🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت مولانا شاہ احمد حسن فاضل کانپوری رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
مولانا شاہ احمد حسن رحمۃ اللہ علیہ ۔ آپ علیہ الرحمہ صدیقی النسل تھے ۔ دین دار گھرانے سے تعلق تھا ۔

موطن:
آپ "موضع بڈلانہ" (ضلع حصار انڈیا) میں پیدا ہوئے ۔

تحصیلِ علم:
استاذ العلماء حضرت مولانا لطف اللہ علی گڑھی سے کانپور اور علی گڑھ میں اخذ ِ علوم کیا،اور یہیں سے فراغت حاصل ہوئی۔ اولاً مدرسہ مظاہر علوم سہارن پوری میں مدرس مقرر ہوئے،اس کے بعد کانپور کے مشہور زمانہ مدرسہ "فیضِ عام" میں مسندِ صدارت کو زینت دی، متعدد علوم و فنون کی 15کتابوں کا روزانہ پوری قوت و توجہ سے درس دیتے تھے ۔ کا شغر، شام ، موصل، حلب، بخارا، افغانستان سرحد وغیرہ کے بکثرت علماء نے آپ سے درس لیا ۔ درس و تدریس میں آپ اپنے زمانہ میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ آپ کےاستاذ حضرت مولانامفتی لطف اللہ علی گڑھی نے آپ کی تالیف "تنزیہ الرحمٰن عن شائبۃ الکذب والنقصان" کی تقریظ وتصدیق میں آپ کو "مالک ازمۃ التحقیقات الشرعیہ ، والتدقیقات الفلسفیہ ،التحریر الکامل البحر الفاضل الذی یفتخر بوجودہ الزمن المولوی احمد حسن" کے گراں قدر خطابات سے یاد کیا آپ نہایت قوی الحفظ،اور رساذہن کے مالک تھے۔ ساٹھ متون آپ کو ازبریاد تھے،اسی بنا پر آپ کو"ملا متون" کہا جاتا تھا۔

بیعت و خلافت:
آپ شیخ الکبیر حضرت شیخ حاجی امداداللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے۔ان کے پاس رہ کر اور ان کے حکم پر "مثنوی مولائے روم" کی شرح لکھی۔

