حضرت سیدنا امام محمد باقر رضی الله عنه
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سیدامام محمد ۔ (آپ کا نام جد امجد سید الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے نامِ نامی اسمِ گرامی پر رکھا گیا) ـ کنیت: ابو جعفر ۔لقب: باقر، شاکر، ہادی ۔
سلسلہ نسب اس طرح ہے:
حضرت امام محمد باقر بن علی زین العابدین بن سیدنا امام حسین بن علی المرتضی ۔
آپ کی والدہ ماجدہ کا اسم گرامی سیدہ فاطمہ بنت سیدنا امام حسن تھا۔
یہ آپ کی خصوصیات میں سے ہیں کہ آپ کا سلسلۂ نسب دونوں طرف سے سید الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تک پہنچتا ہے۔(رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین)
باقر کی وجہ تسمیہ:
باقر، بقرہ سے مشتق ہے اور اسی کا اسم فاعل بھی ہے ۔اس کے معنی شق کرنے اور وسعت دینے کے ہیں (المنجد) ۔ حضرت امام محمد باقر کو اس لقب سے اس لیے ملقب کیا گیا تھا کہ آپ نے علوم و معارف کو نمایاں فرمایا اور حقائق احکام و حکمت و لطائف کے وہ سر بستہ خزانے ظاہر فرما دئیے جو لوگوں پر ظاہر و ہویدا نہ تھے ۔ (صواعق محرقہ، شواہد النبوت)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت بروز جمعہ 3 / صفرالمظفر 57ھ، بمطابق 15 / دسمبر 676ء کو اپنے دادا سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت سے تین سال پہلے مدینہ منورہ میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
اپنے والدِ گرامی اور فقہاء مدینۃ المنورہ سے علم حاصل کیا۔ طبقات الحفاظ میں ہے کہ انہوں نے اپنے والد ماجد، اور جد امجد حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ اور عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور ایک طائفہ صحابہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، اور اِن سے اِن کے صاحبزادے حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ و عطاء رضی اللہ عنہ و ابن جریج رضی اللہ عنہ و امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ و اوزاعی رضی اللہ عنہ و زُہری رضی اللہ عنہ وغیرہ نے حدیث کو لیا ہے، اور ابن شہاب زہری رضی اللہ عنہ جنہوں نے سب سے پہلے حدیث کی تدوین کی ہے اِن کو حدیث میں ثقہ لکھا ہے، اور امام نسائی رضی اللہ عنہ نے اہلِ مدینہ کے فقہائے تابعین میں اِن کا ذکر کیا ہے۔ علم احادیث، علم سنن اور تفسیر قرآن وعلم السیرت و دیگر علوم وفنون کے ذخیرے جس قدرامام محمد باقر رضی اللہ عنہ سے ظاہر ہوئے اتنے حسنین کریمین کی اولاد میں سے کسی سے ظاہرنہیں ہوئے ۔
بیعت و خلافت:
آپ اپنے والدِ گرامی کےجانشین ہوئے،اور آئمہ اہل بیت میں سے پانچویں امام ہیں۔
سیرت و خصائص:
کاشفِ اسرار، مطلعِ انوار، آثارِ سید المرسلین ﷺ وارثِ حسن وحسین حضرت سیدنا امام محمد باقر رضی اللہ عنہ۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے اوراس کی شہرت عامہ ہے کہ آپ علم وزہد اورشرف وفضیلت میں بے مثال شخصیت کے مالک تھے۔ آپ علم القرآن، علم الآثار،علم السنن اورہرقسم کے علوم ، حکم،آداب وغیرہ کے جامع تھے۔بڑے بڑے تابعین،اورعظیم القدرفقہاء آپ کے سامنے زانوئے ادب تہ کرتے رہے۔
عطاء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
