و روسأ آپ کی محفل میں ہوتے وہاں بہت سے ضرورت مند غریب بھی بیٹھے نظر آتے، کسی کو نوکری کی تلاش ہے، کسی کو امداد چاہیے، کوئی اپنے مقدمہ میں آپ کی سفارش کا طلبگار ہے، کسی کو اسکول یا کالج میں بچے کی فیس معاف کرانا ہے، غرض یہ کہ ہر قسم کی ضرورتیں لے کر لوگ آپ کی خدمت میں آتے رہتے اور کوئی ضرورت مند کسی وقت بھی آجاتا، آپ اپنے تمام ضروری کاموں کو پس پشت ڈال دیتے، پہلے اس کی سرگذشت سنتے اور اس کا کام کرنے کو تیار ہوجاتے۔
شہر اور اس کے نواح میں تمام سرکاری و نیم سرکاری، محکموں کچہریوں، اسکولوں، کالجوں میں آپ کے جاننے والے آپ سے عقیدت و محبت رکھنے والے بے شمار لوگ موجود تھے، لہٰذا کسی کے نام سفارشی خط لکھ دیا، ضرورت محسوس کرتے، تو بہ نفس نفیس تشریف لے جاتے۔ ضرورت مند نے اگر سواری کا انتظام کرلیا ہے، تو فبہا! ورنہ اپنی جیب خاص سے کرایہ کی ادائیگی کرکے خود ہی سواری کا انتظام کرکے حاجتمند کو ساتھ لے گئے۔کبھی ایسا بھی ہو تاکہ ضعیف العمری کے باوجود پیدل تشریف لے جاتے۔
حاجتمندوں کے کام آنا، زندگی کا بہترین مشغلہ تھا، جو اس وقت تک جاری رہا، جب تک قویٰ میں توانائی باقی رہی۔ بلا مبالغہ سینکڑوں افراد کو ملازمتیں دلوادیں۔ناحق گرفتار ملزمان کو رہا کروادیا۔ جبکہ بعض کی سزائیں معاف کروادیں یا بعض کی سزائیں کم کروادیں۔ مسلمانوں کے آپس میں رنجشیں یا تنازعات و اختلافات میں صلح کرانے کے عملِ حَسن میں صبح تا نصف شب مشغول رہتے۔ مخلوق خدا کی بے لوث خدمت میں گھر کا قیمتی سامان بھی ایثار کرنے سے گریزاں نہیں ہوتے تھے۔
کوئی عاریتاً بھی سامان لیتا اور بعد استعمال واپس نہیں کرتا، تو آپ کبھی تقاضا نہیں کرتے تھے اور نہ ہی اشارتاًیا کنایتاً بھی توجہ نہیں دلواتے تھے۔ اس ضمن میں بقول مولانا سبطین رضا خاں!کہ میری والدہ (اپنی اہلیہ) کا زیور، ایک صاحب کے عرض کرنے پر اُن کی اہلیہ کے استعمال کے لیے مستعار دیدیا، انھوں نے تاحیات واپس نہیں کیا، جبکہ آپ نے کبھی اُن سے تقاضا نہیں کیا۔ اس سے بہتر آج کی دنیا میں ایثار و قربانی کی مثال اور کیا ہوسکتی ہے ۔
احباب میں سےکبھی کسی کی معمولی سی دلشکنی گوارا نہ فرمائی۔جماعت رضائے مصطفےٰ کے پلیٹ فارم سے حضور مفتی اعظم کے شانہ سے شانہ ملاکر اور مفتی سیّد نعیم الدین مرادآبادی کے قدم سے قدم ملاکر شدھی تحریک کے انسداد میں سر دھڑ کی بازی لگادی۔ ہزاروں مسلمانوں کے ایمان کو بچایا۔ اور ان کی مدد کے لیے "جماعت انصار الاسلام" قائم فرمائی۔
وصال :
اکیانوے برس کی عمر شریف میں، 5/صفر 1401ھ/ 14دسمبر 1980ء کو بروز اتوار وصال پر ملال فرمایا۔ دوران غسل بآواز بلند، زبان سے اسم جلالت "اللہ" ادا فرمایا۔
ماخذ و مراجع:
معراجِ جسمانی ۔ مطبوعہ انجمن ضیاء طیبہ
Read more at: https://scholars.pk/ur/scholar/khalifa-e-ala-hazrat-allama-hasnain-raza-khan-barelvi
Copyright © Zia-e-Taiba
آپ کی مجالس :
آپ سے ملنے والوں میں ذاتی احباب کے علاوہ ضرورت مند بھی کثیر تعداد میں ہوتے تھے۔ ہمہ وقت مجلس گرم رہتی مختلف موضوعات پرگفتگو ہوتی ۔مہذب و شائستہ گفتگو فرماتے انداز گفتگو پیارا اور دلپذیر ہوتا اور بات اتنی ٹھوس فرماتے کہ مخاطب کے دل میں اتر جاتی اور وہ مطمئن ہوجاتا، طبیعت اتنی مرنجان مرنج اور شگفتہ پائی تھی کہ کیسا ہی مغموم و متفکر انسان آپ کے پاس آتا لیکن تھوڑی ہی دیر میں سارا رنج و غم بھول جاتا۔ ہر ماحول میں اپنے لیے گنجائش پیدا کرلینا اور بر وقت و برجستہ دماغ سے ایسی بات نکالنا کہ جو پورے ماحول پر اثر انداز ہو اس میں کمال حاصل تھا۔ غرض یہ کہ برمحل گفتگو حاضر دماغی اور ذہانت بلا کی پائی تھی۔
سماجی خدمات:
مسلمانوں اور بالخصوص غریب مسلمانوں سے آپ کو ہمیشہ قلبی تعلق اور گہرا لگاؤ رہا۔ جہاں امرأ و روسأ آپ کی محفل میں ہوتے وہاں بہت سے ضرورت مند غریب بھی بیٹھے نظر آتے، کسی کو نوکری کی تلاش ہے، کسی کو امداد چاہیے، کوئی اپنے مقدمہ میں آپ کی سفارش کا طلبگار ہے، کسی کو اسکول یا کالج میں بچے کی فیس معاف کرانا ہے، غرض یہ کہ ہر قسم کی ضرورتیں لے کر لوگ آپ کی خدمت میں آتے رہتے اور کوئی ضرورت مند کسی وقت بھی آجاتا، آپ اپنے تمام ضروری کاموں کو پس پشت ڈال دیتے، پہلے اس کی سرگذشت سنتے اور اس کا کام کرنے کو تیار ہوجاتے۔
شہر اور اس کے نواح میں تمام سرکاری و نیم سرکاری، محکموں کچہریوں، اسکولوں، کالجوں میں آپ کے جاننے والے آپ سے عقیدت و محبت رکھنے والے بے شمار لوگ موجود تھے، لہٰذا کسی کے نام سفارشی خط لکھ دیا، ضرورت محسوس کرتے، تو بہ نفس نفیس تشریف لے جاتے۔ ضرورت مند نے اگر سواری کا انتظام کرلیا ہے، تو فبہا! ورنہ اپنی جیب خاص سے کرایہ کی ادائیگی کرکے خود ہی سواری کا انتظام کرکے حاجتمند کو ساتھ لے گئے۔کبھی ایسا بھی ہو تاکہ ضعیف العمری کے باوجود پیدل تشریف لے جاتے۔
حاجتمندوں کے کام آنا، زندگی کا بہترین مشغلہ تھا، جو اس وقت تک جاری رہا، جب تک قویٰ میں توانائی باقی رہی۔ بلا مبالغہ سینکڑوں افراد کو ملازمتیں دلوادیں۔ناحق گرفتار ملزمان کو رہا کروادیا۔ جبکہ بعض کی سزائیں معاف کروادیں یا بعض کی سزائیں کم کروادیں۔ مسلمانوں کے آپس میں رنجشیں یا تنازعات و اختلافات میں صلح کرانے کے عملِ حَسن میں صبح تا نصف شب مشغول رہتے۔ مخلوق خدا کی بے لوث خدمت میں گھر کا قیمتی سامان بھی ایثار کرنے سے گریزاں نہیں ہوتے تھے۔
کوئی عاریتاً بھی سامان لیتا اور بعد استعمال واپس نہیں کرتا، تو آپ کبھی تقاضا نہیں کرتے تھے اور نہ ہی اشارتاًیا کنایتاً بھی توجہ نہیں دلواتے تھے۔ اس ضمن میں بقول مولانا سبطین رضا خاں!کہ میری والدہ (اپنی اہلیہ) کا زیور، ایک صاحب کے عرض کرنے پر اُن کی اہلیہ کے استعمال کے لیے مستعار دیدیا، انھوں نے تاحیات واپس نہیں کیا، جبکہ آپ نے کبھی اُن سے تقاضا نہیں کیا۔ اس سے بہتر آج کی دنیا میں ایثار و قربانی کی مثال اور کیا ہوسکتی ہے ۔
احباب میں سےکبھی کسی کی معمولی سی دلشکنی گوارا نہ فرمائی۔جماعت رضائے مصطفےٰ کے پلیٹ فارم سے حضور مفتی اعظم کے شانہ سے شانہ ملاکر اور مفتی سیّد نعیم الدین مرادآبادی کے قدم سے قدم ملاکر شدھی تحریک کے انسداد میں سر دھڑ کی بازی لگادی۔ ہزاروں مسلمانوں کے ایمان کو بچایا۔ اور ان کی مدد کے لیے "جماعت انصار الاسلام" قائم فرمائی۔
وصال :
اکیانوے برس کی عمر شریف میں، 5/صفر 1401ھ/ 14دسمبر 1980ء کو بروز اتوار وصال پر ملال فرمایا۔ دوران غسل بآواز بلند، زبان سے اسم جلالت "اللہ" ادا فرمایا۔
ماخذ و مراجع:
معراجِ جسمانی ۔ مطبوعہ انجمن ضیاء طیبہ
Read more at: https://scholars.pk/ur/scholar/khalifa-e-ala-hazrat-allama-hasnain-raza-khan-barelvi
Copyright © Zia-e-Taiba
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
حضرت مولانا حسنین رضا خان بریلوی یوم وصال 05 صفر المظفر 1401 نام و نسب: اسمِ گرامی: مولانا حسنین رضا خان ۔ والد کا اسمِ گرامی: استاذِ زمن ، شہنشاہِ سخن مولانا حسن رضا خان رحمۃ اللہ علیہ۔ سلسلہ نسب اسطرح ہے: مولانا حسنین رضان بن مولانا حسن رضا خان بن…
#یوم_ولادت_ماہ_جمادی_الاخری
#یوم_وصال_ماہ_صفر_المظفر 🌹
https://t.me/islaamic_Knowledge/37700
https://t.me/islaamic_Knowledge/57053
#یوم_وصال_ماہ_صفر_المظفر 🌹
https://t.me/islaamic_Knowledge/37700
https://t.me/islaamic_Knowledge/57053
❤1