سیرت و خصائص:
بحرالکامل،جامع العلوم نقلیہ وعقلیہ، مصدر الکمالات البھیہ، الادیب الاریب، الفطین اللبیب، افضل المحققین، اشرف المدققین، اکمل المنانظرین، استاذ الاساتذہ، حضرت مولانا شاہ احمدحسن فاضل کانپوری رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ بہت بڑے عالم اور امام تھے ۔ دینداری میں بہت پسندیدہ اور مقبول تھے۔ پرہیزگار اور متواضع تھے، بہت زیادہ عقل مند، بہترین اخلاق والے، تمام اچھی صفات سے متصف ، اچھی معاشرت والے، لوگوں کو بہت زیادہ نصیحتیں کرنے والے، اور اپنے شاگردوں اور دوستوں سے بہت محبت کرنے والے، کم سخن، لوگوں سے کنارہ کش، دنیاداروں کے پاس آمدورفت کرنے سے بھاگنے والے، تھوڑے پر قناعت کرلینے والے،تکلف برطرف کرنے والے، بہت زیادہ انصاف کرنے والے، ان سے کچھ چاہنے والے کو خوش آمدید کہنے والے، اپنی مصروفیت پر مداومت کرنے والے، پڑھانے کے لئے پیش قدمی کرنے والے، بہت ہی صابر، کسی تنگدلی اور رنجش کے بغیر اپنے درس کو جاری رکھنے والے۔ فنون منطق، حکمت و اصول اور کلام کی اہم کتابوں کا درس دیتے۔ مختلف علوم میں باریک تر مسائل میں بھی بحث کرسکتے تھے اور اہم کتابوں کے اسباق ہر روز پندرہ گھنٹے پڑھاتے تھے۔ ایسی حالت میں ان کو بواسیر کا مرض لاحق ہوگیا جس سے بدن سے بہت زیادہ خون نکل جاتا۔ پھر بھی درس دینے میں رخصت نہیں لیتے تھے۔بالآخرآپ کو بہت زیادہ کمزوری ہوگئی، حکماءنے ان کو کلی طور پر پڑھانے سے سختی سے منع کردیا۔ پھر بھی اپنی عادت سےنہیں رکے اور اپنا درس کا سلسلہ جاری رکھا یہاں تک کہ روح جسم سے پرواز کرگئی۔آپ ہی کی صدارت مدرسۂ فیض عام کے زمانے میں اصلاح ِ نصاب کے لیے "مجلس ندوۃ العلماء "قائم ہوئی۔اگلے سال کےجلسہ میں تاج الفحول حضرت مولانا شاہ عبد القادر فاضل بد ایونی اور اعلیٰ حضرت امام اہلسنت مولانا شاہ احمد رضافاضل بریلوی نے بھی شرکت فرمائی،بلکہ اعلیٰ حضرت نے اپنے مقالہ میں آپ کی بے حد تعریف کی آپ حق پسند تھے ،اظہار حق کے بعد اپنے خیال سے فوراً رجوع کرلیتے تھے ۔1313ھ کے اجلاس ندوۃ العلماء بریلی میں شرکت کے لیے آپ بریلی پہنچے تو امام اہلسنت علیہ الرحمہ نے آپ کی دعوت کی اور مفاسِد ِندوہ پر مختصر سی گفتگو کی،جس سے آپ پر حق واضح ہوگیا۔اس کے بعد آپ نے ناظم ندوۃ العلماء محمد علی کان پوری مونگیری کو اُن کی غلط روی اور فریب دہی پر غیظ آمیز خط لکھ کر بھیجدیا،اوراجلاس میں شرکت کیے بغیر کانپورواپس چلے آئے۔
1
آپ نےتین بار حج وزیارت کا سفر کیا،اور ہر  مرتبہ  سال دو سال حرمین شریفین  میں قیام کیا۔حج 1292ھ میں مولوی  قاسم نانوتوی بھی شریک سفر تھے، جن سے بعد میں اعتقادی اختلاف کی بنا پر آپ نے علیحدگی اختیار کرلی،وہیں شیخ المشائخ محبوب الٰہ شاہ امداد اللہ قدس سرہٗ سے سلسلہ چشتیہ صابریہ میں بیعت کی، اور انہیں کے پاس رہ کر اُن کے حکم کے مطابق مثنوی مولانائے روم کی شرح لکھی،مشہور غیر مقلد عالم میاں نذیر حسین دہلوی کی گرفتاری کے موقع پر آپ وہاں حاضر تھے،یہ 1300ھ کا واقعہ ہے۔تصانیف میں ایک مبسوط رسالہ " تنزیہ الرحمٰن عن شائبۃ الکذب والنقصان " قرآنِ مجید کی تفسیر"حمد اللہ" کی شرح  سلم پر مفصل حاشیہ، "مثنوی مولائے روم" افاداتِ احمدیہ، شرح ترمذی۔مشہور ہیں۔

وصال:
3 صفر المظفر 1323ھ میں آپ کا وصال ہوا،وصیت کے مطابق رئیس الاتقیاء حضرت مولانا شاہ محمد عادل کانپوری قدس سرہ نے نماز جنازہ کی امامت کی، بساطی قبرستان کانپور میں آپ کی قبرِ انور ہے۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہلسنت ۔ نزھۃ الخواطر ۔

مظہرِ لطفِ الٰہ ومصدارِ امدادِ حق
روضہ اقدس جناب حضرت احمد حسن

فضل رحمانی بگو، یا لطف امدادِ الٰہ
مرقد انفس جناب حضرت احمد حسن

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-ahmad-hassan-fazil-kanpuri
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
عارف کامل حضرت پیر سید غلام حیدر علی شاہ جلال پوری رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
حضرت پیر سید غلام حیدر علی شاہ بن سید جمعہ شاہ بن سید کاظم شاہ بن سید سخی شاہ (علیہم الرحمہ)