کہ میں نے علمائے کرام کو ازروئے علم کے کسی کے پاس اس قدر اپنے آپ کو چھوٹا سمجھتے ہوئے نہیں دیکھا جیسا کہ اِن کے رو برو دیکھا۔ علامہ ابن حجرمکی لکھتے ہیں: کہ حضرت امام محمد باقررضی اللہ عنہ کے علمی فیوض وبرکات اورکمالات واحسانات سے اس شخص کے علاوہ جس کی بصیرت زائل ہوگئی ہو، جس کا دماغ خراب ہو گیا ہواورجس کی طینت وطبیعت فاسد ہوگئی ہو،کوئی شخص انکارنہیں کرسکتا،اسی وجہ سے آپ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ آپ "باقرالعلوم" علم کے پھیلانے والے اورجامع العلوم ہیں۔آپ کا دل صاف، علم وعمل روشن و تابندہ ، اورخلقت شریف تھی۔ آپ کے کل اوقات اطاعت خداوندی میں بسر ہوتے تھے۔عارفوں کے قلوب میں آپ کے آثار راسخ اورگہرے نشانات نمایاں ہو گئے تھے، جن کے بیان کرنے سے وصف کرنے والوں کی زبانیں گونگی اورعاجز و ماندہ ہیں ۔ آپ کے ہدایات وکلمات اس کثرت سے ہیں کہ ان کا احصاء اس کتاب میں ناممکن ہے (صواعق محرقہ ص ۱۲۰) ۔
علامہ ابن خلکان لکھتے ہیں:
کہ امام محمد باقرعلامہ زمان اور سردار کبیرالشان تھے آپ علوم میں بڑے تبحراور وسیع الاطلاق تھے (وفیات الاعیان)۔
علامہ ذہبی لکھتے ہیں :
کہ آپ بنی ہاشم کے سرداراورمتبحر علمی کی وجہ سے باقرمشہورتھے ۔ آپ علم کی تہ تک پہنچ گئے تھے، اورآپ نے اس کے وقائق کو اچھی طرح سمجھ لیا تھا (تذکرةالحفاظ جلد ۱ ص ۱۱۱) ۔
آپ اپنےآباؤاجدادکی طرح بے پناہ عبادت کرتے تھے ۔ساری رات نمازپڑھنا، اورسارا دن روزہ سے گزارناآپ کی عادت تھی ۔آپ کی زندگی زاہدانہ تھی۔آپ بڑے عابد، زاہد، خاشعِ، خاضع، پاک طینت اور بزرگ نفس تھے، تمام اوقات کو عبادت و طاعتِ الٰہی سے معمور رکھتے، آدھی رات کو رویا کرتے، اور بارگاہِ الٰہی میں نہایت عاجزی سے مناجات کیا کرتے تھے۔ ہدایاجوآتے تھے اسے فقراء ومساکین پرتقسیم کردیتے تھے غریبوں پربے حدشفقت فرماتے تھے تواضع اور فروتنی ، صبرو شکر غلام نوازی صلہ رحمی وغیرہ میں اپنی نظیرآپ تھے۔آپ فقیروں کی بڑی عزت کرتے تھے اورانہیں اچھے نام سے یادکرتے تھے (کشف الغمہ )۔
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سیدامام محمد ۔ (آپ کا نام جد امجد سید الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے نامِ نامی اسمِ گرامی پر رکھا گیا) ـ کنیت: ابو جعفر ۔لقب: باقر، شاکر، ہادی ۔
سلسلہ نسب اس طرح ہے:
حضرت امام محمد باقر بن علی زین العابدین بن سیدنا امام حسین بن علی المرتضی ۔
آپ کی والدہ ماجدہ کا اسم گرامی سیدہ فاطمہ بنت سیدنا امام حسن تھا۔
یہ آپ کی خصوصیات میں سے ہیں کہ آپ کا سلسلۂ نسب دونوں طرف سے سید الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تک پہنچتا ہے۔(رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین)
باقر کی وجہ تسمیہ:
باقر، بقرہ سے مشتق ہے اور اسی کا اسم فاعل بھی ہے ۔اس کے معنی شق کرنے اور وسعت دینے کے ہیں (المنجد) ۔ حضرت امام محمد باقر کو اس لقب سے اس لیے ملقب کیا گیا تھا کہ آپ نے علوم و معارف کو نمایاں فرمایا اور حقائق احکام و حکمت و لطائف کے وہ سر بستہ خزانے ظاہر فرما دئیے جو لوگوں پر ظاہر و ہویدا نہ تھے ۔ (صواعق محرقہ، شواہد النبوت)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت بروز جمعہ 3 / صفرالمظفر 57ھ، بمطابق 15 / دسمبر 676ء کو اپنے دادا سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت سے تین سال پہلے مدینہ منورہ میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
اپنے والدِ گرامی اور فقہاء مدینۃ المنورہ سے علم حاصل کیا۔ طبقات الحفاظ میں ہے کہ انہوں نے اپنے والد ماجد، اور جد امجد حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ اور عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور ایک طائفہ صحابہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، اور اِن سے اِن کے صاحبزادے حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ و عطاء رضی اللہ عنہ و ابن جریج رضی اللہ عنہ و امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ و اوزاعی رضی اللہ عنہ و زُہری رضی اللہ عنہ وغیرہ نے حدیث کو لیا ہے، اور ابن شہاب زہری رضی اللہ عنہ جنہوں نے سب سے پہلے حدیث کی تدوین کی ہے اِن کو حدیث میں ثقہ لکھا ہے، اور امام نسائی رضی اللہ عنہ نے اہلِ مدینہ کے فقہائے تابعین میں اِن کا ذکر کیا ہے۔ علم احادیث، علم سنن اور تفسیر قرآن وعلم السیرت و دیگر علوم وفنون کے ذخیرے جس قدرامام محمد باقر رضی اللہ عنہ سے ظاہر ہوئے اتنے حسنین کریمین کی اولاد میں سے کسی سے ظاہرنہیں ہوئے ۔
