🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
04-02-1445 ᴴ | 22-08-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
04-02-1445 ᴴ | 22-08-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت مولانا عبدالرشید جون پوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

مولانا عبدالرشید جون پوری ، ابن شیخ مصطفیٰ ابن عبدالحمید، ان کا لقب شمس الحق تھا شمسی ، تخلص کرتے تھے۔ شیخ فضل اللہ جون پوری کے شاگرد اور اپنے والد شیخ مصطفےٰ (مرید شیخ محمد مرید(۱)نظام الدین امیٹھوی قدس اللہ اسرار ہم) کے مرید تھے جو اولیا ء کبار اور علمائے کرام سےتھے، شروع میں درس وتدریس میں مشغول رہے پھر اس کو چھوڑ کر کتب حقائق کے مطالعہ میں مصروف ہوگئے، امراءواغنیاء کی صحبت سے پرہیز کرتے تھے۔ شاہ جہاں بادشاہ ان کے اوصاف سن کر ان کی ملاقات کا مشتاق ہوا، وکیل کی معرفت ایک فرمان بلانے کے لیے بھیجا گیا مولانا نے قبول نہ کیا اور گوشہ عزلت سے اپنا پاؤں باہر نہ نکالا۔ مفید تصانیف رکھتے تھے ان میں سے رشیدیہ (مناظرہ)، زادالسالکین، شرح اسرارالخلوۃ رسالہ محکوم مربوط وحاشیہ شرح مختصر عضدی و حاشیہ فارسی بر کافیہ ابن حاجب ومقصود الطالبین دراوراد اور دیوان شعر فارسی مشہور ہیں ان کے انتقال کا واقعہ اس طرح شہرت پذیر ہے کہ جب فجر کی سنّتیں ادا کرکے فرض شروع کیے تو تحریمہ کہنے کے وقت ان کا طائر روح جنت اعلیٰ کو پرواز کر گیا، یہ واقعہ ۱۰۸۳ھ/ ۷۳-۱۶۷۲ کا ہے۔

------------------------

شیخ[1]عبد الرشید: ۱۰۸۳ھ میں پیدا ہوئے،شمس الحق لقب تھا،عالمِ متجر، فاضل ماہر،حاوی فروع واصول تھے،علوم شیخ فضل اللہ سے حاصل کر کے تدریس میں مشغول ہوئے۔آپ کا اختلاط امراء واغنیاء سے بڑی نفرت تھی یہاں تک کہ شاہجہان نے قاصد بھیج کر آپ کو طلب کیا مگر آپ نے جانے سے انکار کردیا اور اپنے گوشہ عزلت سے بالکل باہر نہ نکلے یہاں تک کہ تحریمہ نماز فجر میں وفات پائی۔ آپ نے تصانیف عمدہ کیں جن میں سے رشید یہ مناظرہ میں اور زادا السالکین اور شرھ اسرار الخلوۃ مصنفیہ ابن عربی اور حواشی مختصر عضدی اور کافیہ اور کتاب مقصود الطالبین اور ادمیں اور دیوان اشعار فارسی مشہور و معروف ہیں۔



1۔ شیخ عبدالرشید بن شیخ مصطفیٰ بن عبد الحمید: لقب شمس الحق،شمسی تخلص متوفی ۱۰۸۳؁ھ، گیارہویں صدی کے فاضل ہیں،شاہجہان کے دورِ حکومت (۱۰۳۶۔۱۰۶۷)میں آپ کا بڑا شہرہ تھا (تذکرہ علمائے ہند)،نزہۃ الخوطر(ج۶،ص،۱۵) میں بارہویں صدی کے ایک بزرگ مولانا عبد الرشید جونپوری کا ذکر آیا ہے جو ملا نظام الدین سہالوی کے شاگرد تھے،انہوں نے ’’العروۃ الوثقٰی‘‘ کا حاشیہ لکھا۔(مرتب)

(حدائق الحنفیہ)