تاریخ ولادت:
۳ صفر / ۲۶ اپریل (۱۲۵۴ھ؍۱۸۳۸ء) کو جلال پور میں پیدا ہوئے ۔

تعلیم و تربیت:
جب آپ نے ہوش سنبھالا تو قرآن پاک کی تعلیم کے لئے آپ کو میاں خان محمد اعظم پوری کے سپرد کیا انہوں نے قرآن مجید پڑھانا شروع کیا جس کی تکمیل آپ کے چچا سید امام شاہ نے فرمائی ۔ اس کے بعد میاں عبد اللہ چکروی سے فارسی اور اردو کی درسی کتب پڑھیں پھر جلال پور سے پانچ کوس کے فاصلہ پر قاضی محمد کامل کی خدمت میں نین وال تشریف لے گئے اور ان سے کتب فقہ کا درس لیا، اپنے علاقے کے مشہور عالم مفتی غلام محی الدین سے استفادہ کیا اور کنز الدقائق پڑھی، اس سے زیادہ آپ نے ظاہری علم با قاعدگی سے نہیں پڑھا اور حضرت خواجہ شمس العارفین قدس سرہ سے مرقع اور کشکول کا درس لیا ۔

بیعت و خلافت:
تلاش مرشد میں سید غلام شاہ کی خدمت میں ہرن پور پہنچے اور بیعت کی درخواست کی، انہوں نے سیال شریف جانے کا مشورہ دیا بلکہ خود ساتھ لے گئے ۔

حضرت خواجہ شمس العارفین قدس سرہ نے انہیں دیکھا تو کھڑے ہو گئے، مزاج پوچھا اور بیٹھنے کا حکم دیا چنانچہ آپ ۷ رجب ۱۲۷۱ھ کو ان کے دست حق پرست پر بیعت ہو گئے ۔

بیعت کے بعد ہر ماہ دو تین مرتبہ شیخ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور شیخ کا اس قدر احترام کرتے تھے کہ ان کے سامنے بولنے کی بھی ہمت نہ ہوتی تھی، جب چھٹی مرتبہ حاضر ہوئے تو حضرت شیخ نے خرقۂ خلافت اور اجازت سے سرفراز فرمایا ۔

سیرت و خصائص:
آپ کی والدہ ماجدہ بڑی عبادت گزار اور صالحہ خاتون تھیں ۔ جنہوں نے ابتداء ہی سے اپنے لخت جگر کو نماز روزہ کا پابند بنا دیا تھا ۔ آپ منکسر المزاج اور بلند اخلاق کے مالک تھے، آپ کو خود پسندی چھو کر بھی نہیں گزری تھی ۔ نہایت نرم دل اور سراپا شفقت و عنایت تھے ۔ غرباء کی دلجوئی آپ کا خاص وصف تھا ۔ اعمال میں نہایت محتاط اور پابند شریعت تھے ۔ آپ حد درجہ خوبصورت تھے، دراز قامت، دلکش آنکھیں، شانوں پر زلفیں، کلاہ چہار ترکی سر پر ، آپ حسن مجسم معلوم ہوتے تھے ۔

وصال:
6 جمادی الاخریٰ ، 7 جولائی (۱۳۲۶ھ/۱۹۰۸ء) کو آپ کا وصال ہوا اور جلال پور شریف میں آپ کا مزار مرجع خلائق ہے ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-ghulam-hyder-ali-shah
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
خلیفۂ اعلیٰ حضرت، حضرت علامہ مفتی محمود جان قادری رضوی جودھپوری رحمۃ اللہ علیہ

وِصَال: 3 / صفر المظفر 1370 ھِ
مُطابِق نومبر 1950ءِ عُمر¹¹⁵سَال

نام و نسب:
اسمِ گرامی: مفتی محمودجان ۔ لقب: قادری، رضوی۔علاقہ، جام جودھپور کی نسبت سے"جام جودھپوری" کہلاتے ہیں۔سلسلہ نسب: مفتی محمود جان بن مولانا حافظ غلام رسول بن محمد صدیق بن عمر بن رمضان بن صبوربن حاجی محمد اکبر بن مولانا حمیدالدین بن مولانا شہباز بن خوش حال بن گوہر بن رحمت اللہ بن خواجہ عبیداللہ۔(علیہم الرحمہ)۔

آپ کے والدِ گرامی حضرت علامہ مولانا حافظ غلام رسول رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں طالب علم دوردراز کاسفر کرکےعلمی پیاس بجھانے کےلئے حاضر ہوتےتھے۔ان کا سب سےبڑاکارنامہ یہ ہےکہ انہوں نےاس وقت"افغانستان"میں "فتنۂ وہابیہ اسماعیلیہ"کاخاتمہ کیا تھا۔جب لوگ ان کےعقائد پرمطلع ہوئے، تو وہ وہابیوں کےخلاف ہوگئے ۔ بہت سے وہابی جہنم رسید ہوئے اور جو بچ گئے وہ افغانستان سے بھاگنے پر مجبور ہوگئے۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت کاسن 1835ء بتایا جاتا ہے۔ آپ کا تعلق "مردان" کے افغانی قبیلے"میرملک زئی" سے ہے۔