بیعت و خلافت:
آپ اپنے والدِ گرامی کےجانشین ہوئے،اور آئمہ اہل بیت میں سے پانچویں امام ہیں۔
سیرت و خصائص:
کاشفِ اسرار، مطلعِ انوار، آثارِ سید المرسلین ﷺ وارثِ حسن وحسین حضرت سیدنا امام محمد باقر رضی اللہ عنہ۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے اوراس کی شہرت عامہ ہے کہ آپ علم وزہد اورشرف وفضیلت میں بے مثال شخصیت کے مالک تھے۔ آپ علم القرآن، علم الآثار،علم السنن اورہرقسم کے علوم ، حکم،آداب وغیرہ کے جامع تھے۔بڑے بڑے تابعین،اورعظیم القدرفقہاء آپ کے سامنے زانوئے ادب تہ کرتے رہے۔
عطاء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
کہ میں نے علمائے کرام کو ازروئے علم کے کسی کے پاس اس قدر اپنے آپ کو چھوٹا سمجھتے ہوئے نہیں دیکھا جیسا کہ اِن کے رو برو دیکھا۔ علامہ ابن حجرمکی لکھتے ہیں: کہ حضرت امام محمد باقررضی اللہ عنہ کے علمی فیوض وبرکات اورکمالات واحسانات سے اس شخص کے علاوہ جس کی بصیرت زائل ہوگئی ہو، جس کا دماغ خراب ہو گیا ہواورجس کی طینت وطبیعت فاسد ہوگئی ہو،کوئی شخص انکارنہیں کرسکتا،اسی وجہ سے آپ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ آپ "باقرالعلوم" علم کے پھیلانے والے اورجامع العلوم ہیں۔آپ کا دل صاف، علم وعمل روشن و تابندہ ، اورخلقت شریف تھی۔ آپ کے کل اوقات اطاعت خداوندی میں بسر ہوتے تھے۔عارفوں کے قلوب میں آپ کے آثار راسخ اورگہرے نشانات نمایاں ہو گئے تھے، جن کے بیان کرنے سے وصف کرنے والوں کی زبانیں گونگی اورعاجز و ماندہ ہیں ۔ آپ کے ہدایات وکلمات اس کثرت سے ہیں کہ ان کا احصاء اس کتاب میں ناممکن ہے (صواعق محرقہ ص ۱۲۰) ۔
علامہ ابن خلکان لکھتے ہیں:
کہ امام محمد باقرعلامہ زمان اور سردار کبیرالشان تھے آپ علوم میں بڑے تبحراور وسیع الاطلاق تھے (وفیات الاعیان)۔
علامہ ذہبی لکھتے ہیں :
کہ آپ بنی ہاشم کے سرداراورمتبحر علمی کی وجہ سے باقرمشہورتھے ۔ آپ علم کی تہ تک پہنچ گئے تھے، اورآپ نے اس کے وقائق کو اچھی طرح سمجھ لیا تھا (تذکرةالحفاظ جلد ۱ ص ۱۱۱) ۔
آپ اپنےآباؤاجدادکی طرح بے پناہ عبادت کرتے تھے ۔ساری رات نمازپڑھنا، اورسارا دن روزہ سے گزارناآپ کی عادت تھی ۔آپ کی زندگی زاہدانہ تھی۔آپ بڑے عابد، زاہد، خاشعِ، خاضع، پاک طینت اور بزرگ نفس تھے، تمام اوقات کو عبادت و طاعتِ الٰہی سے معمور رکھتے، آدھی رات کو رویا کرتے، اور بارگاہِ الٰہی میں نہایت عاجزی سے مناجات کیا کرتے تھے۔ ہدایاجوآتے تھے اسے فقراء ومساکین پرتقسیم کردیتے تھے غریبوں پربے حدشفقت فرماتے تھے تواضع اور فروتنی ، صبرو شکر غلام نوازی صلہ رحمی وغیرہ میں اپنی نظیرآپ تھے۔آپ فقیروں کی بڑی عزت کرتے تھے اورانہیں اچھے نام سے یادکرتے تھے (کشف الغمہ )۔
❤1
سیدالمرسلین ﷺ کا سلام بھیجنا:
حضرت امام باقر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک دن میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضرہوا اور ان کو سلام کیا۔ اس وقت وہ نابینا ہوچکے تھے۔ انہوں نے دریافت کیا کہ آپ کون ہیں۔ میں نےکہا محمد بن علی بن حسین ہوں۔ یہ سنتے ہی فرمایا:اے میرے بیٹے آگے آؤ! جب میں آگے ہوا تو آپ نے میرے ہاتھ پر بوسہ دیا ،اس کے بعد میرے پاؤں پر بوسہ دینا چاہا کہ میں دور ہوگیا۔ آپ نے کہا :"رسول اللہ ﷺ نے آپ کوسلام بھیجا ہے"۔میں نے جواب دیا: اللہ کے حبیب ﷺ پر بھی صلوۃ وسلام ہواور اللہ تعالیٰ کی ان پر رحمتیں اوربرکتیں ہوں۔ میں نے پوچھا کہ حضرت یہ واقعہ کس طرح ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا :کہ ایک دن رسول اللہﷺ نے مجھے فرمایا تھا کہ اے جابر!شاید تم میرے ایک فرزند کے آنے تک زندہ رہوگے۔ اور اس سے ملاقات کروگے۔ اس کا نام محمد بن علی بن حسین ہوگا۔ خدا تعالیٰ ان کو نورو حکمت عطا کرے گا میرا اس کو سلام پہنچادینا۔ (بارہ امام :مولانا جامی)
وصال:
آپ کا وصال 7 / ذوالحجہ 114ھ، بمطابق جنوری/733ء کو 57 سال کی عمر میں ہوا۔ آپ کی قبرِ انور امام حسن مجتبیٰ اور حضرت زین العابدین رضی اللہ عنہماکےساتھ (جنت البقیع،مدینۃ المنورہ) میں ہے۔
ماخذ و مراجع:
خزینۃ الاصفیا ۔ الصواعق المحرقہ ۔ اقتبا س الانوار ۔ بارہ امام ۔
Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-baqir-bin-zain-ul-abideen
Copyright © Zia-e-Taiba
حضرت امام باقر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک دن میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضرہوا اور ان کو سلام کیا۔ اس وقت وہ نابینا ہوچکے تھے۔ انہوں نے دریافت کیا کہ آپ کون ہیں۔ میں نےکہا محمد بن علی بن حسین ہوں۔ یہ سنتے ہی فرمایا:اے میرے بیٹے آگے آؤ! جب میں آگے ہوا تو آپ نے میرے ہاتھ پر بوسہ دیا ،اس کے بعد میرے پاؤں پر بوسہ دینا چاہا کہ میں دور ہوگیا۔ آپ نے کہا :"رسول اللہ ﷺ نے آپ کوسلام بھیجا ہے"۔میں نے جواب دیا: اللہ کے حبیب ﷺ پر بھی صلوۃ وسلام ہواور اللہ تعالیٰ کی ان پر رحمتیں اوربرکتیں ہوں۔ میں نے پوچھا کہ حضرت یہ واقعہ کس طرح ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا :کہ ایک دن رسول اللہﷺ نے مجھے فرمایا تھا کہ اے جابر!شاید تم میرے ایک فرزند کے آنے تک زندہ رہوگے۔ اور اس سے ملاقات کروگے۔ اس کا نام محمد بن علی بن حسین ہوگا۔ خدا تعالیٰ ان کو نورو حکمت عطا کرے گا میرا اس کو سلام پہنچادینا۔ (بارہ امام :مولانا جامی)
وصال:
آپ کا وصال 7 / ذوالحجہ 114ھ، بمطابق جنوری/733ء کو 57 سال کی عمر میں ہوا۔ آپ کی قبرِ انور امام حسن مجتبیٰ اور حضرت زین العابدین رضی اللہ عنہماکےساتھ (جنت البقیع،مدینۃ المنورہ) میں ہے۔
ماخذ و مراجع:
خزینۃ الاصفیا ۔ الصواعق المحرقہ ۔ اقتبا س الانوار ۔ بارہ امام ۔
Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-baqir-bin-zain-ul-abideen
Copyright © Zia-e-Taiba
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
حضرت سیدنا امام محمد باقر رضی الله عنه نام و نسب: اسمِ گرامی: سیدامام محمد ۔ (آپ کا نام جد امجد سید الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے نامِ نامی اسمِ گرامی پر رکھا گیا) ـ کنیت: ابو جعفر ۔لقب: باقر، شاکر، ہادی ۔ سلسلہ نسب اس طرح ہے: حضرت امام محمد باقر بن علی…
#یوم_ولادت_ماہ_صفر_المظفر
#یوم_وصال_ماہ_ذو_الحجہ 🌹
https://t.me/islaamic_Knowledge/37620
https://t.me/islaamic_Knowledge/56925
#یوم_وصال_ماہ_ذو_الحجہ 🌹
https://t.me/islaamic_Knowledge/37620
https://t.me/islaamic_Knowledge/56925
❤1
خلیفۂ اعلی حضرت، مصمم گنبد رضا، حضرت علامہ مولانا مفتی محمود جان خان قادری جام جودھ پوری پشاوری رضی اللہ عنہ کی ولادت 1252ھ پشاور میں ہوئی۔ اعلی حضرت نے پہلی ہی ملاقات میں اجازت و خلافت سے نوازا اور انتہائی محبت اور عزت کا اظہار فرمایا۔ آپ عالم باعمل، خطیب اہل سنت، مناظر و شاعر اسلام، علم دوست، مہمان نواز، ہر دلعزیز شخصیت اور مستجاب الدعوات تھے۔ تقریباً 80 سال امامت و خطابت اور تبلیغ و تدریس فرمائی اور تمام دینی خدمات ہمیشہ بلامعاوضہ سرانجام دیں اور ذریعہ معاش تجارت رکھا۔ منظوم حیات اعلی حضرت ”ذکر رضا“ اور کتاب ’’ایضاح سنت‘‘ آپ کی یادگار ہیں۔ 3 صفر 1370ھ کو 118 سال کی عمر میں وصال فرمایا۔ مزار شریف جام جودھ پور، گجرات، ہندستان میں مرکز انوار و تجلیات ہے۔ (ذکر رضا، تذکرہ خلفائے اعلی حضرت)