----------------------------

آپ کا پہلا نام نام محمد رشید تھا اپنے مراسلات اور مکتوبات میں یہی نام لکھا کرتے تھے لقب شمس الدین فیاض اور دیوان تھا اپنے والد شیخ مصطفیٰ عبدالحمید خان کے مرید تھے آپ کے والد شیخ محمد بن شیخ نظام الدین انبھیٹوی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید تھے جو شیخ حضروت جونپوری رحمۃ اللہ علیہ کے مرید تھے وہ شیخ اللہ داد شارح کافیہ کے مرید تھے اور وہ راجی حامد شاہ اور شیخ حسام الدین قدس سرہم کے مرید تھے آپ کو شیخ طبیب سے خلافت ملی تھی اسی طرح آپ کو دوسرے لوگوں سے بھی فیض ملا تھا آپ وقت کے کاملیں اور بلند مرتبت مشائخ میں سے تھے ابتدائی زندگی میں درس و تدریس میں مصروف رہے مگر آخری عمر میں تمام کو ترک کرکے بڑی بڑی بلند پایہ کتابوں کے مطالعہ میں مشغول رہا کرتے تھے عربی کتابیں خاص طور پر پڑھتے تھے حضرت شیخ محی الدین کی کتاب اسرار المخلوفات پر زبردست شرح لکھی ذکر با الجہر کرکے سماع کی مجالس میں غلو کی حد تک شرکت کرتے تھے علم مناظرہ کی مشہور کتاب رشیدیہ، زادالسالکین، مقصود الطالبین اور ایک دیوان آپ کی یادگاریں ہیں اشعار میں شمسی تخلص تھا شیخ عبد الرشید قدس سرہ ۱۰۵۵ ہجری میں فوت ہوئے۔

چوں رشید آں مرشد اہلِ رشاد
باہزاراں رشد درحقیقت رسید

افضل الاقطاب گو تاریخ او
نیز قطب الاولیا عارف رشید

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-ghulam-rasheed-jonpuri
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت خواجہ یعقوب بن عثمان چرخی قدس سرہ
نام ونسب : اسمِ گرامی: خواجہ یعقوب۔علاقہ "چرخ"کی نسبت سے چرخی کہلاتے ہیں۔سلسلہ نسب اسطرح ہے: خواجہ یعقوب بن عثمان بن محمود بن محمد بن محمود الغزنوی۔ آپ نے اپنی تفسیر میں چند جگہوں پر اپنے والد بزرگوار رحمۃ اللہ علیہ کا ذکر کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اربابِ علم و مطالعہ میں سے تھے اور پارسا اور صوفی تھے۔ اُن کی ریاضت کا یہ حال تھا کہ ایک روز پڑوسی کے گھر سے پانی لائے، چونکہ پانی یتیم کے پیالہ میں تھا، اس لیے نہ پیاتھا۔ (علیہم الرحمۃ والرضوان)

تاریخ ِ ولادت: آپ علیہ الرحمہ 762ھ،مطابق 1360ءکوموضع"چرخ"(غزنی،افغانستان )میں پیداہوئے۔

تحصیلِ علم: آپ نے جامع ہرات(افغانستان) اور دیارِ مصر میں تعلیم حاصل کی۔ حضرت شیخ زین الدین خوانی آپ کے ہم درس تھے۔ اور آپ نے حضرت مولانا شہاب الدین سیرامی رحمۃ اللہ علیہ (جو اپنے زمانے کے مشہور عالم تھے)سے تلمذ کیا اور فتویٰ کی اجازت علمائے بخارا سے پائی۔

بیعت وخلافت: آپ علیہ الرحمہ خواجہ ٔ بزرگوار خواجۂ خواجگان حضرت سید بہاءالدین نقشبندرحمۃ اللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے،اور سلوک کی منازل حضرت خواجہ علاؤالدین عطار رحمۃ اللہ علیہ کی صحبت میں طے فرمائیں۔اس لئے آپ خلیفہ حضرت خواجہ علاؤالدین عطار علیہ الرحمہ کے ہیں۔