تحصیلِ علم:
آپ نے بنیادی تعلیم اپنے والد ماجد کی زیر سر پرستی میں حاصل کی ۔ پھر "دارالعلوم امینیہ دہلی" میں تکمیل ہوئی۔اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعدآپ نے" کا ٹھیاواڑ" جام جودہ پور (ضلع گجرات) کی طرف ہجرت فرمائی۔آپ ابتداء سے ہی اپنی مناظرانہ صلاحیتوں کی وجہ سے مشہور تھے،اور کئی عیسائی رہنماؤں کو مناظرہ میں شکست فاش دے چکے تھے۔پھر اعلیٰ حضرت امام ِ اہلسنت کی خدمت میں پہنچ کر مزید اپنی علمی وروحانی پیاس بجھاکر کامل ہوئے۔

بیعت و خلافت:
حضرت مفتی محمود جان رحمۃ اللہ علیہ خود اس واقعہ کو بیان کرتے ہیں: "طویل عرصہ سے میرے دل میں یہ خیال تھا کہ جب تک میں ایک کامل اور بلندپایہ پیر کو نہ پالو میں مرید نہیں بنوں گا۔

یہ اس وقت کی بات ہے جب میں نے حضرت مولانا محمود و ضیاء الدین صاحب پیلی بھیتی (رحمۃ اللہ) کا مرتب دیا ہوا اور اسلامی رسالہ پڑھنا شروع کیا تھا جو کہ علم و دانش کےجواہر سے پر تھا۔

اسی میں میں نے سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے بارے میں پڑھا۔ فوری طور پر میرے دل نے کہا کہ اس دور میں اتنی عظیم ہستی کا پانا کوئی عام بات نہیں۔ خدائی رہنمائی کے ذریعہ میں نے بریلی شریف کا سفر اختیار کیا۔ جہاں میں نے اپنے آپ کو اعلیٰ حضرت کی رحمت بھری عدالت میں پیش کیا، جس وقت میں نے ان کے نورانی چہرے کو دیکھا، میرا دل پگھل گیا، میرا ایمان تازہ ہوگیا اور میرا دل کھل اُٹھا کہ ایسا اس سے پہلے کبھی نہ ہواتھا۔میں ایک ایسا عظیم پیر پاچکا تھا کہ جس کا میں نے کبھی تصور بھی نہ کیا تھا،

میں نے داخل سلسلہ ہونے کی درخواست کی اور میرے مرشد نے مجھے اپنے مرید کی حیثیت سے قبول کیا، فوری طور پر مجھے اجازت و خلافت سے نوازا، پھر اپنے گھر کے اندر تشریف لے گئے۔ اس وقت انہوں نے جو لباس زیب تن کیا ہوا تھاوہ مجھے عطا کیا۔اس میں کرتا، پاجامہ، عمامہ،اور صدری (واسکوٹ) تھی۔ بحر سخاوت کی طرف سے یہ بڑی عطا تھی انہوں نے اپنے اس عاجز خادم کو سلسلہ عالیہ قادریہ ، برکاتیہ، رضویہ ، چشتیہ سہروردیہ ،نقشبندیہ اور دیگر سلاسل میں تاج خلافت سے نوازا۔انہوں نے میرے لیے انتہائی محبت اور عزت کا اظہار فرمایا، اور اس دوران انہوں نے مجھے کئی القابات سے نوازا، اور مجھ سے اتنی محبت کا اظہار فرمایا کہ میں زندگی بھر اس کو نہیں بھلا سکتا ‎"۔

سیرت و خصائص:
عالم و عارف، عابد و زاہد، صاحبِ صفاتِ محمودہ، ذی الفضل والجاہ، حامی السنن، ماحی الفتن، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، محب و محبوبِ امامِ اہلسنت، حضرت علامہ مفتی محمود جان قادری رضوی جودھپوری رحمۃ اللہ علیہ۔