Murid and Khalifah of AlaHazrat, Architect of AlaHazrat’s Dome, Allamah Mufti Mehmood Jaan Khan Qadiri Jamjodhpuri Peshawari (RadiyAllahu Anhu) was born in 1252 AH in Peshawar. AlaHazrat granted him Ijazat and Khilafat in the very first meeting and showed great love and respect for him. He was an ardent devotee of his shaykh, pious practicing scholar, brilliant orator, debater, and poet of Islam, admirer of the sacred knowledge, very hospitable, beloved personality, and the one whose prayers were answered. He served as an Imam, khateeb, educator, and preacher for 80 years without any worldly gain or salary and never charged a single penny whatsoever, and kept trading as his source of income. The very first biography of AlaHazrat in the form of poetry named ‘‘Zikr-e-Raza’’, and the book ‘‘Edaah-e-Sunnat’’ are his memorable works. He left this mundane world on the 3rd of Safar 1370 AH at the age of 118. His blessed mausoleum is in the town of Jamjodhpur, Saurashtra, Gujarat, India. [Zikr-e-Raza, Tazkirah Khulafa-e-AlaHazrat]
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02dhwzsmnsVEj7A5auD4osbMStcfFrpQVt117fjxB51hiamR4vfs5jvbjDoFg9Jg1pl&id=100050689590519
Murid and Khalifah of AlaHazrat, Architect of AlaHazrat’s Dome, Allamah Mufti Mehmood Jaan Khan Qadiri Jamjodhpuri Peshawari (RadiyAllahu Anhu) was born in 1252 AH in Peshawar. AlaHazrat granted him Ijazat and Khilafat in the very first meeting and showed great love and respect for him. He was an ardent devotee of his shaykh, pious practicing scholar, brilliant orator, debater, and poet of Islam, admirer of the sacred knowledge, very hospitable, beloved personality, and the one whose prayers were answered. He served as an Imam, khateeb, educator, and preacher for 80 years without any worldly gain or salary and never charged a single penny whatsoever, and kept trading as his source of income. The very first biography of AlaHazrat in the form of poetry named ‘‘Zikr-e-Raza’’, and the book ‘‘Edaah-e-Sunnat’’ are his memorable works. He left this mundane world on the 3rd of Safar 1370 AH at the age of 118. His blessed mausoleum is in the town of Jamjodhpur, Saurashtra, Gujarat, India. [Zikr-e-Raza, Tazkirah Khulafa-e-AlaHazrat]
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02dhwzsmnsVEj7A5auD4osbMStcfFrpQVt117fjxB51hiamR4vfs5jvbjDoFg9Jg1pl&id=100050689590519
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
02-02-1445 ᴴ | 20-08-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
03-02-1445 ᴴ | 21-08-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
03-02-1445 ᴴ | 21-08-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
03-02-1445 ᴴ | 21-08-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2