سیرت وخصائص: امام الاولیاء ،قدوۃ الصوفیاء،عالمِ ربانی،عارفِ حقانی حضرت خواجہ یعقوب بن عثمان چرخی رحمۃ اللہ علیہ۔آپ علیہ الرحمہ کاشمار سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کے اکابر مشائخٰ میں ہوتا ہے۔آپ اپنے وقت کے جید عالمِ دین تھے۔ آپ نے شریعت وطریقت پر مفید کتب تصنیف فرمائی ہیں۔حضرت خواجہ بہاء الدین نقشبند رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہونے سے پہلے آپ کو اُن سے بڑی عقیدت اور محبت تھی، جب آپ اجازتِ فتویٰ حاصل کرکے بخارا سے واپس چرخ جانے لگے تو ایک دن حضرت خواجہ نقشبند رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور نہایت عاجزی و انکساری سے عرض کیا: "میری طرف توجہ فرمائیں"۔ خواجۂ نقشبند نے فرمایا: ہم مامور ہیں ہم خود کسی کو قبول نہیں کرتے۔ آج رات دیکھیں گے کہ کیا اشارہ ہوتا ہے، اُسی پر ہی عمل کیا جائے گا اور اگر انہوں نے تجھے قبول کیا تو ہم بھی قبول کرلیں گے۔یہ رات آپ پر بڑی بھاری تھی، آپ کو یہ غم کھائے جا رہا تھا کہ شاید حضرت خواجہ رحمۃ اللہ علیہ مجھے قبول نہ کریں۔ اگلے روز آپ نے فجر کی نماز حضرت خواجہ نقشبند رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ ادا کی، نماز کے بعد حضرت خواجہ قدس سرہ نے آپ کو مخاطب کرکے فرمایا:"مبارک ہو کہ اشارہ قبول کرنے کا آیا ہے۔ ہم کسی کو قبول نہیں کرتے اور اگر قبول کریں تو دیر سے کرتے ہیں تاکہ دیکھیں کہ کوئی کس نیت سے آتا ہے اور کس وقت آتا ہے"۔حضرت خواجہ نے مریدی کا شرف بخشا۔

حضرت خواجہ نقشبند رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا کہ حدیث شریف میں ہے:العلم علمان، علم القلب فذلک علم نافع علم الانبیاء والمرسلین والعلم اللسان فذلک حجۃ اللہ علیٰ ابن آدم۔"علم دو ہیں، ایک قلب کا علم جو نفع بکش ہے اور یہ نبیوں اور رسولوں کا علم ہے۔ دوسرا زبان کا علم اور یہ بنی آدم پر حجت ہے"۔اُمید ہے کہ علم باطن سے تمہیں کچھ نصیب ہوگا۔اور فرمایا کہ حدیث شریف میں آیا ہے:اذا جالستم اھل الصدق فاجلسوھم بالصدق فانھم جواسیس القلوب یدخلون فی قلوبکم وینظرون الیٰ ھممکن۔"جب تم اہلِ صدق کی صحبت میں بیٹھو تو اُن کے پاس صدق سے بیٹھو، کیونکہ وہ دلوں کے بھید جانتے ہیں، وہ تمہارے دلوں میں داخل ہوجاتے ہیں اور تمہارے ارادوں اور نیتوں کو دیکھ لیتے ہیں"۔اس کے بعد حضرت خواجہ نقشبند رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے مشائخ کا سلسلۂ طریقت حضرت خواجہ عبدالخالق غجدوانی قدس سرہ العزیز تک بیان فرمایا اور پھر آپ کو وقوفِ عددی میں مشغول کیا او رفرمایا:"یہ علم لدنی کا پہلا سبق ہے جو حضرت خواجہ خضر علیہ السلام نے حضرت خواجہ بزرگ عبدالخالق غجدوانی رحمۃ اللہ علیہ کو پڑھایا تھا"۔شرفِ بیعت حاصل کرنے کے بعد آپ ایک عرصہ تک حضرت خواجہ نقشبند رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں رہے اور اس دوران حضرت خواجہ علاء الدین عطار رحمۃ اللہ علیہ سے تکمیل تعلیم و تربیت کرتے رہے، پھر حضرت خواجہ نقشبند رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کو بخارا سے جانے کی اجازت مرحمت فرمائی اور بوقتِ رخصت فرمایا:"ہم سے جو کچھ تمہیں ملا ہے اُس کو بندگانِ خدا تک پہنچاؤ تاکہ سعادت کا موجب بنے"۔پھر تین بار فرمایا:" ترا بخدا سپرد یم (ہم نے تجھے خدا کے سپرد کیا) اور ساتھ ہی اشارۃ حضرت خواجہ علاء الدین عطار رحمۃ اللہ علیہ کی پیروی کرنے کا حکم فرمایا۔

کچھ عرصہ موضع "کش" میں قیام کرنے کے بعد آپ بدخشاں چلے گئے۔ یہاں پہنچنے پر آپ کو" چغانیاں" سے حضرت خواجہ علاء الدین عطار قدس سرہ کا مکتوبِ گرامی ملا۔ جس میں انہوں نے آپ کو اپنی متابعت کا اشارہ کیا۔ آپ چغانیاں کو روانہ ہوگئے اور حضرت خواجہ عطار کی صحبت کا شرف حاصل کیا۔ آپ چند برس تک اُن کی صحبت میں رہے، حضرت خواجہ علاء الدین
1