آپ علیہ الرحمہ کا تعلق ایک بہت ہی دیندار علمی گھرانے سے تھا۔امت مسلمہ کی خدمت وراہنمائی ان کے آباؤ اجداد کی خوبیوں میں سے ایک تھی۔ان کے والد گرامی کے بارے میں مختصر پہلے تحریر کرچکے ہیں۔ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ آپ پرخصوصی شفقت فرماتے تھے۔

مفتی محمود جان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:"اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے وصال سے نو یا دس ماہ قبل ، آپ نے مجھے ایک "رحمت بھرا خط" لکھا جس میں آپ نے فرمایا: "کہ میں نے اپنی کتاب " الاستمداد " میں اپنے تمام خلفاء کے نام درج کئے ہیں اور تمھارا نامِ نامی غیر ارادی طور پر چھپ نے سے رہ گیا ہے ۔ میری انتہائی مصروفیات اور ذمہ داریوں کی وجہ سے مجھ سے آپ کا نام غیر ارادی طور پر رہ گیا جو کہ " قصیدہ الاستمداد " کے آخر میں میرے خیر خواہوں اور مددگاروں کی فہرست میں سنہری حروف سے کندہ ہونا چاہئے تھا ۔ مجھے اس کا احساس اس وقت ہوا جب وہ چھپ چکی تھی ، اور مجھے ابھی تک اس کا افسوس ہے"۔

حضرت مفتی محمود جان رحمۃ اللہ علیہ اپنے پیر پَر کامل یقین رکھتے تھے، اور اپنے پیر کی محبت میں ڈوبے ہوئے تھے۔ وہ ذاتی طور پر ایک واقعہ بیان کرتے ہیں جو ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنے پیر کتنا کامل یقین رکھتے تھے ۔
1👍1
آپ فرماتے ہیں:
"میں نے اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے چالیس روزہ ختم کے دوران اپنے مرشد کے مزار پُر انوار پر حاضری دی اور بارگاہ الٰہی میں اس کے منتخب بندے اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے وسیلے سے بیٹے کی درخواست کی۔

الحمدللہ! اُسی سال کے دوران اللہ تبارک و تعالیٰ نےمجھے ایک بیٹا عطاء کیا جس کا نام میں نے " احمد رضا " رکھا ۔ آپ کی عظیم دینی خدمات ہیں۔ جب ماہنامہ "الفقیہ"جاری ہوا، تو " کاٹھیاواڑ " میں اس کی ہر گھر میں ترسیل فرماتے تھے۔ اس کے ساتھ آپ اپنی طرف سے اس کی اشاعت میں کثیر رقم خرچ فرماتے تھے۔پورے علاقے میں آپ نے دینِ اسلام کو چار چاند لگادئےتھے۔

سب سے پہلے آپ نےہی اعلیٰ علیہ الرحمہ کی منظوم سوانح حیات " ذکرِ رضا " کے نام سے شائع فرمائی تھی۔

اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے مزار کا نقشہ بھی آپ کا ڈیزائن کیا ہوا ہے ۔

حضرت مولانا محمود جان نے اجازت و خلافت کے باوجود کسی کو داخلِ بیعت نہیں کیا اور نہ ہی کسی کو خلافت دی مگر ان کے عقیدت مندوں کی تعداد پاک و ہند بنگلہ دیش افریقہ تک کے ممالک میں ہے۔

آپ نے جام جودھ پور کی جامع مسجد میں تقریباً 80 برس امامت و خطابت اور تبلیغ و تدریس فرمائی ۔

دینی خدمات بلا معاوضہ سر انجام دیں اور ذریعہ معاش تجارت رکھا۔

مہمان نوازی اور اہلِ علم کی خاطر داری میں مشہور تھے۔حق کی راہ میں تمام عمر مردِ میداں رہے۔

مولانا مستجاب الدعوات تھے۔ مہلک زخم پر لعاب دہن لگا دیتے تو مریض شفا یاب یاب ہو جاتا۔ آپ نے اپنے علاقے سے غلط رسومات کا خاتمہ کرکے رسول اللہ ﷺ کی سنتوں کا نفاذ فرمایاـ

حضرت صدر الافاضل فرماتے ہیں:
کہ میں نےخلفائے اعلیٰ حضرت میں مولانا محمود جیسا فنافی الشیخ کسی کو نہیں دیکھا۔ اعلیٰ حضرت کی شان میں فرماتے ہیں: ؏:

ہم نے کیا "احمد رضا" دیکھا تجھے
۔۔۔ سر ذاتِ مصطفیٰ دیکھا تجھے
حق تعالیٰ کی قسم اے"احمدرضا"۔۔۔
نائبِ خیرالوریٰ دیکھاتجھے

وصال:
3/صفر المظفر1370ھ، مطابق نومبر /1950ء کو 115 سال کی عمر میں آپ کا وصال ہوا۔

مزار شریف:
آپ کا مزار جام جودھپور (گجرات، انڈیا) میں ہے۔

ماخذ و مراجع:
ماہنامہ جہانِ رضا۔ (شمارہ: 123، فروری 2005ء)۔ذکرِرضا ۔ تذکرہ خلفاءِ اعلیٰ حضرت (مولانا صادق قصوری ـ

Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/mufti-mehmood-jaan-qadri-jodh-puri
Copyright © Zia-e-Taiba
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت سیدنا امام محمد باقر رضی الله عنه

نام و نسب:
اسمِ گرامی: سیدامام محمد ۔ (آپ کا نام جد امجد سید الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے نامِ نامی اسمِ گرامی پر رکھا گیا) ـ کنیت: ابو جعفر ۔لقب: باقر، شاکر، ہادی ۔

سلسلہ نسب اس طرح ہے:
حضرت امام محمد باقر بن علی زین العابدین بن سیدنا امام حسین بن علی المرتضی ۔

آپ کی والدہ ماجدہ کا اسم گرامی سیدہ فاطمہ بنت سیدنا امام حسن تھا۔

یہ آپ کی خصوصیات میں سے ہیں کہ آپ کا سلسلۂ نسب دونوں طرف سے سید الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تک پہنچتا ہے۔(رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین)

باقر کی وجہ تسمیہ:
باقر، بقرہ سے مشتق ہے اور اسی کا اسم فاعل بھی ہے ۔اس کے معنی شق کرنے اور وسعت دینے کے ہیں (المنجد) ۔ حضرت امام محمد باقر کو اس لقب سے اس لیے ملقب کیا گیا تھا کہ آپ نے علوم و معارف کو نمایاں فرمایا اور حقائق احکام و حکمت و لطائف کے وہ سر بستہ خزانے ظاہر فرما دئیے جو لوگوں پر ظاہر و ہویدا نہ تھے ۔ (صواعق محرقہ، شواہد النبوت)

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت بروز جمعہ 3 / صفرالمظفر 57ھ، بمطابق 15 / دسمبر 676ء کو اپنے دادا سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت سے تین سال پہلے مدینہ منورہ میں ہوئی۔

تحصیلِ علم:
اپنے والدِ گرامی اور فقہاء مدینۃ المنورہ سے علم حاصل کیا۔ طبقات الحفاظ میں ہے کہ انہوں نے اپنے والد ماجد، اور جد امجد حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ اور عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور ایک طائفہ صحابہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، اور اِن سے اِن کے صاحبزادے حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ و عطاء رضی اللہ عنہ و ابن جریج رضی اللہ عنہ و امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ و اوزاعی رضی اللہ عنہ و زُہری رضی اللہ عنہ وغیرہ نے حدیث کو لیا ہے، اور ابن شہاب زہری رضی اللہ عنہ جنہوں نے سب سے پہلے حدیث کی تدوین کی ہے اِن کو حدیث میں ثقہ لکھا ہے، اور امام نسائی رضی اللہ عنہ نے اہلِ مدینہ کے فقہائے تابعین میں اِن کا ذکر کیا ہے۔ علم احادیث، علم سنن اور تفسیر قرآن وعلم السیرت و دیگر علوم وفنون کے ذخیرے جس قدرامام محمد باقر رضی اللہ عنہ سے ظاہر ہوئے اتنے حسنین کریمین کی اولاد میں سے کسی سے ظاہرنہیں ہوئے ۔

بیعت و خلافت:
آپ اپنے والدِ گرامی کےجانشین ہوئے،اور آئمہ اہل بیت میں سے پانچویں امام ہیں۔

سیرت و خصائص:
کاشفِ اسرار، مطلعِ انوار، آثارِ سید المرسلین ﷺ وارثِ حسن وحسین حضرت سیدنا امام محمد باقر رضی اللہ عنہ۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے اوراس کی شہرت عامہ ہے کہ آپ علم وزہد اورشرف وفضیلت میں بے مثال شخصیت کے مالک تھے۔ آپ علم القرآن، علم الآثار،علم السنن اورہرقسم کے علوم ، حکم،آداب وغیرہ کے جامع تھے۔بڑے بڑے تابعین،اورعظیم القدرفقہاء آپ کے سامنے زانوئے ادب تہ کرتے رہے۔

عطاء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
کہ میں نے علمائے کرام کو ازروئے علم کے کسی کے پاس اس قدر اپنے آپ کو چھوٹا سمجھتے ہوئے نہیں دیکھا جیسا کہ اِن کے رو برو دیکھا۔ علامہ ابن حجرمکی لکھتے ہیں: کہ حضرت امام محمد باقررضی اللہ عنہ کے علمی فیوض وبرکات اورکمالات واحسانات سے اس شخص کے علاوہ جس کی بصیرت زائل ہوگئی ہو، جس کا دماغ خراب ہو گیا ہواورجس کی طینت وطبیعت فاسد ہوگئی ہو،کوئی شخص انکارنہیں کرسکتا،اسی وجہ سے آپ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ آپ "باقرالعلوم" علم کے پھیلانے والے اورجامع العلوم ہیں۔آپ کا دل صاف، علم وعمل روشن و تابندہ ، اورخلقت شریف تھی۔ آپ کے کل اوقات اطاعت خداوندی میں بسر ہوتے تھے۔عارفوں کے قلوب میں آپ کے آثار راسخ اورگہرے نشانات نمایاں ہو گئے تھے، جن کے بیان کرنے سے وصف کرنے والوں کی زبانیں گونگی اورعاجز و ماندہ ہیں ۔ آپ کے ہدایات وکلمات اس کثرت سے ہیں کہ ان کا احصاء اس کتاب میں ناممکن ہے (صواعق محرقہ ص ۱۲۰) ۔

علامہ ابن خلکان لکھتے ہیں:
کہ امام محمد باقرعلامہ زمان اور سردار کبیرالشان تھے آپ علوم میں بڑے تبحراور وسیع الاطلاق تھے (وفیات الاعیان)۔

علامہ ذہبی لکھتے ہیں :
کہ آپ بنی ہاشم کے سرداراورمتبحر علمی کی وجہ سے باقرمشہورتھے ۔ آپ علم کی تہ تک پہنچ گئے تھے، اورآپ نے اس کے وقائق کو اچھی طرح سمجھ لیا تھا (تذکرةالحفاظ جلد ۱ ص ۱۱۱) ۔

آپ اپنےآباؤاجدادکی طرح بے پناہ عبادت کرتے تھے ۔ساری رات نمازپڑھنا، اورسارا دن روزہ سے گزارناآپ کی عادت تھی ۔آپ کی زندگی زاہدانہ تھی۔آپ بڑے عابد، زاہد، خاشعِ، خاضع، پاک طینت اور بزرگ نفس تھے، تمام اوقات کو عبادت و طاعتِ الٰہی سے معمور رکھتے، آدھی رات کو رویا کرتے، اور بارگاہِ الٰہی میں نہایت عاجزی سے مناجات کیا کرتے تھے۔ ہدایاجوآتے تھے اسے فقراء ومساکین پرتقسیم کردیتے تھے غریبوں پربے حدشفقت فرماتے تھے تواضع اور فروتنی ، صبرو شکر غلام نوازی صلہ رحمی وغیرہ میں اپنی نظیرآپ تھے۔آپ فقیروں کی بڑی عزت کرتے تھے اورانہیں اچھے نام سے یادکرتے تھے (کشف الغمہ )۔
1
سیدالمرسلین ﷺ کا سلام بھیجنا:
حضرت امام باقر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک دن میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضرہوا اور ان کو سلام کیا۔ اس وقت وہ نابینا ہوچکے تھے۔ انہوں نے دریافت کیا کہ آپ کون ہیں۔ میں نےکہا محمد بن علی بن حسین ہوں۔ یہ سنتے ہی فرمایا:اے میرے بیٹے آگے آؤ! جب میں آگے ہوا تو آپ نے میرے ہاتھ پر بوسہ دیا ،اس کے بعد میرے پاؤں پر بوسہ دینا چاہا کہ میں دور ہوگیا۔ آپ نے کہا :"رسول اللہ ﷺ نے آپ کوسلام بھیجا ہے"۔میں نے جواب دیا: اللہ کے حبیب ﷺ پر بھی صلوۃ وسلام ہواور اللہ تعالیٰ کی ان پر رحمتیں اوربرکتیں ہوں۔ میں نے پوچھا کہ حضرت یہ واقعہ کس طرح ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا :کہ ایک دن رسول اللہﷺ نے مجھے فرمایا تھا کہ اے جابر!شاید تم میرے ایک فرزند کے آنے تک زندہ رہوگے۔ اور اس سے ملاقات کروگے۔ اس کا نام محمد بن علی بن حسین ہوگا۔ خدا تعالیٰ ان کو نورو حکمت عطا کرے گا میرا اس کو سلام پہنچادینا۔ (بارہ امام :مولانا جامی)

وصال:
آپ کا وصال 7 / ذوالحجہ 114ھ، بمطابق جنوری/733ء کو 57 سال کی عمر میں ہوا۔ آپ کی قبرِ انور امام حسن مجتبیٰ اور حضرت زین العابدین رضی اللہ عنہماکےساتھ (جنت البقیع،مدینۃ المنورہ) میں ہے۔

ماخذ و مراجع:
خزینۃ الاصفیا ۔ الصواعق المحرقہ ۔ اقتبا س الانوار ۔ بارہ امام ۔

Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-baqir-bin-zain-ul-abideen
Copyright © Zia-e-Taiba
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
خلیفۂ اعلی حضرت، مصمم گنبد رضا، حضرت علامہ مولانا مفتی محمود جان خان قادری جام جودھ پوری پشاوری رضی اللہ عنہ کی ولادت 1252ھ پشاور میں ہوئی۔ اعلی حضرت نے پہلی ہی ملاقات میں اجازت و خلافت سے نوازا اور انتہائی محبت اور عزت کا اظہار فرمایا۔ آپ عالم باعمل، خطیب اہل سنت، مناظر و شاعر اسلام، علم دوست، مہمان نواز، ہر دلعزیز شخصیت اور مستجاب الدعوات تھے۔ تقریباً 80 سال امامت و خطابت اور تبلیغ و تدریس فرمائی اور تمام دینی خدمات ہمیشہ بلامعاوضہ سرانجام دیں اور ذریعہ معاش تجارت رکھا۔ منظوم حیات اعلی حضرت ”ذکر رضا“ اور کتاب ’’ایضاح سنت‘‘ آپ کی یادگار ہیں۔ 3 صفر 1370ھ کو 118 سال کی عمر میں وصال فرمایا۔ مزار شریف جام جودھ پور، گجرات، ہندستان میں مرکز انوار و تجلیات ہے۔ (ذکر رضا، تذکرہ خلفائے اعلی حضرت)

Murid and Khalifah of AlaHazrat, Architect of AlaHazrat’s Dome, Allamah Mufti Mehmood Jaan Khan Qadiri Jamjodhpuri Peshawari (RadiyAllahu Anhu) was born in 1252 AH in Peshawar. AlaHazrat granted him Ijazat and Khilafat in the very first meeting and showed great love and respect for him. He was an ardent devotee of his shaykh, pious practicing scholar, brilliant orator, debater, and poet of Islam, admirer of the sacred knowledge, very hospitable, beloved personality, and the one whose prayers were answered. He served as an Imam, khateeb, educator, and preacher for 80 years without any worldly gain or salary and never charged a single penny whatsoever, and kept trading as his source of income. The very first biography of AlaHazrat in the form of poetry named ‘‘Zikr-e-Raza’’, and the book ‘‘Edaah-e-Sunnat’’ are his memorable works. He left this mundane world on the 3rd of Safar 1370 AH at the age of 118. His blessed mausoleum is in the town of Jamjodhpur, Saurashtra, Gujarat, India. [Zikr-e-Raza, Tazkirah Khulafa-e-AlaHazrat]

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02dhwzsmnsVEj7A5auD4osbMStcfFrpQVt117fjxB51hiamR4vfs5jvbjDoFg9Jg1pl&id=100050689590519
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
02-02-1445 ᴴ | 20-08-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
03-02-1445 ᴴ | 21-08-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1